Translate In Your Language

New Videos

پاھار...... جنیوا میں آزاد بلوچستان کی کامیاب اشتہاری مہم.....سنگر ماہانہ تجزیاتی رپورٹ

پاھار...... جنیوا میں آزاد بلوچستان کی کامیاب اشتہاری مہم.....سنگر ماہانہ تجزیاتی رپورٹ

کردستان کی تاریخی آزادی ریفرنڈم
 

سرنڈر کردہ بلوچ پاکستان کیلئے ناقابل اعتبار
 

ماہِ ستمبرمیں43سے زائدفوجی آپریشنز میں94 افرادلاپتہ،35لاشیں برآمد

سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ
چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے


مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی مظالم عالمی انسانی حقوق کے اداروں و میڈیا کی خاموشی کی وجہ سے روز بروزشدت اختیار کرتے جا رہے ہیں،جسکی مثال ہر ماہ ریاستی مظالم آپریشن،حراستی قتل عام،آبادیوں پر یلغار اور انسانی آبادیوں کو مسمار و نزر آتش کرنے سے واضح ہیں۔ستمبر2017 کا مہینہ بھی ریاستی جبرسے لہولہان رہا۔اس مہینے پاکستانی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان میں43 سے زائد آپریشنز میں94 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا،جبکہ35 نعشیں ملیں ،19 بلوچ فرزندوں کو فورسز نے شہید کیا،جس میں تین حراستی قتل شامل ہیں ،جبکہ11 لاشوں کے وجوہات سامنے نہ آ سکے،پاکستانی فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں سرنڈرہ کردہ تین شہری بھی اسی ماہ قتل کیے اورپنجگور سے دو پرانی لاشیں ملیں ،جنکی شناخت نہ ہو سکیں۔12 افراد فورسز کی زندانوں سے بازیاب ہوئے جس میں چار افراد چار سال بعد بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچے۔
اس مہینے حسب معمول پاکستانی فورسز کی زمینی و فضائی آپریشنز مکران کے علاقوں ،دشت،مند،تمپ ،کولواہ،آواران،مشکے پروم ،بالگتر و گردو نواح کے ساتھ ڈیرہ بگٹی و کوہستان مری میں شدت کے ساتھ قلات،بولان،مستونگ میں جاری رہے،جہاں سینکڑوں گھروں کو لوٹ مار کے بعد مسمار و نذرآتش کرنے کے ساتھ درجنوں افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا گیا۔ کئی افرادکو زیر حراست قتل کرکے جعلی مقابلے کا نام دیا گیا۔پاکستانی فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر نے دشت،کولواہ،تمپ،آواران،ڈیرہ بگٹی میں اس بات کا اقرارکیا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت درجنوں ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے ساتھ درجنوں افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیاہے۔اور کئی کو مقابلے میں مارنے کا دعوی کیاہے ۔مگر زرد صحافت ،فوج کے زیر ماتحت کنٹرول میڈیا و انسانی حقوق کے نام نہاد اداروں نے آئی ایس پی آر کے ترجمان سے یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ درجنوں ٹھکانے تو تباہ کردئیے گئے مگر کچھ دکھانے کیلئے میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی رسائی تو وہاں تک ممکن بنائی جائے ۔لیکن نہیں دراصل آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ تمام دعویٰ زمینی حقائق سے کوسوں دور ہیں،جن کو یہ مزاحمت کاروں کے ٹھکانے بتا کر چند ہتھیار فوٹو سیشن کے لیے لیے پیش کرتے ہیں دراصل وہ بلوچ آبادی والے علاقے ہوتے ہیں جہاں پاکستانی فوج اپنی زمینی وفضائی طاقت سے لوٹ مار کے بعد ان انسانی آبادیوں کو مسمار کرنے کے ساتھ وہاں موجود درجنوں افراد کو حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ کئی کو دوران حراست قتل کر دیتی ہے یا پہلے سے موجود زیر حراست بلوچ فرزندوں کو شہید کر کے انکو جعلی مقابلوں کا نام دیتی ہے،مگر انسانی حقوق کے ادارے و میڈیا کی کہاں ہمت کہ اس اسلامی شدت پسند فوج سے سوال کرے کہ جناب مذکورہ افراد کو آپ نے جعلی مقابلوں میں مارنے کا دعویٰ تو کیا ہے مگر اصل میں یہ افراد تو مسنگ پرسنز لسٹ میں ہونے کے ساتھ انکے لواحقین آپکی عدالتوں کو بھی دستک دے چکے ہیں۔پاکستانی میڈیا اور اس ریاست میں موجود انسانی حقوق کے اداروں،علمبرداروں کی ایسی دہری پالیسی اور کئی چہروں کے پالیسی نے آج بلوچ قوم کی نسل کشی کو اجتماعی شکل دے دیا ہے اور بلوچ نسل کشی کی اس سارے جرائم میں میڈیا و انسانی حقوق اداروں کا براہ راست ہاتھ ہے جو ان کی خاموشی سے بلوچ نسل کشی میں شدت لائی جارہی ہے ۔
رہی بات کہ اب پاکستانی فورسز کی ان جاری مظالم اور پاکستانی میڈیا اور یہاں موجود بیرونی میڈیا و انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی یا ریاست کے ماتحت ہونے کے بعد اب بلوچ قوم کس طرح اپنی آواز و مقبوضہ بلوچستان میں جاری مظالم کے خلاف دنیا کو آگاہی کے ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ کو مبذول کرائے۔آئے روز پاکستانی زمینی و فضائی فوج کے بے دریغ بمباری و آبادیوں کو بلڈوز کرنا اب شدت اختیار کر چکا ہے۔ مقبوضہ بلوچستان میں کاش ہی ایسا کوئی کوئی گھرانہ ہو جو کسی نہ کسی حوالے سے اس قابض کی بربریت کا شکار نہ ہو،مگر زمینی حقائق یکطرفہ خطرناک اور مقبوضہ بلوچستان میں شدید انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے۔اس بابت تمام آزادی پسندوں کو اپنی سہی کے علاوہ ایک مشترکہ خارجی لائحہ عمل کی ضرورت ہے جو مقبوضہ بلوچستان و بیرونی ممالک میں ایک مضبوط میڈیا ٹیم ورک ترتیب دینے کے ساتھ ریاستی بربریت کی تمام ویڈیو ،آڈیو،ڈاکومنڑی ایک مستند دستاویزات کی شکل میں ترتیب دے کر اپنی بیرونی سیاسی ٹیم کے حوالے کریں تاکہ وہ سیاسی و سماجی ،انسانی حقوق کے اداروں تک جامع ریکارڈ کوپہنچاکر دنیا کے سامنے پاکستانی مظالم کو آشکار کریں۔یقیناًصرف بیانات سے کچھ ہونے والا نہیں،ہم روز بیرونی ممالک احتجا ج و مطاہرہ کریں کہ جی پاکستانی مظالم سنگین ہو رہے ہیں مگر بغیر مستند دستاویزات کے ہماری آواز کوئی سننے والا نہیں ،اس لیے کہ مقبوضہ بلوچستان میں بیرونی میڈیا کی پہنچ تو دور کی بات داخلی زر خرید میڈیا کو بھی داخلے کی اجازت نہیں،ایسے میں بلوچ سیاسی پارٹیوں و قائدین کو سوچنے کے ساتھ ایک لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔
ستمبر کے مہینے میں جنیوا میں آزاد بلوچستان کی اشتہاری مہم نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیاہے ۔جس سے قابض ریاست کا حکام ہوس باختہ ہوگیا جس سے پاکستان کے معروف سفات کار ملیحہ لودی اقوم متحدہ کے جنرل کونسل اجلاس میں فلسطین کے کسی بچی کی تصویر کو کشمیر کی تصویر پیش کر کے رسوائی کا شکار ہوئی تو یقیناًاگر بلوچ آزادی پسند جامع انداز میں مقبوضہ بلوچستان میں جاری قابض پاکستان کے مظالم کی ریکارڈ و ثبوت سامنے لائیں تو آپ اور ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں ،قابض ریاستی سفارت کاروں کا کیا حال ہو گا۔آج انڈیا،انڈیا کر کے پاکستان بلوچ جہد کو کاؤنٹر کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے جبکہ انڈیا اپنی معاشی بربادی کے جنازے کو سنبھالے کی کوشش میں ہے ،بلوچ کی مالی و عسکری مدد تو دور کی بات سفاری مدد کرنے سے ایسے خوف زدہ ہے جیسے پاکستان اسے ایک پل میں کھا جائے گا۔سب سے پہلے بلوچ سفارت کاروں کو اس تصور کو دنیا کے سامنے سے ہٹانا ہو گا کہ جی انڈیا کی مدد تو دور کی بات انڈیا سفارتی حوالے سے بلوچ کی مدد کرنے سے خوف زدہ ہے،اگر بھارت بلوچ کی سفارتی و دیگر مدد کرتا تو آج صورت حال کچھ اور ہوتا،یقیناًیہ ایسے سولات ہیں جو حل طلب ہیں،آج دنیا ایک بڑی تبدیلی کی طرف گامزن ہے ،نہ چاہتے ہوئے بھی قومیت،نیشنلزم کی جہد میں کردستان اور کاتالونیا میں ریفرنڈم جغرافیائی تبدیلی کا اشارہ ہیں،اس سے بلوچ قوم کو ضرور فائدہ پہنچے گا ،دنیا کی حالات اور خود قابض پاکستان کی اندورنی حالات جہاں پنجاب کے حاکموں کا فوج کے خلاف پس پردہ آواز اُٹھانے کی کوشش دیکھنے کو مل رہی ہے جو جغرافیائی تبدیلی کی اندورنی شروعات ہو سکتی ہیں،البتہ بلوچ قوم کے قائدین کو اپنی خارجہ پالیسیوں و میڈیا کے بارے میں مل کر سوچنا چائیے،تاکہ اس بڑی عالمی تبدیلی سے فائدہ اُٹھا کر اپنی قومی تشکیل کو مکمل کر کے ایک آزاد وطن کا مالک بن سکے۔
آزادکرستان ریفرنڈم نے جہاں بغداد کے درو دیوار کو ہلاکر رکھ دیا ہے وہاں ترکی و ایران بھی خوفزدہ ہوگئیں کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہے یہ ریفرنڈم صرف عراق میں نہیں ہوئی بلکہ اس کے اثرات انہی کے سرحدوں میں بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں اور ایران وترکی میں آباد کردوں کی تحریک آزادی کو تقویت دینے میں مددگار ہوگا اسی لئے ترکی و ایران آزاد کردستان ریفرنڈم کیخلاف کھل کر میدان میں آگئے ہیں اور عراق کے ساجھی دار بن گئے ہیں ۔تینوں ممالک نے کردستان کا اب مکمل گھیراؤ کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ایران نے کردستان کو تیل کی فراہمی بند کردی ہے جبکہ ترکی نے اپنے بارڈر پر مزید نفری تعینات کردیئے ۔اس پر مستزاد عراقی پارلیمنٹ نے کردستان کے تمام ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت کو معطل کردیا ہے اور فضائی ناکہ بندی شروع کردی ہے جبکہ عراقی وزیر اعظم حید ر العبادی نے کردستان کے صدر مسعود برزانی کو کردستان سرحدوں کی فوجی کنٹرول بغداد کے ہاتھوں دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔آزاد کردستان ریفرنڈم کے بعد پیدا ہونے والی اس سارے صورتحال میں ترکی و ایران کی تشویش تو واجب ہے کیونکہ وہاں کرد آباد ہیں اور انکی تحریک آزادی کی جدو جہد جاری ہے لیکن پاکستان کو کیا پڑی ہے کہ وہ کردستان کی ریفرنڈم پر تشویش کا اظہار کرے ؟ لیکن چونکہ اسے یہ خوف ہے کہ بلوچ و کردوں میں نسلًاربط ہے اور دونوں اقوام نہ صرف اپنی قومی آزادی کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں بلکہ دونوں پاکستان ،ترکی ،عراق،ایران کی طرح مذہبی نہیں بلکہ سیکولر ہیں اور یہی سیکولرزم نے جہاں کرد و بلوچوں کو دنیا کے نظر میں معتبر بنایا وہاں ترکی ، عراق ، ایران و پاکستان کی نظر میں دشمن قرار پائے ۔اور یہ ممالک نہیں چاہتے کہ سیکولرزم ان کی بادشاہت کا تختہ الٹ دے کیونکہ وہ مذہب کے آڑ میں اپنی سامراج قائم کئے ہوئے ہیں۔
پاکستانی ریاست بلوچ جہد کو کاؤنٹر کرنے کے لیے جہاں تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے وہیں وہ مقامی پارلیمانی ایجنٹوں و دیگر ذرائع سے کمزور جہد کاروں کو سرنڈر کرکے پرامن شہری و مراعات کے لالچ جیسے طریقے استعمال کر رہی ہے۔سرنڈر کرنے بعد صرف پانچ ہزار روپے اور ایک موبائل کے ساتھ ان لوگوں کو فوج کے لیے کام کرنے اور بلوچ مزاحمت کاروں سمیت علاقے میں پاکستان مخالف یا ترقی پسند خیالات رکھنے والوں کی نشاندہی کا کام ابتداء میں سونپا جاتا ہے،کچھ ماہ اگر پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کو مذکورہ نتائج نہیں ملتے تو انہی سرنڈر کردہ افراد کو گھروں سے اُٹھا کر مار دیا جاتا ہے۔ستمبر کے مہینے میں ضلع کیچ میں ایسے واقعات سامنے آنے کے ساتھ اس وقت مقبوضہ بلوچستان میں2017 میں اب تک تیس سے زائد افراد کو فوج نے قتل کردیا ہے جو سرنڈر کرکے پرامن شہری بننے یا بقول پاکستانی اسطلاح کے قومی دھارے میں شامل ہونے چلے تھے،کچھ کے لواحقین نے ادارہ سنگر کو بتایا کہ پاکستانی فورسز پرامن شہری کا جھوٹ بول کر معصول بلوچوں کو علاقی معتبرین کے ذریعے سرنڈر کرانے کے بعد آئے روز گھر والوں کو تنگ کرنے کے ساتھ ان کو پاکستانی فوج،خفیہ اداروں ،مذہبی شدت پسندوں کے لیے کام کرنے کے لیے مجبور کرنے کے ساتھ ،کام نہ کرنے پر گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو زدکوب کرتے ہیں اور بلاآخر ان سرنڈر کرنے والوں کو قتل کرکے مقابلے کا نام دیتے ہیں۔قابض ریاست اپنی پوری قوت و طاقت کے استعمال کے باوجود بھی مقبوضہ بلوچستان میں ایک فیصد بھی عوامی عتماد حاصل نہ کر سکی ہے،اتنی شدت سے جبر و ظلم نے آج بلوچ قوم کو رنگ ،نسل،ذات ،طبقات سے بالا ایک قوم بنایا دیا ہے ،یقیناًقومی جہد آزادی کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ تیرہ یا پندرہ سالہ جہد نے بلوچ قوم کی قومی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے جو خود بلوچ قومی جہد کی کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔اس امر کی ضرورت ہے کہ بلوچ سیاسی و مزاحمتی جہد کار اب قابض ریاستی فوج و اسکے دیگر ٹولز کی تمام حکمت عملیوں کا ادارک رکھتے ہوئے اپنی علمی ،سیاسی ،شعوری پرورش کو بہتر بناتے ہوئے ریاست کے کسی بھی چال کا شکار نہ ہوں،اس لیے کہ قابض ریاست کو بلوچ قوم سے نہیں بلوچ وسائل و جغرافیائی اہمیت سے لینا دینا ہے،چاہے عام بلوچ ہو چائے کسی بھی مکاتب فکر سے تعلق ہو یا وہ مزاحمت کار یا سیاسی کارکن ہو یا وہ سرنڈر کردہ ہو وہ قابض کے لیے صرف ایک بلوچ ہے اور بلوچ کے لیے موت کے سوا اسکے قانون میں کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان فوج کا یہ نظریہ ہے کہ بلوچ اعتماد و اعتبارکے قابل نہیں ہے اور وہ اسی نظریے کی بنیاد پر بلوچ کو اپنے ساتھ تو بٹھا سکتی ہے لیکن اس کے آستین میں بلوچ کیلئے ہر وقت ایک سانپ موجود ہوتا ہے جو کام نکلنے کے بعد وہ سانپ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے بلوچ کو ڈستا ہے ........۔!!!
اسی لئے بلوچ قوم یا بلوچ جہد کار پنجابی فورسز کے میٹھی باتوں میں نہ آئیں اور سرنڈر کردہ درجنوں جہد کاروں اور عام افراد کی تجربات اور ان کے ساتھ کیا ہوا انہیں دھیان میں رکھیں ۔تجربے پر تجربہ ایک بے وقوفانہ عمل ہے جس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا صرف گھوانا ہوتا ہے ۔اور ہمیں زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اسے تجربے پر تجربہ کرکے ضائع کرنے کے بجائے نیا کر دکھانے صرف کریں شاید ہمیں کچھ اچھا نتیجہ مل جائے جو ہماری قوم اور آنے والے پیڑیوں کیلئے ایک سنگ میل بن جائے ۔
بلوچستان میں ریاستی بربریت و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ماہ ستمبر کی تفصیلی رپورٹ حسب معمول بلوچ نیشنل موومنٹ نے جاری کردی ہے جو روزنامچے کی شکل میں موجود ہے اور اس میں پورے مہینے کی فورسز کے آپریشنز،جبری گمشدگیوں ، گھروں کونذر آتش کرنے ،خواتین و بچوں پر تشدد،حراستی قتل ، لاشوں کی برآمدگی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے کارروائیوں وواقعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ہم بی این ایم کے شکریے کے ساتھ اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں تاکہ ایک دستاویزکی شکل میں بلوچ قوم و انسانی حقوق اداروں بشمول میڈیا ہاؤسز کیلئے کارآمد ہوسکے۔

ماہِ ستمبر کی تفصیلی روزنامچہ رپورٹ
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے ستمبر کے مہینے میں ریاستی بربریت کی تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ فورسز نے مقبوضہ بلوچستان میں43 سے زائد آپریشنز اور چھاپوں میں94 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا،جبکہ35 نعشیں ملیں۔ 19 بلوچ فرزندوں کو فورسز نے شہید کیا،جس میں تین حراستی قتل شامل ہیں۔ جبکہ11 افراد کے ہلاکت کی وجوہات سامنے نہ آ سکیں۔ پاکستانی فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں دو دن میں پانچ افراد کو اْٹھا کر چند منٹوں ایک پْل کے نیچے قتل کرکے لاشیں پھینک دیں اور اْسے دو طرفہ مقابلہ قرار دیکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ جبکہ علاقہ مکین اس بات کا گواہ ہیں کہ انہیں گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ پنجگور سے دو پرانی لاشیں ملیں ،جنکی شناخت نہ ہو سکیں۔ 12 افراد فورسز کی زندانوں سے بازیاب ہوئے جس میں چار افراد چار سال بعد بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچے۔ سینکڑوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ انکو نذر آتش کرنے و سینکڑوں مویشیوں کو فورسز دوران آپریشن اپنے ساتھ لے گئے۔ تمپ میں ستمبر کے آخری دنوں فورسزنے کئی افراد کے گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا۔قلات اور مستونگ اور ڈیرہ بگٹی میں اسی طرح کی بربریت جاری ہے۔ سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے مزید کہا کہ ریاستی فورسز کی بربریت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے،مگر میڈیا پرسنز کی خاموشی ایک المیہ سے کم نہیں جہاں آزادی صحافت کے دعویدار نام نہاد وزیر داخلہ سرفراز بگٹی و کٹھ پتلی حکومت و آئی ایس پی آر کے بیانیہ کے سامنے بے بس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ ایک سیاسی تنظیم ہے جو بلوچ قوم کی بقا ،تشخص و حاکمیت کی جہد آفاقی و عالمی قوانین کے مطابق لڑ رہی ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ اخبارات و نیوز ایجنسیاں ہمارے بیانات تک کو جگہ دینے سے گریزاں ہیں،انہوں نے کہا کہ ہر مہینے کی رپورٹ کی طرح اس ماہ بھی رپورٹ دستیاب اعداد و شمار کے بعد ترتیب دی گئی اور تمام ریکارڈ بی این ایم کے پاس محفوظ ہیں۔

یکم ستمبر
**تربت فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، ڈمپ میں پیر داد نامی شخص کے گھر میں نامعلوم مسلح افرا دنے گھر میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا اور فرار ہو گئے قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
**مند ،گوک پاکستانی فوج کا آپریشن،، قادر بخش ولد د’را اور مراد جان ولد گل محمد کے گھروں پر حملہ کر کے لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو حراساں کیا۔
**جمعہ کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کپکپار میں ملا صابر ولد محمد ساکن کلیرو ڈمب نامی شخص کو حراست میں لیکر موٹر سائیکل سمیت لاپتہ کردیا ۔
** ضلع کیچ کے علاقے دشت ریک کہیرن میں بروز جمعہ کو آپریشن کرکے ایک گھر میں خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ،قیمتی سامان کو لوٹنے کے بعد ایک باپ کو تین بیٹوں سمیت حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت معیب خان محمد،ہاشم خان محمد ،حمل خان محمد اور مستری خان محمد کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔

2 ستمبر
** بلوچستان میں عید کے روز بھی فوجی بربریت جاری ،تمپ ومندسے گھروں اورعیدگاہ سے دوران نماز متعدد افرادکو فورسز نے حراست بعد لاپتہ کردیا ہے ۔ ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں عید گاہ میں جب سب لوگ نماز اداکرنے میں مصروف تھے تو پاکستانی فوج نے پورے عید گاہ کو محاصرے میں لیکر عبادت کی تقدس کو پامال کرکے متعدد افراد کو حراست میں لیکر لے گئے جو ہنوز لاپتہ ہیں ۔جن میں تین کی شناخت صدام ولد الہٰی بخش،احمد ولد عبدالکریم اورعابد ولد رحیم کے ناموں سے ہوگئی جبکہ متعدد افرادفورسز کی اچانک حملہ و تشدد سمیت بھگدڑمیں زخمی ہوگئے ہیں ۔
** عید کے دن ضلع کیچ کے علاقے مند نوکیں کہن میں فورسز نے شہید یاسرناصر کے گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر شہید یاسر ناصر کے چچا شریف ولد ابابگر کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیاہے ۔

3 ستمبر
**نوید احمد ولد ڈاکٹر قادم حسین کو وشبود پنجگور سے فوج نے اغوا کرکے لاپتہ کیا۔
**ہرنائی بولان میں فوج نے دوران حراست مستاگ مزاری ولد مولا داد، جندو ولد دوستین مری اور بنگڑی مری کو قتل کیا۔

4 ستمبر
**اتوار کو کیچ کی تحصیل بلیدہ میں اکبر نا می شخص نے فائرنگ کر کے یا ر محمد ولد خدا داد کو زخمی کردیا ۔وجہ معلوم نہ ہو سکی
** اتوار کو آواران کے علاقے بزداد میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے عبداللہ نامی شخص کو شدید زخمی کردیا اور فرارہو گئے ۔
**اتوار کو تربت کے علاقے کیچ کور پل کے قریب پولیس کو ایک لاش ملی جس کی شناخت19سالہ عبدالزاق کے نام سے ہوئی ہے۔
**پیر کے روز ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں پیر کوہ سے لوپ جانے والی موٹرسائیکل سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار دوافراد علی مراد اور خان محمد شدید زخمی ہوگئے ۔
** آواران کے علاقے مالار سیاہ کل کونری میں آج بروز پیر کو علی الصبح پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی ، خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر گھروں کے قیمتی اشیا لوٹ لئے جبکہ بور بخش نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔

5 ستمبر
**مال مویشی بیوپاری میر خان مزاری کو عید سے ایک ہفتہ قبل کراچی کے مویشی منڈی سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغواہ کرکے غائب کر دیا۔ میر خان مزاری کا تعلق مشرقی بلوچستان کے علاقے روجھان مزاری راجن پور سے ہے اور وہ مال مویشی کا ایک بیوپاری ہے۔
**گذشتہ رات پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے خضدار میں گھر گھر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے جہاں خواتین و بچوں اور گھر کی تقدس کو پامال کرکے لوگوں کو ہراساں کیا جارہاہے ۔جبکہ خضدار بھر میں فورسز کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی جو ہر گلی اور شاہراہ پرلوگوں کی جامہ تلاشی لے ر ہی ہے جس سے لوگوں کوآمدو رفت میں شدید دشواری اور ذہنی کوفت کا سامنا ہے ۔اسی طرح فورسز نے خضدار کے مین شاہراہوں پر سیکورٹی کیمرے بھی نصب کر دیئے جس سے اندازہ لگایاجارہا ہے کہ گذشتہ رات سے شروع کیا جانے والا فوجی کارروائیاں ایک بڑے آپریشن کی تیاریاں ہیں ۔
**پاکستان فوج و خفیہ اداروں نے گوادر شہر میں آپریشن کرکے 3افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔ پہلے روز فورسز نے گوادر کے علاقے نیا آباد میں شہید ثنا جان کے گھر پر چھاپہ مارکر شہید ثنا کے والدسعید اور اس کے بھائی عبداللہ کوحراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔

6 ستمبر
**کوئٹہ ارباب کرم خان آپریشن، ماشکیل کے فارق ریکی اور جنید ریکی ولد عبداللہ ہلاک
**بروز بدھ کو گوادر ٹی ٹی سی کالونی میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے شہید سمیر کے گھر پر چھاپہ مارکرایک نوجوان کو حراست بعد لاپتہ کردیا جس کی شناخت فاروق ولد ملا بابو ساکن دشت کْمبیل کے نام سے ہوگئی ۔واضع رہے کہ فارق اس سے قبل بھی فورسز ہاتھوں لاپتہ ہوئے تھے۔
** ضلع کیچ ،دشت کے علاقے کاشاپ میں آبادی پر دھاوا بول خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں موجود تمام اشیاء کا صفایا کردیا اور لوگوں کو علاقہ نہ چھوڑنے کی صورت میں گھروں کے نذر آتش کرنے سمیت انکو اغوا کرنے کی دھمکیاں بھی دیں گئی، اور دو افراد کو حراست بعد اپنے ساتھ لے گئے ،جنکے شناخت عبداللہ ولد شیر محمد اور ،مہیم ولد احمد علی سے ہوئے ۔ جبکہ کاشاپ آپریشن بعد اسی فوجی قافلے نے دشت کے علاقے جمک میں خلیل نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

7 ستمبر
**جمعرات کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کروس تنک میں علی الصبح آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،گھروں کے قیمتی سامان لوٹ لئے جبکہ ایک کمسن نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جسکی شناخت صغیر ولد قادر بخش کے نام سے ہوگئی جو کروس تنک کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔دشت کروس تنک سے ہی کلیر ولد امام بخش، غفار ولد گزی، اور بل نگور سے ملا سلیم ولد خان محمد، حکیم ولد یعقوب اور زاہد ولد قادر کو فوج نے اغوا کیا۔ کلانچ پسنی ضلع گوادر سے جمعہ ولد سبزل اور دلپل ولد دلی کو فوج نے اغوا بعد لاپتہ کیا۔
**تحصیل پسنی کے علاقے کلانچ لانٹی دان میں پاکستانی فوج نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر گھر کے قیمتی سامان لوٹ لئے اور 2افراد کو حراست میں لیکر انہیں لاپتہ کردیا ہے جن کی شناخت جمعہ ولد سبزل اور دلپل ولد دلی کے ناموں سے ہوگئی۔

8 ستمبر
**دشت سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے 4افراد تین سال بعد گوادر سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔ کیچ کے علاقے دشت زریں بگ میں گذشتہ دوسال 10مہینے قبل ایک فوجی آپریشن کے دوران حراست بعد لاپتہ ہونے والے 4افرادشریف ولد رمضان ، عبداللہ ولد الیاس ،ولید ولد حاجی عبدالحمید اور قیوم ولد حاجی عیسیٰ گذشتہ شب گوادر سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں ۔چاروں افراد گذشتہ دوسال اور دس مہینے سے فوج اور خفیہ اداروں کے اذیت خانوں میں غیر انسانی تشدد سہہ رہے تھے ۔
**آواران کے علاقے تیرتیج میں پاکستانی فوج نے ماسٹر حفیظ ولد پنڈگ نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔

9 ستمبر
**ہفتے کو لسبیلہ کے علاقے اوتھل میں واقع کمبہار محلہ میں واقع ایک گھر سے پولیس کو تین روز پرانی لاش ملی جس کی شناخت شفیع محمد ولد عبدالغفور ساکن مستونگ کے نام سے ہوئی ہے۔
**فقیر کالونی کراچی سے دشت کے رہائشی نثار ولد ابراہیم، اور خلیل ولد صابر کو فوج نے اُٹھاکر لاپتہ کیا۔

10 ستمبر
** پنجگور میں نواب اکبر خان کالونی سے فورسز نے عبداللہ ولد گل محمد سکنہ گچک کو حراست بعد لاپتہ کردیا۔
** پاکستانی فوج نے خضدار کے علاقے سول کالونی سے ایک طالب علم گزین گزوزئی ولد ابوبکر گزوزئی سکنہ خضدار کو اتوار کے روز حراست بعد لاپتہ کر دیا۔
** اتوار کے روز نامعلوم افراد نے زہری کے علاقے نورکامہ گوڈی سنک میں فائرنگ کر کے نصر اللہ ولد حبیب اللہ ریشکی کو ہلاک کر دیا۔تاحال ہلاکت کی وجہ سامنے نہ آ سکی۔
** آواران کے علاقے کولواہ سے ایک مہینے قبل ایک آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے 5افرادسخیدادولد ملما،ناگمان ولد سنگو،جمعہ ولد دلوش،بوہیر ولد قادربخش اور مجید ولد بوہیر گذشتہ روز بروز ہفتہ کو فورسز کے حراستی مرکز سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے جبکہ ان کے ساتھ حراست میں لئے گئے فقیر ولد علی داداوراللہ داد ولد لالونامی دو افرادتاحال لاپتہ ہیں۔
** گذشتہ دنوں 7ستمبر کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کروس تنک میں آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر 3افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا جبکہ گھروں کے قیمتی سامان لوٹ لئے ۔کئی گھروں کو مکمل طور پر نذر آتش کردیا گیا اور لوگوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دی گئی ۔لاپتہ کئے گئے افرا د کی شناخت کلیر ولد امام بخش، گزی ولد امام بخش اور غفار ولد گزی کے ناموں سے ہوگئی ۔
** مشکے کے علاقے گزی میں پاکستانی فوج نے میر محمد حیاتی نامی شخص کے گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر 5افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جبکہ اس کے گھر سمیت گھر وں کو مکمل نذر آتش کردیا گیا ۔لاپتہ کئے گئے افراد میں تین کی شناخت شیر جان، رستم ولد حیات اورفارق ولد لکو، شیر جان ولد دوست محمد کے ناموں سے ہوگئی ۔

11 ستمبر
**خضدار مین بازار کے علاوہ چمروک ،اسد آباد اور اردگرد کے علاقوں کو پاکستانی زمینی فوج نے مکمل محاصرے میں لیکر آپریشن کا آغاز کیا ہے ۔مذکورہ علاقوں کے داخلی کو خارجی راستوں کو مکمل سیل کرکے آمد ورفت پر پابندی لگادی گئی ۔واضع رہے کہ رواں مہینے خضدار کے مین شاہراؤں پر پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے نگرانی کیمرے نصب کرکے لوگوں کے چیک پوسٹوں کی تعداد بھی بڑھادی ہے ۔

12 ستمبر
**کوئٹہ: فوج نے میر عبدالنبی بنگلزئی و دیگرکے گھروں کو مسمار کردیا، کوئٹہ میں نیوکاہان ہزار گنجی میں فورسز نے سرکردہ بلوچ آزادی پسند رہنما میر عبدالنبی بنگلزئی ، ،پیرو مری لانگانی، شامیر مری ،ہیبتان مری ،مالو مری، نوکاف مری، عبدالکریم بابا شکاری مولا عبدالرحمان نورمحمد میرک اور دیگر درجنوں گھروں کو مسمار کردیاہے۔واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے نیوکاہان میں فورسز کی جانب سے نئے فوجی چھاؤنی کی تعمیر کے سلسلے میں اب تک کئی گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کردیا گیا ہے۔
**دشت سے اقبال ولد محمد کو اغوا کیاگیا۔
**پاکستانی فورسز کا خضدار کے کئی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے،سرچ آپریشن کی سربرائی ایف سی میجر،ایس ایس پی خضدار عبدالعزیز جھکرانی،اے سی خضدار جمعداد خان سمیت لیویز ،پولیس،فوج کا مشترکہ آپریشن جاری ہے، رات گئے اسد آباد کا محاصرے و سرچ آپریشن بعد،منگل کے روز خضدار علی ہسپتال سے منسلک آبادی کو تاحال فورسز نے محاصرے میں لے رکھا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے،جبکہ مکینوں نے شکایت کی ہے کہ دوران آپریشن فورسز کا خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ قیمتی اشیاء کو بھی لوٹا جا رہا ہے ،جبکہ انکی فریاد سننے والا کوئی نہیں،انتہائی اہم ذرائع نے نمائندہ سنگر کو بتایا کہ خضدار شہر و گرد نواع کی مکمل سرچ آپریشن کا پلان تیار کیا گیا ہے،اور یہ آپریشن کا پہلا فیز ہے ،واضح رہے کہ خضدار کے داخلی و خارجی راستے مکمل فوجی نگرانی میں ہیں اور کل سے جاری آپریشن بعد چمروک میں ایک اور چیک پوسٹ قائم کر دیا گیا ہے۔

14 ستمبر
**گذشتہ رات ضلع کیچ کے علاقے تمپ ملک آباد میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں کے قیمتی چیزٰن توڑ پھوڑ و لوٹ مار کے بعد دو افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیاجنکی شناخت تاحال نہ ہوسکی جبکہ فوج نے اس گھر سے ایک موٹر سائیکل بھی اپنے ساتھ لے گیا۔دریں اثناضلع کیچ کے علاقے دشت میں ریک کہیرن کے مقام پر پاکستانی فوج نے گذشتہ شب ایک گھر پر حملے کرکے خواتین وبچوں کو تشددکا نشانہ بناکر حفیظ ولد پیر محمد نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جبکہ گھر کے قیمتی اشیا کو بھی لوٹ لیا گیا۔

15 ستمبر
** کولواہ میں پاکستانی زمینی فوج کا آپریشن جاری ہے زمینی فوج کے ساتھ8گن شپ ہیلی کاپٹربھی اس آپریشن میں شامل ہیں جبکہ ایک جاسوس طیارہ بھی اس آپریشن کا حصہ ہے،گن شپ ہیلی کاپٹروں کا ڈنڈار،مادگے قلات و کولواہ و گیشکور کے پہاڑی سلسلوں پر شدید بمباری جاری ہے،جبکہ زمینی فوج نے کیچ اور آواران سے کولواہ و گیشکور زمینی راستوں کو مکمل سیل کر دیا ہے۔
**ڈنڈار کولواہ سے صوال جان ولد جمعہ، حمید ولد لعل محمد، صادق ولد بشیر، محمد امداد ولد رحیم بخش، الیاس ولد فقیر محمد، بلال ولد محمد حسن، الطاف ولد لعل بخش، صادق ولد لعل بخش، حامد ولد پیر محمد، اللہ بخش ولد محمد بخش، نیاز ولد ولی محمد، لعل بخش ولد کریمداد، جاوید ولد عبدالقادر، محبت ولد پلان، شبیر ولد پلان، زبادولد دین محمد کو فوجی آپریشن کے دوران اغوا کیا۔
**تمپ نذر آباد سے نذر ولد جمعہ، برکت ولد احمد خان اور عبداللہ ولد حسین کو فوج نے اُٹھا کرلاپتہ کیا گیا۔
**ضلع قلات سے ظریف علی، حمید ولد بشیر، عبدالغنی ولد للہ ، صوال جان ولد شیہک، چاکر ولد شیہک، عطا ولد اللہ بخش، علی ولد اللہ بخش، عبدالرحیم کو پاکستانی فوج نے اُٹھا کر لاپتہ کیا۔

16 ستمبر
**کولواہ و گیشکور میں گذشتہ روز جمعہ کو شروع ہونے والا پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی آپریشن آج دورے روز بھی جاری ہے۔دو درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا ہے ۔ زمینی فوج کیساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر وجاسوس طیارے بھی اس آپریشن میں شامل ہیں۔علاقے مکمل فوج کے محاصرے میں ہیں اور مواصلاتی نظام کو مکمل بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مزید تفصیلات تک رسائی ممکن نہیں ہوپارہی ہے ۔اطلاعات کے لوگ دوسرے دن سے محصور ہیں اور ضرورت اشیا کیلئے بھی انہیں نکلنے کی اجازت نہیں ہے اور کرفیوکا سماں ہے ۔
**ضلع کیچ کے علاقے دشت کلیروں میںآ ج بروز ہفتہ کوپاکستانی فوج نے ایک گھر پر دھاوابول کر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر ،گھر کے قیمتی اشیا کو لوٹنے بے بعد باپ بیٹے کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا باپ کی شناخت بیگ محمد ولد قادر بخش جبکہ بیٹے کی شناخت میراث ولد بیگ محمد کے نام سے ہوگئی ۔

17 ستمبر
**کولواہ و گیشکور میں گذشتہ تین دنوں سے جاری فوجی آپریشن میں اب تک درجنوں افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا ہے جن میں صرف پانچ افراد کی شناخت جان محمد ولد جمعہ ،خان محمد ولد خدا بخش،اسلم ولد داد محمد،اختر ولد داد محمداوراکرم ولد داد محمدکے ناموں سے ہوگئی ،جن میں تین بھائی بھی شامل ہیں۔جبکہ آپریشن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔65گاڑیوں پر مشتمل فوجی قافلہ ڈنڈار پہنچ گیا ہے جس سے علاقے کے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے ۔آپریشن زدہ علاقوں کے مواسلاتی نظام مکمل بند کئے گئے ہیں جس سے مزید تفصیلات تک رسائی ممکن نہیں ہوپارہی ہے ۔
**ہوشاپ میں گذشتہ روز چار بلوچ لڑکیوں کی موات کی وجہ سامنے آگئی ۔چاروں لڑکیوں کی اموات ایف سی کی جانب سے کھودی گئی گہرے تالاپ میں گھرنے کی وجہ سے ہوگئیں۔جبکہ گذشتہ دن سرکار کی جانب سے میڈیا کو جاری کئی گئی بیان کے مطابق مذکورہ لڑکیاں ہوشاپ میں ایک ندی میں پکنک منانے کے دوران گھر کر جاں بحق ہوگئیں تھیں لیکن اصل کہانی اس کے برعکس ہے ۔ گذشتہ روز ہوشاپ میں ایف سی کیمپ کے پچھواڑے میں سی کی جانب سے کھودی گئی ایک گہرے تالا ب میں جب علاقے کی پانچ لڑکیاں پانی لینے کیلئے پہنچیں اور پانی بھرنے لگے تو ایف سی اہلکاروں نے انہیں آواز دیں اور ان پر بندوقیں تھان لیں جس سے معصوم لڑکیاں خوفزدہ ہوگئیں اور سراسیمگی میں پھسل کر گہرے تالاب میں گھر گئے جس سے 4کیا ماوات ہوگئی جبکہ ایک کو بچالیا گیا۔ایف سی نے مذکورہ واقعہ سے بچنے کیلئے لیویز کو بلاکر انہیں لڑکیوں کی اموات کی وجہ ندی میں پکنک مناتے ہوئے ہلاکت ظاہر کرنے کو کہا گیا جس پر لیویز نے میڈیا کو لڑکیوں کی اموات ہوشاپ کے ایک ندی میں دوران پکنک مناتے ہوئے ہلاکت ظاہر کردی۔واضع رہے کہ ہوشاپ میں کوئی ندی نہیں ہے اور یہ علاقے کے معصوم لوگ ہیں جو پانی کے حصول کیلئے نکلے تھے ۔ علاقے میں پانی بالکل ناپید ہے جس کی وجہ سے ایف سی نے اپنے کیمپ کے پچھواڑے میں ایک بڑا گہرا تالاب کھود لیا تھا جس میں بارش کا پانی ذخیرہ کیا گیا ہے اور وہ معصوم لڑکیاں اسی پانی کی حصول کیلئے ایف سی کے تالاپ تک پہنچ گئے لیکن ایف سی نے حسب روایت اپنی بلوچ دشمنی کو قائم رکھتے ہوئے معصوم لڑکیوں پر بندقویں تھان لیں اور انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا جس سے وہ گھبراکر تالاب کے گہرے پانی میں گھر پر جاں بحق ہوگئے ۔جاں بحق لڑکیوں کی شناخت کرگز وبنت حکیم ،رضیہ بنت حکم ،درناز بنت عظیم اور افرا گل بنت ماسٹر اللہ دادکے ناموں سے ہوگئیں جن میں دو سگے بہنیں تھیں ۔
**گزشتہ روز سبی کے علاقے کٹ منڈائی میں پاکستانی فورسز نے آپریشن کرکے 2افراد کو ہلاک کردیا۔جنکی شناخت تا حال نہ ہوسکی۔
**آواران میں کولواہ کے علاقے ڈنڈار میں فوج نے آبادی پر یلغار کرکے اسکول پر قبضہ جمایا اور گھر تلاشی و آپریشن دوران خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر 120افراد کوحراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔جبکہ فوج نے علاقے کے واحد اسکول پر قبضہ کرکے اسے اپنان مورچہ بنالیا ۔فوجی اہلکاروں نے بچوں اور اسکول ٹیچر کو آئندہ اسکول میں نہ آنے کی دھمکی دی ۔علاقہ مکینوں نے اپنے 120پیاروں کی گرفتاری و گمشدگی کے بعد فورسز کیمپ کے سامنے دھرنا دیا اور احتجاج کیا جو ہنوز جاری ہے ۔ لوگوں کی بڑی تعداد فورسز کیمپ کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے صبح سے دھرنا دیئے بیٹے ہیں ۔
**سات ستمبر کو فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والے کروس تنک دشت ضلع کیچ کا گزی ولد امام بخش بازیاب ہوگیا۔

18 ستمبر
**ضلع پنجگور کے علاقے پروم ،بسد کے مقام کئی بلوچ فرزندوں کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ۔خلیل ولد شاہی اور اسکے بھائی کو مذہبی شدت پسند جیش العدل اور فوج نے ملٹری کیمپ منتقل کردیا، جسکے بعد لواحقین نے پاکستانی فوجی کیمپ کے سامنے دھرنا دیا تو مزید6 افراد کو حراست بعد فوجی کیمپ منتقل کر دیا گیا،جنکی شناخت اختر ولد شاہی، انیل ولد شاہی،آصف ولد اختر،بالاچ ولد عبدالصمد،شعیب ولد شاہی،زہیر ولد عبدالصحمد سے ہوئے جبکہ تاحال کچھ لاپتہ فراد کی شاخت نہ ہو سکی،واضح رہے کہ مذہبی شدت پسند گرؤہ ،جنداللہ یا جیش العدل جو پاکستانی خفیہ اداروں و دیگر عالمی اداروں کی زیر دست مقبوضہ بلوچستان میں جاری جہد اور بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف سرگرم ہے جو پاکستانی فوج و دیگر ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ مل کر منشیات کی کاروبار کے ساتھ مذہبی جنونیت و بلوچ سرمچاروں کے خلاف ایک صفہ پر ہیں۔
**ڈنڈار کے علاقے مادگے کور میں علی الصبح سے پہاڑی علاقوں میں فورسز کی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری ہیں، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مادگے کور کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر یں گیشکور پہاڑی سلسلوں پر پروازیں کر رہی ہیں جہاں دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں ۔زمینی فوج نے مادگے کور اور گرودو نواح کے آبادی کو محاصر ے بعد پہاڑی علاقوں میں داخل ہوچکی ہے ۔گیشکور سے مزید فوج مادگے قلات کی محاصرے کے بعد مادگے کور کی جانب فورسز روانہ ہوچکی ہے ۔
** گذشتہ روز 15ستمبر کو پاکستانی فوج نے آواران کے علاقے کولواہ میں آپریشن کرکے زباد ولد دین محمد نامی ایک چرواہے کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جو اپنے بھیڑ بکریوں کو چراہنے کے بعد واپس اپنے علاقے شاپکول آرہاتھا ۔

19 ستمبر
**مپ کے علاقے نذر آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ہوٹل میں بیٹھے ملا شاہ داد ولد در محمد نامی ایک شخص پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا ۔زخمی کوعلاج کیلئے تمپ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

20 ستمبر
**کیچ کے علاقے تمپ میں آج بروز بدھ کو پاکستانی فوج نے2 تشددزدہ لاشیں تمپ ہسپتال میں منتقل کردیں ۔جنہیں آج صبح کیچ کے علاقے رود بن میں سعید نامی ایک شخص کے گھر پر سول مسلح افراد نے حملہ کرکے 2 افراد کو حراست میں لیکر لے گئے جنہیں ایک گھنٹے کے بعد علاقے کے ایک قریبی پل کے نیچے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا اور ان کی لاشیں تمپ ہسپتال میں منتقل کردیں ۔دونوں لاشوں کی شناخت سعید ولد امیر اور امجد ولدگہرام کے ناموں سے ہوگئی جو رودبند اور جتک جو مندکے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔
**مپ کے علاقے نذر آباد میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے متعدد افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا تھا۔
** بسیمہ کے علاقے راغے عطائی ڈن سے ایک لاش برآمدکرلی گئی جس کی شناخت الہٰی بخش ولد زرین سکنہ گچک کے نام سے ہوئی ہے ، الٰہی بخش کو گذشتہ روز پاکستانی فورسز کے مذہبی شدت پسندوں نے اغوا کیا تھا اور آج اس کوقتل کرکے لاش پھینک دیا۔مقامی ذرائع کے مطابق الٰہی بخش ایک غریب آدمی تھا اْس کا کسی سیاسی اور مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
** ضلع کیچ کے علاقے مند گوک میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی۔خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر گھروں کے قیمتی اشیا لوٹنے کے بعد ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جس کی شناخت عبداللہ ولد محمد کے نام سے ہوگئی۔
** آواران کے علاقے زیلگ میں پاکستانی خفیہ اداروں نے ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جس کی شناخت راشد کے نام سے ہوگئی جو کہنہ زیلگ کا رہائشی بتایا جاتایاہے۔ دریں اثنا گذشتہ رات مند کے علاقے لبنان میں پاکستانی فوج کے ڈیتھ اسکواڈ بابو ڈکیٹ کے اہلکاروں نے عیسیٰ نامی شخص کے گھر پر حملہ کرکے گھر کے سارے قیمتی اشیا لوٹ لئے اور فائرنگ کرکے عیسیٰ کو قتل کردیا۔
**گوادر کے شہر پسنی وارڈ نمبر6 میں پاکستانی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر 6 افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،دوران آپریشن فورسز نے گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو حراساں کیا،حراست میں لیے جانے والے کچھ افراد کی شناخت، آٹھویں جماعت کے وقار ولد اسلم، ماسٹر کمبر ولد بلوچ خان، اکرم ولد عالیٰ جانثار ولد نثار سکنہ وارڈ چھ سے ہوئے،واضح رہے کہ فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے افراد بلوچی زبان کے نامور گلوگارو موسیقار مرحوم نور خان بزنجو کے قریبی رشتہ دار ہیں،جبکہ فورسز نے ایک شخص تجمل بلوچ کوبھی لاپتہ کردیا، تجمل غریب شخص اور دیوانہ انسان ہے فوج نے دوران آپریشن اسے بھی لاپتہ کردیا۔
**پاکستانی فوج نے مند کے علاقے گوک میں آبادی پر دھاوا بول کر دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا جس میں ایک شخص کی شناخت عبداللہ ولد محمد سے ہوئی جبکے دوسرے کی شناخت تاحال نہ ہو سکی،مند گوک میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ بابو ڈکیت کے کارندوں نے ازمان ولد خان محمد کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تاہم کسی قسم کی جانی نقصان نہ ہوئی۔

21 ستمبر
**جمعرات کو آوار ان میں ایک تشدد زدہ لاش برآمد کی گئی جس کی شناخت ہمراز ولد اسحاق کے نام سے ہوگئی ۔ مقتول کو پاکستانی فوج کے مقامی ڈیتھ اسکواڈ اہلکاروں نے گذشتہ شب ان کے گھر میں گھس کر حراست میں لیکر لاپتہ کیا تھا اور آج انکی تشدد کردہ لاش پھینک دیا گیا ۔مقتول کا تعلق آواران کے علاقے کہن زیلگ سے بتایا جاتا ہے ۔
**گیارہ جولائی 2016 کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والا بالیچہ تمپ ضلع کیچ کے عثمان ولد گل محمد آج بازیاب ہوگیا۔

22 ستمبر
**اٹھارہ ستمبر کوڈنڈار میں دوران آپریشن اغوا ہونے والے سبزل ولد سردو کی لاش درخت پر لٹکی پایاگیا۔
**مند بلوچ ضلع کیچ کے رہائشی حکیم ولد جمعہ آج بازیاب، جسے چودہ جولائی کو پاکستانی فوج نے اغوا کیا تھا۔
**جھاؤ کے علاقے پیلار میں باردوی سرنگ کی زد میں آکر دو خاتوں جابحق ہوگئے جنکی شناخت خیر خاتون زوجہ آدم اور انکی بیٹی سے ہوئے۔


23 ستمبر
**ڈیرہ بگٹی کے علاقے سنگسیلہ میں زیر زمین چھپائی گئی بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک7 سالہ لڑکا شدید زخمی ہو گیا جس کو ہسپتا ل منتقل کیا جا رہاتھا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔

24 ستمبر
ْ** روز مشکے کے علاقے مرماسی میں پاکستانی فوج و ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے شہید صحمد ولد نور بخش کے گھروں پر دھاوا بول کر شہید
کے بھائی اور بیٹے کو حراست میں لینے کے ساتھ وہاں گھروں میں لوٹ مار کی اور 60 مویشیوں کو بھی ساتھ لے گئے۔
**قلات،خاران،نوشکی گرد نواع کے پہاڑی سلسلوں میں گزشتہ تین دنوں سے جاسوس طیاروں کا گشت جاری ہے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک بڑے آپریشن کی طیاری جاری ہے۔
**مپ کے علاقے گومازی میں پاکستا نی فورسز نے ایک گھر پر دھاوا بول کر وہاں سے پھلان ولد اللہ بخش کو حراست بعد لاپتہ کرنے ساتھ گھروں والوں کو حراساں کیا اور وہاں موجود تمام قیمتی اشیاء کو لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔

25 ستمبر
** ضلع کیچ کے علاقے رودبن میں پاکستانی فوج نے علی الصبح ساڑھے تین بچے ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے ولید ولد ولی محمد،عامر ولد جلیل،رشاد مجیب کو حراست بعد ساتھ لے گئے اور ایک گھنٹے بعد رودبن پل کے نیچے تینوں افراد کو گولیوں سے بھوند کر قتل کردیا،واضح رہے کہ تینوں افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور تینوں کزن تھے،ولید ولد ولی محمد ،عامر،ارشاد نے کچھ عرصے قبل سرنڈر کیا تھا،۔
**پاکستانی فوج نے ڈیرہ بگٹی، سبی میں چار بلوچ فرزندوں کو شہید کردیا، ڈیرہ بگٹی کے علاقے چھبدر میں پاکستانی فوج نے دو افراد کو شہید کر دیا جنکی شناخت، تنگو اور کلیری بگٹی سے ہوئے،جبکہ سبی کے علاقے کٹمنڈائی میں پاکستانی فوج نے دو بلوچ فرزندوں کی لاشیں پھینک دیں جنکی شناخت محمد خان اور جلا ل الدین سے ہوئے، اور انہی علاقوں میں دوران آپریشن بیس سے زائد افراد کو حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ کئی گھروں کو جلا دیا گیا،دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں بلوچ فرزندوں کے قتل کی ذمہ داری لیتے ہوئے بیس سے زائد افراد کے حراست کی بھی تصدیق کر دی ہے مگر کسی کے نام میڈیا میں سامنے نہیں لائے گئے۔

26 ستمبر
**بلوچستان کے ضلع پنجگور خدابادان کے پہاڑی علاقے جونژ کے مقام پہ نامعلوم شخص کے زمین میں گھاڑی ہوئی لاش کے ایک ہاتھ باہر نکلا تھا کھدائی کرکے دو لاشین نکالی گئیں جو ہڈیوں میں رہ گئی تھیں جنہیں سول اسپتال پنجگور منتقل کردیا جن کی شناخت نہ ہوسکی، جائے وقوع سے کلاشنکوف کے دو خول بھی برآمد ہوئے تھے۔

27 ستمبر
**ضلع کیچ کے علاقے سری کلگ گورکوپ سے نامعلوم مسلح افراد فضل ولد فیروز سکنہ سری کلگ کو اغوا کرلیا دو رز بعد بازیاب ہوگیا۔

28 ستمبر
**پاکستانی فوج نے مند کے علاقے گوک میں صالح محمد نامی شخص کے گھر پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں میں موجود تمام اشیا کو لوٹنے کے ساتھ بدو ولد صالح محمد کو حراست بعد لاپتہ کردیا۔

29 ستمبر
**تمپ کے علاقے نذر آباد اور ملک آباد میں کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا، مذکورہ علاقوں میں پاکستانی فوج نے گھروں میں لوٹ مار کے بعد شہید عاصم فقیر اور انور نامی شخص کے گھروں کو لوٹ مار کے ساتھ بلڈوز کر کے منہدم کردیا،جبکہ کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا،پاکستانی زمینی فوج کے ساتھ ٹریکٹر اور بلڈوز کے ساتھ کچھ نقاپ پوش لوگ بھی دیکھے گئے ہیں، جبکہ عاظم نامی شخص کے گھروں کو بلڈوز کے ذریعے منہدم کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
** مستونگ بازار میں پاکستانی فوج ،نے آٹوز،گیراج،سمیت بازار میں تمام دکانداروں کو دھمکیاں دی ہیں کہ محرم کے لیے تین دن تک وہ اپنی دکانیں بند کر لیں ،بصورت دیگر کسی نے بھی دکانیں کھولیں تو انھیں مار دینے کے ساتھ دکانوں میں موجود تمام اشیاء کو جلا دیا جائے گا۔
قلات پاکستانی فوج کا آپریشن جاری،درجنوں خواتین بچے لاپتہ
**قلات اور مستونگ کے درمیانی علاقوں گاجان،رومبک اور قابو میں پاکستانی زمینی و فضائی آپریشن جاری،مذکورہ علاقوں میں پاکستانی زمینی فوج نے درجنوں گھروں میں لوٹ مار کے بعد انکو نذر آتش کر نے کے ساتھ درجنوں افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔

30 ستمبر
** قلات سے پچیس کلومیٹر دور اسکلکو میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک خاتون مسماۃ م کو قتل کردیا۔ پولیس لاش کو تحویل میں یکر قلات ہسپتال پہنچا دیا جہاں ضروری کاروئی کے بعدورثاء کے حوالے کردیا جبکہ دوسرے واقع میں قلات سے ساٹھ کلومیٹر دور پندران میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے احمد جان نامی شخص کو قتل کردیا ہے۔ دونوں قتل کے وجوہات معلوم نہیں ہوسکے۔
***

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved