skip to main |
skip to sidebar
پاھار...... بلوچ نسل کشی کی صورتحال بھیانک....
ماہِ مئی میں57فوجی آپریشنز میں114 افرادلاپتہ،30لاشیں برآمد, سنگر
کاماہانہ رپورٹ و تجزیہ
......پاھار......
بلوچ نسل کشی کی صورتحال بھیانک
ماہِ مئی میں57فوجی آپریشنز میں114 افرادلاپتہ،30لاشیں برآمد
سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ
چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے
مئی کا مہینہ بھی بلوچ سرزمین پہ ریاستی جبر سے طلوع ہونے کے ساتھ اسی تیزی
کے ساتھ مظالم کو برقرار رکھتے ہوئے مستونگ،قابو،اسپلنجی پر فوجی جیٹ جہاز
و زمینی فوجی جارحیت کی اُڑان لیکر غروب ہو اتھا۔مئی کے مہینے میں
پاکستانی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور
مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کیخلاف ظاہری و خفیہ کریک ڈاؤن
کرکے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کومزید وسعت دی۔
حسب معمول بلوچستان میں پاکستانی فوج،ایف سی اور دیگرملٹری بشمول خفیہ
اداروں نے 57 آپریشن کر کے 114افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا،جبکہ دوران
آپریشن درجنوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ50 سے زائد گھروں کو نذر آتش کر
دیا گیا، 30 لاشیں ملیں،13افراد فورسز کی جارحیت سے شہید ہوئے اور17 کے
محرکات سامنے نہ آ سکے۔جبکہ 23 افراد فورسز کی تشدد خانوں سے بازیاب ہوگئے۔
فورسزنے بلوچ سماج کے گرد ذہنی ،فکری و سیاسی طور پر ایک ایسا تنگ دائرہ
کھینچ دیا ہے جس کے باہر نہ تو سوچا اور نہ ہی بولا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی
کسی ایسی سیاسی و جمہوری سرگرمی کی اجازت ہے جو اس دائرے اور قابض کے
مخصوص مفادات سے ٹکراتی ہو، موجودہ نام نہاد جمہوریت میں انسانی حقوق کی
پامالی کی ایسی بد ترین مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں جن کی نظیر آمرانہ دور
میں بھی نہیں ملتیں، جن میں آئے روز فورسز کی کارروائیاں اور اس دوران
حراست میں لئے جانے والے بلوچوں کو لاپتہ کرنا اور پھر ان کی تشدد زدہ مسخ
لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنا سب سے زیادہ المناک حقائق کے طور پر جانے
جاتے ہیں ۔ایک وقت تھا جب نواز شریف اور اس کے رفقاء اپنے اپوزیشن کے دور
میں لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی اور یہاں غیر جمہوری طرز حکومت پر تنقید
کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ،اور اس دوران بلند وبانگ دعویٰ
کیاجا تا تھا کہ ان کی حکومت میں یہ سب کچھ نہیں ہوگا ، مگر چار سال گزرنے
کے باوجود مقبوضہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین ن لیگی حکومت کے
وعدوں کی تکمیل کی راہ تک رہا ہے ۔ نواز شریف بھی بلوچ مسئلے کی اس تاریخی
حقیقت اور اس کا سبب بننے والی بنیادوں سے نظریں چرارہا ہے جن کو کھلے دل
سے تسلیم کئے بغیر مسئلے کا حل نکالنا ممکن نہیں ہے۔قابض پاکستان و اسکے
نام نہاد جموریت کے دعویداروں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مقبوضہ
بلوچستان کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت کا اعتراف کر کے اپنی فوجیں بلوچستان
سے نکال کر بلوچستان کی خود مختاری تسلیم کرلیں،انکے پاس اسکے سوا کوئی
بھی چارہ نہیں اس لیے کہ بلوچ عوام پر قبضہ کے دن سے جاری ریاستی بربریت نے
اس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب قاتل جنرل مشرف نے بلوچ کی نسل کشی شروع کی
اور اسکے بعد کی قبضہ گیر حکومتوں نے اس نسل کشی کو اجتماعیت کا پیراہن
میں لپیٹ کر جاری رکھا۔ نسل کشی سمیت،آبادیوں و حراستی قتل عام میں تیزی
لائی،مگر اسکے باوجود بلوچ قومی سوال ،تشخص و اپنی سرزمین پر حق حاکمیت کی
جہد میں بلوچ قوم کے قدم نہیں ڈگمگائے۔سیاسی و مزاحمتی جہد میں تیزی کے
ساتھ بلوچ قوم کی قربانی کا جنون وطن سے محبت میں ذرہ بھی کمی نہیں آئی۔آج
بلوچ مائیں اپنے ایک اولاد کی قربانی کے باوجود دیگر فرزندوں کو قومی جہد
میں اپنا کردار اداد کرنے کا جس طرح تلقین کرتے ہیں اسے پاکستانی فوج کی
بربریت اپنی ظلم و جبر،بمباری،اغوا و حراستی قتل عام سے مٹا نہیں سکی ہے
،اور یہی بلوچ قومی جہد آزادی کی کامیابی قرار دی جا تی ہے۔
کسی بھی قومی سوال کے گرد جاری تحریک جو مسلح شکل بھی اختیار کر گئی ہو کو
محض طاقت کے زور پر سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا ،فوجی طاقت ، اس حقیقت کا
مظاہرہ زمانہ ماضی سے لے کر حال تک ہر دور اور مقام کے تجربات میں بڑا واضح
طور پر دیکھا جاسکتا ہے، بلوچستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کو بار ہا
آشکار کر چکی ہے کہ اس سرزمین کوبزور طاقت جس شدت سے کچلنے کی کوشش کی جاتی
ہے وہ پہلے سے بھی شدید اور سخت نفرت سے ابھر کر سامنے آجاتا ہے ،یہی کچھ
بلوچستان میں آج بھی نظر آتا ہے ، جو فورسز کی تمام تر پے درپے کارروائیوں
اور طاقت کے استعمال کے باوجود بلوچ عوام کے دلوں سے قابض کے لیے نفرت میں
کمی نہ لا سکی ہے۔بلوچ قوم کی جانب سے قابض سے نفرت میں شدت نے مقبوضہ
بلوچستان کی مستقبل کا فیصلہ سنادیا ہے۔ایک کمزور معاشی ،شدت پسند ریاست
مقبوضہ بلوچستان میں جاری آزادی کی جنگ کو کسی صورت بھی طول نہیں دے سکتا
اس لیے کہ کب تک مذہبی شدت پسندی کے پیسوں یا دہشت گردی کے نام پروصول کردہ
فنڈز سے وہ بلوچ کے خلاف جنگ لڑ سکے گا،اگر یہ سلسلہ طول اختیار بھی کر
جائے تو اہم مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی حوالے سے پسپا فوج کو وہ کب تک مقبوضہ
بلوچستان میں تعینات کر پائے گا ۔یہ چند اہم تاریخی و آفاقی معاملات
ہیں،اگر آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ کیا جائے تو ویت نام سمیت کئی تحریکوں
کی تاریخ ہمارے سامنے ہیں۔ان عالمی پاوروں کے سامنے پاکستانی زر خرید فوج
کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔آج پاکستان کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان میں شدت سے
طاقت کا استعمال اصل میں اسکی آخری سانسیں لینے کے مترادف ہے یقیناًوہ با
آسانی مقبوضہ بلوچستان کی زر خیز سرزمین کو چھوڑنے والا نہیں مگر اپنی پسپا
فوج کو حوصلہ دینے کے ساتھ چین کی آمرانہ پالیسیوں کا ساتھ دینے کے لیے
آپریشنز میں تیزی،قتل و غارت میں شدت ہی اس کی شکست و آخری سانسیں لینے کا
ثبوت ہے۔اب ایسے میں بلوچ قوم کواپنے وطن سے محبت اور سرزمین کی دفاع میں
مزید تیزی ، اعتماد و قربانے اور اچھی حکمت عملیوں کے ساتھ دشمن کے تمام
پالیسیوں و پروپیگنڈوں کا ادراک کرکے انہیں کاؤنٹر کرنا چائیے۔آج قابض و
انکے مقامی حواریوں کی حالت زیرو ہو چکی ہے وہ صرف پروپیغنڈوں و اپنی میڈیا
کے ذریعے بلوچ جہد کے خلاف زہر افشانی کر کے دنیا کو بے وقوف بنانے کے
ساتھ اپنی شکست خوردہ فوج و دیگر حواریوں کو حوصلہ دے رہے ہیں۔
عالمی بدلتے حالات اس وقت مکمل بلوچ قومی جہد آزادی کے حق میں ہیں اس سے
قبل کبھی بھی حالات بلوچ کے لیے ایسے ہموار نہیں ہوئے،اب بیرونی ممالک بلوچ
پالیسی میکرز کو ذرہ سنجیدہ ہو کر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس
بدلتے حالات کا پور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔
مئی کے مہینے میں بلوچستان میں پاکستانی فوج وخفیہ اداروں کے ہاتھوں انسانی
حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تفصیلات پیش کر رہے ہیں جو بلوچ نیشنل
موومنٹ کی میڈیا کو جاری کردہ تفصیلی رپورٹ ہے ۔
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے مئی کے مہینے
کی مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں انسانی حقوق کی گھمبیر
تاصورتحال اورجاری ریاستی بربریت ،جبری گمشدگیوں ،آپریشنزو مسخ لاشوں کی
برآمدگی کی تفصیلی رپورٹ میڈیا کوجاری کرتے ہوئے کہا کہ مئی کے مہینے میں
پاکستانی فوج،ایف سی اور دیگرملٹری بشمول خفیہ اداروں نے 57 آپریشن کر کے
114افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا،جبکہ دوران آپریشن درجنوں گھروں میں لوٹ
مار کے ساتھ50 سے زائد گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا، مئی کے مہینے30 لاشیں
ملیں،13.افراد فورسز کی جارحیت سے شہید ہوئے اور17 کے محرکات سامنے نہ آ
سکے۔جبکہ 23 افراد فورسز کی تشدد خانوں سے بازیاب ہوئے۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ فورسز کی زمینی و فضائی آپریشنز بلوچستان
میں معمول کا حصہ بن چکی ہیں،میڈیا کی خاموشی اور بلوچستان تک رسائی نہ
کرنا ایک المیہ کے ساتھ بلوچ نسل کشی میں تیزی کا باعث بن رہا ہے،انہوں نے
کہا کہ بی این ایم کی جانب سے میڈیامیں جاری کردہ ماہانہ رپورٹ میں تمام
تفصیلات موجود ہوتے ہیں ،جبکہ کئی بار فورسز اپنے بیانات میں اعتراف کرتے
ہیں کہ انہوں نے آپریشن کرکے گھروں کو نذر آتش کردیا ہے اور اپنی اس سنگین
جرم کو چھپانے کے لیے معاون کار کا لفظ استعمال کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ
حیرانگی میڈیا کی خاموشی پر ہوتی ہے کہ وہ حقائق جاننے کے لیے ان آپریشنز
زدہ علاقوں کا دورہ نہیں کرتے یا فوجی ترجمان سے اس بارے سوالات نہیں
اُٹھاتے کہ جہاں وہ درجنوں افراد کی گرفتاری کا دعوی تو کرتے ہیں مگر میڈیا
میں انکے نام کیوں ظاہر نہیں کئے جاتے۔دلمراد بلوچ نے کہا کہ انسانی حقوق
کے اداروں و میڈیا کی بلوچستان صورت حال پر خاموشی ایک سنگین انسانی بحران
کو جنم دے چکا ہے۔
مئی کے مہینے کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے ۔
یکم مئی
**پیر کو ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں واقع جنگل پیر علی زئی سے
لیویز کو ایک نا معلوم شخص کی لاش ملی جسے شناخت کے لئے میزئی اڈہ ہسپتال
منتقل کردیا گیا ۔
** دکی میں ایک نامعلوم شخص نے 17 سالہ نوجوان رحمت اللہ کو قتل کر دیا ۔قتل کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
2 مئی
** پاکستانی فوج نے آج صبح تین بجے ضلع کیچ کے علاقے مندکوہ پشت میں ماسٹر
غلام حسین نامی ایک شخص کے گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد و
ہراساں کرنے کے بعد ماسٹر غلام حسین کے بیٹے شبیر کو حراست میں لیکر لاپتہ
کردیا ہے۔
** کیچ کے علاقے بالگتر میں پاکستانی فوج نے 7افراد کو حراست میں
لیکرنامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔جن کی شناخت شیر دل ولد گہرام ،عارف ولد
محمد حسن،محمد بخش،قادر،عبدالواحدولد شیر محمد،طلال ولدحیدر اوریاسین کے
نام سے ہوگئی۔
**بلوچستان کے علاقے پنجگور سے 11 سالہ لڑکا پراسر ار طور پر لاپتہ ہو گئے۔
گیارہ سالہ بچہ شہزاد گزشتہ روز پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا۔
** منگل کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ کسانو میں آپریشن کرکے
6افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جن میں چار کی شناخت جاوید ولد
جابر،ماجد ولد ہاشم،چارکی ولد ہاشم اور غنی ولد عثمان کے ناموں سے ہوگئی
جبکہ دو کی شناخت تہ حال نہ ہوسکی۔
3 مئی
** گڈانی ساحل سمندر کے کنارے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش پولیس کو ملی۔
پولیس نے لاش تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دی، لاش کو ضروری کارروائی
کے بعد شناخت کے لئے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا،لاش 5 روز پرانی بتائی تھی۔
**بروز بدھ کو پاکستانی فوج نے بولان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر
آپریشن کاآغاز کر کے گھر گھر تلاشی دوران خواتین وبچوں کو تشدد کا نشانہ
بنایا۔گھروں کے قیمتی اشیا لوٹ لئے جبکہ متعدد گھر اور کھیتوں کو نذآتش
کردیا۔دوران آپریشن فوج نے متعدد افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر
منتقل کردیا ۔ علاقے کے مواصلاتی نظام مکمل بند کردیا گیا ہے ۔
** ضلع کیچ کے علاقے مند گوک میں فورسز نے ایک گھر میں دھاوا بول کر خواتین
و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کیا اور عزیز لنگو نامی ایک شخص کو
حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے ۔
**عزیزلنگو دونوں پاؤں سے معذور ہے اور وہ چل پھر نہیں سکتا۔کہا جارہا ہے
کہ عزیز لنگو کو اس سے قبل بھی فورسزحراست میں لیکر لاپتہ کرچکی ہے اور تین
چار روز تک تشدد کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا اور آج پھر اسے لے گئے ہیں ۔
4 مئی
**جمعرات پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے شاپک عمری کہن میں ایک ہوٹل پر
حملہ کرکے3ٹینکر سمیت 6افراد کو حراست میں لیکر کیمپ منتقل کردیا۔جبکہ
میڈیا میں فورسز جانب بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ
گرفتارافراد کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا گیا ہے لیکن حسب معمول گرفتار
افراد کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ۔اسی طرح گذشتہ دنوں 2مئی کو تمپ کو علاقے
کونشقلات میں فوج نے آپریشن کر کے تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا جن میں
3کی شناخت ظفر ولد ملا محمد علی،گل شیر ولد رحیم بخش اورنور بخش ولد عمرکے
ناموں سے ہوگئی ۔
5 مئی
**بروز جمعہ کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ضلع کیچ کے
علاقے تمپ دازن میں بلوچی زبان کے نوجوان شاعر و ادیب زاہد کریم رئیس کو
حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا اور رات گئے واپس چھوڑ دیا۔
6 مئی
** تمپ کے علاقے کوشقلات میں آج بروز ہفتہ کو پاکستانی فوج نے بلوچ موسیقار
و گلوکار منہاج مختار کے گھر پر ایک بار پھر حملہ کر کے خواتین و بچوں کو
تشدد کا نشانہ بنایا۔واضع رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فوج نے استادمنہاج
مختار کے گھر کو نذر آتش کیا تھا اور لوگوں کو شدید دھمکیاں دی تھیں۔
**پنجگور کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو نواب کو اغواء کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
**پنجگور کے علاقے سے 5 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونیوالا نوجوان شہزاد گھر پہنچ گیا ۔
8 مئی
**مند گیاب میں اصغر ولد داداللہ عرف ناکو ابراہیم فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔
9 مئی
**بروزمنگل کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ گومازی میں علی الصبح
آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ کئی گھروں میں
لوٹ مار کے بعد انہیں نذر آتش کیا گیا ۔آپریشن دوران فورسز نے 2افراد کو
حراست میں لیکر لاپتہ کیا جن کی شناخت جاسم ولد پیر بخش اوروحید ولد غفورکے
ناموں سے ہوگئی۔مقامی ذرائع کے مطابق جاسم پیر بخش گلف کے ملک بحرین میں
کام کرتا ہے اور کچھ دنوں قبل چھٹیا ں گزارنے کیلئے گومازی آیا تھااور آج
انہیں واپس بحرین جانا تھا۔
**پسنی سے لاپتہ ایک اور نوجوان کی حراستی قتل،لاش برآمد ، گذشتہ دو تین دن
قبل ضلع گوادر کے تحصیل پسنی کے علاقے چربندر میں پاکستان آرمی و خفیہ
اداروں نے آپریشن کرکے بالاچ بلوچ نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ
کیا جسے تشدد کے بعد آج بروزمنگل کوان کی لاش کو پسنی میں پھینک دیا گیا
ہے ۔
** تربت کے علاقے سلو بلیدہ کے مقام پر 4 نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے
اکرم نامی شخص کے گھر پر اندھادھند فائرنگ کر کے اکرم اور اس کی بیوی کو
قتل جبکہ ان کی بیٹی فاطمہ بی بی کو شدید زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے ۔
**پاکستانی فوج وخفیہ اداروں نے ایک نوجوان کو اس کے ساتھی کے ساتھ حراست
میں لیکر لاپتہ کردیا جس میں ایک کی شناخت مولداد ولد فقیر محمد تعلق باز
واجہ کلانچ تحصیل پسنی کے نام سے ہوئی ہے ۔
** منگل کی رات کیچ کے علاقے بلنگور دشت میں نامعلوم افراد نے رستم کے گھر
پر بم پھینکا جو زورداردھماکے سے پھٹنے کے نتیجے میں خاتون مراد بی بی ہلاک
جبکہ 3خواتین حاتم بی بی ، عظمیٰ بی بی ،لیلیٰ بی بی اور شبیر زخمی ہوگئے۔
10 مئی
ستائیس اپریل کو تربت سے اغوا ہونے والا طالب علم حضور جان ولد واحد بخش بازیاب ہوگیا۔
**کوئٹہ سے لاش برآمد،شناخت نہ ہوسکی ،بدھ کو کوئٹہ کے علاقے مغربی بائی
پاس پر کلی خیزی کے مقام پر پولیس کو نا معلوم شخص کی لاش ملی جسے شناخت کے
لئے سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ۔
**ضلع کیچ کے علاقے تمپ گومازی میں آپریشن کر کے گھر گھر تلاشی لی ۔ کئی
گھروں میں خواتین و بچوں کو تشددکا نشانہ بناکر لوٹ مار کی گئی ۔جبکہ بلوچ
فنکار سدھیر بلوچ کے گھر میں بھی فورسز نے لوٹ مار کے بعد ان کا یکا کرولہ
گاڈی اور ایک موٹر سائیکل کو لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔واضع رہے کہ گذشتہ
دنوں ایک بلوچ موسیقار منہاج مختار کے گھر کو بھی لوٹ مار کے بعد نذر آتش
کیا گیا ۔
** دشت کے علاقے باھوٹ چات میں فوج نے دھاوا بول کر سدیر ولدمقبول ، محمد جان ولد آدم اور اس کے بیٹے زبیر کو اغوا کیا ۔
11 مئی
**جمعرات کو پاکستانی و فوج و خفیہ اداروں نے گوادر نیو ٹاؤن سے ایک نوجوان
کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جس کی شناخت صغیرولد بابو کے نام سے ہوگئی
جبکہ اس کا تعلق دشت سے بتایا جارہاہے۔
**دشت میں فورسز کا آپریشن، 3لاپتہ ، تربت سے ایک بازیاب،کیچ کے علاقے
باہوٹ چات میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے آپریشن کر کے ایک گھر میں
خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 3افراد ایک باپ کو 2بیٹوں سمیت
حراست میں لیکر لاپتہ کیا جن کی سدھیر مقبول،محمد جان اور زبیر کے ناموں سے
ہوگئی۔جبکہ فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ایک طالب علم حضور جان ولد واحد بخش
تربت سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا۔
12 مئی
**پسنی و دشت سے فورسز ہاتھوں 9افراد جبری طور پر لاپتہ، ضلع گوادر کے
تحصیل پسنی شہر سے کلانچی محلہ میں آپریشن کر کے 7افراد کو حراست میں لیکر
لاپتہ کردیا ہے ۔جنکی شناخت ابھی تک نہ ہوسکی ہے ۔جبکہ ضلع کیچ کے علاقے
دشت اور مند کے درمیان واقع علاقے کترینزمیں فورسز نے دو افراد کو حراست
میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت معاس ولد عبداللہ اور شعیب مولا بخش کے
ناموں سے ہوگئی ۔مقامی ذرائع کے مطابق شعیب اور معاس کاشاپ سے مند جارہے
تھے کہ فورسز نے جبری طور پر حراست بعد لاپتہ کئے ۔
**گذشتہ دنوں گوادر میں پاکستانی فوورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے صغیربابوبازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
** بروز جمعہ کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے ضلع کیچ کے علاقے مند بلوچ
آباد سے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے ۔جس
کی شناخت عبدلرزاق ولد شفیع محمد کے نام سے ہوگئی ۔
14 مئی
**گریشہ پاکستانی فوج کا آپریشن جاری، تین کمسن بچوں سمیت7 افراد حراست بعد
لاپتہ،گریشہ کے علاقے آسپ کنری میں فورسز نے آبادی پر حملہ کر کے خواتین و
بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی اور چار افراد
غلامی بلوچ،علم خان،کریم جان،اور امیر بلوچ کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔،
گریشہ کے علاقے بدرنگ میں آبادی پر دھاوا بول کر گھر میں لوٹ مار بعد تین
کمسن بچوں ، ندیم بلوچ عمر 9 سال، آصف عمر14 سال اورافضل کو حراست بعد
لاپتہ کردیا۔
** آواران کے علاقے بزداد گند کور لنک میں پاکستانی فوج نے فائرنگ کر کے بی
ایس او آزاد کے آرگنائزنگ باڈی کے ممبر سراج عرف سواد بلوچ کو شہید کر
دیا۔
15 مئی
** پیر کو کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع کلی سردہ میں نا معلوم موٹر سائیکل
سواروں نے رکشے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں46سالہ رکشہ ڈرائیور میر
افضل ہلاک ہوگیا ۔
16 مئی
** پیر کے روز پاکستانی زمینی فوج نے پیدارک کے مختلف علاقوں گورکوپ،سری
کلگ و دیگر علاقوں کا محاصرہ کرنے کے بعد آبادی پر دھاوا بول دیا،گھروں میں
لوٹ مار بعد درجن سے زائد گھروں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ 7 افراد خو حراست
بعد لاپتہ کر دیا،جنکی شناخت نورالدین ولد مزار،صادق ولد نیک بخت،جمیل ولد
دلمراد ،شوکت ولد پنڈل،ریاض ولد احمدنصرت ولد قاسم،عمران ولد محراب سے
ہوئے۔
**آواران کے علاقے تیریج میں پاکستان فوج نے آبادی کو محاصرے بعد دھاوا بول
کر خواتین و بچوں سمیت موجود بزرگوں اور مردوں کو الگ الگ لائن میں کھڑا
کرنے کے ساتھ لوگوں کو خالی میگزین والی بندوقین تھمانے کے ساتھ پاکستان
زندہ باد اور بلوچستان مردہ باد کے نعرے لگوائے اور ان مناظر کی تصویر کشی
کے ساتھ ویڈیو بنائے،خواتین نے پاکستانی فوج کی اس عمل پر احتجاج کرنے کے
ساتھ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے جس پر فوجی اہلکاروں نے خواتین و بچوں
کو ایک لائن میں کھڑا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے بزرگ بلوچ ماں
حوا بی بی سمیت در بی بی،ملک خاتوں شدید زخمی ہوئے۔پاکستانی فوج نے
زبردستی لوگوں کو بندوق تھما کے پاکستان کے حق میں نعروں کی فلم و تصاویر
کشی کی۔
17 مئی
جیونی کے علاقے پانوان میں فوج نے دھاوا بو ل کر لوگوں پر تشدد کی اورُ یعقوب ولدبشیر کو اغوا کر لیا۔
18 مئی
**جمعرات کو کچلا ک کے علاقے سملی سے پولیس کو ایک نا معلوم شخص کی لاش ملی جسے شنا خت کے لئے ہسپتال منتقل کردیاگیا ۔
** جمعرات کو نصیرآباد کے علاقے گوٹھ علی نواز عمرانی میں نا معلوم افراد
نے فا ئرنگ کر دی جس کے نتیجے میں اعجاز عمرانی ہلاک ہوگیا ۔
**دشت کے علاقے زیارتی اور جان محمد بازار میں فوج نے دھاوا بول کر کئی
لوگوں کو اُٹھا کر لاپتہ کیا۔ ان کی شناخت شاہ جان ولد عیسٰی،اصغر ولد لعل
بخش،رفیق ولدلعل بخش ،امیتان ولد رفیق ،شے محمد ولد محمد،درجان ولد شے
محمد،مراد جان ولدبابو، عنایت ولدشیرمحمدکے ناموں سے ہوگئی۔
* *گوادر ٹی ٹی سی کالونی میں فوج نے دھاوا بول کر دو بلوچ
افرادکواغواکرلیا۔ولید ولدحاجی ابولحسن اورشعیب ولد صالح محمد جو دشت زرین
بگ کے رہائشی ہیں۔
19 مئی
**کراچی کے لیاقت ہسپتال میں پاکستانی فورسز وخفیہ اداروں نے ایک بلوچ
نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جن کی شناخت غفار ولد عبدالغور کے نام
سے ہوگئی ۔
** پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے گومازی میں کھجوروں کے باغات سے چار
افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت عمران ولدحاجی
عبدالرحمن،نصیر ولد مولابخش،مہری ولد ولید اور طارق ولد حاجی احمد کے ناموں
سے ہوگئی جواپنے باغات کیلئے پانی کھول رہے تھے کہ فوج نے انہیں حراست میں
لیکر لاپتہ کیا ۔واضع رہے کہ فوج نے کھجوروں کے باغات میں جانے کیلئے
پابندی لگادی لیکن علاقے کے لوگوں کا ذرائع روزگار اور معاش کھجور سے
وابستہ ہے ۔
** ڈیرہ بگٹی اور کوہستان مری کے سرحدی علاقوں جنت علی، سخین، چب در، نیساو
اور سہراوغ میں پاکستانی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بلوچ آبادیوں کو
بلاتفریق نشانہ بنایا اور بھرپور فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غریب
دیہاتیوں کی گھروں اور جھونپڑیوں پر دھاوا بول دیا۔ کارروائیوں میں ایک
بلوچ شہید جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔ بڑی تعداد میں گھروں سے لوٹ مار کرکے
انہیں نذر آتش کردیا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران متعدد بے گناہ بلوچ
فرزندان کو اغواہ کیا گیا ۔
**3 مئی کوفورسزکی فائرنگ سے وحید احمد المعروف محترم شہید ہوگئے ۔
20 مئی
**تفتان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔
**آواران ،دشت و تجابان میں آپریشن ، قتل،7لاپتہ،ایک بازیاب ۔ بروز ہفتہ کو
پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت جان محمد بازار اور تجابان کرکی میں
آپریشن کرکے 4افراد کوقتل جبکہ7کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جنکی شناخت
جلیل ولد گل محمد،ولید ولد میاہ،عیسیٰ ولد شمبے ،ماسٹر سراج ،گہرام الہی
بخش کے ناموں سے ہوگئی۔فورسز نے تجابان میں دوران آپریشن شاکرولد درا نامی
ایک شخص کے گھر کو نذر آتش کردیاجبکہ خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشاناہ
بنایا یا گیا۔ دریں اثنابلوچستان کے علاقے آواران میں پاکستانی فوج نے
آپریشن کرکے 4افرادکوہلاک 2کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔ آواران میں فورسز
ہاتھوں قتل اور لاپتہ ہونے والے افراد کی ابھی تک شناخت نہ ہوسکی۔علاوہ
ازیں بالگتر سے فوج کے ہاتھوں دوران آپریشن لاپتہ ہونے والے ایک نوجوان
بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے جس کی شناخت یاسر بہرام تربت سے بازیاب ہوکر
اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
**کیچ: تل،ہوشاپ ،تجابان میں آپریشن ۔ ہوشاپ سے فوج کے ہاتھوں دو بچے اغوا
ہوئے تو علاقے کے خواتین نے احتجاج کرکے بچوں کو چھڑا لیا۔ ہوشاپ تل میں
کئی گھر نزشر آتش اور تجابان سے شکر نامی شخص فوج کے ہاتھوں اغواہوئے۔
21 مئی
** صبح سے جاری جھاؤ میں آپریشن میں اتوار کے روز بھی شدت لائی گئی ہے۔بیلہ
سے جھاؤ اور آواران سے جھاؤ کے راستے سیل کرنے کے ساتھ درجنوں گاؤں اس وقت
فوجی محاصرے میں ہیں،زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہاز
بھی اس آپریشن میں شامل ہیں۔ جھاؤ میں مواصلاتی نظام کی بھی مکمل بند کر
دیا گیا ہے۔،آواران میں مقامی انتظامیہ نے جھاؤ آپریشن کی تصدیق کر دی ہے
مگر انکے مطابق انکے پاس بھی اس آپریشن کی تاحال نقصانات کی تفصیل نہیں ہے
انکے مطابق مقامی انتظامیہ کو بھی فوج نے جھاؤ میں جانے سے روکھ دیا
ہے۔تاحال آپریشن اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری جاری ہے۔
**کیچ کے علاقے دشت کنچتی کراس سے پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں اور انکے
لے پالک مقامی ڈیتھ اسکواڈ اہلکاروں نے مسافر بس سے چیئر مین دوست ولد حسن
نامی ایک شخص کو جبری طور پر حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔واضع رہے کہ چیئر
مین دوست محمد شہید طاہر کے والد ہیں اور ان کا تعلق گومازی سے ہے ۔ جبکہ
ایک دوسرے واقعہ میں پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے کراچی کے علاقے ملیر
سے باسط ولد عبدالقادر نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جو
گوادر کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔
**پنجگوردمگ گرمکان میں فوج نے شہید دادجان ولد یاسین کے گھر پر چھاپہ مار
کر خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے قیمتی سامانوں سے کو
لوٹ لیا۔
**مندکے علاقے دوکوپ میں فوج نے کراچی سے آنے والی بس سے علی اکبر ولدحاجی اکرم سکنہ ہوزئی کو اغوا کر لیا۔
ؓؓؓؓؓ **پنجگور گرمکان سے فوج نے بلوچی زبان کے شاعرملک ابرارکے فرزند وسیم بلوچ کو اغوا کر لیا۔
22 مئی
**جھاؤ آپریشن جاری،چار لاشوں کی شناخت ہو گئی، جھاؤ میں تیسرے روز بھی
پاکستانی فوج کا آپریشن جاری ہے،جبکہ گزشتہ روز پاکستانی فوج نے چار مسخ
لاشیں ہسپتال کے باہر پھینک دئیے ،جنکے شناخت جیب میں موجود پرچیوں سے ان
ناموں سے ہوئے،ہدایت اللہ،صدام بلوچ،ماجد اور حسین سے ہوئے۔ دو لاشوں کے
چہرے مسخ تھے جن کے جیب میں پرچی پہ ماجد اور حسین درج تھا ۔
**پیر کے روز دشت کے علاقے شولیگ میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا
بول کر گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے
کے ساتھ کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا۔
**دشت زرین بگ میں فوج نے دھاوا بول کر خواتین اور بچوں پر تشدد کی اور ان
کے موبائل فون چھین کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ساتھ ہی زرین بگ کے رہائشیُ
عزیزولد امان کو اغوا کر لیا۔
** بروز پیر کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کمبیل میں آپریشن
کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،گھروں کی قیمتی سازوسامان لوٹ
لئے جبکہ متعدد گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔ فوج نے علاقہ مکین کو فوری طور
پر علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دی اورکہا کہ خالی نہ کرنے کی صورت میں علاقے
کے تما م گھروں کو قیمتی سازوسامان کے ساتھ نذرآتش کردیا جائے گا ۔واضع
رہے کہ جن خاندانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا انہیں فوج نے پہلے دھمکی
دی تھی کہ گھروں کو خالی کرکے جائے اورانہوں نے گھروں کو خالی نہیں کیا تو
انہیں قیمتی سازوسامان کیساتھ نذر آتش کیا گیا۔فورسز کی آئے روز آپریشن سے
اب تک80فیصد لوگ علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کرچکے ہیں ۔دشت سی پیک روٹ پر
واقع ہے اور بلوچستان بھر میں سی پیک روٹ پر واقع تمام آبادیوں کوپاکستانی
فوج زبردستی نقل مکانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔
23 مئی
**ضلع گوادر کے تحصیل شہر پسنی سے پاکستانی خفیہ اداروں اور فورسز نے ایک
گھر پر حملہ کرکے 2افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جنکی شناخت آصف ولد
نذر رہائشی وارڈ نمبر6اور ریحان ولد ریاض رہائشی وارڈ نمبر1کے ناموں سے
ہوگئی۔گھر پر حملے کے دوران فورسز نے خواتین و بچوں کو شدیددتشدد کا نشانہ
بھی بنایا۔
**تربت کے علاقے بلیدہ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کے ا سکول
ٹیچر شوکت علی کو ہلاک کر دیا جبکہ سبی کے علاقے خجک میں نامعلوم مسلح
افراد نے فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کر دیا۔
**بروز منگل کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے آواران کے علاقے بیدی میں
ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جن کی شناخت حاسد ولد ہاشم کے نام
سے ہوگئی۔
**گزشتہ روز پسنی سے ریحان ولد ریاض ،آصف ولد نزیرفوج کے ہاتھوں اغوا ہوئے
تھے۔ ریحان کو آج چھوڑ دیا گیا جب کہ آصف ابھی تک لاپتہ ہیں۔
**تمپ گومازی میں کچھ دن پہلے اغوا ہونے والے ساجداور وحید بازیاب ہوئے جب کہ جاسم ابھی تک لاپتہ ہیں۔
**29 جولائی2016 کو فوج کے ہاتھوں تربت سے اغوا ہونے والے صبور ولد یعقوب
سکنہ بگ تربت،گزشتہ دنوں دشت سے لاپتہ ہونے والے عزیزولد امان سکنہ دزریں
بگ، 18 مئی کو گوادر سے اغوا ہونے والے ولید ولد ابولحسن سکنہ د دشت بازیاب
ہوگئے، جبکہ ولید کے ساتھ اغوا ہونے والا شعیب ابھی تک لاپتہ ہیں۔
24مئی
** ضلع کیچ کے علاقے دشت جان محمد بازار گاؤں کے اسکول اور واٹر سپلائی
عمارتوں پر قبضہ کرکے اپنی چوکیاں قائم کردیں۔جبکہ علاقہ مکینوں کوایک ہفتے
کے دوران فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر علاقہ
خالی نہ کیا گیا تو خواتین و بچوں کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جائے گاجس
سے علاقے کے80فیصد لوگوں نے مجبوراًنقل مکانی کی جبکہ باقی بچے لوگ انتہائی
خوف و ہراس میں ہیں۔ واضع رہے کہ دشت سی پیک روٹ پر واقع ہے اورپاکستانی
فورسز کاآئے روز آپریشن و لوگوں پر تشدد اور گھروں کو نذر آتش کرنا ایک
معموم بن چکا ہے اور علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں اس پر مستزاد ہیں۔ جس پر
لوگوں کو اپنی جدی پشتی علاقہ، کھیت کلیان ، گھر پار اور زندگی بھر کی
ماحصل زبردستی چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔
**بروز بدھ کو پاکستانی خفیہ اداروں اور فورسز نے کلانچ سے پسنی آنے والی
ایک مسافر وین کو پسنی کالج کے قریب روک کر اس میں سوار الہٰی بخش ولد
یعقوب نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔الہٰی بخش کا تعلق
باز واجہ کلانچ سے بتایا جارہا ہے۔واضع رہے کہ اس سے قبل بھی کلانچ سے
فورسز نے متعدد افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا ہے ۔
25 مئی
**تمپ گومازی میں بی این ایم کے رہنما غلام نبی،عبدالرحمٰن اور عبدالسلام کے گھروں کو فوج نے جلا ڈالا۔
**گوادر سے ایک لاش برآمدہوئی جسکی شناخت نسیم ولد رحمت سکنہ پٹھان کہور تربت کے نام سے ہوئی۔
**21 مئی کو فوج و ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اغوا ہونے والے دوست محمد ولد حسن سکنہ گومازی تمپ کی لاش دشت سے برآمد ہوئی۔
**21 اپریل کو سولیر تحصیل بیسمہ آپریشن میں اغوا ہونے دس بلوچ فرزندوں کو
فوج نے چھوڑ دیا۔ ان کے نام ر لال جان ولد پیر محمد ، بشیر ولد قادربکش
،بورجان ولد محمد،رزامحمد ولد اسماعیل ،آسپ ولد نورمحمد ،الی جان ولد گزی
،ایوب ولدنورمحمد،فتح محمد ولد الی،نزیرولد حاجی،دادکریم ولد عصاء ہیں۔
27 مئی
**ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں پاکستانی فورسز نے ایک گھر میں دھاوا بول کر
خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دو افراد کو حراست میں لیکر
لاپتہ کردیا جن میں ایک کو بعد ازاں چھوڑ دیا جبکہ ایک تاحال لاپتہ ہیں
جنکی شناخت توفیق ولد عبدالمجید کے نام سے ہوگئی ۔
** ہفتے کو نوشکی میں امین الدین روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے واپڈا اہلکار نبی بخش کو ہلاک کر دیا اور فرار ہوگئے ۔
**ہفتے کو ایرانی باڈر فورسز نے ایک بار پھر سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کر
تے ہوئے پنجگور میں مارٹر گولے فا ئر کیے جو پنجگور سے منسلک بارڈر حدود
میں ایک گاڑی پر گرے جس کے نتیجے میں ایک شخص کریم جان جاں بحق ہوگیا۔
**خضدارکے علانال میں فائرنگ سے لعل جان ساسولی زخمی اور اس کا بیٹا ہلاک ۔
لعل جان ساسولی شفیق مینگل کی سربراہی میں ریاستی ڈیاتھ اسکواڈ کا اہم
کارندہ تھا۔
**دشت:کروس تنک میں پاکستانی فوج نے فائرنگ کرکے دو آزادی پسند چاکر ولد
ڈاکٹر رؤف سکنہ تربت اور عبدالسلام ولد غفار سکنہ دشت کروس تنک کو شہید
کردیا۔
29مئی
سوراب میں ایک گھر پر فوج کا اندھا دھند فائرگ، خدا نذر نامی ایک بلوچ فرزند شہیدہوئے۔
**کوئٹہ کے علاقے سریاب سے ایک لاش برآمد ہوئی۔
30مئی
خضدار: تحصیل نال کے علاقے گریشہ باہڑی میں فوج نے حسین ساجدی نامی شخص کے گھروں کو جلا دیا۔
دشت کمبیل میں فورسز نے ڈاکٹر غلام رسول کے گھروں کو جلا دیا۔
***
Post a Comment