Translate In Your Language

New Videos

مزاحمت اورمزاحمت کار : دل مراد بلوچ......انفارمیشن سیکریٹری بلوچ نیشنل موومنٹ

مزاحمت اورمزاحمت کار : دل مراد بلوچ......انفارمیشن سیکریٹری بلوچ نیشنل موومنٹ

یہ مضمون پہلے بھی سنگر کے صفحات میں چھپ چکاہے لیکن اب اس میں بہت سی ترامیم کی گئی ہیں جو پچھے مضمون سے زیادہ بلیغ و متنوع ہے ۔ادارہ

کیاروشنی اور تاریکی ہم پلہ اور ایک دوسرے کی عین ضد ہیں کہ ایک ہوتا ہے تو دوسرا نہیں ہوتا ۔۔۔نہیں، ایسا نہیں ہے تاریکی صرف اُس وقت ہوتی ہے ،جب روشنی نہیں ہوتی ہے ۔۔۔یہ صرف روشنی کی عدم موجودگی میں موجودہوتاہے روشنی کو دور سے دیکھ کر پاؤں سر پر رکھ کربھاگ جاتا ہے ۔۔۔اور مقابلہ کی سکت نہیں رکھتا ہے۔۔۔زندگی اوراس بیکراں کائنات کے ہست ووجود اور جملہ رنگینیاں روشنی کے دم خم سے قائم ہیں یہ اور بات ہے کہ تاریکی کے پیروکار بھی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا کاروبار صرف تاریکی میں چلتا ہے ،جب روشنی آتی ہے تو ان کا کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے ۔۔۔ان کی زندگیوں میں تاریکی چھاجاتی ہے ،اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ روشنی کے دشمن روز بروز طاقت بڑھا تے ہیں سنگت ۔۔۔ساتھی ۔۔۔ساجھے دار ڈھونڈتے ہیں ۔۔۔اور روشنی کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریکی کو مقابلے میں مارنے ، بھگانے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ہے ۔۔۔بس ذرا سی دیا جلانے کی ضرورت ہوتی ہے تاریکی اپنے آپ غائب ہوجاتی ہے کیونکہ اس کا وجود ہوتا نہیں ہے بس نظر آجاتا ہے اس وقت جب روشنی ہمارے پاس نہیں یا ہم ہی ذرا سی الاؤجلانے کی ہمت ہار جاتے ہیں ۔ 

قوموں کی زندگی میں روشنی و تاریکی کا یہی آنکھ مچولی انسانی زندگی اور تاریخ کو کچھ کا کچھ بنادیتا ہے کیونکہ قوموں کی زندگی میں تاریکی اور روشنی دو اصطلاح ہیں جن سے مراد آزادی اور غلامی لی جاتی ہے ۔۔۔تاریکی کی طرح غلامی ازخود کوئی وجود نہیں رکھتا بلکہ آزادی کی عدم موجودگی کا نام ہے جب آزادی منہ موڑ کر چلاجاتا ہے تو غلامی کے وارے نیارے ہوجاتی ہے ۔۔۔چاروں اُور اپنی چادر پھیلاتا ہے ۔۔۔واہی تباہی کرتا ہے ۔۔۔سب کچھ سیاہ ہوجاتا ہے ذہن سیاہ ۔۔۔دماغ سیاہ ۔۔۔اور زندگی سیاہی کی نمونہ بن جاتا ہے ۔۔۔اور اس سیاہی سے مزید سیاہیوں کی تاریخ لکھی جاتی ہے جسے بدبختی ۔۔۔بدقسمتی ۔۔۔اور جانے کیا کیا نام دیا جاتا ہے ۔

آزادی کے دشمن یا آزادی سے خوف زدہ کوتاہ بین لوگ ضرورکہتے ہوں گے کہ غلامی ایسامسئلہ ہے جس کا کوئی حل موجود نہیں ہوتابلکہ توجیل یہ پیش کرتے ہیں کہ حل کی کوششیں مزید تباہی لاتی ہیں ،قوم کو مزید غلامی کی جانب دھکیل دیتی ہیں لہٰذا اسی پراکتفا کیاجائے کہ بس ’زندہ ‘ہیں ،سانسیں چلتی ہیں یہی غنیمت ہے۔سرزمین پاؤں کے نیچے سے سرک رہی ہے تو کیا ہوا ’سر‘ تو سلامت ہے ،پنجابی عرب کے اونٹ کی طرح گدان میں گھس چکا ہے تو کیا ہوا آپ ہی ضد نہ کریں پیچھے سے نکل جائیں ورنہ یہ بدمست اونٹ آپ کو نگل جائے گا،انہی مظاہر کا آج کل بلوچ بخوبی مشاہدہ توکررہا ہے مگریقین ہرگز نہیں کیونکہ بلوچ اپنی تاریخ اور عصری شعورسے اس امر کا عرفان حاصل کرچکاہے کہ مزاحمت اورمسلسل مزاحمتی عمل غلامی کا قطعی حل اور تیربہدف نسخہ ہے اورجس طرح ایک ننھاسا دِیا بہت تاریکی کافورکردیتی ہے اپنے حجم سے بہت زیادہ ۔۔۔اسی طرح مزاحمت اپنی حجم اور ہیئت سے بہت زیادہ غلامی ختم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے کیونکہ روشنی اور مزاحمت دونوں میں برکت ہوتی ہے ۔۔۔تقدس ہوتی ہے ۔۔۔قوموں کی زندگی میں مزاحمت وہی صداقت کا حامل ہے جس طرح سہہ شپ کی اندھیرتا ؤں اور تیرگی کو ختم کرنے کے لئے سورج کے روشنی کی ہوتی ہے۔۔۔اسی طرح غلام قوم کی وجود ،آزادی اور بقاء کے لئے مزاحمت ایک ناقابلِ تردید صداقت ہے ۔۔۔انسانیت کی یاد رکھنے کے قابل اور جلوہ تاب تاریخ تو مزاحمت کی تاریخ ہے ۔۔۔ مزاحمت سراپافطری عمل ہے اور مزاحمت کرنا ہر قوم کا فطری حق ہے جسے جھٹلانا دنیا کے کسی بھی طاقت کے لئے ممکن نہیں ۔۔۔قدرت کی پوری نظام مزاحمت پرانحصارکرتا ہے جس طرح ایک زندہ جسم میں حملہ آور جرثوموں کے خلاف قدرتی مدافعتی نظام کار فرما ہوتا ہے جو جسم کے جملہ اعضاء کی افعال کو منظم رکھتا ہے اسی طرح قوموں میں ایک مدافعتی نظام موجود تو ہوتا ہے مگر سیاسی ارتقاء کی غیر متوازن سفر ، استحصالی طاقتوں اور قبضہ گیر یت اورنوآبادیاتی طرززندگی سے اس نظام پر ضرب پڑتی ہے تو یہ نظام درہم برہم ہوتی ہے لیکن مزاحمت کی اصل روح تو ایسے قوموں میں پنپتی ہے جوزورآوروں کے ہاتھوں لتھاڑے گئے ہیں ۔۔۔جن کے مقدرپرذلت اور غلامی ہو چکا ہے اورایسے ہی قوموں کی مزاحمت میں پوری انسانیت کے لئے اُمید کی علامت پنہاں ہوتی ہے ۔ مزاحمت کی تاریخ ایسے قوموں نے آج تک زندہ رکھا ہے جو آج بھی بدی کے قوتوں کے خلاف مزاحمت کی تاریخ میں تابناک رنگ بھر رہے ہیں ۔۔۔جب تاریکی کے خلاف روشنی کے پرستار، علمبرداربلوچ مزاحمت کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں توبلوچ وطن میں مزاحمت کے بے شمار رنگ نمایاں نظرآتے ہیں کیونکہ اس خطے کو ہمیشہ قبضہ گیریت کی تاریکیوں کاسامنا رہی ہے ۔

چیئرمین خلیل بلوچ کہتے ہیں اور بجا کہتے ہیں کہ ’’قدرتی معدن ، زرخیز اور شاداب خطے ہمیشہ زورآوروں کے کشش کا باعث بنتے ہیں زورآورقابضین اپنی اور اپنی نسلوں کی عاقبت سنوارنے کے لئے اور اپنی استحصالی مشین کو ایندھن فراہم کرنے کے لئے وسائل سے مالامال سرزمین کوروندڈالتے ہیں ۔قوموں سے اُن کی آزادی اور اُن سے جینے کا حق چھین لیتے ہیں ،انہیں اپنی ہوسِ قبضہ گیری کا نشانے بناتے ہیں‘‘ ۔تاریکی کے نگاہِ بد کا شکارخطوں میں مادرِ وطن بلوچستان کا شمار ہوتا ہے۔

بلوچ سرزمین تاریخ کے مختلف دورانیے میں قبضہ گیریت کی زدمیں رہا ہے ،اس کی جغرافیائی حیثیت ، وسائل اور معدن ہمیشہ قبضہ گیروں کے لئے کشش کا باعث بنتے آئے ہیںیہاں اکثر اوقات میں تاریکی نے راج کی کوشش کی ہے لیکن بلوچ کبھی بھی روشنی کی پرستش سے غافل ہوکرخاموشی اختیار نہیں کی ہے ۔ تاریخ میں بلوچ ایک طویل مزاحمت کی تاریخ کے مالک ہے۔ تاریخ کے مختلف گوشوں میں بلوچ مزاحمت کے محفوظ داستان سرگوشیاں کرتے سنائی دیتے ہیں ۔۔پرتگیزیوں کے خلاف حمل جیئند لڑے تو دادشاہ ایرانی مظالم کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار پائے ۔خان محراب خان انگریزی سپاہ کے سامنے سینہ سپر ہوئے تو پاکستان کے لئے بھائی احمد یار خان کی مصلحت کوش فیصلوں پر لات مار کر پرنس کریم نے پہاڑوں کی راہ لی۔۔۔ تاریخ ہمیں بلوچ خان نوشیروانی سے ملاتا ہے تو کبھی نورا مینگل کے قصے سناتا ہے ۔۔۔۔خیربخش مری اول بگھی کھینچنے سے منکر ہوتا ہے تو ہزاروں گمنام کردار بلوچ مزاحمتی تاریخ موتیوں سے بھرتے رہے ۔۔۔اپنی پیرانہ سالی میں بابو نوروز ، میرگھٹ اور بلبل کی سر فخر سے بلند کراتا ہے تو بابو کی تقلید میں اسی سالہ نواب اکبر خان صدی کی تاریخ بن جاتی ہے ۔۔۔مگرآسان نہیں مزاحمتی صفحات کو کرداروکارناموں سے بھرنا۔۔۔آسان نہیں تاریخ میں زندہ رہنا۔۔۔قدم قدم پر بلوچ نے موت کی کھٹنائیوں کو سمیٹا ہے ۔۔۔قدم قدم پر قومی تاریخ کو یادگاراور باوقار بنادیا ہے ۔۔۔اس لئے دنیا کے کسی خطے میں کوئی بلوچ وجود رکھتا ہے ہزارہا اختلاف کے باوجود اپنے بلوچ ہونے پر فخر کرتا ہے ۔۔۔کیونکہ اسی مزاحمت نے اسے اس قابل بنادیا ہے کہ وہ اپنا سر فخرسے بلند کرسکے۔

بلوچ قومی تاریخ میں اکثر و بیشتر روایتی مزاحمت کے حوالے ہی ملتے ہیں ۔۔۔جب غنیم حملہ کرچکا تو پورا قبیلہ یکمشت اُٹھا ۔۔بلوچ سماج میں قبیلے سماجی ادارے کی ایک ایسی قسم ہے جس میں پورا قبیلہ ایک غیر تحریری معاہدے کی صورت میں ہر عمل میں ساجھے دار ہوتا ہے خصوصاََ جنگ بہت مشکل اورکٹھن ہوتی ہے جو پورے قبیلے کے قوت و قیادت کا تقا ضا کرتاہے ۔لہٰذا جب کبھی ایسی موقع درپیش ہوتی تو قبیلہ جم کرلڑتایہ تو اندرکی بات ہوئی لیکن جب قوم پر حملہ ہوا ،سرزمین پر حملہ ہواتوایسے قومی دشمن کے مقابلے میں ایک سے زائد قبائل یا پوری قوم مل کر لڑتا، بلوچ کی تاریخ اِسی سے بھر پور ہے ، مزاحمت بلوچ کی فطرت کا خاصا ہے، یہ مزاحمتی جنگ کی قدیم جنگی مظہر ہے جسے بلوچ نے زندہ رکھا۔قبضہ گیریت سب کچھ چھین لیتا ہے ۔ اپنی سرزمین پر انسان غلام بن جاتا ہے نہ صرف سب کچھ غیر کے تصرف میں جاتا ہے بلکہ غلامی اندرونی طور پر مختلف بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے لیکن مزاحمت ایسے معاشروں کا سرجن ہوتا ہے و سرجری کرکرکے جسم کے فاسد مواد کونکال باہر کردیتا ہے ۔جسم کے ناکارہ حصوں کو بحال کرتا ہے ، معطل افعال کو درست ہے ۔۔۔پھیپھڑوں میں تازہ دم ہوا کے روانی کا انتظام کرتا ہے ، ماضی کاجائزہ لینے ،حال سنوارنے اور مستقبل پر نظر رکھنے کے لئے دماغ کو صحیح راستے پر ڈالتا ہے ۔۔۔قدرت کی رنگوں اور رنگینیو سے لطف اُٹھانے کے لئے آنکھوں کی بینائی واپس لانے میں مدد دیتا ہے اوراسی بینائی سے قوموں کا احساسِ جمال زندہ ہوتا ہے وہ تخلیق و اختراع کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑتے ہیں ۔۔۔مزاحمت کار قوموں کی جراحی کرتے ہیں ۔۔یہ قبضہ گیر کے خلاف اپنی قومی آزادی کے لئے لڑتے ہیں ۔۔۔قومی وقار کی بحال کے لئے تن من لٹاتے ہیں تو اندرونی طور پر اُن لوگوں کے لئے بھی قطعاََ نرم گوشہ نہیں رکھتے جو قابض کے دست و بازو بننے میں عار محسوس نہیں کرتے ۔۔۔جو غلامی کو برقرار رکھنے کے لئے قومی مقدر سے کھیلتے ہیں۔۔۔جو استحصالی قوتوں کے لئے ابن الوقت وفادار ہوتے ہیں لیکن اس باب میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مزاحمت کے لئے ضعیف ناراضگی اور مجہولیت پر مبنی جذبہ کار گر نہیں ہے ۔

مزاحمت کار کا زادِراہ اور توشہ کیا ہوجو اسے مزاحمت کی قابل بنادیتا ہے ۔۔۔شاید کوئی جنگی سازوسامان اوراسلحہ و بارود کو مزاحمت کار کی ضرورت قراردے مگر میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ مزاحمت کا رکاتوشہ اورزادِراہ قومی جذبہ کے ساتھ ساتھ قوم پرگزرتی کرب ۔۔۔ استحصال کے بھاری پاٹوں میں پسے کچلے گئے دلوں کا ارمان ۔۔۔ دریدہ بدنوں کی احساسِ ستر ۔۔۔غلامی کے انگارے انگارے راہوں میں چلتے برہنہ پا ؤ ں کے چھالے اپنی روح میں سمیٹ لینے کی ضرورت ہے ۔۔۔اُن ماؤں کے آسمان کو چیرتی آہ کے اثر کے لئے ماحول سازگار بنانی پڑتی ہے جن کے جگر گوشوں کابدی کے قوتوں نے زندانوں میں اپنی فرعونیت سے بند بند جوڑجوڑ کچل کرکے رکھ دئیے ہیں اورمزاحمت کاربیمار قوم کی علاج کو اپنا مقصدِ حیات قراردے کیونکہ غلام، زیر دست اور زیر نگوں قوم ، عالمی برادری میں ،اورقوموں کے صف میں بیمار ہی شمار ہوتے ہیں ۔۔۔نوآدیاتی نظام اور قبضہ گیری بیماری ہوتی ہے ۔۔۔صریحاََ بیماری ہوتی ہے ،ایسے قوموں کا مزاحمت کار اپنی مزاحمت کے نشترسے پھوڑے پھنسیاں کُرید تی ہے ۔۔۔فاسد مواد کی بیخ کنی کرتی ہے ۔۔۔لہو رستے زخموں کی چیر پھاڑ او رجرثیم کُش ادویات سے علاج کرتی ہے ۔۔۔ اس لئے ہر معاشرے میں مزاحمت کار عظیم تصور ہوتے ہیں ۔۔۔مزاحمت کار کے روح میں انسان اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار ،ایثارو قربانی ، احساس و مروت اور خدمت خلق سماجاتے ہیں ۔۔۔۔قومی مقصد کے لئے مرمٹنا اُس کے شخصیت کاخاصا بن جاتے ہیں ،اس لئے مزاحمت کاراورمزاحمت کرنے والے قوم بلاشبہ عظیم شمار ہوتے ہیں۔معاشرے کی نگاہیں مزاحمت کار پر مرکوز ہوجاتی ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی کو بامقصدبنانے کا راز پاچکا ہے لیکن یہ مزاحمت کے مزاحمتی زندگی کا ابتدا ء ہوتا ہے انجام نہیں ،معراج نہیں ہوتا،ہر مزاحمت کا ر کو قومی معرفت حاصل کرنے کے لئے معاشرے کی ذہن میں اترنے کی ضرورت ہوتی ہے،مزاحمت کار جس گہرائی میں سماج کے دل میں اترتے ہیں ،جس قدر سماجی ذہن کا حصہ ہوتے ہیں اسی تناسب سے ان کاعمل دیرپاء اوردوررس اثرات کا حامل ہوتاہے ۔

لینن نے کہاتھا۔’’زندگی ایک نہایت قیمتی متاع ہے اسے کسی عظیم نصب العین کے لئے وقف کرکے ہی احسن طریقے گزارا جاسکتا ہے ‘‘۔زندگی کو احسن طریقے سے گزارنے اور معاشرے کے ذہن میں اترنے سے ہی مزاحمت اَمرہوجاتا ہے اسے فنا نہیں ہوتی ،کیونکہ جو چیز معاشرتی ذہن کا حصہ بن جائے تو کوئی طاقت فنا نہیں کرسکتی ،آج بلوچ سماج میں یہی کچھ ہماری روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ دشمن روز مزاحمت اورمزاحمت کار کو مٹانے کی کوشش کررہاہے ،کشتوں کے پشتے لگا رہاہے ،اس کے فوج زمین و فضا میں سے روزانہ حملہ آور ہوتی ہے جہاں جہاں مزاحمت اورمزاحمت کار کا آثار مل جائیں تو پورے علاقے کو تہس نہس کردیتی ہے مگر مزاحمت کار نئی توانائی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے ۔۔۔مزاحمت کارنئی طاقت کے ساتھ دشمن پر کاری ضرب لگاتا ہے ۔۔۔مزاحمت کا رکمیت اورکیفیت میں گھٹنے کے بجائے بڑھ جاتے ہیں ۔۔۔کیونکہ مزاحمت کار سماج کے ذہن میں اترنے میں کامیاب ہوچکا ہوتا ہے ۔۔۔اب وہ سماج کے روح کا ایک جزولاینفک حصہ ہے ۔۔۔اس لئے اسے فنا نہیں 

آج کا بلوچ مزاحمت کار اپنے پیش روؤں سے کئی اہم حوالوں سے مختلف ہیں کیونکہ یہ جھتے نہیں ہیں ،انفرادی شناخت نہیں رکھتے ،ایک فرد یا شخصیت کے منشا کے تابع نہیں ،آج کے مزاحمت کار تنظیم کا شکل اختیار کرچکے ہیں ،تنظیمی شکلوں میں منظم ہوچکے ہیں ،وہ تنظیم جنہیں سماج جنہیں چیئرمین خلیل بلوچ’ نجات کا قلعہ‘ کہتا ہے،اورتنظیم کی شکل میں مستقبل کے لئے ایک واضح خاکہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ،مستقبل کے واضح انقلابی پرگرام جس میں معاشرے کی اعلیٰ و ارفع پیمانوں میں تعمیر و تصویب ممکن ہے۔۔۔آج کا بلوچ مزاحمت کار محض جنگجو نہیں بلکہ ایک سیاسی بصیرت کے حامل ہے جس کی رہنمائی شعور اور عصری تقاضے اور چیلنجز کررہے ہیں اس لحاظ سے آج کا مزاحمت کار ایک بہترین تخلیق کار بھی ہے ،تنظیم کا صرف ایک اکائی نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کے طورپر نئی راہیں تخلیق کرتا ہے،یہ سماج میں انقلاب کی راہوں میں مانع رکاوٹوں کو دور کرتا ہے ،اپنے حصے کی کام پراکتفا نہیں بلکہ جوآزادی کے سفر میں دشمن کے ہاتھوں ہم سے بچھڑرہے ہیں ،ان کے ادھورے کاموں کی تکمیل اپنا فریضہ سمجھتا ہے ،جو اب تک اپنے حصے کے کاموں کی انجام دہی کے قابل نہیں ہیں آج کا مزاحمت کار انہیں بھی پورا کررہاہے ،اس لئے آج کا مزاحمت کار محض جنگجو نہیں کیونکہ ’’جنگ مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے اور اسے بجائے خود مقصد قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ جنگ انقلابیوں کا ہتھیارہے اہم ترین انقلاب ہے انقلابی مقصد ، انقلابی تصورات ، انقلابی اہداف ، انقلابی جذبات اور انقلابی سچائیاں ہی اہم ہیں‘‘(فیڈل کاسترو)

یہی انقلابی اہداف ومقاصد مزاحمت کار کے زندگی کا حاصل بن جاتے ہیں ،اِن کے بغیرمزاحمت کار زندگی بِتانے کاسوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی مزاحمت کار آفاقی علامت بھی ہوتے ہیں ،چی گویرا ایک علامت ہے لڑا اور شہیدہوالاطینی امریکہ میں ،مگریہ ان کی آفاقیت ہے کہ بلوچ نوجوان کا ہیرو ہے ،دنیا بھرکے مظلوم کا ہیرو ہے ،بھگت سنگھ ہندوستانی تھا، انگریز کے خلاف لڑا، اس کے ہم وطنوں سے زیادہ ہم محکوم انہیں جانتے ہیں ،ان کے تعلیمات سے فیض اور حوصلے سے حوصلہ پاتے ہیں ،جیولیس فیوچک کہاں کے تھے ،اسپارٹیکس کہاں کے تھے، کہاں لڑے ،لیکن دنیا میں جہاں بھی ظلم کے خلاف مزاحمت ہوتا ہے وہاں کا مزاحمت کار اِنہی کے نظریے سے قطب نما کی طرح رہنمائی حاصل کرتے ہیں ،مزاحمت کار زمان و مکان کی حدبندیوں اور قید سے ماورا ہوتے ہیں ۔یہ ہمیشہ کے لئے اور دنیا کے ہر خطے کے لئے ہوتے ہیں جس طرح آج بلوچ سماج میں کوئی بالاچ ،حمل جیئند،لونگ خان کا تاریخ نہیں پوچھتا،اس کے دور سے سروکار نہیں رکھتا اس کے کردار کا علم رکھتا ہے ،اس کے کردار سے رہنمائی لیتا ہے ۔۔۔مزاحمت کارامر کردار بن جاتے ہیں ۔۔۔لافانی علامت ہوتے ہیں ۔۔۔کائناتی اذہان ہوتے ہیں۔۔۔عمل کانمونہ ہوتے ہیں ۔۔۔سچے کردار وں کی مساعی ، قربانیاں محض ایک جگہ پر ایک خطہ پر محدود نہیں رہتے ہیں ۔بلکہ پھیلتے رہتے ہیں ۔۔متاثر کرتے رہتے ہیں اورانسانیت کا میراث بن جاتے ہیں۔

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved