skip to main |
skip to sidebar
میراڈاکٹر صاحب , امرجیت
ڈاکٹر صاحب شہید ہوگئے ۔ڈاکٹر صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں رہے
۔ڈاکٹر صاحب امر ہوگئے ۔اس خبر کو ہر کسی نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق سنا
،جانا،پرکھا ۔ پاکستان اور پاکستانی فوجی مقتدرہ کے لئے اس سے اچھی خبر
ہونہیں سکتی کہ ایک بڑے سیاسی لیڈر نہیں رہے ۔ بلوچ قوم کے لئے ڈاکٹر صاحب
کی شہادت آزادی وانقلاب کے وقف ایک متحرک لیڈر ہر وقت اُن میں موجود لیڈر
کی شہادت ہے ،غلامی کے کرب سے آشنا اور اس سے مکتی پانے اوراس کی جستجو کے
راہوں میں آنے والے تمام مشکلات کی مقابلہ کا یارا رکھنے والاوہ لیڈر جس نے
اُن تک آزادی کا پیغام پہنچایا ۔۔۔انہیں شعور کی بھٹی میں احساس کی تپش سے
کندن بنانے کی سعی کی ۔۔۔غلامی کی خصلتوں کو کھول کر بیان کی ۔۔۔غلامی سے
نجات کی راہ دکھائی ۔۔۔جمودسے نکلنے کی گُر سکھائی۔۔ ۔خودآزادی کا شیدائی
۔۔۔ عوام کو آزادی کی جدوجہدکے پُرکیف لذتوں سے آشنا کرتا رہا۔۔۔ان میں
حوصلہ بھری اور آزادی کے لئے دل دریا بنادئے۔
پارٹی کے کارکنوں کو اس سانحہ ارتحال نے ہلا کر رکھ دیا کہُ ان
میں موجود لیڈر ،ورکر لیڈر ،بے لوث ،بے غرض لیڈر نہیں رہا ،کارکنوں کی
تربیت کرنے والا ،خوف سے نکلنے کا درس دینے والا ہر وقت کتاب تھامے لیڈر
،کتاب بانٹتے لیڈر ،علم پر مرمٹنے والا ،علم پھیلانے والا لیڈر اورسدا کا
متحرک لیڈر۔۔۔ دشمن کی خونی آپریشن میں اپنے آبائی علاقے سے بہت دور مستونگ
میں شہید سنگت ثنا ء کے پہلومیں منوں مٹی اوڑھے جامد سوگیا ،مگر ان کی
آفاقی کردار نے ورکروں سے اپنے تئیں حلف لی کہ رکھنے ،سستانے ،اُکتانے کا
نہیں بلکہ مزید خون آشام سلسلوں کے درمیان راستہ بناتے ۔۔۔لہوبہاتے ۔۔۔آگے
بڑھنا ہے ۔۔۔اور اُس جلوہ فشاں سورج کی دیدارکے لئے تاب وتوانائی پیدا کرنا
ہے جو ہمارے قومی جولاں گاہ میں شہداء کی مقدس لہوسے دھرتی ماتا کے جبین
پرچمکے گا۔۔۔اورذلت سہتی ،مکتی کے ترستی مظلوم اکھیوں کو خیرہ کردے گا۔۔۔
اورکسی کے لئے شاید ممکن ہے کہ شہداء کی طول پکڑتی فہرست میں ایک اور اضافہ
اور بس۔۔۔۔مگرمیں یہ سب ماننے کے لئے قطعی تیا ر نہیں ہوں ، میرے لئے
میراڈاکٹر صاحب زندہ ہے ۔۔۔ہمارے درمیان موجود ہے ۔۔۔اس کے قہقہے گونج رہے
ہیں ۔۔۔بزم ہمیشہ کی طرح سجا ہے ۔ڈاکٹر صاحب کی پُرلطف باتوں کی مہک پھیل
رہی ہے اور قہقہے چاسُو بہاریں کھلارہے ہیں ۔۔۔محفلِ کشتِ زعفران ہے
۔۔۔کہیں مونجائی ۔۔۔کہیں بے کلی نہیں ہے۔۔۔میر ا ڈاکٹر صاحب عزم بڑھارہے
ہیں ۔۔۔ہمت جگارہے ہیں ۔۔۔زانت ۔۔۔شعور۔۔۔۔علم کی شمع جلارہے ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کے بارے میں جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ ایک ہمیشہ
ہنستا بلکہ قہقہے لگاتا مجلسی انسان جسے مجمع کے بغیر کبھی چین نہیں آتا
۔ان کے پاس مجلسی الفاظ کاایک بہت بڑا ذخیرہ جن میں بہت سے عام ڈکشنریوں
میں دستیاب نہیں اور استعمال کا ہنر بھی ہر کس وناکس کی دست رس میں نہیں ۔
ایک ایسا انسان جونہایت ذہین بھی ہے اور فطین بھی ۔۔۔۔ایک ایسا انسان جو
عالم ہے اور باعمل بھی ۔۔۔ایک ایسا انسان جس کے پاس واقفیت اور ناواقفیت
اپنی معنی کھودیتے ہیں جس سے ملا یا جوان سے ایک بار ملا، ایسا گمان ہوتا
ہے صدیوں سے ایک گھر میں رہ رہے ہوں گے ۔
آج ذرا میرے سنگ ڈاکٹر صاحب سے ملئے اور بس ذراسوچئے، منظرخود بخود بن جاتا ہے ۔
لوبھئی محفل سج گیا ۔۔۔آج ڈاکٹر صاحب ہمیں سیاست کی نشیب و فراز
سمجھا رہے ہیں بلوچ کی سیاست ۔۔۔ بلوچ کی بد بخت سیاست۔۔۔متنوع سیاست
۔۔۔قومی سیاست کی ابتداء یوسف عزیز مگسی سے شروع ہوتا ۔۔۔عبدالعزیز کرد سے
شروع ہوتاہے ۔۔۔’’اگر یوسف عزیز مگسی نہ ہوتے تو کیا ہوتا ،صرف سردار ہوتے
۔۔۔جن آپسی کشت خون کی داستانیں ہوتیں جنہیں گویوں نے تراش تراش کر دلچسپ
بنا کر قبولیت بخشی ‘‘اکابرین کی داستانیں ۔۔۔غداروں کی تاریخ ۔۔۔غداروں کی
چیرہ دستیاں ۔۔۔اور نہایت بے باکی اور صاف گوئی سے ہر بات سامنے رکھتے ۔۔۔
کبھی اپنی اظہارمیں پس و پیش سے کا م نہیں لیا۔۔۔سچ پوچھو میر غوث بخش
مرحوم سے انہیں چڑتھی جب ان کی نام زبان پر آتا تو یہی ہنستا مسکراتا چہرہ
ایک دم کے لئے تَن جاتا ۔۔۔آگ بگولہ ہوجاتا ’’یہ غوث بخش بزنجوبس ایک چیز
تھا اور وہ صرف منافق تھا ۔۔۔اس نے ہماری سیاست کو بے تحاشا نقصان پہنچایا
۔۔۔گلہ نواب خیر بخش سے بھی تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی ،حیثیت
اورتوانائیاں جدوجہد کے لئے صرف کئے مگر پارٹی نہیں بنائی ۔۔۔اداروں کی
تشکیل نہیں کی ۔۔۔ورنہ آج سیاست ورارثتی نہیں ادارتی ہوتااور ہم ۔۔۔۔ہم
کافی آگے جاچکے ہوتے ۔ عطاء اللہ صرف اتنا اچھا ہے کہ کبھی کبھی پاکستان کو
چار گالیاں تو دیتا ہے اگر ان سے بلوچ کا بھلا ہوتا ہے توصحیح ورنہ مزید
امید رکھنا عبث ہے بس بوڑھا آدمی ہے ۔۔۔بلوچ قومی سیاست ۔۔پارلیمانی غلام
گردشوں میں بکتی سیاست کے لیڈورں کی ہرزہ سرائیاں ۔۔۔کیسے کیسے خوب صورت
نعرے لگا لگاکر قوم کو بیوقوف بنایااوربنانے کی کوشش کررہے ہیں۔نہیں اب قوم
جان چکا ہے ۔قوم نے کمر کَس لی ہے ۔۔۔‘‘
آج کی سیاست پر بات کرکے میراڈاکٹر صاحب ڈاکٹر خوشی سے کھل اٹھتے۔۔۔
’’ارے بھائی ہماری سیاست تو قیدی تھا ۔۔۔نوآبادیاتی جالِ عنکبوت
میں اسیر تھا۔۔۔غلام محمداورڈاکٹر اللہ نذر جیسے لیڈروں نے سیاست کو
پالیمانی غلام گردشوں سے آزاد کرایا ۔۔۔سیاست کے بھگوان کے حضو ر اپنا
زندگی رہن رکھ کر ۔۔۔ضامن بن کر ۔۔۔ہماری سیاست کو آزاد کرایا ۔۔۔۔یہ غلام
محمد تھا کہ جس نے سیاست کو گلی محلوں کی آواز بنادی دی۔۔۔ اب ہماری سیاست
نے شہروں، گاؤں میں پاؤں رکھے ہیں۔۔۔ارے ہمارے سیاست کے پاؤں میں بیڑیاں
تھیں اور ہاتھوں میں ہتکڑیا ں ۔۔۔غلام محمد نے انہیں کاٹا ۔۔۔ڈاکٹر اللہ
نذرنے اپنی جسم پر بیڑیا ں سجاسجا کر دھرتی ماتا کی بیڑیوں کو کاٹنے کی
جذبہ پھیلائی اور آج ہماری سیاست اپنے شباب کی جانب بڑھ رہا ہے۔۔۔دیکھوتو
صحیح کہ ہماری قومی سیاست کا چہرہ کیسی تابناک ہے ۔۔۔آج سیاست کسی میراث
نہیں رہا ۔۔۔آج فرمان آسمانی نہیں بلکہ دھرتی پر دھرتی کے فرزند اداروں میں
تشکیل دیتے ہیں ۔۔۔ہماری سیاست صحیح معنوں میں عوامی ہوگیا ہے ۔۔۔انقلابی
ہوگیاہے‘‘
آج محفل سجی ہے ۔ڈاکٹر صاحب بلوچ کی تاریخ ،اس کی ابتداء ،درمیانی
دورانیہ اور عصر حاضر تک بلوچ کی تاریخ باریکی سے بتارہے ہیں، سمجھارہے ہیں
۔۔۔خانیت ،انگریزکی آمد اور محراب خان اوراس کی ساتھیوں کی قربانی اور اس
کے بعد انگریز کے خلاف بلوچ کی مزاحمت کی تفصیلات بتارہے ہیں اور سنڈیمن
۔۔۔انگریزی قبضے کے دوران سنڈیمن نامی انگریز افسر ڈاکٹر صاحب کا دلچسپ
موضوع تھا ۔
’’اگر آپ نے انہیں سمجھ لیا تو گویا پوری برطانوی نوآبادیاتی نظام کر سمجھ
لیا ۔ یہ سنڈیمن لومڑی تھا ۔۔۔عیار تھا ۔۔۔منافق تھا ۔۔۔اس نے نہ صرف
انگریزی قبضے کو بہت مستحکم بنایا بلکہ ہماری سرداری نظام کا باوا آدم ہے
۔۔۔خالق ہے ۔۔یہ سرداری بلوچ تاریخ میں تو نہیں سنڈیمن نے بنایا ۔۔۔سردارکو
موروثی بنایا ۔۔۔سردار میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ۔۔۔اس کی خودی، خود
داری چھین لی ۔۔۔قابض در قابض کا مراعات خور ۔۔باجگزار بنایا۔‘‘
میراڈاکٹر صاحب بارہا کہتا کہ سردار سے امید نہ رکھیں کہ یہ بلوچ کی بھلاکی
سفر میں شامل ہوسکتا ہے استثنیٰ اپنی جگہ مگر اِن کی فطرت میں قبیلہ
کشتگاں میں شامل ہونے کاعنصرہی نہیں رہا اگر ایسا ہوا یا تو وہ حادثہ ہوگا
یا بلوچ کا سیاست اتنا طاقت ور ہوچکا ہوگا کہ اب سردار کے پاس کوئی دوسرا
راستہ ہی نہیں اوروجہ بھی بتاتا کہ
’’ جناب ہماری سردار بڑی کائیاں ہیں ۔۔بلوچ سماج میں سردار جتنا قابلِ
احترام ہے اس کا کردار اتنا ہی کریہہ اور گھناؤنا ہے ۔۔یہ بلوچیت کا جتنا
بڑا دعویدار ہے اور بلوچیت کا اس سے بڑا دشمن کون ہوسکتاہے ۔۔۔اس کا
پیرومرشد ہماری اسلاف کے ہیرو نہیں بلکہ برطانیہ عظمی کا چالاک لومڑی رابرٹ
ہے جو سنڈیمن بھی ہے اور سر بھی۔۔۔یہ جدید سرداریت کا خالق ہے اور فلسفہ
ساز بھی ۔۔۔اس نے کمال مہارت سے سرداریت میں جنیٹک تبدیلی لاکر غلامی
،فرمان برادری ،غداری اور دلالی کے ایسے جینز شامل کئے جو صدی بعد بھی اُسی
آب و تاب وتوانائی کے ساتھ روبہ عمل ہیں چند استثنیٰ کے علاوہ پوری سرداری
کلاس آج تک اسی فلسفے کا اسیر بلکہ گرویدہ ہے۔
اسے غلامی پر فخر ہے یہ کلاس ذلت و رسوائی کی عمیق گہرائی میں بصد ناز وادا
اترنے کے لئے سر دان کرتا ہے مگر عزت و افتخار اور قومی وانسانی انا کے
لئے دار کے قریب بھی نہیں پٹکتا ہے ۔۔۔۔یہ دن میں سو بار مرنے کے لئے تیار
ہے مگر ایک بار مرنے کے لئے اسے تپِ محرقہ لگ جاتی ہے ۔‘‘
اور آج کے سردار کے بارے میں بڑے دلچسپ انداز میں تفصیل بتاتے ۔۔۔
’’آج کے سردار کا جملہ طاقت وجبروت کا راز اُس طوطے میں مضمر ہے جواسلام سے
یکسر خالی اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹر GHQکے
منڈیر پر بیٹھا ہے اِس طوطے کا چونچ اس کے بدن کا نصف ہے مگر اتنی بڑی چونچ
کے باوجود پیٹ میں لگی بھوک کی آگ کبھی نہیں بجھتی ۔۔۔۔۔۔یہ رزیل دانہ
چگتا ہے اوراس کا دانہ صرف اسی منڈیر میں ملتا ہے اس لئے یہ آقا کی دانہ
چگنے کے عوض اس کے سارے حکم بجالاتا ہے اوراسی کا رٹا لگاتا رہتا ہے ۔۔۔یہ
کلاس یوسف کوپاگل اور پرنس کو دیوانہ کہتا ہے۔ ۔۔پورے بلوچ سماج میں رنگ
بدلنے کا ماہر اور گرگٹ نامی جاندار سے دوقدم آگے ہے ۔موافق ہوا چلی تو یہ
سرمچاری کا خوب خوب ایکٹنگ کرتا ہے ۔۔۔جذبات سے کھیلنے میں بڑی سے بڑے
کھلاڑیوں کو مات دے سکتا ہے مگر ہوا نے ذرا رخ بدلی تو اس کی جان،اس کی
ہستی نکل جاتی ہے ۔۔۔سانس پھول جاتی ہے ۔۔اسلام آباد کے سامنے ڈھیر ہوجاتا
ہے ۔
آج میرا ڈاکٹر صاحب ملاکے بارے میں بتا رہے ہیں کہتے تھے’’ میں بھی کبھی ملا رہا ہوں مجھ سے ملا کو ن جانتا ہے ۔۔۔‘‘
ڈاکٹر صاحب چند ملاؤں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ ان سے ملنے بھی جاتے تھے ۔۔۔ان
سے بحث مباحثہ بھی کرتے تھے ۔۔۔۔مگرملاکی اکثریت کے لئے ان کے دل میں کوئی
نرم گوشہ نہیں تھاوہ یقین سے کہتے تھے۔
’’آج کے ملا میں مولونا عرض محمد ۔۔۔۔۔۔۔جیسے کردار کی تلاش صحرا میں
ہریالی کی تلاش کے متراد ف ہے کیونکہ یہ ٹکڑوں پر پلتا ہے ۔۔۔اس کی خودی
اور خودداری فنا ہوچکی ہے ۔۔۔یہ سردارکا فطری اتحاد ی ہے ،دونوں کو آقا کی
ضرورت ہے ۔۔۔دونوں کو مراعات کی تلاش ہے اوردونوں کے لئے قومی سیاست
خودکُشی ہے ،آج کے ملاکی توند محض اسلام کے بنیادی اصولوں کی پابندی سے
نہیں بھرتا ۔۔۔اپنی آگے کو نکلی توند بھرنے کے لئے اسے اسلام سے اسلام آباد
کی ضرورت ہے جو اپنی بلند و بالا عمارتوں،سازشی لیبارٹریوں میں نہ صرف
اسلام کی روح مسخ کررہا ہے بلکہ اسے مضراور جان لیوا بنارہاہے ۔۔۔بلیک
میلنگ کا ہتھیار بنارہا ہے اور نہ صرف بلوچ بلکہ یہاں تمام محکوموں کی
ملااسی اسلام پر کاربند ہے یہی وجہ ہے کہ کہ ملا کی بصیرت اور بصارت دونوں
زائل ہوچکے ہیں۔۔ اسے آلِ سعود کی نری بادشاہت میں خلافت اور پاکستان اسلام
کا قلعہ نظرآتا ہے ۔مکہ و مدینہ سعودخاندان کی بادشاہت میں رہن،گروی مگر
ملا نعرہ زن ہے کہ اللہ اکبر ۔۔۔پاکستان اسلام مسخ کرکے اسے مہلک ہتھیار کے
طورپر مختلف قومیتوں کے خلاف استعمال کررہاہے ملا نعرہ زن ہے کہ اللہ اکبر
۔۔ ۔ پاکستانی فوج مسجد ،قرآن پاک ،معصوم اور نہتے لوگوں کو بھون رہا ہے
مگر ملاکی نعرے فلک شگاف اللہ اکبر ۔۔۔
مسجد کل بھی لال تھا، آج بھی لال ہے ملا عبدالعزیز کل برقع پہن کے محترم
تھا اور آج برقع کے بغیر بھی محترم ۔۔۔۔بلوچ کبھی مذہبی نہ تھا مگر آج اسے
بزورِ اسلام آباد ایک ایسی اسلام کا پیروکار بناجارہاہے جس کی باریکیوں کا
جانکاری ہماری ملاکے اُس چغے میں ٹانکا جاچکا ہے جس کی کپڑے بے بس بلوچ کی
دھرتی سے نکلتے گیس سے چلنے والی فیصل آباد کی ملوں میں بُنی جاتی ہیں اور
نقش و نگار کے لئے سونے کی تاریں بھوک سہتے سندوہی ڈک سے ناستک چین نکال کر
پیٹرو دالروں کے عوض سعودیوں کو دیتا ہے اور سعودی اپنے اسلام کے پرچار کے
لئے ملا کو مرحمت فرماتا ہے ۔اور۔۔۔۔
اسلام کے جدید الیکٹرانک کلید بردارسعودی ،مغرب کاتخلیق پاکستان اوراسلام
اور اسلامی خدادونوں کے منکر ناستک چین کا کیا خوب ایکتا ہے سردھنیے کہ اس
اتحاد ثلاثہ کا دست بستہ خادم اور لاڈلا ملاکی پانچوں انگلیاں گھی میں اور
سر کڑاہی میں ۔۔۔۔۔اور بلوچ اسی ملا کا مبتدی بنتا جارہاہے اور اس دنیا میں
ملا کے آقاؤں کی ناز برداریوں اور قہر برپایوں کو خاموشی و عاجزی سے سہنے
کے عوض جنت الفردوس میں ستر حوروں بمع انگور کے باغات کی آس میں خوش ہے
،تیرا کیا جاتا ہے اگر کچھ کہا تو لاہوری مسیحوں کی طرح تیرا گاؤں بھی
چلاجائے گا۔کیونکہ امربالمعروف و نہی عن المنکر کے منصب پر فائزاسی ملانے
نوسٹرڈیم کے پیش گوئی کے عین مطابق سرمایہ داردنیا کے علامتی عظیم القامت
جڑواں برجوں کو انہی کے آہنی پرندوں پر قبضہ کرکے اُڑا دیا ۔۔۔اورسرمایہ
دار کواپنے ایک بندے کے قصاص میں ایک ہزارانسان قتل اورایک منزل کے بدلے
ایک شہر اور مغربی انا کے ٹیس کے بدلے پوری پوری انسانیت کے روح ملیامیٹ
کرنے اور اپنے محض ایک جدید عمودی شہر کے بدلے جدید وقدیم شہروں کے شہر اور
انسانیت کے سرمایہ افتخار تہذیبی آثاروں کو مٹانے کا جواز اور سرٹیفیکٹ
تھمادیا ۔۔۔۔پھر بھی طمطراق سے نعرہ لگاتا ہے ۔۔’گوامریکہ گو‘اس کا کردار
مقامی بھی ہے اور بین الاقوامی بھی ۔۔۔مقامی طورمیں مدرسوں اور عالمی طورپر
کارپوریشنوں کا محبوب اور چہیتا۔۔۔ملااسامہ اور بِل گیٹس کی عالمی پروگرام
دونوں مغرب کے مفاد میں ہیں ‘‘۔
لوبھئی میرا ڈاکٹر صاحب آج ہمیں فلسفہ کی گتھیاں سلجھاکر سمجھا رہے ہیں
۔۔۔فلسفہ اور ہم ۔۔۔موضوع ہماری پہنچ کے حد سے بھی پرے۔۔۔ لہٰذا بوریت
چھاجاتی ۔۔۔لیکن صاحب درمیان میں اپنے خوب صورت چٹکلوں سے محفل میں رنگ
بھرتا اور ہم بہ امر مجبوری سنتے ۔۔۔میراڈاکٹر صاحب یونانی فلسفے سے شروع
ہوتے ارسطو ۔۔۔افلاطون اور سقراط ۔۔یہاں رک کر سوال کرتے کہ جانتے ہو کہ
فلسفے کا پہلا شہید کون ہے ؟۔۔۔۔فلسفہ اور شہید ۔۔۔ہم ایک دوسرے کی منہ
تکتے ۔۔۔’’ارے سقراط ہے ۔۔۔اس عظیم فلسفی نے سچ و حق کی خاطر زہر کا پیالہ
پی لیا اور اور اطمینان سے جان دی ۔۔۔اس شہادت نے فلسفے کو اتنا طاقت و ر
بنا دیا کہ اب تک حکمران طبقے کو فلسفے سے جیسے خدا واسطے کا بیر ہے
۔۔۔حکمران طبقہ اسے اپنی موت برابر سمجھتی ہے اس لئے کسی بھی ملک کے حکمران
اسے اپنے عوام تک پہنچانے سے گریز کرتے ہیں مبادا انہوں نے سچ کو پالیا تو
ان کی ایکتا کی سمندر انہیں خش و خاشاک کی طرح بہالے جائے گا۔۔۔اور بلوچ
نوجوانوں کو فلسفے سے ناتا جوڑنا چاہئے شاید یہیں سے بھی انہیں وہ گوہر
نایاب ہاتھ آجائے جو زندگی اور اس معنویت کو سمجھانے میں مدد ومعاون ہو ‘‘
ڈاکٹر صاحب پیدا ہی سیاست کے لئے ہوئے تھے ڈاکٹر ی تو بس وقت و حالات کا
جبر تھا ۔۔۔شاید اصل مرض کی تشخیص ان کے لئے مزید آسان ہوئی ہوگی ورنہ
انہوں نے اس سے زیادہ فائدہ یا آرام و آسائش حاصل نہیں۔ جب بلوچ نیشنل
موومنٹ کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے تو بعد میں یہ سرکاری طوق گلے سے اُتار
پھینکا۔
بلوچستان نیشنل موومنٹ میرے ڈاکٹر صاحب کے لئے سب کچھ تھا ۔زندگی بلوچ
نیشنل موومنٹ ۔۔۔زندگی کا حاصل بلوچ نیشنل موومنٹ ۔۔۔نوکری ابتداء میں
زندگی کی گاڑی کو آگے دھکیلنے کا وسیلہ اور بعد میں صرف اور صرف بلوچ نیشنل
موومنٹ کے پروگرام کو آزادی کے پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ ۔۔۔جہاں جہاں
جاتے ۔۔ڈیوٹی خوب خوب کرتے ۔۔۔اسپتال میں آزادی کی باتیں ۔۔۔مریض کے ساتھ
۔۔۔مریض کے ہمراہ کے ساتھ ۔۔۔ہسپتالی اسٹاف کے ساتھ ۔۔۔کوارٹرکے ملازمین کے
ساتھ صرف آزادی کی پیغا م اور آزادی کی باتیں ۔۔۔متحرک توتھے ہی کہیں ایک
جگہ ٹکنا ان کے فطرت میں نہیں تھا لہٰذا آزادی کے پیغامِ جاں فزا ء لے کر
ہر اُس درپر پہنچتے جودست رس میں ہوتا تھا۔۔۔کھیت ،کھلیاں میں۔۔۔ ہوٹل
،دکان میں ۔۔۔ہلک واجہ کے گھر میں۔۔۔میر معتبرکے گھر میں ۔۔۔جو دروازہ کھلا
ہوتا یا کھٹکھٹانا پڑتا ۔۔۔میرے ڈاکٹر صاحب کے لئے حساب ایک ہی تھا۔۔۔کسی
نے اچھی طرح خوش آمدید کیا کسی نے بھویں سکیڑے ،کسی نے منہ پر کہہ دیا مجال
کہ ان کے رویے میں فرق آجاتا بلکہ وہ اپنا کام ہنسی خوشی کرتے ،پارٹی کا
حق ادا کرتے ۔۔۔نوآبادیاتی نفسیات کے دریا کا شناور تھے ۔۔۔غلامانہ مزاج کے
آشنا تھے لہٰذا لوگوں کے آڑے ٹیڑے سلوک کا کبھی بُرا نہیں مناتے ۔۔۔
بہت سے لوگ جنہیں میں جانتا ہوں کہ ٹکڑوں میں بٹے تھے۔۔۔ غلامی نے ان سے
ذہنی یکسوئی چین لی تھی وہ انتشارکا شکار تھے اورنتیجتاََ مکمل انفعالی
زندگی گزارنے پر مجبور تھے یا اس پہ قانع تھے اوربس۔۔۔میں گواہ ہوں کہ
ڈاکٹر صاحب نے انہیں آزادی کی روشن راستے پر گامزن کرکے انسان بننے میں مدد
دی ،آج یا تو شہید بن چکے ہیں یا میدان عمل میں سرگرم ہیں ۔
بلوچ قوم میں ڈاکٹر کا جنم صرف موبلائزیشن کے لئے ہوا تھا اور اس نے اپنی
حصے کا بلکہ بہت سے لوگوں کی حصے کا موبلائزیشن کا عمل پورا کیا قوم خواہ
انہیں کوئی بھی خطاب ،اعزازسے نوازے،میرا ایمان ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسا عظیم
موبلائزر آج تک بلوچ قو م میں کبھی پیدا نہیں ہوا ،آج کے بعد جو بھی
موبلائزرآئے گا اس پر ضرور ڈاکٹر منان بلوچ کا پرچھائی ہوگا۔
عموماَلوگ اپنی عہدے کے مناسبت سے کام کرتے ہیں مگر میراڈاکٹر صاحب اس چیز
سے مبّرا تھے، کبھی عہدے کوخاطر میں لایا،بس انہیں پارٹی کے پروگرام سے غرض
تھی اور عوام سے واسطہ ۔۔۔صرف ممبر تھاتو پارٹی امور میں جتا ہوا۔۔۔سی سی
کا ممبر تھا توچوبیس گھنٹوں پارٹی کاموں میں ۔۔۔ ہر سانس پارٹی کی مصروفیات
میں صرف ہوجاتی ۔۔۔سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائزتھے توبھی ان کے معمول
میں کوئی فرق ہم نے نہیں دیکھا ۔۔۔کسی نے نہیں دیکھا۔۔۔اوائل کے دنوں میں
پارٹی مقبول تو تھی مگر ممبر شپ محدود تھی ،بعضے علاقوں میں سر ے سے موجود
نہیں تھا۔ پھر میرا ڈاکٹرتھا اور دورے تھے، بلوچستان کے کونے کونے میں بسا ط
سے بڑھ کر پارٹی کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی۔ ۔۔مزاج عوامی تھا عوام
کے بغیر جینے کا تصور محال تھا حالات میںیکسربدلاؤاور سرپر منڈلاتے خطرات
کو کبھی میں خاطرمیں نہیں لایا۔۔منطق کا وضاحت بھی خود کرتے کہ ’’ہماری
احتیاط عموماََ خوف کا جامع اوڑھ کر ہمیں بے عملی کاشکار بناتا ہے اور جب
لیڈر شپ عوام سے اور اپنے ورکروں سے پردہ کرے تو ورکر وں میں خوف سرایت
کرجاتی ہے ،انہیں بے عملی کاشکار بناتی ہے ۔حالات کبھی آزادی کی جنگ میں
ہمارے حق میں اس سے بہتر نہیں ہوتے کیونکہ یہ حالات آزادی کی جدوجہد کی
پیداوارہیں اورایسے میں بہتر حالات کی توقع کا مطلب جدوجہدسے دست برداری
۔۔۔۔اس لئے ہمیں بے خوف ہوکر کام کرنا چاہئے ‘‘
میرا ڈاکٹر صاحب اوائل کے دنوں میں جس طرح بلوچستان کے اکثر علاقوں کا سفر
کرتے، اسی طرح آج کے حالات میں بھی ان کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیابعض
اوقات ان کی اس طرح کی دوروں اور طریقہ کار کو لاپروائی سے تعبیر کیا جاتا
تھا مگر ان کا یہی سٹائل تھا یہ ان کا عوامی پن تھا کہ شہادت بھی انہیں
تنظیمی دورے کے دوران عوام کے اندر ہی آئی ۔
آج دعوے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بلوچستان اور کراچی کا میں کوئی علاقہ
ایسا نہیں جہاں میراڈاکٹر صاحب قدم رنجا نہیں ہوئے ہیں ۔۔۔کوئی جگہ ایسا
نہیں ہے کہ میراڈاکٹرصاحب سے کوئی نہ کوئی یاد وابستہ نہ ہو،کوئی علاقہ
ایسا نہیں جہاں ان کا مہک ،ان کا خوشبونہ ہو۔
ڈاکٹر صاحب کو کتابوں سے عشق تھی سفری بیگ ہمیشہ کتابوں سے بھرا ہوتا
۔۔۔کارکنوں سے کتاب کی مطالعے کا درس دائمی تھا۔۔۔ جب کسی سے ملتے تو
عموماََپہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں ۔۔۔کیسی کتاب ہے
،ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا شاید کوئی لیڈر اتنی باقاعدگی سے مطالعے کے
لئے اتنا وقت نکال سکے ۔۔۔گھر ،ڈیوٹی ،سفرمیں ہوتے ،موسم و مصروفیات خواہ
کچھ بھی ہوتے ڈاکٹرصاحب کے مطالعے میں قطعاََ فرق نہیں آتا تھا۔۔۔ ہوش رُبا
مصروفیات کے باوجود نہ صرف مطالعہ کرتے تھے بلکہ وقتاََفوقتاََ کچھ نہ کچھ
لکھتے بھی تھے ۔
ایک باربجاّر صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈاکٹر
صاحب کویہ مقام،عزت،اعزازکسی میراث میں نہیں ملاہے یہ ان کی محنت اور
اخلاص کا ثمر ہے انہیں رول ماڈل بنا کر کا رکن اسی مقام پر فائز ہوسکتے ہیں
‘‘
وہ ہستی جس نے واقعتامیراث میں نہیں سب کچھ محنت ،خلوص اور آزادی کی حصول
کے لئے بلوچ نیشنل موومنٹ سے کمٹمنٹ کی بنیاد پرکمایا ۔۔۔اب وہ کیسے چھپ
سادھے بیٹھے گا ۔۔۔اس اضطراری روح کو آرام کیسے ملے گا ۔۔۔بلوچستان کی خون
آشام فضاؤں ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے ۔۔۔اسے اپنے پاس محسوس کریں
توموجود پاؤگے۔
ڈاکٹر صاحب ۔۔۔آپ کی محفل تاابد جاری رہے گاآپ کی کاروان کا سفر
جاری ہے سیاسی آواز کو دبا نے کے لئے دشمن کے مسلح دستے آگے بڑھ رہے ہیں
دشمن کہتا ہے کہ بلوچستان میں کوئی سیاسی تحریک نہیں ہے بس چند مسلح گروہ
ہیں جو بندوق کی حاکمیت چاہتے ہیں اور دوست کہتے ہیں انقلاب بندوق کی
نالی۔۔۔۔
کل بالگتر میں دشمن نے بڑی بیرل والی مشین گن سے اُ س پہاڑ پر
ہزاروں راؤنڈ فائر کئے جہاں بڑی بڑی پتھروں کو ترتیب دے کربی این ایم لکھا
ہے مگر اب بھی وہ پہاڑ اسی طرح سینے پر بی این ایم سجائے کھڑا ہے۔
Post a Comment