Translate In Your Language

New Videos

جی ایم سید کی ولادت پر چیئرمین بی این ایم خلیل بلوچ کا سندھی قوم کے نام پیغام

جی ایم سید کی ولادت پر چیئرمین بی این ایم خلیل بلوچ کا سندھی قوم کے نام پیغام

کوئٹہ: بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے سندھی قومی پرست رہنما جی ایم سید کے کی ولادت کے مناسبت سے اپنی جاری کردہ ایک پیغام میں کہا ہے کہ آج عظیم سندھی قوم پرست رہنماء جی ایم سید کا جنم دن ہے ۔ آج کے دن اُس عظیم رہنماء نے جنم لیا جس نے سندھی قوم کے لئے عظیم قربانیاں دیں۔ وہ صحیح معنوں میں سندھی قومی آزادی کے سرخیل اورنظریہ ساز تھے۔انہوں نے سندھیوں کو آزادی کے فلسفے سے نہ صرف روشناس کرایا بلکہ اپنی تمام زندگی اپنے قو م کے لئے وقف کرد ی۔ جی ایم سید کثیر الجہتی شخصیت کے مالک تھے ،ہر جہت میں جدوجہد،قربانی اور علم و ادب کا ایک سمندرتھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جی ایم سید نے سندھی قوم کے لئے بے شمار کارنامہ ہائے انجام دیئے ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ محض سندھی قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام مظلوموں کے لئے ایک مشعل راہ ہیں۔ سندھی قومی آزادی ،سندھی ثقافت ،سندھی ادب کے لئے ان کے خدمات کااحاطہ اس مختصر پیغام میں ممکن نہیں۔ قومی آزادی کے لئے محاذپر ایک مدبررہبرکی طرح دشمن کے خلاف نبرآزما رہے ۔سندھی ادب کی خدمت میں سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں،سندھی فلسفے کو مالامال کیا اور مذہبی جنونیوں اوراسلامی شدت پسندی کے خلاف سندھ کی دھرتی سے جنم لینے والے صوفی ازم کو ڈھال بناکر سندھ کی سرزمین کومذہبی فرقہ واریت کاشکاربنانے کی پاکستان کی پالیسیوں کو ناکام بنایا۔
چیئر مین خلیل بلوچ نے کہا ہے کہ سندھی قوم بجاطوراس عظیم رہبر پر فخر کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے پوری زندگی سندھیوں پر ہونے والے جبر اور سفاکیت اور غلامی کے خلاف جدوجہد کیا ۔جی ایم سیدنے اپنے مقصدکے لئے جیل کاٹے ،اذیتیں سہے ،مشکلات سے دوچار ہوئے،ہمیشہ پاکستانی مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اس غیرفطری ریاست کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا بلکہ سندھ کی غلامی اوراستحصال کے خلاف حق و سچائی کا علم بلند کئے رکھا۔جی ایم سیدکے اپنی محبوبہ سندھڑی وسندھی قوم سے لافانی عشق اورآزادی کے فلسفے پر عقیدے اور جدوجہد کو ہم سلام پیش کرتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ بلو چ اور سندھیوں کا بنیادی مسئلہ ایک ہی ہے کہ دونوں ا قوام پاکستان کے غلام ہیں ۔دوعظیم تہذیب کے وارث قومیں ایک ایسے ملک کی کالونی بنائے جاچکے ہیں جو تاریخ اورتہذیب کے نام سے بھی آشنا نہیں ہے ،جو انسانی قدار سمیت تمام مثبت اوصاف سے محروم ہے جبکہ بلوچ اورسندھی تہذیبیں تو دنیاکے معروف تہذیبوں کے سے بھی سے قدیم اور ان کا ماخذ مانے جاتے ہیں۔ ایسی تہذیبوں کے وارث ایک ایسے ملک کے غلام ہیں جسے انگریزوں نے اس خطے میں اپنی مفادات کی چوکیداری کے لئے وجود میں لایا۔ آج سندھ اور بلوچستان میں قومی تحاریک آزادی کو کچلنے کے لئے ان دونوں قوموں کی نسل کشی کے جرم کا مرتکب ہے ۔ ہماری عظیم تہذیبوں کو نومولودہ پاکستانی رنگ میں پیش کرکے ہمیں اپنی ہی سرزمین پر بیگانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنی شناخت کو بچانے کیلئے اس غیر فطری ملک سے جس طرح بنگالیوں نے آزادی کی جد و جہد کا راستہ اختیار کیا اور اپنی زمین کے خود مالک ہو کر دنیا میں ایک قومی کی حیثیت سے زندہ ہیں، ہمیں بھی من حیث القوم زندہ رہنے کیلئے ایک قومی ریاست کی ضرورت ہے۔
بی این ایم چیئرمین نے کہا ہے کہ آج بلوچ اور سندھی پاکستانی سفاک ریاست کے ہاتھوں نسل کشی سے دوچار ہیں اورآئندہ اس کی ہیئت اور شدت میں اضافہ ہی ممکن ہے کیونکہ پاکستان نہ صرف ایک غیرفطری ریاست ہے بلکہ پاکستان بلوچ اور سندھیوں کی قومی سرزمینوں پر قبضہ گیریت سے وجود میں آ چکی ہے ۔ پاکستان اُن تمام بنیادوں سے محروم ہے جن پر ریاستوں کا وجود انحصار کرتے ہیں ۔اس لئے مقبوضہ قوموں کی سیاسی آزادی اور جمہوری آزادی سمیت تمام حقوق پر قدغن لگ چکی ہے۔ قومی آواز کو مکمل طورپر دبایا جارہاہے ۔ مگرہمیں اور آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ قوموں کو اس طرح کی بربریت اور درندگی سے زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ اس طرح قوموں کوغلام بنانا ممکن ہوتا تو آج دنیاکے نقشے میں آزاد قومی ریاستوں کا وجود نظر نہیں آتا بلکہ چندہی قابض پوری دنیاپر راج کررہے ہوتے۔ یہ آفاقی صداقت ہے کہ جب بھی غلام قومیں آزادی کے لئے قربانیوں کا آغاز کرتے ہیں تو ان کی آزاد اور باوقار منزل یقینی ہوتاہے ۔ہم نے غلامی کا احساس کیا ہے اور آزادی کواپنی منزل قرار دے چکے ہیں یہ آفاقی صداقت بلوچ اور سندھی سرزمین پر جلد دنیاکے سامنے آئے گا ۔
خلیل بلوچ نے کہا ہے کہ آج سندھی اوربلوچ مشترک دشمن سے نبرد آزما ہیں۔اس دشمن کے تمام ادارے بلوچ اورسندھی نسل کشی میں براہ راست شریک ہیں۔ صرف فوج نہیں بلکہ فوج کے ساتھ ساتھ تمام سول ادارے جن میں میڈیا ،عدلیہ ،سول بیوروکریسی اور سول سوسائٹی شامل بھی ہے۔ ان کے ساتھ اسلامی مذہبی جنونیوں کے شکل میں قائم طاقت کے مختلف مراکز ہماری نسل کشی اور قومی تحریکوں کو کچلنے کے لئے استعمال میں لائے جارہے ہیں۔ عظیم بلوچ قومی تہذیب وثقافت ،سیکولرتشخص اورسندھی کے سیکولر صوفیانہ تہذیب و ثقافت کو اسلامی انتہا پسندی میں پرا گندہ کرکے ہماری اصل شناخت کو ہمیشہ کیلئے مٹانے پر درپے ہیں۔ آج دنیا پر بھی ثابت ہوچکاہے کہ پاکستان نہ صرف بلوچ اور سندھیوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہے بلکہ پورے دنیامیں جاری دہشت گردی کا اصل مرکز ومنبع ہے ۔ ہمارے لئے صحیح وقت ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ رابطے استوار کرکے بلوچ اور سندھی ریاست کو ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں لائیں۔
انہوں نے آخر میں کہا ہے کہ بلوچ اور سندھی کا عظیم مفاد اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس سفاک دشمن کے خلاف جدوجہدکی مشترک صورت تلاش کریں تاکہ متحد ہوکر دشمن کا مقابلہ کریں ، سرزمین اور سرزمین سے باہر دنیا میں،آپسی تعاون و یکجہتی کے طاقت سے دشمن کو شکست دے کر اپنے قومی مقاصد کی حصول میں کامیاب ہوجائیں ۔

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved