Translate In Your Language

New Videos

سیاسی لیڈر اور لیڈرشپ....... ڈاکٹر جلال بلوچ

سیاسی لیڈر اور لیڈرشپ....... ڈاکٹر جلال بلوچ

کسی بھی تحریک میں اس قوم کی اندرونی، بیرونی معاونت ’مالی ہو یا اخلاقی ‘کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آیاان کی قیادت میں اتنی صلاحیت ہے کہ آنے والے دنوں میں یعنی خودمختاری یا نظام کی تبدیلی کے بعد اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر نبھا سکے۔ دیکھنے کا پیمانہ جو اکثر استعمال ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا انہوں نے ماضی قریب یااپنی حالیہ کارکردگی کی کی بنیاد پہ اپنے مقصدیا تحریک کو کس حد تک سنبھالا ہے۔یا اس کے دنیا ، آس پاس کے سماج اور وہ سماج جن کے لیے جد و جہد کیا جارہا ہے پرکیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کے کیا اثرات رونماء ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے دنیا میں اقوام یا گروہوں کی ترقی کا انحصار اس پہ بات ہوتا ہے کہ انہیں لیڈر کیسا ہاتھ آیا۔کسی بھی قوم کی ترقی کو دیکھتے ہوئے دنیا کا کوئی ذی شعور اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ ان کی ترقی اور آگے بڑھنے میں کلیدی کردار لیڈر یا لیڈر شپ کا رہا ہے ۔ لیڈراپنی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا میں رول ماڈل بن جاتے ہیں ،اور عمل جو انھوں نے کیا یا جن کے لیے کیا،وہ کردار’ جو اس وقت نبھایا گیا‘ کی وجہ سے ہی ان کی پہچان یا شناخت بن جاتی ہے اور ان کی مثال دیئے بغیر لوگ اپنی محفلوں کو ادھورا سمجھنے لگتے ہیں۔جیسے کیوبا کاسترو اور چی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چین ماؤ، روس لینن، ویتنام ہوچی من، ہندوستان ، گاندھی،سبھاش چندرا بوس اوربھگت سنگھ کے ناموں سے جانا جاتا ہے ۔
جب ہم دنیا میں اقوام کی ترقی ،ان کی جد و جہد اور آزادی کے بارے میں پڑھتے یا جانکاری حاصل کرتے ہیں توسب سے اہم بات جو سامنے آتی ہے وہ ہے سماج کو لیڈ کرنے والے یا والوں کی صلاحیت ۔ کیونکہ اگر کوئی قائد باصلاحیت نہ ہو یاقائد ہی نہ ہو تو وہ گروہ انتشار کا شکار ہوتا ہے جس کے منفی اثرات فقط اسی سماج پر ہی نہیں پڑتے بلکہ اس کے اثرات کا اگر ہم بغور جائزہ لیں تو اس سے بسا اوقات دنیا کے بیشترعلاقے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جیسے غیر فطری ریاست پاکستان، جس کی وجہ سے دنیا متاثر ہورہی ہے یا افغانستان، عراق، شام جن کی وجہ سے آج دنیا متاثر ہورہی ہے ، اس کی جو وجوہات سامنے آرہی ہیں اس کی بنیادی وجہ ہے لیڈر شپ کا فقدان۔
اگر ہم چھوٹے پیمانے پر دیکھیں تو دنیا کی بہت ساری تحریکیں جو متاثرہوئی ہیں یا انہدام کا شکار ہوئے ہیں ان کی بھی بنیادی وجہ یہی سامنے آئی ہے کہ ان کے لیڈروں میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان رہا ہے اور اس جانب انہوں نے کبھی توجہ نہیں دی ، یا وقت و حالات کے مطابق جدت سے منکر ہوئے ، یا اس خوف کا شکارر ہے کہ میرے ہوتے ہوئے تختِ سلیمانی پرکوئی اور برا جمان نہ ہو، یا تحریکوں کے زوال پذیر ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اس حقیقت سے آشناء نہیں ہوتے یا اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ جاننے ،سوچنے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ہیں کہ سماج میں رہنماؤں کا انتخاب اس لیے عمل میں لایا جاتاہے تا کہ وہ عوام کی درست سمت میں رہنمائی کرسکیں۔اور ہر اس عمل جن سے خواہشات کی بو آتی ہیں جن کے منفی اثرات سماج اور اس تحریک پر پڑتے ہیں جن سے رہنما وابستہ ہوتا ہے۔ ایسے میں حقیقی رہنما کارکنان کو غلط سمت میں جانے سے روکنے کے لیے انہیں Motivate کرتا ہے نہ کہ کارکنا ن ایسے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے رہنماؤں کوقائل کریں۔ اگر کسی سماج میں رہنما کارکنان کے ہاتھوں کٹ پتلی بن جائیں تو ایسے سماج میں سیاسی ، سماجی اور اقتصادی ترقی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔جو عوامل ترقی کی راہوں کو مسدود کرنے کی وجہ بنتی ہیں ان سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر وہ سماج اپنا وجود زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکتا۔
یا وہ اس بات سے بے بہرہ ہوتے ہیں کہ کسی انقلابی یا سیاسی لیڈراور لیڈرشپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس سماج میں وہ رہ رہے ہیں ، جس سماج سے وہ لڑ رہے ہیں اور جس سماج سے انہیں تعاون کی یقین ہے ، ان کے بارے میں جانکاری کو ترجیحات میں شامل ہی نہیں کرتے یا ان میں سے کسی ایک یادو کو حذف کردیا جاتا ہے۔جس کے اثرات مقصد پر پڑتے ہیں کیونکہ اپنی ترجیحات ، فرائض اور ذمہ داریوں کو نہ سمجھتے ہوئے آنے والے دنوں میں عمل کے لیے بہتر منصوبہ بندی نہیں کر پائیں گے جس سے کام متاثر ہونا فطری بن جاتا ہے۔
آج ہمیں اس حقیقت سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ ہم جس سماج میں رہ رہے ہیں ہمیں اس کے تعلیمی نظام میں لیڈر شپ پڑھایا ہی نہیں جاتا، ریاستی تعلیمی نظام اپنی جگہ جس مقصد کے لیے اور جس منزل کو حاصل کرنے کے لیے آزادی پسندجد و جہد کر رہے ہیں اس حوالے سے جو مشاہدہ ہوا ہے ان کے اداروں میں بھی اس حوالے بہت ساری کمزوریا ں دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں سر فہرست لیڈر شپ کے بارے میں کارکنوں کی ایسی تربیت نہیں ہورہی یا نہیں کی جارہی ہے جس کا وقت تقاضا کرتی ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگرکارکن اورقائد، لیڈر شپ کے با رے میں جانیں گے نہیں تو پرفارم کیسے کرینگے؟کیوں کے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، ہماری ذمہ داریا جو انقلابی قائدین(مرکزی اور لوکل سطح) کی کیاہوتی ہیں؟یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے فرائض کی سمجھ بوجھ جب حاصل نہیں کر تے یہ اسی وقت ممکن ہے جب مرکزی اور لوکل سطح کے لیڈر، قائدانہ صلاحیتوں کو اپنائیں کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے کام کے ساتھ انصاف نہیں کر پائیں گے۔ اور نہ ہی کسی کو اپنے اندر چھپے ہوئے ہوئے لیڈر کا پتہ چلے گا اور اگر ہم جانے گے نہیں تو کارکردگی کیسے دکھا پائیں گے ۔لا علمی کی وجہ سے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ
۱۔لیڈر کی کارکردگی کے مقصد پہ اثرات کیا پڑتے ہیں۔
۲۔کام کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہو تا ہے اور فرائض کیا ہیں۔
۳۔ اپنی یا دوسروں کی قائدانہ صلاحیتوں کوپر کھنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔
۴۔ کام میں اس وقت رکاوٹ آتی ہے یا کام تسلسل برقرار نہیں رکھ پاتا جب ہم لیڈر شپ کے بارے میں سیکھتے اور سکھاتے نہیں ۔
۵۔اس سے صلاحیتوں کو زنگ بھی لگ جاتا ہے۔
بات ہو رہی ہے کہ ہمارے ہاں لیڈر شپ بارے پڑھا اور پڑھایا نہیں جاتا جس سے لیڈر شپ کا فقدان رہتا ہے اگرحقیقت پسندی سے تحقیق کی جائے تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں لیڈر شپ پڑھانے والے بھی نہ ہونے کے برابریا ہیں یا سرے سے ہیں ہی نہیں۔جب ہم لیڈر شپ کے بارے میں پڑھیں گے اور پڑھائینگے نہیں تو اس کے اثرات کچھ اس انداز سے ہمارے دل و دماغ میں پیوست ہوتے ہیں یا ہوئے ہیں کہ ہمارے ہاں اکثر لیڈر شپ کی جب بات ہوتی ہے تو ہمارے ذہن میں سیاستدان آجاتے ہیں ۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر سیاستدان لیڈر ہو۔کیونکہ سیاستدان کے معنی ریاست اور امورِ سلطنت کے بارے میں سمجھ بوجھ رکھنا ہوتا ہے اورساتھ میں سیاسی عمل کا حصہ بننا ۔اب یہ ضروری نہیں کہ کوئی سیاست کے بارے میں جانکاری رکھتے ہوئے عملی کام بھی کر جائے جس سے سماج میں بسنے والے اس کے گرویدہ ہوں۔یاسیاست کے علم و ہنر سے بے بہرہ افراد سیاست کی گدی سنبھالیں اور وہ لیڈر کہلائیں جیسے اکثر ہمارے ہاں یا ترقی پذیر ممالک یا غلام سماج میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔جہاں اور جس سماج میں سیاستدانوں میں سیاسی بلوغت نہ ہو وہ سماج کو منتشر کرنے کے اسباب مہیاکرتے ہیں۔ لیڈر شپ اور سیاستدان کے فرق کو ہمیں جاننا ہوگا۔کیونکہ ممکن ہے کہ سیاستدان لیڈر نہ ہو اور وہ کسی اور ذریعے سے جیسے جس سماج میں سیاسی کلچر پروان نہیں چڑھتی وہاں ذاتی اثر و رسوخ یا کسی اور ذریعے سے عوام کے نام نہاد لیڈر بنے پھرتے ہیں۔ سیاسی لیڈر اکثر و بیشتر سیاسی پراسس سے بنتا ہے اس کے علاوہ حادثاتی اور پیدائشی لیڈر بھی ہوتے ہیں لیکن وہ اس دوران اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے سماج کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں۔ جن پہ آگے چل کے روشنی ڈالنے کی کوشش کرینگے۔جب لیڈر اپنی محنت، ارادے اور Will سے بنتا ہے ۔تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جسے سیاست کی یا اپنے کام کی جانکاری کے ساتھ ساتھ وقت و حالات کو جانچتے ہوئے عملی طور پر لوگوں کو متاثربھی کریں ، وہ رہے یا نہ رہے وہ مقصد جس کی ذمہ داری وہ نبھاتا رہاہوتا ہے اس کے مثبت اثرات جو سماج پر پڑتے ہیں اس کی وجہ سے سماج میں بسنے والے اس کے گزر جانے کے بعد بھی اسے اپنا رول ماڈل تصور کریں۔اس ضمن میں دنیا کے عظیم لیڈروں کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی جاچکی ہیں جو اس بات کی غماز ہے کہ لیڈر انسان کے ذہنوں میں صدیوں تک اگر مثبت نقش برقرار رکھیں تو اسے یہ مقام مل سکتا ہے۔اور اس بات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ ماضی کی کارکردگی سے جو اثرات حال پرمرتب ہوئے ہیں آیا اس وقت کے سماج پر اس کے کتنے دور رس اثرات پڑیں ہونگے اور آنے والے دنوں میں اس کی شخصیت جسے لوگ اپنانے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں اوراس کا عمل رہنمائی کے قابل بن سکتا ہے یا نہیں۔یعنی وہ جو کام کرنے جارہا ہے سماج کا اس پہ اعتماد بحال ہو اور اس کام کے اثرات دیرپاہو، نہ کہ مختصر مدت کے لیے۔جب کہ ہم اپنے سماج کی بات کریں تو کتنے ایسے سیاستدان نظر آئینگے جنہوں نے سماج میں بسنے والوں کے ذہنوں پہ مثبت اثرات چھوڑے ہیں ؟
یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ لیڈروہ ہوتا ہے جو حال اور مستقبل دونوں حالتوں میں مثبت ثرات مرتب کرے۔
دنیا میں تین قسم کے انقلابی لیڈر ہوتے ہیں ۔

 

۱۔پیدائشی لیڈر
ایک عام یقین یہ ہے کہ اللہ پاک انبیاؑ میں لیڈر شپ کی خصوصیات یا قائدانہ صلاحیتیں ڈال کے بھیجتا ہے۔ کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے ان سے وہ کام لینا ہے جو سماج کی مقدر کو بدلتے ہوئے ایسی سمت دینا ہے جس سے سماج پرانی چیزوں یا طریقہ کار کو خیرباد کہتے ہوئے نئے نظامِ زندگی کو اپنائے ۔اس حوالے سے اگر ہم انبیائے کرامؑ کی زندگی اور اس دور کے حالات کا تفصیلی مطالعہ کریں تو ہمیں ہر انبیاؑ کے دور میں سماج میں بکثرت تبدیلی کے آثار نظر آئینگے۔ ہزاروں سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود آج بھی انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور قائدانہ صلاحیتوں سے لوگ بہرہ ور ہورہے ہیں۔

 

۲۔حادثاتی لیڈر
۱۔ وہ لوگ جنہیں ساز گار حالات ملتے ہیں ان کی لیڈر شپ کی صلاحیت جاگ جاتی ہے۔ بعض لوگ عام سے ہوتے ہیں لیکن زندگی کا ایک وقت ایسا آ جاتا ہے جب ان کی لیڈر شپ کی صلاحتیں جاگ جاتی ہیں۔ دنیا میں بہت سارے ایسے لوگوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ جیسے مولانا ابولکلام، اسے گھر والے کیا بنانا چاہتے تھے اور وہ پڑھ کیا رہا تھا کر کیا رہا تھا لیکن حالات ایسے ہوگئے کہ وہ رہنمائی کرنے والا ایک لیڈر بن گیا۔
۲۔ بعض اوقات ایسے بڑے واقعات رونماء ہوتے ہیں جو کسی کو لیڈر بنانے کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں ۔جیسے جڑیانوالہ باغ کا واقعہ جو ۱۲ سال کی عمر میں بھگت سنگھ کے دماغ میں پیوست ہوگیا تھا جس نے آگے چل کر اسے نوجوانوں کے لیے مثال اور پورے ہندوستانیوں بلکہ ہر آزادی پسند اور مظلوم کا ہیرو بنادیا۔
۳۔ بعض اوقات لوگ سوچتے ہیں حالا نکہ اس عا لم میں نہ ایسے افراد کے پاس اختیارات ہوتے ہیں اور نہ مالی وسائل اور نہ ہی وہ کسی سیاسی ادارے سے فارغ التحصیل ہوتا ہے۔ ایک بات انہیں کچھ کرنے پہ اکساتا ہے سماج اور سماجی نظام کو تبدیل کرنے کی لگن اور منطقی دلائل جب ان کی یہ صلاحیت ان پہ آشکار ہوتی ہیں تو ان کی یہی صلاحیت اور سوچ انہیں کچھ کرنے پر مجبور کرتی ہے جس سے وہ لیڈر بنتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر ارنسٹو چی گویرا جو آج ہر آزادی پسند اور ترقی پسندوں کا ہر دلعزیز شخصیت بن چکا ہے۔

 

۳۔سیاسی پروسس ذریعے آنے والے لیڈر
وہ لیڈر جو پراسس کے ذریعے آتے جہاں وہ سیاست اور لیڈر شپ پڑھتے اور سیکھتے ہیں۔اکثر و بیشتر ایسی لیڈر شپ کی بنیادی تربیت دورِ طالب علمی میں شروع ہوتی ہے جہاں وہ طلباء یونینوں اور تنظیموں سے منسلک ہو کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں ۔ جس سماج کو اس بات کی جانکاری ہو اور آنے والے دنوں میں ترقی کی منازل طے کرنا چاہیں تو انہیں اس حقیقت سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے کہ سماج میں تعلیم سماجی تبدیلی کے لیے بنیادی ادارے کا کام کرتی ہے اور جس نے اس پہ قد غن لگانے کی کوشش کی وہ سماج رو بہ زوال ہوا۔ اس کی بڑی مثال ہمیں یورپ میں نشاۃ ثانیہ سے پہلے کی یورپ کے حالات اور ان کا مطالعہ کرنے سے دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں یورپ کی سیاسی ثقافت جسکی بنیاد ہی تعلیم اور تعلیمی ادارے ہیں ان میں طلباء کے سیاسی حقوق سے انحراف یا حکمرانوں کی جانب سے اس کلچر کو فروغ نہ دینے کی صورت میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد جوں ہی یورپی دنیا نے اس جانب توجہ دی تو وہ نئے سماجی اور اقتصادی ترقی کے منازل طے کرنے لگے اور مختصر مدت کے بعد معاشی حوالے سے ترقی کے نا قابلِ یقین منازل طے کیے۔ان کی انہی کاوشوں یا نشاۃ ثانیہ کے بعد طلباء یونیوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے بہت کم انہیں لیڈر شپ کا فقدان رہا ہے۔۱۹ویں صدی میں اٹلی کوبیرونی دخل اندازیوں سے چھٹکارا اور اٹلی کو بطور قوم متحد کرنے میں بنیادی کردار بھی طلباء تنظیموں کا ہی تھا ۔لیکن قومی یا ریاستی سیاست میں کامیابی ان طلباء لیڈروں کو نصیب ہوتی ہے جنہیں عملی زندگی میں قدم رکھنے کے ساتھ ان میں اس سیاسی عمل کا حصہ بننے کی قوت موجود ہوں جس میں سماجی تبدیلی کی جدو جہد کی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ جمہوری سیاسی ماحول میسر ہو جس میں اداروں کا استحکام،بہتر پروگرام اور پالیسی اور ان کا اطلاق، سیاسی کارکنوں کی تربیت اور عوام سے روابط کاتمدن برقرار ہو۔ اگر وہ یہاں ثابت قدمی کا مظاہرہ اور کسی غیرے یا رجعت پسند کی درباری نہ بنے تو وہ رہے یا نہ رہیں ،یقیناً آنے والوں کو لیے رول ماڈل بن جائیں گے۔کیونکہ مقصد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے قائدین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ میں رہوں یا نہ رہوں لیکن میرا عمل ایسا ہو کہ میرے جانے کے بعد اس کا میرے کام پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں بلوچ سماج میں سیاسی اداروں سے فارغ التحصیل قائدین میں شہید غلام محمدبلوچ، شہید ڈاکٹر منان بلوچ،شہید فدا بلوچ ، شہید حمید شاہین اور شہید جلیل ریکی ایسی مثالیں ہیں جن کے بغیر بلوچ کی سیاسی تاریخ نا مکمل ہوگی۔
انقلابی سیاسی جماعتوں کے قائدین کواس جانب زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پارٹی کارکنوں نے ہی آگے قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہے لہٰذا ان کو لیڈر شپ پڑھنے ، پڑھانے اور سیکھنے اور سکھانے کا پو را احساس ہونا چاہیے۔ اگر وہ اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھائیں گے تو انہیں آگے چل کر لیڈرشپ کے فقدان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس سے سماجی تبدیلی کا عمل کبھی روبہ زوال نہیں ہوگا۔
ڈیہہ مریک آجو ئی ننا ، قومِ گر راہشون مرے
تہار مئی آ ننک ہنور ، قومِ گر راہشون مرے
***


Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved