skip to main |
skip to sidebar
نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات
(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر
’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی
سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و
دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں
جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ
اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے
ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ
قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار
شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو
نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام
لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ
جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )
(گذشتہ سے پیوستہ)
( ساتویں قسط)
نیا پروگرام
ماہ ستمبر 1933ء میں شری سبھاش چندر بوس علاج کے لئے برلن پہنچ گئے۔ وہاں ہندوستانیوں کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے کہا-:
"سول نافرمانی کی تحریک فیل ہوگئی ہے۔ اس نے بیداری پیدا کرنے کے سوائے
کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اب ہندوستان کو نئے پروگرام کی ضرورت ہے۔"
جرمنی کی راجدھانی برلن کے بعد آپ روم (اٹلی) گئے۔ اور اٹلی سے سیدھے
سوئٹیزرلینڈ پہنچے۔ ان کی گزشتہ سرگرمیوں۔ تقریروں اور تحریروں سے یہ بات
واضح ہے۔ کہ جہاں ان کے دل ملیں دیش بھگتی اور حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ
کر بھرا ہوا تھا۔ وہاں وہ ہندوستان کو غیروں کے پنجہ غلامی سے نجات دلانے
کیلئے گاندھی جی کے طریق کار سے متفق نہ تھے۔ گاندھی جی ایک (FETISH) کے
طورپر عدم تشدد کے پجاری ہیں۔ لیکن شری سبھاش بوس عدم تشدد کو اصول نہیں
بلکہ محض ایک پالیسی خیال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہندوستان کی آزادی ہے۔ یہ
آزادی کس طرقیہ سے حاصل کی جائے۔ اس کے متعلق وہ کسی خاص اصول کے
پابندنہیں۔ اس کے برعکس گاندھی جی عدم تشدد کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ کہ
ان کے خیال میں کسی دوسرے طریق سے حاصل کردہ آزادی ان کے لئے کوئی وقعت
نہیں رکھتی۔ چنانچہ گاندھی جی اتنا آزادی پر زور نہیں دیتے۔ جتنا کہ طریق
کار پر۔۔۔ پس ان دونوں لیڈروں میں ایک نمایاں اور زبردست بنیادی اختلاف
پیدا ہوچکا تھا۔ اور جوں جوں وقت گزرتاگیا۔ ان دونوں کے درمیان اختلافات کی
خلیج زیادہ وسیع ہوتی گئی۔ اس اصولی اختلاف کے علاوہ یورپ کی یاترا نے
سبھاش بوس کو اس بات کا احساس بھی کرادیا۔ کہ کانگریس کو ایک بیرونی پالیسی
اخٹیار کرتے ہوئے غیر ممالک کی ہمدردی بھی حآصل کرنی چاہیے۔ لیکن گاندھی
جی اس خیال کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ماہ فروری 1934ء میں شری سبھاش بوس نے جنیوا سے ایک مضمون بھیجا۔ جو
ہندوستان کے تمام قومی اخبارات میں شائع ہوا۔ اس مضمون سے شری سبھاش بوس
اور گاندھی جی کے درمیان اختلافات نہایت آسانی سے سمجھ آشکتے ہیں لہٰذا اسے
حروف بحرف ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں-:
"برطانوی اخبارات میں کچھ ایسے بیانات شائع ہوئے ہیں۔ جن سے میرے سوشل اور
پولیٹیکل خیالات کے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ میں یہ بات
واضح کردنینا چاہتا ہوں۔ کہ جب سے میں یورپ میں آیا ہو۔ میرا یہ یقین پہئلے
کی نسبت زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ کہ ہمیں غیر ممالک کی موجودہ تحریکوں کا
غور سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور اس مطالعہ کی روشنی میں نیز ہندوستان کپی
آئندہ ضروریات کے مطابق اپنی ترقی کا پروگرام مرتب کرنا چاہیے۔ ہندوستان
صدیوں تک طبعی اور دماغی لحاظ سے دنیا کے دیگر ممالک سے علیحدہ رہا ہے۔ اس
دوران میں ہمیں جو تجربہ حاصل ہوا ہے۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھاکر دوسرے ممالک
اور ا قوام کی طرف ہمدردانہ لیکن تنقیدی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ
ہمارے لئے یہ صروری ہے۔ کہ ہم اپنی اندرونی اور بیرونی پالیسی میں اچھی طرح
تمیز کریں۔ لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے۔ کہ انڈین نیشنل کانگریس کی
بیرونی پالیسی میں بھی تک کوئی نشوونما نہیں ہوئی۔ اگر کسی قوم کے سوشل اور
پولیٹیکل خیالات ہمارے خیالات نہ ملتے ہوں۔تو بیرونی پالیسی کے میدان میں
ہمیں اس کے خلاف تعصب سے کام نہ لینا چاہیے۔ کیونکہ خیالات کے باوجود ہم
دوسری اقوام کی ہمدردی حاصل کرسکتے ہیں۔ بیرونی پالیسی میں یہ ایک عالمگیر
اور مخلصانہ اصول ہے اس اصول کی وجہ سے آج یورپ میں سوویت روس اور فاسسٹ
اٹلی میں نہ صرف معاہدہ ممکن ہے بلکہ ان ہر دو متضاد خیالات کے ممالک میں
معاہدہ طے بھی پاگیا ہے۔ اس لئے اگر دنیا کے کسی ملک کی طرف سے ہندوستان کے
لئے ہمدردی کا اظحار ہو۔ تو ہمیں تہ دل سے اس کا جواب دینا چاہیے۔ اندرونی
پالیس کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ہندوستان کو کمیونزم اور فاسزم میں
سے ایک اختیار کرنا چاہیے۔ سخت غلطی ہے۔ سوشل اور پولیٹیکل معاملات میں
کوئی نقطہ نگاہ یا تھیوری آخری نہیں ہوسکتی۔ سوشل اور پولیٹیکل تھیوریاں
مختلف اقوام کی ضروریات کا نتیجہ ہیں۔ جس طرح انسانی زندگی میں تبدیلی اور
ترقی ہوتی رہتی ہے۔ عین اسی طرح ان میں بھی ترقی اور تبدیلی ہوسکتی ہے۔ ان
کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے۔ کہ موجودہ زمانے کی بہت سی
دلچسپ انسٹی ٹیوشنیں ابھی محض تجربے میں۔ میرا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ
ہندوستان کو موجودہ زمانے کی تحریوں سے اچھی اور فائدہ مند باتیں لے کر ان
کا ایک مجوعہ تیار کرنا چاہیے۔ اس مقصد کی تکمیل کیلئے ہمیں ان تمام تجربات
کا جو یورپ اور امریکہ میں کئے جارہے ہیں۔ ہمدردانہ تنقید سے مطالعہ کرنا
پڑے گا۔ اگر ہم تعصب کی وجہ سے کسی تحریک یا تجربہ کا مطالعہ نظر انداز
کردیں تو یہ ہماری بھاری بیوقوفی ہوگی۔۔۔ میں ہندوستان کی آئندہ تحریک
کیلئے جو باتیں ضروری سمجھتا ہوں۔ ان کی وضاحت کردینا چاہتا ہوں۔
اول ہندوستان کی اندرونی ازسرنو تعمیر اور بیرونی حملوں سے حفاظت کیلئے یہ
ضروری ہے۔ کہ ہندوستان کو ایک مرکزی گورنمنٹ کے ماتحت مضبوط کیا جائے۔
دوہم-:قومی حکومت کے قیام کے لئے یہ ضروری ہے۔ کہ ایک زبردست اور منضبط
سیاسی پارٹی عوام کے مفاد کی حامی ہونی چاہیے۔ اور کسی خاص مفاد سے اس کا
کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
سوئم-:پارٹی کا مقصد ہندوستان کے تمام طبقوں سے انصاف کرنا اور انہیں ہر
قسم کی پولیٹیکل۔ مجلسی اور اقتصادی غلامی سے نجات دلانا ہونا چاہیے۔ اور
اسے مذہب نسل۔ ذات۔ دولت اور جنس کی تمام بناوٹی رکاوٹوں کو دور کرنے کی
کوشش کرنی چاہیے۔ گویا دوسرے الفاظ میں پارٹی کو ح۔۔۔یقی جمہوری حکومت کے
قیام کی کوشش کرنی چاہیے۔ جس میں تمام لوگوں کو مساوی اختیارتاق حاصل ہوں۔
اور اقلیتوں کا کوئی سوال نہ ہو۔
اس پارٹی کے سامنے فوری پروگرام یہ ہونا چاہیے۔ کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس
کو ہندوستان کے عوام کے آرگن میں تبدیل کردے۔ تجربہ نے ہمیں بتایا ہے۔ کہ
جب تک کانگریس کی ساخت میں تبدیلی نہ کی جائے گی۔ اس سے کوئی سرگرم پروگرام
اختیار کرنے کی توقع فضول ہے۔ مجھے کمیونسٹوں کے اس خٌال سے اختلاف ہے کہ
کانگریس بڑے بڑے سرمایہ دار شہریوں کی ایک جماعت ہے۔ اور اس میں کسی کی
تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ مجھے وشواس ہے۔ کہ کانگریس میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور
کہ اسے صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت بنای اجاسکتا ہے۔ لیکن
کانگریس کی ساخت میں تبدیلی کرنے کیلئے ہمیں تین ریڈیکل گروپوں۔۔۔ نوجوانوں
کسانوں اور مزدوروں کو اس میں شامل کرنا پڑے گا۔ اور انہیں کافی نمائندگی
دینی پڑے گی۔ یہ صرف اس حالت میں ہی ہوسکتا ہے۔ جب کانگریس کی موجودہ
کانسٹی ٹیوشن کو جوانگریزی طرز کی ہے۔ تبدیل کردیا جائے۔ اس لئے فوری ضرورت
اس بات کی ہے۔ کہ تمام ملک میں ایک نئی پارٹی کی شاخیں قائم کرکے کانگریس
کانسٹی ٹیوشن میں تبدیلی کی ایجی ٹیشن کی جائے۔ صرف اسی صورت میں کانگریس
نیا پروگرام اختیار کرنے پر مجبور کی جاسکتی ہے۔۔۔"
اس مضمون سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ کہ گاندھی جی اور شری سبھاش بوس کے
درمیان ایسے شدید اختلافات تھے۔ جنہیں بنیادی اختلافات قرار دیا جاسکتا ہے۔
ماہ اکتوبر 1934ء میں لندن کے ایک ماہوار رسالہ میں شری سبھاش کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ جس میں درج ہے-:
"گزشتہ ماہ نومبر 1933ء میں جائینٹ سلیکیٹ کمیٹی کے روبرو شہادت دیتے ہوئے
مسٹر جے۔ سی فرنچ سابق آئی۔ سی۔ ایس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ کہ
بنگال میں دہشت پسند تحریک کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے۔ کہ اس صوبہ
میں موجودہ آفیشل پالیسی یعنی سخت گیری کو جاری رکھا جائے۔ اور اسے
اصلاحات نہ دی جائیں۔ انہوں نے منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی کہا۔ کہ جنگ
عظٌم کے بعد اور پھر 1927-28ء میں جب بنگال میں سیاسی قیدیوں کومعافی دی
گئی۔ تو انقلابی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملی۔ اس شہادت کے خلاف میں پوری
ذمہ داری سے مندرجہ ذیل باتیں کہنا چاہتا ہوں-:
اول-:
کبھی فیاضانہ معافی نہیں دی گئی۔
دوئم-:
انقلابی تحریک کی بنیادی وجوہ کو معلوم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔
سوئم-:
ان اشخاص کے جن پر انقلابی رجحان رکھنے کا شبہ ہے۔ نمائندوں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ پر پہنچنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔۔۔
چنانچہ میں ذاتی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں۔ کہ جب کبھی گورنمنٹ نے معافی
کی تجویز کی۔ تو بنگال پولیس کی پولیٹیکل برانچ نے اس کی مخالفت کی۔ 1927ء
میں میری حالت میں بھی ایسا ہوا۔ بنگال پولیس کی پولیٹیکل برانچ نے آخری
دن تک میری رہائی کی مخالفت کی۔ اور اگر گورنر بنگال مداخلت نہ کرتے۔ تو
میں کبھی بنگال آرڈیننس کی زد سے نہ بچ سکتا۔ نیز بنگال میں سیاسی قیدیوں
کا یہ عام تجربہ ہے کہ ان کی رہائی سے پہلے اور بعد میں انہیں سخت پریشان
کیا جات اہے۔ رہائی سے پیشتر پولیس افسران کے پاس جاتے ہیں۔ اور یہ جاننے
کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ کیا قیدی کی ذہنیت میں ایسی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ کہ
اسے رہا کیا جاسکے۔ اور رہائی کے بعد سی۔آئی۔ ڈی کی طرف سے انہیں اس قدر
تنگ کیا جاتا ہے۔ کہ توبہ ہی بھلی۔۔۔ سی۔ آئی۔ ڈی کے آدمی سایہ کی طرح ان
کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ کہ کسی سیاسی قیدی پر
معافی کا خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی
نہ ہوگا۔ کہ جب ایک ذمہ دار میڈیکل مین نے انقلابی تحریک کی سائنٹیفک
تحقیقات کی تجویز کی تھی۔ تو گورنمنٹ نے اسے ٹھکرادیا تا۔ نیز یہ ایک
امرواقع ہے۔ کہ اگرچہ ہندوستان میں سیاسی تحریک کے لیڈرؤں کے ساتھ سمجھوتہ
پر پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن انقلابی پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ سمجھوتہ
پر پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اگر سیاسی تحریک کے لیڈر سمجھوتہ کی
بات چیت میں انقلابی پارٹی کی نمائندگی کرنے کا ذمہ بھی لے لیتے۔ تو پھر
گورنمنٹ کو انقلابی تحریک کے لیڈرؤں سے بات چیت کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ مگر
چونکہ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس لئے گورنمنٹ کو انقلابی پارٹی کے ساتھ
علیحدہ سمجھوتے کی ضرورت کا احساس کرنا چاہیے تھا۔
جب سرسٹینلے جیکسن بنگال کے گورنر تھے۔ تو انہوں ین سورگیہ مسٹر جے۔ ایم
سین گپتا کی وساطت سے اس قسم کے ایک سمجھوتہ کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ کوشش
ناکام رہی۔ کیونکہ متعلقہ سیاسی قیدی چاہتے تھے۔ کہ بات چیت براہ ان کے اور
گورنمنٹ کے درمیان ہو۔ نہ کہ پولیس افسروں کے ذریعے۔ مگر گورنمنٹ اس پر
رضا مند نہ ہوئی۔ اور اس گفت و شنید کا قبل ازوقت خاتمہ ہوگیا۔"
شری سبھاش بوس کے اس مضمون سے دہشت پسند تحریک کے متعلق گاندھی جی اور ان
کے درمیان اختلافات واضح ہوگئے ہیں۔ گاندھی جی محض اس تحریک کی مذمت کرنا
ہی اپنا فرض اولین اور آخری سمجھتے ہیں۔ ان کی تحریروں اور تقریروں سے صاف
ظاہر ہے۔ کہ وہ اس تحریک کو جڑ سے اکھاڑنا ایک مقدس فرض سمجھتے تھے۔ اس کے
برعکس شری سبھاش بوس کا مطالبہ تھا۔ کہ اس تحریک کی سیاسی وجوہ دریافت کی
جائیں۔ اور ہندوستان کی دیگر جماعتوں کی طرح اس تحریک کے لیڈروں سے بھی
تصفیہ کی کوشش کی جائے۔
لیکن گورنمنٹ نے شری سبھاش بوس کی تجویز پر عمل نہ کیا۔ اگر گورنمنٹ اس
معقول تجویز کو منظور کرلیتی تو جہاں ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں بچ جائیں۔
وہاں سینکڑوں انگریز انقلا پسندوں کی گولیوں کا نشانہ نہ بنتے۔ برطانوی
گورنمنٹ آئر لینڈ کے انقلاب پسندوں سے سمجھوتہ کرکے اس ضمن میں مثال قائم
کرچکی تھی۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوت اہے۔ کہ پھر اس پالیسی پر ہندوستان میں
کیوں عمل نہ کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ یہ تھی۔ کہ جہاں آئرلینڈ میں حکومت
برطانیہ کو انقلاب پسندوں کو کچلنے کیلئے کسی اہم سیاسی پارٹی کی حمایت
حاصل نہ تھی۔ وہاں ہندوستان کے انقلاب پسندوں کو ختم کرنے کیلئے اسے گاندھی
جی کی آشیرداد حاصل تھی۔۔۔"
ہندوستان میں آمد اور پھر واپسی
ان دنوں شری سبھاش بوس کے پتا سخت بیمار ہوگئے۔ انہوں نے بستر مرگ پر پڑے
یہ خواہش ظاہر کی۔ کہ وہ پرلوک سدھارنے سے پہلے اپنے پتر کے درشن کرنا
چاہتے ہین۔ انچنہ 27نومبر 1934ء کو سبھاش جی کی ماتا نے وی آنا کے پتے پر
ایک ضروری بحری تار ارسال کیا۔ جس میں درج تھا-:
"تمہارے پتاکی حالت تشویشناک ہے۔ فوراً پہلے ہوائی جہاز کے ذریعے گھرآؤ-"
شری سبھاش بوس کی ماتا نے بنگال گورنمنٹ کو بھی درخواست دی کہ یورپ میں
متعلقہ حکام کو یہ ہدایت کی جائے۔ کہ شری سبھاش بوس کو پاسپورٹ دے دیں۔
لیکن برطانوی گورنمنٹ نے انہیں ہندوستان واپسی کے لئے پاسپورٹ دینے سے
انکار کردیا اس پر آپ نے اسٹرین گورنمنٹ کو اپنے پتاکی بیماری کے تشویشناک
حالات بیان کرتے ہوئے پاسپورٹ کی درخواست کی۔ اور آشٹرین گورنمنٹ نے آپ کو
پردانہ راہ داری دے دیا۔ اسی روز شری سبھاش برطانوی گورنمنٹ کی اجازت لئے
بغیر ہندوستران روانہ ہوپڑے۔ اور 3دسمبر شام کے 8بجے بذریعہ ڈچ ہوائی جہاز
کراچی پہنچ گئے۔ ہوائی جہاز سے اترتے ہی آپ نے اپنے پتاکی حالت کے متعلق
دریافت گیا۔
جب آپ کو بتایا گیا۔ کہ وہ سورگباش ہوچکے ہیں۔ تو آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل
گئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندہ سے ملاقات کے دوران آپ نے کہا۔
"آپ سمجھ سکتے ہیں۔ کہ اس وقت میرے جذبات کیا ہیں گورنمنٹ برطانیہ نے مجھے
بروقت پاسپورٹ نہ دے کر میرے اور میرے مرحوم پتاکے ساتھ شدید بے انصافی کی
ہے۔ اگر میں بروقت ہندوستان پہنچ کر اپنے پتاکے آخری درشن کرلیتا۔ تو اس
میں گورنمنٹ کو کیا نقصان پہنچا۔۔۔"
بعدازاں محکمہ محصولات کے افسران نے آپ کے سامان کیا چھی طرح تلاشی لی۔ اور
ان کی نئی کتاب "ہندوستانہ کی جدوجہد" کی ٹائپ شدہ کاپیوں پر قبضہ کرلیا۔
پاس ہی سی۔ آئی۔ ڈی کے افسر چپ چاپ کھڑے رہے۔ اگلے روز آپ کلکتہ پہنچ گئے
ہوائی جہاز کی آمد سے بہت پہلے اخبارات کے نمائندے اور شری سبھاش کے رشتہ
دار ہوائی اڈے پر استقبال کے لئے موجود تھے۔ دو بجے بعد دوپہر حکام بالا کے
حکم سے پولیس کو ہوائی اڈے میں تعینات کردیا گیا۔ اور اس کے بعد پرائیویٹ
کاروں یا دیگر اشخاص کو میدان میں داخل ہونے کی اجیازت نہ دی گئی۔ صرف
اخبارات کے چند نمائندے میدان میں جاسکے۔ جب جہاز کے پہنچنے کا وقت قریب
آیا۔ تو اخبارات کے چند نمائندوں کپے سوائے تمام لوگوں کو میدان سے نکال
دیا گیا۔ شری سبھاش کے رشتہ داروں کو بھی جنہیں پہلے اجازت دیدی گئی تھی۔
ٹھہرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ ساڑھے تین بجے شری بوس کے دوستوں اور مداحوں کی
بھاری تعداد موٹروں اور بسوں میں ہوائی اڈے پر پہنچ گئی۔ اور ان کی آمد کا
انتظار کرنے لگی۔ پورے ساڑھے چار بجے ہوائی جہاز دکھائی دینا شروع ہوا۔
اور چند منٹ میں زمین پر اتر آیا۔ جونہی جہاز پہنچا۔ پولیس افسر دروازے پر
پہنچ گئے۔ شری سبھاش بوس سے ایک امتناعی حکم کی تعمیل کرائی گئی۔ اور اس کے
بعد دومٹریں بلائی گئیں۔ ایک میں شری سبھاش بوس اور دوسری میں ان کے اسباب
کو ان کے مکان پر بھیجا گیا۔ آپ کے ساتھ پولیس افسر بھی کار میں سوار
ہوئے۔ جب یہ کاریں روانہ ہوئیں۔ تو درشن بھلاشیوں کے ایک بے پناہ ہجوم "شری
سبھاش بوس زندہ باد" اور بندے ماترم کے نعرے لگائے۔ آپ کی کار کے پیچھے
تمام پرائیویٹ کاروں اور موٹرو ں کو جانے کی ممانعت کردی گئی۔ جب آپ اپنی
ماں۔ بھائیوں ا ور بہنوں سے ملے۔ تو ایک نہایت رقت انگیز نظاہرہ دیکھنے میں
آیا۔ جونہی ماتا کے گلے ملے۔ انتہائی رنج کے باعث بات نہ کرسکے۔ ان کے دکھ
میں مایویس مزید دکھ پیدا کررہی تھی۔ ہوائی جہاز کے ذریعے ہندوستان واپس
آنے کے باوجود آپ اپنے پتاکے انتم درشن نہ کرسکے۔ گورنمنٹ کی طرف سے آپ پر
جس نوٹس کی تعمیل کرائی گئی۔ اس مضحکہ خیز اور عجیب و غریب امتناعی حکم کی
نقل ذیل میں دی جاتی ہے۔
(1)فوراً ایلگن روڈ پہنچو۔ اور اس وقت تک وہاں رہو۔ جب تک مزید حکم نہیں دیا جاتا۔
(2)اس مکان سے غیر حاضر رہنے یا کسی بھی وقت وزیٹروں سے ملاقات کرنے سے احتراز کو۔
(3)جورشتہ دار مکان نمبر 2138ایلگن روڈ میں رہتے ہیں۔ ان کے سوا کسی شخص سے
خط و کتاب نہ کرو۔ نہ ہی کسی اور رشتہ دار سے بات چیت کرو۔ (4)تمام کتابیں
اور خط و کتابت بغیر کھولے ڈپٹی کمشنر پولیس اسپیشل برانچ کلکتہ کے حؤالے
کرو۔ یہ خط و کتابت چاہے براہ راست آپ کو ملے۔ یا آپ کے کسی نوکر کے کسی
ایجنٹ کے یا کسی اور پتے پر ہو۔ متعلقہ پولیس افسر کے حؤالے کرنی ضروری ہے۔
(5)جس وقت ڈپٹی کمشنر اسپیشل برانچ یا مجسٹریٹ ضروری خیال کریں۔ ان کو اپنے مکان کے اندر آنے کی سہولیات مہیا کریں۔
(6) اگر آپ نے دانستہ طورپر متذکرہ بالا ہدایات میں سے کسی کی تعمیل نہ کی۔ تو آپ کو سات سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔"
اس امتناعی حکم سے ہندوستان کی دفتری حکومت کی قابل نفرت ذہنیت کا اندازہ
لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کے بے تاج بادشاہ اور دنیا کے ایک
معزز ترین سیاستدان سے اس قسم کا ذات آمیز سلوک صرف ہندوستان کی دفتر سی
حکومت کے دماغ میں ہی آسکتا ہے۔ ایک تو گورنمنٹ ہند نے انہیں بروقت پاسپورٹ
نہ دے کر انہیں اپنے پتاکے آخری درشنوں سے محروم رکھ کر ان کے دل کو مجروح
کیا۔ اور دوسری طرف ہندوستان واپس آنے پر اس قسم کا امتناعی نوٹس دے کر
زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ ہندوستانی لیڈروں سے اس قسم کی بدسلوکیاں ہمیشہ ملک
میں اسنتوش پیدا کرنے کا کارن بنتی رہی ہیں۔ لیکن گورنمنٹ کو اس قسم کی
ناجائز حرکتوں کے لئے آمادہ کرنے والے سی آئی ڈی کے احمق افسروں کو اس بات
کا مطلقق احساس نہیں ہوتا۔
اس امتناعی حکم سے ظاہر تھا۔ کہ گورنمنٹ شری سبھاش بوس کو اپنی جنم بھومی
میں زیادہ دیر ٹھہرنے کی اجازت نہ دیگی۔ ہمارے غیر ملکی حکمرانوں کی نگاہ
میں شری سبھاش بوس ایک نہایت خطرناک آدمی ہیں۔ اس لئے حکومت انہیں بنگال
میں رہنے کی اجازت نہ دینا چاہتی تھی۔ چنانچہ گورنمنٹ نے ان کے نام ایک اور
نوٹس بھیجا۔ جس میں درج تھا۔ کہ انہیں ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ کے لئے
ہندوستان میں رہنے کی اجازت نہ دے دی جائے گی۔
شری سبھاش نے اس ذات آمیز نوٹس کو پائے حقارت سے ٹھکراکر روی کی ٹوکری میں
پھینک دیا۔ اور گورنمنٹ کو جواب دیا۔ "میں اپنے پتاکے شرادھ تک ضرور
ہندوستانمیں ٹھہروں گا۔ اگر گورنمنٹ کو یہ پسند نہ ہو۔ تو وہ مجھے گرفتار
کرسکتی ہے۔" آپ کے اس جواب سے حکومت کا دماغ ٹھکانے آگیا۔ وہ ایسے حالات
میں انہیں گرفتار کرکے ہندوستانیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی جرأت نہ
کرسکتی تھی۔
یکم جنوری کو آپط کے پتاکا شراودھ تھا۔ اس دن پبلک کو یورپ سے واپسی کے بعد
پہلی بار اپنے محبوب لیڈر کے درشن کرنے کا موقع ملا۔ کانگریسی لیڈر اور
کلکتہ کے دیگر سرکردہ اصحاب کی بھاری تعداد ان کے مکان پر جمع ہوگئی۔ لیکن
گورنمنٹ کے حکم کے مطابق آپ اپنے دوستوں سے بات چیت نہ کرسکتے تھے۔ اس لئے
آپ نے سب کونمسکار کیا۔ اور چپ سادھے رکھی۔ جب ان کے پاس بیٹڑھے ہوئے بھی
ان سے بات چیت نہ کرسکے۔ تو نامعلوم ان کے اورشری سبھاش بوس کے دلی جذبات
کیا ہوں گے۔ لیکن یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے۔ کہ اس قسم کی جبری
زبان بندی حاضرین کے دلوں میں ایک غائبانہ پیغام پہنچادیتی ہے۔
اس اثناء میں آپ کا ایکسرے ہوچکا تھا۔ اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ گورنمنٹ کو
پہنچ چکی تھی۔ اس بورڈ نے سفارش کی۔ کہ ابھی سبھاش بوس کی صحت پورے طورپر
درست نہیں ہوئی۔ لہٰذا انہیں بجائے صحت کے لئے دوبارہ یورپ جانے کی اجازت
دی جائے۔ چنانچہ 8جنوری 1938ء کو ہندوستان میں پورے ایک ماہ پانچ دن کے
قلیل قیام کے بعد آپ پھر یورپ جانے کے لئے پولیس کے پہرے میں کلکتہ سے
بمبئی روانہ ہوئے۔ ہوڑہ ریلوے اسٹیشن پر ان کے ہزاروں دوست اور مداح انہیں
الوداع کہنے کیلئے موجود تھے۔ لیکن انہیں کسی شخص سے بات چیت کرنے کی اجازت
نہ تھی۔ اس لئے انہوں نے خاموشی سے لوگوں کی نیک خواہشات کا جواب دیا۔ اور
گاڑی اس تارک الوطن دیش بھگت کو اپنے ساتھ لے کر بندے ماترم کے پرزور
نعروں کے درمیان روانہ ہوگئی۔
10جنوری کو 7بجکر 50منٹ پر شری سبھاش چندر بوس ناگپور میں سے بمبئی پہنچنے
ٹرین کی آمد سے بہت دیر پہلے کانگریسیوں اور غیر کانگریسیوں کا ایک بھاری
ہجوم پلیٹ فارم پر موجود تھا۔ بنگال سی آئی ڈی کے دو افسر شری سبھاش بوس کے
ساتھ گاڑی سے اترے۔ بمبئی پروانشل کانگریس کے نمائندوں نے اپنے محبوب لیڈر
کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے۔ مسٹر ناریمان کے دریافت کرنے پر سی آئی ڈی
افسروں نے کہا کہ انہیں شری سبھاش بوس سے گفتگو کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔
لہٰذا روانگی سے پہلے چند گھنٹأ آپ نے اپنے دوستوں اور اخبار نویسوں کے
ساتھ گزارے۔ اور اسی روز دوپہر کے وقت ساحل سے روانہ ہونے سے پہلے آپ نے
ہندوستانیوں کو مندرجہ ذیل پیغا، دیا۔
"میں جنم سے آشا وادی ہوں۔ باوجود اس امر کے کہ ملک کی تحریک آزادی ایک قدم
پیچھے ہٹ گئی ہے۔ آخر کار فتح ہماری ہوگی۔ میں ان دیش بھگتوں کو خراج
تحسین ادا کرتا ہوں۔ جنہوں نے اپنے دیش کے لئے مصائب برداشت کئے یا اب بھی
کررہے ہیں۔"
اس بات میں شری سبھاش بوس کی ایک کتاب "ہندوستان کی جدوجہد" کا بار بار ذکر
آیا ہے۔ یہ کتاب لندن میں شائع ہوئی تھی۔ اسے شری سبھاش کے سپاہی تجربات
کا نچوڑ کہنا غیر موزوں نہ ہوگا۔ چنانچہ ان کے پولیٹیکل فلسفہ کو سمجھنے
کیلئے ہر ہندوستانی کے لئے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس میں گاندھی جی کی
ناکامی کی وجوہات اور جواہر لال کے ساتھ شری سبھاش بوس کے اختلافات تفصیل
کے ساتھ درج ہیں۔ ذیل میں اس کتاب کے چند ضروری اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔
تاکہ ہندوستانی نوجوانوں کو اپنے محبوب لیڈر کا سیسی فلسفہ سمجھنے میں
آسانی ہوجائے۔ کتاب کے شروع میں 1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے
بعد ہندوستان کی تحریک آزادی کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ لیکن
زیادہ بحث 1920ء اور 1934ء کے درمیانی عرصہ پر کی گئی ہے۔ کیونکہ اس دور کی
تحریکوں کے ساتھ ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔ گاندھی جی کی ناکامی کی وجوہات
بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں-:
"کسی لیڈر کی کامیابی کا راز اس کے حامیوں کی تعداد کی زیادتی پر نہیں۔
بلکہ ان کے کریکٹر پر ہوتا ہے۔ کئی لیڈر تھوڑ تھوڑے آدمیوں کی مدد سے اپنے
ملک کو آزاد کراچکے ہیں۔ لیکن گاندھی جی اپنے حامیوں کی بھاری تعداد کے
باوجود ہندوستان کو آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ۂوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
گاندھی جی نے اپنے مخالفوں کے کریکٹر کو نہیں سمجھا۔ گاندھی جی کی منطق
کبھی بھی انگریزوں کو اپیل نہیں کرسکتی۔ کسی بھی سیاسی لڑائی میں کامیابی
کے لئے ڈپلوملیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کبھی کامیابی نہیں
ہوسکتی۔ اس کے علاوہ گاندھی جی نے بین الاقوامی پراپیگنڈا کو ب ھی کبھی
استعمال نہیں کیا۔ اگر ہم عدم تشدد کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کے خواہشمند
ہیں۔ تو اس کے لئے ڈپلومیسی اور غیر ممالک میں پراپیگنڈا کی اشد ضرورت ہے۔
مہاتماجی کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کہ انہوں نے ایسے مختلف مفاد کو
جو قدرتی طورپر ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی۔ لیکن
یہ بات بجائے طاقت کے، کمزوری کا باعث بنی۔ ہندوستان کا مستقبل ان لیڈروں
اور طاقتوں پر منحصر ہے۔ جو ہندوستان کی آزادی کے لئے تیار ہونگے"۔
گاندھی جی کے مستقبل کے متعلق آپ لکھتے ہیں-:
"میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ کہ گاندھی جی دوسرے درجے پر رہنا گوارا
نہین کرتے۔ جب تک ان کیلئے سیاسی تحریک کی رہنمائی کرناممکن ہوگا وہ
کانگریس کے لیڈر رہیں گے۔ اور اس وقت تک وہ کسی دوسرے کو آگے بڑھنے نہیں
دیں گے۔ لیکن اگر کانگریس کی ترتیب یا ذہنیت میں فرق آگیا۔ توعین ممکن ہے۔
وہ کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ ان کی عارضی علیحدگی فوجی پسپائی کے
برابر ہے۔ اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ موقع پیدا ہونے پر وہ
پھر میدان میں آجائیں گے۔ مہاتما جی کی مستقل علیحدگی برطانوی گورنمنٹ کے
رویہ پر انحصار رکھتی ہے۔"
کانگریس کی آئندہ پارٹیوں کے متعلق شری سبھاش چندر بوس لکھتے ہیں۔
"میں اس مرحلہ پر ایک قطعی پیشگوئی کرتا ہوں۔ کہ آئندہ کانگریس کی مختلف
پارٹیاں اقتصادی بناؤں پر قائم ہونگی۔ اور عین ممکن ہے کہ کسی وقت کانگریس
کا انتہا پسند طبقہ کانگریس کی مشینری پر قابض ہوجائے۔ اس وقت کانگریس کے
اعتدال پسند طبقہ کے ممبر کانگریس سے الگ ہوکر آج کل کی لبرل فیڈریشن جیسی
کوئی علیحدہ جماعت بنالیں گے۔ جب تک اقتصادی بناء پر انجمنیں ق ائم نہیں
ہونگی۔ گاندھی جی کی سیاسی برنزی قائم رہے گی۔ جونہی ایک دفعہ ایسی انجمنیں
قائم ہوگئیں۔ گاندھی جی کی لیڈری ایک کاغزی قلعے کی طرح دھڑام سے ختم
ہوجائے گی۔ اس وقت گاندھی جی متضاد و طبقوں مثلاً زمیدناروں اور کسانوں،
سرمایہ داروں اور مزدوروں، غریبوں اور امیروں کو یکجا رکھنے کی کوشش کررہے
ہیں۔ انچنہ عارضی طورپر یہ بات ان کی کامیابی کا راز رہے گی۔ لیکن حالات کے
بدلنے پر یہی بات ان کی ناکامی کا باعث ہوگی۔ اگر تمام متضاد مفاد آزادی
حاصل کرنے کا تہیہ کرلیں۔ تو اندرونی مجلس جدوجہد ایک طویل عرصہ کے لئے
ملتوی ہوسکتی ہے۔ اور ہندوستان کی پبلک زندگی پر گاندھی جی جیسے لیڈر کا
اقتدار قائم رہ سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔ خاص مفاد آئندہ ہندوستان
کی جنگ آزادی میں ساتھ نہیں دینگے۔ اور آہستہ آہستہ برطانوی گورنمنٹ کی طرف
جھک جائینگے۔ تاریخ کی منطق ضرور اپنا ناگزیر راستہ اختیار کرے گی۔ سیسای
اور مجلسی جدوجہد کا ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے۔ لہٰذا ہندوستنا کیلئے ساسی
آزادی حاصل کرنے والی پارٹی ہی عوام کی مجلسی اور اقتصادی آزادی حاصل کرے
گی۔ گاندھی جی ملک کی غیر معمولی سیوا کرتے رہینگے۔ لیکن ان کی لیڈری کے
ماتحت ہندوستان نجات حاصل نہیں کرسکے گا۔"
"ہندوستان کو نجات کیسے حاصل ہوگی" کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں۔
"ہندوستان میں ا یک نئی پارٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشلسٹ پاٹی بھی اپنی موجودہ شکل میں ترقی نہیں کرسکتی۔"
کمیونزم کے متعلق آپ لکھتے ہیں۔
ہندوستان مکمل طورپ راس تھیوری کو ہرگز نہیں اپنائے گا۔ اس میں جو اچھی
باتیں ہیں۔ ان پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔ لیکن روس سے یہ امیدیں باندھنا کہ
وہ ہندوستان کو آزاد کرائے گا۔ بے وقوفی ہے۔"
فاسزم کے متعلق پنڈت جواہر لال کے خیالات سے اختلاف رکھتے ہوئے شری سبھاش بوس لکھتے ہیں-:
"کمیوزنم اور فاسزم میں اختلاف کے باوجد ان تھیوریوں میں کچھ ایسی چیزں
ہیں۔ جن میں دونوں کا اتفاق ہے۔ دونوں انفرادیت پر سٹیٹ کی برتری میں یقین
رکھتے ہیں۔ دونوں زبرتدست پارٹی ڈکٹیٹر شپ اور مخالفوں کو دبانے کے حق میں
ہیں۔ دونوں صنعتوں کی ازسرنوتنظیم کے حق میں ہیں۔ اس لئے مجھے یقین ہے۔ کہ
ہم ان دوتھیوریوں کے اچھے پہلو لے کرہندوستان کی ضروریات کے لئے ایک
پولیٹیکل فلسفہ تیار کرسکتے ہیں۔ مجیھے یقین ہے۔ کہ یہ نیا فلسفہ ہندوستان
کی مشکلوں کو بہت حد تک حل کردیگا۔ اور ممکن ہے اس سے ہندوستان میں ایک
ایسا لیڈر پیدا ہوجائے جو ہٹلر اور سٹالین کا مجموعہ ہو۔"
ہندوستان میں مختصر قیام کے بعد یورپ کو واپسی پر شری سبھاش بوس نے اپنے
سفر کے واقعات ایک مضمون میں سپرد قلم کئے تھے۔ چونکہ اس میں مصر کے سابق
وزیراعظم مسٹر نہاس پاشا سے ان کی ملاقات کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مضمون کو
ذیل میں دیا جاتا ہے-:
"میں 15جنوری 1935ء کو بمبئی کے ساحل سے یورپ روانہ ہوا۔ بنگال چھوڑنے پر
نظر بندی کاحکم خودبخود منسوخ ہوگیا۔ لیکن پولیس والے ترب تک واپس نہ گئے۔
جب تک میں بندرگاہ سے جہاز پر سوار ہوکر روانہ نہ ہوگیا۔ ہمارا جہاز
16جنوری کی شام کو نہر سوئیز میں داخل ہوا۔ ہم کشتی پر سوار ہوکر قاہرہ
پہنچے۔ اور رات وہاں گزاری۔ دوسرے دن قاہرہ کی سیر کی۔ قاہرہ میں سب سے اہم
واقعہ سابق وزیر اعظم مصر مسٹر نہاس پاشا سے میری ملاقات تھی۔ انہوں نے
بڑے شوق سے مہاتما گاندھی کی صحت اور ہندوستان کی تحڑیک آزادی کے متعلق
سوالات دریافت کئے۔ بعدازاں انہو ں نے ہندوستانی فرقہ پرستوں کی کوتاہ
اندیش پالیسی کی مذمت کی اور کہا کہ یہ لوگ اپنے ملک کے مفاد کو بھاری ضرب
لگارہے ہیں۔ میں نے انہیں ہندوستانی قوم پرستوں کی طرف سے یقین دلایا۔ کہ
ہم مصر کی وفد پارتی کی سرگرمیوں کا نہایت شوق سے مطالعہ کرتے ہیں۔ اور
مجصر کی تحریک آزادی کے ساتھ ہمیں گہری ہمدردی ہے۔ آپ نے جواب میں تمام
ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعدازاں ہم جہاز میں سوار ہوکر اٹلی پہنچے۔
وہاں میری کتاب "ہندوستان کی جدوجہد"کانہایت شاندار خیرمقدم کیا گیا تھا۔
کئی اطالوی سیاستدانوں نے مجھے بتایا کہ وہ یہ کتاب پڑھ کر ہندوستان کے
صحیح حالات سے واقف ہوگئے ہیں۔ اٹلی سے میں سیدھا وی۔ آنا پہنچا۔ جہاز پر
میری صحت سدھرنی شروع ہوگئی تھی۔ یہاں آکر میری حالت اور بھی اچھی ہوگئی
ہے۔ لیکن ڈاکٹروں نے احتیاط کے طورمکمل آرامل کا مشورہ دیا ہے۔"
ڈی ولیرا سے ملاقات
24اپریل 1935ء کو وی آنا کے ایک اسپتال میں شری سبھاش چندر بوس کا آپریشن
ہوا۔ جو نہایت کامیاب رہا۔ ڈاکٹروں نے ان کے پیٹ کا خراب حصہ کاٹ دیا۔ اور
اندر سے ایک پتھر نکالای۔ جب آپ آپریشن کے بعد آسٹریا کے ایک سینی ٹوریم
میں آرام کررہے تھے تو انہیں ڈی ولیرا کی طرف سے آئرلینڈ آنے کی دعوت لی۔
آپ نے یہ دعوت قبول کرلی لیکن آپریشن کے بعد آپ اس قدر کمزور ہوگئے تھے۔ کہ
کئی ماہ تک آئرلینڈ نہ جاسکے۔ ان دنوں پنڈت جواہر لال جی نہرو کی دھرم
پتنی شریمتی کملا نہرو بھی علاج کیلئے یورپ تشریف لے گئیں۔ جب ان کی حالت
نازک ہوگئی۔ تو حکومت ہند نے پنڈت جی کو جیل سے رہا کرکے انہیں اپنی بیمار
دھرم پتنی کے علاج کیلئے یورپ جانے کی اجازت دے دی۔
ماہ اکتوبر میں شری سبھاش بوس بھی کملا جی کی بیمار پرسی کیلئے گئے۔ وہاں
پنڈت جواہر لال نہرو سے ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔ جب
مسولینی ایبے سینیا کے کے خلاف اعلان جنگ کرچکا تھا۔ اور اطالوی فوجیں لیگ
آف نیشنز کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر افریقہ کی طرف کوچ کررہی
تھیں۔
مسولینی کو جنگ سے باز رکھنے کیلئے برطانیہ اور فرانس نے بہت یتن کئے لیکن
مسولینی پر ان کا کوئی اثر نہ ہوا۔ بین الاقوامی تاریخ کے اس نازک دور کو
سمجھنے کیلئے یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ اٹلی کی ایبے سینیا پر فوج کشی
کوئی نرالا قدم نہ تھا۔ کیونکہ مسولینی نے برطانوی اور فرانسیسی
امپیرئلسٹوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہی ایک وسیع اطالوی سلطنت قائم کرنے
کیلئے ایبے سینیا پر چڑھائی کی تھی۔ اگر ہندوستان، مصر،فلسطین و دیگر
ایشیائی ممالک پر برطانوی قبضے ار ہند چینی، شام مراکو، تیونس، الجیریا
وغیرہ پر فرانسیسی قبضے کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں۔ کہ
ایبے سینیا پر اٹلی کے حملے کی مذمت کی جائے۔
1935ء میں مسولینی اپنے ملک کے لئے وہی کچھ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ جو
فرانسنی اور برطانوی امپیرئلسٹ گزشتہ کئی صدیوں سے اپنے اپنے ممالک کے لئے
کرتے آئے ہیں ۔ ایک اندھا شخص کسی دوسرے شخص کو یہ طعنی دینے کا مجاز نہیں۔
کہ اسے دکھائی نہیں دیتا۔ عین اسی طرح برطانیہ اور فرانس جیسے امپیرئلسٹ
ممالک مسولینی کو ہوس ملک گیری کا طعنہ دینے کے مجاز نہ تھا۔ کیونکہ اس
حمام میں وہ خود بھی ننگے تھے۔ لیکن اس امر کے باوجود برطانیہ کی یہ خواہش
تھی۔ کہ کسی نہ کسی طرح ایبے سینیا پر اطالوی حملے کو روک دیا جائے۔ کیونکہ
انہیں یہ بات۔۔۔ گوارا نہ تھی۔ کہ اٹلی ایک طاقتور ملک بن جائے۔ ان حالات
میں اگر برطانیہ کا بس چلتا۔ تو عین ممکن ہے۔ وہ اٹلی کے منصوبوں کو خاک
میں ملانے کیلئے ایبے سینیا کا ساتھ دیتا۔ لیکن اس وقت ہٹلر نے برطانیہ کو
دانت دکھانے شروع کردیئے۔ اور اپنے طرز عمل سے یہ بات واضح کردی۔ کہ اگر
برطانیہ یا فرانس نے اٹلی کے خلاف کوئی کارروائی کی۔ تو ہٹلر مسولینی کی
حمایت میں اپنی تمام طاقت جھونک دیگا۔ اس سلسلے میں جو بین الاقوامی صورت
حالات نشوونما پارہی تھی۔ اسکے متعلق شری سبھاش بوس نے ہندوستانی اخبارات
کے نام آسٹریا سے مندرجہ ذیل پیغام بھیجا۔
"شروع شروع میں ایبے سینیا کے لئے ہمدردی کی کچھ ایسی لہر چلی کہ بعض
فرانسیسی مدبروں کے علاوہ کسی نے یہ محشوس نہ کیا۔ کہ برطانیہ کی طرف سے اس
ہمدردی کی تہ میں اپنا قتدار قائم کرنے کی غرض پوشیدہ ہے۔ برطانیہ اپنے
ماتحت ممالک کو ساتھ لے کر ایک اور عالمگیر جنگ میں کود نے کے لئے بالکل
تیار تھا۔ کہ ایک معجزہ رونما ہوا۔ اچانک ہٹلر کا سایہ دورافق پر نظر آیا
اور برطانیہ نے اٹلی کے خلاف جو بازو پھیلایا تھا۔ وہ وہیں کاد میں رک گیا۔
برطانوی سیاستدانوں کی ڈپلومیسی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے۔ کہ انہوں نے
برطانیہ اور دیگر ممالک میں رائے عامہ کو اٹلی کے خلاف اپنی پالیسی کے حق
میں کرلیا۔ 1914ء میں برطانیہ کا نعرہ تھا "بیلجیئم کو بچاؤ۔1935"ء میں یہ
نعرہ "لیگ آف نیشنز کو بچاؤ"ہوگیا۔ برٹش لیبر پارٹی اور برٹش کمیونسٹ پارٹی
بھی اس سلسلے میں کنسروٹیوگورنمنٹ سے مل گئیں۔ انڈی پنڈنٹ لیبر پارٹی کے
ایک چھوٹے سے گروہ نے اس کیخلاف آواز اٹھائی اور کہا۔ کہ شاہی اغراض و
مقاصد کے لئے ایک اور جنگ ہونے والی ہے۔ اس سے برطانیہ کے مزدوروں کو کوئی
دلچسپی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن گورنمنٹ کی پشت پر رائے عامہ تھی۔ اس لئے
انڈی پنڈنٹ لیبر پارٹی کی آواز کسی نے نہ سنی۔ میں ہندوستان کی تحریک آزادی
کے علمبرداروں سے دریافت کرتا ہوں۔ کہ جس وقت یورپ میں یہ باتیں ہورہی
تھیں وہ کیا کررہے تھے۔ مصری لیڈروں نے جونہی سنا کہ برطانیہ ایبے سینیا،
اور اٹلی کی جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو انہوں نے برطانوی
مدبروں سے صاف کہہ دیا کہ اگر ہماری ہمدردی یا امداد حاصل کرنا چاہتے ہوتو
مصر کی مکمل آزادی تسلیم کرو۔ ایسے آڑے وقت میں ہندوستانیوں کو بھی برطانیہ
کے ساتھ سودا بازی کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ہوا کیا۔۔۔ جونہی ہندوستان میں
ایبے سینیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ ہندوستانی فوجیں ادیس ابابا
کو روانہ کردی گئیں۔ حالانکہ کینیا۔ برطانوی سمالی لینڈ۔ سوڈان اور مصر و
غیرہ میں جو ایبے سینیا کے نزدیک تھے۔ برطانوی فوج موجود تھی۔ اگر برطانی
سفارت خانہ کی حفاظت مقصود تھی۔ تو وہاں برطانوی فوج کیوں نہ بھیجی گئی۔۔۔
؟"
یورپ کی یاترا کے دوران شری سبھاش بوس نے ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک
کمزور پہلو پر بار بار آواز اٹھائی۔ وہ یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کو
عالمگیر معاملات میں دلچسپی میں دلچسپی لیتے ہوئے ایک بیرونی پالیسی وضع
کرکے ڈپلومیسی سے کام لینا چاہیے لیکن ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔
تاریخ کے اس نازک ترین دور میں اگر انڈین نیشنل کانگریس کی باگ ڈور بسمارک
جیسے کسی چالاک ہندوستانی سیاستدان کے ہاتھ میں ہوتی۔ تو اب تک ہندوستان کی
قسمت کا فیصلہ ہوجاتا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے تحریک آزادی کے اس پہلو کو
نظر انداز کرکے جو بھاری غلطی کی ہے۔ اس کا احساس کرانے کیلئے شری سبھاش نے
ایک طویل مضمون سپروقلم کیا تھا۔ اس میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ ان پر
ہرہندوستانی کو غور کرنا چاہیے۔ چنانچہ "غیر ممالک میں پراپیگنڈا کی ضرورت"
کے عنوان سے آپ نے جومضمون لکھا تھا اسے ذیل درج کیا جاتا ہے-:
"سب سے پہلے مجھے سورگیہ دیش بندھو داس نے یہ بات ذہن نشین کرائی۔ کہ غیر
ممالک میں ہندوستان کے حالات کو واضح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ چاہتے تھے۔
کہ ہندوستان کے حق میں پراپیگنڈا کے علاوہ ایک پان ایشیٹک لیگ" بھی قائم کی
جائے۔
پچھلے دوسال میں یورپ کی سیرو سیاحت کے دوران مجھے جو تجربہ ہوا اس سے میرا
یہ پختہ یقین ہوگیا ہے کہ ہمیں تحریک آزادی کے اس پہلو کو ہرگز نظر انداز
نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں کہیں میں گیا۔ میں نے دیکھا۔ کہ لوگ ہندوستان کے
حالات سے قطعی واقف نہیں۔ لیکنا س کے ساتھ ہی یورپین باشندوں کو ہندوستان
کے معاملات سے دلچسپی اور اس سے ہمدردی کا جذبہ موجود ہے۔ اگر ہم کوشش
کریں۔ تو اس ہمدردی کا دائرہ وسیع کیا جاسکت اہے۔ ایک طرف ہم نہایت
لاپروائی کا اظہار کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے چالاک مخالف ہمارے خلاف
غیر ممالک میں غلط پراپیگنڈا کررہے ہیں۔ 1920ء کا ذکر ہے۔ ان دنوں میں
انگگلستان میں تھا۔ ایک دن میں لیکچر ہال کے سامنے سے گزرا۔ اس ہال کے
سامنے ایک مشنری کے لیکچر کا اشتہار لگا ہوا تھا۔ اس پر سیاہ فام۔ نیم
برہنہ ہندوستانی عورتوں اور مردوں کی تصویریں تھیں۔ 1933ء کے آخر میں ایک
جرمن اخبار نویس نے میونک کے ایک اخبار میں لکھا۔ کہ اس نے ہندوستان میں
اپنی آنکھوں کے سامنے بیواؤں کو زندہ جلاتے ہوئے دیکھا ہے اور بمبئی کے
بازاروں میں انسانوں کی لاشیں پڑی رہتی ہیں۔ا ن کی دیکھ بھال کرنے والا
کوئی نہیں ہوتا۔
وی آنا کے ایک اخبار میں ایک مردے کی تصویر شائع ہوئی۔جس پر بے شمار کپڑے
پڑے تھے۔ اور نیچے لکھا تھا۔ "یہ ایک ہندوستانی سادھو کی لاش ہے۔ جو کئی دن
تک گلتی سڑتی رہی۔ کیونکہ ہندوؤں کا اعتقاد ہے کہ کسی سادھو کی لاش کو
کوئی عام آڈمی ہاتھ نہیں لگاسکتا۔۔۔"ایک فلم میں مہاتما گاندھی کو یورپین
لباس میں ایک لڑکی کے ساتھ ناجتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان حالات میں
ہندوستانیوں سے اپیل کرتا ہوں۔ کہ وہ غیر ممالک میں ہندوستان کے خلاف گمراہ
کن اور شرات آمیز پراپیگنڈا کے انسداد کی طرف توجہ دیں۔
جن ممالک نے پچھلے دن برسوں میں آزادی حاصل کی ہے۔ ان کی تاریخ کے مطالعہ
سے اس کام کی اہمیت کا بخوبگی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آئرلینڈ کی سن فین
پارٹی نے امریکہ میں زبردست پراپیگنڈا کیا۔ اور اسپارٹی نے اپنے بہترین
آدمی وہاں بھیجے۔ حتیٰ کہ اس پارٹی کے صدر مسٹر ڈی ولیرا خود تمام کام کو
چلانے کیلئے وہاں پہنچے۔ یورپ میں بھی اس پارٹی نے پراپیگنڈا کی غرض سے کئی
مرکز قائم کئے۔ا س کے علاوہ گزشتہ 20سال زیکوسلوواکیہ کے سرکردہ لیڈر
انگلستان۔ فرانس اور امریکہ میں سرگرم پراپیگنڈا کرتے رہے۔ اس 20سلہ
پراپیگنڈا کے بعد ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ غیر
ممالک کی حمایت اور ہمدردی کے بغیر زیکوسلوواکیہ بطور خود آزادی حاصل نہ
کرسکتا تھا۔ برطانیہ اپنے حق مین پراپیگنڈا کرانے میں ماہر ہے۔ نیز وہ اپنے
خلاف پراپیگنڈا کی روک تھام بھی کرت ارہتا ہے۔ اس کے ثبوت میں میں جون
1934ء کا ایک ذاتی واقعہ پیش کرتا ہوں۔ ان دنوں میں بلگریڈ میں تھا۔ وہاں
کے اخبارات نے میرے ساتھ ہندوستان کی صورت حالات کے متعلق انٹرویو کئے۔
لیکن پیشتر اس کے کہ وہ انٹرویو اخبارات میں شآئع ہوں۔ بلگریڈ میں مقیم
برطانوی سفیر نے دفتر خارجہ سے درخواست کی کہ میرے کسی مضمون کو یوگوسلاویہ
کے اخبارات میں شائع نہ ہونے دیا جائے۔
جہجاں تک ہندوستان کا تعلق ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ غیر ملکی پراپیگنڈا کیلئے
کچھ نہیں کیا جاتا۔ ہندوستانی لیڈروں میں سے صرف سورگیہ وٹھن بھائی پٹیل ہی
تھے۔ جو غیر ملکی پراپیگنڈا کے فائدہ اور اس کے قدر و اہمیت کو اچھی طرح
سمجھتے تھے۔ اور یہ کہنا مبالغہ آمیز نہ ہوگا۔ کہ انہوں نے اس پراپیگنڈا کی
خاطر اپنی جان تک قربان کردی۔۔۔ اپنے دورۂ امریکہ کے دوران انہوں نے تین
ماہ میں 85تقریریں کیں۔ جس سے ان کی صحت بالکل تباہ ہوگئی۔ اپنی زندگی میں
انہوں نے ڈبلن میں ایک جماعت قائم بھی کردی جس کا نام انڈوآئرش لیگ رکھا۔
اگر ان ممالک کے لئے جنہوں نے مسلح بغاوت سے آزادی حاصل کی ہے۔ غیر ملکی
پراپیگنڈا ضروری تھا۔ تو ہندوستان جیسے ملک کے لئے جواہنسا کا قائل ہے۔ اس
پراپیگنڈے کی اور بھی ضرورت ہے۔"
سبھاش بوس ایک پریکٹیکل لیڈر ہیں۔ دوسرے کانگریسی لیڈروں کی طرح وہ محض
دھواں دھار لیکن بے معنی تقریریں جھاڑنا پسند نہیں کرتے۔ انہیں جس بات کا
یقین ہوجاتا ہے۔ وہ اسے فوراً عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمہ تن مصروف ہوجاتے
ہیں۔ چنانچہ آپ سورگیہ پٹیل کی قائم کردہ انڈو آئرش لیگ کو مضبوط کرنے
کیلئے آئرلینڈ روانہ ہوگئے۔ ان کے اس دورے کا ایک اور مقصد بھی تھا۔ آئر
لینڈ برطانیہ کے پنجہ غلامی سے نجات حاصل کرچکا تھا۔ اور ان دنوں آئرش
حکومت کی باگ ڈور ڈی ولیرا اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں آچکی تھی۔ کل تک
برطانوی گورنمنٹ جن آئرش دیش بھگتوں کو باغی قرار دے کر انہیں جیلوں میں
ٹھونسنے۔ اور پھانسیوں پر لٹکانے میں مصروف تھی۔ اب انہی باغیوں کی نمائندہ
پوزیشن کو تسلیم کرکے ملک کا نظم و نسق ان کے حوالے کردیا گیا تھا۔
آئرلینڈ کی کامیاب تحریک آزادی پر نظر ڈالنے سے ہندوستان کے دہشت پسندوں
اور آئرش قوم پرستوں سے برطانوی حکومت کا امتیازی سلوک سمجھ میں آسکتا ہے۔
جہاں برطانوی گورنمنٹ آئرلینڈ میں ملک کا تمام نظم و نسق آئرش انقلاب
پسندوں کے حوالے کرنے کے لئے مجبور ہوگئی۔ وہاں دوسری طرف ہندوستان کے
انقلاب پسندوں سے براہ راست سمجھوتے کی گفت و شنید کرنے کیلئے کبھی بھی
تیار ہوئی۔ اس کی محض وجہ یہ تھی کہ آئرش انقلاب پسندوں کی پشت پر ان کا
سارا دیش ترھا۔ اس کے برعکس ہندوستان میں ہمارے دیش کی سب سے بڑی پولیٹیکل
جماعت دہشت پسندوں کو کچلنے پر تلی ہوئی تھی۔ چنانچہ گورنمنٹ نے ہندوستانی
دہشت پسندوں کو ختم کرنے کیلئے جب بھی سختی کا کوئی دور شروع کیا۔ اسے اس
کام میں مہاتما گاندھی کی پوری پوری حمایت حاصل رہی۔ ہندوستان کے انقلاب
پسندوں کی ناکامی کا سب سے بڑا راز یہی ہے۔
ایک دیش بھگت کی حیثیت سے شری سبھاش بوس آئرلینڈ کی تحریک آزادی کا مطالعہ
کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا آپ نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔ اور آئرلینڈ پہنچ
گئے۔ 3فروری 1936ء کو آپ نے آئرلینڈ کے وزیراعظم مسٹر ڈی ولیرا سے ایک
پرائیویٹ کمرہ میں نصف گھنٹہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات بھی ایک نہایت دلچسپ
ملاپ تھا۔ آئرلینڈ کے انقلاب پسندوں کے سب سے بڑے لیڈر شری ڈی ولیرا جوکسی
وقت پھانسی کی کوٹھڑی میں بند رہ چکے تھے۔ اس دن ہندوستان کے انتہا پسندوں
کے سب سے بڑے لیڈر شری سبھاش بوس۔ جو اپنے وطن کو آزاد کرانے کیلئے قید و
بند کی صعوبتیں اٹھارہے تھے۔ سے بغلگیر ہوئے۔
دنیا کے ان دوبڑے انقلاب پسندوں کی ملاقات بھاری اہمیت رکھتی ہے ایک اپنے
وطن کو برطانیہ کی غلطی سے نجات دلاچکا تھا۔ دوسرا اپنے دیش کے گنے سے غیر
ملکی غلامی کا جؤا اتار پھینکنے کے لئے کوشاں تھا۔ آئرلینڈ کی سرزمین کے
ذرے ذرے نے ڈی ولیرا کی زبان کے ذریعے شری سبھاش بوس کو پکا پکا کرکہا-:
"بھیک مانگنے سے ہرگز آزادی نہیں مل سکتی۔ ستومنتر تاکی دیوی خون کی پیاسی ہے۔ وہ قربانی کی بھینٹ مانگتی ہے۔"
آئرلینڈ میں سبھاش کو مختلف سوسائٹیوں کی طرف سے ایڈریس پیش کئے گئے۔ جن
میں ہندوستان کی تحریک آزادی کے ساتھ آئرش محب الوطنوں کی ہمدردی کا اظہار
کیا گیا۔ اس آزاد اور سوتنتردیش ملیں ہندوستان جیسے ابھاگے غلام دیش کے ایک
لیڈر سے جو سلوک کیا گیا۔ وہ نہ صرف سبھاش کی ہی حوصلہ افزائی تھی۔ بلکہ
ان کی مادر وطن کی بھی بھاری عزت افزائی تھی۔ آپ ہندوستان کے قوم پرستوں کے
ایک نمائندے کی حیثیت سے آئرلینڈ گئے اور آئرش باشندوں نے بھی آپ کو
ہندوستان کا حقیقی سفیر سمجھ کر انہیں اپنے سرپر اٹھایا۔ گورنمنٹ ہند کے
ایجنٹ جنرلوں اور ٹریڈ کمشنروں وغیرہ سے غیر ممالک میں جو سلوک کیا جاتا ہے
اور آئرلینڈ میں شری سبھاش سے جو سلوک کیا گیا۔ اس سے کوئزلنگوں اور دیش
کے حقیقی نمائندوں میں فرق نمایاں طورپر واضح ہوجاتا ہے۔ جہاں ٹوڈیوں سے
کوئی اتنا بھی نہیں پوچھتا کہ بھیا تم کون ہو۔ وہاں قوم پرست لیڈروں کا
شاہانہ استقبال کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے)
***
Post a Comment