Translate In Your Language

New Videos

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

نیتاجی  ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر

’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )



(گذشتہ سے پیوستہ)
( پانچویں قسط)

پھر قید فرنگ میں
بنگال میں ہزاروں نوجوان آرڈیننس کے ماتحت بغیر مقدمہ چلائے نظر بند تھے۔ ایک روز پہرے داروں نے ہجلی کیمپ کے نظر بندوں پر گولی چلادی۔ دو نظر بند ہلاک اور کئی مجروح ہوئے۔ جب ہلاک شدہ نظر بندوں کی ارتھیوں کا جلوس نکالا گیا۔ تو شری سبھاش بوس خود اس جلوس کی رہنمائی کررہے تھے۔ چند روز بعد بنگال کے طلباء کی ایک کانفرنس میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے آپ نے کانگریس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ اور کہا۔ اگر بارودلی یا یورپی میں معمولی سی گڑبڑ بھی ہوجائے۔ تو کانگریس لا اٹھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے آج تک کبھی بنگال کے دکھی نوجانوں کے حق میں ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا۔ اس پر سردار پٹیل نے شری سبھاش کو تار دیا کہ وہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی آئندہ میٹنگ میں شریک ہوں۔ لیکن شری سبھاش بوس ان لیڈروں سے اس قدر مایوس ہوچکے تھے۔ کہ آپ نے سردار پٹیل کا دعوت نامہ ٹھکرادیا۔
کچھ روز بعد سردار پٹیل کی طرف سے شری سبھاش بوس کو ایک اور خط ملا۔ جس میں درج تھا۔ کہ ہجلی اور چٹاگانگ کے واقعات کے متعلق ایجی ٹیشن کرنا خلاف مصلحت ہے۔ شری سبھاش کو یہ چٹھی پڑ کر انتہائی دکھ ہوا۔ کیونکہ چٹاگانگ کے باشندوں پر ان دنوں بے پناہ سختیاں ہورہی تھیں۔ حتیٰ کہ نوجوانوں کو شام کے بعد اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی۔ اور معمولی سے شبہے کی بناء پر انہیں کئی سال کے لئے جیل میں نظر بند کردیا جاتا تھا۔ اگر کوئی قومی لیڈر اس قسم کی بے جا سختیوں کے خلاف آواز اٹھانا خلاف مصلحت سمجھتا ہے۔ تو یقیناًیہ بت اس کی پستی اور گندی ذہنیت کا ثبوت ہے۔ حقیقت تو یہ تھی۔ کہ کانگریس نہ تو خود دکھی نوجوانوں کیلئے کوئی قدم اٹھانا چاہتی تھی۔ اور نہ کسی مقامی لیڈر کو حکومت کی سخت گیرانہ پالیسی کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت دیتی تھی اس کا مدعا تو یہ تھا۔ کہ انقلاب پسند نوجوانوں کو ISOLATE کرکے ختم کردیا جائے۔ تاکہ گاندھی جی کے اپنے الفاظ میں "کانگریس کے لئے لوگوں کی عقیدت کم نہ ہو۔"
لیکن سبھاش بوس مادر وطن کے ایک نڈر اور دلیر سپاہی ہیں۔ وہ پٹیلوں کو اپنی جیب میں لئے پھرتے ہیں۔ لہٰذا ان پر بارودلی کے سردار کی وارننگ کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اور آپ نے اپنے صوبے کے دکھی نوجوانوں کو مصائب سے نجات دلانے کے لئے پرزور ایجی ٹیشن جاری رکھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ جہاں ہندوستان کے نوجاونوں کے دلوں میں سبھاش کے لئے عقیدت بڑھتی گئی۔ وہاں ان کے دل میں اعتدال پسند لیڈروں اور کانگریس پالیسی کے خلاف جذبہ بھی زور پکڑگیا۔ اگر کانگریس نوجوانوں کے مصائب کو کم کرنے کیلئے خود کچھ امداد نہ دے سکتی تھی۔ تو وہ کم از کم پرزور ایجی ٹیشن کے ذریعے گورنمنٹ کو نرم پالیسی اختیار کرنے کیلئے تو مجبور کرسکتی تھی۔ لیکن کانگریس نے ایسا نہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ انقلاب پسندوں کی وارداتوں کے رکنے کی بجائے ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ 28اکتوبر 1931ء کو کچھ انقلاب پسندوں نے ڈھاکہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو گولی کا نشانہ بنایا۔ اور اگلے روز کلکتہ میں یورپین ایسوسی ایشن کے ایک سرکردہ لیڈر پر گولی چل گئی۔
ڈھاکہ میں گولی چلنے کے بعد پولیس نے جو زیادتی کی۔ اس کی تحقیقات کیلئے شری سبھاش بوس وہاں جانا چاہتے تھے۔ لیکن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے آپ پر ایک حکم کی تعمیل کرائی گئی۔ جس کی رو سے انہیں وہاں جانے کی ممانعت کردی گئی آپ نے اس حکم کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ 7نومبر کو آپ گرفتار کرکے جبراً ڈھاکہ سے نکال دیئے گئے۔ اس ضمن میں آپ نے ایک بیان میں کہا-:
"میں محسوس کرتا ہوں۔ ڈھاکہ میں بہت سی ایسی باتیں ہورہی ہیں۔ جنہیں مقامی افسران روز روشن میں لانا نہیں چاہتے۔ وہ افشائے راز سے خوف کھاتے ہیں۔ مجھ پر امتناعی حکم کے نفاذ کی یہی وجہ ہے۔"
دو روز بعد شری سبھاش حکم امتناعی کے باوجود پھر ڈھاکہ روانہ ہوگئے پولیس افسروں نے انہیں ڈھاکہ سے چار میل دور ریل گاڑی میں گرفتار کرلیا۔ آپ ڈھاکہ میں پولیس کی سختیوں کے متعلق تحقیقات کرنے کیلئے ایک غیر سرکاری کمیٹی کے صدر کپی حیثیت سے وہاں گئے تھے۔ گرفتاری کے بعد آپ نے ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کردیا۔ چنانچہ آپ کو جیل لے جایا گیا۔ اس سے پیشتر سب ڈویجنل افسر نے آپ کو واپس کلکتہ جانے کو کہا۔ لیکن آپ نے انکار کردیا۔ اس پر آپ کو کہا گیا۔ کہ ضمانت پر رہا ہوکر ڈھاکہ ڈسٹرکٹ سے باہر چلے جائیں۔ اور مقدمہ کی سماعت کے دن آجائیں۔ لیکن آپ نے اس سے بھی انکار کردیا۔ گرفتاری کے بعد آپ نے لوگوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا۔ کہ وہ چٹاگانگ اور ہجلی کے واقعات کی تلافی کے لئے ایجی ٹیشن جاری رکھیں۔ حکومت کو جلد ہی اس باتکا احساس ہوگیا۔ کہ اس نے سبھاش بوس کو گرفتار کرکے غلطی کی ہے۔ کیونکہ اس سے نوجوانوں کے جذبات مشتعل ہونے اور بگڑے ہوئے حالات کے مزید بگڑجانے کا احتمال تھا۔ لہٰذا گرفتاری کے چار روز بعد شری سبھاش رہا کردیئے گئے۔ اور ان کے خلاف مقدمہ بھی واپس لے لیا گیا۔ نیز انہیں اس بات کی اجازت دے دی گئی۔ کہ وہ ڈھاکہ میں آزادانہ طورپر رہ سکتے ہیں۔
انہی دنوں وائس رائے نے ایک اور آرڈیننس جاری کردیا۔ جس کی روسے ضلع چٹاگانگ میں انقلاب پسندوں کو کچلنے کے لئے فوج اور اسپیشل پولیس تعینات کردی گئی۔ اور نوجوانوں کو رات کے وقت گھروں سے نکلنے کی ممانعت کردی گئی۔ اگلے روز گورنر بنگال نے چٹاگانگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔ کہ اب ایک ایک دہشت پسند کو چن چن کر گرفتار کرلیا جائے گا۔ چنانچہ اس تحریک کو کچلنے کیلئے سرچارلس ٹیگارٹ سابق کمشنر پولیس کلکتہ پھر لندن سے بلالئے گئے۔اور بنگالکے لئے نئے گورنر کا اعلان کیا گیا۔ یہ نیا گورنر سرجان اینڈرسن تھا۔ جو آئرلینڈ میں دہشت زدگی کی تحڑیک کو کچلنے میں کافی شہرت حاصل کرچکا تھا۔ درحقیقت یہ نئی تقریریاں اس بات کا اعلان تھیں۔ کہ اب حکومت نے دہشت پسندوں کے خلاف زبردست جنگ شروع کردی ہے۔ اس نئے دور پر رائے زنی کرتے ہوئے کلکتہ کے مشہور قوم پرست اخبار "ایڈوانس" نے لکھا۔
"نئے آرڈیننس کے لفظ لفظ سے انتقام کا جذبہ اچھل رہا ہے۔ قانونی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ شخصی آزادی تباہ کردی گئی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ سول حکومت کی جگہ فوجی حکومت نے لے لی ہے۔"
سرپی۔ سی رائے نے کہا۔ "اس آرڈیننس کا یہ مطلب ہے کہ سارے بنگال میں مارشل لاء نافذ کردیا گیا ہے۔"
ادھر بنگال میں سختی کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ ادھر لندن میں گول میز کانفرنس ناکام ہوچکی تھی۔ گاندھی جی ابھی لندن میں ہی تھے۔ اور خالی ہاتھ ہندوستان واپس آنے کی تیاریاں کررہے تھے۔ اس آرڈیننس کے متعلق انہوں نے رائے زنی کرتے ہوئے کہا۔ "میں اس آرڈیننس کو جنگ کی نشآنی سمجھتا ہوں۔ میں نے وزیر ہند کو بہت کہا کہ وہ ایسا آرڈیننس نافذ نہ کریں۔ لیکن انہوں نے من مانی کی۔۔۔۔۔۔"
جب مہاتما گاندھی جیسے امن کے دیوتا نے اس آرڈیننس کی مذمت کی۔ تو ان دنوں اس آرڈیننس کے متعلق عام نوجوانوں کے جذبات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں بنگال میں جو نئی صورت حالات پیدا ہورہی تھی۔ اسے دیکھنے کے لئے وائس رائے ہند خود کلکتہ گئے۔ اور ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس مبھی وہیں منعقد ہوا۔ اس اجلاسمیں شری سبھاش بوس کی آرڈیننس کے ماتحت گرفتاری اور طویل نظر بندی کا فیصلہ کرلیا گیا۔ حکومت بنگال کے افسروں نے وائس رائے سے کہا۔ کہ انارکسٹوں کی پشت پر شری سبھاش بوس کا ہاتھ ہے۔ ان دنوں شری سبھاش نے ایک زبردست تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا۔ کہ "بنگال کا پالیٹکس ہندوستان کے پالیٹکس سے جدا ہے۔ دوسرے صوبوں میں " گاندھی ارون پیکٹ" ہے لیکن بنگال ملیں وہ پیکٹ ٹوٹ چکا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے۔ کہ آرڈیننس پر آرڈیننس جاری ہورہے ہیں۔ لیکن ہم گورنمنٹ کو بتادیں گے۔ کہ ہم زندہ ہیں۔ اور ہمارے اندر خود داری کی اسپرٹ موجود ہے۔"
نئے گورنر سرجان اینڈرسن کی تقرری کے متعلق آپ نے فرمایا۔ "جس طرح ان کے تقرر کے بعد آئرلینڈ ملیں "فری اسٹیٹ" بن گئی تھی۔ عین اسی طرح ان کے قدم رنجہ فرمانے سے بنگال "آزاد بنگال" بن جائیگا۔"
شری سبھاش بوس کی اس جنگی تقریر سے لندن میں اضطراب پھیل گیا۔ چنانچہ ہاؤس آف کامنز میں وزیر ہند سے سوالات دریافت کئے گئے۔ جن کے جواب میں سرسموئیل ہور نے جوابی چیلنج دیتے ہوئے کہا"-: برطانوی گورنمنٹ صورت حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے بالکل تیار ہے۔" 9دسمبر کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چٹاگانگ نے نئے آرڈیننس کے ماتحت ایک حکم جاری کیا۔ جس کی رو سے متعدد پولیس تھانوں کی حدود میں بغیر اجازت بائیسکل چلانے کی ممانعت کردی گئی۔ اور کئی دیہات کے باشندوں کو ساڑھے چھ بجے شام سے 3بجے صبح تک گھروں سے باہر نکلنے کی ممانعت کردی گئی۔ ادھر حکومت کی پیشبندیاں جاری تھیں۔ ادھر بنگال کے ضلع ٹپرا میں ایک اور خؤفناک گھٹنا ہوگئی۔ دو انقلاب پسند بنگالی دیویوں نے اس ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر سٹیونز کو گولی سے ہلاک کردیا۔
قتل کے ان واقعات کے متعلق شری سبھاش چندر بوس نے ایک تقریر کے دوران کہا-:۔۔۔
"اگر عارضی صلح کے وقت حکومت تمام نظر بندوں کو رہا کردیتی۔ تو یہ خیال کرنا کسی حد تک درست ہے۔ کہ اب دہشت انگیزی کے واقعات رونما نہ ہوتے چنانچہ میرے خیال ملیں حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے دہشت انگیزی کے واقعات ہورہے ہیں۔۔۔ کانگریس ان نوجوانوں کی امداد کرنے میں بے بس ہے۔ اب کانگریس کو ایسا عملی پروگرام تیار کرنا چاہیے۔ جس سے ان بے صبر نوجوانوں کو یقین وہجائے۔ اور دہشت انگیزی کا خاتمہ ہو۔"
27دسمبر کو گاندھی جی لندن سے واپس آگئے۔ اگر وہ شری سبھاش بوس کے مشورے پر عمل کرتے۔ تو انہیں ولایت جانے اور وہاں سے خالی ہاتھ واپس لوٹنے کی زحمت گوارا نہ کرنی پڑتی۔ دراصل بات یہ ہے۔ کہ گاندھی جی ایک بلند ترین کیریکٹر کے منش ہیں۔ ان کے دل میں کوئی پاپ نہیں۔ اس لئے وہ باقی لوگوں کو بھی صاف دل سمجھتے ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے یہ بات ان کی عظمت کی نشانی ہے۔ لیکن سیاسی نقطہ نگاہ سے ایک بدترین نقص یا کمزوری بن جاتی ہے۔ پالیٹکس ایک نہایت خطرناک کھیل ہے۔ اس میں حصہ لینے کے لئے مہاتماؤں اور سنیاسیوں کی نہیں۔ بلکہ اول درجے کے چالاک زمانہ ساز اور عیار ڈپلوملیٹوں کی ضرورت ہے۔ کذب و فریب کی موجودہ انٹرنیشنل سیاست میں صرف چالاک اشخاص ہی اپنے ملک کی کشتی کے ناخدابن کر اسے منجدھار سے پار لگاسکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی ملک کی رہنمائی گاندھی جی جیسے مہاتما کے ہاتھ میں سونپ دی جائے۔ تو اس کا نتیجہ اس ملک کے لئے اتنا فائدہ مند ثبات نہ ہوگا جتنا اس ملک کے دشمنوں کے لئے۔ کیونکہ مخالف اس قسم کے صاف دل اور سیدھے سادے رہنما کی شرافت کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ اس کی مثال آپ اس موقع پر دیکھ لیجئے۔ لارڈ ارون اور دیگر برطانوی سیاستدانوں کے جھانسے میں آکر آپ ولایت روانہ ہوگئے۔ لیکن حکومت آنے والی جدوجہد کی تیاریوں میں مصروف رہی۔ چنانچہ جب گاندھی جی ولایت سے خالی ہاتھ ہندوستان پہنچے۔ تو جہاں حکومت کسی امکانی تحریک کو دبانے کی مکمل تیاری کرچکی تھی۔ وہاں کانگریسی لیڈر "عارضی صلح" کا سہارا لے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ گورنمنٹ نے گاندھی جی کے ہندوستان پہنچنے سے پہلے ہی کانگریس پر براہ راست وار کرکے پنڈت جواہر لال نہرو اور خان عبدالغفار خان کو گرفتار کرلیا۔ گاندھی جی نے ہندوستان پہنچتے ہی گورنمنٹ کو کہا۔ "اگر میرا تعاون چاہتے ہو۔ تو تمام آرڈیننس منسوخ کردو۔" شری سبھاش چندر بوس گاندھی جی کے استقبال کے لئے بمبئی گئے ہوئے تھے۔ آپنے گاندھی جی کے ساتھ طویل ملاقات کی۔ اور انہیں بنگال کی صورت حالات سے آگاہ کیا۔ اور کہا کہ اس وقت سرگرم پروگرام کی ضرورت ہے۔ گورنمنٹ کی طرف رجوع کرنے کی نسبت ملک کو کسی گرم پروگرام شروع کرنے کی اپیل کی جائے۔ لیکن گاندھی جی پر سبھاش کی اپیلوں اور دلیلوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ کیونکہ وہ ایک مہاتما تھے۔ گاندھی جی نے گورنمنٹ کو تعاون کی جو پیشکش کی تھی۔ اس کے جواب میں وائس رائے نے دھمکی دی تھی کہ حکومت عدم تعاون اور سول نافرمانی کی تحریک ہرگز جاری نہ ہونے دے گی۔ گاندھی جی نے آرڈیننس راج کی منسوخی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں وائس رائے نے کہا۔"آپ ایک دو آرڈیننسوں کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہو۔ لیکن گورنمنٹ مزید کئی آرڈیننس جاری کرنے والی ہے۔"
30دسمبر کو بمبئی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔ اس اجلاس میں سبھاش بوس نے گاندھی جی اور دیگر اعتدال پسند رہنماؤں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ اور ان پر یہ بات واضح کردی۔ کہ اگر کانگریس نے کوئی سرگرم تحریک جاری نہ کی۔ تو وہ اپنے صوبہ بنگال میں خود تحریک جاری کردیں گے۔ اس روز گاندھی جی نے وائس رائے کو تار بھیجی۔ جس میں ان سے درخواست کی گئی۔ کہ وہ ملاقات کے لئے وقت دیں۔ اس تار کے جواب میں وائس رائے ہند لارڈ لنگڈن نے لکھا-:
"آپ مجھ سے مل سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ آرڈیننسوں کے متعلق کسی قسم کی گفتگو نہ کریں۔"
اس سے ظاہر تھا۔ کہ گورنمنٹ سختی پر تلی ہوئی ہے۔ اگلے روز بنگال آرڈیننس میں ایک ترمیم کے ذریعے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو انقلاب پسندوں کی بیخ کنی کے لئے اپنے اپنے ضلع میں کرفیو آرڈر نافذ کرنے کے اختیارات دے دینے گئے۔ اس کے جواب میں انقلاب پسندوں نے سربازار ایک سرکاری گواہ آسوتوش نیوگی کو قتل کردیا۔ رفتہ رفتہ نہ صرف انقلاب پسندوں اور گورنمنٹ میں ہی بلکہ گورنمنٹ اور کانگریس میں بھی صحیح معنوں میں جنگ چھڑگئی۔ گورنمنٹ نے سب سے پہلے شری سبھاش چندر بوس پر ہاتھ ڈالا اور 2جنوری 1932ء کو آپ بمبئی سے کلکتہ کو واپسی کے دوران راستے میں ہی ریگولیشن نمبر 1818/3 کے ماتحت غیر معین عرصہ کے لئے جیل میں نظر بند کردیئے گئے۔
دو روز بعد گاندھی جی بھی بمبئی میں گرفتار کرلئے گئے۔ بعدازاں آہستہ آہستہ سب کانگریس لیڈر گرفتار کرلئے گئے۔ گرفتاری سے ٹھیک دوماہ بعد شری سبھاش نے سیونی جیل سے اپنے ایک دوست کو مندرجہ ذیل خط لکھا-:
" میں آپ کو جلد خط لکھتا۔ لیکن عدالت کے باعث ایسا نہیں کرسکا ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ سے مجھے معدہ کی شکایت ہے۔ اس لئے میرے لئے یہی مناسب ہے کہ میں سارا دن بستر پر لیٹا رہوں۔ کیونکہ میرے لئے حرکت کرنا مشکل ہے۔ لیکن تمام دن اور رات بستر میں لیٹے رہنا بھی بڑا تکلیف دہ ہے۔ میرا خٌال ہے۔ کہ میرا معدہ روزبروز خراب ہوتا جارہا ہے۔ دوسری طرف خوراک کی پابندی سے میرا وزن 13پونڈ کم ہوگیا ہے۔ میں خود ہی حیران ہوں۔ کہ میرے معدے کے اس قدر کمزور ہوجانے کی کیا وجہ ہے۔ بہرحال پرماتما کا شکر ہے۔ میں ویسے بالکل خوش و خرم ہوں۔ ہمیں ان تمام تکلیفوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ جو ہمارے راستہ میں آئیں گی۔ اور بڑی بڑی مصیبت میں بھی راحت کو تلاش کرنا ہے۔ شری یت سرت چندر بوس بھی گرفتاری کے بعد ریگولیشن نمبر 1818/3ء کے ماتحت میرے ساتھ اسی جیل میں نظر بند کردیئے گئے تھے۔ وہ راضی خوشی ہیں۔"
ماہ اپریل 1932ء کے آخری دنوں میں ا یک اور خوفناک گھٹنا ہوئی۔ ایک بنگالی نوجوان لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مدناپور کو گولی سے ہلاک کردیا۔ اس سے پیشتر چند ماہ پہلے مدناپور کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر پیڈی بھی گولی سے ہلاک کردیئے گئے تھے۔
مدناپور کے دوسرے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹرڈوگلس کے قاتل کی جیب سے ایک کاغذ برآمد ہوا۔ جس پر لکھا تھا۔۔۔۔۔۔"واقعات ہجلی کا میرا حقیر انتقام"۔۔۔۔۔۔ یاد رہے ہجلی کیمپ میں سنتریوں نے چند انقلاب پسندوں کو گولی سے اڑادیا تھا۔ اور اس پر سارے بنگال میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بنگال کانگریس کی طرف سے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی تھی۔ شری سبھاش بوس اس کے صدر تھے۔ اور انہوں نے اس ایجی ٹیشن میں سرگرم حصہ لیا تھا۔ ان دنوں دہشت زدگی کی وارداتوں سے بنگال میں سرکاری افسروں کو ہروقت موت کا کھٹکا لگارہتا تھا۔ اس کا ثبوت مدناپور کے مقتول ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈوگلس کے اس خط سے ملتا ہے۔ جو انہوں نے اپنی موت سے صرف چند دن پہلے اپنے بھائی کو لکھا۔ خط مندرجہ ذیل ہے-:
"دراصل میری جان اب بڑے خطرے میں ہے۔ میرے بنگلے پر دو مسلح سپاہی ہروقت پہرہ دیتے ہیں۔ میں اپنی دہلیز کے باہر ایک سادہ لباس والے ریوالور سے مسلح سپاہی کی ہمراہی کے بغیر نہیں جاسکتا۔ مجھے خفیہ پولیس کی طرف سے تین پیغامات موصول ہوچکے ہیں کہ ان چار دنوں میں خوب ہوشیار ہوں اس کے علاوہ مجھے دھمکی آمیز گمنام خفیہ خطوط بھی موصول ہورہے ہیں یہ خط ان دو قاتلوں کی طرف سے ہیں جنہوں نے مسٹر پیڈی کو قتل کیا تھا میں ان خطوط کو محض مذاق تصور کرتا ہوں لیکن سی آئی ڈی ان کو اہمیت دیتی ہے سی آئی ڈی افسر کہتے ہیں ان خطوط کے دستخط ان متعدد تہدید آمیز خطوط سے ملتے ہیں جو مسٹر پیڈی کو آیا کرتے ہیں آج سارے شہر میں انقلاب پسند پارٹی کی مسٹر پیڈی کو آیا
کرتے ہیں آج سارے شہر میں انقلاب پسند پارٹی کی طرف سے خفیہ پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں نوجوانوں سے مسٹردنیش گپتا کی موت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے دینش گپتا نے مسٹر گارنک کو قتل کیا تھا ان پوسٹروں میں سے ایک انگریزی میں ہے جس کا عنوان خون کا بدلہ خون ہے ولایتی مال کا بائیکاٹ اس قدر سخت ہے کہ مجھے شہر میں سگرٹ کا ایک ڈبہ دستیاب نہیں ہوسکتا انقلاب پسند لوگ قتل کی مزید وارداتیں کرنے والے ہیں چنانچہ اب ان کی دھمکیوں کے سلسلے میں زیادہ عرصہ تک لاپروائی نہیں کی جاسکتی بہر حال کسی بھی یورپین کو کسی حالت میں خطرہ سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔ یہ خط شاید میرا آخری ہو ۔ مجھے امید ہے کہ آپ بہت جواب دیں گے اس کے بعد مسٹر ڈوگلس نے اپنے بھائی کو جو خط لکھا وہ واقعی ان کا آخری خط ثابت ہوا ۔
ہجلی کیمپ سے آمدہ ایک خط کو میں نے پڑھا ہے جس میں لکھنے والے نے انقلاب پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب ہمیں سی کو معاف نہیں کرنا چاہئے حتی کہ سرکار سے تعاون کرنیوالے بنگالیوں کو بھی معاف نہ کیاجائے ۔
مسٹرڈوگلس کا خط واقعی درد ناک ہے پتھر سے پتھر دل کا انسان بھی اس خط کو پڑھ کر ان دنوں بنگال میں مقیم انگریز افسروں سے ہمدردی ظاہر کئے بغیر نہیں رہ سکتا انگریزافسروں ہمدردی ظاہر کئے نہیں رہ سکتا انگریز ایک دلیر قوم ہے وہ موت سے کھیلنا جانتے ہیں اگر ان میں یہ خوبی نہ ہوتی تو وہ سات سمندر پاردور دراز ممالک پر ہر گز حکمرانی نہ کرسکتے مسٹرڈوگلس کی مثال ہی لیجئے ۔ انہیں ہر وقت اپنی موت کا خطرہ تھا ہر روز سی آئی ڈی کے افسرا نہیں خطرے سے آگاہ کررہے تھے ادھر انقلاب پسند انہیں تہدید آمیز چٹھیوں کی شکل مسٹرڈوگلس کے یہ الفاظ کہ بہر حال یورپین میں باشندوں کو کسی بھی خطرے سے نہ گھبرانا چاہئے انگریز افسروں کی جرأت کا ثبوت پیش کرتے ہیں ہم نے بہت سے انقلاب پسندوں کو انگریز افسروں کی تعریف کرتے سنا ہے اور انگریزوں میں بھی بہت سے ایسے افسر موجود ہیں جو انقلاب پسندوں کی بہادری اور قربانی کے گن گاتے رہے ہیں ۔
کلکتہ کے پولیس کمشنر سرچارلس ٹیگارٹ انقلاب پسندوں کے بدترین دشمن تصور کئے جاتے ہیں اس بات میں کچھ بھی مبالغہ نہیں کہ انہوں نے دہشت انگیز تحریک کو جڑ سے اکھاڑنے میں دیگر تمام پولیس افسروں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا انہیں بنگال میں بہت حد تک کامیابی بھی ہوئی چنانچہ انقلاب پسندوں و ان سے اس قدر نفرت تھی کہ انہوں نے سرچارلس ٹیگارٹ پر کئی بار بم پھینکے انہی سرچارلس ٹیگارٹ کا ایک دفعہ بنگالی انقلاب پسندوں سے خوفناک تصادم ہوا تھا انقلاب پسند پہاڑیوں کی لوٹ میں مورچے بنا کر اس قدر جرأت سے پولیس کی بھاری جمعیت کا مقابلہ کرتے رہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد سرچارلس ٹیگارٹ بے ساختہ پکار اٹھے تھے۔ "بنگالی انقلاب پسندوں جیسے بہادر دنیا کے کسی خطے میں نہیں مل سکتے۔۔۔۔۔۔"
ایک بہادر انسان دشمن کے خون کا پیاسا ہوتے ہوئے بھی اپنے بہادر دشمن کی تعریف کرنے سے نہیں چوکتا۔ غلام قوموں کی سیاسی تحڑیکوں میں جو دور آتے ہیں۔ ان سے کئی گھروں کے دیپک بجھ چکے ہیں۔ ایک طرف جہاں انقلاب پسندوں کی گولیوں سے کئی انگریزوں کے خاندان ختم ہوگئے۔ وہاں دوسری طرف انگریزوں کی پھانسیوں نے کئی ہندوستانی گھروں کے چراغ گلج کردیئے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ باہمی خون کی ہولی کس لئے۔۔۔۔۔۔؟ اس کا جواب ہر شخص جانتا ہے۔۔۔
اس اثنا میں مسٹر سبھاش چندر بوس کی صحت جیل مین دن بدن خراب ہورہی تھی۔ آپ نے 20مئی کو سیونی جیل سے اپنے ایک دوست کو خط لکھا۔ جس میں درج ہے۔ "میرا وزن 28پونڈ کم ہوگیا ہے۔ اور درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں۔ کہ اس جیل کی گرمی میری صحت پر برا اثر ڈال رہی ہے۔"
اس طرح اپنے وطن سے دور سی۔ پی کی ایک جیل میں شری سبھاش بوس کی صحت دن بہ دن خراب ہوتی گئی۔ 15جون کو ان کا ایکس رے کیا گیا۔ ایکس رے معائنہ سے پہلے ان کا وزن 38پونڈ کم ہوچکا تھا۔
ایکس رے کے بعد وزن کرنے پر معلوم ہوا۔ کہ وزن میں مزید تین پونڈ کمی ہوگئی ہے۔ یعنی ان کا وزن 41پونڈ کم ہوچکا ہے۔
ان دنوں انقلاب پسندوں اور افسروں کے درمیان چٹاگانگ میں ایک خوفناک تصادم ہوگیا۔ جس کے نتیجے کے طورپر دوہ انقلاب پسند اور ایک فوجی افسر کیپٹن کیمرہ ہلاک ہوگئے۔ خرابی صحت کے پیش نظر شری سبھاش بوس سیونی جیل سے مدراس جیل تبدیل کردیئے گئے۔ لیکن اس تبدیلی سے ان کی صحت پر چنداں فرق نہ پڑا۔ 31جوابی کو آپ نے اپنے ایک دوست کے نام ایک خط بھیجا۔ جس میں درج ہے۔
"میرے یہاں آنے سے پیشتر مجھے یہ بتایا گیا تھا۔ کہ مدراس اس پینی ٹینشری غالباً بورسٹل انسٹی ٹیوٹ ہے۔ مگر یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔ یہ یل ہمارے علی پور سینٹرل جیل کی مانند ہے۔ جبل پور جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے جسے ملیری تبدیلی کا حکم موصول ہوا تھا۔ مجھے کہا تھا کہ میں مدراس پہنچتے ہی اسپتال میں بھیج دیا جاؤں گا۔ لیکن مدراس پہنچنے پر مجھے معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو مجھے اسپتال پہنچانے کے متعلق کوئی حکم موصول نہیں ہوا۔ اس سے میری خوراک کے انتظامات کے متعلق بہت تکلیف ہوئی۔ جیل سے روانگی سے پیشتر میں نے گورنمنٹ کو لکھا تھا۔ کہ مجھے اپنے ڈاکٹروں سرنیل وتن سرکار۔ ڈاکٹر بی۔ سی رائے۔ اور اپنے بھائی ڈاکٹر سنیل بوس سے معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔ گورنمنٹ یہ خیال نہ کرے کہ مدراس جیل ملیں میری تبدیلی سے یہ معاملہ طے ہوگیا ہے میرا درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے۔ میری جسمانی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ دراس میں آج کل بہت گرمی ہے۔"
5اگست 1932ء کو مدراس کونسل میں شری سبھاش بوس کی صحٹ کے متعلق سوالت دریافت کئے گئے۔ جن کے جواب میں لاء ممبر نے کہا-:
گورنمنٹ ہند نے شری سبھاش بوس کو ایکسرے معائنہ کیلئے یہاں بھیجا ہے ان کی صحت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ان کے متعلق حکومت ہند سے خط و کتابت کررہی ہے۔ میری گورنمنٹ اس خط و کتابت کا نفس مضمون نہیں بتاسکتی۔ مگر میں اتنا کہہ سکتا ہوں۔ کہ یہ خط و کتابت شری سبھاش بوس کے مفاد میں ہے۔ اور خط و کتابت بذریعہ ڈاک ہی نہیں۔ بلکہ ذریعہ تر بھی کی جاتی ہے۔۔۔"
15اگست کو لفٹیننٹ کرنل سیکنز اور ڈاکٹر گورو سوامی مدلیار نے شری سبھاش بوس کا معائنہ کیا۔ اور اس نتیجے پر پہنچے۔ کہ انہیں تپ دق ہے۔ سرکاری ڈاکٹروں کی اس رپورٹ پر حکومت مدراس نے گورنمنٹ ہند سے سفارش کی۔ کہ انہیں رہا کردیا جائے۔ لیکن بنگال میں انقلاب پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر حکومت شری سبھاش بوس کو رہا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ 29اگست کو شری سبھاش بوس کے پرائیویٹ ڈاکٹروں سر بی۔ سی رائے اور سرنیل رتن سرکار نے جنرل اسپتال میں ان کا معائنہ کیا اور گورنمنٹ ہند سے سفارش کی۔ کہ انہیں یورپ کے کسی صحت افزا مقام پر جانے کی اجازت دی جائے۔ گورنمنٹ انہیں رہا کرنے کیلئے تیار تھی۔ لیکن اسے ہندوستان اور خصوصاً بنگال میں ا ن کی موجودگی گوارانہ تھی۔ ڈاکٹری معائنے سے کم از کم ایک بات تو واضح ہوچکی تھی۔ کہ مدراس کی گرمی سے شری سبھاش کی صحت پر انتہائی ناقص اثر پڑرہا ہے۔ چنانچہ حکومت نے انہیں بھوالی سینی نوریم میں تبدیل کردیا۔ ان تبدیلیوں سے ظاہر تھا۔ کہ گورنمنٹ ان کی رہائی میں ٹال مٹول کررہی ہے۔
9نومبر کو شری سبھاش بوس نے بھوالی سینی ٹوریم سے اپنے بھائی ستیش بوس کو مندرجہ ذیل خط لکھا۔ جس مکان میں میں نے یہاں آکر قیام کیا ہے۔ اس کے دو کمرے ہیں۔ شروع ہی میں مجھے چلنے پھرنے کی ممانعت کردی گئی۔ اور چار پائی پر لیٹے رہنے کے لئے کہا گیا۔ چنانچہ میں اب چارپائی پر لیٹا رہتا ہوں۔ وزن میں تسلی بخش اضافہ نہیں ہوا۔ میرے یہاں قیام کے پہلے ہفتے کے دوران میرے وزن میں کمی ہوگئی۔ درجہ حرارت بھی اب تک ویسا ہی ہے۔ مدراس میں لیفٹننٹ کرنل سیکنز نے پھیپھڑوں کی تکلیف کے علاوہ انتڑیوں میں بھی تپ دق کی تشخیص کی تھی۔ بعد میں میڈیکل بورڈ کو انتڑیوں میں خڑابی کپا شبہ ہوا۔ اب تازہ ترین تشخیص سے معلوم ہوا ہے۔ کہ انتڑیوں میں تپ دق کی شکایت پیدا ہوگئی۔ یہاں کے ڈاکٹر صرف پھیپڑوں میں ہی تپدق کے ماہر ہیں۔ اور عام طورپر دیگر اقسام کے تپ دق کا علاج نہیں کرتے۔ ہندوستان میں تپ دق کے علاج کے لئے بہت تھوڑے سینی ٹوریم ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی بھی انتڑیوں کے تپ دق کا علاج نہیں ہوتا۔ کھانا کھانے کے بعد مجھے اب بھی پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ اس تکلیف کو دور کرنے کیلئے دوائی کھارہا ہوں۔ لیکن اس سے چنداں فائدہ نہیں ہوا۔ انتڑیوں کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے بھوالی میں میری صحت کے اچھا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ہندوستان کے بہترین ڈاکٹروں کپی رائے ہے کہ میں سوئیٹزر لینڈ میں جاکر علاج معالجہ کراؤں۔ یہاں میں زیادہ ہشاش بشاش رہتا ہوں۔ موسم خوشگوار ہے۔ ڈاکٹر اور دیگر عملہ میرے ساتھ اچھا سلوک روا رکھتا ہے۔"
ان دنوں بنگال میں دہشت پسندوں سے خطرہ کس حد تک بڑھ چکا تھا۔ اس کا اندازہ سرچارلس ٹیگارٹ سابق کمشنر پولیس کلکتہ اور سرسٹینلے جیکسن سابق گورنر بنگال کی مندرجہ ذیل تقریروں سے لگ سکتا ہے۔ جو انہوں نے رائل ایمپائر سوسائٹی کے زیر اہتمام لندن کے ایک جلسہ میں کیں۔ یہ سرچارلس ٹیگارٹ وہی شخص ہیں۔ جن پر بنگالی انقلاب پسندوں نے دو مرتبہ بم پھینکے تھے۔ اور سرسٹینلے جیکسن سابق گورنر بنگال بھی ایک انقلاب پسند دیوی کی گولی کا نشآنہ بن چکے تھے۔ خوش قسمتی سے یہ دونوں اشخاص بچ گئے تھے۔ ذیل میں ان کی تقرریں درج کی جاتی ہیں۔ سر چارلس ٹیگارٹ نے انقلابی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ-:
"یہ تحریک پہلے پہل لوکمانیہ تلک کی شہ سے پیدا ہوئی۔ اور پنجاب و بنگال کی بعض انجمنوں اور امریکہ میں سکھ ایجی ٹیشن کے اثرات کے ماتحت اس کو نشوونما حاصل ہوئی۔ اس تحریک سے گورنمنٹ کی مشینری مفلوج ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ قانون اور ضابطہ کی عام طاقتیں دہشت انگیزوں کے سامنے بے بس ہوچکی ہیں۔ لہٰذا 1916ء میں حکومت نے آرڈیننس جاری کئے اور بڑے بڑے انقلابیوں پر قابو پایا۔ گورنمنٹ ہمیشہ خاص اختیارات کے استعمال سے گریز کرتی رہی ہے۔ جب انقلاب پسندوں کے حملے روکے گئے۔ تو گورنمنٹ نے کئی بار اس امید پر مصالحت کی پالیسی اختیار کی۔ تاکہ پبلک رائے ان حملوں کے خلاف آواز اٹھائے۔ مگر یہ پالیسی ناکام رہی 1919ء میں پریس ایکٹ کی منسوخی کے بعد انتہا پسند اخبارات نے دہشت انگیز پراپیگنڈہ کو دوبارہ جاری کردیا۔ اور پھر بنگال میں انقلابی تحریک کا دوسرا دور شروع ہوا۔ بنگال میں کانگریس کی مشینری اس حد تک انقلاب پدسندوں کے ہاتھ آگئی۔ کہ وہ اس سے ایک انارکسٹ کی جو ایک یورپین کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔ تعریف میں ریزولیوشن پاس کرانے کے قابل ہوگئے۔ بعدازاں جب مرحوم سی۔ آر۔ داس کلکتہ کارپوریشن کے میئر منتخب ہوئے۔ تو یہ کارپوریشن دہشت پسندوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ بن گئی۔ اور اس شہری انجمن میں دہشت انگیزوں اور ان کے رشتہ داروں کو زیادہ تر ٹیچرؤں کی حیثیت میں نوکریاں دیتی رہی۔ چنانچہ اب صوبہ کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں پہلی تحریک کی نسبت انقلابی عنصر کا بہت زیادہ زور ہے۔ بنگال میں کوئی اسکول یا کالج ایسا نہیں جس میں انقلاب پسندوں کے آدمی کام نہ کرتے ہوں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنے لیڈروں کے حکم سے وہ نوجوانوں قتل کی وارداتوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ جن کا پولیس کو علم نہیں ہوتا۔ چنانچہ گورنمنٹ مے پھر ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے خاص اختیارات سے اپنے آپ کو مسلح کیا۔ اور انقلابی حملے بند ہوگئے۔ اس کے بعد پھر آہستہ آہستہ نظر بندوں کی رہائیاں شروع ہوگئیں۔ اور 1928ء تک تمام نظر بند رہا کردیئے گئے اس ایکٹ کی منسوخی کے 15دن بعد چٹاگانگ میں ایک انقلابی حملہ ہوا جو اس تحریک کے تیسرے دور کا پیش خیمہ تھا۔ ایکٹ کی منسوخی کے بعد 1930ء میں 8ماہ کے عرصے میں 36 حملوں میں 19اشخاص قتل ہوئے۔ اور 1931ء میں 118حملے ہوئے۔ انقلاب پسندوں نے اپنی توجہ کا مرکز بالخصوص یورپین افسروں کو بنارکھا ہے۔ اور انہوں نے یورپین ایسوسی ایشن کے پریزیڈنٹ اور اخبار "سٹیٹسمین" کے ایڈیٹر کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔۔۔۔۔۔"
بنگال میں دہشت زدگی کی ان وارداتوں اور اس تحریک کی نشوونما کے متعلق سرچارلس ٹیگارٹ کی تقریر محض اس لئے دی گئی ہے۔ تاکہ اس تحریک کے متعلق سرکاری نقطہ نگاہ پبلک پر واضح ہوجائے۔ حکومت کے کئی افسر شری سبھاش بوس کے خلاف یہ الزام لگائے تھے۔ کہ وہ درپر وہ اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ سرکاری نقطہ نگاہ خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں۔
ہاں ایک بات ضرور ہے۔ اور وہ یہ کہ گاندھی جی اور کانگریسی لیڈروں کی طرح شری سبھاش بوس دہشت پسندوں کی مذمت نہیں کرتے۔ انہیں اس بت کا احساس ہے کے یہ گمراہ نوجوان حب الوطنی کے جذبہ سے متحرک ہوکر ہی ایسا غلط قدم اٹھاتے ہیں۔ اس لئے شری سبھاش بوس ان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ کہ ان نوجوانوں سے بہتر سلوک کرو۔ شری بوس نے کئی مرتبہ جیلوں اور کیمپوں وغیرہ میں ان نوجوانوں پر سختی کی مذمت کی۔ اس سے گورنمنٹ کو خوامخواہ یہ شبہ پیدا ہوگیا۔ کہ شری سبھاش چندر بوس درپردہ ان تحيریکوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
اس اثنا میں شری بوس کی صحت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی۔ بھوالی سینی ٹوریم میں تبدیلی سے ان کی صحت پر چنداں اثر نہ پڑا۔ ان کی صحت کی پریشان کن اطلاعات سے سارے بنگال میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بنگال کونسل میں ان کی صحت سے پیدا شدہ حالات پر غور کرنے کیلئے ایک تحریک التواء پیش کی گئی۔ جو پاس ہوگئی۔
12دسمبر کو مرکزی اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ہومل ممبر نے کہا۔ "مجھے امید ہے کہ عنقریب ان کی صحت کے متعلق میڈیکل بورڈ کی رپورٹ موصول ہوجائے گی۔ پھر میں آنریبل ممبرؤں کو مزید اطلاع بہم پہنچاسکوں گا۔"
سوال ۔ کیا بھوالی سینی ٹوریم 15دسمبر کو بند ہوجائے گا۔ اور اگر بند ہوجائے گا تو کیا شری سبھاش بوس کو کسی اور جگہ بھیج دیا جائے گا؟
جواب۔ شری بوس کو لکھنؤ بھیجا جائے گا۔ جہاں میڈیکل بورڈ ان کا طبی معائنہ کرے گا۔
سوال۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ہندوستان میں انتڑیوں کی بیماریوں کا علاج نہیں ہوسکتا۔ کیا گورنمنٹ انہیں ہندوستان سے باہر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
جواب-:میڈیکل بورڈ کے معائنہ کی رپورٹ موصول ہونے پر اس معاملہ پر غور وخوض کیا جائے گا۔
چندروز بعد شری سبھاش بوس لکھنؤ تبدیل کردیئے گئے۔ وہاں لیفٹیننٹ کرنل بکلے آپ کا علاج کرتے رہے۔ لیکن اس علاج سے بھی کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اس پر حکومت نے انہیں یورپ جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ آپ کپو اپنے نظر بند بھائی مسٹر سرت چندر بوس سے ملاقات کیلئے جبل پور جیل بھیج دیا گیا۔ پھر آپ 23فروری 1933ء کو کلکتہ میل کے ذریعے پولیس افسروں کی حراست اور ایک ڈاکٹر کی نگرانی میں بمبئی لائے گئے۔ اس سے پیشتر آپ نے یہ درخواست کی تھی۔ کہ یورپ کو روانگی سے قبل انہیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کیلئے کلکتہ جانے کی اجازت دی جائے۔ لیکن حکومت نے یہ درخواست منظور نہ کی۔ وہ کسی صورت میں بھی شری سبھاش بوس کو بنگال جانے کی اجازت دینے کوتیار نہ تھی۔ لہٰذا آپ جبلج پور سے براہ راست بمبئی پہنچائے گئے۔ وکٹوریہ ٹرمینس سے بات چیت کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ انہیں ساحل سمندر تک لے جانے کے لئے پولیس اور سی آئی ڈی آفیسر ایمبولینس کار لائے۔ پھر انہیں اسٹریچر پر ڈال کرساڑھے 9بجے جہاز پر پہنچایا گیا۔ اور بتایا گیا کہ جونہی 12بجے جہاز روانہ ہوجائیگا۔ وہ آزاد ہوجائیں گے۔
اس وقت شری سبھاش کا چہرہ زرد تھا۔ لیکن آپ انتہائی خوش و خرم دکھائی دیتے تھ۔ے سبھاش بوس کے رشتہ داروں کو حکومت ہند کی طرف سے جواب ملا تھا۔ کہ اگر حکومت بمبئی کو اعتراض نہ ہو۔ تو وہ ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ مگر یہ ملاقات صرف پولیس افسروں کی موجودگی میں ہی ہوسکے گی۔ اس پر شری سبھاش نے پولیس کی موجودگی کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہوئے اپنے تین رشتہ داروں سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ مگر کمرہ جہاز میں ان کے رشتہ داروں نے چند الوداعی الفاظ کہے۔
عین اس وقت جب کہ جہاز روانہ ہونے والا تھا۔ شری سبھاش بوس حکومت ہند کی طرف سے بدیں مطلب ایک حکم نامہ ملا۔ کہ ان پر بنگال ریگولیشن نمبر 3کے ماتحت پابندی ہٹالی گئی ہے۔ اور یہ حکم 23فروری 12بجے سے نافذ ہوتا ہے گوشری سبھاش بوس بحری سفر اکیلے ہی کررہے تھے۔ لیکن ان کے ایک ہم وطن ڈاکلٹر سین ان کے ہم سفر تھے۔ سفر شروع ہونے سے پہلے ڈاکٹر سین نے ان کا معائنہ کیا۔ اور کہا کہ بحری سفر سے ان کی صحت پر خوشگوار اثر پڑیگا۔
ڈاکٹر دیش مکھ اور ڈاکٹر ساٹھے نے بھی شری سبھاش بوس کا معائنہ کرنا چاہا۔ لیکن حکومت بمبئی نے اجازت نہ دی۔ جہاز پر اہلیان کلکتہ کی طرف سے شری بوس کو مندرجہ ذیل پیغام ملا۔ "ہمارے دل اور دعائیں آپ کے ساتھ شامل ہیں۔ ایشور آپ کی صحت جلد بحال کرکے آپ کو پھر اپنے مادر وطن میں لائے۔"
بسومتی شکتی مندر کلکتہ کی لڑکیوں نے مندرجہ ذیل پیغام بھیجا"-: ایشور آپ کی صحٹ جلد بحال کریں۔۔۔۔۔۔" اہل لاہور نے آپ کو ذیل کا برقی پیغام بھیجا۔ "ہمارے مح۶ت آمیز جذبات آپ کے شآمل حال ہیں۔ بحالی صحت میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ ایشور آپ کو بھارت ورش اور ماتر بھومی کی سیوا کیلئے زندہ رکھے۔"
جمشید پور کے مزدوروں نے لکھا۔ "انجمن مزدوران اور کارکنان جمشید پور ملز آپ کے بخیر و عافیت بحری سفر کے لئے دعا گو اور وطن کو فوری۔ السپی کے طالب ہیں۔۔۔" روانگی سے پیشتر شری سبھاش بوس نے اخبارت کے نام مندرجہ ذیل بیان جاری کیا-:
"میرے دوست اور میرے رشتہ دار میرا علاج ہندوستان میں کرانا چاہتے تھے۔ مگر حکومت نے اس سے انکار کردیا۔ میرے رشتہ دار گزشتہ ایک سال سے مالی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ خوصاً شری یت سرت بوس کی نطر بندی اس حالت کے لئے ذمہ دار ہے۔ لہٰذا حکومت کی پیشکش منظور کرنا میرے لئے ممکن نہ تھا تاہم دوستوں اور رشتہ داروں کے اس پہیم اصرار کو کہ وہ علاج اور قیام یورپ کے اخراجات اپنے ذمہ لیں گے۔ ملیں نظر انداز نہیں کرسکتا۔ میرے لئے یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ میری صحٹ بحال ہوجائے گی کہ نہیں۔ میں ان تمام اصحات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جنہوں نے میری یورپ یاترا کو ممکن بنایا۔ میں نے اپنے دوستوں اور بہی خواہوں ی پیشکش کو منظور کرلیا ہے۔ میں نے اپنی زندگی خدمت وطن کیلئے وقف کردی ہے۔میرے خاندان کے تعلقات محض خؤن کے تعلقت نہیں۔ بلکہ میرے خاندان کو سارے ملک سے مناسبت ہے۔ اس لئے میرے اہل وطن مصیبت کے وقت میری اس طرح امداد کررہے ہیں۔ جس طرح کہ میرے دیگر رشتہ دار۔ اگرچہ میری حالت نازک تھی۔ لکن حکومت نے چند ایسی وجوہات کی بناء پر جو صرف وہ خود ہی جانتی ہے۔ اس امر کو مناسب نہ سمجھا۔ کہ مجھے رہا کردیا جائے۔ اور نہ ہی موزوں خٌال کیا۔ کہ جب تک میں سرزمین ہند پر ہوں مجھے کسی قسم کی آزادی دی جائے۔ حیرت کا مقام ہے۔ کہ حکومت ہند نے متعدد درخواستوں کے باوجود یورپ کو روانگی سے پیشتر مجھے اپنے بوڑھے اور بیمار والدین سے ملنے کی اجازت نہ دی۔ بہرحال حکومت نے بادل ناخواستہ مجھے جو سہولیات بہم پہنچائی ہیں۔ وہ میرے دوستوں اور بہی خواہوں کی مسلسل ایجی ٹیشن کا نتیجہ ہے۔ پبلک جانتی ہے کہ میری موجودہ نازک حالت کی ذمہداری حکومت پر ہے۔ لیکن اس نے یورپ میں میرے علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اگر مجھ پر ساحل سمندر سے روانہ ہوتے وقت تک پابندیاں عائد کی جاتی رہیں۔ مگر اہل ملک کی دعائیں اور ہمدردی میرے شامل حال ہیں۔ اور یہ وہ چیز ہے۔ جو بہترین ڈاکٹروں کی اچھی سے اچھی دواؤں سے زیادہ فائدہ مند ہوگی۔ مجھے مریض کے طورپر جلاوطن کیا جارہا ہے۔ میں اپنے تمام اہل وطن سے خواہ وہ جیلوں میں ہیں یا جیل کی چار دیواری سے باہر۔ الوداعی اظاہر محبت کرتا ہوں۔ اپنے رفقائے کار سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں۔ کہ وہ ہندوستان کی مکمل آزادی کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں۔ انہیں یقین رکھنا چاہیے۔ کہ اب آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔"
اپنی صحت کے متعلق شری سبھاش بوس نے کہا"-:بدقسمتی سے میری صحٹ روز بروز خراب ہورہی ہے۔ ایام نظر بندی کے دوران میرے وزن ہیں64پونڈ کملی ہوئی۔ درجہ حرارت ہر روز ایک سو سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ ہر روز کھانا کھانے کے بعد دن کو پیٹ درد اور شام کو سردرد ہوجاتا ہے۔۔۔"
شری سبھاش کی روانگی سے پیشتر ایک ملاقات کے دوران حکومت ہند نے یہ بات واضح کردی تھی۔ کہ انہیں علاج کے لئے سوئیٹزرلینڈ اور فرانس جانے کی اجازت ہوگی۔ لیکن وہ امریکہ یا برطانیہ نہ جاسکیں گے۔ غرضیکہ یہ آزادی بھی برائے نام تھی۔ سرزمین ہندوستان پر حکومت ہند کی پابندیاں تو سمجھ آسکتی ہیں۔ لیکن کسی ہندوستانی محب وطن پر غیر ممالک میں بھی اس قسم کی ذلیل پابندیاں عائد کرنا قیاس سے باہر ہے۔ اس سے یہ مطلب تھا۔ کہ شری سبھاش بوس یورپ میں بھی نظر بندوں کی سی حالت میں ہی رہیں گے۔ اور کہ ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگرنای کی جائے گی۔ یہ محض اس لئے کہ سبھاش محب وطن ہیں۔ اور کہ ہمارے حکمرانوں کی نظر میں دیشی بھگتی سے زیادہ خطرناک اور کوئی جرم نہیں۔ دیش بھگتی کے جرم کی پاداش میں نامعلوم ہندوستانیوں کو کیا کیا مصائب برداشت کرنے پڑیں گے۔

(جاری ہے)

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved