Translate In Your Language

New Videos

پاھار...... بلوچستان میں کتابوں پر ریاستی قدغن،ماہِ جون میں86فوجی آپریشنز میں121 افرادلاپتہ،30لاشیں برآمد،سنگر کا ماہانہ رپورٹ و تجزیہ

پاھار...... بلوچستان میں کتابوں پر ریاستی قدغن،ماہِ جون میں86فوجی آپریشنز میں121 افرادلاپتہ،30لاشیں برآمد،سنگر کا ماہانہ رپورٹ و تجزیہ

......پاھار......

بلوچستان میں کتابوں پر ریاستی قدغن

ماہِ جون میں86فوجی آپریشنز میں121 افرادلاپتہ،30لاشیں برآمد

سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ

چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے

بلوچ سرزمین پر ہر مہینہ اپنی الگ خونی داستان کے ساتھ اختتام پذیرہو تا ہے۔ اسی طرح جون 2017 کے مہینے میں بھی مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں ریاستی بربریت میں کمی کے بجائے مزید تیزی دیکھنے کو آئی۔ڈیرہ بگٹی،مستونگ، اسپلنجی،قلات،آواران،مشکے ،پنجگور ،کچک،پروم،ہوشاپ،مند ،تمپ و دشت کے ساتھ ساحل بلوچ بھی خاص ریاستی نشانے پر رہا۔ضلع گوادر کے مختلف علاقوں گوادر شہر،جیونی ،پسنی میں توفوجی طاقت کو بے دریغ استعمال میں لایا گیا،وہیں ساحل بلوچ کے فرزند شاکر بلوچ نے وطن کی دفاع میں نئی تاریخ رقم کر کے دشمن فوج کے ہتھکنڈوں کو ناکام کر دیا تو دوسری جانب حمل جےئند کی سرزمین سے مہر و محبت و شاکر جان کی عظیم قربانی کو ایک بے ضمیر بلوچ نے سرنڈر کی شکل میں چیلنج کرنے کی کوشش کی،مگر تاریخ گواہ ہے کہ سرنگوں ہونے سے وہ تاریخ میں بد نما داغ بن جاتے ہیں۔خاندانی مفادات اور زر ومال کے لیے قومی اقدار کو دھاؤ پر لگانے والے تاریخ سے سبق سیکھیں۔بلوچ تو انکا احتساب ضرور کرے گی،مگر ایسے عناصر سماج میں بھی ایک بدنما داغ کے طور پر جانے جائیں گے۔

جون کے مہینے میں ریاستی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان بھر میں86 سے زائد آپریشن کر کے121 افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،30 نعشیں برآمد ہوئیں جس میں11 بلوچ فرزندوں کو شہید کیا گیا،مستونگ آپریشن کے بارہ لاشوں کے ساتھ دیگر چار لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی، جبکہ تین لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔دوران آپریشنز درجنوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ23 سے زائد گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا،60 مال مویشوں کو بھی فورسز نے قبضہ میں لینے کے ساتھ بڑی تعداد میں اناج و گندم کو بھی ملٹری کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔

جو ن کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے زمینی و فضائی آپریشنوں میں شدت لائی ۔مستونگ،اسپلنجی میں فورسز نے یہ کہہ کر آپریشن کیا کہ مغوی چینی جوڑے کی اطلاع کی بنا پر مستونگ و گرد نواح میں داعش کے خلاف آپریشن کیا گیا۔یکم جون سے شروع ہونے والے آپریشن میں پاکستانی زمینی فوج کے ساتھ فضائیہ نے پہاڑوں پر جی بھر کے بمباری کی،تین دن بعد 15 زخمیوں کو کوئٹہ ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں خواتین و بچوں سمیت کچھ بلوچ بزرگ شامل تھے جو اس فوجی آپریشن کی زد میں آئے۔اگلے روز پاکستانی فوجی ترجمان نے کہا کہ اس آپریشن میں داعش کے مرکزی کمانڈر سمیت کئی کمانڈر12 ساتھیوں سمیت مارے گئے ہیں،مگر مغوی چینوں کا تو پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد ہلاک شدگان کی پروفائل وتصاویر بھی میڈیا میں شائع نہیں کیے گئے۔یہ کیسا آپریشن تھا جب کہا جا رہا ہے کہ داعش کے اہم کمانڈر مارے گئے،مگر ثبوت کچھ نہیں اور پھر انھیں شناخت نہ ہونے کا ایک اور بیان جاری کرکے دفنا دیا جاتا ہے،بے ضمیر میڈیا بھی خاموش ہے کہ، ان بے لگام فوجیوں سے پوچھے کہ جناب تمھیں کیسے پتہ یہ داعش کے کمانڈر تھے،کیونکر ان ناموں و چہروں کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا گیا۔افسوس کہ پاکستانی میڈیا صرف اور صرفispr کی زبان بولتا اور سمجھتا ہے اور اسکی پریس ریلیز پر ہی اکتفا کرتاہے۔ ۔حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک جانب یہ کہتے ہیں داعش کے کمانڈر پھر لاوارث دفنانا اب اس فوج کو کہیں سے بشارت ہوئی کہ یہ اہم کمانڈر تھے،یا یہ فوج کے اپنے بے لگام پیداوار تھے جن کوختم کیا گیا یا کوئی عام مظلوم بلوچ تھے۔ پاکستان میں اب صحافت لفافہ صحافت سے بدتر ہو چکی ہے ،جبکہ بیرونی میڈیا کو یہاں آنے کی اجازت نہیں اور جو انکے نمائندے یہاں ہیں وہ بھی مملکت خدادا کی فوج کے رحم و کرم پر خاموشی میں ہی خود کی عافیت سمجھتے ہیں۔ایک غور طلب بات ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج ہمیشہ سے داعش کے وجود سے یہاں انکاری تھے،جبکہ بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے غالباً2016 سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پراپنے اانٹرویوز و بیانات میں کہتے رہے ہیں کہ داعش و دیگر اسلامی شدت پسندوں کو آئی ایس آئی و فوج کی سربرائی میں مقبوضہ بلوچستان میں محفوظ پناہ گائیں دینے کے ساتھ انکو پروان چڑھایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ جہد کو قابض با آسانی اپنے ان ٹولز کے ذریعے کاؤنٹر کر سکے۔ اسی طرح وقتاً فوقتاً ادارہ سنگر کی جانب سے بھی اس بارے رپورٹ شائع کیے جا چکے ہیں لیکن کیا کہیں علم و شعور پر قدفن نے اس سماج و سول سوسائٹی کو بے ضمیر اور صحافت کو رکھیل بنا دیا ہے۔اب یہ سوال کیوں اور کیسے کریں کہ جناب آپ تو داعش کے وجود سے انکاری ہو،دوسری جانب کہتے ہو کہ داعش کے خلاف آپریشن کیا ہے،پھر جب مغوی چینی جوڑے کی موت کی ویڈیو شائع ہوئی تو صاحب طاقت کی جانب سے بیان آیا جناب یہ ویڈیو اصلی نہیں پھر کہتے ہیں کہ جی یہ تو کرسچن مذہب کی تبلیغ کر رہے تھے انکے ساتھ تو ایسا ہونا تھا،ایک پل میں گرگٹ سے بھی زیادہ رنگ بدلنا واقعی پاکستانی فوج کا کمال ہی ہو سکتا ہے۔

جون ہی کے مہینے میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے بی این ایم کے رہنما ڈاکٹر دین بلوچ کے بچوں کی جانب سے عید کے تین دنوں کے لیے احتجاجی کیمپ لگایا گیا تاکہ وہ دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کر اسکیں۔کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ میں میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت کسی انسانی حقوق کے اداروں کے ذمہ داروں کا رخ نہ کرنا اور پاکستانی میڈیا کی جانب سے اس کیمپ پر خاموشی کوئی نئی بات نہ رہی۔

اسی ماہ ریاستی فورسز کی جانب سے ایک بار پھر سنگر پر قدفن لگانے کے لیے پوری طاقت کا استعمال کیا۔ادارہ سنگر کی ویب سائیٹ پر سائبر حملے تو معمول کی باتیں ہیں،سنگر کتابی سلسلہ 15 ’’پلید تر باشد‘‘ جو عظیم دانشور اُستاد میر محمد علی ٹالپر صاحب کی تحریروں کا نایاب مجموعہ تھا،کوکیچ ٹرانسپورٹ سے حراست بعد تربت آرمی کیمپ منتقل کر دئیے گیا۔

سی پیک کو لے کر چین جانب مزید تشوتش دیکھنے کو آئی جہاں تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ پاکستان کی مقبوضہ بلوچستان و سی پیک پر گرفت سے بالکل خوش نہیں اور ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں باقاعدہ سی پیک سیکورٹی کو لے کر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا کہ اس حوالے چین پاکستان مشترکہ سیکورٹی دینگے۔

سی پیک کو لے کر بھارت بھی دنیا و امریکہ سمیت چین پر اب تک کوئی دباؤ نہیں ڈال سکے۔دوسری جانب سی پیک و چین کی اس خطے بذریعہ مقبوضہ بلوچستان خطرناک عزائم کو لے کر بلوچوں کی بھی خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔

مودی کی امریکہ دورے سے قبل پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا،جو یقیناًاس دہشت گرد ریاست کو لگام دینے کے لیے بہترین حکمت عملی ہو گا، اس لیے کہ اس آڑ میں پاکستان کو بلین ڈالر عسکری و معاشی امداد امریکہ و اتحادیوں کی جانب سے مل رہا ہے جو یقیناًوہ بلوچ نسل کشی سمیت دنیا کو غیر متوازن کرنے کے لیے مذہبی دہشت گردی کو فروغ دینے سمیت افغانستان میں اپنے خونی پنجھے مزید گاڑنے کے لیے استعمال کر رہا ہے،ایسے میں اس بل کی منظوری محکوم اقوام سمیت اس خطے کے لیے ایک بہترین پیش رفت ہوگی۔جون کے مہینے بلوچ سرزمین کے اردگرد رونما ہونے والے واقعات میں سے عرب تنازعہ اہم ہے،جہاں قطر پر مختلف عرب ممالک نے پابندی لگا دی ہے، جو یقیناًاس خطے میں نئی تبدیلوں میں کردار ادا کرے گی۔ اور اسکے نتائج بھی جلد سامنے آنے کے توقعات ہیں۔

جون کے مہینے میں بلوچستان میں پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی داستان ہم بی این ایم کی جاری کردہ تفصیلی ماہانہ رپورٹ کی صورت میں اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں ۔

تفصیلی رپورٹ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی سیکر ٹری اطاعات دلمراد بلوچ نے حسب معمول بلوچستان میں پاکستانی فوج و مقتدرحلقوں کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف و جنگی جرائم کی ماہانہ رپور ٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جون کے مہینے میں ریاستی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان بھر میں86 سے زائد آپریشن کر کے121 افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،30 نعشیں برآمد ہوئیں جس میں11 بلوچ فرزندوں کو شہید کیا گیا،مستونگ آپریشن کے بارہ لاشوں کے ساتھ دیگر چار لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی، جبکہ تین لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔دوران آپریشنز درجنوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ23 سے زائد گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا،60 مال مویشوں کو بھی فورسز نے قبضہ میں لینے کے ساتھ بڑی تعداد میں اناج و گندم کو بھی ملٹری کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریاستی عقوبت خانوں سے52 افراد بازیاب ہوئے،اس اعداد و شمار میں متعدد افراد جو حراست میں لینے کے اسی روز یا اگلے روز فورسز نے چھوڑ دئیے وہ شامل نہیں کیے گئے جو جون کے ماہ کی تفصیلی رپورٹ میں شامل ہیں۔مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ ہمیں یہ تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بڑے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ عالمی انسانی حقوق ادارے بشمول میڈیا بلوچستان میں جاری پاکستان آرمی و خفیہ ادارے اوراس کے لے پالک مذہبی انتہا پسند سویلین وملیشیا دستوں کی بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچوں کی نسل کشی ، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل سمیت لاپتہ افراد کی حراستی تشدد وہلاکت پر مجرمانہ خاموشی سے بلوچستان ایک عظیم انسانی المیے سے دوچار ہے ۔موصل و شام میں داعش کی بربریت بلوچستان میں پاکستان آرمی کی زیرسرپرستی اسی تسلسل کے ساتھ جاری ہے لیکن یہاں فرق صرف یہ ہے کہ وہاں عالمی میڈیا داعش کی وحشت ناکیوں کو اپنے کیمرے کی آنکھ اور قلم کے ذریعے روشناس کرارہی ہے اور یہاں بلوچستان کی صورت کشی کیلئے کوئی میڈیا و انسانی حقوق ادارے وجود نہیں رکھتے ،جس سے دنیا کی آنکھوں سے اوجھل بلوچستان کی انسانی حقوق صورتحال محض پاکستانی فوج کی ترجمان آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز سے ’’ سب اچھا ہے ‘‘ کے خونی سیاہی سے جاری ہوتا ہے ۔دلمراد بلوچ نے کہاکہ بلوچستان میں میڈیا و انسانی حقوق اداروں کی خاموشی اورتحقیقاتی رپورٹنگ سے ہٹ کر حکومتی بیانیہ کو صحافت و حقائق تسلیم کرنے سے عیاں ہے کہ مذکورہ ادارے مکمل مرچکے ہیں ۔دلمراد بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر مکمل قدغن لگایا گیا ہے جو قوم پرست سیاسی پارٹیاں پاکستان کی پارلیمانی نظام کو نہیں مانتے ان کے لئے سرفیس میں کوئی جگہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں روپوش ہونا پڑتا ہے لیکن روپوشی کے بہانے اسے مسلح قرار دیکر اس تنظیم کو کالعدم اور اس کارکنان کو گھروں سے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور میڈیا بلوچستان میں جاری اس عظیم انسانی المیے پر اپنی توجہ مبذول کریں ورنہ تاریخ کا یہ ایک وحشتناک باب بن جائے گا اور اس کے مجرمان میڈیا و انسانی حقوق ادارے ہونگے۔

جون کے مہینے کی تفصیلی رپورٹ روزنامچے کی صورت میں درج ذیل ہے ۔

یکم جون2017ء

**مستونگ کے پہاڑی علاقے کوہ سیاہ تلخ کاوی، کوہ ماران، کابو ،اسلپنجی و گردونواح اور قلات کے علاقے کوہک میں پاکستانی فوج کابڑے پیمانے پر دو دنوں سے زمین و فضائی آپریشن جاری،جیٹ طیاروں و ہیلی کاپٹروں کی آبادیوں پر بمباری ،ہلاکتوں کا خدشہ،سینکڑوں افراد زخمی،کئی گھر نذر آتش،متعدد افراد حراست بعدلاپتہ کر دئیے گئے۔

**مشکے کے علاقے نوکجومیں پاکستانی فوج نے چار بلوچ فرزند حبیب ولد فتح محمد،عبدالواحد ولد رسول بخش اورُعجاز ولد سیٹھ نورا کو اغوا کرکے لاپتہ کیا۔

** تمپ کے علاقے گومازی میں 9 ستمبر2016 کو فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والاکماش عبدالسلام ولدحیاتان سکنہ گومازی بازیاب ہو گیا۔

2 جون2017ء

**ضلع گوادر کے ساحلی علاقہ اورماڑہ کے بعد بلوچستان کے ضلع خاران کے مقامی انتظامیہ نے بھی رہائشیوں کے داڑھیوں کے ڈیزائن بنوانے پر پابندی لگادی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر خاران محمد بخش ساجدی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ’حجاموں کو سختی سے پابند کیا جاتا ہے وہ داڑھی ڈیزائن یا نقش کی صورت میں نہ بنائیں۔‘نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ ’ڈیزائن والی داڑھی اسلامی روایت کے برعکس ہے جس کی تمام ملکی و غیر ملکی علما نے مخالفت کی ہے۔‘نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا کہ ’جو حجام پابندی کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اس پر بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔‘واضح رہے کہ چند روز قبل ساحلی ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں بھی میونسپل کمیٹی نے حجاموں پر داڑھیوں کے ڈیزائن بنانے پر پابندی عائد کردی تھی۔یہ فیصلہ اورماڑہ کی میونسپل کمیٹی کے رمضان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، یہ اجلاس میونسپل کمیٹی کے چیئرمین عامر اقبال کی سربراہی میں ہوا تھا۔اجلاس کے دوران جمعیت علماء اسلام (ف) کے مقامی رہنما مولوی محمد امین نے اعتراض کیا تھا کہ علاقے کے حجام داڑھیوں پر ڈیزائن بناتے ہیں جو اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔

3 جون2017ء

**تمپ کے علاقے دازن میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے گھروں میں لوٹ مار اور لوگوں پر تشدد کی اور مختار ولد سخی داد کو اغوا کرکے لے گئے۔

**مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ۔

4 جون2017ء

**دشت جان محمد بازار میں پاکستانی فوج کا گھر گھر تلاشی، ہسپتال پر قبضہ۔

**مشکے کے علاقے ہارونی سے فوج نے سو سے زائد افراد کو اغوا کرکے لاپتہ کیا، ان کی شناخت صوال جان ولد غلام محمد،خلیل ولد صوال جان، عبدالنبی ولد صوال جان،غلام صدیق ولد مزار،شریف ولد غلام صدیق ،شہبازولد غلام صدیق،شہداد ولد غلام صدیق،محمدامین ولدمزار،محمد نور ولد مزار،خیرمحمد ولد مزار،فیض محمدولد مزار،شیرجان ولد فیض محمد،مراد ولد نورمحمد،نیک محمد ولد نورمحمد،آدم ولد نورمحمد،محمدیعقوب ولدآدم، یارمحمد ولد آدم،دادرحیم ولدآدم،محمدحیات ولد محمد حسن،عنایت اللہ ولد محمدحسن،رحمت اللہ ولد محمد حیات،علی احمد ولد محمد حسن،عبدالغنی ولد علی احمد،تاج محمد ولد غلام محمد،نورا ولد الٰہی بکش،علی ولدالٰہی بکش،محمداسحاق ولد قادربکش،اللہ نزر ولد محمد اسحاق،عبدالمجید ولد محمد اسحاق،عبدالرازق ولد قادربکش،داررحمٰن ولدغلام رسول،عبید ولد غلام رسول،محمدعلی ولد غلام رسول،فقیرولدنورمحمد،ستارولد غلام قادر،عبدالغفورولدپیرمحمد،انورولد عبدالغفور،قادرداد ولددین محمد،محمدکریم ولدقادرداد،محمدرحیم ولد قادرداد،خدادادولداللہ بکش،عبیدولد خداداد،برکت ولدخداداد،ظہور ولد خداداد،محمدعالم ولد اللہ بکش،لطیف ولد یوسف،محمدولد جمعہ،رحیم بکش ولد عبدالواحد،عمر ولد رحیم بکش،مولداد ولد رحیم بکش،دادرحمان ولد نبی بکش،عبدالغفور ولد نبی بکش،جمال خان ولد نبی بکش،نزر ولد نبی بکش،محمد عالم ولد جان محمد،باران نبی بکش،جان محمدولد اختر،نزرولد علی محمد،حکیم ولدمحمد خان ،ملک ولد محمد خان،عبدالغفور ولد محمد خان،نصیر ولداللہ بکش،حبیب ولد اللہ بکش،ولی محمد ولدغلام محمد،مہیم خان ولد ولی محمد، ابراہیم ولدجان محمد،خدادادولد غلام نبی،شریف ولد خداداد،غلام علی ولد خداداد،شیرجان ولد خداداد،رحیم بکش ولد غلام قادر،بکم ولد رحیم بکش،عبدالقادر ولد سلطان محمد،عبدالصمد ولد محمد خان ،امان اللہ ولد شیرعلی،حسن ولدعلی محمد،عبداللہ ولد حسن،عبدالمالک ولد حسن جان، قادرداد ولدحسن جان،برکت ولد حسن جان،نوروزولد حسن جان،سعیداللہ ولد حبیب،رسول بخش ولد غلام قادر کے نام سے ہوئی ہے۔

**مستونگ فوجی آپریشن میں پندرہ زخمیوں کو کوئٹہ میں بی ایم سی ہسپتال پہنچایا گیا، جس میں چھوٹے بچے، خواتین اور بوڑھے شامل تھے۔

**پیدارک میں فوج نے دھاوا بول کر اسکول پر قبضہ کر لیا۔

**قلات گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ، شناخت کے لئے مردہ خانے میں رکھ دی گئی۔

5 جون2017ء

**ضلع مستونگ کے علاقے دشت تیرا میل ایریا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا،شناخت عبدالعزیز کے نام سے ہو گی۔

**آواران کے علاقے تیر تیج سے پاکستانی فوج نے تاجل ولد خان محمد نامی ایک شخص کوحراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔

**مشکے کے علاقے ہارونی ڈن میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی کا محاصرہ کر کے خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گھروں میں موجود تمام اشیاء کا صفایا کرنے کے ساتھ ایک سو سے زائد افراد جس میں بچے ،خواتین ،جوان اور بزرگ شامل ہیں ملٹری ٹرکوں میں ڈال کر نوکجو آرمی کیمپ منتقل کردیا،۔(نوٹ )کچھ دونوں بعد سب افراد کو چھوڑ دیا گیا مگر تاحال جون کے اختتام تک گیارہ افراد بازیاب نہ ہوسکے۔

**مند کے علاقے گیاب شاباان میں پاکستانی فوج نے دھاوا بول کر گھروں میں قیمتی سامانوں کو لوٹ لیا اور چار افراد کو اغوا کیا، جن میں شریف ولد اکبر، اسحاق ولد داؤد ،عدنان ولدحبیب،فہاد ولد دلوش شامل ہیں۔

6 جون2017ء

**آواران پیراندر کے علاقے کُچھ میں پاکستانی فوج نے آبادی کا محاصرہ کر کے علاقے کو محصور کرنے کے ساتھ تین نئی چوکیوں کے ساتھ ایک منی کیمپ قائم کرنا شروع کر دیا ۔

** پسنی وارڑ نمبر چار میں فوج نے دیدگ ولد مراد اورُ عدنان سکنہ وارڑ نمبر چار کے رہائشیوں کو اغوا کرلیا۔

**پنجگور کے علاقے کوہ سبز سے دو شخص کی لاش برآمد۔ شناخت شیرجان ولد خان جان سکہ خدابادان ،ظہور احمد ولد دلمراد سکنہ شاپاتان سے ہوئی ۔دونوں گاڑی پے سوار ہوکر کسی کام کے سلسلے میں گئے تھے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی موت کا سبب پیاس بھوک کی وجہ سے ہوئی۔ مگر آزاد ذرائع سے اسکی تصدیق نہ ہو سکی۔

**منگل کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے نال گریشہ کے علاقے لوپ و نازک میں آپریشن کرکے 5افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جبکہ کئی گھروں کو نذر آتش کردیا۔فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ افراد کی شناخت خلیل احمدولد محمد ،رشید ،اقبال اور علی محمد کے ناموں سے ہوگئی ،بتایا جارہا ہے کہ علی محمد جوکہ گھر میں مہمان تھا ان لوگوں کو اٹھایا گیا تا حال لاپتہ ہے۔

**فغانستان میں مقیم بگٹی مہاجرین کی کیمپ کو بم حملے کا نشانہ بنا یاجس کے نتیجے میں دو معصوم بچوں سمیت تین افراد شہید جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔ افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک مین بگٹی مہاجرین کی کیمپ کو پاکستانی خفیہ اداروں کے کارندوں نے ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا جس سے کیمپ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ۔شہید ہونے والوں میں گیارہ سالہ سیف بگٹی، دس سالا عبدللہ بگٹی، اور کمبر بگٹی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں زیادہ تر خواتین ہیں جن کے نام پانچ سالہ میران بگٹی، آٹھ سالہ مائیخان، زرخاتوں، گراناز، زلیخا، آدم بگٹی اور بیورغ بگٹی ہیں۔

**گزشتہ رات پاکستانی فوج نے کیچ کے علاقے مند ریجن میں گیاب،شابان کے علاقے کو گھیرنے کے بعد،گھروں میں دوران تلاشی تمام اشیاء کا صفایا کرنے کے ساتھ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور وہاں چار بلوچ فرزندوں شریف ولد اکبر، اسحاق ولد داؤد،دکاندار، عدنان ولد حبیب اور فہد ولد دلوش کو اپنے ساتھ لے کر ملٹری کیمپ منتقل کردیا۔

** ضلع گوادر کے تحصیل پسنی میں پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے آپریشن کرکے دیدگ ولد مراد ،ادنان اور صابر بھٹو نامی تین نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا جن کا تعلق وارڈ نمبر 4اور6سے بتایا جاتاہے ۔

7 جون2017ء

**سائبر وائرس خطرہ : سنگر کے نام سے جاری ای میل سے ہوشیار باش ،پاکستانی سائبر ٹیم ایک بار پھر سنگر کے خلاف متحرک،سنگر میڈیا گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ،پاکستانی سائبر ٹیم کی جانب سے میڈیا میں سنگر کے نام سے مختلف ای میل جس میں وائرس کے ساتھ سسٹم ہیک وائرس موجود ہے بھیجا جا رہا ہے،سنگر میڈیا گروپ کی جانب سے وضاحتی بیان میں میڈیا سمیت تمام آزادی پسند تنظیموں،دیگر مکاتب فکر کے دوستوں کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ وہ پبلی کیشنز یا ڈیلی سنگر کی جانب سے موصول ہونے والے کسی ای میل کو نہ کھولیں اور پاکستانی سائبر ہیکروں سے ہوشیار رہیں،ادارہ اپنے منسلک میڈیا نیوز ایجنسیز اوردیگر دوستوں سے رابطہ کے لیے جو ای میل استعمال کرتا ہے وہ ان کو اچھی طرح پتہ ہیں،برائے مہربانی سنگر کے نام سے کسی نئے ای میل کو نہ کھولا جائے۔ادارہ قارئین کو پاکستانی سائبر حملوں سے ہوشیار کرنے کے ساتھ انھیں گزارش کرتی ہے کہ وہ کسی نئے ای میل میں فائل نہ کھولیں اور انجان لوگوں سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کرنے سے گریز کریں۔ادارہ سنگر کے آفیشل ای میل news@dailysangar.com اور سنگر میگزین کا ای میلsangarmonthly@gmail.com ہے،جس پر قارعین ،لکھاری رابطہ کر سکتے ہیں۔

**کیچ کے علاقے کوشقلات میں پاکستانی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی اور تین افراد ماسٹر حسین، حفیظ اور سلطان کو حراست میں لے کر فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔

** منگل کے روز زہری کے علاقے کہن میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جابحق ہو گیا، شناخت جہانگیر بٹار کے نام سے ہوئی ، مذکورہ شخص کو کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ثناہ زہری کے ڈیتھ اسکواڈ نے فائرنگ کر کے قتل کیا۔

**اوڑماڑہ میں نیوی کی فائرنگ سے دو ماہی گیر زخمی ہو گئے۔

8 جون2017ء

**پنجگور گرمکان میں فورسز کا حملہ،کئی لوگوں کو اغوا کرنے کی رپورٹ ۔ ان میں شہید داد جان کا چھوٹا بھائی بھی شامل ہے۔

** بدھ کی شام کو پنجگور کے علاقے سوردو میں شام پانچ بج کے چالیس منٹ پر فورسز نے ایک شخص اُستاد علی دوست ولد محمد سکنہ سلاری گچک کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**پاکستانی فوج نے آواران کے مختلف علاقوں پیراندر،گزی،گڈوپ، سورک، گرائی آبادیوں کا محاصرہ کرنے بعد لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی اور آبادی پر فائرنگ کی ۔

**بیس مارچ2017 کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والا خدابخش ولد ہارون سکنہ پیراندر بازیاب ہو گیا ہے،دراثناء پاکستانی فوج نے تمپ کے علاقے بند گز سے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ،فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے شخص کی شناخت واجو ولد مراد سے ہوئی۔

9 جون2017ء

**مغربی بلوچستان میں فائرنگ سے بلوچ آزادی پسند رہنما عابد زاعمرانی جابحق،مغربی بلوچستان کے شہر اشار سرباز میں آئی ایس آئی کے کارندوں نے فائرنگ کر کے آزادی پسند بلوچ رہنما عابد زاعمرانی کو شہید کر دیا۔

**گزشتہ رات پاکستانی زمینی فوج نے ناصر آباد میں آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اوردو بلوچ فرزند عزیز ولد نذیر اور امتیاز بلوچ کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،تمپ کے علاقے آسیا آباد میں بھی پاکستانی فوج نے آبادی کو نشانہ بنا کر ایک نوجوان شاہ جان ولد تاج محمد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**نال سے فورسز کے ہاتھوں دو افراد حراست بعد لاپتہ ،جو دونوں آپس میں بھائی بتائے جاتے ہیں۔نال کے علاقے نارک میں فورسز و خفیہ اداروں نے نارک کے رہائشی صوالی اور نور محمد نامی دو افراد کو حراست میں لیکر جبری طور لاپتہ کردیاہے ۔دونوں مغوی آپس میں بھائی بتائے جاتے ہیں۔

**بروز جمعہ کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں واحد سرکاری ڈسپنسر ی پر قبضہ کرکے وہاں اپنا چوکی قائم کرلیا۔جبکہ ڈسپنسی کے قریب واقع قبرستان سے ملحق روڈ پر بھی ایک چیک پوسٹ بنالیا۔

** مستونگ کے علاقے کوہِ ماران ،کوہِ سیا ہ سمیت گرد ونواں میں پاکستانی فوج کا آپریشن جاری ، علاقے کے واحد پانی کے ذخائر پر قبضہ کرلیا۔فورسز نے کئی گھروں کو نذر آتش کردیاجبکہ کھیتوں میں کام کرنے والے چرواہوں کوشدید تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔آپریشن دوران کئی افراد کو فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا جن میں بعض کو بعد میں چھوڑ دیا گیا لیکن کچھ افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔پانی پر فورسز کے قبضے کے بعد علاقہ مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے کیونکہ علاقے کے واحد پانی ذخائر پھر فوج قابض ہے اور علاقہ مکین پانی کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہیں ۔

**15 مئی2017 کو پیدراک کے علاقے گورکوپ پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والے شوکت ولد پنڈل، ریاض ولد احمد اور نصرت ولد قاسم بازیاب ہوگئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ اغوا ہونے والے جمیل ولد دلمراد اور عمران ولد محراب ابھی تک لاپتہ ہیں۔

**گورکوپ نیامی کلگ سے اغو اہونے والے صادق ولد نیک بخت اور نوردین ولد مزار بھی بازیاب ہوئے۔

**20مارچ کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 70سالہ بزر گ قادر بخش سکنہ بسیمہ سولیر اور حاصل بلوچ سکنہ پنجگور گچک گونی گذشتہ روز بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے جبکہ اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے تمپ آسیا باد سے فورسز کے ہاتھوں اغوا ہونے والے شاہ جان ولد تاج محمد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا۔اسی طرح پیدارک سے بھی تین لاپتہ افراد بازیاب ہوگئے جنکی شناخت شوکت ولد پنڈل،ریاض ولد احمداور نصرت ولد قاسم کے ناموں سے ہوگئی۔جبکہ انکے ساتھ فورسز کے ہاتھوں اغوا ہونے والے جملی ولد دلمراد اور عمران ولد مہراب تاحال لاپتہ ہیں۔

10 جون2017ء

**پیدارک میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کا گھروں پر حملہ ،متعدد افراد حراست بعد لاپتہ کردیئے۔ علی الصبح سحری کے وقت جب لوگ سحری کیلئے مصروف تھے تب پاکستانی فوج و خفیہ ادراوں نے ضلع کیچ کے علاقے پیدار ک درمعکول میں آبادی پر حملہ کرکے متعدد افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جن میں 7کی شناخت رحمدل ولد پھلان، یونس ولدرشید، سیاھکی ولد قادر بخش، صمد ولد حاجی برکت،حنیف ولد اللہ بخش، نوید ولدرشیداور سبزل کے ناموں سے ہوگئی۔

**بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے ہاتھوں سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے 11افراد فورسز کے عقوبت خانوں سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے، جبکہ تربت کوشکلات سے فورسز و خفیہ اداروں نے ایک کو شخص حراست بعد لاپتہ کیااور صحبت پور سے ایک نوجوان کو قتل کردیا گیا۔ گذشتہ مہینوں پیدارک گورکوپ سے پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے صادق ولد نیک بخت اورنور دین ولد مزار ۔پسنی سے لاپتہ صابر ولد بھٹو ۔آواران سے لاپتہ تاجل ولدخان محمد ، سیٹھ باہوٹ ولد نور محمد ، اخترولد سیٹھ باہوٹ ، حاتم ولد لعل بخش ، قادر بخش ، حاصل اورکیچ ناصر آباد عزیز ء ولد نزیر اور امتیاز بلوچ بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔جبکہ کیچ کوشقلات میں فورسز و خفیہ اداروں نے معراج ولدسالونک نامی ایک شخص کوحراست بعد لاپتہ کیا ہے ۔اسی طرح صحبت پور میں پولیس نے فائرنگ کرکے ایک بلوچ فرزند کو شہید کیا جن کی شناخت شعبان بگٹی ولد جامو بْگٹی کے نام سے ہوگئی۔

** ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں ریش پیش کے مقام پر پاکستانی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر چار افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا جنکی شناخت قد یر بخش ولد ملا کریم بخش،ممتاز ولد قدیر بخش،محبوب ولد قدیر بخش اور اختر ولد خدا بخش کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**آواران کے علاقے سید عیسیٰ زیارت میں پاکستانی فوج نے آپریشن کر کے تین افراد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا،جنکی شناخت دل پل ولد رمضان،شریف ولد پنڈوک اوراسماعیل ولد وادو کے نام سے ہو گئی۔

11 جون2017ء

**پاکستانی فوج نے دشت کے علاقوں باہوٹ چات و گرد نواع آبادی پر دھاوا بول کر پانچ افراد گلاب ولد بوہیر، سالمی ولد ایوب، ابراہیم ولدآدم،ماجد ولد ابراہیم،شگراللہ ولد احمد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،دوران آپریشن فورسز نے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں موجود تمام اشیاء کا صفایا کر دیا۔

**کیچ کے علاقے تمپ سے پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا جنکی شناخت شریف اور بہار بلوچ ولد اللہ بخش سے ہوئے۔

**وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چئیرمین نصر اللہ بلوچ کو پاکستانی فورسز نے سریاب میں ٹیلرنگ کی دکان سے حراست میں لے لیا،۔

**بروزپیر کو علی الصبح پاکستانی فوج نے تمپ میں آپریشن کرکے 4افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا جنکی شناخت تا حال نہ ہوسکی جبکہ اسی طرح کوشقلات میں رات کے دو بجے پاکستانی فوج نے شہید احمد کے گھر پر دھاوا بول کر اس کے دو چچا زاد بھائیوں کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن میں ایک کو بعد ازاں چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک تاحال فورسز کے تحویل میں ہے۔

**آواران تیر تیج میں زیارت ڈن کے مقا م پر عیسٰ زیارت سے دو دن قبل فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے دلپل ولد رمضان اور شریف ولد پنڈوک بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔

12 جون2017ء

**شال کے علاقے ہیز چوک میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے دو بلوچ آزادی پسند نظر محمد اور محمد جان شہید ہوئے۔

**پنجگورکے علاقے سریکوران میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والے تین بلوچ بازیاب ہوئے، ان میں محمود ولد دلوش، قادل ولد لعل بخش اور نواز ولد محمد شامل ہیں۔

13 جون2017ء

** پسنی وارڑ نمبرچھ سے پاکستانی فوج نے نور محمد ولد یوسف سکنہ پیدراک کو اغوا کرکے لاپتہ کر لیا۔

** منگل کو پاکستانی فوج نے بلوچستان کے علاقے نال گریشہ میں بدرنگ کی آبادی کو محاصرے میں لیکر آپریشن شروع کردیا۔گھر تلاشی و خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا جارہا ہے ۔

**بروز منگل کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں پل آباد آبادی کو محاصرے میں لیکر آپریشن کیا ۔آپریشن دوران خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔جبکہ فورسز نے متعدد افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا جن میں چند کی شناخت مولا بخش، محمد اسلم، برکت کساب، نذر اسمائیل، دادشاہ اورزاہدولددادشاہ کے ناموں سے ہوگئی ۔

**کوئٹہ میں سریاب کے مقام پر ایک لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت نہ ہوسکی ۔لاش کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

**مشکے کے پہاڑی علاقوں میں فورسز کا آپریشن، سُن، واٹیل اور تنک کے پہاڑوں میں فضائی فورسز کی بمباری۔

14 جون2017ء

** تمپ کے علاقے پل آباد میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر ستر سالہ بزرگ برکت بلوچ کے گھروں کو لوٹ مار بعد نذر آتش کر دیا ،خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنا نے کے ساتھ وہاں موجود ستر سالہ بزرگ برکت بلوچ اور انکے بیٹے اسلم برکت سمیت کئی افراد خو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**آواران سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جس کی شناخت امیر بخش ساکن کلرو کے نام سے ہوگئی۔

15 جون 2017ء

** جمعہ کی صبح پاکستانی زمینی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ ملانٹ کے چیری بازار میں آبادی پر حملہ کر کے گھروں میں لوٹ مار بعد خواتین و بچوں کو لائن میں کھڑا کر کے بد تمیزی کے ساتھ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ۷ افراد حمید ولد عبدالرحمن،عبید ولد عبدالرحمن،برکت ولد عبدالرحمن،حمید ولد سعید،یونس ولد حسن،یاسر ولد علی، علی ولد پنڈوک،کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**مند کے علاقے گیاب سے ستائیس اپریل کو فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والے عادل ولد حمید، نادل ولد حمید سکنہ گیاب اور عثمان ولد خان محمد سکنہن گوک بازیاب ہوگئے ہیں۔

** تربت میں فورسز و خفیہ اداروں ایک شخص کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا جن کی شناخت ماسٹرمنیر ولد شاہدادکے نام سے ہوگئی جو شاپک کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔

** کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ قبرستان کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص ولایت حسین کوہلاک کر دیا۔

جمعرات کو کوئٹہ کے علاقے مری آبادکے قبرستان سے چالیس سالہ شخص کی لاش ملی جس کی شناخت ولایت حسین ولد حسن علی ہزارہ کے نام سے ہوئی ۔مقتول کو گولی مار کر قتل کیا گیا ہے ۔

**کیچ کے علاقے تمپ ،پل آباد میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں لوٹ مار کی اور بلال بلوچ اور مراد بلوچ کے گھر مسمار کر دئیے، اسی طرح ڈاکٹر حمید کے گھروں میں لوٹ مار بعد خواتین و بچوں کو زدکوب کرنے کے ساتھ گھروں میں تھوڑ پھوڈ کی گئی اور دھمکی دی کے اگلی دفعہ تم لوگوں کے گھر مسمار کرینگے۔عبدالسلام نامی شخص کو اسکے بیٹے سمیت فورسز نے حراست میں شدید تشدد کے بعد انکو چھوڑ دیا،جبکہ علاقے کے لوگوں کو لائن میں کھڑا کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ کئی گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔

16 جون2017ء

**پاکستانی زمینی فوج نے دشت کے علاقوں پنودی،کوھک،پیراں بست،کُش،گوراں، آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں لوٹ مار کرنے کے بعد دشت پیراں بست سے دو افراد جبار ولدڈاکٹر محمد،سبزل ولد دوست محمدکو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

** پنجگور کے علاقے گچک میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے آپریشن کرکے 4افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت عوض ولد خدا بخش،غلام جان ولد جمال،خلیل غلام جان اور حیات ولد حمل کے نام سے ہوگئی۔

**آواران کے علاقے بزداد سے زباد ولد وشدل کو فوج نے لاپتہ کردیا۔

**مندکوہ پشت سے دو مئی کو اغوا ہونے ولا شبیر ولد غلام حسین بازیاب ہوگیا۔

17 جون2017ء

**بلیدہ کے علاقے الندور سے 12 ستمبر2016 کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والا فیصل ولدشہید عبدالمالک بازیاب ہوگیا۔

**ضلع خضدار کے علاقے نال سے منسلک گریشہ کے علاقے نارک میں پاکستانی خفیہ اداروں و ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے صحمد سمالانی نے علاقے میں دھاوا بول حسین نامی شخص کے گھر کو گھیرنے کے بعد خواتین و بچوں کو زد کوب کرنے کے ساتھ گھروں میں موجودتمام اشیاء کو لوٹنے کے ساتھ خواتین کے زیورات سونا بھی لوٹ لیے ، ریاستی کارندے 60 بھیڑ بکریوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، صحمد سمالانی نامی شخص پاکستانی آرمی کا اہم کارندہ ہے جو فوجی آپریشنوں سمیت مقامی سطح پر فوج کا معاون اور بلوچ فرزندوں کی نسل کشی اور اغوا میں اہم کردار ہے۔صحمد سمالانی بیسمہ کا رہائشی بتایا جاتا ہے جو خدا رحم ڈیتھ اسکواڈ کا علاقائی کمانڈر ہے،گزشتہ روز گریشہ کے علاقے نارک میں عوام کو تشدد کا نشانے بنانے کے ساتھ لوٹ مار کی گئی،واضح رہے کہ مذکورہ مقام سے چند فرلانگ پر آرمی کی چوکی بھی قائم ہے۔

**آواران کے علاقے زیلگ میں سید عیسیٰ زیارت سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے امین ولد اسماعیل نامی ایک 15سالہ لڑکے کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔واضع رہے کہ ایک ہفتے قبل امین ولد اسماعیل کے والد کو فورسز نے حراست بعد لاپتہ کیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔

**گوادر کے سرحدی علاقے کلوکی سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے جسکی شناخت نہ ہوسکی ہے۔واضع رہے کہ دو ہفتے قبل گوادر کے سرحدی علاقے سنٹ سر اور گبد سے بھی ایک لاش برآمد کی گئی جس کی شناخت نہ ہونے پر انتطامیہ نے اس کو دفنا دیا۔

**ماشکیل کے قریب ایک گاڑی کے قریب بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ میاں بیوی 4 بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے ۔

**سبی کے علاقے بختیار آباد سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے جنہیں شناخت کے لئے ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔

19جون 2017ء

**پنجگور فائرنگ سے بی این ایم کا ممبرمشکے کا رہائشی یار جاں جابحق،جنکو ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔

**تمپ کے علاقے گومازی سے فورسز نے ماجدولدرشید،جیان ولد نصیر کو لاپتہ کر دیا۔

**بالگتر کے علاقے سے فورسز نے ذاکر ولد حکیم کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**آواران پیراندر کچھ عوام کوفورسز نے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ دو افراد عبداللہ ولد عمر اور زائد ولد حمل کو لاپتہ کر دیا ۔

**ضلع کیچ کے علاقے دشت سے گولیوں سے چھلنی ایک لاش برآمد،شناخت حاصل سعید سکنہ جتانی بازار دشت سے ہوئی۔

** پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ماہی گیر ناھدا عزت کلمتی اور اسکے بیٹے نوید کلمتی کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔ جبکہ جیونی کے نواحی گاؤں سے کارباری شخصیت اظہر کلمتی بھی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ۔ جیونی کے کہی علاقوں میں تاحال فوجی آپریشن جاری ہیں۔

20 جون2017ء

** پسنی ایم این اے سید عیسی نوری اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے شاکر بلوچ نامی نوجوان کو شہید کر دیا، پسنی کے علاقے ببر شور میں شاکر ولد عیدو نامی شخص کے گھر پر پاکستانی خفیہ اداروں و بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایم این سید عیسیٰ نوری کے بیٹے سید معیار نوری نے دھاوا بول کر شاکر بلوچ کو شہید کر دیا،واضح رہے کہ اس سے قبل انکے گھروں کو مسمار کر نے کی دھمکی کے ساتھ انھیں علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں بھی متواتر دی جاتی رہی ہیں۔

**ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی اوچ میں پاکستانی آرمی نے تین بلوچ فرزندوں جو پیشے سے چراوا تھے حراست بعد لاپتہ کر دیا جنکی شناخت، دلدار بگٹی ، موچی بگٹی، امین بگٹی سے ہوئے۔

** کیچ کے علاقے تمپ میں پاکستانی آرمی و خفیہ اداروں نے آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں کے قیمتی سازوسامان لوٹ لئے جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے جن میں 6کی شناخت شہید باسط کے والد جان محمد ،غفار ولد مولا بخش،کمسن ماجد ولد رشید،تواب ولد ماسٹر قیوم ،عدنان ولد حاصل،جہان ولد نصیر کے ناموں سے ہوئی ہیں جبکہ بالاچ نامی ایک چرواہا کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر چھوڑ دیا گیا۔

**تربت سٹی میں ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر عارف ڈاکٹر صابر نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔

**فوج و خفیہ اداروں کی سرعام انتقامی کارروائیاں جاری ، ضلع گوادر کے تحصیل پسنی میں آزادی پسندوں سے مبینہ تعلق کے بنا پر کئی گھر سیل جبکہ کئی گھروں کے بجلی منقطع کردیئے گئے۔ پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے ضلع گوادر کے جڑواں شہر پسنی میں وارڈ نمبرمیں سرعام انتقامی کارروائی کرکے آزادی پسندوں سے مبینہ تعلق کے بنا پر کئی گھروں کوتالا لگاکر سیل جبکہ کئی گھروں کے بجلی کاٹ دیئے اور اہلخانہ کو دھمکی دی کہ اگر ان کے فیملی ممبران نے سرنڈر نہیں کیا تو دشت و آواران میں لوگوں کے گھروں کو جس طرح نذر آتش کیا جارہا ہے اسی طرح ان کے گھروں کو نذر آتش کردیا جائے گا۔پسنی میں فوج کی سرعام اس طرح کی انتقامی کارروائیوں سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ مذکورہ فیملیاں فوج و خفیہ اداروں کے اس غیر انسانی عمل پر شدید ذہنی کوفت کا شکار ہوگئے ہیں ۔کو فوج و خفیہ اداروں کی بلوچستان بھرکے دیہی علاقوں میں آپریشن دوران کواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، گھروں کے قیمتی سامانوں کولوٹنا اور گھروں کو نذر آتش کرنا تو ایک معمول بن گیا ہے لیکن اب یہی شہروں میں بھی دہرایا جارہا ہے جو میڈیا کی خاموشی اور انسانی حقوق اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہے جس سے فوج و خفیہ اداروں کو شہ مل رہی ہے اور وہ دیدہ دلیری کے ساتھ اس طرح کی سنگین جرائم کا مرتکب ہورہے ہیں۔

** گذشتہ دنوں ضلع کیچ کے علاقے بالگتر نلی میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے ذاکر ولد حکیم سکنہ نلی بالگتر فورسز کے ہوشاب کیمپ سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے ۔

21 جون2017ء

** ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں دمب کے مقام پر پاکستانی زمینی فوج نے آبادی کا محاصرہ کر کے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں موجود تمام اشیاء کا صفایا کر دیا اور تین بلوچ فرزند شوکت ولد الھی بخش،قادربخش ولد حداداد،انور ولد حد ا بخش کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**مشکے کے علاقے ہارونی ڈن سے چار جون کودوران آپریشن فوجی تحویل میں لیے جانے والے چودہ افراد تاحال بازیاب نہ ہو سکے۔ چار جون کو پاکستانی زمینی فوج نے ہارونی ڈن میں آپریشن کر کے پوری آبادی کو محصور کر کے سو سے زائد افراد کو حراست بعد فوجی کیمپ منتقل کر دیا تھا،زیر حراست لوگوں کو تشدد بعد آہستہ آہستہ چھوڑ دیا گیا،جن میں تاحال چودہ افراد بازیاب نہ ہو سکے تھے۔

**مشکے کے مختلف علاقوں سے اغوا ہونے والے چار بلوچ بازیاب، ان میں داد رحیم ولد گلام محمد،صمدولد ابراھیم،محمدبکش ولد ابراھیم،آصف ولد جنگیھان شامل ہیں۔

**ھوشاپ کے علاقے دمب سے گزشتہ دن اغو ا ہونے والے شوکت ولدعلی بخش ،قادربخش ولد ھدادا اورُ انورولدھدابخش بازیاب۔

22 جون2017ء

**بروز جمعرات کو ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے پاکستان آرمی کے ہاتھوں لاپتہ 3افراد رہا ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔جن کی شناخت غفار ولد مولابخش، تواب ولد قیوم اور جہان ولد نصیر کے ناموں سے ہوگئی۔جبکہ ان کے ساتھ لاپتہ کئے گئے کمسن ماجد ولد رشید تاحال لاپتہ ہیں۔

23 جون2017ء

**مشکے میں ایک مہینے قبل فوج و خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے 4افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔جن کی شناخت رحیم داد ولد غلام محمد ،صمد ولد ابراہیم ،محمد بخش ولد ابراہیم اور آصف ولد جنگی خان کے ناموں سے ہوگئی۔

**ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں ریاستی فورسز نے نئے آپریشن کا آغاز کیا ہے سہری دربار، حن، پاتر، شانک اور گردونواح میں ریاستی فورسز نے بڑی تعداد میں زمینی فورسز اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نہتے اور بے گناہ بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ آپریشن کے دوران آبادیوں پر اندھا دھند اور بلاامتیاز زمینی اور فضائی بمباری اور فائرنگ کی جارہی ہے۔

** جیونی کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر آپریشن کا آغازکرکے اہل علاقہ کوخوف و ہراس اور شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کردیا۔پانچ دنوں سے جاری آپریشن میں اب تک درجنوں افراد کو جبری طور پر حراست بعد لاپتہ کردیا گیا ہے ۔ جبکہ بروز جمعہ کو بھی جیونی کے علاقے کلدان میں آپریشن کر کے خواتین و بچوں شدید تشدد کا نشانہ بناکر گھروں کے قیمتی سازوسامان لوٹ لئے اور 10افراد کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے ۔جن کی شناخت ابھی تک نہ ہوسکی ہے ۔جبکہ جیونی بھر میں اب تک کی فوجی آپریشن میں درجنوں لوگ لاپتہ کئے گئے ہیں جن میں صرف تین افرد کی شناخت عزت کلمتی ، نوید کلمتی اور یعقوب کلمتی کے ناموں سے سامنے آئی ہیں۔جیونی میں آپریشن سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیاہے ۔اہل علاقہ شدید ذہنی کوفت و پریشانی کا شکار ہے ۔

**جیونی سے اغوا ہونے والے تین بلوچ بازیاب ، دو کے نام ناحد ا عزت کلمتی اور اس کے بیٹے نوید کلمتی ہیں۔

**مشکے نوکجو میں بزی گاؤں کو فوج نے گھیر کر گھروں کی تلاشی کے نام پر موجود سامانوں کو جلا ڈالا۔

24جون2017ء

**پاکستانی فوج نے تمپ گومازی میں آبادی پر دھاوا بول کر لوٹ مار کے ساتھ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چار افراد واجو ولد رحمت اللہ، ستار ولد حاجی رحمت، کو لاپتہ کیا جب کی حراست بعد لاپتہ کیے جانے والے دو افراد کی شناخت نہ ہو سکی،تمپ نذر آباد کے علاقے سے فورسز نے حکیم ولد پیری رہائشی آزیان،اعجاز رہائشی نظر آباد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

**جیونی کے علاقے پانوان سے فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والا عزر ولد عیسی بازیاب۔

25 جون2017ء

** گوادر کے علاقے پسنی وارڈ نمبر 6سے 13جون کو پاکستانی وفوج و خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والامحمد نور ولد یوسف سکنہ پیدارک گذشتہ روز ہفتہ کو گوادر سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

**ڈیتھ اسکواڈ و خفیہ اداروں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جابحق، گزشتہ روز مند میں پاکستانی خفیہ اداروں و ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا گنگزار ولد یوسف کراچی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے،۔

26 جون2017ء

**بلوچستان میں عید کے روز بھی فوجی جارحیت جاری،11 افراد حراست بعد لاپتہ،آواران میں پاکستانی فورسز نے ستار ولد پٹو سکنہ بزداد کندکور کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔گوادر کے جڑواں شہرجیونی بازار سے قابض آرمی نے گزشتہ روزتین بجے کے قریب6 افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،جن میں چار کی شناخت علیم بلوچ،رشید، سکنہ ساجی دشت، بیگل سکنہ شے آباد،ملا دل شاد سکنہ خضدار جبکہ تاحال تین افراد کی شناخت نہ ہو سکی۔

** پسنی وارڈ نمبر6 پاکستانی فورسز کا گھر پر دھاوا، 15 سالہ بلوچ طالب علم حراست بعد لاپتہ،گھروں والوں پر شدید تشدد، چاند رات کو پاکستانی خفیہ اداروں،فوج اورمقامی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ بی این پی،مینگل کے ایم این اے عیسی نوری کے بیٹے معیار نوری نے پسنی کے وارڈ نمبر6 میں ناھدا عزیز بلوچ کے گھر پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، گھر میں موجود عید کے کپڑوں سمیت تمام اشیاء کو جلا دیا، فورسز کی تشدد سے بزرگ عزیز بلوچ اوردیگر خواتین شدید زخمی ہوئے جبکہ فورسز نے ناھدا عزیز بلوچ کے کمسن پوتے15 سالہ طالب علم اذان بلوچ کو تشدد کا نشانہ بنا کر ساتھ لے گئے،واضح رہے کہ اذان بلوچ نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ عید کے روز بھی پسنی،جیونی و گوادر کے کئی علاقوں میں فوجی کاروائیاں جاری ہیں۔

**کیچ آبادی پر پاکستانی فوج کا حملہ تین افراد حراست بعد لاپتہ ،گزشتہ شپ کیچ کے علاقے کوشقلات میں پاکستانی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی اور تین افراد ماسٹر حسین، حفیظ اور سلطان کو حراست میں لے کر فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔

**کتاب و علم پر قدفن:سنگر کاایک اور نایاب علمی مجموعہ پاکستانی فوجی تحویل میں، تربت میں17 جون کی صبح جیسے ہی مذکورہ کاٹن ٹرانسپورٹ پہنچے، ایف سی نے چھاپہ مارا اور انہیں اپنی تحویل میں لے لیا،کتابوں کو تحویل میں لینے کے ساتھ ہی کارٹن کو وہیں کھولا گیا جس میں ’’سنگر کتابی سلسلہ15 ‘‘ درج دیکھا گیا، سنگر پبلی کیشنز کی کتابی سلسلہ15 ، ’’پلید تر باشد‘‘ میر محمد علی ٹالپور صاحب کی تمام آرٹیکلز،تحریروں کا مجموعہ ہے۔جو وقتا تمام اخبارات اور آئن لائن شائع ہو چکے ہیں جنکو نوجوانوں کی علمی تربیت کے لیے ادارہ سنگر نے کتابی شکل دی ہے۔ ہے کہ ممتاز ٹرانسپورٹ والے پاکستانی خفیہ اداروں و فوج سے منسلک ہیں،انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں ایسی کوئی چیز نہیں جس سے ریاست یا کسی اور کو خطرہ ہو،سنگرکتابی سلسلہ15،عظیم لکھاری،دانشور میر محمد علی تالپور صاحب کی تحریروں کا مجموعہ ہے جو وقتا وقتا میڈیا و اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے 2014 اور 2015 میں بھی تربت اور گوادر میں کتابوں کی دکانوں اور طلبا کے ہاسٹل پر چھاپے مار کر کتابیں ضبط کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

27 جون2017ء

** شہیدلالہ منیر بلوچ کے زوجہ عید کے روز انتقال کر گئیں،بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی رہنما لالہ منیر بلوچ جنکو چئیرمین غلام محمد بلوچ ،شیر محمد بلوچ کے ساتھ پاکستانی فورسز نے شہید کر کے مسخ لاش مرگاپ کے مقام پر پھینک دی تھی،شہیدکے زوجہ عید کے روز جہان فانی سے کوچ کر گئیں،وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں۔

29جون2017ء

**جمعرات کے روز پاکستانی فوج نے پیراندر،زیلگ میں آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں موجود،کھانے پینے کے اشیاء سمیت برتن ،کپڑے،خوردنوش کے تمام اشیاء سمیت لوگوں کے استعمال کے سولر سسٹم،چائے کے پیالے سمیت تمام سامانوں کو لوٹ کر ساتھ لے گئے اور خواتین و بچوں کو حراساں کیا۔

**دشت کے علاقے شولی میں پاکستانی فوج نے ابراہیم ولد حاجی ہبتان اور بشیر ولد حاجی حمزہ کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

** گوادر کے علاقے موندی میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر 4افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ۔جن کی شناخت وحید ولد حاجی واحد بخش، سراج ولد حاجی واحد بخش ،سہیل ولد حاجی واحد بخش اور سمیر ولد پشمبے ساکنان سولگی دشت کے ناموں سے ہوگئیں۔جبکہ اسی طرح گذشتہ شب ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے آسیا بادچیری بازار میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ، گھروں کے قیمتی سامان لوٹ لئے اوردادوش،اصغر، نظام اور مادیان نامی 4افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

**تمپ کے علاقے نذر آباد پاکستانی فوج و خفیہ ادارون نے علی الصبح علاقے کو مصارے میں لیکرآپریشن کا آغاز کیا۔گھر گھر تلاشی دوران خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،گھرو ں کے قیمتی اشیا لوٹ لئے جبکہ 4افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا گیا جن کی شناخت شاہداد ولد نیاز،حاجی وحید، غنی ولد فقیر محمداورمنصور کے ناموں سے کی گئی۔

**دشت کے علاقے کوچہ میں پاکستانی فورسز نے آبادی پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا کر ہراساں کیا ۔گھروں کے قیمتی سامان لوٹ لئے جبکہ باپ بیٹے دو افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔جن کی شناخت امیر جان اور ابراہیم کے ناموں سے ہوگئی ۔اسی طرح آواران کے علاقے پیراندرو کچ میں آپریشن کر کے پیراندر سے سلیم ولد گل محمد جبکہ کچ سے عامر ولد مراد نامی دو افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔

30جون2017ء

**گوادر میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں دو دن قبل لاپتہ ہونیوالے 2افرادبازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔جنکی شناخت وحید ولد حاجی واحد بخش اور سراج ولد حاجی واحد بخش کے ناموں سے ہوگئی ۔

**آواران کے علاقے نونڈہ میں فوج نے آپریشن کرکے ملا گل محمد نامی ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا جبکہ گھروں میں خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا اور قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے ۔

** آواران کے مختلف علاقوں میں نوندرڈہ جلونٹی،تلارک،بٹی اور کچ میں فوجی آپریشن پانچویں جاری ۔خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گھروں میں لوٹ مار کے بعد انہیں نذر آتش کی گیا ۔ فوج نے آوارن کے مختلف علاقو ں اعلانیہ دھمکی دی ہے کہ اگر کسی بھی فیملی کے افراد بلوچ تحریک آزادی میں شامل ہیں تو انہیں فوری طور پر سرنڈر کرائیں ورنہ سب کی فیملی کے بارے میں پتہ ہے ہم ان کی فیملی کے خواتین و بچوں کو لاپتہ کردیں گے اور انکی گھروں کو مکمل نذر آتش کردیا جائے گا۔پاکستانی فوج کے ایک میجر نے بتایا کہ ہمیں اوپر سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ بلوچ آزادی کی تحریک میں شامل افراد کے فیملیوں کولاپتہ کیا جائے ۔

***

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved