Translate In Your Language
New Videos
حصہ دوم: چی گویرا کون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
ایک مزدور ریاست کیسی ہونی چاہیے؟
سٹالنسٹ روس میں قائم ہونے والی افسرشاہانہ مطلق العنان حکومت کا مارکس کے ان تصورات سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا۔یہ سماج سے بلند اور بالا جبر واستبداد کے ایک وحشی ادارے کے سوا کچھ بھی نہیں تھی۔یہاں تک کہ مارکس کے عہد میں لفظ’’آمریت‘‘ (dictatorship) کا جو مطلب اور مفہوم ہواکرتاتھا وہ اس سے کہیں مختلف ہے جو آج کل سمجھا اور استعمال کیا جاتا ہے۔سٹالن،ہٹلر،مسولینی،فرانکو اورپنوشے کے بعد سے اس لفظ کے ساتھ جو حشر نشرہواہے،اس نے اس لفظ کی نفسیات اور تاثرکو ہی یکسر بدل کے رکھ دیا ہے۔اب جہاں کہیں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے تو اس سے ذہن میں صرف اورصرف عقوبت خانے ہی آتے ہیں۔گسٹاپو،کے جی بی،گوانتاناموبے وغیرہ ہی آتے ہیں۔لیکن مارکس جب اپنی کسی تحریر میں اس لفظ کو استعمال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں سلطنت روما کی آمریت ہی ہوتی تھی کہ جہاں ہنگامی حالات (جنگ وغیرہ)کی کیفیت میں جمہوریت کا میکنزم معطل اور موخر کر دیاجاتاتھا۔اور حکمران کچھ وقت کے لئے غیرمعمولی اختیارات کے ساتھ’’آمریت‘‘اپنالیا کرتے تھے۔ ایک آمرانہ وحشت سے کوسوں دور اور مختلف،پیر س کمیون ایک شاندار جمہوری طرزحکومت کا نمونہ و نمائندہ تھی۔ یہ ایک ایسی حکومت بنانے کا عمل تھا جس نے خود کو بالآخربتدریج معدوم کردیناتھا۔اینگلز کے الفاظ میںیہ ایک نیم ریاست تھی۔اکتوبر انقلاب کے بعد لینن اور بالشویک قیادت نے انہی خطوط پر ہی انقلابی حکومت کو استوارکرنے کی کوشش کی۔ورکروں نے سوویتوں کے ذریعے اقتدار حاصل اور قائم کیا،یہ سوویتیں عوام الناس کی نمائندگی کاجدید ترین باشعور جمہور ی آلہ تھیں،جس کو محنت اجتماعیت لگن جذبے اور شعور کے اتصال سے تخلیق کیاگیاتھا اور جس کی نظیر انسانی تاریخ میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی!
Labels:
Che Guevara
Comments
News Headlines :
Loading...
Post a Comment