skip to main |
skip to sidebar
نیتاجی ...... سبھاش چندر بوس
نیتاجی ...... سبھاش چندر بوس
ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات
(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر
’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس
کی سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و
دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں
جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ
اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے
ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ
قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار
شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو
نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام
لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ
جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )
(گذشتہ سے پیوستہ)
( چوتھی قسط)
گاندھی ارون پیکٹ
ان واقات نے نہ صرف حکومت ہند بلکہ حکومت برطانیہ کو بھی پریشان
کردیا۔ اور گورنمنٹ یہ سمجھ گئی کہ بگڑتے ہوئے حالات کو سدھارنے کیلئے
گاندھی جی اور دیگر کانگریسی لیڈروں کی رہائی ضروری ہے۔
حکومت کانگریس کو انقلاب پسندوں کی نسبت LESSER EVIL (چھوٹی خرابی) سمجھتی
تھی۔ چنانچہ حکومت برطانیہ کے اشارے پر وائس رائے ہند لارڈ ارون نے
16جولائی کو مرکزی اسمبلی کے اجلاس میں گاندھی جی پر پھر ڈورے ڈالنے شروع
کردیئے۔ اس موقع پر انہوں نے جو تقریر کی ۔ وہ انتہائی معنی خیز تھی۔ آپ نے
کہا-:
"برطانیہ نے ہندوستان کی پولیٹیکل زندگی میں نئی روح کی موجودگی کا احساس
کرلیا ہے۔ کوئی آدمی گاندھی جی کو کتنا ہی غلط و خیال کیوں نہ کرے۔ اور ان
کے نام سے وابستہ تحریک کے نتائج کتنے ہی افسوسناک کیوں نہ ہوں۔ لیکن اس
بات کی کسی کو مجال نہیں۔ کہ ان کی روحانی طاقت کو تسلیم کرنے سے انکار
کردے۔۔۔"
اس تقریر میں وائس رائے نے کانگریس کی طرف دست تعاون بڑھاتے ہوئے لگے
ہاتھوں یہ اعلان بھی کردیا کہ حکومت انقلاب پسندوں سے کوئی سمجھوتہ کرنے کے
لئے تیار نہیں۔
اس سے ظاہر تھا کہ جہاں حکومت کانگریس سے سمجھوتہ کرنا چاہتی تھی۔ وہاں وہ
انقلاب پسندوں کو کچل دینے کا مصمم ارادہ کرچکی تھی۔ اور کہ اگر ممکن
ہوسکے۔ تو وہ انقلاب پسندوں کو کچلنے کیلئے کانگریس کی حمایت حاصل کرنا
چاہتی تھی۔ حکومت کی یہ خطرناک پالیسی ہندوستان میں ایک نئے دور کا آغاز
کرنے والی تھی۔ اس پالیسی کا مدعا یہ تھا کہ صرف نعرے لگانے والے پکٹنگ
کرنے والے یا نمک بنانے والے اشخاص کو ہی سیاسی قیدیوں کے زمرے میں شمار
کیا جائے۔ اور انقلابی پسندوں کی سیاسی حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کردیا
جائے۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ گورنمنٹ انقلاب پسندؤں کو کچلنے کیلئے کانگری
سکی حمایت چاہتی تھی اور کانگریس بلاشرکت غیر سے ہندوستان کی سیاسی زندگی
کی واحد اجارہ دار بننے کیلئے گورنمنٹ سے سمجھوتہ کی منتظر تھی۔ اس طرح
کانگریس اور گورنمنٹ میں سمجھوتے کے امکانات روشن ہوگئے اور مصالحٹ کی
بنیاد مضبوط ہوگئی۔
ان دنوں شری سبھاش چندر بوس بنگال کا دورہ کررہے تھے۔ جب آپ سیالدہ کے
ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے انہیں نوٹس دیا گیا کہ
وہ ضلع میں داخل نہ ہوں۔ آپ نے حکم کی خلاف ورزی کی وار فوراً گرفتار کیا
گیا۔ جس نے آپ کو سات دن قید محض کی سزا دی ایک ہفتہ قید بھگتنے کے بعد آپ
جیل سے رہا کردیئے گئے۔
وائس رائے کی تقریر کے چند دن بعد برطانوی پارلیمنٹ میں 19جنوری 1931ء کو
وزیراعظم نے حکومت برطانیہ کی پالیسی کا اعلان کردیا اور ایک ہفتہ بعد
مہاتما گاندھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس ہائی کمان کے دیگر ممبران
رہا کردیئے گئے۔ اس موقع پر شری سبھاش چندر بوس نے ایک بیان جاری کیا جس
میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سازش کے مقدمات واپس لے کر تمام انقلاب
پسندوں کو بھی رہا کرے۔ مزید کہا کہ اگر صرف سول نافرمانی کے قیدی ہی رہا
کئے گئے اور سازش کیسوں کے اسیروں کی رہائی پر غور نہ کیا گیا۔ تو اس کے
نتائج نہایت خطرناک ہونگے۔ کانگریس کو برطانوی گورنمنٹ سے سمجھوتہ کرنے سے
پہلے اس بات کا یقین حاصل کرلینا چاہیے کہ بلاامتیاز تمام سیاسی قیدیوں کو
رہا کردیا جائے گا۔ اس ضمن میں آپ نے آئرلینڈ کی مثال پیش کی۔ جہاں
سمجھوتہء کی گفت و شنید کرنے کے لئے پھانسی کے مجرموں تک کو بھی رہا کردیا
گیا تھا۔
اس کے برعکس گاندھی جی نے رہائی کے بعد جو پہلا بیان جاری کیا اس میں صرف
سول نافرمانی کے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ انقلاب پسندوں
کو کچلنے کیلئے حکومت اور کانگریس کے اس ناپاک گٹھ جوڑ نے نوجوانوں کے دلوں
کو بری طرح مجروح کیا۔ ادھر بڑے بڑے کانگریسی لیڈروں کی رہائیاں عمل میں
لائی جارہی تھیں۔ لیکن دوسری طرف شری سبھاش چندر بوس کو پھر جیل میں ڈالنے
کے منصوبے بندھ رہے تھے۔ 26جنوری کے دن ہندوستان بھر میں یوم آزادی منایا
جاتا ہے۔ چنانچہ شری سبھاش بوس پر زیر دفعہ 144ایک حکم امتناعی کی تعمیل
کرائی گئی۔ جس کی رو سے انہیں یوم آزادی کے مظاہرہ میں شرکت کی ممانعت کردی
گئی۔ شری سبھاش بوس نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا اور 26جنوری 1931ء کو
آپ سہ رنگا جھنڈا ہاتھ میں لے کر جلوس کی رہنمائی کیلئے روانہ ہو پڑے۔ جب
جلوس شہر کے وسط میں پہنچا۔ تو پولیس نے جلوس کے اردگرد گھیرا ڈال لیا اور
شری بوس کو جلوس سے علیحدہ کرکے ان کے ہاتھ سے کانگریسی جھنڈا چھیننا چاہا۔
جب انہوں نے جھنڈا دینے سے انکار کیا تو پولیس افسروں نے آپ کے ہاتھ سے
زبردستی جھنڈا چھین لیا۔ اس کشمکش میں آپ زخمی ہوگئے۔ جب آپ عدالت میں لائے
گئے۔ تو آپ کے ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ نے عدالت کی کسی کارروائی
میں حصہ لینے سے انکار کردیا اور آپ کو چھ ماہ قید سخت کی سزا دی گئی۔
11فروری 1931ء کو پریوسی کونسل سے سردار بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی
اپیل خارج ہوگئی۔ اس سے کانگریس کی ایک اور آزمائش کا موقع پیدا ہوگیا سوال
یہ تھا کہ کیا سرکار سے سمجھوتہ کرتے ہوئے گاندھی جی سرفدار بھگت سنگھ اور
ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یا خاموشی اختیار کرتے ہوئے
ان نوجوانوں کو پھانسی پر لٹکانے کیلئے سرکار کو آشیرداد دیتے ہیں۔
17فروری کو گاندھی جی اور وائس رائے ہند لارڈ ارون کے درمیان وائیسرائیگل
لارج دہلی میں براہ راست سمجھوتہ کی بات چیت شروع ہوگئی۔ مہاتما جی اس
ملاقات کے لئے اس قدر بیتاب تھے کہ آپ وقت مقررہ سے 15منٹ پہلے ہی
وائیسرائیگل لاج میں پہنچ گئے۔ ملاقات سے پہلے وائس رائے اور گاندھی جی کے
درمیان تاروں کا جو تبادلہ ہوا۔ وہ نہایت دلچسپ ہے۔ گاندھی جی نے وائس رائے
ہند کو تار بھیجا-:
" میں منگلوار کو آپ سے بغلگیر ہونے کے لئے آرہا ہوں۔"
اس کے جواب میں وائس رائے نے لکھا"-: میں آپ سے بغلگیر ہونے کو تیار ہوں"۔
ادھر مہاتما گاندھی اور لارڈ ارون ایک دوسرے سے بغلگیر ہورہے تھے۔ط ادھر
پشاور میں ایک عجیب گھٹنا ہوگئی۔ ایک نوجوان پٹھان نے اسسٹنٹ کمشنر پر
گولیوں سے فائر کردیئے۔ انگریز اسسٹنٹ کمشنر بال بال بچ گیا۔ دوسرے روز
ملزم کو ایک عدالت سے پھانسی کی سزا کا حکم ملا اور تیسرے روز اس نوجوان
مسٹر حبیب نور کو پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ چند روز بعد شمالی ہندوستان کی
خفیہ دہشت پسند جماعت کے مشہور لیڈر شری چندر شیکھر آزاد الٰہ آباد میں
پولیس سے مقابلے کے دوران گولی سے ہلاک ہوگئے یہ نوجوان عرصہ دس سال سے یو۔
پی اور پنجاب کی تمام خفیہ سازشوں کا "دماغ"تھا۔
وائس رائے اور گاندھی جی کے درمیان طویل ملاقاتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا
تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انڈین نیشنل کانگریس نے نئی گول میز کانفرنس
میں شامل ہونا منظور کرلیا۔ اور تحریک سول نافرمانی بند کردی گئی۔ اس کے
عوض میں گورنمنٹ نے عدم تشدد کے تمام قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا۔
اور یہ بات واضح کردی۔ کہ مقدمہ سازش میرٹھ اور اس قسم کے دیگر سازش کیس
واپس نہیں لئے جائیں گے اور نہ ہی انقلاب پسند قیدی رہا کئے جائیں گے۔
چنانچہ گاندھی ارون سمجھوتہ نوجوانوں کے منہ پر کانگریس اور گورنمنٹ کی ایک
زبردست چپت تھی۔ اس سمجھوتے سے سردار بھگت سنگھ اور ان کے دیگر رفقاء کو
پھانسی دینے کیلئے فضاء تگیار ہوگئی۔ یہ سمجھوتہ ہندوستگان کی سیاسی تاریخ
میں گاندھی ارون پیکٹ کے نام سے مشہور ہے۔ اس پیکٹ کی رو سے سول نافرمانی
کے تمام قیدی رہا کردیئے گئے۔ چنانچہ 18مارچ 1931ء کو شری سبھاش بوس بھی
رہا کردیئے گئے۔
گاندھی ارون سمجھوتے کے متعلق اخبار "لبرٹی" میں شری سبھاش چندر بوس کا ایک
انٹرویو درج ہے۔ جس سے ان کے ردعمل کا پتہ چلتا ہے۔ "رہائیوں کے سلسلے میں
یہ ضروری ہے کہ بنگال آرڈیننس کے تمام نظر بند۔ ریگولیشن کے قیدی اور سازش
کیسوں کے اسیر بھی رہا کئے جائیں۔ کیونکہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا
جاسکتا۔ ان لوگوں نے محض اپنے دیش کو غلامی سے نجات دلانے کیلئے یہ طریقہ
اختیار کیا۔ اور انہوں نے اپنے مخصوص طریقہ سے ملک کی خدمت کی۔ آئرلینڈ میں
بھی جب صلح ہوئی تھی۔ تو پھانسی کی سزا پائے ہوئے ایک انقلاب پسند لیڈر
کمانڈر میکن کو رہا کردیا گیا تھا۔ اس لئے ہندوستان میں بھی عام معافی میں
مفروروں اور انقلاب پسندوں کو شامل کیا جائے۔"
اس سے ظاہر تھا کہ شری سبھاش بوس کو گاندھی ارون پیکٹ سے بھاری مایوسی
ہوئی۔ اس ضمن میں آپ نے شبہات دور کرنے کیلئے گاندھی جی کو خط لکھا۔ جس کے
جواب میں گاندھی جی نے انہیں ذاتی بات چیت کے لئے بمبئی بلایا 17مارچ کو آپ
بمبئی پہنچ گئے۔ ریلوے اسٹیشن پر نوجوانوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔
نمائندہ پریس سے انٹرویو کے دوران آپ نے کہا-:
"میں اس مرحلہ پر گاندھی ارون پیکٹ کے متعلق کوئی اظہار رائے نہ کرونگا۔
کیونکہ میں اس سے پیشتر گاندھی جی سے سمجھوتے کے متعلق پوری تفصیلات جاننا
چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ گاندھی جی سے ملاقات کے بعد ہی میں اپنے طرز عمل کا فیصلہ
کروں گا۔ اور اس فیصلے کا میری آئندہ زندگی پر بھاری اثر پڑے گا۔"
جوں جوں دن گزرتے جاتے تھے۔ اور سازش کے اسیروں کی رہائی کا امکان مفقود
ہوتا جاتا تھا۔ نوجوانوں میں گاندھی جی کے خلاف جذبہ ناراضگی بڑھتا جارہا
تھا۔ پنجاب کے نوجوانوں پر اس جذبے کا فوری اثر یہ ہوا۔ کہ نوجوان بھارت
سبھا کے جلسوں میں "گاندھی جی کی جے" کے نعرے لگانے کی ممانعت کردی گئی۔
17اور 18مارچ کو گاندھی جی سے طویل ملاقات کے بعد شری سبھاش بوس کلکتہ
روانہ ہوگئے۔ انہی دنوں پنڈت جواہر لال نہرو نے انقلاب پسندوں کے متعلق
کانگریس کے مضحکہ خیز رویہ کی قلعی کھولتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا-:
"جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے کئی بھائی ابھی تک جیلوں میں ہیں، اور میں باہر
آگیا ہوں۔ تو مجھے شرم آتی ہے۔ ہم انہیں رہا نہیں کراسکے یہ ہماری کمزوری
ہے۔۔۔۔۔۔!"
20مارچ کو دہلی میں تقریر کرتے ہوئے شری سبھاش بوس نے کہا-:
"میں نے اس خبر کو انتہائی رنج کے ساتھ سنا کہ سردار بھگت سنگھ اور ان کے
رفقاء کو پھانسی دی جانے والی ہے۔ مجھے اسس وقت ہری کشن کی بدقسمتی پر رونا
آیا۔ دنیش گپتا اور رام کشن بسواس بھی یاد آگئے۔ جنہیں پھانسی کا حکم
ہوچکا ہے۔ اسیران شولاپور کو پھانسی دیئے جانے سے جو انتہائی صدمہ ہوا۔
ابھی تو اس کی یاد بھی تازہ ہے۔ اگر سردار بھگت سنگھ اور ان کے رفقاء کو
پھانسی دی گئی۔ تو لوگ دریافت کریں گے کہ اب صلح کہاں ہے؟ امن کدھر ہے؟ اور
سمجھوتہ کی شرئاط کو کہاں تک پورا کیا گیا ہے؟ اندریں حالات یہ سوال پیدا
ہوتا ہے۔ کہ اگر ہم بھگت سنگھ جیسے نونہاروں کو نہیں بچاسکے۔ تو اس صلح کی
کیا اہمیت ہے۔۔۔۔۔۔؟"
لیکن جب گورنمنٹ کو اس سلسلے میں گاندھی جی کی بالواسطہ حمایت حاصل تھی۔ تو
وہ دوسروں کی بات سننے کے لئے کیوں تیار ہوتی۔ آخر جو ہونا تھا سو ہوا۔
اور23مارچ 1931ء کو لاہور سینٹرل جیل میں سردار بھگت سنگھ، سکھدیو اور راج
گورو کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا!
قاتل کہاں ہے؟
جس دن سردار بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی۔ اس دن ہندوستان
بھر کے نوجوان کراچی میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس کی تیاری میں مصروف
تھے۔ چنانچہ جب ایک احتجاجی جلسے میں گاندھی جی بنگالی پیروشری جے۔ ایم
سین گپتا تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہوئے۔ تو نوجوان بھارت سبھا کے ممبروں نے
"ڈاؤن ودگاندھی" اور "گاندھی مردہ باد" کے نعرے لگائے۔ اس سے واضح ہوگیا۔
کہ بھگت سنگھ کی پھانسی نے نوجوانوں کے سروں پر سے گاندھی ازم کا بھوت اتار
کر ہمیشہ کے لئے قبر میں د فن کردیا ہے۔ اور گاندھی جی کا طلسم ٹوٹنے لگا۔
چنانچہ گاندھی جی کو ان کے حواریوں نے بذریعہ تار اطلاع دیدی۔ کہ کراچی
میں ان کی آمد پر مخالفانہ مظاہرے کا خطرہ ہے۔ اس پر گاندھی جی کراچی ریلوے
اسٹیشن پر اترنے کی بجائے کراچی سے 13میل دور ایک الگ تھلگ مقام پر ٹرین
سے اتر پڑے۔ لیکن نوجوانوں کو بھی پتہ لگ چکا تھا کہ گاندھی جی کس گاڑی سے
آرہے ہیں۔ اور کہ وہ کہاں اتریں گے۔ چنانچہ جب گاندھی جی ٹرین سے اترے تو
نوجوانوں نے زبردست مخالفانہ مظاہرہ کیا۔ اور "گاندھی واپس جاؤ" اور
"گاندھی ارون پیکٹ مردہ باد" کے فلک شگاف نعرے لگاکر اعتدال پسند کانگریس
لیڈروں کو اس بات کا احساس کروایا۔ کہ اگر انہوں نے نوجوانوں کی طرف اپنا
رویہ تبدیل نہ کیا۔ تو ان کی بوسیدہ لیڈر شپ کا فاتحہ پڑھ دیا جائے گا۔
مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر انہیں ایک "سیاہ پھول"
پیش کیا۔ جونہی گاندھی جی کار میں بیٹھ کر کیمپ کے لئے روانہ ہوئے۔ تو
نوجوانوں نے ان کا تعاقب کیا۔ ان کے ہاتھوں میں سیاہ ماتمی جھنڈے تھے۔ اور
وہ نعرے لگارہے تھے کہ "ہم بھگت سنگھ کے قاتل کو چاہتے ہیں"۔ ۔۔۔۔۔۔"سردار
بھگت سنگھ کا قاتل کہاں ہے؟" ۔۔۔۔۔۔ ان کا اشارہ گاندھی جی کی طرف تھا۔
ادھر بھگت سنگھ کے مبینہ قاتل کی یہ گت بن رہی تھی۔ اور دوسری طرف نوجوان
اپنے بے تاج بادشاہ شری سبھاش چندر بوس کے جھنڈے تلے جمع ہورہے تھے۔ 28مارچ
1931ء کو کراچی میں آل انڈیا نوجوان بھارت سبھا کے اجلاس میں صدارتی تقریر
کرتے ہوئے شری سبھاش بوس نے کانگریس کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کرتے
ہوئے اعلان کیا-:
"میں ہندوستان میں سوشلسٹ ری پبلک قائم کرنا چاہتا ہوں۔ کانگریس کی پالیسی
اور پروگرام میں ابتدائی کمزوری یہ ہے۔ کہ یہ بہت حد تک مبہم ہے اس پروگرام
کی بنیاد زمینداروں اور کسانوں کے درمیان۔ سرمایہ داروں اور مزدوروں کے
درمیان۔ اونچی ذاتوں اور نام نہاد اچھوتوں کے درمیان سمجھوتے پر ہے مجھے
ییقن ہے۔ کہ کانگریس اس پروگرام سے آزادی حاصل نہیں کرسکتی حکومت کے لئے
نوجوانوں کی اسپرٹ پر فتح پانا ناممکن ہے۔ ملک میں جو جل چکی ہے اسے بجھانا
مشکل ہے۔ آزادی حاصل کرنے سے پہلے ہندوستان کو شاید اپنے بہت سے اور
فرزندوں کی قربانی دینی پڑے۔۔۔۔۔۔"
گاندھی ارون پیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا۔"اس عارضی صلح کی شرائط نہایت
مایوس کن اور غیر تسلی بخش ہیں۔ اب سوال یہ ہے۔ کہ ہم اس مرحلہ پر کیا کام
کریں؟ جو قوم کو مضبوط کرے۔ اس کے لئے میں نے پروگرام تیار کرلیا ہے۔"
اگلے روز جب پنڈت مدن موہن مالویہ نوجوان بھارت سبھا کے اجلاس میں تقریر
کرنے کیلئے کھڑے ہوئے۔ تو نوجوانوں نے پنڈت مالویہ کو تقریر کرنے کی اجازت
نہ دی۔ جلسے میں گڑ بڑھ مچ گئی۔ نوجوان اعتدال پسند لیڈروں کی چکنی چپڑی
باتوں سے تنگ آچکے تھے۔ لہٰذا شری سبھاش بوس نے اجلاس ملتوی کردیا۔
آخر کار کراچی میں انڈین نیشنل کانگریس کا سالانہ اجلاس شروع ہوا۔ اور
گاندھی ارون سمجھوتہ کی تصدیق ہوگئی۔ کانگریس نے گول میز کانفرنس میں شرکت
قبول کرلی۔ اور مہاتما گاندھی کو کانگریس کا واحد نمائندہ مقرر کردیا۔ اس
طرح کانگریس میں رجعت پسند لیڈروں کو پھر فتح ہوئی۔
شری سبھاش بوس نے اس موقع پر نوجوانوں کا ساتھ دے کر گاندھی جی کے خلاف
بغاوت کا جو جھنڈا بلند کیا تھا۔ گاندھی جی نے ان سے اس کا انتقام اس طرح
لیا۔ کہ اس مرتبہ پھر انہیں کانگریس ورکنگ کمیٹی میں شامل نہ کیا گیا کراچی
کانگریس سے واپسی پر شری سبھاش بوس نے جلیا نوالہ باغ امرت سر میں جو
ولولہ انگیز تقریر کی۔ اسے ذیل میں دیا جاتا ہے-:
"انڈین نیشنل کانگریس اور گورنمنٹ میں جو عارضی صلح ہوئی ہے۔ وہ زیادہ دیر
قائم نہیں رہ سکتی۔ ہندوستان جو مطالبات پیش کرے گا۔ گورنمنٹ انہیں ہرگز
نہیں مانے گی۔ کیونکہ جب گورنمنٹ نے ہمارے معمولی سے مطالبے کو ٹھکراکر
سردار بھگت سنگھ اور ان کے رفقاء کی پھانسی کو منسوخ نہ کیا۔ تو گورنمنٹ
ہمیں سوراجیہ کب دیگی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی پھر جنگ
شروع ہوجائے گی ہمارا مطالبہ بہت بڑا نہیں۔ انگریز انگلستان کے مالک ہیں۔
جاپان جاپانیوں کے قبضہ میں ہے۔ جرمنی جرمنوں کا ہے تو ہندوستان کیوں نہ
ہندوستانیوں کاہو۔ گول میز کانفرنس میں جو کچھ ہوگا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد اس
کا پتہ چل جائیگا۔ اس اثناء میں ہمیں نئی جنگ کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔
ہم چاہتے ہیں کہ نہ صرف ہمارا دیش ہی بلکہ تمام دنیا آزاد ہو"۔
اگلے روز بریڈ لاہال لاہور کے ایک پبلک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا-:
" لوگ تعجب کرتے ہیں۔ کہ اس قدر اشتعال کے باوجود کراچی کانگریس میں گاندھی
جی کی لیڈر شپ کی مخالفت کیوں نہ کی گئی۔ جہاں تک عارضی صلح کا تعلق ہے۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ کہ نوجوان اسے پسند نہیں کرتے۔ لیکن اگر کراچی
کانگریس میں اس کی مخالفت نہ ہوئی۔ تو اس کی وجہ محض یہ تھی۔ کہ لوگوں کو
گاندھی جی کی ذات سے عقیدت ہے۔ اور ملک گاندھی جی کے وقار کو کم نہیں کرنا
چاہتا۔ اگر شرائط صلح کو نامنظور کردیا جاتا ۔ تو یہ ورکنگ کمیٹی کے خلاف
رعدم اعتماد کا ووٹ قرار دیا جاتا دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم کانگریس کیمپ میں
پھوٹ ڈال کر دشمنان ملک کو مذاق کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس طرح
تفرقات بڑھ جاتے اور حکومت کے ہاتھ مضبوط ہوجاتے۔۔۔۔۔۔"
26مئی 1931ء کو احمد آباد میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا-:
" ہم نے کراچی میں متحد ہوکر دنیا کو دکھادیا۔ کہ ہم اپنے لیڈروں کے ساتھ
ہیں۔ کانگریس گول میز کانفرنس میں حکومت برطانیہ سے ایک متفقہ مطالبہ پیش
کرے گی۔ مجھے گول میز کانفرنس کے نتائج کے متعلق زیادہ امید نہیں۔ لیکن اس
سے یہ فائدہ ہوگا۔ کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو ملک پھر ایک
نئی جنگ شروع کردے گا۔ اس لئے یہ لازم ہے کہ ہم اپنی طاقت کو بڑھانے کی
کوششیں شروع کردیں۔ اب تمام دنیا کی خواہش ہے۔ کہ عالمگیر سیاسیات میں
ہندوستان کا درجہ بلند ہو۔ جب ہندوستان آزاد ہوگیا۔ تو دنیا بھر سے سرمایہ
داری کی لعنت دور ہوجائے گی۔ کیونکہ ہندوستان کی آزادی سرمایہ داری کی
تباہی ہے۔ آخر میں آپ نے کانگریسیوں سے اپیل کی۔ کہ وہ آنے والی جنگ میں
بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہوجائیں۔"
شری سبھاش بوس چاپلوسی سے نفرت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تقریر انہوں نے
ہندوستانی سرمایہ داروں کے گڑھ۔۔۔۔۔۔ احمد آباد میں کی تھی۔ گاندھی جی جب
بھی ہندوستانی سرمایہ داروں کے اس گڑھ میں تقریر کرتے ہیں۔ تو وہ سرمایہ
داروں کو محنت کش عوام کا ٹرسٹی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن سبھاش بوس جانتے ہیں۔
کہ ہندوستانی عوام کو صحیح معنوں میں آزاد کرانے کیلئے نہ صرف سیاسی آزادی
ہی بلکہ جفاکش طبقیکی اقتصادی آزادی کی بھی ضرورت ہے۔ وہ گورے اور کالے
سرمایہ داروں میں کوئی تمیز نہیں رکھتے۔ بلکہ ہندوستان کو اندرونی اور
بیرونی سرمایہ داری کی لعنت سے نجات دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔
احمد آباد میں تقریر کرنے کے بعد آپ گاندھی جی سے ملنے روانہ ہوگئے۔ 27ء
مئی کو آپ باردولی پہنچ گئے۔ اور آپ نے گاندھی جی سے طویل ملاقات کی۔ یہ
بات چیت گول میز کانفرنس کے سلسلے میں تھی۔ ہندوستانی سرمایہ داروں کے
متعلق احمد آباد والی تقریر سے شری سبھاش بوس کے خیالات کا اندازہ لگ سکتا
ہے۔ لیکن ہندوستان کے راجاؤں کے متعلق ان کے کیا خٌالات ہیں۔ وہ بمبئی میں
کی گئی ذیل کی تقریر میں دیکھیں۔ شری سبھاش بوس نے ریاستی باشندوں کی
کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا-:
"میں راجاؤں۔ نوابوں اور مہاراجاؤں کو وارننگ دیتا ہوں۔ کہ اب ہندوستان میں
ری پبلک ازم کا دور آنے والا ہے۔ اور عنقریب ہی ہندوستان میں سوشلسٹ ری
پبلک قائم ہوجائے گی میں اس ری پبلک میں راجاؤں۔ نوابوں اور مہاراجاؤں کے
لئے کوئی جگہ نہیں دیکھتا۔ اگر یہ لوگ پانچ سو روپیہ ماہوار وظیفے منظور
کرلیں۔ تو چند سال اور زندہ رہ سکیں گے۔۔۔۔۔۔"
اسی روز ایک اور پبلک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا-:
"ہندوستان کو اپنی تحریک آزادی کے لئے بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنی
چاہیے۔ بین الاقوامی ہمدردی نہ ہونے کے باعث مصر اور آئرلینڈ ناکام رہے۔
دنیائے ملوکیت پرستی ہندوستان کو بطور ایک تجربہ کے دیکھ رہی ہے۔ اگر
ہندوستان آزاد ہوگیا۔ تو یہ ناکام رہے گی بمبئی کو ہندوستان کا دروازہ کہتے
ہیں۔ کلکتہ کے ذریعے برطانوی امپیرئلزم ہندوستان میں داخل ہوا۔ اب بمبئی
ہی اسے باہر نکالے گا۔ یورپ کی سرمایہ دار طاقتیں ایک دوسرے کی مدد کررہی
ہیں۔ برطانیہ دوسری سرمایہ دار قوموں کے مطالم پر چشم پوشی کررہا ہے۔
کیونکہ وہ چاہتا ہے۔ کہ کوئی دوسری قوم اس پر نکتہ چینی نہ کرے۔ اس کی وجہ
ہے کہ برطانیہ بھی ہندوستان میں وہی کچھ کررہا ہے۔ برطانیہ صرف ایک ہی صورت
میں اپنی پالیسی تبدیل کرے گا۔ اور وہ صورت یہ ہے کہ ہندوستان اس کے پنجے
سے نکل جائے۔ دوسرے الفاظ میں ہندوستان کی آزادی دنیا بھر کے کمزور اور اور
مظلوم اقوام کو نجات دلائے گی۔"
موجودہ صورت حالات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا۔ گورنمنٹ سے صلح نہیں ہوئی
بلکہ دونوں طرف سے عارضی طورپر مخالفانہ سرگرمیاں بند کردی گئی ہیں۔۔۔۔۔۔"
ان دنوں ہندوستان بھر میں تشدد اور دہشت انگیزی کی وارداتیں پھر زور پکڑرہی
تھیں۔ گاندھی جی کی پالیسی سے تنگ آکر نوجوان بغاوت پر آمادہ ہوگئے ادھر
پنجاب میں سردار امریک سنگھ سردار گلاب سنگھ اور ان کے دیگر ساتیھوں کے
خلاف مختلف شہروں میں بم پھینکنے۔ اور دہشت زدگی پھیلانے کے الزام میں
مقدمہ چل رہا تھا۔ ادھر بنگال میں کسی نوجوان نے مشہور انقلاب پسند مسٹر
دنیش گپتا کو سزائے موت دینے والے انگریز سیشن جج کو گولی سے اڑادیا۔ اس سے
کچھی روز پہلے چٹاگانگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوچکا تھا۔
کچھ دن بعد ایک نوجوان نے گورنر بمبئی پر گولی چلادی۔ 29جولائی کو کلکتہ کے
یورپنیوں کے ایک جلسہ میں کلکتہ کارپوریشن کی جس کے میئر شری سبھاش بوس
تھے سخت مذمت کی گئی۔ کیونکہ کارپوریشن نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات بنگال
کرنل سمپن کے قتل شری دنیش گپتا کی پھانسی پر ماتمی ریزولیوشن پاس کیا
تھا۔ ایک ریزولیوشن کے ذریعے یوپنیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا۔ کہ ان اشخاص
اور انجمنوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ جو قاتلوں کی حمایت کرتی ہے!۔
ہمارے پوجیہ مہاتما جی نے بھی اپنی تمام توجہ دہشت پسندوں کے خالف زہر
اگلنے میں لگارکھی تھی۔ چنانچہ گاندھی جی نے اپنے اخبار "ینگ انڈیا" میں
گورنر بمبئی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے جو مضمون سپرد قلم کیا۔ اس
میں درج تھا۔ "سردار بھگت سنگھ کی پرستش نے ملک کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔
جہاں جہاں یہ پرستش جاری ہے۔ وہاں غنڈا پن اور بداخلاقی پھیل رہی ہے۔ بھگت
سنگھ کے طریق کار۔ فعل۔ قول اور خیال کی کسی بھی صورت میں حوصلہ افزائی
کرنے سے کانگریس کا وقار اور اس سے لوگوں کی عقیدت ضائع ہوجائے گی۔"
گاندھی جی کے اس مضمون سے ظاہر ہے۔ کہ ان کے خیال میں "کانگریس کے وقار اور
اس جماعت سے لوگوں کی عقیدت کو برقرار رکھنے کیلئے انقلاب پسند نوجوانوں
کو لوگوں کی نظروں میں گرانا ضروری ہے۔"
29اگست کو گاندھی جی دوسری گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لئے لندن روانہ
ہوگئے۔ روانگی پر کچھ نوجوانوں نے ان کے خلاف بمبئی میں مظاہرہ کیا۔
گاندھی جی کی لندن کو روانگی کے موقع پر انہیں الوداع کہنے کے لئے ملک بھر
کے تقریباً تمام بڑے بڑے لیڈر بمبئی میں آئے ہوئے تھے۔ لیکن شری سبھاش چندر
بوس اس موقع پر نہ آئے۔ اور انہوں نے کلکتہ سے گاندھی جی کو تار دیا۔ جس
میں درج تھا کہ:۔۔۔۔۔۔
"ہندوستانی اپنے پیدائشی حق سے کم کوئی بھی چیز قبول نہ کریں گے۔ اس لئے آپ
گول میز کانفرنس میں مکمل آزادی کا مطالبہ پیش کریں۔۔۔۔۔۔"
(جاری)
***
Post a Comment