تیس جنوری 2016ء کوعلی الصبح پاکستان
آرمی کے خونخواردستوں نے بلوچستان کے تاریخی وادی مستونگ کے کلی دھتوئی
پریلغارکیااس حملہ کاہدف بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل واجہ
ڈاکٹرمنان بلوچ اوراس کے ساتھی تھے اس حملے میں ڈاکٹرمنان بلوچ،اشرف
بلوچ،حنیف بلوچ،نوروزبلوچ اور ساجدبلوچ شہیدہوگئے ڈاکٹرمنان بلوچ اوراس کے
ساتھیوں کی شہادت سرمیں گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے مقبوضہ بلوچستان کی
کھٹ پتلی انتظامیہ کے وزیرِداخلہ سرفرازبگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں
ڈاکٹرمنان بلوچ اوراس کے ساتھی آزادی پسندبلوچ سیاسی کارکنوں کی شہادت
کوپاکستانی سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے ڈاکٹرصاحب کو
بی ایل ایف کاکمانڈرقراردیدیا۔سرفرازبگٹی کے بیان سے صاف ظاہرہوتاہے کہ بی
این ایم کے سیکریٹری جنرل کاپاکستان آرمی کی کارروائی میں شہادت انجانے
طورپرپیش آنے والاکوئی حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ ہدف بناکرقتل کرنے کی
ریاستی دہشتگردی کاایک اوربڑااوربدترین واقعہ ہے۔بی این یم کے سیکریٹری
جنرل کوآزادی پسندمسلح تنظیم کاکمانڈرقراردینے کا مقصدبلوچ نسل کشی کے اس
بدترین عمل کوجوازبخشنے کی بھونڈی کوشش کے سوااورکچھ بھی نہیں ہے۔ حقیقت
تویہ ہے کہ پاکستان کے حکمران جتنابلوچ قومی تحریک آزادی کی مسلح بازوسے
خوفزدہ ہیں اتناہی یاشایداس سے بھی زیادہ وہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کی
جمہوری محاذسے خوفزدہ ہیں(اب اس بات میں توکوئی شک ہی نہیں کہ پاکستان میں
حکمرانی کااصل اختیارفوج اوراسکی خفیہ اداروں ہی کے پاس ہے جبکہ ربڑاسٹمپ
پارلیمنٹ،سول انتظامیہ ،اپاہج عدلیہ ،چاپلوس میڈیااورنام نہادسول سوسائٹی
فوج کے ہاتھوں میں کھیلنے والی کھٹ پتلیاں ہیں)قابض پاکستان کے حکمران یہ
بات برداشت کرنے کیلئے قطعاً تیارنہیں ہیں کہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی سے
جُڑی جمہوری قوتیں قومی آزادی کے مقصدکولے کرآزادانہ فضاء میں بلوچ عوام کے
پاس جائیں انھیں سیاسی طورپرمنظم و متحرک کرکے قومی آزادی کیلئے ان کی
مانگ کو جمہوری ذرائع سے دنیاکے سامنے لائیں کیونکہ اس صورت میں توقومی
آزادی کیلئے بلوچ عوام کامطالبہ بڑے واضح اندازمیں پوری دنیاکے سامنے
ظاہرہوگا اورقابض پاکستانی حکمرانوں کویہ کہنے کاموقع ہی نہیں ملے گا کہ وہ
بلوچ قومی تحریکِ آزادی کوچندسرداروں ،ترقی مخالف عناصر،مٹھی بھرشرپسندوں
یاپھر بھارتی خفیہ ادارہ راکی سازش کہہ سکیں اسلئے پاکستانی حکمران بلوچ
تحریکِ آزادی کی موجودہ اُبھارکے آغازسے ہی تحریک سے جُڑی جمہوری قوتوں
کوریاستی دہشتگردی کے ذریعے کچلنے اوران کی آوازکودبانے کی پالیسی پرعمل
پیراہیں چونکہ بی این ایم بلوچ تحریکِ آزادی کی جمہوری محاذپر سرگرم
جماعتوں میں زیادہ نمایاں اورمتحرک جماعت ہے جوموجودہ خون آشام دورمیں بھی
باقاعدگی سے اپنے مرکزی کونسل کے اجلاس منعقدکرکے تنظیم کاری اورماس
موبلائزیشن کاعمل جاری رکھا ہواہے اسلئے بلوچ قومی تحریکِ آزادی سے جُڑی یہ
جماعت شروع ہی سے پاکستانی مقتدرہ کی نظروں میں کانٹے کی طرح چُبھ رہاہے
اور مسلسل ر یاستی دہشتگردی کانشانہ بنا آرہاہے ۔03دسمبر2007ء کوخفیہ
اداروں نے بی این ایم کے بانی چےئرمین واجہ غلام محمدبلوچ کوکراچی سے
جبراًاُٹھاکر09ماہ تک فوجی اذیت خانوں میں ذہنی وجسمانی اذیتیں دینے کے
بعدرہاکردیاپاکستان کے سفاک آرمی وخفیہ اداروں کا شایدیہ خیال تھاکہ دوزخ
سے بدترریاستی ٹارچرسیلزمیں اتناطویل وقت اذیتوں میں گذارنے کے بعد غلام
محمداوران کی جماعت توبہ کرکے بلوچ قومی آزادی کے حق اورجدوجہدسے
دستبردارہونگے مگرواجہ غلام محمدبلوچ اذیت گاہوں میں طویل عرصہ اذیتیں سہنے
کے بعد توسونےgoldسے کُندن بن گیاتھارہائی کے بعداورزیادہ متحرک ہوگیاجس
پرپاکستان آرمی نے نہ صرف واجہ غلام محمدبلوچ کوراستے سے ہٹانے کافیصلہ
کیابلکہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کی جمہوری بازو سے جُڑی بی این ایم،بی ایس
اوآزاداور بی آرپی کوکچلنے اورقومی آزادی کیلئے بلوچ قوم کی جمہوری
آوازکوپوری طاقت سے دبانے کی پالیسی اپنائی۔ 03اپریل2009ء کو پاکستانی
سیکورٹی فورسزکے اہلکاروں نے معروف وکیل وسیاستدان واجہ کچکول علی ایڈووکیٹ
کے دفتر واقع تربت بازار سے واجہ غلام محمدبلوچ،بی این ایم کی مرکزی کمیٹی
کے رکن واجہ منیر بلوچ اوربی آرپی کے رہنماواجہ شیرمحمدبلوچ کو اغواء کرکے
لے گئے اور09اپریل2009ء کوتینوں بلوچ رہنماؤں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں
تربت کے قریبی علاقہ مُرغاپ میں پڑی ملیں تب سے پاکستان کی سفاک آرمی،آئی
ایس آئی،ایم آئی،ایف سی اوردیگرسیکورٹی فورسزبی این ایم اوربی ایس اوآزادکے
رہنماؤں کوچُن چُن کراغواء وشہیدکرنے کی پالیسی پرعمل پیراہیں ا ب تک بی
این ایم کی اعلیٰ قیادت میں سے درجن سے زیادہ رہنماپاکستانی سیکورٹی اداروں
کے ہاتھوں اغواء اور شہیدہوچکے ہیں جن میں جماعت کے بانی چےئرمین واجہ
غلام محمدبلوچ،ڈپٹی سیکریٹری جنرل واجہ رسول بخش مینگل،انفارمیشن سیکٹری
اور معروف صحافی،کالم نگاراوردانشورواجہ حاجی عبدالرزاق بلوچ،فنانس سیکٹری
واجہ عبدالصمدتگرانی،ایک اورفنانس سیکٹری اورتربت کے مقامی صحافی واجہ رزاق
گل،مرکزی کمیٹی کے رکن اورشاعر واجہ نصیرکمالان ، مرکزی کمیٹی کے رکن
اورحب کے معروف صحافی واجہ نصیررند،مرکزی کمیٹی کے رکن اورجھاؤکے معروف
سیاسی ورکر واجہ استادعلی جان بلوچ ،جھاؤدمگ کے صدرواجہ ناکوخیربخش
بلوچ،کیچ دمگ کے صدرواجہ امداد بجیر،کھودہ دمگ کے رہنماواجہ رفیق
سمالاڑی،خضداردمگ کے نوجوان رہنماثناء بلوچ سمیت متعدد سرگرم رہنماسیکورٹی
فورسز کے ہاتھوں ریاستی عقوبت خانوں یاٹارگٹ کلنگ میں شہیدہوچکے ہیں جبکہ
مرکزی کمیٹی کے ارکان ڈاکٹردین محمدبلوچ، غفوربلوچ اوررمضان بلوچ 2009ء سے
تاحال لاپتہ ہیں بی این ایم کے ڈپٹی سیکریٹری واجہ صادق جمالدینی پاکستانی
سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں دوسال سے زیادہ عرصہ تک ریاستی اذیت خانوں میں جبری
لاپتہ رکھے گئے۔ بی آرپی کے شیرمحمد بلوچ،سنگت ثناء بلوچ اورجلیل ریکی
جیسے معروف سیاسی رہبراغواء کے بعدشہیدکیئے جاچکے ہیں جبکہ بلوچ نوجوانوں
کی تنظیم بی ایس او آزادکاچےئرمین واجہ زاہدکرداوروائس چےئرمین
ذاکرمجیدبلوچ پاکستانی سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں اغواء کے بعدتاحال لاپتہ
ہیں تنظیم کے سیکریٹری جنرل واجہ رضاء جہانگیر،کمبر چاکر،الیاس نذر اوردیگر
سینکڑوں سرگرم کارکن خفیہ اداروں کے ہاتھوں بعداز اغواء اورٹاگٹڈکلنگ کی
کارروائیوں میں شہیدکیئے جاچکے ہیں۔2013ء میں حکومت پاکستان بی ایس اوآزاد
کوکالعدم قراردے چکی ہے جس کاصاف مطلب بلوچ نوجوانوں کوتحریکِ آزادی میں
سرگرم کرداراداکرنے سے روکناہے قابض ریاست پاکستان بلوچ قومی تحریکِ آزادی
کی جمہوری بازوکوکسی بھی قیمت پرسیاسی سرگرمیوں سے روکنے پرتُلاہواہے بی
این ایم کے سیکریٹری جنرل واجہ ڈاکٹرمنان بلوچ وساتھیوں کی شہات اسی ریاستی
پالیسی کی کڑی
ہے کیونکہ ڈاکٹر منان بلوچ میڈیاسے روابط،پارٹی کی ترجمانی اورتنظیم کاری
کے حوالے سے کافی سرگرم تھے وہ بہیمانہ ریاستی پابندیوں کے باوجود گذشتہ
ایک سال سے خاران،واشک،نوشکی،کوئٹہ،قلات اورمستونگ میں تنظیم کاری کے عمل
میں مصروف تھااورمیڈیاکے ساتھ بھی مسلسل رابطہ میں تھاڈاکٹرصاحب کوسیاسی
سرگرمیوں سے دوررکھنے کیلئے فوج نے مشکے میں واقع اس کے گھرپرمتعددبارگولہ
باری کی مگرآرمی کے یہ سارے ہتھکنڈے ڈاکٹر صاحب کے پختہ عزم اورکمٹمنٹ
کوکمزورنہ کرسکے وہ ریاستی جبرکی پرواہ کیئے بغیر جدوجہدِآزادی میں مگن رہے
گوکہ پاکستان آرمی وخفیہ اداروں کی جانب سے بلوچ تحریکِ آزادی سے جُڑی
جمہوری سیاسی قوتوں کی سیاسی سرگرمیوں پرقدغن اوررہنماؤں کے اغواء اورہدف
بناکرقتل کرنے کی پالیسی کے باعث بی این ایم اوربی ایس اوآزاد اپنے تنظیم
کاری،عوامی روابط اوردیگرسیاسی سرگرمیوں کوقدرے خفیہ طریقوں سے سرانجام
دیتے رہے ہیں مگرڈاکٹرمنان بلوچ اورساتھیوں کی شہادت کے بعد بلوچ تحریکِ
آزادی کی جمہوری قوتوں کو ااپنے طریقہ کارکاازسرِنوجائزہ لینے اورا پنی
حکمت عملی اور طریقہ کارمیں ایسی مناسب تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جس کے
تحت پارٹی قیادت کاپارٹی کے کیڈر cadreسے،کیڈرکاکارکنوں سے اورکارکنوں
کاعوام سے مسلسل رابطہ بھی برقراررہے اوراس طرح کے بڑے نقصانات سے ممکنہ
طور پر بچابھی جاسکے ۔امیدہے کہ بلوچ قومی تحریکِ آزادی سے جڑی جمہوری
قوتیں اپنے طریقہ کارمیں وقت اورحالات کی تقاضوں کے مطابق موزوں تبدیلیاں
لائینگے کیونکہ آگے بڑھنے کیلئے تبدیلی کاعمل ناگزیر ہے اس طرح ہم شہید
ڈاکٹرمنان بلوچ،شہیداشرف بلوچ،شہیدحنیف بلوچ ، شہیدنوروزبلوچ ،شہید ساجدجان
سمیت بلوچ شہیدوں ،جبری لاپتہ بلوچ فرزندوں اوراپنے قوم کی جدوجہدکوقومی
آزادکی منزل پرپہنچاکران کے ارمانوں کوپوراکرسکیں گے ۔ شہیدوں کوخراجِ
عقیدت پیش کرنے کاسب سے بہترین طریقہ یہی توہے۔
Post a Comment