Translate In Your Language

New Videos

میر ٹالپر....بلوچستان مقدمے کاسچامنصف ....... چاکر خان بلوچ

میر ٹالپر....بلوچستان مقدمے کاسچامنصف ....... چاکر خان بلوچ

عام طور پر یہ کہا جا تا ہے کہ ایسے معاشرے یا معروضی حالات جہاں جبرو استبداد ،محکومی اور متشدد انہ حکمرانی ہو وہاں انسانی اعلیٰ تحقیقی و تخلیقی صلاحتیں اپنا اظہار نہیں کر پاتیں اور دم توڑ دیتی ہیں ،جس کے نتیجے میں تنقیدی شعور کی بجائے تقلیدی ذہنی اپروچ اور خوشامدی و غلامانہ موقع پرست نفسیات ہر طرف غالب آجاتی ہے، اگرچہ ایک خاص تناظر میں دیکھا جائے تو اسے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اگر اسے جدلیاتی طور پر دیکھا جائے تو تاریخ کا دھارا ایسے حقائق سے بھی مزین نظر آتا ہے جو جبرو استبداد کی فضا میں انسان کی انقلابی و تخلیقی صلاحیتوں کے ابھار اور ان کی وسعت ،گہرائی وپختگی کو بڑھانے کے اثرات و نتائج کے حامل ہیں۔ بعض سماجی و سیاسی معلمین کے مطابق آزادی اور انقلاب کی جدوجہد سے بڑھ کر کوئی ایسا سماجی عمل نہیں ہے جو انسان کی تخلیقی صلاحیتوں اور تنقیدی شعور کی حقیقی طور پر آبیاری کر سکے ،البتہ یہ تب ہی ممکن ہے جب ایک استبدادی اور محکومانہ معروض کو بدل دینے اور قید سے آزادی کی تڑپ اور شدید خواہش ہو۔ ایسی تڑپ اور خواہشات کا جنم کسی نظریے کے جنم کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ خود نئے نظریات اور انقلابی فکر کی بالیدگی اور تخلیق کا باعث بنتا ہے۔لازمی بات ہے کہ اس تمام حسیاتی و فکری اور خیالاتی سر گرمی کا مرکز اور بنیاد انسان ہی ہوتاہے ، جو کسی مخصوص نام ،شکل و صورت اور جسمانی ساخت کا حامل نظر آتا ہے ،لیکن اس کی انفرادیت ظاہری و جودی و جسمانی ساخت نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کے عمل کے تناظر میں اعلیٰ فکری و عملی صلاحیتوں کے حوالے سے سامنے آتی ہے ، جس کا اطلاق ایک فرد سے لے کر پوری قوم اور معاشرے پر کیا جا سکتا ہے ، بلوچ قوم کی سیاسی تاریخ اور مزاحمتی جدو جہد کا تسلسل یہ ثابت کرتا ہے کہ محکومی اور جبرو استبداد کی فضا نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں اورتنقیدی شعور کو دبانے کی بجائے انہیں مزید ابھارنے کا کردار ادا کیا ہے ،اور بلوچ سماج کا یہ انقلابی و مزاحمتی کردار اس کی اکائیوں یا افراد کی اعلیٰ فکری صلاحیتوں اور عمل کا مجموعہ رہا ہے ،ان افراد میں بعض ایسے معلمین ،فکری استاد ،انقلابی نظریہ دان اور رہنما و کارکن شامل ہیں جن کے اعلیٰ فکرو عمل تخلیقی صلاحیتوں اور رہنمائی نے محکومی اور جبرو استبداد سے نجات کی جدو جہد کا تسلسل قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میر محمد علی تالپور بھی اس آزادی پسند تاریخی انقلابی لڑی سے تعلق رکھتے ہیں ،جن کی اگر زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ پوری کی پوری بلوچ جدو جہد سے عبارت نظر آتی ہے ،بعض لوگوں کے مطابق اگر آپ میر تالپور کی زندگی کو ٹٹولیں گے تو یہ آپ کو بلوچ جدوجہد میں لے جاتی ہے اور بلوچستان کی تحریک آجوئی کی تاریخ میں اعلیٰ شعوری ،علمی و نظریاتی اور تخلیقی عمل کو جاننا چاہیں گے تو میر محمد علی تالپور آپ کو بڑے قد کاٹھ کے ساتھ نمایاں نظر آئیں گے، جیسا کہ روس میں لینن نے کمیونسٹ نظریے کی درست آگاہی کیلئے پلیخانوف کی فلسفیانہ تحریروں کے گہرے مطالعے کو لازمی قرار دیا تھا اسی طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ بلوچستان مسئلے اور بلوچ قوم کے درد کو درست طور پر سمجھ اور محسوس نہیں کر سکتے کہ جب تک آپ میر محمد علی تالپور کی تحریروں کا مطالعہ اور اس کی آنکھ سے بلوچستان کو نہیں دیکھتے ،میر صاحب کی تحریروں سے آشنا لوگ جانتے ہیں کہ آپ غیر ضروری لفاظی میں جائے بغیر دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں ،میر تالپور کی تحریروں کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ ان میں سیاست و ادب اور دلیل و احساسات اور جذبات کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے ،جو انسان کی مادی و غیر مادی ضروریات اور کیفیات کی حقیقی ترجمانی کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے ،عام طور پر سیاست و نظریے کو ادب و انسانی جذبات و احساسات سے الگ کر کے دیکھا جا تا ہے ،جس میں انسان کی حیثیت ایک مہرے اور مشین کے پرزے کی ہے، ایسی سیاست و نظریات بالادست استحصالی اور جابر قوتوں کے مفادات اور نظاموں کی ترجمانی اور تحفظ کرتے ہیں ،مگر تالپور صاحب جس نظریے اور سیاست کے امین ہیں وہ انسان کو کسی جابر و ظالم کے مفادات کے حصول کا مہرہ اور پرزہ نہیں سمجھتے ،میر صاحب کے مضامین کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ قاری صرف بلوچ قومی سوال اور اس کے گرد جنم لینے والے تضادات اور حالات سے ہی آگا ہی حاصل نہیں کرتا بلکہ ان میں دیئے گئے مختلف تحریکات کے تجربات اور مفکرین کے تصورات سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے، جبکہ سکھانے و پڑھانے کا یہ عمل میر محمد علی تالپور کی صرف تحریروں میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ ان کی زندگی خاص طور پر جلاوطنی کے دوران کی فکری سیاسی تعلیم و تربیت کی سرگرمیوں سے مزین ہے، اسی کردار اور وسیع مطالعاتی و علمی اپروچ کے باعث میر صاحب کو استاد بھی کہا جاتا ہے، جبکہ 1970کی دہائی سے بلوچ تحریک سے ایک طویل ترین وابستگی نے ان کی شعوری اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید بلند یوں تک پہنچایا ، اور ان کی جدوجہد کا یہ سفر آج بھی جاری ہے، جو مختلف مضامین اور تحریروں کی شکل میں نہ صرف نئی بلوچ نسل اور عام قاری کی تعلیم و تربیت اور رہنمائی کر رہا ہے بلکہ دنیا کو وہ آنکھیں بھی عطا کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ بلوچستان اور اس کے درد کو دیکھ اور محسوس کر سکتی ہے اسی لئے میر محمد علی تالپور جو اب پیران سالی میں ہیں کے اسی گہرے اور وسیع تجربے ، اعلیٰ علمی اپروچ اور حقیقت پسند انہ انداز فکر کی حامل تحریروں کو اکٹھا کر کے ایک کتاب کی شکل ’’پلید تر باشد‘‘ میں مقبوضہ بلوچستان کی مشہور اور اہم میڈیا گروپ سنگر پبلی کیشنز کی جانب سے شائع کیا گیا ہے، اس کتاب میں شامل کئے گئے مضامین مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ،اگرچہ یہ مضامین کئی سالوں کی اشاعت پر مبنی ہیں مگر انہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ آج کے حالات پر ہی لکھے گئے ہیں ، اسی لئے آج بھی ان تحریروں کے مطالعے کی خواہش اور دلچسپی ماضی کی طرح بر قرار ہے، اس کتاب کی اشاعت میر تالپور صاحب کی اپنی خواہش و کاوش نہیں بلکہ ان بلوچ علمی ،ادبی و صحافتی اور سیاسی حلقوں کی کوششوں اور خواہشات کا نتیجہ ہے جو میر صاحب کے علم و تجربے کی بلوچ سماج اور تحریک آجوئی کیلئے اہمیت او افادیت کا گہرا ادراک رکھتے ہیں ، اس کتاب ’’پلید تر باشد‘‘نے شائع ہوتے ہی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں ، جس پر حاکم وقت کے اوسان خطہ ہو گئے اور ’’پلید تر باشد‘‘ پر قدغن لگاتے ہوئے اسلامی جمہوری فوج نے کتاب کو ضبط کرنے کے ساتھ اس سے منسلک ہونے کے شبہ میں کچھ لوگوں کو بھی حراست میں لیا جن کے بارے تاحال انکے لواحقین کے پاس کوئی معلومات نہیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ میر محمد علی تالپور صاحب کی تخلیقات کا یہ مجموعہ نہ صرف بلوچ سیاسی کارکنوں اور طلباء نوجوانوں کے قومی مزاحمتی شعور ،نظریاتی وسعت اور انسانیت دوست انقلابی جذبوں کو بڑھائے گا وہاں تحریک آجوئی اور بلوچ قومی مسئلے کے بارے میں حکمرانوں کے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کے بھر پور جواب کا بھی کردار ادا کرے گا ۔

***


Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved