Translate In Your Language

New Videos

شہید ڈاکٹر منان ،بلوچ جہد کا انقلابی ہیرو , چاکر خان بلوچ

شہید ڈاکٹر منان ،بلوچ جہد کا انقلابی ہیرو , چاکر خان بلوچ

یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ انقلابی نظریے کے بغیر انقلاب اور آزادی کی منزل تک رسائی ممکن نہیں ہے ،اسی لئے کسی بھی انقلابی تحریک میں نظریہ اولین اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ہر نظریہ ،تفکر اور خیال بذات خود غیر مادی شکل میں اپنے اظہار سے قاصر ہے۔ نظریاتی مظہر انسانی وجود کا محتاج ہے، یوں انسانی وجود کے بغیر نہ تو کوئی نظریہ اور فکرو خیال جنم لے سکتے ہیں اور نہ ہی اظہار کر سکتے ہیں ، نظریاتی اظہار انسانی افعال اور سرگرمی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ اس تناظر میں کسی بھی تحریک میں ایسے انسانی وجود جو انقلابی حریت پسند نظریے سے لیس ہوں درست سمت میں رہنمائی اور کامیابی کیلئے بنیادی حیثیت اور کلیدی بلند مقام رکھتے ہیں ۔انسانی وجود کی اسی بنیادی و کلیدی حیثیت کے پیش نظر تاریخ میں فرد کے کردار کی اہمیت قدیم و جدید انسانی تاریخ سے لے کر عصر حاضر تک ہمیشہ مسلمہ رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ نظریہ ہی اصل رہنمائی کرتا ہے اور نظریے سے لیس افراد قیادت شمار ہوتے ہیں ۔ اسی لئے قیادت کو سوجھ بوجھ کا مجموعہ بھی قرار دیا جاتا ہے ، جو انقلابی عمل میں داخلی یا موضوعی فیصلہ کن فیکٹر یا عنصر کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے ۔ انقلاب کیلئے جہاں معروضی شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے وہاں موضوعی یا انقلابی قیادت کی موجودگی کی شرائط کی تکمیل بھی نا گریز ہے ، قیادت اگرچہ انقلابی پارٹی یا تنظیم ہوتی ہے جو اجتماعی قیادت کا تصور پیش کرتی ہے مگر انسانی سرگرمی وفعالیت کے بغیر پارٹی یا تنظیم بے جان وساکت ڈھانچے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ کیفیت ان ڈھانچوں کی طبعی موت اور ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتی ہے ،جبکہ جہاں انسانی سرگرمی نظریاتی طور پر انتہائی گہری ، وسیع اور پر جوش و بھر پور ہوگی وہاں پارٹی و تنظیمی ڈھانچے تحریک کے عمل میں موثر اور کارگر اوزار یا آلات ثابت ہوتے ہیں ، اور سماج میں متبادل یا متوازی انقلابی ریاست کا کردار ادا کرتے ہیں ، لیکن کسی بھی تحریک اور اجتماعی جدوجہد کے عمل میں شریک تمام افراد اپنی صلاحیتوں اور انفرادی جوہر کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے ۔ یہاں عدم یکسانیت سے مراد برتری وکم تری نہیں ہے بلکہ انفرادیت کے بعض ایسے جوہر ہیں جو تحریک سمیت کسی بھی عمل میں نمایاں اور ممتاز حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔
اس تناظر میں آقا وغلام ،حاکم ومحکوم ظالم و مظلوم اور بالادست وزیر دست قوتوں کے درمیان کشمکش اور جنگ وجدل کی پوری انسانی تاریخ ایسے انقلابی انفرادی کرداروں سے بھری پڑی ہے ،جن کی گہری علمی بصیرت، تحریک سے شعوری وابستگی اور بھر پور وپر جوش سرگرمی نے اپنی اقوام و معاشروں کو انقلاب اور آزادی سے روشناس کرانے میں فیصلہ کن و کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تاریخ میں وہ اصل ہیروز ہیں جن کے احترام اور عظمت میں نہ اب تک کمی آئی ہے اور نہ ہی رہتی دنیا تک آئے گی ۔ یہ ہیروز دنیا کے ہر اس مقام ، قوم اور معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں جہاں جبرو استحصال نو آبادیاتی غلبہ، محکومی اور ظلم و ستم کا دور دورہ رہا۔ بلوچستان اور بلوچ قوم بھی ان مقامات واقوام کی فہرست سے باہر تصورنہیں کیے جاتے۔ اس ضمن میں قومی جہد کی ایک طویل ترین تاریخ اور بے مثال قربانیوں کے باعث اس فہرست میں بلوچ قوم نچلے نہیں بالائی حصے میں نظر آتی ہے ، خاص طور پر خطے میں اب تک ابھرنے والی سامراج دشمن ترقی پسند انقلابی تحریکات میں بلوچ جہد آجوئی اپنی منفرد حیثیت میں نمایاں رہی ہے ۔ اس جدو جہد کو نمایاں اور منفرد مقام دلوانے میں جہاں بلوچ سماج کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواص و عام کا بھر پور کردار شامل ہے ، وہاں اعلیٰ علمی و نظریاتی اپروچ کی حامل پختہ سیاسی قیادت اور کارکنوں کی جرأت مندانہ رہنمائی اور قربانیوں کے بغیر یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔ اگرچہ ہر دور میں تحریک کو نامسد حالات ومشکلات کا سامنا رہا مگر مشکل ترین اور جبرواستبداد کے حامل حالات نسل در نسل بلوچ حریت پسند انقلابی ہیروز کی بالیدگی و پرورش میں رکاوٹ نہ بن سکے ، بلوچ قومی تحریک کا حالیہ ابھار بھی ماضی کی جدوجہد کا تسلسل ہے ، جس میں آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت ووسعت اور پذیرائی پائی جاتی ہے ، جبکہ موجودہ دور میں تحریک میں آنے والی ایک اہم کیفیتی تبدیلی شخصیات سے بڑھ کر فکرو عمل کی بنیاد پر سیاسی قیادت کی تعمیر اور پذیرائی کے عنصر کا غالب آنا ہے ۔ اس تبدیلی نے قومی جہد کی باگ ڈور بلوچ سماج کے عام پختہ انقلابی نظریاتی کارکنوں وعام طبقے کے ہاتھ میں تھما دی ہے ، جس نے اس منفی تاثر اور پروپیگنڈے کو بے اثر اور زائل کر دیا ہے ،جو پوری تحریک اور جدوجہد کو چند گنے چنے روایتی وسیاسی حیثیت کے مالک قبائلی سرداروں کا پیدا کردہ فتنہ و فساد قرار دینے پر مبنی رہا ہے ۔ حالانکہ اس پروپیگنڈے و تاثر کو پھیلانے والے اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ رہے کہ قبائلی روایتی سرداروں اور مراعات یافتہ طبقے کی بھاری ترین اکثریت ہمیشہ حکمرانوں اور حکومتوں کی مداح سرا اور پیروکار بنی رہی جس کا تسلسل ہنوز جاری ہے ، مگر پس پردہ مقصد تحریک کی گہری سماجی عوامی بنیادوں کی حقیقت پر پردہ ڈالنا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانا تھا۔ نئی کیفیتی تبدیلی کا اظہار تحریک کی قیادت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ہنر مند اور گہری علمی و نظریاتی اپروچ رکھنے والے نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کی شمولیت اور فیصلہ سازی میں کلیدی حیثیت اختیار کرنے میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے ان نوجوانوں و سیاسی کارکنوں کی بھاری اکثریت کا تعلق عام طبقے سے ہے، یہ نوجوان اور کارکن اپنی علمی وعملی صلاحیتوں اور بھر پور کردار کی بدولت بلوچ قوم میں قابل اعتماد رہنمایانہ مقام حاصل کر چکے ہیں ۔جن میں شہید ڈاکٹر منان بلوچ بھی شامل ہیں ، شہید ڈاکٹر منان بلوچ مشکے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی اسکول کے زمانے سے ہی بلوچ قومی سیاست سے وابستہ ہو گئے، اپنی سیاسی وابستگی اور نظریاتی سمت کا اظہار انہوں نے بی ایس او سے کیا اور میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم سے فارغ التحصیل تک بلوچ طلبہ تنظیم سے منسلک رہے ۔ ڈاکٹر منان اپنے ہم عصر ان سیاسی کارکنوں سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں نو عمری میں اپنے ابتدائی سیاسی عمل میں نظریاتی و سیاسی زوال پذیر منظر نامے کا سامنا تھااور تحریک گہرے نشیب میں تھی، یہ وہ تاریک دور تھا جب انقلابی نظریہ پچھلی نشستوں اور موقع پرستی و سیاسی جہالت اور مفاد پرستی و رجعت پسندی فرنٹ سیٹ پر قبضہ جما چکی تھی ۔
سیاست سے علم اور نظریے کو دیس نکالا دے دیا گیا تھا، انقلاب و آزادی کی بات آؤٹ آف فیشن اور فرسودہ قرار پا چکی تھی ، سامراجیت و نو آبادیاتی تسلط کی بجائے اس سے چند مراعات و حاصلات کے بدلے سمجھوتے بہترین حکمت عملی اور اعلیٰ ذہانت تصور کئے جاتے تھے، جو اس کا قائل نہ ہوتااس کا مذاق اڑایا جاتا، یقینی طور پر یہ صورتحال انقلابی فکروعمل اور امید و آس رکھنے والوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور مشکل ترین تھی۔ یہ کیفیت کسی کڑے امتحان سے کم نہ تھی ، جہاں حریت پسند انقلابی قیادت کاشدید فقدان تھا ، اس زوال پذیری کے دور میں انقلابی فکروعمل پر قائم رہنا آسان نہ تھا، لیکن نظریاتی و عملی گہرائی اور اپنے مقصد کے حصول کی سچی لگن وہ اہم عوامل تھے جس نے شہید ڈاکٹر منان کو ثابت قدم رکھا ، اور وہ اس تاریک دوور کے ہر امتحان میں کامیاب ہوئے۔ جیسے ہی تحریک میں ابھار آیا ڈاکٹر منان ابتدائی دور میں ہی اس کا سرگرم حصہ بن گئے، جب شہید چےئرمین غلام محمد بلوچ نے راہیں جدا کر لی تو ڈاکٹر منان بھی اسی سفرکا حصہ بن گئے۔ حالانکہ وہ اس دوران میڈیکل آفیسر کی پر آسائش ملازمت کر رہے تھے، اور پرائیویٹ میڈیکل پریکٹس کے ذریعے لاکھوں کروڑوں روپے کما سکتے تھے، لیکن مالی خوشحالی اور پر تعیش زندگی اس کی بے چین انقلابی روح کو چین و سکون نہیں دے سکتے تھے، وہ اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ ایک بڑا سرکاری عہدہ اور آرام کے بدلے جس راستے کا انتخاب اس نے کیا ہے وہ مقتل سے ہو کر گذرتا ہے ،جہاں سونے کیلئے مخمل کا بستر نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو انگاروں سے بھرا ہے ، جس پر کڑی دھوپ میں ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے ، اور یہاں کوئی سائبان بھی نہیں ہے۔ انقلاب و آزادی کی نظریاتی و تحریکی شمع اپنے پروانے کو اس جلا دینے والی تپش اور انجام سے خبردار کر چکی تھی، مگر شہید منان تحریک کی شمع کا ایسا پروانہ تھا جو آیا ہی جل کر امر ہونے کیلئے تھا۔ ڈاکٹر منان نے تحریک سے وابستگی تنگ نظر قوم پرستانہ جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں کی تھی بلکہ یہ فیصلہ ان کے اس گہرے علم و شعور کا تھا جو اس کے نو آبادیاتی جبرواستبداد پر مبنی حالات اور وسیع مطالعہ سے تشکیل پایا تھا۔ وہ با علم نظریاتی سیاست پر یقین رکھتے تھے،مختلف سماجی و سیاسی اور فلسفیانہ علوم کا مطالعہ شہید ڈاکٹر منان کی زندگی کا لازمی حصہ تھا، جبکہ قلم کاری میں بھی جہاں تک ہو سکا وہ اپنے خیالات و نظریات کا ظہار کرتے رہے ۔ڈاکٹر منان بلوچ نے اپنے انقلابی حریت پسند فکرو عمل کے اظہار کیلئے ہمیشہ پر امن جمہوری طریقہ کار اختیار کیا۔ اگرچہ وہ مسلح جدوجہد کے بغیر بلوچ حق آجوئی کے حصول کو ناممکن خیال کرتے تھے تاہم وہ عوام اور سماج سے تحریک کے رشتوں کو مضبوط و مربوط بنانے کیلئے کھلی اور پر امن جمہوری سیاسی سرگرمیوں کو بھی ناگریز قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بی این ایم میں شمولیت اختیار کی ، جہاں وہ مختلف مرکزی عہدوں پر فائز رہے ، اور پھر مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اور شہادت تک اپنی پارٹی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ۔ جس سیاسی و معروضی کیفیت میں ڈاکٹر منان بلوچ نے بی این ایم کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا وہ کسی بھی طرح کھلی اور پر امن سیاسی انقلابی سرگرمیوں کیلئے ساز گار نہیں تھی ۔ 2010 کا کونسل سیشن کٹھن حالات میں بلوچ قومی تحریک کا کامیاب کونسل سیشن پارٹی چےئرمین و ڈاکٹر منان جان و ساتھیوں کی کاوشوں سے ممکن ہوا۔جب چےئرمین شہید غلام محمد بلوچ کی شہادت کے بعد اس وقت کے پارٹی کے قائم مقام صدر اور سیکریٹری اطلاعات نے بلوچ قومی تحریک کو ڈی ٹریک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اپنی کم ظرفی سے بی این ایم کو دولخت کر دیا گیا،اُس وقت کے سیکریٹری اطلاعات ،قائم مقام صدر کے ترجمان کی حیثیت سے تمام معاملات میں پیش پیش تھا اور وہ بی این ایم کو دولخت کرنے میں اہم کردار تھا۔وہ الگ بحث ہے کہ ایسے لوگ سزا و احتساب سے بالا کیوں ہو پھاتے ہیں۔ پارٹی چےئرمین کو ان تمام معاملات کا اچھی طرح ادراک تھا اور ہے۔ (اس وقت کے حالات ، اس مخصوص گروہ کے کرتوت تاریخ کا حصہ ہیں جو یہاں زیر بحث نہیں)۔ ڈاکٹر منان جان ان عناصر کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوئے ۔ یہی لوگ جو بی این ایم کو دولخت کرنے میں پیش پیش تھے ڈاکٹر منان کو بھی نہیں بخشا گیا،مگر عظیم رہبر نے ہمت نہیں ہاری اور آج بلوچ قوم کو ایک منظم انقلابی تنظیم دینے میں کامیاب ہوئے۔
قابض نے تحریک کو کچلنے کیلئے جس ریاستی جبرو استبداد کا راستہ اختیار کیا اس کا نشانہ بی این ایم کو بھی بڑی شدت سے سے بنایا جا رہا تھا جو ہنوز جاری ہے ۔ لاپتہ بلوچوں کی تشدد زدہ مسخ لاشوں کی برآمدگی کا آغاز بھی بی این ایم کے سر براہ چیئر مین غلام محمد بلوچ اور اس کے ساتھیوں لالا منیر بلوچ اور شیرمحمد بلوچ کی دوران گمشدگی بہیمانہ شہادتوں کی صورت میں ہوا ۔ اس کے بعد بلوچ نیشنل موومنٹ کی قیادت کے گویا ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئے گئے اور سینئر قیادت کا بھاری اکثریتی حصہ لاپتہ کر کے شہید کر دیا گیا جن کی دوران حراست تشدد زدہ مسخ لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا جاتا رہا۔ ان مشکل ترین حالات میں ڈاکٹر منان کا آگے بڑھ کر پارٹی چیئرمین کے ساتھ تنظیم کی قیادت سنبھالنا انتہائی جرأت مندانہ اقدام تھا ۔ ریاستی قوتوں کی طرف سے بلوچستان میں حریت پسندانہ انقلابی سیاست کیلئے دائرہ انتہائی تنگ کرنے اور کھلی پر امن سیاسی سرگرمیوں پر قد غن کے باوجود شہید ڈاکٹر منان نے اپنی تنظیمی و سیاسی سر گرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا ۔ ان کی اس دلیرانہ جدوجہد کی بدولت نہ صرف بی این ایم کی تنظیمی طاقت ووسعت قائم رہی بلکہ تحریک کے ساتھ عوامی رشتہ اور باہمی ربط بھی پہلے سے زیادہ مضبوط اور وسیع ہوا۔ ڈاکٹر منان آزادی کے تصور کو محض جغرافیائی سطح تک محدود نہیں رکھتے تھے، بلکہ سماج کو ہر قسم کی خارجی و داخلی جبرواستحصال ، محکومی و محرومی اور معاشی و سماجی نابرابری کی کیفیت سے مکمل نجات دلانے تک جغرافیائی آزادی کو نا مکمل اور ادھوری آزادی تصور کرتے تھے۔ وہ اپنے سماج کو نوآبادیاتی سے جدید نوآبادیاتی معاشرے میں بدلنا نہیں چاہتے تھے، بلکہ سامراجی تسلط کی اقتصادی و دیگر جکڑ بندیوں سے بھی مکمل آزادی چاہتے تھے، جس کا راستہ انہیں انقلاب میں نظر آتا تھا۔ دنیا بھر کی سامراج دشمن قومی و طبقاتی آزادی اور انقلاب کیلئے سر گرم رہنے والی تحریکات کے مطالعہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ عالمی حالات میں سامراجی قوتوں کے درمیان دنیا کے وسائل و دولت پر غلبے کیلئے بڑھتی ہوئی جنگ وجدل کے مشاہدے نے ڈاکٹر منان بلوچ کے آزادی کے انقلابی تصور کو مزید نکھارا اور پختہ کیا۔ ان کا یہی سائنسی انقلابی تفکر اور عمل نہ صرف قابض قوتوں بلکہ ان کی پشت بان عالمی سامراجی طاقتوں کے نو آبادیاتی مفادات کیلئے جان لیوا تھا، اسی لئے ڈاکٹر منان بالا دست نو آبادیاتی قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے اور ان کا وجودقابض ریاست کیلئے ناقابل برداشت ہو گیا ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بالادست قوتیں انہیں ریاستی دھشتگردی کے ذریعے نشانہ بنانے کے در پے ہیں شہید منان بلوچ کے عزم و ارادوں اور عمل میں کوئی لغزش نہیں آئی، وہ بلوچستان کے کونے کونے میں بلوچ آجوئی پسند انقلابی فکرو پروگرام کو پھیلاتے رہے۔ آپ بلوچ تحریک کے سر خیل اور انقلابی نظریہ دان سردار خیر بخش مری اور ڈاکٹر اللہ نذر سے بھی متاثرتھے لہٰذا آپ نے نہ صرف ان مزاحمتی بلوچ رہنماؤں کی قربت میں بہت کچھ سیکھا بلکہ ان کے اختیار کردہ جدو جہد کے طریقہ کار کو معروضی تقاضوں سے ہم آہنگ تصور کرتے ہوئے اس پر پوری ایمانداری سے عمل بھی کیا ۔ ان بلوچ رہنماؤں کے ساتھ فکری و عملی قربتوں کے گناہ یا جرم نے ڈاکٹر منان کو مزید قابل گردن زدنی بنا دیا ۔ اور آخر کار انہیں مستونگ کے علاقے کلی دتوپر فورسز کے اہلکاروں نے ساتھیوں سمیت اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ وہاں تنظیمی دورے پرتھے۔ ڈاکٹر منان اور ان کے تنظیمی ساتھی نہتے اور غیر مسلح تھے ، ایسی صورت میں فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپ یا مقابلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، لہٰذا اس سانحہ کے بارے میں وہ حکومتی دعوے بے بنیاد اور غیر حقیقی ہیں جن میں ڈاکٹر منان بلوچ کو بی این ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سیاسی رہنما کی بجائے بلوچ مسلح تنظیم بی ایل ایف کا اہم کمانڈر بنا کر پیش کیا گیا اورکٹھ پتلی وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس واقعہ پر خصوصی پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے اسے حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا۔(یہ ان کیلئے ایک کامیابی ضرور تھی مگر ڈاکٹر منان بلوچ بی این ایم سے تھے بی ایل ایف سے نہیں )
ڈاکٹر منان اور ان کے ساتھیوں کی بہیمانہ شہادت پر حکومتی دعوؤں میں اختیار کردہ مبالغہ آمیزی ثابت کرتی ہے کہ ڈاکٹر منان بلوچ کو شہید کرنے کا بالادست حکمران قوتوں کے پاس کوئی ایسا جواز نہیں تھا جسے وہ بنیاد بنا کر ان کی شہادت کو جائز قرار دلوا سکتے۔ اسی لئے غیر حقیقی کہانی گھڑی گئی، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ شہید ڈاکٹر منان کی تمام سرگرمیاں پر امن اور جمہوری تھیں اور ان کے ایک ہاتھ میں بلوچ قومی آجوئی کا پرچم اور دوسرے ہاتھ میں قلم وکتاب تھے۔ ڈاکٹر منان کو دھشتگرد قرار دینے کا مقصد ان کے بلوچ سماج میں پائے جانے والے احترام اور ہمدردی کو کم کرنا تھا، لیکن بلوچ قوم نے سرکاری پروپیگنڈے اور دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر منان اور ان کے ساتھیوں کو ریاستی دھشتگردی کا نشانہ بنائے جانے والے عظیم شہید قرار دیا، اور اپنے اس حریت پسند انقلابی ہیرو کی شہادت پر شدید احتجاجی رد عمل کامظاہرہ کیا اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ اس موقع پر بلوچ سماج کی تحریک آجوئی سے گہری وابستگی کی برقراری کے عزم و ارادوں کا اعادہ بھی کیا گیا ۔ ڈاکٹر منان بلوچ شہادت پا کر جہاں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے ہیں وہاں قابض قوتوں کیخلاف بلوچ قوم کی نفرت و بدلے کی آگ کو بھی ان کی شہادت نے مزید بھڑکا دیا ہے ، جو تحریک کی توانائی اور وسعت میں مزید اضافہ کرے گی۔

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved