skip to main |
skip to sidebar
گوادر ایکسپو افتتاح بعد پاکستانی فوج پر حملہ،گاڑی تباہ،دس ہلاک

گوادر: گوادر ایکسپو افتتاح بعد پاکستانی فوج پر حملہ۔
گاڑی مکمل تباہ،دس اہلکار ہلاک۔یہاں آمدہ اطلاعات کے مطابق گوادر کے علاقے
تنک میں بلوچ سرمچاروں نے پاکستانی فوجی قافلے کی ایک گاڑی کو اس وقت باردی
سرنگ سے نشانہ بنا کر تباہ کیا جب،پاکستانی وزراء و فوجی آفیسر گوادر میں
ایکسپو کی تقریبات کا جشن منا رہے تھے،گوادر سے مقامی انتظامیہ کے اہلکار
نے بتایا کہ ایک گاڑی کے مکمل تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں جس میں سوار دس کے
دس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں،گوادر سے ریسکیو ٹیم مذکورہ مقام کی جانب روانہ
ہو چکی ہے،واضح رہے کہ گوادر ایکسپوکا ڈرامہ کل سے جاری ہے جس میں پاکستانی
اسٹیبلشمنٹ و دیگر اداروں میں آپسی چپقلش بھی دوران تقریب سامنے آئے،جہاں
مقامی افراد کو تجارتی میلے سے نہ صرف روکھا گیا بلکہ پسنی سے گوادر تک
کاروبار کو بند رکھنے کے ساتھ گوادر کے تمام داخلی راستوں کے آرمی چوکیوں
پر بغیر پاس کے کسی شخص کو بھی اندر آنے نہیں دیا گیا ،مقامی صحافیوں کے
مطابق یہ تجارتی میلہ کے بجائے صرف حکومتی اجلاس لگ رہا تھا جہاں صرف فوجی
آفسران،پاکستانی اہم وزرا اور خاص ریاستی لوگ موجود تھے۔تاہم اس تجارت نام
پر اس اجلاس میں صرف چندہ چینی کاروباری اور پاکستانی کاروباری لوگ شامل
تھے،جہا ں اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ درمیان
بھی شدید اختلاف سامنے آئے،پاکستانی وزیر اعظم شاھد خاقان عباسی نے گوادر
کے لیئے دو ارب روپے کی پیکج کا مطالبہ مسترد کردیا جو کٹھ پتلی وزیر اعلی
قدوس بزنجو نے کیا تھا۔ جبکہ کئی وزرا نے اجلا س سے بائیکاٹ کیا۔ گوادر
تجاری میلے کی رپورٹ درج ذیل ہے۔ گوادر تجارتی میلے میں مقامی افراد کو
شرکت سے روک دیا گیا۔ بلوچستان کابینہ کے کٹھ پتلی اراکین بشمول کٹھ پتلی
وزیر داخلہ کو نظر انداز کرنے پر تقریب سے بائیکاٹ۔ پاکستانی وزیر اعظم
شاھد خاقان عباسی نے گوادر کے لیئے دو ارب روپے کی پیکج کا مطالبہ مسترد
کردیا جو کٹھ پتلی وزیر اعلی قدوس بزنجو نے کیا تھا۔ گوادر میں کل سے جاری
تین روزہ تجارتی میلہ میں جہاں پاکستان بھر سے لوگ شریک ہورہے ہیں وہاں
مقامی لوگوں کو نظر انداز کرکے سخت قوانین کے سبب انہیں شرکت سے روک دیا
گیا۔ گوادر ایکسپو میلہ کے بارے پاکستانی حکام کا دعوی ہے کہ ایک عالمی
تجارتی میلہ ہے جس میں چین سمیت مختلف دیگر ممالک شریک ہیں اس کا انعقاد
گوادر میں فری پورٹ کے افتتاح سے کیا گیا ہے جس میں پاکستانی دعوی کے مطابق
قس کی معیشت کے لیئے ایک گیٹ وے ہے جہاں سے تجارتی راہداری کے زریعے
پاکستان اور چین دنیا کے دیگر ممالک سے مل کر وسیع پیمانے پر سرمائیہ کاری
کرسکیں گے۔ تاہم پاکستانی حکومت کی دعوؤں کے برعکس چین کے علاوہ کای نمایاں
ملک کا اسٹال ایکسپو میں نظر نہیں آیا جو نا صرف ان دع?ں کی صداقت پر سوال
اٹھاتا ہے جس کا پاکستان زکر کرتی ہے بلکہ گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری
سے متعلق دنیا کی عدم توجہی بھی ظاہر کرتی ہے۔ دوسری طرف گوادر ایکسپو میں
پاکستان کے مختلف شھروں سے روزانہ پی آئی اے کی چار پروازیں تین دنوں سے
گوادر آتی رہیں جن کا مقصد لوگوں کو ایکسپو کے لیئے لے آنا تھا لیکن مقامی
لوگوں کیلیئے سخت قوانین نافذ کرکے انہیں شرکت سے دور رکھا گیا۔ ایکسپو میں
اس وقت دل چسپ صورتحال پیدا ہوئی جب پاکستان اور چائنیز حکام کے درمیان
مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے بلوچستان کابینہ کے کٹھ پتلی اراکین
اور کٹھ پتلی صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو دور رکھ کر انہیں پچھلے
لائنوں میں بٹھا دیا گیا جس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وہ تقریب کے دوران
اٹھ کر چلے گئے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستانی حکام کا گوادر کے معاملات
میں بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کرنا اس امر کا اظہار ہے کہ مستقبل میں یہ
منصوبہ بلوچستان کے لیئے سنگین خطرات کا باعث بنے گا۔ اس منصوبے کے متعلق
بلوچستان کی قوم پرست اور آذادی پسند قیادت پہلے سے خدشات ظاہر کرچکی ہے ان
کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک سامراجی معاہدہ ہے جس کے زریعے چین یہاں بیٹھ
کر خطے کے لیئے مشکلات پیدا کرے گا بلکہ بلوچستان کو تباہی کی جانب لے
جائے گا اور کامیابی کی صورت میں بلوچ قومی شناخت اور تشخص کو بھی متاثر
کرے گا۔ گوادر میں چین اور پاکستان کے زیر اہتمام ج عالمی تجارتی میلہ کے
لیئے چین نے اپنے وضع کردہ نقشے میں کشمیر کو ہندوستان کا علاقہ ظاہر
کردیا۔ چین جو خود کو پاکستان کا دوست کہتا آرہا ہے اس کی یہ عمل پاکستان
کے لیئے حزیمت کا باعث بن گیا۔ نقشے میں کشمیر کو ہندوستان کا حصہ ظاہر
کرنے کی نشاندہی سرکاری حکام اور فوجی اداروں کے بجائے ایک عام شخص نے کی۔
گوادر پورٹ اتھارٹی کے ایک سنیئر افسر نے نقشے میں غلطی کی تصدیق کرتے ہوئے
بتایا کہ یہ نقشہ چین نے خود عالمی ایکسپو کے لیئے ڈیزائن کیا تھا۔ تیاری
اور ہمیں ملنے کے بعد اس نقشے کو ایکسپو کے لیئے لگادیا گیا تب اس میںں
کشمیر کے متنازعہ علاقہ کی نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے مذید کہاکہ نقشے کو
ہوسکتا ہے جان بوجھ چین نے ہندوستان کو خوش کرنے کے لیئے کیا اسی طرح
ڈیزائن کیا تھا کیوں کہ سی پیک کے مجوزہ منصوبے سے متعلق ہندوستان نے پہلے
ہی خدشات ظاہر کیئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ چین پاکستان کو اس اہم
منصوبے میں پارٹنر ملک کے بجائے تعمیراتی ٹھیکیدار یا سیکیورٹی کمپنی
سمجھتا ہے کیوں کہ اب تک سی پیک منصوبے میں جتنی پیش رفت ہوئی ہیں چین نے
پاکستان کو برابری کی بنیاد پر ترجیح نہیں دی ہے۔
Post a Comment