Translate In Your Language

New Videos

شہید بابا دربیش بلوچ ,, دل مراد بلوچ

شہید بابا دربیش بلوچ ,,  دل مراد بلوچ

ائے سنگت انسان بو‘‘یہ جملہ جس انسان کا تکیہ کلام تھا وہ صرف نام کے بابانہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بابا تھے اوردرویش بھی،ایک پاک اور پوتر روح جسے قدرت نے فقط مہر و محبت بانٹنے کے لئے تخلیق کیا تھااور مذہبِ محبت کا یہ عظیم انسان 12جنوری 2017ء کو ابدی فراق کا داغ دیتے ہوئے ہمیں دردکی باہوں میں سلگتا چھوڑ کرخود ہنستے ہنستے شہیدوں کی جھرمٹ میں شامل ہوگئے،اُس دن صرف اکیلا میں ہی نہیں بلکہ بابا نے جہاں جہاں بھی قدم رکھاہے ،وہاں کے درو دیوار ،کوہ و دمن ،شجر و حضر سب رورہے ہوں گے ۔۔۔اس پاک روح کوسائیجی نے سرخم تسلیم کرکے انہیں سلام پیش کیا۔۔۔شاشان نے ،بولان نے ،دلبند،راسکوہ نے ،اورپورے بلوچستا ن نے اپنے بہادر اور شفیق فرزند کو الوداع کردیا،سبھی جہدکاراَشکبار آنکھوں سے بابا کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے ،جدوجہدکی سختیوں اوروقت کے ہاتھوں تراشے گئے انمول ساتھیوں کے دردِجدائی کے حدت کااندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو جدوجہد کے خارزارمیں جہدکاروں کے ہمرقاب ہیں ،جواپنے دورکے کرب سے گزر رہے ہیں۔۔۔جوزمانے بھر کی سختیوں کا ہنس ہنس کر مقابلہ کررہے ہیں ۔۔۔اسی کربناک دور میں ہم ہزاروں ساتھیوں کا درد جھیل رہے ہیں ۔۔۔بابادرویش کا درد انہی میں سے ایک ہے۔
زعمران کا آپریشن کوئی معمولی آپریشن نہیں تھا، اطلاعات کے مطابق پندرہ ہیلی کاپٹروں اور بیسیوں ٹرکوں پر مشتمل فوجی دستوں نے زعمران میں ایک خونی آپریشن شروع کیا تھا،مگرتین دن تک مسلسل آتش و آہن کی برسات کے باوجود دشمن ناکام ہوچکا تھا ۔۔۔جہدکار دشمن کی سختی سے تنی فوجی حصار اورہیلیوں کی مسلسل شیلنگ کے درمیان ہی سے لڑتے لڑتے ،بچتے بچاتے نکلنے میں کامیاب ہوچکے تھے بس ایک ٹکڑی کی خبر آنا باقی تھا جسے بابا کمان کررہے تھے ،جہاں کہیں آپریشن ہوتی ہے پوری قوم کوجہدکاروں کے خیریت و عافیت کافکر لاحق ہوتا ہے ،ہماری نظریں بھی موبائل کی سکرین پر جمی تھیں کہ کوئی خیر کاخبر اب آیا کہ تب آیا ،پھریہ خبر بجلی بن کر گری کہ ’بابا شہید ہوگئے ہیں،بس اسی خبرنے اتنے بڑے آپریشن کی ناکامی پر خوشی کو ماتمی لباس اوڑھادی ہے کہ ’’ بابا شہید کردیئے گئے ہیں ‘‘ ورنہ اس جارحیت میں بے تحاشا نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔سب خوشی سے نہال تھے ،خبر کی تفصیل یہ تھی کہ بابا اپنے ساتھیوں کو دشمن کی حصار سے باحفاظت نکالتے نکالتے خود ایک ایسی دنیا کی طرف نکل گئے ہیں کہ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا بس یادیں رہ جاتی ہیں۔۔۔۔فضاؤں میں یادوں کی لمس سرگوشیاں کرتے رہ جاتی ہیں ۔۔۔۔ساتھ بیتے ماہ و سال کی یادیں ۔۔۔بھوک و پیاس کی یادیں ۔۔۔ایک ہی مورچے میں لڑی جانے والے جنگوں کی یادیں ۔۔۔ایک دوسرے کے لئے مرمٹنے کی یادیں ۔۔۔دھرتی ماتاکے لئے ہست و نیست لٹانے کی یادیں ۔۔۔کل کے بلوچستان کے لئے ایک ساتھ دیکھے اور بُنے گئے خوابوں کی یادیں۔۔۔بس یہی یادیں دل و دماغ کو گھیرے رکھتے ہیں ۔۔۔یادیں مختلف ہوتے ہیں مگر ہوتے ضرورہیں کون کتنا رُلاتا ،شب و روز ستاتا ہے یہ اس کی شخصیت پر منحصر ہوتاہے ۔۔۔مگر بابا کی یادیں سائیجی سے لے کر’میری ‘تک ہرجگہ بکھرے پڑے ہیں ،تمپ ،دشت ،بالگتر سے لے کر مشکئے تک بابا کی مشکباریادیں جہدکار ساتھیوں کی دل و دماغ میں تر و تازہ ہیں ،کیونکہ بابا کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ جہاں جاتا اپنی یادوں کا انمٹ نقوش چھوڑدیتا۔۔۔بابا کی شخصیت حیران کُن حد تک طلسماتی تھی ۔۔۔ایک طلسماتی انسان جس میں قدرت نے ازحدخوبیاں سمو دی تھیں ۔بڑھتی عمر کے ساتھ انسان کی عادات و اطوارمیں بہر کیف تبدیلیاں آتی ہیں بچپن کے شرارت انگیزیاں ،نازوادا،جوانی کے لابالی پن سبھی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں،چاہنے کے باوجود شاید بہت سوں کے لئے ممکن نہیں ہوتاکہ وہ اس عمر میں بچپن اورجوانی کی لاابالی پن کوقریب پھٹکنے دے اور جنگی صورت حال، قومی تحریک میں فعال کردار اورپارٹی ذمہ داریوں کا بارِگراں کندھوں پر ہوتو آدمی سنجیدگی کا مجسمہ بن جاتا ہے ،مگر بابا کے معاملے میں ایسا ہرگزنہیں بلکہ بچپن،لڑکپن،جوانی اور ڈھلتی عمرکی سارے خصوصیات اس ایک انسان میں اس طرح جمع ہوگئے تھے کہ حیرت ہوتی تھی ۔۔۔انسانی عمر کے ان سارے مرحلوں کواس قدر متوازن اور متناسب انداز میں اپنے اندر سمو چکا تھا اور موقع کی مناسبت سے ان کا اظہار جس آسانی سے کرتاتھاوہ باباکا خاصہ تھا۔۔۔بابا کا کمال اس کا اپنا’زبان ‘تھا۔۔۔ہر مزاج کے لوگوں سے ان کی مزاج کے برخلاف اپنی ’زبان‘ میں بات کرتا تھا ،ایک ایسی زبان جس کے ہر لفظ سے مٹھاس ٹپکتا تھا ۔۔۔ایک ایسی زبان جس کے جملوں کی شیرینی پہ ایک جہاں فدا تھا ۔۔۔ایک ایسی زبان جس کانام کسی نے پیار،کسی نے محبت ،کسی نے الفت رکھ دیا ہے یہ زبان الفاظ کی محتاج نہیں بلکہ الفاظ اس کے محتاج ہوتے ہیں ،اور یہ زبان بھی ہرکسی سے بولی بھی نہیں جاتی فقط اس کے خوگر اس سے واقف ہوتے ہیں اور اس کاحق ادا کرتے ہیں، ان میں سے ایک بابا تھا جو بھی ان سے ایک بار مل جاتا تووہ بابا کی زبان کا عاشق ہوجاتا۔۔۔یہ انہی کا کمال تھا کبھی کبھی توگمان ہوتاتھاکہ بھرپور ریاضت سے ایک اداکار اسٹیج پرایسے جوہر دکھارہاہے ،عملی زندگی میں یہ سب ممکن نہیں مگر یہی بابا کی زندگی تھی اور ہاں کوئی اور ایسی اداکاری کاکوشش کرے توبھی اسے بابا بننا پڑتا ہے ۔۔۔اوربابا بننے کے لئے کڑی تپسیا سے گزرنا پڑتا ہے اور اس تپسیا کے گُروں کو صرف بابا ہی جانتا تھا ۔
ہم نے بابا کو پہلی بار بالگتر میں دیکھا ۔۔۔قبل ازیں اس علاقے میں ہماری واقفیت نہ ہونے کے برابر تھا۔۔۔کولواہ کی جانب سے آتے توکول کور میں سے دھول اُڑاتے اُڑاتے اورپھربالگتر کے ’کپ‘ میں سے موٹرسائیکل ایک لکیر کی صورت اپنی پہیوں کا نشان چھوڑتا اورہم اگلی منزل کی جانب نکل جاتے ۔۔۔کہاں کا پڑاؤ اور کس کے ہاں پڑاؤ۔۔ بالگترسے ناواقفیت برقرار تھی کہ بابا نے سائیجی میں سے بالگتر میں صورتِ خضرقدم رکھا اوربابا اپنے ساتھ سائیجی جیسی مضبوط حوصلہ ساتھ لاچکا تھا مگر سائیجی جیسی سختی ہرگز نہیں ۔۔۔حلیم ،بردبار،ماں جیسی رحمدل ،سب کے لئے پیا ر کا سمندر۔۔۔اس سمندر کی ہرطلاطم خیز موج میں سے آزادی کی سیپیاں ساحل کو دان کردینے کا انوکھا جذبہ ۔۔۔جب بابا نے بالگتر میں قدم رکھا تو بالگترہمارا رہ گزر نہیں اپنا گھر بن گیا۔۔۔بالگتر میں تحریک کے لئے زمین ہموارکرنے والوں میں دونام سرفہرست ہیں، پہلابابا اور دوسرابابا جیسی درویش صفت انسان میر سپاہاں۔۔۔ ہمارے لئے بابا اور میر سپاہاں دونوں باباہی تھے ۔۔۔۔دونوں فرشتہ صفت ۔۔۔دونوں مایہ سے مُکت اورنظریے کے لئے سب کچھ لٹانے والے فقیر ۔۔۔صوفیوں ،سادھوؤں ،سالکوں کے صرف قصے سُنے تھے مگر قومی تحریک تو اِن سے بھرا پڑا ہے اوربالگتر میں انہیں بابا اورمیر سپاہاں کی صورت میں دیکھا۔۔۔بابا اور میرسپاہاں دونوں کو الگ کرکے دیکھا نہیں جاسکتا ،آفاق کے رنگوں میں ڈھلے ایک حیران کُن تصویرجو اصل میں ایک تھے مگر قالب دو۔۔۔ایک روح تھا جو دوجسموں میں رواں تھا ۔۔۔اور کسے خبر تھا کہ پرواز بھی چند دنوں کی فرق سے اکھٹے ہی کریں گے ۔۔۔ دونوں کی زندگی کا حاصل صرف قومی تحریک تھا،بابا اور میر سپاہاں کا گھر پارٹی کا گھر تھا۔۔۔ تحریک کا گھر تھا اور تحریک سے جڑے ہر جہدکار کا اپنا گھر اوریہاں آکر مہمان اور میزبان کا فرق اس طرح مٹ جاتا کہ جس طرح صوفی از م میں ایک مرحلے پر’دوئی‘ کا فرق مٹ جاتا ہے ۔۔۔یہاں مہمان ،مہمان نہیں رہ جاتا بلکہ گھر کا فرد ہی بن جاتا۔۔۔بے لوث اور بے غرض خدمت کا جنون بہت دیکھا مگر اس گھر میں کچھ زیادہ ۔۔۔مگر ایک کڑی شرط جو عائد تھی کہ آزادی کے کاروان کا حصہ ہونا لازمی تھا وگرنہ مہمان صرف مہمان ہوتا گھر کا فرد ہونے کی شرف سے محروم ۔۔۔بابا اور میرسپاہاں خونی رشتے میں جتنے قریب تھے اس سے کہیں زیادہ ان کا نظریاتی رشتہ مضبوط تھا ۔۔۔۔میرسپاہاں شہید بلو چ نیشنل موومنٹ کا ممبر اوربابا بی ایل ایف کا کمانڈر۔۔۔میر سپاہاں شاید واحد پارٹی ممبر تھا جس نے کبھی نہیں جتایا کہ وہ پارٹی کے ممبر ہیں۔۔۔گمنامی میں پارٹی سے ایسی جنون ہی ایک کامل انقلابی کو دوسروں سے ممتاز و منفرد بناتا ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان کے پارٹی میں شمولیت کے لئے کسی نے خاص جتن بھی نہیں کی، یہ سب کچھ ایک فطری عمل کی سی انداز میں ہوا۔
شہیدمیر سپاہاں اپنی زندگی میں سبھی سیاسی بازی گروں کو آزماکر اس بات کا منتظر تھا کہ ایسی صورت نکل آئے جس سے وہ زندگی کا مقصد حال کرسکے۔۔۔ اپنی زندگی کا گوہر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے ۔۔۔اور بی این ایم کی صورت میں وہ کشتی نظر آئی جس سے وہ منزل کی جانب ،ساحل کی جانب رواں دواں ہوجائے ۔۔۔بابا توسردوگرم چشیدہ تھے اورزندگی کے مختلف روپوں سے واقف ۔۔۔زندگی کی تمام رنگوں سے آشنا تھے ہی مگر زندگی کا کوئی رنگ اُن پر غالب نہ آسکا ،صرف قومی تحریک کے رنگوں میں ایسی جاذبیت تھی کہ اس میں ایسے رنگ گئے کہ موت بھی انہیں الگ نہیں کرسکا۔۔۔ میر سپاہاں جتنے کم گو اور خاموش طبع انسان تھے بابااتنا ہی بذلہ سنج اور خوش مزاج اور مجلسی انسان ۔۔۔مگر دونوں کا رشتہ الفاظ سے بیان نہیں ہوتا ۔۔۔ جب ’سی پیک ‘نامی دیو مکران کے دیگر حصوں کو نگل رہا تھا تو بالگتر بھی زد میں آگیا۔۔۔میر سپاہاں نے کولواہ کی جانب ہجرت کی ۔۔۔ایک تکلیف دہ ہجرت ۔۔۔ہرے بھرے گھر کا مالک ایک دو جھونپڑیوں میں آگیا ۔۔۔تحریک کو کچلنے کے لئے دشمن کی دیگر تباہیاں اپنی جگہ صرف’سی پیک ‘ نے کتنے گھر ،کتنے گاؤں اُجاڑے ہیں،ویسے بھی اب بلوچ کے پاس شمار کو رہا کچھ نہیں بس ایک خبر آجاتی ہے کہ ’‘آج فوج نے فلاں فلاں گاؤں جلاڈالے ہیں ‘‘جب گاؤں ہی جلے تو گھروں کا شمار چی معنی دارد؟ذراآتش و آہن کی برسات تھم جائے تو ایک نئی گاؤں بس جاتا ہے اورمکین ایک اورتباہی کے منتظرہوتے ہیں شاید اُس وقت تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب اس بھیڑیے کے نیش کُند نہیں کئے جاتے ہیں۔۔۔شاید اُس وقت تک جب فرعون دریائے نیل میں غرقاب نہیں ہوجاتا ۔۔۔شاید اُس وقت تک جب عصاموسوی فرعونی اژدھاؤں کا سر کچل نہ دے۔
میرسپاہاں ہجرت کرچکا تھا،بے سروسامانی کا عالم تھالیکن اس بے سروسامانی کی عالم میں بھی نہ پارٹی سے رشتے میں فرق آگیا اور نہ ہی مہمان نوازی میں ۔۔۔وہاں بھی گھر جہدکاروں کا آماجگاہ بن گیا ۔۔۔ میر صاحب کو مختلف جگہوں سے پیش کش کی گئی تھی کولواہ سے نکل جائیں کولواہ روزانہ آپریشن کی زد میں ہے مگر میر صاحب نے عہد کا پاس رکھا اورپارٹی اورپارٹی جہدکاروں سے اپنی جڑت برقرار رکھااورآخر دم تک ایک بہادراورباوقار انسان کی طرح پارٹی کی خدمت کی ۔۔۔قومی کاز کی خدمت کی اوروہاں ہجرت کی حالت شہادت پائی ۔۔۔وہ انسان جس نے شاید ہی کبھی ہتھیا ر اٹھایاہو ۔۔ ۔ مگر آزادی کے بھٹی میں تپ کر سرمچار اور جنگجو بھی بن چکے تھے ۔۔۔۔کہتے ہیں کہ شہادت کے روز دوحملہ آور فوجیوں کو مارگراکر شہید ہوگئے ۔۔۔اب گھر کی بارگراں بابا کی کندھوں پر آچکا تھا ،جسے تنظیم کی ذمہ داریوں سے سرکھجانے کو فرصت نہ تھی ۔۔۔لہٰذا گھر بارلئے ایک اور ہجرت کی، زعمران کی جانب ۔۔۔زعمران اپنے آباؤاجداد کے زمین کی جانب ۔۔۔بابا اورمیر سپاہاں اصل میں زعمران کے تھے اورمدتوں پہلے ہجرت کرکے بالگتر میں آباد ہوگئے تھے ،اب مسکن ایک بارپھر زعمران بن گیا۔۔۔قدرت نے زعمران کو جس قدر مشکل بنایاہے یہاں کے باشندوں نے اپنی حیرت انگیز محنت سے اُتنا ہی آسان اور خوبصورت بنایا ہے کہ جنت کاگمان ہوتا ہے ۔۔۔جابہ جا پہاڑی ندیوں کے کناروں کو باندھ کرایسے خوب صورت نخلستان بنائے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔۔۔بابا کاخاندان وہاں بس تو گیامگرباباتو سیماب صفت انسان تھے ۔۔۔یہاں بھی آرام کہاں ۔۔۔جُت گئے تنظیم کے کاموں میں ۔۔۔آزادی کی تعلیم کے لئے تبلیغ کے لئے ۔۔۔کہیں پیار سے کہیں پیار کی مار سے ۔۔۔جیسا بھی بن پڑتا ،باباکام نکالنے کی ہنر سے آشنا تھے، تنظیم کا کام نکالتے تھے۔۔۔بچہ بن کر ۔۔۔جوان بن کر۔۔۔ ایک ادھیڑ عمر کا شخص بن کر۔۔۔۔اپنی’ خصوصی ‘زبان کی وجہ سے دلوں پر راج کررہا تھا ۔۔۔ اپنی انگنت خوبیوں کی وجہ سے بابا جہاں تھا وہاں ان ہی کا حکومت جاری تھا۔۔۔پھر دشمن نے زعمران میں ایک خطرناک آپریشن کیا تین دنوں تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں تین کوبرا سمیت پندرہ ہیلی کاپٹرزاور ہزاروں زمینی فوجی اہلکاروں نے حصہ لیا اور اسی آپریشن میں بابا درویش نے جامِ شہادت نوش کی۔
شہید بابا درویش کے بارے میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ نہ بابانے زندگی میں کسی کو ’’نہیں ‘‘کہا اورنہ کسی میں بابا کو ’’نہیں‘‘ کہنے کا ہمت تھا۔۔۔۔بس صرف ایک باربابا داعی اجل کو ’’نہیں ‘‘ کہتاتو آج بھی بابا کہہ رہا ہوتا ’’اے سنگت انسان بو‘‘اور یہ عظیم انسان ہمیں انسان بنارہا ہوتا۔

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved