skip to main |
skip to sidebar
مقبوضہ بلوچستان: پاکستانی الیکشن کی بائیکاٹ قومی فریضہ ہے-سنگر

غلامی کی اذیت ناک درد کو محسوس کرتے ہوئے افتادگان خاک نے بلوچ
قوم کیلئے ایک آزاد و خود مختار دنیا کی تخلیق کا خواب آنکھوں میں سجاکر
بلوچ مملکت پر بزور طاقت قابض ہونے والے اور بلوچ قوم کو غلامی کی زنجیروں
میں جھکڑنے والے اُن قوتوں کیخلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز کردیا جو کٹ مرنے
سے ہی بقاء و شناخت ،آزادی و خوشحالی کی حصول کاضامن ہے ۔
شہداء کے مقدس لہو نے بلوچ قومی تحریک آزادی کو ایک ایسی شناخت بخشی جس سے
پوری دنیا میں بلوچ ، بلوچستان اور تحریک آزادی زیر بحث ہے اور کئی ممالک
نے اخلاقی حمایت بھی کردی ہے ۔تحریک سے وابستہ جہد کاروں نے سرزمین کی
آزادی اور بلوچ قوم کی خوشحالی کیلئے اپنی زندگی سمیت اہل و عیال کو تیاگ
دیکر بیش بہا قربانیاں دیں ۔
دشمن ریاست پاکستان کیخلاف آزادی کی اس جنگ میں 35ہزارسے زائد جہد کار
لاپتہ ہیں جو ریاستی ٹارچرسیلوں میں اپنی زندگی کی نہیں ہماری آزادی و
خوشحالی کی جنگ لڑرہے ہیں جبکہ ہزاروں جہدکاروں نے شہادت کاحصول اپنا کر یہ
پیغام دیا کہ ہمارالہو اسی لئے مقدس ہے کہ محض سرزمین کی آزادی کیلئے بہا
ہے نہ کسی کرسی و اقتدار اور نہ کسی مراعات و نوکری کی حصول کیلئے....!!
آج ہزاروں ما ئیں بے اولاد، بہنوں کی بھائیاں ،بچوں کے باپ اور خواتین سے
ان کی شوہریں چھین لی گئیں ،ہر گھر میں ماتم ہے ، وحشی ریاستی درندوں نے کم
سن بختی سے لیکر بوڑھے نواب بگٹی،عظیم رہنما،چیئرمین غلام محمد،ڈاکٹر
منان، تک کسی کو بھی نہیں بخشا۔ریاستی بر بریت سے پورا بلوچستان سلگ رہا ہے
،کوئی محفوظ نہیں،لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا،ساحل
وسائل اور معدنیات کے تمام ذرائع پر قبضہ کیا گیااور چائنا کے ساتھ ان کے
صفایا کرنے کا کام تیز ی سے جاری ہے ۔
ایسے موقع پرکیا ہم اس ریاست کے گماشتوں کو ووٹ دیکر انہیں اپنے سر پر
کلہاڑی مارنے کے عمل کاحصہ بن جائیں....؟؟جنہوں نے ہمیں اتنے زخم دیئے کہ
جن کا علاج سوائے حصول آزادی کے اور کچھ نہیں ۔آج آزادی پسند تنظیموں نے
الیکشن سے بائیکاٹ اور مسلح تنظیموں کی ریاستی الیکشن کا حصہ بننے والے
بلوچ دشمنوں کے احتساب کرنے کا عمل شہدا ء کے عظیم مقاصد کے تکمیل کا حصہ
ہے اور بحیثیت قوم ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم ان شہدا کے لہو سے غداری کا
مرتکب نہ ہوں اور ووٹ و الیکشن سے دور رہیں ۔حالانکہ بلوچ جہد کار صرف
اپنے جسموں کے حصے کاٹ کر سرزمین کا حق اداکرتے رہے ہیں کھبی بھی بلوچ قوم
سے کچھ نہیں مانگاآج جب تحریک ایک ایسی موڑ پر آئی ہے جہاں آپ کی حصہ داری
ناگزیر بن چکی ہے اور جہد کار بلوچ قوم سے محض ووٹ نہ دینے کا مانگ کر رہے
ہیں جو انتہائی ادنیٰ سا مطالبہ ہے اور اس کے پیچھے ان شہداء کے مقدس لہو
کی عظیم مقاصد کی کامیابی پوشیدہ ہے ۔
ریاستی الیکشن کا حصہ بننے والے سیاسی جماعتیں بلوچ کی غلامی کو دوام دینے
اور ریاست کو مضبوط و مستحکم رکھنے کے کاز پر عمل پیرا ہیں ۔انہیں بلوچ کی
دکھ درد کا غم نہیں ،ان ماؤں ، بہن بھائیوں اور باپ سے کوئی سروکار نہیں جن
کے پیاروں کو اس ریاستی وحشیوں نے چھیر پھاڑ کرکے مارڈالا۔وہ محض اپنے آقا
کاحکم بجا لانے کیلئے ہمیں ووٹ دینے کیلئے مائل کرنے میں اپنی تنخواہ حلال
کررہے ہیں لیکن ہمیں ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ قبضہ کے روز
سے سالوں سے ہم ووٹ و الیکشن کے مرحلے میں گزر رہے ہیں، حاصل کچھ نہیں ہوا
ہے ،نہ پانی ہے نہ بجلی ،نہ تعلیم نہ صحت ، نہ روزگار حتیٰ کہ ریاستی
اہلکار گھر وں میں گھس کر چادرو چاردیواری کی تقدس کو پامال،بلوچ غیرت کو
داغدار کرکے لوگوں کو اٹھاکر لاپتہ کررہے ہیں۔
تو کیا ہم پھر بھی اسی تجربے کا حصہ بنیں......؟؟ نہیں ........ہمیں شہدا ء
کے مشن کا تکمیل کرنا ہے اسی میں بلوچ قوم کی بقاء و زیست ہے۔ہمیں ووٹ اور
الیکشن کاحصہ نہیں بننا ہے ،ہم ان شہدا ء کے وارث ہیں جو ووٹ کیلئے نہیں
سرزمین کیلئے جان سے گزر گئے۔ان 70سالوں کے دوران گزشتہ بار ووٹ کا بائیکاٹ
کر کے اس تجربے کوبلوچ قوم نے جس طرح نیست و نابود کیا ،آج اس سے بڑھ کر
اسے نابود کرنے کا وقت آ گیا ہے، جو آزادی و خوشحالی کا راستہ ہے ۔
آؤمل کر عہد کریں کہ ہم ریاستی الیکشن کا حصہ نہیں بنیں گے کیو نکہ آپ کا
یہ ووٹ محض ووٹ نہیں ہوگا بلکہ شہداء کے لاشوں پر گزرنے اوربلوچ قوم کی موت
کے پروانے پر دستخط کے مترادف ہوگااور یہ عمل شہدا ء کے لہو سے غداری ہے
جس کا کوئی بھی ذی شعور انسان متحمل نہیں ہوسکتا۔
ریاستی الیکشن کا حصہ بننے والے ووٹ دینے سے قبل ایک بار ان شہدا ء کو ضرور
یاد کیجیے جن کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف بلوچ سرزمین کی آزادی رہی ہے
Post a Comment