New Posts from Balochistan Channel

Translate In Your Language

New Videos

Showing posts with label Interviews. Show all posts
Showing posts with label Interviews. Show all posts

دی بلوچستان پوسٹ کا میر عبدالنبی بنگلزئی سے تفصیلی گفتگو

دی بلوچستان پوسٹ کا میر عبدالنبی بنگلزئی سے تفصیلی گفتگو

دی بلوچستان پوسٹ کا میر عبدالنبی بنگلزئی سے تفصیلی گفتگو
بزرگ قوم پرست رہنما میرعبدالنبی بنگلزئی گذشتہ پانچ دہائیوں سے بلوچ قومی تحریک آزادی سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ بلوچ تحریک میں ایک معتبر سیاسی و عسکری رہنما کے حیثیت سے اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا، آپ بی ایس او عوامی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ ستر کی دہائی میں نیپ کے حکومت کے خاتمے اور بلوچ رہنماؤں کے گرفتاری کے بعد بلوچستان میں جب مزاحمت کا آغاز ہوا، تو آپ نے بھی پڑھائی ترک کرکے مزاحمت کا حصہ بن گئے اور وہیں سے آپ نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جو آج تک جاری ہے۔
سنہ 2000 میں آپ گرفتار بھی ہوئے تھے اور نو سالوں تک آپ نے قید و بند کی زندگی گذارنے کے بعد 2009 میں رہائی پائی تھی۔ 80 کی دہائی میں آپ نے جلا وطنی کی بھی زندگی گذاری ہے۔ آپ بلوچ تحریک آزادی کے ایک ایسے کردار رہے ہیں، جنہوں نے بلوچ سیاست و مزاحمت کے نشیب و فراز بہت قریب سے دیکھے۔ بی ایس او کے انضمام و انتشار ہوں، ستر کی مزاحمت ہو، افغانستان جلاوطنی اور پھر واپسی ہو، موجودہ تحریکِ آزادی کا آغاز ہو، یو بی اے کا قیام ہو یا پھر بی ایل اے کا موجود بحران۔ اس پورے دورانیئے میں میرعبدالنبی ایک اہم کردار کے حیثیت سے ساتھ رہے ہیں۔
بلوچ سیاسی حلقوں میں میر عبدالنبی بنگلزئی کے بارے میں ایک عمومی رائے یہ پایا جاتا ہے کہ آپ اپنی رائے تول کر دیتے ہیں اور خاص طور پر میڈیا میں مسائل پر رائے زنی سے احتراز کرتے ہیں۔ آج دیکھا جاسکتا ہے کہ بلوچ تحریک میں بہت سے ایسے مسائل ہیں، جن پر بلوچ عوام خاص طور پر بلوچ سیاسی کارکنان میر عبدالنبی جیسے ایک غیرمتنازعہ اور معتبر شخصیت کا رائے سننا چاہتے ہیں۔ اسی امر کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے دی بلوچستان پوسٹ نے میر عبدالنبی بنگلزئی سے ایک نامعلوم مقام پر تفصیلی گفتگو کی اور پہلی بار آپ نے کسی انٹرویو میں ان تمام مسائل پر کھل کر تفصیلی طور پر اپنی رائے دی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین رہ چکے ہیں، اسکے بعد آپ نے پر امن سیاسی جدوجہد کی راہ ترک کرکے مسلح جدوجہد کو اپنا کر، اس راہ سے جڑے ہوئے ہیں اور بلوچ نوجوانوں میں مزاحمت کی ایک علامت بن چکے ہیں، وہ کیا وجوہات تھیں جس کی وجہ سے ایک پر امن طلباء تنظیم کا سربراہ اپنا فلسفہ جدوجہد بدل کر گوریلا کمانڈر بن گیا؟
عبدالنبی بنگلزئی: ایک محکوم قوم کا فرد چاہے طالبعلم کے شکل میں ہویا سماج کے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتا ہو، وہ غلام ہی رہتا ہے۔ اسکا معاشرتی کردار اسکے حیثیت کو تبدیل نہیں کرتا۔ پر امن جدوجہد اس وقت تک گارکر رہ سکتا ہے، جب تک کہ اس کی گنجائش موجود ہو۔ بلوچستان کی صورتحال ایک مقبوضہ علاقے کی ہے، جو جبری طور پر طاقتور کے قبضے میں ہے۔ ایسے خطے میں پرامن جدوجہد کی گنجائش موجود نہیں رہتی۔ اسی وجہ سے جب میں طالب علم تھا، تب بھی غلام تھا، اب سماج کے جس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، میں پھر بھی ایک غلام ہی ہوں۔ اب گوریلا کمانڈر کہنا شاید اور بات ہوگی، ہاں جنگ کے لیئے گوریلا حکمت عملی اختیار کرنے کی بات کریں، تو جبر و تشدد کا جواب گر آپ انکی زبان میں نہیں دیں گے، تو پھر مقاصد بھی حاصل نہیں ہونگے۔ یہ ایک آفاقی فلسفہ ہے، یہ میرا کہنا نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہی تجربہ ہوا ہے۔ اسی لیئے ہم بھی اسی نتیجے پر پہنچے اور یہی راستہ اختیار کیا کہ اب جنگ کے بغیر کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔

میر عبدالنبی بنگلزئی کے جوانی کے ایام کی ایک یادگار تصویر
دی بلوچستان پوسٹ: آپ ایک طویل عرصے سے بلوچ قومی تحریک میں شامل ہیں اور روز اول سے آپ کو ان کچھ مخصوص افراد میں شمار کیا جاتا رہا ہے، جن کی رائے اس تحریک کے سمت کے تعین میں فیصلہ کن اور اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لہٰذا جہاں اس تحریک کے مثبت پہلووں کے ذکر میں آپکا نام آتا ہے، اسی طرح یقیناً جب بلوچ تحریک کے منفی پہلووں پر بات ہو تو آپ بری الذمہ نہیں ٹہر سکتے۔ آج بلوچ تحریک آزادی جس نہج پر ہے، کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
عبدالنبی بنگلزئی: اگر میں تحریک کے منفی پہلووں پر بات کروں، تو میں انہیں ہرگز ناکامی نہیں کہہ سکتا، بلکہ تحریک مختلف ارتقائی مراحل سے گذرتی رہی ہے۔ جو کچھ ہمارے سماج میں موجود تھا اور جتنی اس میں گنجائش و استطاعت تھی، اس کے مطابق یہ تحریک آگے چلتی رہی ہے۔ آج کم یا زیادہ جس پیمانے کی بھی ہے لیکن بلوچ تحریک موجود ہے، ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس لیئے میں اسے ناکام نہیں کہہ سکتا ہوں۔ ایک تو ہمارا سماج اب تک نیم قبائلی ہے، اس میں وہ خصلتیں نہیں تھیں کہ وہ ایک قومی جنگ لڑسکے، ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کے بارے میں تعصبات رکھتی ہے، سب ایک دوسرے سے دور ہیں۔ اسکے باوجود ایک قومی جنگ لڑی جارہی ہے۔
1958ء کے وقت جب بلوچستان میں مارشل لاء لگا اور نواب نوروز نے مزاحمت کی تو باقی سب بے خبر تھے۔ نواب نوروز خان کا ساتھ محض اسکے تعلقداروں اور قبیلے نے دیا، باقی پورا بلوچستان خاموش تھا۔ اس تحریک کے اثرات کی وجہ سے 1973ء کی جنگ شروع ہوئی، پھر وہی سلسلہ ہوتا ہوا آج کی تحریک کے شکل میں موجود ہے۔ آج اس میں طالعبلم سمیت خواتین بھی شامل ہیں۔ آج یہ روایتی جنگ سے زیادہ ایک قومی جنگ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ تو میں اسے مجموعی صورت میں ناکام نہیں کہتا ہوں، ہم شاید دنیا کے پیمانے کے لحاظ سے اس جنگ کو دیکھ کر اس میں ناکامیاں ڈھوڈنڈتے ہیں۔ مگر ہم تحریک کے ارتقاء کو دیکھیں، تومیں سمجھتا ہوں، ہم ہرگز ناکام نہیں ہیں بلکہ کامیابی سے آگے جارہے ہیں۔
اگر اس دوران مجھے ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے، تو تحریک ابھی تک ناکام نہیں ہے، پھر میں بھی ناکام نہیں ہوں اور میرے علاوہ جو بھی اس عمل میں شریک رہے ہیں، وہ بھی ناکام نہیں ہیں۔ آج تحریک جس نہج پر پہنچی ہوئی ہے، اس سے میں پوری طرح مطمئن ہوں۔ آج تحریک نے جو شکل اختیار کی ہے اور جس ڈگر پر رواں ہے، میں اس سے مطمئن ہوں۔ یہ میرے توقعات سے بھی بڑھ کر ہے۔ آج میں دیکھ رہا ہوں کہ تحریک بلکل حقیقی شکل اختیار کررہی ہے، آج تحریک کو نوجوان اور فکری لوگ روایات سے نکال کر قومی قالب میں ڈھال رہے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: گزینی و بجارانی تقسیم، بابو شیرو کا کردار، یو بی اے کا قیام، بی ایل اے و یو بی اے جنگ ہو یا پھر بی ایل اے کا موجودہ بحران، ان تمام واقعات کے آپ چشم دید گواہ رہے ہیں، لیکن آپکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان تمام متنازعہ واقعات پر آپ نے چپ سادھ رکھی ہے اور رائے زنی نہیں کی ہے، حالانکہ آپکی رائے بلوچ نوجوانوں میں محترم ہے۔ اس مصلحت پسندی کی کیا وجہ ہے؟
عبدالنبی بنگلزئی: گزینی، بجارانی یا لوہارانی وغیرہ مری قبیلے کی شاخیں ہیں، یہ تقسیم اسکی ساخت ہے، کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
جہاں تک بابو شیرو کی بات ہے، تو میں یہ ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ بابو شیرو کا کردار کسی طور پر بھی کم تھا، اس تحریک میں انکا بہت زیادہ حصہ اور بڑا کردار رہا ہے۔ وہ ایک روایتی شخصیت کے مالک تھے، انکی جدوجہد بھی روایتی تھی۔ وہ ہمارے تاریخ کا حصہ ہیں۔ میں ان کے کردار کو مثبت سمجھتا ہوں۔
یو بی اے کے قیام کو تھوڑا تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے، تو شروع میں نواب صاحب کے وقت بی ایل اے محض ایک نام تھا، جو درحقیقت نواب صاحب کا ذات اور اپنا قبائلی تنظیم تھا۔ میں بھی اسی میں شامل تھا۔ اس تنظیم کا جو بھی مرکز یا “ہڑکُڑ” تھا، وہ پورا دراصل نواب صاحب اور انکے اپنے خاندان اور بیٹوں پر مشتمل تھا۔ بعد میں انہوں نے حیربیار کو سامنے لایا اور حیربیار نے تنظیم سنبھالنا شروع کیا۔ کچھ وقت بعد حیربیار اور نواب صاحب کے بیچ اختلافات شروع ہوئے، جو بنیادی طور پر ان کا اپنا ذاتی مسئلہ تھا۔
وہ تاریخ کا ایک ارتقائی مرحلہ تھا، یہ ہونا ہی تھا لیکن جنگ رکتی نہیں ہے، خود اپنی راہیں تلاشتی اور سمت کاتعین کرتی رہتی ہے۔ جب حیربیار اور نواب صاحب کے درمیان بات نہیں بنی، تو نواب صاحب نے اپنا رُخ دوسری جانب کردیا۔ انہوں نے باقاعدہ علی الاعلان اپنا رخ دوسری طرف واضح نہیں کیا، مگر جہاں تک میری معلومات ہے یا نواب صاحب سے میری نزدیکی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ میرے اور حیربیار کے درمیان مسائل ہیں۔ نواب صاحب نے مجھ سے کہا کہ ہم یہی کوشش کررہے ہیں کہ اس مسئلے کو اپنے طور پر حل کریں، اگر حل نہیں ہوپایا، تو پھرباقی بلوچوں کیساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرینگے۔ اس کے بعد حالات نے مجھے اجازت نہیں دی کہ میں جاکر نواب صاحب سے ملاقات کرسکوں اور بعد میں وہ وفات پاگئے اور اس طرح ہماری ملاقات نہیں ہوپائی کہ وہ مجھے یو بی اے کے حوالے سے کچھ بتاتے۔
مجھ پر یہ الزام کہ میں نے تمام مسائل پر چپ سادھ لی تھی، میں حقیقت نہیں ہے۔ ظاہرہے میری اس تحریک یا جدوجہد میں ایک حصہ داری رہی ہے، میں خاموش نہیں رہا ہوں۔ میری جتنی گنجائش رہی ہے، میں نے وہ ضرور کیا ہے۔ میں نے بی ایل اے و یوبی اے جنگ کی مخالفت کی ہے۔
میں اس وقت بی ایل اے کے کیمپ میں تھا، جب یو بی اے سے جنگ کی باتیں اور تیاریاں ہورہیں تھیں، وہاں بی ایل اے اور یوبی اے کے کیمپ نزدیک موجود تھے، جب جنگ کے لیئے لوگ آئے ہوئے تھے۔ میں نے باتیں سنیں، تو میں نے اس کی مخالفت کی اور اس وقت بھی یہی کہا کہ حیربیار اس جنگ سے خود کو بھی نقصان دیگا اور تحریک کو بھی نقصان دیگا۔ میں نے کہا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا قومی نقصان ہوگا کہ ہم آپس میں لڑیں۔ حیربیار کا کہنا تھا کہ ہتھیار ہمارے ہیں، جن پر یوبی اے نے قبضہ کیا ہے، تو میں نے کہا کہ آپ لوگ جتنا بھی لڑیں پھر بھی کوئی ہتھیار ہاتھ نہیں لگے گا، کسے خبر ہتھیار کہاں چھپے رکھے ہیں؟ آپ لڑینگے لوگوں کو قتل کرینگے اور پھر ان کے خون میں پھنس کے رہ جائینگے۔ بالآخر میں ناراض ہوکر بی ایل اے کا کیمپ یہ کہہ کر چھوڑ کر چلا گیا کہ آپ لوگوں نے جب اس حد تک جانے کا فیصلہ کرلیا ہے، تو پھر میں آپ کے ساتھ مزید نہیں بیٹھ سکتا۔ اسکے بعد میں یو بی اے کے کیمپ چلا گیا اور ادھر بھی میری یہی کوشش رہی کہ مسئلے کو بیٹھ کر اپنے طریقے سے حل کیا جائے۔
مگر میں سمجھتا ہوں، کچھ ذاتی یا مخصوص مفادات تھے، جنہوں نے ہمیں ایک مختلف رائے رکھنے اور مسئلے حل کرنے کے لائق نہیں چھوڑا۔  یہ ایک تنظیمی مسئلہ تھا، جو کچھ حیربیار، مہران اور نواب صاحب کے درمیان ہوا، اسے متعلقہ دوستوں کے درمیان رکھا جاتا اور حل کیا جاتا۔ لیکن آپ ان راز کی باتوں میں باہر کے لوگوں کو لاتے ہو اور تنظیمی راز فراہم کرتے ہوتو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان باتوں کو کوئی سمجھ نہیں پارہا تھا۔ بہرحال میں خاموش نہیں رہا ہوں۔
اب مصلحت پسندی کی بات کی جائے تو زندگی ایک مصلحت ہے، اگر مصلحت نہ ہو تو آپ زندگی گذار نہیں سکتے ہیں، آپ اکیلے نہیں رہ سکتے ہیں۔ آپ اس سماج میں زندگی گذارتے ہیں، تو آپ کو دوسروں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ آج میں آپ کے بجائے کسی اورغیر متعلقہ شخص کے سامنے یہ باتیں کروں تو عجیب بات ہوگی۔ میں چپ نہیں تھا، ہر عمل کا ایک مقام ہوتا ہے، ہر بات کے کہنے کی ایک جگہ اور وقت ہوتا ہے۔ یہ باتیں کسی غیر متعلقہ جگہ نہیں کرسکتا، جو کہنے والی جگہ ہے وہاں بتاسکتا ہوں، دی بلوچستان پوسٹ کہنے والی جگہ ہے تو میں بیان کررہا ہوں۔ اب کوئی پوچھ نہیں رہا ہو، تو پھر کسی کے ہاتھ سے پکڑ کر اسے بِٹھا کر میں زبردستی بتا نہیں سکتا۔
پہلی بات یہ کہ میری خاص مصلحت پسندی نہیں رہی ہے اور اگر رہی بھی ہے، تو وہ کبھی کسی ذاتی مقصد کے لیئے نہیں رہی ہے۔ اگر کبھی میں خاموش رہا ہوں بھی تو وہ تحریک اور جدوجہد کے مفاد کے لیئے اور اگر کوئی بات کی بھی ہے، تو وہ بھی تحریک کے مفاد میں کی ہے۔ اس کے علاوہ میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں رہا ہے اور ناہی خاموشی سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ پہنچا ہے۔
اسی طرح بی ایل اے کا موجودہ بحران، جہاں استاد اسلم، بشیرزیب، دوسرے دوستوں اور حیربیار کے بیچ مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے میں نے خود ثالثی کی کوشش کی ہے اور فریقین سے بات کی ہے۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کے جو معلوم دستور اور طریقے تھے، وہ سب ہم نے بروئے کار لائے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ بیٹھ کر ان مسائل کو حل کیا جائے۔
یہی دنیا کا دستور ہے کہ اگر استاد اسلم پر کوئی سوال یا الزام تھا، یا پھر اس کا کوئی قصور تھا تو انہیں جواب دینے کا موقع دیا جاتا۔ جس طرح سوال کرنا آپ کا حق ہے، اسی طرح جواب دینا اسلم کا حق تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسے رویے موجود نہیں، بس یہ کہا گیا تھا کہ ہر حال میں آپ ہمارا یہ فیصلہ قبول کرلیں۔ میری نظر میں یہ ایک ناجائز عمل تھا۔ بطور ثالث ہم نے اسی وقت متعلقہ افراد کو کہا تھا کہ آپ لوگ انتہائی غلط کررہے ہیں، اس طرح مسئلے حل نہیں ہوتے۔ آپ لوگوں کا یہ رویہ رہا تو پھر ہماری طرف سے بھی قصور وار آپ قرار پاتے ہو۔ ہم نے اسی وقت کہا تھا کہ استاد اسلم ایک دن میں نہیں بنا ہے، اس تحریک میں انکی طویل محنت اور حصہ رہا ہے، آپ ان سب چیزوں کو پسِ پشت ڈال کر کیسے اسے یوں اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ جو ہے آپ اسے اپنے دوستوں کے سامنے لے آئیں، لیکن اصل بات یہ تھی کہ بی ایل اے کے دوست اسلم سے مطمئن تھے اور اسلم اپنے دوستوں سے مطمئن تھا۔ تو پھر آپ کیوں ایسا عمل کرکے تنظیم کو نقصان دے رہے ہیں؟ بہرحال جو کچھ بھی ہوا غلط ہوا۔ میری ذاتی رائے ہے، جو کچھ ہوا حیربیار خود اس نقصان کا ذمہ دار ہے۔
استاد اسلم والوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی خاطر بطور ثالث ہمیں مکمل اختیار دے دیا تھا اور کہا کہ آپ لوگ بطور اختیار دار جو بھی فیصلہ کرینگے ہمارے لیئے قابل قبول ہوگا۔ اس کے بعد ہم نے حیربیار کیلئے پیغام بھیجا کہ ہمارے ساتھ بات کرنے کی زحمت کریں لیکن حیربیار نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نا جواب دیا۔ ہم نے حیربیار کے نمائیندوں سے بات کی اور ثالثی کیلئے اختیار مانگا، انہوں نے کہا کہ ہم جواب دینگے لیکن آج تک کوئی جواب ہمیں موصول نہیں ہوا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے، استاد اسلم زندہ انسان ہے، وہ ہو یا بشیر زیب یا انکے دوسرے دوست، انہوں نے پوری زندگی جہد کی ہے، قربانیاں دی ہیں۔ اب وہ بیٹھ کر اپنے جہد کو ضائع نہیں ہونے دیتے نا دستبردار ہوسکتے ہیں۔ پھر انہوں نے بھی اپنے جہد کو جاری رکھتے ہوئے اپنے رستے پر چل پڑے۔ اپنے ہم خیال دوستوں کے ہمراہ جتنا ان سے ہوسکتا ہے، وہ خاموش ہونے کے بجائے کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان تمام مسائل کا ذمہ دار اختیارات کو اپنے ذات کے حد تک محدود رکھنے والا رویہ ہے، تحریک میں بیورکریٹک رویہ اپنانا درست نہیں ہے، یہاں کسی کی بھی شخصیت، اتنا مکمل نہیں کہ اس پر پورا اعتماد کرکے سب کچھ اسکے حوالے کردیا جائے۔

میر عبدالنبی ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے۔ اس موقع پر بی این ایم کے رہنما خلیل بلوچ اور شہید ڈاکٹر منان بھی موجود ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: آجکل بلوچ نوجوان آپ سمیت دوسرے بلوچ لیڈران جوگذشتہ طویل عرصے سے جدوجہد کے ہمراہ ہیں پر تواتر کے ساتھ ایک تنقیدی سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا کے باقی تحریکوں میں لینن، ماوزے تنگ، کم ال سنگ، عبداللہ اوجلان وغیرہ جیسے انقلابی رہنماوں نے اپنے سماجی و سیاسی نظام پر تحقیق کیئے اور اپنے تجربات کے روشنی میں قوم کی رہنمائی کیلئے کتابیں اور مکالات لکھے، ان کے مکالات نے انقلابات میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن ستّر سالوں سے جاری بلوچ تحریک میں کسی بھی بلوچ رہنماءکی سیاسی و سماجی نظام پر کوئی ایک بھی سنجیدہ تحقیقی مکالہ یا کتاب سامنا نہیں آیا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں؟
عبدالنبی بنگلزئی: اسکی وجہ ہمارا سماجی ساخت ہے، ہمارا سماج کہاں کھڑا ہے اور کیسے ہے؟ اس میں کیا وجود رکھتا ہے اور کیا رشتے ہیں؟ آپ کے پیداواری قوتیں کس حد تک آگے ہیں؟ یہاں ایک غلام سماج ہے، لکھنا اور تخلیق کرنا خود ایک صلاحیت ہے۔ جتنی سماج میں صلاحیت ہوگی، اتنی ہی فرد کی صلاحیت ہوگی۔ ہمارے ہاں جس حد تک تحریک چلے ہیں، زیادہ تر سب روایتی رہے ہیں، ہمارے جہد کی رہنمائی ہمیشہ اسی سماج کے بالائی طبقے سے ہوئی ہے، اب وہ کیا تھے؟ ظاہر ہے ان کے اپنے مفادات اور صلاحیتیں تھیں۔ اب وہاں میرٹ کیا ہے؟ روایتی طریقے سے بس میرا سردار ہے، تو قبول ہے۔ سردار کی صلاحیتیں کیا ہیں؟ کچھ نہیں بس 20 گزکا دستارہے۔ کسی کے سرپر تاج رکھنے سے وہ عاقل و دانا تونہیں بن جاتا ہے۔ اب لکھنا ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں انسان اندر سے جیسے ہوتا ہے، انہی چیزوں کو بیان کرسکتا ہے۔
ہمارا سماج اور زندگی کا گذربسر پسماندہ ہے، جتنے بھی اس میں خصوصیات تھیں، ان سے ہم جتنا فائدہ اٹھا سکتے تھے، اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ان سب چیزوں میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ انہیں سامنے رکھنے اور لکھنے کے لیئے شاید روایات اور اقدار نے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ پھر قومی مفاد کی بات کرنی پڑتی تھی، جو روایات کے برخلاف تھے۔ اندر سے لوگ کچھ اور تھے اور باہر سے کچھ اور کنفیوز ہوکر کتاب لکھنا شاید مشکل ہے۔
آج نوجوان لکھ رہے ہیں، تحقیق کررہے ہیں۔ اب ان پر منحصر ہے کہ سماج کو کیسے تقسیم کرتے ہیں، ہمارا کیسا سماج ہے، اسے کس طرح جوڑنے کی ضرورت ہے، کیا مفادات ہیں، ہمارا ایک قبائلی اور نیم قبائلی سماج ہے۔ سردار کاکردار کیا ہے؟ کیا دوسرے قبائل آپ کی بات قبول کرتے ہیں؟ ہمارے سماج میں قبائلیت ختم نہیں ہوئی ہے اور مکمل موجود بھی نہیں ہے۔ سسٹم کے تحت آج کچھ نہیں بچا ہے۔ سردار بک چکا ہے، سردار سرکار کے ساتھ ہیں۔ لوگ ایک سوچ رکھتے ہیں، مگر اپنے تمام رشتے توڑ بھی نہیں سکتے کیونکہ صدیوں کی رشتہ داریاں ہیں، ہزاروں سالوں کی وابستگی رہی ہے۔ جنہیں وہ چھوڑ نہیں سکتے۔ سردار جب سرکار کی طرف جاتے ہیں، تو وہ بھی ادھر چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کے مسائل ہوتے ہیں، جنہیں وہ سردار کے پاس لے جاتے ہیں۔ کوئی اور اعتماد ابھی تک بحال نہیں ہوپایا ہے۔ شاید مستقبل میں ایک اعتماد بن جائے، جو تنظیم، ادارہ یا فلاح کی صورت میں سردار کی جگہ لیکر بدلے میں کچھ فراہم کرے۔ پھر لوگ ہماری طرف آئیں اوران کا اعتماد بحال ہو۔
دی بلوچستان پوسٹ: جب موجودہ تحریک کا آغاز ہوا، تو اس وقت سے یہ بات کہی جارہی تھی کہ اس تحریک کی بنیاد پرانے غلطیوں سے سیکھ کر رکھی گئی ہے، لیکن ہم ایک بار پھر دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ ارتکاز کے بجائے دوبارہ ستر کے دہائی کی طرح انتشار کی طرف ہی جارہی ہے، اسکی وجہ کیا ہے؟
عبدالنبی بنگلزئی: اگر حقائق کے بنیاد پر تجزیہ کرکے دیکھیں، تہتر کی دہائی کی جنگ بنیادی طور پر آزادی کیلئے شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ وہاں شروعاتی مقصد تو صوبائی حکومت کی بحالی تھی۔ ستر کے انتخابات کے بعد نیشنل عوامی پارٹی کے حکومت کا بننا اور پھر آٹھ مہینے بعد صوبائی حکومت کو ختم کرنے، لیڈر شپ کو قید کرنے کے خلاف وہ ایک مزاحمت تھی۔ وہ تحریک ایسی شکل میں نہیں تھی جیسا کہ موجودہ تحریک ہے۔ تو اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ غلطیاں کیا تھیں؟ بعد میں اب اس موجودہ تحریک نے جو شکل اختیار کی وہ اسی تحریک کا ارتقائی شکل ہے، میں سمجھتا ہوں یہ اس تحریک کی کامیابی ہے۔
وہ ایک باقاعدہ آزادی کی تحریک نہیں تھی، جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شروع کی گئی ہوکہ ہم اس کی غلطیوں پر بات کریں۔ اس وقت تحریک میں بی ایس او اسی لیئے شامل ہوا کہ ایک مزاحمت چل رہی تھی، ایک جنگ چل رہی تھی، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اس میں شامل ہونا ہے۔ اس جنگ کو ایک سمت دینا ہے، اسکی راہیں متعین کرنی ہیں۔ ہمیں اس کی مدد کرنی ہے تاکہ یہ ترقی یافتہ شکل اختیار کرکے آگے جائے اور یہ جنگ آگے چل کرآزادی کی تحریک میں تبدیل ہوجائے۔ میں خود اسی سوچ اور خیال کے تحت تحریک میں شامل ہوا تھا۔
مجھے خیر جان کی ایک بات یاد ہے کہ جب میں پڑھ رہا تھا، تب میں اس کے پاس گیا کہ اس کا ساتھ دوں، وہ بھی بی ایس او کا چیئرمین رہا ہے اور ہمارا سوچ و فکر ایک ہے۔ میں نے خیر جان سے کہا کہ صوبائی حکومت کو ختم کرنے کے خلاف یہ جنگ ہورہی ہے، میں بھی تمہارے کیمپ آنا چاہتا ہوں۔ اس نے جواب دیا کہ میں میر غوث بخش کا پابند ہوں۔ ہماری یہ جہد صوبائی حکومت کی بحالی کے لیئے ہے لیکن تم سوچتے ہو کہ یہ آزادی کی جنگ ہے، مگر یہ آزادی کی جنگ نہیں ہے۔ جس دن میرغوث بخش نے کہا بس کرو تو میں بس کردونگا۔ اس وجہ سے ہماری بات نہیں بنی اور میں اسکی ہمراہ داری نہیں کرسکا۔ پھر میں سفر خان کے کیمپ چلا گیا، وہاں شرط و شرائط نہیں تھے، وہ جھالاوان سے تعلق رکھتا تھا اور ایک روایتی بندہ تھا۔ وہ نوروز خان کا ہم فکر تھا اور سیدھی سادھی آزادی چاہتا تھا۔ بعد میں ہوا بھی یہی کہ سفر خاں شہید ہوگیا لیکن ہتھیار نہیں پھینکے جبکہ خیرجان نے آخر کار جاکر سرنڈر کیا۔ بعد میں پھر اسکی فوج کے ساتھ رشتہ داریاں ہوگئیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سرکار کے لئے باقاعدہ مخبری کا کام بھی کرنے لگا۔
بہرحال وہ تحریک کسی حکمت عملی یا منصوبہ بندی کے تحت شروع نہیں ہوا بلکہ وہ ریاستی حملے کیخلاف مزاحمت تھی۔ یہ امید تھی، فکر تھی کہ ہم اس تحریک کی نشونما کرینگے، ہمیں جتنی کامیابی ملی یا ناکام وہ دکھائی دے رہی ہے۔ ستر کی دہائی کی وہی نیم پختہ جنگ ترقی پاکر موجودہ تحریک کی شکل اختیار کرگیا۔ یہ ارتقاءہے، ظاہر سی بات ہے کہ کوئی چیز جتنی پختہ ہوگی، اس کی رفتار اسی نسبت سے رہے گی۔ اس تحریک کی رفتار کم تھی اور آج دنیا تیز ہوگئی ہے، ہر دن ایک نئی چیز سامنے آرہی ہے۔
آج تحریک زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اسے تیزی کے ساتھ بڑھانے کے لیئے لوگ موجود ہیں، ان کے پاس لکھنے، کہنے کی صلاحیت ہے، وہ تاریخ سے واقف ہیں۔ اگر آج براہمداغ تاریخ کے خلاف کوئی ایک ٹویٹ کرتا ہے، تو ہر طرف سے اس کے خلاف بات کی جاتی ہیں کہ آپ غلط بیانی کررہے ہو۔ بہرحال مجموعی طور پر مجھے ایسی کوئی مایوسی کی بات نظر نہیں آتی ہے۔

میر عبدالنبی بنگلزئی کا شہید صباء دشتیاری کے ساتھ ایک یادگار تصویر
دی بلوچستان پوسٹ: بلوچ تحریک میں ہمیشہ سے ایک تقسیم نظر آتی ہے، اسی تقسیم در تقسیم کا آپ یونائیٹڈ بلوچ آرمی کی صورت میں خود حصہ رہ چکے ہیں، آپ نے بی ایل اے کے قیام اور پھر اس تقسیم کو اپنے آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا، آپکے خیال میں اسکی بنیادی اور حقیقی وجہ کیا تھی؟
عبدالنبی بنگلزئی: بی ایل اے کی تقسیم اور یوبی اے کے بننے کی بنیادی وجہ نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے درمیان اختلافات تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد نواب صاحب سے جب میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے اور حیربیار کے درمیان مسائل ہیں۔ غالباً 2010میں حیربیار نے جیل سے رہائی کے بعد قیادت کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا۔ حیربیار نے کرپشن کے الزامات لگائے تھے، ایک یہ بات نواب صاحب نے مجھے بتایا کہ اختلافات کی بنیاد ہے اوردوسری بات انہوں نے کہا کہ انکے اور حیربیار کے بیچ نظریاتی اختلافات بھی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ نواب صاحب کا کہنا تھا کہ وہ ان مسائل کو اپنے طور حل کرلینگے، اگر مسائل حل نہیں ہوئے، تو دوسرے بلوچوں کو بٹھا کر، مسائل کو انکے سامنے رکھینگے، لیکن پھر یو بی اے بن گیا۔
جہاں تک یونائیٹڈ بلوچ آرمی سے تعلق رکھنے کی بات ہے، تو یو بی اے کیساتھ یا اسکے بننے میں میرا کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ اسی طرح میں پہلے بی ایل اے کے کیمپ میں تھا لیکن اس کا ممبر نہیں تھا، میری ساری وفاداریاں نواب صاحب کے ساتھ تھیں۔ بی ایل اے نواب صاحب کا تھا تو اس لحاظ سے میں ممبر بھی کہلایا جاسکتا تھا۔ میں نواب صاحب کو جانتا تھا اور اعتماد صرف اسی پر کرتا تھا لیکن حیربیار کو میں نہیں جانتا کہ آپ سیاسی صورت میں کیا ہو۔ آپ نواب صاحب کے بیٹے ہو لیکن میرے اور آپ کے درمیان وہ رشتے کس حد تک ہیں؟ ہم ایک دوسرے سے کس حد تک مطمئن ہوسکتے ہیں؟ کن چیزوں پر ہمارے درمیان اختلاف یا اتفاق ہوسکتا ہے؟
شروعات میں نواب صاحب نے جب حیربیار کو سامنے لایا، تو ہم نے اس جہد کو آگے لیجانے کی خاطر حیربیار کی مدد کی، لیکن جب بی ایل اے نے یوبی اے سے لڑنے کا فیصلہ کرلیا، تو میں نے ان سے اختلاف رکھ کر انکا کیمپ چھوڑ دیا اور یو بی اے کے کیمپ چلا گیا۔ تو وہاں جانا اور ان کے ساتھ بیٹھنا بھی میرا یو بی اے کا ممبر بننا نہیں تھا۔ میں یوبی اے کے کسی بھی صلاح و مشورے میں شامل نہیں رہا ہوں، میں یوبی اے کا باقاعدہ ممبر نہیں رہا ہوں۔ اب اگر مجھے کوئی یو بی اے میں شمار کررہا تھا، تو ظاہر ہے میں اس کیمپ میں بیٹھا تھا تو شاید یہ تاثر جارہا تھا۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا تعلق یوبی اے سے تھا اور اسکے قیام کی وجہ مجھ سے پوچھتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مجھے یو بی اے کے بننے تک کے بارے میں کوئی بھی علم نہیں تھا۔ نا ہی نواب صاحب نے مجھ سے اس بارے میں کوئی بات کی ہے۔ میں یو بی اے کا باقاعدہ یا رسمی ممبر نہیں رہا ہوں، ہاں میں ان کے کیمپ میں تھا لیکن اسی طرح میں دوسرے تنظیموں کے بھی کیمپ میں رہا ہوں، میں بی آرے کے بھی کیمپ میں اسی طرح رہا ہوں۔ باقی نہ وہ میرے سامنے جوابدہ رہے ہیں اور نہ میں ان کے سامنے جوابدہ رہا ہوں۔ ظاہر سی بات ہے، میں سرکار کے پاس تو نہیں جاسکتا تھا۔ تو یہ صورتحال رہی ہے۔
میری نظر میں بی ایل اے کے اس تقسیم در تقسیم کی بنیادی اور حقیقی وجہ سماجی ارتقاء ہے، نئے اور پرانے کی جنگ ہے، ایک خیال نیا ہے تو دوسرا پرانا و روایتی ہے۔ نیا خیال ادارہ سازی، تنظیم کاری، ڈسپلن جیسی چیزیں ہیں جبکہ دوسری طرف روایتی سوچ ہے یعنی اگر کوئی سردار ہے تو یہی سمجھتا کہ میری بات حرفِ آخر ہے۔ تنظیم کے اندر ایک بیوروکریٹک یا جاگیردانہ رویہ ہے، یعنی یہ کہ میں بڑا ہوں، میں دولت مند ہوں، یہ میری میراث ہے، میں جائیداد کا مالک ہوں تو بات بھی میری صحیح ہے، اس وجہ سے ان دو خیالات کا ایڈجسٹ ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔
مثال کے طور پر اب میرا سردار سرکار کے پاس جائے تو میں اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرسکوں گا؟ بہت مشکل ہے، حالانکہ میں بھی ایک قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں، میرے سردار نے حد درجہ کوشش کی، کہا میرے رستے سے ہٹ جاﺅ اور رکاوٹ نہیں بنو۔ میرا جواب تھا کہ میں جانوں میرا کام جانے، میں بھی ایک بلوچ ہوں۔ لیکن میرے اپنے خیالات رہے ہیں اور سردار کے اپنے، سردار سرکارکی پالیسی کو اپنائے ہوئے تھا اور ہم بلوچ کے پالیسی کوآگے لیجارہے ہیں۔ تو میں ان چیزوں کی حقیقی وجہ نئے اورپرانے سوچ کے تضاد و ٹکراو کو کہوں گا۔ اب بی ایل اے کے حالیہ بحران میں بھی کچھ اسی طرح کے روایتی غیر رسمی باتیں سنائی دیتی تھیں، جہاں لوگوں سے کہتے تھے کہ ہم مری ہیں، اسلم کا کیا کروگے، ہم مری متحد ہوجائیں۔ یعنی پرانی روایتی سوچ کو اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرنا۔
دی بلوچستان پوسٹ: جب تک بابا خیربخش مری حیات تھے، تو سب آپ کو اسی سیاسی رفاقت یا دوستی کے بنیاد پر یو بی اے میں ہی تصور کرتے رہے، کیا وہی رفاقت اور دوستی آپ مہران مری کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں؟
عبدالنبی بنگلزئی: اگر کوئی مجھے نواب خیر بخش کی دوستی کی وجہ سے یو بی اے میں سمجھتا رہا ہے تو یہ غلط ہے، ایسا نہیں تھا۔ باقی جو دوستی اور سیاسی رفاقت میری نواب صاحب کیساتھ رہی ہے، مہران مری کے ساتھ میری ایسی کوئی سیاسی رفاقت نہیں ہے۔ میں جب انکے تنظیم کے کیمپ میں تھا، تو ان سے ایک دو بار میری صحت کی خرابی اور علاج کے بابت بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد بالکل بات نہیں ہوئی ہے۔ ہاں، میری خواہش رہی ہے کہ میں مہران سے ملاقات کرسکوں اور ان سے تفصیلی تنظیم کے بابت پوچھ سکوں کہ یہ کیا ہے؟ جو لوگ تنظیم میں ہیں، وہ میرے دوست ہیں، میں انکا کمانڈر رہا ہوں، آج وہ قبائلی بنیاد پر آپ کیساتھ ضرور ہیں، لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی فکر اور سوچ کیا ہے؟ کیا دلیل یہ ہے کہ آپ نواب صاحب کے بیٹے ہو؟ نواب صاحب کا بیٹا تو جنگریز اور گزین بھی ہیں۔ یوں بیٹے ہونے کے ناطے آپ قابل قبول نہیں ہوسکتے، آپ کا کردار اور عمل کیا ہے؟ ان چیزوں پر میری بات ان سے ہوسکتی ہے، گر میں مطمئن ہوجاؤں پھر سنگتی اسی بنیاد پر شاید کرسکوں۔
باقی عمومی بات یہ ہے کہ یہاں ایک جنگی حالت ہے، ون پوائنٹ ایجنڈا بلوچستان کی آزادی کی جنگ ہے، بس اس نکتے پر سب دوست ہیں۔ اس نکتے پر مہران مری میرے لیئے بالکل قابل قدر ہے۔ میں یو بی اے، بی ایل اے یا بی آر اے سب کے کیمپوں میں گیا ہوں، بلکہ میں شعوری حوالے سے ان کیمپوں میں گیا ہوں، تاکہ ایک یکجہتی بنے اور یہ دوریاں نا ہوں، تاکہ ایسی کوئی تقسیم نہ ہو کہ ہم روایتی طور پر ناراض رہیں۔ ہمارے دشمن مارے جائیں، ہم ایک دوسرے کی کمک کریں، تو میں اس لئے سب کے ساتھ تھا۔
کسی بھی رسمی، رواجی یا باقاعدہ دوستی کیلئے ضروری تھا کہ مہران سے بات ہو اور وہ ذمہ دار ہوں، کیونکہ وہ لیڈر ہے اور باقی کوئی تحریر آئین یا منشور موجود نہیں ہے، جسے کوئی دیکھ کر اس پر اتفاق کرکے ساتھ ہوتا، اس لیئے لیڈر پر اعتماد قائم کرکےکچھ ہوسکتا تھا، لیکن وہ نہیں ہو پایا۔ لیکن بعد میں انہوں نے براہمداغ بگٹی کے 27مارچ بابت موقف کی بغیر سوچے سمجھے تائید کردی حالانکہ انہوں نے خود پہلے جینیوا میں بات کی تھی اور 27مارچ کو بلیک ڈے قرار دیا تھا۔ اب انہوں نے بھی خود کو اس تاریخی انحراف میں شامل کردیا، تاریخی طے شدہ چیزوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میرا ان سے غیر رسمی دوستی بھی ختم ہوگئی۔ مستقبل کا پتہ نہیں، اب آنے والا وقت اپنا فیصلہ خود کریگا، اب میرا ان سے ایسی کوئی رفاقت یا دوستی نہیں رہی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: یونائیٹڈ بلوچ آرمی جن بھی وجوہات کے بنا پر قائم ہوا، انکی پوری وضاحت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے، اس بابت قوم کے سامنے دو مختلف آراء پیش کی گئیں، لیکن ایک بات اب واضح نظر آرہی ہے کہ بی ایل اے کی وہ تقسیم ان مسائل کا حل نہیں تھا، کیونکہ آج ایک بار پھر ہمیں بی ایل اے دوبارہ اسی طرح کے ہی مسائل سے دوچار نظر آرہا ہے۔ اس کی آخر وجہ کیا ہے کہ بی ایل اے بار بار ان مسائل کا شکار ہورہی ہے؟
عبدالنبی بنگلزئی: میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ ان سب مسائل کے پیچھے سماجی و سیاسی ارتقاء ہے، یہ سب ہونا ہے۔ ظاہر ہے جب نئے خیالات آتے ہیں اور قبول نہیں کیئے جاتے ہیں اور روایتی پن کے ساتھ رہا جاتا ہے، تو پھر پرانے روایتی چیزوں اور نئے خیالات کا ایک ساتھ ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پرانے کو نئے کےلیئے جگہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر اس کے لیئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی، تو وہ ٹوٹ جائے گا۔ پرانا اگر نئے چیزوں کو قبول نہیں کریگا، تو نتیجہ ٹوٹنے کی شکل اختیار کریگا۔ یہ ایک اٹل تاریخی حقیقت ہے اور میں سمجھتا ہوں اس تقسیم کی وجہ یہی ہے۔
ان وجوہات میں سے ایک بی ایل اے میں اداروں کا نہ ہونا ہے، اگر کوئی ادارہ تھا بھی تو وہ روایتی طور پر تھا، جو نئے تقاضوں پر پورا نہیں اترپارہا تھا۔ حالیہ بحران کی جڑیں بھی اسی بنیادی مسئلے میں پیوست تھیں۔ حیربیار آگے جانے کو تیار نہیں تھا۔ دوسری جانب یہ لوگ ادارہ جاتی سطح پر دیکھنا چاہتے تھے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، کس سمت جارہے ہیں اور اپنا مقام دیکھنا چاہ رہے تھے۔ لیکن حیربیار یہ قبول نہیں کررہا تھا اور روایتی طریقے سے سب کچھ اپنے ہاتھوں میں چاہ رہا تھا، جس کا نتیجہ بد اعتمادی و ٹوٹنے تک پہنچا۔
دی بلوچستان پوسٹ: بلوچ تحریک میں نمو پاتی ایک سوچ موجودہ تمام مسائل کا ذمہ دار اداروں کی عدم موجودگی کو گردانتی اور ذمہ دار ٹہراتی ہے، آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
عبدالنبی بنگلزئی: پہلے جب روایتاً کہا جاتا تھا۔ اٹھو! بس جنگ ہے، تو جنگ شروع ہوجاتی تھی۔ مگر آج حساب کتاب، تنظیم، ڈسپلن، حق و حقوق اور فرائض یہ سب چیزیں شامل ہیں اور انکا مطالبہ ہوتا ہے، ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی ادارے کی ضروریات ہوتی ہیں۔ آج جو کوئی بھی جدوجہد کررہا ہے، چاہتا ہے کہ اس کا مقام واضح ہو۔ سب جاننا چاہتے ہیں کہ انکی کیا عزت و شرف ہے، وہ کیا کررہے ہیں، یہاں میرا مقام کیا ہے۔ یہ انسانی فطرت بھی ہے۔
اب ادارے نہیں ہیں تو انتشار ہوگا۔ ادارہ خود تاریخ کی ایک واقعاتی چیز ہے۔ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کون سا ادارہ؟ انقلابی ادارہ یا پہلے کا روایتی ادارہ؟ پہلے روایتی ادارے تھے۔ مری ہو، بس آجاﺅ، گر کوئی اور بلوچ آیا توکوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب باقی بلوچ اس میں کیسے جگہ پائیں گے؟ کس وقت تک رہیگا، کتنے لوگ اسے مانیں گے؟ یہ جواب طلب رہے۔ پہلے بی آر اے میں کتنے لوگ تھے بعد میں کتنے رہ گئے؟ یا بی ایل اے میں کتنے بلوچ تھے اور اب کتنے بچے ہیں؟ اب ایسے اداروں میں وہ چیز نہیں بن سکتی تھی۔ اب ان حالات میں ضروری ہے کہ اداروں کی بات کی جائے۔
آج مجھے بی ایل ایف اور بی این ایم کی شکل میں ادارے موجود نظر آتے ہیں، اور میں دیکھ رہا ہوں بی ایل اے جیئند والے ادارے کی شکل اختیار کررہے ہیں، کیونکہ وہ اپنے تجربات سے دیکھ اور سیکھ چکے ہیں اور اب جانتے ہیں کہ وہ اب اپنے دوستوں کو حقیقی اداروں کے بغیر ساتھ روک نہیں پائیں گے۔ ادارہ ہوگا تو سب کو معلوم ہوگا کہ میری جگہ کونسی ہے، مجھے کیا کرناہے، میرے فرائض اور حقوق کیا ہیں۔ ادارے میں وہ خود کو محفوظ سمجھیں گے۔ اگر یہ چیزیں نہیں ہونگی، تو میرے خیال میں لحاظ داری میں دیر تک چلا نہیں جا سکتا ہے۔
اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہمیں کیسے اداروں کی ضرورت ہے، ہمارے فیصلے کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ مثال کے طور پر آج کوئی کہتا ہے کہ پنجابی کو مارنا ہے۔ پھر سوال اٹھتا ہے، کون سے پنجابی کو مارنا ہے؟ پنجابی قوم کو ماروگے؟ کیا ہم پنجابی قوم کے دشمن ہیں یا اس پنجابی کردار کے جس نے ہمیں غلام بنایا ہے؟ پنجابی کی شکل سے نہیں بلکہ اس کردار سے نفرت ہونی چاہیئے، جس کی وجہ سے ہم غلام ہیں، ورنہ وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کا جو کردار میرے قوم کو نقصان دے گا، اس سے اختلاف ہے۔ آج ہمارا اپنا کوئی قریبی ہو یا بھائی بھی ہو، اگر اسکا کردار غلط ہے، تو وہ بھی دشمن تصور کیا جائے گا۔ ہمارا پنجابی کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ ہم تو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم اپنی تاریخ آزاد کرانا چاہتے ہیں۔
اب ادارے کا تصور یہی ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی مسائل کو سمجھ کر، اپنے لیئے راہیں نکال پائے، ادارہ حقوق و فرائض کو بھی اسی طرح طے کرتا ہے۔ دوسرے اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بھی طے کرتا ہے وغیرہ۔ اب ہم میں سے کون ادارے کیلئے کوالیفائی کرتا ہے؟ کیا حیربیار ادارے کےلیئے کوالیفائی کرسکتا ہے؟ جو ناحق بی ایل اے کو دو بار تقسیم کرتا ہے، کسی بھی مسئلے پر بیٹھنے اور بات چیت کرنے تک کےلیئے تیار نہیں ہے، کہتا ہے کہ جب میں کہتا ہوں اسلم قصوروار ہے پھر بس اسلم قصور وار ہے۔ ایسے کیسے بغیر ثابت کیئے کوئی قصور وار ہے؟ تو کیا ایسی لیڈر شپ اداروں کو آگے لے جاسکتی ہے؟

میر عبدالنبی بنگلزئی اور بابو عبدالرحمان کرد کی ایک یادگار تصویر
دی بلوچستان پوسٹ: یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچ آزاد پسند مضبوط ادارے تشکیل نہیں دے سکے ہیں، اس امر کا ذمہ دار بزرگ آزادی پسند رہنما واحد قمبر اپنے حالیہ آرٹیکل میں آپکو بھی ٹہراتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نے ”اداروں کے بجائے قبائلیت کی تائید کی ہے۔” اس میں کتنی صداقت ہے؟ اور اسکی کیا وجہ ہے؟
عبدالنبی بنگلزئی: استاد واحد قمبر کی اس بات کی تردید کروں بھی شاید مناسب نا لگوں، لیکن تصدیق کرنا بھی میرے لیئے گراں ہے۔ پہلے ایک بات میں واضح کردوں کہ آج ہماری تحریک جہاں پہنچی ہے، اس میں ہم قبائل کے کردار کو ہرگز نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہماری تحریکیں قبائل کی مرہونِ منت رہی ہیں۔ نواب نوروز، نواب خیربخش، شیر محمد مری یہ سب قبائلی لوگ تھے۔ میں اور واحد جس جہد میں شامل ہوئے، وہ قبائل کی شروع کی گئی تحریک تھی۔ میں نے اس وقت پاکستانی فوج کے مقابلے میں اپنا پناہ انہی قبائل میں پایا۔ اب باقی سماج کے برعکس، اس وقت یہ قبائل ایک کامیاب مزاحمت کررہے تھے، پھر میں کس بنیاد پر انکی مخالفت کرتا؟ یہ راتوں رات بدلنے والا نظام نہیں تھا، بلکہ یہ ارتقائی مراحل سے گذر کر ہی قومی یا جدیدیت کے قالب میں ڈھلتا۔ میں نے اپنی پوری زندگی وقف کردی کہ قبائلیت اور روایت پرستی کو جدید اداروں کی شکل میں بدلوں۔ بہرحال یہ میرے بس کی بات نہیں تھی کہ میں قبائلیت کو روکوں، یہ اس وقت کی ایک معروضی حقیقت تھی، ایک ضرورت تھی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم قبائل مخالف نہیں ہیں، ہم نوآباد کار مخالف ہیں، جس نے ہم پر قبضہ کیا۔
میں واحد قمبر کا احترام کرتا ہوں، بس اتنا کہوں گا کہ اس وقت قبائل کی صورت میں ایک مزاحمت کامیابی سے شروع ہوکر چل رہی تھی اور کامیابی سے چلتے ایک قوت کو راتوں رات توڑنے کے میں حق میں نہیں تھا۔ ارتقائی مراحل سے گذر کر اسے خود اداروں کی طرف جانا ہی تھا، ہر عمل کا ایک فطری وقت ہوتا ہے۔
کچھ اور باتوں کا میں یہاں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ سنہ 1980کے بعد ہم نوجوانوں کی جتنی شرکت بی ایس او عوامی کی شکل میں تھی، جن کا میں چیئرمین تھا اور اس وقت پہاڑوں میں موجود تھا اور فدا احمد سیکریٹری جنرل تھے۔ ہم نے یہی حکمت عملی اپنائی کہ یہ تحریک جنگ کے بغیر اب آگے نہیں چل سکتی اور آزادی حاصل نہیں کرسکتی۔ ظاہر ہے بلوچ عوام اور قبائل یہی تھے، جو مزاحمت کررہے تھے۔ لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ ان کے ساتھ ملکر انہیں آہستہ آہستہ “ڈویلپ” کرکے آگے لیجائینگے۔
ہمارے بہت سے دوستوں کا اس وقت کہنا تھا کہ اب ادارے کی ضرورت ہے، ورنہ ہم صرف قبائلی بنیادوں پر آگے نہیں جاسکتے ہیں۔ بہت سے لوگ آئے، ایک کوشش تھی کہ ہم تنظیم کاری کریں۔ ہمارے علاوہ باقی لوگوں میں رازق اور جالب کے شکل میں پہلے سے جنگ میں شامل تھے۔ میں اور شہید فدا احمد افغانستان گئے، غالباً ایک دو سال وہاں جلا وطنی کی زندگی گذاری۔ نواب صاحب سے کابل میں ملے، پھر ہلمند آکر ہم نے ایک ڈرافٹ ادارے کے بابت لکھ کر نواب صاحب کے خدمت میں پیش کیا، لیکن نواب صاحب اس سے متفق نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہمیں جواب دیا کہ یہاں آپ لوگ جو تنظیم مانگ رہے ہیں، وہ ممکن نہیں۔ یہاں ایک پہلو بلکل نیچے ہے اور دوسرا بلکل اوپر، ان کو ملانا بہت مشکل ہے۔ ان کا مطلب تھا کہ میں مری کا نواب ہوں، میں آپ لوگوں کے فکر کے ساتھ نہیں چل سکتا ہوں کیونکہ مجھے مری کے فکر اور روایات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا پڑے گا اور آگے ساتھ لیجانا ہے۔ پھر جب ہم ہلمند سے واپس لوٹ آئے، تو ہمارے جتنے دوست تھے ایک جگہ جمع ہوئے کہ نواب صاحب تنظیم کاری نہیں کرنا چاہ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے قبیلے اور ان مفادات کو چھوڑ نہیں سکتا ہے۔
جب ایران میں انقلاب آیا، تو ہماری صفوں میں یہ باتیں بھی ہونے لگیں کہ اب قومی جنگیں ختم ہوچکی ہیں اور مسلح جنگ نہیں ہوسکتی ہے، مجھے بھی دوستوں نے کہا کہ اب تم چھوڑ دو۔ میرا موقف تھا کہ دنیا میں اقوام ہیں، انکی افواج ہیں۔ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کرتے ہیں، ہم بھی ایک قوم ہیں۔ تو میں اس سچائی سے کیسے انکار کروں کہ میں غلام ہوں اور اس کے خلاف جہد نہیں کروں؟ دنیا کی حالات جتنے بھی بدلیں، لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ میں دنیا کے ساتھ کتنا وابسطہ ہوں اور اپنے ساتھ کتنا وابسطہ ہوں؟ لہٰذا میں نے قومی آزادی کے جہد سے دستبرداری قبول نہیں کی۔ میں پہاڑوں کا تھا اور پہاڑنشین ہی رہا لیکن ایک دو دوستوں کے علاوہ باقی سارے دوست چھوڑ کر چلے گئے اور میں وہیں اکیلا رہ گیا۔ پھر فدا احمد نے ایک مہینے بعد پھر سے مجھ سے رابطہ کیا، اس وقت جتنے بھی قرب و جوار کے ساتھی تھے، ان سب سے فدا کا رابطہ تھا۔ بہرحال فدا احمد نے کہا کہ قومی آزادی کیلئے جنگ کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں ہے، میرا جواب تھا کہ میں شروع سے یہی تو کہہ رہا تھا۔ فدا کام کرنے والا آدمی تھا اور لوگ اس کی باتوں سے اتفاق کرتے تھے، جن لوگوں نے انہیں نہیں دیکھا تھا تو انہوں نے میری رائے سے اتفاق کیا۔ تو اس طرح ایک بنیاد پڑی۔
پھر سننے میں آیا کہ رازق اور جالب وغیرہ توڑ پھوڑ کرکے تنظیمیں بنارہے ہیں۔ بہرحال میں ان باتوں سے دور تھا اور میرے رابطے کا بندہ فدا احمد تھا اور ان کی بہت بڑی عزت تھی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ بی ایس او کے انضمام کے مرحلے میں داخل ہوا، فدا احمد نے مجھ سے اس بابت مشورہ کیا، میں نے کہا آپ لوگ بی ایس او کے دھڑوں کا اتنی جلدی انضمام نہیں کریں، انکا کہنا تھا کہ رازق اور جالب والے ساتھ مل رہے ہیں۔ میرا مشورہ تھا کہ پھر آپ ایسا کریں کہ ایک فرنٹ تشکیل دیں یا پہلے اپنا ایک مشترکہ بلیٹن یا ترجمان رسالہ نکالیں تاکہ فکر و سوچ ایک ہو، پھر انضمام کریں۔ بہرحال ان کا کہنا تھا کہ ہم پر پریشر ہے کہ انضمام کیا جائے ۔ تو میں نے کہا آپ لوگ خودمختار ہیں، اب میں بی ایس او کا ممبر بھی نہیں ہوں اورآپ جو باتیں کررہے ہو میں اس کا پابند بھی نہیں ہوں۔
بی ایس او کا انضمام ہوا پھر کچھ وقت کے بعد ان لوگوں کی طرف سے بی این وائی ایم بنایا گیا، پھر ڈاکٹر مالک وغیرہ نے الیکشن میں حصہ لیا، تو غلام محمد نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ غلام محمد فکری طور پر میرا ہم خیال تھا۔ انہوں نے دوستوں کو یہی کہا تھا کہ اگر میرعبدالنبی مطمئن ہوگا تو ٹھیک ہے، پھر میں آپ لوگوں کے ساتھ سنگتی کرونگا، اگر وہ مطمئن نہیں ہوگا تو میں بھی نہیں ہونگا۔
پھر دوسرے مسئلے پیدا ہوئے میں جیل چلا گیا اور جیل سے رہائی کے بعد غلام محمد سے ملاقات ہوئی، انہوں نے نواب صاحب سے کہا کہ میر کو ہمارے حوالے کردیں اور مجھ سے کہا کہ اب آپ بی این ایم میں آجائیں۔ میرا جواب تھا کہ میں دوسرے فیلڈ کا آدمی نہیں ہوں یہ سرفیس پالیٹکس کا ہنر مجھے نہیں آتا ہے اور میں اس قدر کارآمد ثابت نہیں ہوسکتا ہوں۔ انہوں نے نواب سے بات کی تو نواب صاحب نے جواب دیا کہ میں ان سے صلح مشورہ کرونگا کہ وہ کیا کہتا ہے۔ میں نے نواب صاحب کو بھی یہی جواب دیا، جو غلام محمد کو کہا تھا۔ تو اس طرح بی این ایم میں میری شمولیت نہیں ہوئی اور پھر غلام محمد شہید ہوگیا۔
93-94ء کے دور میں واحد قمبر اور کچھ دوسرے دوستوں نے ایک کوشش کی تھی کہ تنظیم کاری کریں، کچھ ایسے لوگ بھی تھے، جن کے بارے میں میرے تحفظات تھے۔ میں نے کھلے طور پر ان پراعتراض نہیں کیا، کسی کا نام بھی نہیں لیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک تنظیم بنائینگے اور آپ ہمارے ساتھ شامل ہوجاؤ، ان لوگوں میں رحمدل، سدّو اور دوسرے کچھ دوست بھی شامل تھے۔ انکا کہنا تھا کہ نواب صاحب تنظیم کاری نہیں کررہا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ابھی تک مجھے وہ چیزیں نظر نہیں آرہے ہیں، میں ان لوگوں کو نہیں جانتا ہوں کہ کون یہ تنظیم کاری کرے گا۔ جب تک مجھے وہی چیز نظر نہیں آتی، جو حقیقی تنظیم کاری کے قابل ہو، تب تک میں حصہ نہیں بن سکتا۔ بہر حال میں نواب صاحب کی دوستی چھوڑ نہیں سکتا ہوں۔ جو بھی ہے ابھی تک مجھ پر صورتحال واضح نہیں ہے۔ کچھ ایسے عام شہری لوگ تھے جن سے میں مطمئن نہیں تھا، وہ اچھے دوست تھے لیکن مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ انقلابی مشکلات سے گذر پائینگے۔
جب سرکار نے کوہستان مری پر حملے کی تیاری کرلی تو 2000ء میں مجھے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ میں سرکار کے ایجنٹس نہیں پہچان پایا۔ مجھے دوستوں کی شکل میں پوچھا گیا کہ اب تم کیا کروگے، میرا موقف تھا کہ اگر ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو میں لڑونگااور اپنے فکری دوستوں کے ساتھ دونگا۔ مجھے فوج کے سبی کے کرنل کی طرف تین چار بار پیغام موصول ہوا کہ تم آﺅ خود کو پیش کرو۔ ان کہنا تھا ہم تمہیں زور زبردستی بھی گرفتار کرسکتے ہیں، لیکن میرا جواب تھا کہ آپ مجھے زبردستی گرفتار کرسکتے ہو لیکن میں خود نہیں آﺅنگا۔ پھر انہوں نے مجھے گرفتار کرلیا۔
جب میں جیل میں تھا تو اس دوران بی ایل ایف بنالیا گیا تھا، بنانے والوں میں سدو مری، رحمدل مری، قمبر اور دوسرے دوست شامل تھے اور غلام محمد و دوسرے دوستوں نے بی این ایم بھی بنالیا تھا۔ جب میں رہا ہوگیا، تو یہ تنظیمیں بنی ہوئی تھی۔
دی بلوچستان پوسٹ: حالیہ دنوں میں ہمیں براہمدغ بگٹی کے 27 مارچ کے حوالے سے متنازعہ موقف پر بہت سے سوالات اٹھتے نظر آئے اور اس بابت خوب بحث چھڑی۔ کیا آپ براہمدغ بگٹی کے موقف سے اتفاق رکھتے ہیں؟
عبدالنبی بنگلزئی: براہمداغ بگٹی کا 27مارچ حوالے سے بیان بالکل درست عمل نہیں تھا، اس حوالے سے میں نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاریخی حوالے سے یہ موقف درست نہیں ہے بلکہ اس وقت اس مسئلے کو ایسے متنازع کرکے پیش کرنا جہد کے سمت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ میں براہمداغ بگٹی کے موقف سے اتفاق نہیں کرتا ہوں اور اس بابت بہت سی وضاحتیں بھی سامنے آئیں۔ میں نے جن باتوں کا اظہار کیا تھا، ان نکات پر پھر بہت سے دانشوروں سمیت مختلف لوگوں نے زیادہ واضح صورت میں ثبوت پیش کرکے، تاریخی حوالا جات بیان کرکے بہت واضح انداز میں براہمداغ کے موقف کو غلط قرار دیا۔ میں ان دانشوران کی آراء سے اتفاق رکھتا ہوں۔ براہمداغ بگٹی ہمارے ایک نامور رہنما ہیں، انہیں یہ موقف اپنانا نہیں چاہیئے تھا۔ اب ان کو چاہیئے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کرکے اپنے موقف کی تصحیح کریں۔

میر عبدالنبی بنگلزئی بلوچ سیاسی اور قبائیلی حلقوں میں عزت کا مقام رکھتے ہیں
دی بلوچستان پوسٹ: حالیہ دنوں ہمیں قومی تحریک کے حوالے سے دو اتحادیں دیکھنے کو ملیں، ایک اتحاد بی ایل اے اور بی ایل ایف کی شکل میں جس میں بعد ازاں بی آر جی بھی شامل ہوا اور دوسری اتحاد لشکر بلوچستان، یو بی اے اور بی آر اے کی صورت میں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان اتحادوں کو وسعت، تقویت اور طوالت دینے کیلئے کیا اقدامات ضروری ہیں تاکہ انکا انجام ٹوٹ پھوٹ پر نا ہو؟
عبدالنبی بنگلزئی: اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ تشکیل پاتے اتحاد خوش آئیند پیشرفت ہیں۔ چاہے یہ اتحاد بی ایل ایف، بی ایل اے اور بی آر جی کے درمیان ہو یا بی آرے، یوبی اے اور لشکر بلوچستان کے درمیان ہو۔ ان اتحادوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور سب کا اتحاد کی صورت میں ایک ہونا آج قومی ضرورت ہے۔ ایک بات ہمیں ذہن نشین کرنا چاہیئے کہ اتحاد محض اپنے مخصوص مفادات کے لیئے نہیں بلکہ قومی ضرورتوں، قومی اجتماعی مفادات اور ایک ہونے کیلئے ہونا چاہیئے۔ اگر ہم خود کو ایک قوم کہتے ہیں، تو ہمیں اس سرزمین اور اس کی آزادی کے ساتھ وفادار ہونا ہوگا۔ ہمارے درمیان ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے، جو قابلِ حل نا ہو۔ اگر کوئی سوچ یا غلط فہمی پیدا ہو تو پھر اس پر بیٹھ کر بات کریں۔ جو راستہ ہمارے لیئے بہتر ہو، اسی راستے کو اپنایا جائے۔ ان اصولوں کوطے کرنے کی ضروت ہے تاکہ اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں بلکہ اور وسعت پاکر ایک تنظیم بننے کی جانب بڑھیں۔ بلوچوں کی ایک نمائیندہ تنظیم کی تشکیل ہم سب کا دیرینہ خواہش اور قومی تحریک کی ضرورت رہا ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں مخلصی کے ساتھ محنت کرنا ہوگا۔ سنگل پارٹی کا خواب شہید نواب اکبر خان بگٹی اور نواب خیربخش مری دونوں کا مشترکہ ایک خواب رہا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: ہمیں مسلح محاذ پر کسی نا کسی حد ایک چھوٹے دائرے میں ہی اشتراکِ عمل کے صورت میں ایک اتحاد نظر آتا ہے، لیکن سیاسی محاذ اور بیرونی ملک سفارت کاری حوالے سے ابتک پیشرفت صفر ہی ہے۔ اس حوالے سے کوئی مشترکہ محاذ کی ابتدائی شکل بھی نظر نہیں آتی، اس دہرے معیار کی وجہ آپ کیا سمجھتے ہیں؟
عبدالنبی بنگلزئی: اس حوالے سے بہت زیادہ بات ہوئی ہے کہ ہمارے سفار تکاری کے لئے مہارت، کوالٹی اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بے غرض خدمت ہے، جہاں اپنے ذات سے نکل کر خلوصِ نیت کیساتھ کام کرنا پڑے گا۔ ہمیں ایک اتحاد اور مشترکہ قوت تشکیل دینا پڑیگا، کیونکہ دنیا آپ کی طاقت اور اپنے مفادات کو دیکھتی ہے۔ اگر آپ ایک طاقت بن گئے، تو ہرکسی کو دکھے گا کہ میرا اس سے کوئی مفاد پورا ہوسکتا ہے۔ اگر آپ منتشر شکل میں کچھ کرینگے، تو آپ کسی کے نظر میں نہیں آئینگے اور کوئی آپ کا خیال بھی نہیں رکھے گا اور نا ہی آپ کسی کی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہونگے۔ جب آپ کسی کی ضرورت پورا نہیں کرسکیں گے، تو کوئی آپکی بھی ضرورت پورا نہیں کرے گا۔ اگر آپ کی کوئی کامیابی ہوگی، تبھی دنیا دیکھے گی کہ اسے آپ سے کتنا فائدہ ہوسکتا ہے۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں ہمارے حق میں اس وقت تک گو کہ کچھ چیزیں جارہی ہیں، مگر ہماری سفارت کاری قدرے ناقص ہے۔ وہ فائدہ مند یا نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہا ہے۔ نتائج مکمل مایوس کن بھی نہیں ہیں، مطلب ہماری سفارت کاری بین الاقوامی اداروں میں آج موجود ہے۔ پہلے ہمیں سننے کے لیئے کوئی تیار نہیں تھا اور آج پاکستان اپنی کوشش کررہا ہے کہ ہمیں عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرنے سے روکے لیکن ہماری قدرے کامیاب سفارت کاری کے بدولت آج دنیا کہہ رہی ہے کہ انہیں بات کرنے دیا جائے۔ اب یہ ہمارے سوچ و فکر پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح متحد ہوکر اس سے آگے بڑھیں اور دنیا کے سامنے خود کو منوانے میں کامیاب ہوجائیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ پانچ دہائیوں سے ایک کمزور کے حیثیت سے ایک طاقتور دشمن کے ساتھ لڑرہے ہیں، اس دوران تقریباً ایک دہائی تو آپ نے جیل و زندان میں گذار دی، اب آپ بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی آپ رکے نہیں ہیں، وہ کونسی سوچ یا یقین ہے جو آپکو ہار ماننے نہیں دیتی اور جیت پر آپکا ایقان پختہ کیئے ہوئے ہے؟
عبدالنبی بنگلزئی: میں ہمیشہ سے تاریخ کا عمل دیکھتا آیا ہوں، تاریخ ہمیشہ آگے بڑھتی ہے، میں یہ دیکھتا ہوں کہ اگر میں بوڑھا ہوتا ہوں تو کوئی نوجوان میری جگہ لینے موجود ہے۔ آج ہماری قوم میں شعورزیادہ وجود رکھتی ہے، جس سے کامیابی پر میرا یقین اور زیادہ پختہ ہو جاتا ہے۔ دوسری سچائی یہ ہے کہ میری قوم و ملک غلام ہیں، تو یہ میرے فرائض میں شامل ہے کہ اس ظلم و ناانصافی کے خلاف مجھ سے جو بھی ہوپاتا ہے وہ کروں، میرا بڑھاپا یا بیماری مجھے میرے فرائض سے استثنیٰ نہیں دیتے اور سرینڈر کرنا کوئی زندگی نہیں ہے۔
یہ میرا یقین ہے کہ بطور قوم آج نہیں تو کل ہم سمجھ جائینگے کہ تاریخ کا عمل بہتری اور کامیابی کی طرف جاتا ہے۔ گو کہ میں جسمانی حوالے سے بوڑھا ہوچکا ہوں، لیکن میرے نظریے اور یقین نے مجھے فکری صورت میں کبھی بوڑھا ہونے نہیں دیا بلکہ آج میرا یقین پہلے سے بھی زیادہ پختہ ہوچکا ہے کیونکہ آج کامیابی کے آثار مزید نمایاں نظر آرہے ہیں۔ مجھے کوئی مایوسی نہیں ہے، میرا یقین ہے اب یہ تحریک کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: یقیناً آپ نے اس طویل سفر کے دوران بہت سے نشیب و فراز دیکھے، اپنے ان تجربات سے آپ نے وہ کیا سیکھا جو ایک بات آپ چاہیں گے کہ سارے بلوچ نوجوانوں کو منتقل ہوجائے؟
عبدالنبی بنگلزئی: میں اس مقام پر نہیں ہو کہ کسی کو کوئی سبق دے سکوں یا کوئی ایسی سبق آموز بات کہہ سکوں۔ میں نے خود جس رستے کو اپنایا وہ یہ کہ ہمیشہ اپنے مقصد پر یقین رکھیں اور اس پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں، کسی بھی حالت میں مایوسی کو اپنے گرد بھٹکنے نا دیں، اور یقین رکھیں کہ تاریخ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر یقیناً کامیابی ہماری ہوگی۔
دی بلوچستان پوسٹ: میر عبدالنبی کی جنگ ایک کیسے بلوچستان کیلئے ہے؟
عبدالنبی بنگلزئی: ایک ایسا آزاد، متحدہ بلوچستان جس میں ہر فرد کو برابری کا احساس ہو۔ میں ایک “فری یونائیٹڈ ڈیموکریٹک بلوچستان” چاہتا ہوں۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ تاریخ میں کیسے الفاظ کیساتھ یاد رکھے جانا چاہیں گے؟
عبدالنبی بنگلزئی: ظاہر ہے لوگ ایک دوسرے سے سیکھتے اور سمجھتے ہیں، شعور صرف باطنی نہیں بلکہ ایک خارجی حاصل بھی ہے۔ نیلسن منڈیلا سے جب یہی سوال پوچھا گیا تھا تو انکا جواب تھا کہ کہا جائے “وہ ایک ایسا انسان تھا، جس نے اپنا فرض پورا کیا۔“ نیلسن منڈیلا نے اپنے قوم کو آزاد کرکے اپنا فرض پورا کیا، لیکن میرے فرائض کی ابھی تک تکمیل نہیں ہوپائی ہے۔
اگر میری قوم، میرے مرنے کے بعد مجھے بس ان الفاظ کیساتھ یاد رکھ پائی کہ “وہ ایک ایسا انسان تھا، جو پوری زندگی اپنے موقف و نظریئے پر اٹل رہا۔” تو یہی میرے لیئے ایک بہت بڑے اعزاز سے کم نہیں۔

Exclusive interview with Kamal Baloch, Senior Vice Chairman BSO-A

Exclusive interview with Kamal Baloch, Senior Vice Chairman BSO-A

Kamal Baloch is Senior Vice Chairman of Balochistan’s largest and most popular student organisation called BSO-Azad. While Mr. Baloch was a student of MA Sociology in University of Balochistan, he was ‘kidnapped’ and tortured for 3 months in Pakistani military torture cells. He had to discontinue his education. In November 2015 Mr. Baloch was elected as Senior Vice Chairman of BSO-Azad during the central council session of the organisation.
The Balochistan Post recently conducted an exclusive interview with the student leader, which is published here for the interest of its readers.
The Balochistan Post (TBP): Why the Baloch students have always been attracted towards nationalist slogans and they have been comparatively more politically active than the students from neighbouring nations?
Kamal Baloch (KB): First of all I would like to thank you for taking our opinion. I now come to your question, which is about students or the brave sons of a slave nation who are tirelessly facing the difficulties of an enslaved society. In such societies, students face numerous types of hardships, every child that is born in a Baloch home under this tyrannical state is born with numerous shackles. Getting education in Balochistan is no less than a war as students are subjected to daily humiliation and torture at the hands of Pakistani security forces.
Baloch are owners of a land that is full of natural resources including a very long coastline. However, despite such wealth of natural resources Baloch live a life that is deprived of even the very basic necessities. The public infrastructure including schools and hospitals lack the very basic resources.
It will not be wrong to say that we are living a life of continuous captivity. Pakistan forcefully occupied Balochistan on 27th March 1948. The people of Balochistan have since been forced to live under colonialism, which has resulted in many socio-political issues and stagnation of society’s development. To an extent that Baloch are not even allowed to learn their mother languages Brahvi and Balochi. Whereas, foreign languages like Urdu, Arabic or English are imposed upon us.
In nutshell each Baloch has to confront many risks to his life on daily basis and with this you can easily judge what hardships the Baloch students have to face in Balochistan. This has attracted many Baloch students to struggle for the emancipation of their motherland.
TBP: According to reports scores of Baloch students have gone missing including many from your organisation, is it true?
KB: Yes, that is correct. There are hundreds of Baloch students who have forcefully been disappeared by Pakistani Army in broad daylight. Many of these students have been torture murdered in detention cells, whereas, hundreds are still missing.
Many members of our organisation have also been subjected to this brutality. These include senior leadership of our organisation as well as ordinary members. Secretary General of BSO Raza Jahangir, former Senior Vice Chairman Sangat Sana Baloch, Agha Abid Shah, Shafi Baloch, Kambar CHakar Baloch, Iliyas Nazar, Farid Baloch, Wahid Balaach, Majid Baloch, Hasil Baloch, Shah Nawaz, Ijaz Baloch, Kumar Baloch, Shakir Balohc, Sadiq Baloch, Siraj Baloch and many others have been killed in last few years. Since 2005 our members have faced the wrath of Pakistani Army on daily basis only because BSO activists have tried to raise awareness amongst Baloch youth. Baloch are proud owners of a civilisation that dates back to thousands of years and hold a political ideology enriched liberalism and progressiveness that an extremist state like Pakistan is unable to tolerate ever.
The latest examples of this barbarism are the recent abductions of Central Secretary General of BSO-Azad Sanaullah Baloch and Central Committee members Naseer Baloch, Hassam Baloch and BNM activist Rafiq Baloch who were abducted on 15 November 2017. They are still missing. Another alarming case is that of enforcedly disappeared students from Karachi that include children too. Ulfat Baloch, Fareed Baloch, Nawaz Atta and Ilyas Baloch were all arrested and taken away from Karachi. Similarly three activists Tariq Baloch, Abdul Samad and Jaffar Sanjarani went missing missing from Tump, an area of district Turbat in Balochistan. Sajid Baloch from Panjgur and teenager Asim Baloch from Turbat who are secondary school students were recently taken away by Pakistani forces.
Whereas, BSO-A leaders like former Vice Chairman Zakir Majeed, former Chairman Zahid Baloch, Information Secretary Shabir Baloch, Aftab Baloch, Sammi Mengal, Mushtaq Baloch, Irshad Baloch and many others are missing who are with certainity languishing in military detention centres, some for many years now.
All these abductions are to suppress and subjugate the Baloch youth from raising socio-political awareness as the Pakistani state is well aware that if this happens the general public will rise for their rights.
TBP: It is said that CPEC has the capacity to change the life of the common Baloch, why it is opposed by the nationalist forces if that is truee?
KB: CPEC is an imperialistic project imposed upon Baloch nation by Pakistan and China. This exploitative project has already displaced thousands of Baloch people. As soon as this project was initiated, Pakistani Army forcefully evacuated many Baloch hamlets and villages on the route of this China funded multi-billion dollar project. Same as the Gwadar port project, where thousands were displaced for the so-called economic prosperity but in reality the local inhabitants now cry for a drop of water.
CPEC is just a strategic move by China to increase its military might in the region and utilise Baloch coast to convey a message to the world. China has stirred regional imbalance and is a threat for the South Asian countries.
For securing CPEC project and its route, Pakistan is engaged in a brutal operation in Balochistan which has compelled thousands of Baloch people to migrate and live as refugees in different parts of Balochistan, Sindh and Punjab. A large number has even migrated to Afghanistan to secure their lives.
However, we believe CPEC will never get accomplished as Baloch have always resisted against foreign intruders. Baloch nation has never allowed alien powers to use its land against the global peace.
TBP: There is an argument that Baloch should contest elections and raise their demands through provincial government. What is your opinion?
KB: We consider the so-called provincial government in Balochistan as puppets of Islamabad and it does not represent the Baloch nation. The so-called political parties that participate in this setup are hands in gloves with Pakistani state to carry out inhuman armed operations against Baloch populace. These groups are being used by Pakistani state to further its exploitative projects in the region.
Baloch nation has time and again boycotted this so-called setup because no person in its sane mind will become part of a structure where policies to commit genocide against its people are made.
The elections of 2013 are a very concrete evidence of how Baloch has rejected anything to do with the Pakistani setup. The so-called candidates could only amass hundreds of votes in constituencies where the electorate consisted of tens of thousands voters. But even then the Pakistani state selected few of its agents to make a dummy provincial assembly. Just in span of 5 years they had to change the Chief Minister three times. Initially the selected Dr. Malik followed by Sanaullah Zehri and now they are using Abdul Qudoos Bizenjo. All of these are used as tissue papers and will be disposed off once they are deemed no more useful. How can Baloch be part of such a sham mechanism?
BSO-Azad has very clear policies of not becoming part of any setups that are aimed at exploiting our motherland Balochistan.
TBP: BSO certainly has a long history which can be traced back to 1967 but when and why BSO Azad was formed?
KB: BSO Azad, founded by Baloch leader Dr Allah Nazar and his colleagues in January 2002, is a peaceful organisation that educates Baloch students and youth about their rights and the Baloch freedom movement. BSO-Azad is proud to enjoy trust and love of Baloch nation. Afraid of its popularity, Pakistani state has proscribed BSO-Azad, otherwise, there is no BSO-A activity that warrants proscription.
We believe this ban doesn’t carry any meaning as the relation of Baloch nation and Pakistan is that of a master and slave.
TBP: How can the problem of Balochistan be resolved?
KB: In my opinion it is very simple to resolve  Balochistan’s problem. Pakistan has to realise that Balochistan has neither been de jure nor de facto part of Pakistan. It has to admit that Balochistan has been occupied against the will of Baloch nation. Transferring the ownership back to Baloch nation of its ancestral lands is the only longterm solution to Balochistan’s problem.
Obviously the entry of China and CPEC have complicated the issue as with it an influx of millions of foreigners is foreseen. This will convert Baloch nation a minority on its own land. Therefore, Baloch nation has accelerated its resistance against this project as was done against General Musharaf’s Gwadar port project.

بزرگ آزادی پسند رہنما قادر مری کا دی بلوچستان پوسٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو

بزرگ آزادی پسند رہنما قادر مری کا دی بلوچستان پوسٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو

قادر مری اس وقت بلوچ تحریک آزادی کے بزرگ ترین رہنماوں میں سے ایک ہیں اور ایک تجربہ کار گوریلا کمانڈر ہیں، وہ گذشتہ پچاس سال سے زائد عرصے سے بلوچستان کی آزادی کے جنگ کا حصہ ہیں۔ قادر مری کا شمار مرحوم نواب خیربخش مری کے با اعتماد رفقاء میں ہوتا تھا۔ ستر کی دہائی میں شروع ہونے والی بلوچ تحریک ہو، بھٹو دور حکومت میں ایران و پاکستان کی بلوچستان میں مشترکہ وسیع فوجی آپریشن ہو، بلوچوں کا افغانستان ہجرت ہو یا پھر واپسی اور ایک نئے تحریک کی بنیاد اور بلوچ لبریشن آرمی کے نام سے دوبارہ گوریلا جنگ کا آغاز ہو۔ قادر مری اس پورے دورانیے کے ایک اہم کردار رہے ہیں۔ وہ خود خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہونے کے بعد دو سال اذیت بھی برداشت کرچکے ہیں، اس دوران اپنے خاندان کے درجنوں افراد کی شہادت بھی دیکھ چکے ہیں۔
جب 2010 میں بلوچ لبریشن آرمی اندرونی خلفشار کا شکار ہوا، تو مرحوم نواب خیربخش مری نےاپنے قابلِ اعتماد ساتھیوں کے ساتھ خود کو بی ایل اے سے الگ کرکے یو نائیٹڈ بلوچ آرمی کا نام دیا، ان ساتھیوں میں قادر مری بھی شامل تھے۔ تب سے قادر مری یو بی اے کے سینئر کمانڈر کے حیثیت سے بلوچ آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔
گذشتہ دنوں دی بلوچستان پوسٹ کے نمائیندہ خصوصی نے قادر مری سے بلوچستان میں ایک نامعلوم مقام پر ملاقات کی اور بلوچ سیاست، مزاحمت اور بلوچ تنظیموں کے آپسی تعلقات کے بابت انکی رائے جانی۔ جو تحریری شکل میں دی بلوچستان پوسٹ میں شائع کی جارہی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: آپ پچاس سال سے تحریک آزادی کا حصہ ہیں اور جہدکاروں کی تیسری نسل دیکھ رہے ہیں۔ اس پورے دورانیے پر ایک نظر ڈال کر آپ دیکھتے ہیں تو آپکو بلوچ تحریک کا ماضی سے مستقبل کا یہ بتدریج سفر، مثبت یا پھر منفی سمت میں گامزن دکِھائی دیتی ہے؟ ایسا تو نہیں تبدیلی شاید ٹیکنالوجی میں آئی ہو لیکن بلوچ وہیں کا وہیں کھڑا ہے؟
قادر مری: میرے نقطہ نظر کے مطابق بلوچ قومی تحریکِ آزادی مثبت سمت میں جارہی ہے، جہاں تک ٹیکنالوجی کا تعلق ہے، تو بلوچ اس سے ضرور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ میرے نزدیک، اب بلوچ قوم فکری، سیاسی و نظریاتی طور پر بہت زیادہ پختہ ہوچکے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: یہ طویل پرکٹھن جنگ، وسائل میں تنگدستی، طاقتور دشمن، اپنوں کی ستم ظریفیاں بلوچ یہ جنگ کیسے جیت سکتا ہے؟
قادر مری: تحریک آزادی کی جنگ پرکٹھن اور مشکل ضرور ہےلیکن تنگدستی اور طاقتور دشمن بلوچ قومی تحریک آزادی کیلئے کوئی مشکل نہیں۔ اب بلوچ قومی نظریات پختہ ہوچکے ہیں۔ دشمن کو شکست دینا کوئی مشکل بات نہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: ایک عمومی رائے جِسے دشمن اور کبھی کبھی دوست بھی عام کرتے آئے ہیں کہ ” یہ مری تو قبائلی ہیں، اپنے سردار کی خاطر لڑرہے ہیں” اسی تاثر کو آپ یعنی قادر مری کے بارے میں بھی کافی ابھارا گیا ہے کہ ” قادر مری ایک کٹر قبائلی شخص ہے، بس سردار کے ساتھ ہے” آپ اس تناظر میں قبائیلیت اور قومپرستی کے فرق اور مابین تعلق کو کیسے واضح کریں گے؟
قادر مری: بلوچستان کی سرزمین پر بلوچ واقعی قبیلوں کی صورت میں آباد ہیں لیکن بلوچ قوم نظریاتی طور پر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا مری قبیلہ اپنے سردار کی خاطر یہ جنگ لڑرہا ہے؟ کیا مری قبیلے کا نواب خیربخش مری اپنے قبیلے کی خاطر جنگ لڑرہا تھا یا پھر پوری بلوچ قوم کی آزادی کی جنگ میں سر فہرست تھا؟ بلوچ قومی تحریک آزادی میں مری یا کسی اور قبیلے کی سیاسی جنگ کو قبائیلیت کا رنگ دینا دشمن کی پالیسی ہے۔ اگر کوئی دوست، فرد یا قبیلے کی جدوجہد کو قبائلی بنیادوں پر دیکھ رہا ہے تو پھر شاید وہ اس کی نظریاتی نا پختگی ہے یا پھر وہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے یہ سمجھ رہا ہے۔ یہ جنگ سیاسی ہے اور بلوچ قوم کے بقا کی جنگ ہے، اس جدوجہد کا قبائیلیت سے کوئی تعلق نہیں، اگر یہ لوگ قبائلی ہوتے تو پھر اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات پر کام کرتے نا کہ پوری قوم کی آزادی کیلئے لڑتے۔
کیا میں یعنی قادر مری نے گذشتہ پچاس سال اپنے قبیلے کی خاطر جنگ لڑی؟ کیا میں نے بلوچوں کو قبائیلیت کی طرف راغب کیا یا پھر بلوچ قومی تحریک کا درس دیا؟ یہ سب بلوچ قوم کے سامنے عیاں ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: جب موجودہ تحریکِ آزادی کا آغاز ہوا، تو آپ خود بی ایل اے سے تعلق رکھتے تھے اور اسی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرتے رہے، لیکن بعد ازاں آپ ان رہنماوں میں شامل ہوئے جنہوں نے بی ایل اے سے جدا ہو کر یونائیٹڈ بلوچ آرمی تشکیل دی۔ بی ایل اے کے ہوتے ہوئے، آپ کو یو بی اے بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
قادر مری: واقعی، میں نے بلوچ قومی تحریک آزادی کی خاطر بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے کام کیا اوربعد میں بی ایل اے کی قیادت نے نواب خیربخش مری سے نظریاتی و سیاسی اختلافات رکھے، ان اختلافات کی وجہ سے نواب صاحب نے بلوچ قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے صلاح و مشورے کے بعد یونائیٹڈ بلوچ آرمی تشکیل دی۔
دی بلوچستان پوسٹ: بی ایل اے سے الگ ہونے کے علاوہ آپ اور آپکی تنظیم پر ایک طبقے کی طرف سے بار ہا “مڈی چوری” کا الزام لگتا آرہا ہے، یعنی بی ایل اے کے جنگی وسائل پر قبضہ کرنے کا، ان الزامات کی حقیقت کیا ہے؟
قادر مری: میرے اور میرے تنظیم کے پاس کسی کی ذاتی مڈی نہیں تھی، میرے پاس جو بھی جنگی سازو سامان تھا، وہ بلوچ قوم کا تھا۔ یو بی اے کے پاس موجود جنگی سازو سامان بلوچ قومی مڈی ہے، کسی فرد یا بی ایل اے کا نہیں ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپکی نظر میں بی ایل اے کے ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی اور اس عمل کا حقیقی ذمہ دار کون ہے؟
قادر مری: میری نظر میں بی ایل اے کے ٹوٹنے کی اصل وجہ ان کے اندر سیاسی نا پختگی اور نا تجربہ کاری ہے اور اس ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہونے کا اصل ذمہ دار انکی مرکزی قیادت ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: بابا خیربخش مری کے رحلت کے بعد بی ایل اے اور یو بی اے کے بیچ اختلافات کی نوبت جنگ تک آ پہنچی، جس میں جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اس کی ذمہ داری بی ایل اے یوں یوبی اے پر لگاتی آرہی ہے کہ یو بی اے نے انکے سرمچاروں کے راستے میں مائن کاری کی تھی، اس کی حقیقت کیا ہے؟
قادر مری: جنگ کا پہل بی ایل اے کی طرف سے ہوا تھا، بعد میں اپنا دفاع ہر فرد، ہر انسان اور ہر تنظیم کا حق ہے۔ چاہے وہ مائن کاری کی صورت میں کیوں نا ہو۔
دی بلوچستان پوسٹ: یو بی اے اور بی ایل اے کے بیچ خانہ جنگی یقیناً بلوچ قومی تحریک آزادی کے سیاہ ابواب میں سے ایک ہے، آپ اس وقت بھی یو بی اے کے ایک سینئر کمانڈر تھے۔ کیا یہ خانہ جنگی روکی نہیں جاسکتی تھی؟ کیا آپ خود کو ذمہ دار نہیں سمجھتے کہ باقیوں کی طرح آپ نے بھی اس جنگ کو روکنے کی کافی کوششیں نہیں کئیں؟
قادر مری: میری رائے کے مطابق یو بی اے کے مخلصانہ پالیسیوں کی وجہ سے یہ جنگ طویل ہونے کے بجائے یہاں رک گئی، یو بی اے کے مخلص ہونے کی وجہ سے بی ایل اے اور یو بی اے کے درمیان جنگ کا تصفیہ ہوگیا۔
دی بلوچستان پوسٹ: بی ایل اے اور یو بی اے کے مابین جاری جنگ کی موجود صورتحال اب کس نہج تک پہنچی ہے؟
قادر مری: یو بی اے اور بی ایل اے کے بیچ جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے، یو بی اے پہلے بھی اتحاد کیلئے تیار تھا اور آج بھی آزادی پسندوں کے ساتھ اتحاد کیلئے تیار ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ : آج ہم دیکھتے ہیں کہ بی ایل اے ایک بار پھر ان بحرانوں کا شکار ہوچکی ہے، جسکی وجہ سے پہلے ہی وہ دو حصوں میں ٹوٹ چکا تھا، اب بی ایل اے کی داخلی کشیدگی دوبارہ تنظیم کو تقسیم کرنے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ آپ بی ایل اے کو درپیش ان حالات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کیونکہ اسی طرح کے حالات سے آٹھ سال پہلے آپ بھی گذر چکے ہیں؟
قادر مری: میرے خیال میں، اس مسئلے کو سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ یہ بی ایل اے کا اندرونی معاملہ ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپکی نظر میں حقیقی وجہ کیا ہے اور کمزوری کہاں ہے، جس کی وجہ سے بی ایل اے بار بار ایسے بحرانوں سے دوچار ہوتی ہے؟
قادر مری: بلوچ قوم کے سیاسی مقصد اور بلوچ قوم کی نفسیات سے نا واقفیت کی وجہ سے بی ایل اے ایسے بحرانوں سے دو چار ہورہا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: میڈیا میں جاری آپکے گذشتہ چند پیغامات میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اتحاد کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دے رہے ہیں، اسکی وجہ کیا ہے کہ آپ کو بلوچ تحریک میں اتحاد کی اتنی اشد ضرورت محسوس ہورہی ہے؟
قادر مری: اتحاد کے بغیر ہم اپنے عظیم مقصد آزادی کو حاصل نہیں کرسکتے، بین الاقوامی حالات کی وجہ سے اس وقت بلوچ قوم کو اتحاد کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ اب اتحاد کا وقت آچکا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: ہم بلوچ تحریک میں بارہا دیکھ چکے ہیں کہ تمام رہنما ایک ایک کرکے اتحاد کیلئے اپیلیں کرتے ہیں اور ظاھر کرتے ہیں کہ وہ تیار ہیں اور باقیوں کو دعوت دیتے ہیں لیکن اسکے باوجود اتحاد کجا بس تقسیم در تقسیم ہی دِکھائی دیتی ہے۔ اسکی وجہ کیا ہے؟ اگر سب تیار ہیں تو پھر یہ اتحاد ہوتا کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اتحاد کی یہ دعویں نیک نیتی کے بجائے سیاسی پوائینٹ اسکورنگ ہی ہیں؟
قادر مری: باتیں کرنے اور اپیلیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، اتحاد کرنے کیلئے نیک نیت عمل کی ضرورت ہے، میری نظر میں کچھ دوست اپنے سیاسی مورچے کو کچھ انچ بلند کرنا چاہتے ہیں، جو ایک سیاسی ریسنگ ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: بلوچ قوم اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ریاست کے خلاف برسرِپیکار ہے۔ کیا اس جنگ کا جیتنا ممکن ہے؟ 
قادر مری: جتنا آپ اس ریاست کو طاقتور سمجھتے ہیں، یہ اتنا طاقتور نہیں ہے۔ بندوق کبھی نظریات کو شکست نہیں دے سکتا لیکن نظریات ہمیشہ سے بندوق کو شکست دیتے آئے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: علاقائی اور عالمی تبدیلیاں تجزیہ کار خیال کرتے ہیں کہ بلوچ کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں لیکن جائزہ لیا جائے تو بلوچ ان تبدیلیوں سے خاطر خواہ فوائد حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ آپکے خیال میں ایسا کیوں؟
قادر مری: میرے خیال میں علاقائی و عالمی حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن جب تک بلوچ قوم ایک اتحاد کی صورت میں نا رہیں گے تب تک ہم علاقائی و عالمی حالات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
دی بلوچستان پوسٹ: کچھ تجزیہ کار خیال کرتے ہیں کہ سی پیک بلوچ قوم کیلئے مرگ کا سامان ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بلوچ آزادی پسند اس بابت کوئی موثر مزاحمتی یا سیاسی لائحہ عمل اب تک سامنے نہیں لاسکے ہیں۔ ایک تجربہ کار جہدکار ہونے کے ناطے آپکے خیال میں اس بارے میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہیئے؟
قادر مری: ہاں واقعی، سی پیک بلوچ قوم کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ بلوچ قوم اپنی جنگی و دفاعی حکمت عملی اپنے سامنے رکھتے ہوئے دو بڑی طاقتوں چین اور پاکستان کے ساتھ شدید مزاحمت کررہے ہیں۔ مسلح اور غیر مسلح دونوں صورتوں میں۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ بحثیتِ ایک فرد قادر مری ایک کیسا آزاد بلوچستان چاہتے ہیں؟ ایک کیسے آزادی کیلئے پوری زندگی لڑتے آئے ہیں؟
قادر مری: میں بحثیت ایک فرد قادر مری بلوچ ایک سوشلسٹ آزاد بلوچستان چاہتا ہوں۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ نے پوری زندگی بلوچ تحریک پر وقف کردیا اور اس وقت آپ بلوچ تحریک کے بزرگ ترین رہنما یا کمانڈروں میں سے ایک ہیں، اس طویل دورانیے میں کیا کوئی ایسی چیز ہے، جِس کا آپکو پچھتاوا ہے یا اسے آپ اپنی ناکامی کہیں گے؟
قادر مری: میری طویل زندگی میں، جو بھی میں نے بلوچ قومی تحریک آزادی کیلئے کام کیئے ہیں، مجھے کوئی پچھتاوا یا ناکامی محسوس نہیں ہوا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: قومی آزادی کے اس طویل جدوجہد میں، یقیناً ہر ساتھی کا بِچھڑنا ایک صدمہ ہے اور آپ نے یقیناً بہت سے دوستوں کے قربانیوں کا زخم سینے پر سہا ہے، کوئی ایسا ساتھی جِس کی کمی آپ کو سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے؟
قادر مری: بلوچ قومی آزادی کی خاطر جو بھی بلوچ پیر، ورنا، ماں، بہن ناپاک ریاست کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں، میرے دل و دماغ میں آج تک ان تمام بلوچ شہداء کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: آپ قوم کے خاص طور پر بلوچ نوجوانوں کے نام کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
قادر مری: میں بلوچ قوم اور اپنی ماوں اور بہنوں خاص کر نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پنجابی ریاست اور انکے حواریوں سے ہشیار رہیں اور مخلصانہ طور پر اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کی آزادی کی خاطر وقف کردیں۔

Latest Dr Allah Nazar Baloch interview to Indian media sunday guardian live

Latest Dr Allah Nazar Baloch interview to Indian media sunday guardian live




The elusive leader of a major rebel group fighting for the independence of Balochistan, Dr Allah Nazar Baloch has gained iconic status in Balochistan province. In his first interview to any Indian media organisation, the head of the Balochistan Liberation Front (BLF) said over phone from an undisclosed location that Kulbhushan Jadhav was never arrested from Chaman on the Afghanistan-Pakistan border, contrary to the claims made by Pakistan. According to him, Jadhav was picked up by mercenaries and smugglers from Chabahar in Iran, and then sold to a terrorist group, which, in turn, sold him to ISI.

Q: You are the only leader who is fighting for an independent Balochistan while staying in Balochistan. The other leaders are in “exile”. How do you justify your armed struggle, in which, as per your own admission, 2,000 Pakistani security personnel have been killed?

A: Not only me, but my colleagues, who are on the ground, are also fighting for a free Balochistan. We cannot achieve freedom for Balochistan without an armed struggle. The Baloch have no other way because the colonial powers and the rest of the world only hear the roar of the gun. I cannot say that only 2,000 army men have been killed, but I can say that my nation (Balochistan) has adopted its own culture and language (to deal with Pakistan).

Q: Why is the Balochistan Liberation Front (BLF) against CPEC when Pakistan and China both claim that it will bring prosperity to Balochistan?

A: The Baloch nation is not only against the CPEC, but also against all the imperialistic projects that are against Baloch interest. The CPEC may bring prosperity for Punjab, but the Baloch will suffer from a demographic change and this project will bring a level of disasters that we cannot even imagine.

Q: You had recently tweeted that Indian national Kulbhushan Jadhav was kidnapped by the ISI and Saudi backed terrorist group Jaish-ul-Adl and Mulla Omar of the Jundallah group. Can you share more details on this? Is this a substantiated truth? When was he kidnapped and why?

A: Yes, Pakistani ISI is backing the Jaish-ul-Adl, and Saudi Arabia is financing both the Jundullah and Jaish-ul-Adl. Both are carrying out terrorist activities in the region and they were also involved in the abduction of the Indian national from Chabahar, Iran.

According to our sources, the Indian national was never even seen at the Chaman border (Pakistan had first claimed that Jadhav was arrested from Chaman border between Afghanistan and Pakistan). Pakistan had initially claimed that they had arrested him from Chaman border, but later they said that they arrested him from district Washuk, Balochistan. Later, they also involved the Iranian government (in the whole matter), but the Iranian government denied its involvement.

Q: You have also claimed that one of the training camps of the Lashkar-e-Tayyaba is situated in Balochistan. How has this camp not been discovered by the Pakistan army, which carries out regular operations in that region?

A: The Lashker-e-Tayyaba is an asset for the Pakistani army. How can you expect the Pakistani army to discover it? The Lashkar-e-Tayyaba conducts operations against the Baloch freedom movement.

Q: Pakistan has accused you of working with the Indian security agencies. Your comments.

A: I categorically reject this as a false propaganda of the ISI and the military of Pakistan.

Q: India’s Prime Minister Narendra Modi in his Independence Day speech in 2016 raised the issue of Balochistan. Did that lead to any marked changes on part of the Pakistan security establishment in dealing with the Balochistan freedom fighters?

A: We hope that not only India but the entire civilised world will raise their voice for Baloch nation, which is suffering from the worst kind of human crisis. The Pakistani regime has intensified its actions against the Baloch nation, the number of forced disappearances of people is increasing day by day. We hope the international community will take action against Pakistan for the atrocities it is doing in Balochistan.

Q: How serious is the issue of forced disappearances in the region? Are the judiciary and the media not being allowed to do their job there?

A: This is one of the most serious problems which the Baloch are facing today. The repercussions of this will be very disastrous for the region. Regional stability and peace depend on Baloch state’s freedom. We appeal to the civilised world to support the Baloch nation.

بلوچ قوم نے پاکستان کیخلاف جنگ میں اپنی زبان و ثقافت اپنائی ہے...ڈاکٹر اللہ نذربلوچ کا خصوصی انٹرویو

بلوچ قوم نے پاکستان کیخلاف جنگ میں اپنی زبان و ثقافت اپنائی ہے...ڈاکٹر اللہ نذربلوچ کا خصوصی انٹرویو


بھارتی نشریاتی ادارے’’ سنڈے گارجین لائیو ‘‘کیساتھ بلوچ رہنما

ڈاکٹر اللہ نذربلوچ کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: مشرا ابھی نندن

بلوچستان کے آزادی کے لئے لڑنے والے ایک بڑے باغی گروہ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے صوبہ بلوچستان میں ایک غیر معمولی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ بھارتی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ نے نامعلوم مقام سے فون پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس کہا کہ کلبھوشن جادو کو پاک افغان سرحد پر واقع شہر چمن سے گرفتار ہی نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جادو کو ایران کے شہر چابہار سے زرخرید سپاہیوں اور اسمگلروں نے اغواء کیا تھا اور پھر اسے ایک دہشت گرد گروہ کو فروخت کردیا ۔ اس کے بعد انہوں نے اسے آئی ایس آئی کو فروخت کردیا تھا۔

مشرا ابھی نندن: آپ وہ واحد رہنما ہیں جو بلوچستان میں رہتے ہوئے ایک آزاد بلوچستان کے لئے لڑ رہے ہیں۔ دیگر رہنماء ’’جلاوطنی‘‘ میں ہیں۔ آپ اپنی مسلح جدوجہد کو کس طرح سے جواز پیش کرتے ہیں جس میں، بقول آپ کے، آپ لوگوں نے 2000 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ:نہ صرف میں بلکہ میرے ساتھی، جو اپنی سر زمین پر موجود نہیں ہیں، بھی ایک آزاد بلوچستان کے لئے لڑ رہے ہیں۔ مسلح جدوجہد کے بغیر ہم بلوچستان کی آزادی حاصل نہیں کرسکتے۔ بلوچ کے پاس کوئی اور طریقہ نہیں ہے کیونکہ نوآبادیاتی طاقتیں اور باقی دنیا صرف بندوق کی گھن گرج ہی سنتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ محض 2000 فوجی اہلکار ہلاک کیے گئے ہیں، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری قوم (بلوچ) نے (پاکستان سے نمٹنے کے لئے) اپنی ثقافت اور زبان اپنائی ہے۔

مشرا ابھی نندن: بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کیوں سی پیک کے خلاف ہے چونکہ پاکستان اور چین دونوں کا دعویٰ ہے کہ یہ بلوچستان میں خوشحالی لائے گی؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ: بلوچ قوم نہ صرف سی پیک کے خلاف ہے بلکہ ان تمام سامراجی منصوبوں کے بھی خلاف ہے جو بلوچ مفاد کے خلاف ہیں۔ سی پیک شاید پنجاب کے لئے خوشحالی لے آئے، لیکن بلوچ ڈیموگرافیک تبدیلی سے متاثر ہوں گے اور اس منصوبے سے ایک ایسی تباہی آئے گی جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

مشرا ابھی نندن: آپ نے حال ہی میں ٹویٹ کیا تھا کہ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادو کو آئی ایس آئی اور سعودی عرب کی پشت پناہی سے چلنے والے دہشتگرد گروہ جیش العدل اور جنداللہ کے ملا عمر گروپ کی طرف سے اغوا کیا گیا تھا۔ کیا آپ اس کی مزید تفصیلات دے سکتے ہیں؟ کیا یہ حتمی سچ ہے؟ وہ کب اغوا ہوئے اور کیوں؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ: جی ہاں، پاکستانی آئی ایس آئی جیش العدل کی حمایت کررہا ہے اور سعودی عرب جند اللہ اور جیش العدل دونوں کی مالی امداد کر رہا ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں اس خطے میں دہشت گرد سرگرمیاں کر رہی ہیں اور یہی بھارتی شہری کو ایران کے شہر چابہار سے اغوا کرنے میں ملوث تھے۔

ہمارے ذرائع کے مطابق، ہندوستانی شہری کو کبھی بھی چمن کی سرحد پر نہیں دیکھا گیا (پاکستان نے سب سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ جادو کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن کی سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا)۔ ابتدائی طور پر پاکستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسے چمن کی سرحد سے گرفتار کیا ہے، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ اسے بلوچستان کے ضلع واشک سے گرفتار کیا گیا۔ بعد میں انہوں نے ایران کو بھی (اس پورے معاملے میں) شامل کیا، لیکن ایرانی حکومت نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

مشرا ابھی نندن: آپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ لشکر طیبہ کے تربیتی کیمپ بلوچستان میں موجود ہیں۔ کس طرح سے پاکستانی فوج ان کیمپوں کا کھوج نہیں لگا سکی ہے، جس کی طرف سے اس پورے علاقے میں باقاعدگی سے آپریشن کیے جا رہے ہوں؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ:لشکر طیبہ پاکستانی فوج کیلئے ایک اثاثہ ہے۔ آپ پاکستانی فوج سے ان کا کھوج لگانے کی توقع کس طرح سے کر سکتے ہیں؟ لشکر طیبہ بلوچ تحریک آزادی کے خلاف بھی کارروائیاں کرتی ہے۔

مشرا ابھی نندن: پاکستان نے آپ پر بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ آپکی رائے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ:میں واضح طور پر اس کو آئی ایس آئی اور پاکستان فوج کے ایک غلط پروپیگنڈے کے طور پر مسترد کرتا ہوں۔

مشرا ابھی نندن: 2016 کی یوم آزادی کی تقریر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بلوچستان کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ کیا اس کی وجہ سے بلوچستان کی آزادی کیلئے لڑنے والے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی سیکورٹی اسٹابلشمنٹ کے لائحہ عمل میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی آئی ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ: ہم امید کرتے ہیں کہ نہ صرف بھارت بلکہ پوری مہذب دنیا بلوچ قوم کے لئے اپنی آواز بلند کرے گی جو کہ بدترین قسم کے انسانی بحران سے گزر رہی ہے۔ پاکستانی حکومت نے بلوچ قوم کے خلاف اپنے اقدامات کو تیز کر دیا ہے، لوگوں کی گمشدگیوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کے خلاف کارروائی کرے گی جو مظالم وہ بلوچستان میں ڈھا رہا ہے۔

مشرا ابھی نندن: خطے میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ کتنا سنگین ہے؟ کیا عدلیہ اور میڈیا کو وہاں پر اپنا کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ: یہ سب سے سنگین مسائل میں سے ایک ہے جس کا بلوچ آج سامنا کر رہے ہیں۔ اس کا ردعمل خطے کے لئے انتہائی تباہ کن ہوگا۔ علاقائی استحکام اور امن بلوچ ریاست کی آزادی پر منحصر ہے۔ ہم مہذب دنیا سے بلوچ قوم کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

***

میر عبدالنبی بنگلزئی سے خصوصی انٹرویو انٹرویو : بابو نوروز .... بیوروچیف سنگر

میر عبدالنبی بنگلزئی سے خصوصی انٹرویو

انٹرویو : بابو نوروز .... بیوروچیف سنگر



بلوچ آزادی پسند قومی رہنما میر عبدالنبی بنگلزئی سے ادارہ ’’سنگر میڈیا گروپ‘‘ نے ایک نامعلوم مقام پر ایک خصوصی انٹرویو لیا تھا۔جس کی آڈیو بھی جلد نشر کی جائے گی،یہ انٹرویو اپنے اندر ایک مکمل و خصوصی حیثیت رکھتی ہے اور میر صاحب کے اب تک کی سب سے اہم اورنایاب ترین انٹرویومیں شمار ہوتا ہے جس میں بلوچ تحریک کے مختلف جہتوں کا تفصیلی و جامع اور حقیقی گوشے شامل ہیں۔ کافی عرصے سے کئی ای میل و دیگر ذرائع سے بلوچ قوم کی خواہش رہی کہ میر صاحب کا انٹرویو کیا جائے جس پر آج ہم کامیاب ہوئے ہیں۔ہم جناب میر عبدالنبی بنگلزئی صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس جنگی حالات میں جوبلوچستان کا ہر حصہ فوجی آپریشن کی زد میں ہے اوربلوچ عسکری قیادت بشمول تنظیمیں جو دشمن سے دو بدو صف آراء ہیں اوراپنی حکمت عملی کے تحت اپنا لوکیشن بھی بدلتے رہتے ہیں اس پر آشوب لمحے میں اپناقیمتی وقت نکال کر انٹرویو دینا یقینایہ سنگر کیلئے باعث شرف ہے۔ادارہ

سنگر :میر صاحب آپ کی جہد کا آغاز کب اور کیسے شروع ہوا؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:یہ میرے طالب علمی کے دور سے جب میں کالج میں داخل ہوا،تومیرا سیاست میں دخل ہوا۔1967 میں میں کالج میں داخل تھا بی ایس او نیا نیا بنا تھا۔بی ایس او کا مستونگ میں زونل سیکریٹری بنا،پھر اسی دوران، پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف ایک تحریک اُٹھی۔صوبائی خود مختاری کے لیے، بی ایس او بھی اس کا حصہ تھا،وہیں سے میری شمولیت اورحصہ داری ہے۔یہ سلسلہ وہیں سے شروع ہے، آخر آ کر اِس وقت تک وہی سلسلہ ہے۔ پھر مختلف مراحل آئے جیسے کہ سب کو معلوم ہے،ون یونٹ توڑ دیا گیا ،صوبے بنے،،انتخابات ہوئے،پاکستان میں ،عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں کامیابی حاصل کی، بلوچستان اور صوبہ سرحد، موجودہ پختون خواہ میں نیشنل عوامی پارٹی نے اکثریت حاصل کی،آخر پاکستان ٹوٹا بنگلہ دیش آزاد ہو گیا،یہاں صوبائی حکومتیں بنیں،صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اورجمعیت علماء اسلام مفتی محمود انکی مخلوط سرکار بنی،یہاں نیشنل عوامی پارٹی کی متحدہ حکومت بنی،جمعیت علما اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی۔73 میں حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا جب سردار عطااللہ وزیر اعلیٰ تھا،لیڈر شپ گرفتار ہوا،صوبہ سرحد کے حکومت نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دیا، اب یہاں پر پاکستانی حکمرانوں نے فوج کشی شروع کی۔ یہاں جنگی حالت پیدا ہوگئے۔ میں لاہور میں انجینئر نگ یونیورسٹی میں طالب علم تھا،ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے،میں بھی اسی جہد میں شامل ہو گیا،مختصرا یہی ہے جو آج تک ہے۔

سنگر :آپ کی سیاست جو بی ایس او سے شروع ہوئی تھی اور وہاں آپ کی صلاحیتوں سے آپ کو بہت بڑا مقام ملا تھا ۔ صرف بی ایس او میں نہیں بلکہ پوری قوم نے آپ کی خدمات اور ایمانداری کو سراہا ۔ وجہ کیا تھی کہ بی ایس او سے فراغت کے بعد اس وقت کے سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونے یا نئی سرفیس پارٹی بنانے کے بجائے مسلح جدو جہد میں شامل ہوگئے؟ آپ کو پاکستان کی غلامی کے سائے میں سرفیس سیاست اور مسلح جدو جہددونوں میں دہائیوں کا تجربہ ہے۔ کون سا راستہ بلوچ کیلئے پاکستان کے خلاف فائدہ مند ہے ؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:مختصر جواب دینا پڑے تو بہتر ہے ....ہم دیکھتے ہیں کہ بلوچستان ایک مقبوضہ علاقہ ہے ،کوئی اپنی خوشی سے غلام نہیں بنتا ،زوراک ، طاقتور کمزوروں کو اپناغلام بناتے ہیں ،اور غلامی سے چھٹکارے کیلئے ظاہر ہے اپنی طاقت برابر......جب تک برابر طاقت نہیں ہوگا تو وہ آزاد نہیں ہوسکتا۔ہم نے یہی سمجھا سرفیس سیاست یا سرفیس پارٹی میں شمولیت ،یہاں اس کا امکان ہم نے سمجھا کہ نہیں ہے،.ویسے اس سے انکار نہیں ،وہ بھی ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ..مگر ہمارے حالات..ہمارا سماج اور جو معروضی حالات یہاں کے ہیں ،یہاں وہ میل نہیں کھاتے ہیں ،ہماری آبادی ،ہمارا علاقہ ،ہمارے لوگ تو یہ سب چیزوں کو دیکھیں ، یہی ایک طریقہ جو ہمارے روایت ہمارے پاس نہ کوئی بڑے شہر ہیں ،ہم دیہاتی لوگ ہیں ،ہمارے لوگ ابھی تک خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہیں ،تو یہاں جلسہ ،جلوس یہ چیزیں .....لوگ بھی ان کو نہیں جانتے یہ طریقہ یہاں کامیاب نہیں ہے، اس لئے ہم نے عہدکیامسلح جدو جہد کیلئے .....اور یہی سمجھے کہ یہی ایک طریقہ ہے .....ظاہر ہے فوجوں کے سامنے ہاتھ باندھنے سے آزادی نہیں ملے گی ،جب تک اسی طرح کا جواب نہ دیا جائے ،اسی لئے مسلح جدوجہد میں میری شمولیت ہے ،وہ عہد کیا میں نے اس کیلئے ،مختصر اً میں یہی کہہ سکتا ہوں ۔

سنگر :مجبوریاں کیا تھیں جوآ پ کو افغانستان میں جلاو طنی اختیار کرنا پڑا، اس ہجرت کے اہم مقاصد کیا حاصل ہوئے ؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:جہاں تک مجبوریوں کی بات ہے ۔مجبوری تو یقیناجو یہاں کے حالات تھے۔اور یہ کہ میں نے کوئی ہجرت کی،میں یہیں پر رہا ہوں۔اور اپنے علاقے میں رہا ہوں ۔افغانستان اگر میں کھبی گیا ہوں تو اپنے دوستوں کے بلاوے پر یا کسی خاص مقصد کیلئے ، کچھ وقت کے لئے ،میں وہاں پر کسی ہجرت کیلئے نہیں گیا ۔اگر ہمارے لوگ گئے ہیں یقیناًیہاں کے جو حالات ہیں انہی کی وجہ سے ۔یہاں پرجو ظلم و جبر تھااس سے بچنے کیلئے کچھ لوگوں نے ہجرت کی ہے اور افغانستان چلے گئے ۔جہاں تک میرا سوال ہے میں نے کوئی ہجرت نہیں کی تھی۔افغانستان میں کبھی گیا ہوں اپنے تنظیم یا دوستوں کے بلاوے پر کام کے حوالے سے گیا ہوں اور واپس آیا ہوں۔یہ کہنا کہ ہم نے کوئی ہجرت کی وہاں گیا ہوں رہائش کیلئے ، نہیں۔

سنگر :افغانستان سے مقبوضہ بلوچستان واپسی کیسے ہوئی؟ کیاقابض سرکار کا نرم گوشہ تھا، حالات نارمل ہوگئے تھے یا کوئی اور حکمت عملی تھی؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:افغانستان سے واپسی ،ان دنوں میں بھی گیا ہوا تھا وہاں پر ،دوستوں کے بلاوے پر ،واپسی ہوئی وہاں کے حالات ،افغانستان میں جو تبدیلی ہوئی ،وہاں کی جو حکومت تھی ،وہ حکومت قریباً ختم ہوگئی۔،ایسے لوگ آئے جو ہمارے ساتھ ان کاکوئی ہمدردی نہیں تھاوہ پاکستان کے دوست تھے ۔اب ہمارے لوگوں کاوہاں رہنا بہت مشکل ہوگیا،تو ظاہر ہے ایسے حالات میں کوئی اور آپشن نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوگ واپس آئیں۔اور نرم گوشہ...... یقیناًیہاں بلوچ کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں تھا اور کھبی انہوں نے یہ ظاہر کیا ہوگا تو اپنی حکمت عملی کے تحت،ورنہ کوئی نرم گوشہ نہیں تھا ۔ہمارے پاس حکمت عملی ،وہ صرف لوگوں کا اپنے آپ کا..... ہم سمجھتے ہیں کہ حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں تھی اور وہ ابھی تک چل رہی ہے وہی چیز ہے ۔

سنگر :پاکستانی فورسز نے آپ کو اور آپ کے ساتھی عالم پرکانی کوکیوں گرفتار کیا؟ دوران تفتیش سوالات کی نوعیت کیا تھی؟ ریاست کے مطالبات کیا تھے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:یقیناًہماری گرفتاری اس کی وجہ جو تھی ہماری مزاحمت، جو یقیناپاکستانی ریاست کادشمن ہے اسی لئے اس کا گرفتار کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔تو اس نے گرفتار کیا ،حالات بھی کچھ ایسے نہیں تھے ،افغانستان سے واپسی پر یہاں پر الیکشن ہوئے ،ایک دو دفعہ الیکشن ہوئے ، انہوں نے،فوج نے مجھے بلایاکہ ہمارے پاس آئیں حاضری کیلئے ،میں نے انکار کیاکہ مجھے آپ سے کوئی کام نہیں ہے۔ان کو یہ چیز پسند نہیں ،کہ میں ان کا سلامی نہیں ہوتا۔ تو انہوں نے کوئی بہانہ بناکر کسی اغوا کا کیس بنا یا کہ افغانستان میں کوئی کمانڈر تھا جو انکا دوست تھا وہ اغوا ہواتھا،تو اس کی کیس میں انہوں نے مجھے پکڑا تو کوئی ایسا مطالبہ ان کا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں ۔مقصد ان کا صرف یہی تھا مطالبہ ان کا.... باقی فروہی...پھر انہوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے قتل کا کیس ڈال دیا،راکٹ فائر ڈال دیا،بم دھماکے ،بہت سارے کیسز انہوں نے ہمارے خلاف بنائے محض ہمیں جیل میں رکھنے کیلئے.....نتیجہ جو نکلا کچھ بھی نہیں تھا ،وہ صرف ہمیں یہ سزا دینا چاہتا تھا کہ تم کیوں ہمارے پاس حاضری نہیں دیتے۔باقی ان کے سوالوں کا یقیناایسے حکمران جو نو آباد کار ،نوآبادیاتی قوتیں جو سوال کرتے ہیں وہ یہی ہے کہ لوگوں کو اپنا مطیع بنائیں ،تو میں اس سے انکاری تھا تو انہوں نے مجھے جیل میں رکھانو آٹھ سال ،.پھر آخر کار انہوں اپنے کچھ کیسز ڈراپ کئے ،پھر جسٹس نوازمری کا کیس تھاوہ انہوں نے ڈراپ کیا...داخل دفتر کیا...پھر ہمیں چھوڑ دیا...کیوں رکھا؟ ...کچھ پتہ نہیں ...جو کچھ اپنے دشمن کے ساتھ کوئی کرتا ہے تو ہمیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے....اس سے زیادہ میں نہیں سمجھتا کوئی اورمقصد تھا....

سنگر :میر صاحب !آپ رہائی کے بعدسب سے پہلے نواب خیر بخش مری سے ملنے گئے،کیا اس ملاقات کے بارے میں قوم کو کچھ بتاناپسند کریں گے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:ملاقات ،نواب خیر بخش مری کی ساتھ میری ملاقات جیل کے بعد ایک رسمی چیز تھی ۔وہ میرا رہنما تھا ،کافی عرصہ میں جیل میں رہا اور ہم نہیں مل سکے ۔صرف جیل میں چند ایک پیشیوں پر ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکے ، ورنہ نہیں دیکھ سکے ۔تو یقیناًہم ایک ہی مقصد کے ساتھی تھے تو میں ان سے ملنے کو اپنا سب سے پہلا فرض سمجھتا تھاکیونکہ ہم ایک ہی مقصد کے راہی تھے ۔باقی ایسی کوئی بات نہیں ،قوم واقف ہے کہ جو کچھ نواب صاحب نے کیا یا جو کچھ ہم سے ہورہا ہے وہ سب کو معلوم ہے ،میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

سنگر :رہائی کے بعد آپ نے مقبوضہ بلوچستان کے تقریباً اکثر علاقوں کا دورہ کیا،جس میں مکران قابل ذکر تھا،اس دورے کا مقصد؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:مقصد کی بات بڑی بات ہے ،اگر اس کو ہم دورہ کہتے ہیں کہ یہ علاقہ وہ علاقہ ہے تو یہ سب بلوچسان ایک ہی ہے ،گھومتے رہے ۔مکران میں تو میں فاتحہ خوانی کے لئے،ہمارے دوست ، ہمارے شریک کارغلام محمد ،لالا منیر ،شیر محمد کی شہادت ہوئی میں کراچی میں تھااپنے علاج کے سلسلے میں ،مجھے جانا پڑا،اس کا کوئی اور مقصد نہیں تھا، یقیناًہم گئے تو دوستوں سے ضرور ملے ۔میں تربت گیا ، تمپ گیا،فاتحہ خوانی کی وہاں ،پھر میں پنجگور چلا گیا لالا منیر کے گھر فاتحہ خوانی کی ،پھر کئی دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہیں اورکچھ دوست جو ظاہر ہے سب جاننے والے دوست تھے میں مختلف علاقوں میں لوگوں سے ملنے کے لئے گیا ہوں،دوستوں نے بلایا بھی ....تو کوئی مقصد....یقیناًجس مقصد کے لئے آج ہماری جہد ہے اس کے لئے یقینا،تاکہ بلوچستان کی آزادی کیلئے جو مقصد ہم لئے ہوئے ہیں وہاں تک آواز پہنچائیں ۔تو یہی مقصد تھا اور کوئی مقصد نہیں تھا،پہلی مقصد تو یہی تھا کہ فاتحہ خوانی کیلئے وہاں حاضری کے لئے میں گیا تھا،اس کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز میرے خیال میں نہیں تھا۔

سنگر :رہائی کے بعد آپ سرفیس سیاست میں سرگرم کسی سیاسی پارٹی سے کیوں منسلک نہیں ہوئے کیا وجہ ہے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:میں سمجھتا ہوں کہ سر فیس سیاست کی اس ملک میں گنجائش نہیں ہے ، یہ ملک پاکستان خود ایک نوآبادی ہے ،ایک جدید نوآبادی ہے، یہاں تو ظلم وجبر ہے ،یہاں اس کا امکان بہت کم ہے ،یہ کوئی جمہوری ملک نہیں ہے کہ اس میں کوئی سر فیس سیاست ہوسکتی ہے ،تو اس لئے اس میں شامل ہونااپنی صلاحیتوں کو برباد کرنا ،اپنی محنت کو ضائع کرنا ہے ،میں نے یہی سمجھا،ہاں اگرکوئی ایسے امکانات جیسے دنیا میں ہے ،دنیا کے بہت سارے جمہوری ملکوں میں اگر سرفیس سیاست ہے ،لوگ اپنی مطالبات پیش کرسکیں ،یہاں تو بلوچستان کی بات کریں تو دوسرے دن غائب ہیں ،آج یہی دیکھتے ہیں اسی لئے میں سرفیس سیاست میں گیا ہی نہیں ،اور میرا فکر و سوچ اس کو قبول ہی نہیں کرتا۔

سنگر :بی این ایم توڑنے کی کوششیں کی گئیں ،اُس وقت آپ نے عصا ظفر و دیگر سے ملاقاتیں کیں،آپ کوکیا نتائج حاصل ہوئیں ؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:عصا ظفر ، چیئر مین خلیل کراچی میں تھے ،بی این ایم میں جو یہ تضادات تھے حادثاتی صورت میں میں بھی وہیں پر تھا تو میں نے کوشش کی کہ یہ مسئلہ پیدا نہ ہو۔جب ہم نے دیکھا کہ جو یہ اختلافات ہیں وہ کوئی خاص نوعیت کے نہیں ہیں فروئی قسم کے ہیں تو اس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلااور ہم نے اس کو چھوڑ دیا ۔بلوچ خود فیصلہ کرینگے ،ہم یا کوئی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا ،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔تو کوئی خاص نتیجہ حاصل نہیں ہوااس کا۔پھر پتہ نہیں عصا ظفر کہاں پر گیا ،کیا ہوا۔بی این ایم آج تک دیکھتے ہیں کہ وہ ہے .... شاید عصا ظفر نے بھی محسوس کیا ہوگاکہ ہم اس کو خوامخواہ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم یہی کہ یہ اسی طرح قائم رہے کہ اس میں کوئی دراڑ نہ ہو ۔تو یہ ہم نے کوشش کی اس کا کیا نتیجہ نکلا،کتنی کامیابی ہوئی ،وہ شاید وقت بتائے گا۔

سنگر :بی ایل اے سے نکل کر ایک نئی مسلح تنظیم یو بی اے کا قیام لانے کی کونسی ضرورت اور مجبوریاں تھیں ؟ اس بارے میںآپ پر الزام ہے کہ یہ قدم بلاضرورت اُٹھایا گیا ہے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:مجھ پر اگر کوئی الزام ہے تو میں انکار کرتا ہوں ، کیونکہ نہ میں اس کے قیام میں شریک تھا اور نہ مجھے اس کا پتہ ہے ۔ اگر میری وابستگی کی صورت رہی ہے تو وہ نواب خیر بخش کے ساتھ ،وہ میرا آئیڈیل تھا، جب سے میں سیاست میں آیا ہوں اس وقت سے جو لیڈر شپ تھی بلوچوں کے وہ میرے آئیڈیل تھے ،ہم اس وقت نہ کوئی نظریہ جانتے تھے اورنہ کوئی چیز......یہی کہ وہ بلوچوں کی بات کرتے ہیں،بلوچ قوم کی بات کرتے ہیں ،ہم جذباتی صورت میں انہی کو سب کچھ سمجھتے تھے ،ہمارا نظریہ ،ہمارا سوچ سب کچھ وہی تھے ،وہ شاید آخری وقت تک یہی کچھ رہا ،ورنہ مجھے یو بی اے سے کوئی تعلق نہیں تھا، آج تک نواب صاحب کے فکر وسوچ وہی میرا رہنما ہے ،وہی سب کچھ ہے ،ورنہ مجھ پر جو الزام ہے کہ میں نے یو بی اے بنایا ،یا میں نے بی ایل اے کو توڑا.....نہ میں نے بی ایل اے بنایا اور نہ ہی میں نے یوبی اے بنایا،میرے خیال میں یہ باتیں مجھ سے منسوب کرناشاید درست نہ ہوں، یا صحیح نہیں ...... نواب خیر بخش اگر بی ایل اے تھا تو میں بھی تھا، اگر وہ یو بی اے تھا تو میں بھی یوبی اے ،کیونکہ اسی کی وجہ سے ....اب اس کو شخصیت پرستی کہتے ہیں ،کچھ بھی کہتے ہیں اس کو.....ولایتی اس پر اعتماد تھاوہی جو کچھ تھا.... ورنہ نواب صاحب سے میں ملا،اگر یو بی اے بنا تو اس نے کھبی یہ نہیں کہا کہ کوئی یو بی اے ہم بنا رہے ہیں ،یا کچھ ہے ،آج کل تو سنتے ہیں کہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ نواب صاحب نے یو بی اے بنایا،ہاں کچھ ایسی باتیں تھیں جو نواب صاحب نے ہم سے کیں ،ان کے اور بی ایل اے کے درمیان کچھ اختلافات لیڈر شپ کے حوالے سے تھے جن کا نواب صاحب نے نرمی سے اظہار کیا کہ کچھ باتیں ہیں جو ہمارے درمیان تضاد ہیں کوشش کریں گے ہم انہیں روایتی انداز میں طے کرلیں اگرنہیں ہوئے تو ہم بلوچوں کے سامنے وہ باتیں لائیں گے ،پھر وقت نے ساتھ نہیں دیا ،نواب صاحب بھی چلے گئے ،یہی کچھ تھا،مجھ سے نہ اس کی ضرورت تھی ،ہماری ضرورت تو یہ ہے کہ اپنی آزادی حاصل کریں،متحد ہوجائیں ، اتحاد کریں ،توڑنا تو ہمارے مسئلے کا حل نہیں ،مسئلے کا حل تو ہمارے اتحاد میں ہے ،مجھ پر جو الزام ہے میں اس پر انکاری ہوں ،ہاں آج جو کچھ ہے ہمدردیاں سب کے ساتھ ہیں ۔

سنگر :ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ پر بھی آپ لوگوں کا ساتھ دینے اور یو بی اے کے قیام میں کردار ادا کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ اس میں کتنی صداقت ہے ؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:ضروری نہیں کہ ہر الزام درست ہو،مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے ،ڈاکٹرصاحب پر اگر الزامات ہیں تو ڈاکٹر صاحب ماشااللہ خود بالغ انسان ہیں جو جواب دے سکتے ہیں،وہ جانتے ہیں مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یو بی اے بنانے میں کوئی کردا ر ہے ،میں نے کھبی نہیں سنا ،یہ باقی،الزام تو الزام ہیں ،لیکن ضروری نہیں کہ وہ درست ہوں ،میں نے نہیں سنا میں اسکی تصدیق نہیں کرسکتا۔

سنگر :بلوچستان بھر میں عوام سے ملنے کے بعد آپ اچانک روپوش ہو گئے اور مزاحمت کا حصہ بن گئے،کیا نواب خیر بخش مری کی طرح آپ بھی صرف مزاحمتی جہد پر یقین رکھتے ہیں؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:جی ہاں.....کسی حد تک میں بھی اس پر یقین رکھتا ہوں اور اس کا امکان بھی یہی ہے اس کے علاوہ میں نہیں سمجھتا کوئی اور راستہ ہے یہاں پر،اگر امکان ہوتا تو یقیناًدوسرے راستے بھی وائبل Viableہوتے مگر یہاں پر نہیں ہے ،نواب صاحب بھی مزاحمت پر یقین رکھتے تھے،ان کے انٹرویو ز و لیکچرز میں موجود ہے ،میں بھی سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ،میں روپوش ہوگیا میرے لئے رہنامشکل ہوگیا،جیل سے میں نکلااور میں دیکھ رہا تھا کہ یہاں پر مجھے یہ رہنے نہیں دینگے،اور میں نے مختلف طریقے محسوس کئے کہ ابھی یہ نہیں ہے ،میں نے زندگی اس جہد میں گزاری ہے کہ اسی لئے میرے لئے آرام سے بیٹھنا بھی مشکل تھا،اور چاہے جوبھی حالات ہوں اسی مزاحمت کو آگے لے جانا ہے ۔

سنگر :کئی مزاحمتی تنظیموں کے باوجود یو بی اے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:میں اس کا جوابدہ ہوں، یا صرف معلومات کیلئے مجھ سے یہ سوال کیا جارہا ہے ؟میرے خیال میں تو یقیناًاس سے انکار بھی ممکن نہیں ہے ،بہت ساری تنظیمیں ہیں سب کا فکر ایک ہونا،ایک تنظیم ہونا،فوراً۔۔ میرے خیال میں مشکل کام ہے ،گوکہ ہماری ضرورت یہی ہے کہ ہم متحد ہوجائیں اور اس طرح یہ ضرورت کیا تھی ؟کیوں؟مجھے اس کا علم نہیں ہے ،میں نہیں جانتا.....یقیناًاگر اختلافات ہوں کوئی اپنے ،ہر ایک اپنے بساط کے مطابق، ضرورت تھی یا کیاتھی شاید جنہوں نے بنایا وہ محسوس کرتے ہیں مجھے اس کا علم نہیں ہے ....

سنگر :کیا اس وقت گراؤنڈپر موجود اور بیرونی ممالک میں سرگرم سیاسی لیڈران سے آپ کے رابطے ہیں؟ اگر ہیں تو کس نوعیت کے؟ خصوصاََ حیربیارمری سے کیونکہ آپ ایک زمانے میں ایک ہی تنظیم سے وابستہ تھے۔

میرعبدالنبی بنگلزئی:ہاں یہ کہ ہم ایک ہی تنظیم سے وابستہ تھے ویسے رسمی چیز نہیں ہے ،اور میرے رابطے ان سے، کوئی باقاعدگی نہیں ہے ،میں نہیں جانتا کوئی کیا کررہا ہے،جو کچھ آتا ہے دیکھتے ہیں میڈیا میں وہی بس ،ورنہ میرے خصوصی رابطے نہیں ہیں کسی کے ساتھ ،اور ہم ایک ہی تنظیم میں تھے ،میں نے پہلے عرض کیاکہ میری وابستگی تھی تو نواب صاحب کی وجہ سے ہے بی ایل اے سے........بی ایل اے کا نہ میں ذمہ دار ہوں اور نہ وہ میرا ذمہ لیتے ہیں ،وہ صرف نواب صاحب اگر بی ایل اے تھے تو مجھے بھی لوگ بی ایل اے شمار کرتے تھے بی ایل اے میں...... اگر وہ کسی اور تنظیم میں جوہیں غیر رسمی، کھبی تنظیمیں ہیں جن کا کوئی نام بھی نہیں جانتا ہو، تو اس قسم کی چیزیں کہ میرے رابطے ہیں،میں یہی کہوں گا کہ میرا کوئی رابطہ نہیں ہے ، کوئی ان میں باقاعدگی نہیں ہے۔

سنگر :کیا بلوچ مزاحمتی تنظیموں میں آپسی ہم آہنگی موجود ہے ؟ یہ تنظیمیں ایک مشترکہ کونسل بنانے میں کیوں ناکام ہیں؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:سوال میں جواب ہے ،یقیناناکامی تو وجہ ہے اس کا مطلب ہے کہ ہم آہنگی نہیں ہے .....اگر ہم آہنگی ہوتی تو مشترکہ کونسل بھی ہوسکتاتھا،.تو یہ خود سوال میں ہی اس کا جواب ہے ،باقی میں اس کے بارے میں کیا کہوں،.میرے خیال میں بہت مشکل ہے.....

سنگر :کیا آپ بلوچ مزاحمتی تنظیموں کے کردار سے مطمئن ہیں؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:اطمینان مرگ کے علاوہ کوئی نہیں ہے ،زندگی میں تو اطمینان نہیں ہوسکتی ،باقی جو کچھ کر رہے ہیں اس کا اطمینان بھی ہے ،مگر کافی نہیں ہے ،جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہتر ہے۔ لوگ تعریف کرتے ہیں،باقی اطمینان ہونا علیحدہ بات ہے ،شاید اس بارے میں مجھے اطمینان نہیں ہے ،بہر حال قابل ستائش ہے ۔

سنگر :مقبوضہ بلوچستان میں مختلف سرکاری منصوبات، خاص کر سی پیک کے منصوبے پر کام کرنے والے بیرونی افراد کو صرف پیٹ پالنے والے محنت کش کا نام دیکر اُن کی ہلاکت پربہت شور شرابہ کی جاتی ہے ،آپ اس عمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:میرے خیال میں اس پر شور شرابہ کرنا کہ یہ محنت کش ہیں،یہ محنت کش نہیں ہیں یہ ،بلکہ ان حکمرانوں کے آلہ کار ہیں ،ان کو محنت کش کہنا نہیں ہے ،محنت کش تومظلوموں کے ساتھی ہوتے ہیں،یہاں ایک قومی جہد ہے اور یہ قومی جہد کے خلاف کام کرتے ہیں،اب اگر یہ کوئی مرتا ہے تویہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ یہ محنت کش ہیں،یہ محنت کش نہیں ہیں بلکہ یہ بھی اہلکار ہیں حکمرانوں کے،.اس عمل کو یہ کہ مزدوروں کے نام پر آکر کام کرتے ہیں،ان کے آلہ کار بنتے ہیں قابل مذمت ہیں.....اور شاباش ہے ان بلوچوں کوجو ان کو کام کرنے نہیں دیتے وہ قابل تعریف ہیں......

سنگر :بلوچ آزادی پسندوں کی خارجہ پالیسی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ یعنی آپ مطمئن ہیں؟ جو سرگرمیاں سر انجام دی جارہی ہیں ان میں بیرونی ممالک میں احتجاجی جلسے اورمظاہرے وغیرہ بھی شامل ہیں، کیا اس سے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:ہاں یقینا،میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ اطمینان نام کی کوئی چیزتو زندگی میں اس کا امکان تو بہت کم ہے ،بحرحال خارجی طور پر جوکچھ ہورہا ہے وہ قابل احترام ہے اور یقیناًآج نہیں تو کل پاکستان پر اس کا اثر ضرور پڑے گا،یہ تو ہماری مزاحمت پر منحصر ہے کہ اس کی قوت ،طاقت کیا ہے ،اس کے اثرات پڑیں گے دنیا میں اور قریباًہم ...boosting....نہیں کرتے، قریباً امکانات ظاہر ہورہے ہیں،آج جو کچھ سنتے ہیں میڈیا کے ذریعے جو کچھ ہے اس کی حالت بھی درست نہیں ہے ،جو خارجہ پالیسی ہے اگر وہ سو فیصدہم تعریف نہیں کرسکتے برحال اس کوقابل تعریف کہتے ہیں،بہتر ہے ۔

سنگر :اس بات سے انکار نہیں کی جاسکتی کہ گراؤنڈ میں قوت مسلح پارٹیوں کی ہے۔ دنیا بھی ہمیشہ طاقتور سے مزاکرات کرتی ہے ۔ کیا آپ نے کبھی محسوس نہیں کی ہے کہ مزاحمتی تنظیموں کو بھی اپنے نمائندے متعارف کرانے چاہیے ؟

میرعبدالنبی بنگلزئی: یقیناسوال ہے جو طاقت ہے وہ مزاحمتی قوتوں کی ہے ،یہ مزاحمت ابھی تک اس اسٹیج پر نہیں ہے اس سے کوئی مزاکرات کرے ،یا کوئی بات کرے،شاید یہ ہماری حقیقت پسندی ہے کہ ہماری مزاحمت ابھی تک اس اسٹیج پر نہیں آیا، اب نمائندہ کوئی تنظیم اپنا مقرر کرتے ہیں ،شاید کئے ہونگے،ان سے کون مزاکرات کرے گا ابھی تک مجموعی صورت میں کوئی وہ مرحلے طے نہیں کرسکا،ظاہر ہے کسی سے اکیلے اکیلے مزاکرات کرنا تو مشکل ہے ، جب تک وہ ضروریات سب پورے نہ ہوں ،تو اس میں اپنے نمائندے متعارف کروائیں،یقیناًیہ تنظیم کا کام ہے جو بہتر سمجھے وہی کرے گا،اگر اس سے کوئی مزاکرات کرتا ہے کون کرتا ہے ،کوئی ہمدرد ملکوں سے کوئی بات کرے یا کہیں پر ان کو نمائندوں کی ضرورت ہو تو متعارف کرائے ،تو اس میں وہ تنظیمیں خود سمجھتے ہیں میں نہیں کہہ سکتا....

سنگر :بلوچ قوم میں آپ کیلئے ایک نہایت احترام کا مقام ہے، آپ کا درجہ اہم ترین رہنماؤں میں ہے لیکن عملی طور پر کسی تنظیم نے آپ کو قیادت و اختیار نہیں سونپی یا آپ خود قیادت دوسروں کے حوالے کرنے پر راضی تھے؟ اگر اس طرح ہے تو ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم کو آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی انتہائی ضرورت کے باوجود آپ کیوں اس ذمہ داری سے دور رہے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:پھر وہی تعریفی باتیں..... میں کوئی رہنما نہیں ہوں خدمت گار ہوں،میری بھی یہ کوشش ہے کہ جیسے باقی بلوچوں کی کوشش ہے جینے کیلئے ،سب کوششیں کرتے ہیں انسان ہو یا حیوان ہو ،زندہ رہنے کیلئے ،میں بھی اسی طرح زندہ رہنے کیلئے کچھ ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کررہا ہوں باقی یہ کہ میں نے کسی کوخود نہیں آیا یا لیڈر نہیں بنایا ،دوسرے کو میں نے لیڈرنہیں بنایا....لیڈر یا رہنما بنانا یہ تو لوگوں کا کام ہے قوم کس کو اپنالیڈر بناتا ہے ،میں اگر دور رہا اس کی ایک وجہ ہے ،میری تسلی نہیں ہوئی ،جو میرا فکر ہے سوچ ہے ،میں یہی سمجھتا رہا کہ شاید اپنے آپ کو میں نے یہی سمجھا کہ تنظیمیں ہیں بہت ساری چیزیں ہیں،مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا ...بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو میں ان کے بارے میں نہیں کہہ سکتا....کیونکہ مجھے اطمینان نہیں تھا،کسی تنظیم میں جانا تواس کے بارے میں جوابدہ بھی ہونا پڑے گا،ابھی تک تو میرا اطمینان نہیں ہوا ...میں کسی میں باقاعدگی سے شامل ہوجاؤں........مزاحمت ہے ....ہم سفری ہے ...یا کوشش ہے ...سب کیلئے دعا گوئی ہے .....باقی میں کسی تنظیم میں جو میں مکمل طور پر سمجھوں کہ میرے فکر کے مطابق ہے ۔دیکھیں ابھی عمل ہے شاید وہ ہمارا اصلاح کریں،میرا بھی اور بعض تنظیمیں ہیں... .شاید وہ بھی اپنے عمل سے سیکھیں گے کہ کیا کچھ ہے ....... جو کچھ میں دیکھتا رہا ہوں .....سنتا رہا ہوں.... .تسلی نہیں ہوئی ....کیونکہ یہ ایک ایمانداری کی بات ہوگی اگر کسی تنظیم میں جانا توجب تک تسلی نہ ہو بہت مشکل ہوتا ہے گزارا کرنا۔اسی لئے میں نے اپنے آپ کو پابند نہیں بنایا........

سنگر :میر صاحب سنگر میڈیا گروپ کو ٹائم دینے کا شکریہ ،آپ سے ہمارا آخری سوال کہ موجودہ صورتحال میں آپ بلوچ مسلح تنظیموں کو اور بلوچ قوم کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

میرعبدالنبی بنگلزئی:شکریہ میں بھی ادا کرتا ہوں سنگر میڈیا گروپ کا انہوں نے مجھ ناچیز کو اس اہل سمجھا میں کچھ باتیں جو مجھ سے پوچھیں اگر میں جواب دے سکا....میں بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ میرا عرض ہے مزاحمت کاروں سے ،مسلح مزاحمتی تنظیموں سے ،پہلے بھی میں یہ عرض کر چکاہوں اتحاد ،یونٹی،اتفاق ایک واحدذریعہ ہے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ،جو آزادی کی جہد ہے اس کے بغیر اس کا امکان نہیں کیونکہ یہ سرزمین بلوچستان بلوچ قوم کی ہے ۔جمعی چیز کیلئے جمع کا ہونا.....قومی چیز کیلئے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے .....یہ کسی ایک کا نہیں ہے ،اکیلے اکیلے ہم پروازیں کرتے رہیں ،اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ،یہی میرا عرض ہے ،پہلے بھی ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ اس سرزمین کی خاطر،اپنے قوم کی خاطرآپس میں اتحاد کریں ،جو بھی ممکن ،جو امکانات ہیں،دشمن ایک ہے ،مقصد ایک ہے ،واحد ہے،کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم متحدنہ ہوں .....ہم متحد ہوں یہی میرا عرض ہے .....قوم سے بھی میرا عرض یہی ہے کہ اس وقت یہ قومی جہد ہے ،آگے بڑھیں اس مزاحمت کو مضبوط کریں .....اپنی آزادی کیلئے جہد کے ساتھی بنیں ....یہی میرا قوم سے عرض ہے .....ورنہ اگر اس مزاحمت کو کچھ ہوا توکسی کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا.....آج اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی جان بچارہے ہیں مزاحمت سے دور ہیں میرے خیال میں کوئی نہیں چھوڑے گا.....یہی عرض ہے قوم سے کہ مزاحمت میں شریک ہوں،کیونکہ مزاحمت ہم سب کی ہے ،سب متحد ہوجائیں ۔







http://dailysangar.com/assets/uploads/document_1499349064SANGAR_TAAK_67_JULY_2017.pdf



 

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved