New Posts from Balochistan Channel

Translate In Your Language

New Videos

Showing posts with label Subhas Chandra Bose. Show all posts
Showing posts with label Subhas Chandra Bose. Show all posts

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر


’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )

(گذشتہ سے پیوستہ)

( نویں قسط)

حکومت جھک گئی!

شری سبھاش کو یورپ سے روانگی سے پیشتر گورنمنٹ ہند نے انہیں یہ دھمکی دی تھی۔ کہ ان کے جہاز سے اترنے کے فوراً بعد انہیں گرفتار کرلیا جائیگا۔ اور گورنمنٹ ہند نے اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا بھی دیا۔ لیکن گرفتاری کے بعد شری سبھاش کی بگڑتی ہوئی صحت اور رائے عامہ کے دباؤ نے گورنمنٹ کو جھکادیا۔ 17مارچ 1937ء کے روز شری سبھاش چند ر بوس میڈیکل کالج اسپتال سے رہا کردیئے گئے۔ رہائی کے احکام ایڈیشنل ڈپٹی سیکریٹری آف بنگال گورنمنٹ نے جاری کئے تھے۔ یہ حکم شری سبھاش کو ساڑھے چھ بجے شام دیا گیا۔ جس کے بعد انہوں نے ڈپٹی کمشنر اسپیشل برانچ سے ملاقات کی۔ اور دو گھنٹے تک ان میں تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ اپنی ماتا کو رہائی کی اطلاع دینے کے بعد آپ پھر میڈیکل ہال اسپتال ملیں گئے۔ تاکہ وہاں پر اسپتال کا جو اسٹاف ان کا علاج معالجہ کررہا تھا۔ ان کو الوداع کہیں۔ گھر پہنچنے کے بعد کانگریسوں نے مسٹر بوس کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے۔ ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ اور نہایت کمزور دکھائی دیتے تھے۔ جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ علاج کے لئے پھر یورپ تشریف لے جائینگے؟ تو شری بوس نے جواب دیا میں نے اس کے متعلق ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

جب پنڈت جواہر لال نہرو کو شری سبھاش بوس کی رہائی کی اطلاع ملی۔ تو آپ نے مندرجہ ذیل تار ارسال کیا۔

"مجھے ابھی ابھی آپ کی رہائی کا علم ہوا ہے۔ یہ خبر سن کر میں بہت خوش ہوا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اگر ڈاکٹروں نے اجازت دی تو آپ نیشنل کانونیشن کے اجاس میں شریک ہونے کے لئے ضروری دہلی تشریف لائیں گے۔"

لیکن ڈاکٹروں نے شری سبھاش کو مشورہ دیا تھا۔ کہ وہ خرابی صحت کے پیش نظر اپنے مکان سے باہر نہ جائیں۔ ان حالات میں آپ نے دہلی کے نیشنل کانونیشن میں شریک ہونے سے معذرت کا اظہار کردیا۔

اسی روز ڈاکٹر نیل رتن سرکار اور ڈاکٹر سنیل چندر بوس نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا۔

آج ہم نے شری سبھاش چندر بوس کا معائنہ کیا ہے۔ ہماری رائے ہے۔ کہ جب تک ان کی ٹمپریچر تبدیل نہیں ہوتی۔ انہیں مکمل آرام کرنا چاہیے۔ اور اپنے کمرے سے باہر نہ جانا چاہیے۔ نہ ہی کسی قسم کے جسمانی یا دماغی کام میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کی صحت کے نارمل حالات پر آنے میں بھی کافی عرصہ لگے گا۔"

ماہ اپریل ملیں ڈاکٹروں نے شری سبھاش بوس کو مشورہ دیا۔ کہ وہ صحٹ کو بحال کرنے کیلئے ملبے عرصے کے لئے ڈلہوزی میں قیام کریں۔ چنانچہ آپ ڈلہوزی جاتے ہوئے کانگریسے ورکنگ کمیٹی یک اجلاس میں شریک کیلئے الٰہ آباد اترے۔ الٰہ آباد نواسیوں نے ریلوے اسٹیشن پر آپ کا شاہانہ استقبال کیا۔ اسٹیشن سے شری بوس الٰہ آباد ہائیکورٹ کے سرکردہ بیرسٹرپیارے لال بیزجی کے مکان پر گئے۔ اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد آنند بھون تشریف لے گئے۔ اور وہاں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے دو گھنٹے گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو سے تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ بات چیت سے پہلے گاندھی جی نے سبھاش بوس کو فعل میں لیتے ہوئے کہا-:

"جب سے مسٹر مہادیو ڈیسائی کلکتہ میں آپ سے ملاقات کرکے آئے ہیں میرے من کو شانتی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ لیکن آج آپ کو دیکھ کر میرا دل اتی پرسن ہوا ہے۔"

الٰہ آباد سے دہلی ہوتے ہوئے شری سبھاش یکم مئی 1937ء کو لاہور پہنچے۔ آپ کی آمد سے بہت دیر پہلے لوگ بھاری تعداد میں ریلوے اسٹیشن پر جمع ہونے شروع ہوگئے تھے۔ بھیڑ اس قدر زیادہ تھی۔ کہ ریلوے حکام نے پلیٹ فارم ٹکٹ بند کردیئے۔ جونہی آپ ٹرین سے باہر نکلے۔ آپ کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور جلوس کی صورت میں پلیٹ فارم سے باہر لے جایا گیا۔ بعدازاں آپ اپنے لاکھوں مداحوں کو درشن دے کر ڈاکٹر دھرم ویر کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔ اگلے روز ایک نمائندہ پریس نے آپ سے انٹرویو کیا۔ جس کے دوران آپ نے بتایا کہ-:

"میں کسی صحٹ افزا مقام پر چار پانچ ماہ گزارنے کے بعد پالیٹکس میں دوبارہ داخل ہوجاؤں گا۔ میں آج کل ہندوستانی زبان سیکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ میرا ملک کے نام پیغام یہ ہے ۔کہ ابھی تک جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ یہ اس وقت تک جاری رہے گی۔ جب تک ہندوستان مکمل آزادی حاصل نہیں کرلیتا۔"

11مئی کو لاہور سے ڈلہوزی روانہ ہوتے وقت آپ نے اپنے ہم وطنوں کے نام مندرجہ ذیل پیغام جاری کیا-:

"ہمارا اولین فرض ہے۔ کہ ہم کانگریس کی تنظیم کو مضبوط بنائیں تاکہ اس جماعت کا کروڑوں فاقہ کش انسانوں کی اقتصادی ضروریات کے ساتھ گہرا تعلق پیدا ہوسکے۔ اور اس طرح عوام کی اینٹی امپیرئلسٹ جدوجہد زیادہ زور پکڑجائے۔ اگر ہم نے کانگریس کو زیادہ مضبوط بنالیا۔ تو ہم ہنگامی حالات کا نہایت آسانی اور جرأت سے مقابلہ کرسکیں گے۔"

لاہور میں قیام کے دوران آپ نے کوئی پبلک تقریر نہ کی۔ بلکہ ان کی روانگی کو بھی صیغہ راز میں رکھا گیا۔ کیونکہ ان کی کمزور صحت کے پیش نظر لوگوں کے اکٹھا ہوجانے سے ان کی صحت پر خراب اثر پڑنے کا اندیشہ تھا۔ اگلے روز آپ ڈلہوزی پہنچ گئے۔ جب آپ سے دریافت کیا گیا۔ کہ آپ ڈلہوزی رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ "کلکتہ میں میرے ڈاکٹروں نے اس مقام کو اس لئے منتخب کیا ہے کہ یہاں کی آب و ہوا خشک اور صحت بخش ہے۔ میں خود بھی ایک ایسے مقام پر رہنا چاہتا ہوں۔ جہجاں سکون اور خاموشی ہو۔"

لیکن گورنمنٹ کی رائے کچھ اور تھی۔ وہ شری سبھاش بوس کی سرگرمیوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔ اسے یہ گوارا نہ تھا۔ کہ وہ پنجاب کے قومی کارکنوں سے صلاح و مشورے کریں۔ چنانچہ "ٹائمز آف انڈیا" میں نہایت عجیب و غریب مضمون شائع ہوا۔ جس میں لکھا تھا-:

"بعض اشخاص کی طرف سے یہ سوال کیا جارہا ہے۔ کہ کیا شری سبھاش بوس نے اتفاقیہ ڈلہوزی کو اپنی صحت بحال کرنے کیلئے منتخب کیا۔ اور کیا انہوں نے لاہور ٹھہرکر "اتفاقیہ"پنجاب کے انقلاب پسند عناصر سے ملاقات کی؟ پنجابی پنڈت جواہر لال نہرو کو پسند نہیں کرتے۔ شری سبھاش بوس کی سرگرمیاں انہیں زیادہ پسند ہیں۔ پراونشل کانگریس ورکنگ کمیٹی نے لاہور میں ورکرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان کسانوں میں کمیونزم کا پرچار کریں گے۔ گورنمنٹ ان تمام چیزوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔"

اس سے واضح ہے کہ گورنمنٹ شری سبھاش بوس کے ڈلہوزی میں قیام کپو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ یہ محض سی آئی ڈی افسروں کی غلط رپورٹوں کا نتیجہ تھا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ سی آئی ڈی گورنمنٹ کے کام اور آنکھ ہے اس سے یہ مراد ہے کہ گورنمنٹ جو کچھ جانتی ہے۔ وہ سی آئی ڈی کے ذریعے ہی سنتی ہے۔ اور تمام افراد کے متعلق گورنمنٹ کا نقطہ نگاہ وہی ہوتا ہے۔ جو سی آئی ڈی کا اگر سی آئی ڈی کی نگاہ میں کوئی شخص خطرناک ہے۔ تو گورنمنٹ بھی اسے خطرناک ہی سمجھتی ہے۔ جب شری سبھاش بوس پنجاب آئے۔ تو قدرتی طورپر وہ سیاسی کارکنوں سے ملے۔ لیکن ہندوستان کے سی آئی ڈی افسروں کی نگاہ میں کسی سیاسی کارکن کا دوسرے سیاسی کارکنوں سے ملنا بھی معیوب ہے۔ پس سی آئی ڈی افسروں نے ان رسمی ملاقاتوں کو خطرناک رنگ دے کر بیماری کی حالت میں بھی شری سبھاش بوس کو پنجاب گورنمنٹ کی نظروں میں مشکوک بنادیا۔

21جولائی کو سبھاش نے ڈلہوزی سے اپنے ایک دوست کو خط لکھا۔ جس میں درج تھا۔

"بنگال سے جو اطلاعات آرہی ہیں۔ ان سے مجھے انتہائی تشویش ہورہی ہے۔ ایک طرف تو سیاسی نظربندوں اور قیدیوں کی رہائی کے متعلق توقعات غلط ثابت ہوئی ہیں۔ دوسری طرف بنگال میں کانگریس کا کام کوئی ترقی نہیں کررہا۔ مجھے معلوم ہے۔ کہ جب میں پھر عملی زندگی میں آؤں گا۔ تو مجھے سخت کام کرنا پڑے گا۔ اس لئے میری عقل کہتی ہے۔ کہ میں اس معاملے میں صبر سے کام لوں۔ جیلوں میں نظر بندوں کی دردناک حالت کے متعلق مجھے کچھ خط ملے ہیں ۔ جن سے میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔"

اپنی ڈاک پرسنسر کے متعلق شری بوس لکھتے ہیں-:

"میں عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔ کہ میری ڈاک پر کڑی سنسر ہورہی ہے پہلے بھی میرے خطوط کو کھول لیا جاتا تھا۔ مگر وہ میرے پاس فوراً پہنچادیئے جاتے تھے۔ لیکن آج کل میرے خطوط نہ صرف کھولے ہی جاتے ہیں، بلکہ وہ بڑی دیر سے ملتے ہیں۔ ڈاک خانہ سے شکایت کی جاتی ہے تو اس کا کچھ نہیں بنتا۔ میں حیران ہوں۔ کہ ہمارے وزراء کس طرح یہ پسند کرینگے کہ ان کے خطوط کو کھول لیا جائے۔ اور وہ بہت دیر یک بعد ان تک جائیں"۔

صوبوں میں نئی وزارتیں بن رہی تھیں۔ اور لوگوں کو توقع تھی کہ نئی وزارتیں عہدے سنبھالتے ہی سیاسی قیدیوں اور نظر بندوں کو رہا کردیں گی۔ سیاسی قیدیوں اور نظر بندوں کی سب سے زیادہ تعداد بنگال کی جیلوں اور کیمپوں میں بند ترھی۔ بنگال میں فضل الحق وزارت بن چکی تھی۔ 1945ء کے فضل الحق اور 1937ء کے فضل الحق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان دنوں مولوی فضل الح۔۔۔ لیگیوں کے جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ اور "شیربنگال" بننے کے شوق میں کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا کرتے تھے۔ ان حالات میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ جیلوں کے دروازے کھول کر صوبجاتی خود مختاری کا آغاز کریں گے۔ فضول تھا۔ لیکن رائے عامہ بڑے بڑوں کے بل نکال دیتی ہے۔ سبھاش بوس نے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ 23جولائی کو آپ نے سیاسی قیدیوں ا ور نظر بندوں کے متعلق ایک بصیرت افروز بیان جاری کیا۔ جس میں فضل الحق وزارت اور گورنر بنگال سرجان اینڈرسن کے پرخچے اڑائے۔ وہ اہم بیان ذیل میں دیا جاتا ہے-:

"جب میں بنگال سے روانہ ہوا تھا۔ تو میں نے فیصلہ کیا تھا۔ کہ میں اس وقت تک کوئی بیان نہ دونگا۔ جب تک کہ میں سرگرم سیاسیات میں حصہ نہ لوں۔ لیکن بنگال کی روزانہ صورتحالات مجھے پریشان کررہی ہے۔ اور چونکہ مجھے خرابی صحت کے باعث ابھی کافی دیر تک بنگال سے باہر رہنا پڑأ گا۔ اس لئے میں محسوس کرتا ہوں۔ کہ اب وقت آغیا ہے کہ میں اس سکوت کو جو میں نے خود اپنے اوپر عائد کررکھا ہے توڑ دوں چار ماہ کے تجربے نے ثابت کردیا ہے۔ کہ ہندوستان بھر میں سب سے زیادہ رجعت پسند وزارت بنگال میں قائم ہوئی ہے۔ اگرچہ کسی آدمی نے بھی بنگال کے وزیراعظم مولوی فضل الحق سے کسی بڑی بات کی توقع نہیں کی تھی۔ مگر اس انتہائی مایوسی کی جو آج بنگال محسوس کررہا ہے۔ بھی کسی کو توقع نہ تھی۔ انتخابات کے دوران مولوی فضل الحق نے بنگال کے باشندوں سے وعدے کئے تھے۔ کہ وزارت سنبھالنے کے بعد سیاسی قیدیوں کی رہائی کی طرف غور کپیا جائے گا۔ مگر اب وہ تمام وعدے بھول گئے ہیں۔ اور استبدادی قوانین ابھی تک نافذ ہیں۔ بنگال کی جیلیں سیاسی قیدیوں اور نظر بندوں سے بھری پڑی ہیں۔ اور سینکڑوں بنگالی دہشت پسند انڈیمان میں اپنی زندگی کے آخری دن گزاررہے ہیں۔ ان حالات میں یہ کہنا مبالغہ آمیز نہ ہوگا۔ کہ بنگال کی موجودہ اور سابقہ حکومت میں کوئی فرق نہیں۔ اور لوگ یہ باور کرنے کے لئے تیار نہیں کہ بنگال میں صورتحال خود مختاری کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہر شخص گورنر مستقل افسروں اور ممبران خفیہ پولیس کی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ جو ایک عرصہ سے اس پالیسی پر کاربند ہیں۔ جسے بسمارک "کشت واہن" (BLOOD AND IRON) کی پالیسی سے منسوب کیا کرتا تھا۔ لیکن ہر شخص پرجارپارٹی کے لیڈر مولوی فضل الحق کی ذہنیت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ جو بنگالی نوجوانوں کی بلاسماعت مقدمہ نظر بندی کو حق بجانب قرار دینے کیلئے حیلے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔

اندریں حالات ہمارا کام صاف ہے۔ ہم نے صوبہ بھر میں بنگالی نظر بندوں اور ان کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کی جن میں انڈیمان والے بھی شامل ہیں۔ رہائی کا مطالبہ کرنے کے لئے زبردست جدوجہد شروع کرنی ہے۔ 24جولائی کو بنگال بھر میں یوم نظر بنداں منانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اس پیغام کو ختم کرنے سے پہلے میں گورنر بنگال اور مستقل افسران سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ فی الحقیقت صوبجاتی خود مختاری کے ڈھونگ کی آڑ میں اب بھی بنگال کی حکومت وہی چلارہے ہیں۔ حال ہی ملیں گورنر بنگال نے ایک تقریر میں کہا تھا۔ کہ لاء اینڈ آرڈر کے سلسلے ملیں گورنر اور ان کی وزرت میں مطلقاً کوئی اختلاف نہیں۔ اس سے مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ کہ موجودہ وزارت اسی پالیسی پر کاربند ہے۔ جس پر کہ سابقہ حکومت کار بند تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا۔ کہ آئر لینڈ میں جو دہشت پسند سیاسی قیدی رہا کئے گئے تھے۔ ان کی رہائی کے لئے وہ خود ذمہ دار تھے۔ مگر بنگال کے قیدیوں کے متعلق آپ کہتے ہیں۔ کہ یہاں کے حالات آئرلینڈ سے مختلف ہیں۔ میں ان سے دریافت کرتا ہوں۔ کہ کیا آئرلینڈ میں کھلم کھلا بغاوت نہیں ہوئی تھی۔ جس میں ہزاروں برطانوی قتل کردیئے گئے تھے۔ لیکن بنگال میں جب بدترین صورت حالات بھی پیدا ہوئی۔ تو اس تحریک میں زیادہ سے زیادہ چند درجن برطانوی افسران قتل کئے گئے۔ اس کے علاوہ گورنر بنگال اور ان کے دیگر آئی سی ایس افسران جانتے ہیں۔ کہ بنگال کی تحریک دہشت انگیزی اب ماضی کا ایک افسانہ بن گئی ہے۔ میں پولیس افسروں کپی اتھارٹی پر یہ کہہ سکتا ہوں۔ کہ بنگال کے سیاسی قیدی اور نظر بند اب تحریک دہشت انگیزی نہیں بلکہ سوشلزم کی اجتماعی تحریک شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ پانچ سال ہوئے، بنگال کے موجودہ گورنر سرجان اینڈ رسن جب انگلستان سے روانہ ہوئے۔ تو انہیں یہ طعنہ دیا گیا تھا۔ کہ آئرلینڈ میں جوابتری پھیلی تھی۔ اس کی ذمہ داری ان پر تھی۔ لیکن اس ریمارک پر انہوں نے برا منایا۔۔۔اور جواباً کہا-:

"کہ آئرش لوگوں کو آزادی دلانے میں بھی تو ان کا ہاتھ تھا۔"

آپ کو بنگال کی گورنری سنبھالنے پانچ سال ہوچکے ہیں۔ اور عنقریب آپ اپنا چارج کسی جانشین کو دینے والے ہیں۔ کیا ساحل ہند سے روانہ وہنے سے پیشتر آپ وہی باتیں بنگال میں بھی نہ دہرائیں گے؟ جو آپ نے آئرلینڈ میں کی تھیں؟ انہیں چاہیے۔ کہ روانگی سے پیشتر بنگال کے سیاسی قیدیوں اور نظر بندوں کو رہا کرکے حکومت کی باگ ڈور صوبہ کے صحیح نمائندوں کے ہاتھ میں سونپ دیں۔"

شری سبھاش بوس کی اس اپیل کا گورنر بنگال اور مولوی فضل الح۔۔۔ پر تو کیا اثر ہونا تھا۔ لیکن بنگال کے نوجوانوں میں اس بیان سے ایک ہلچل مچ گئی۔

4اگست کو بنگال اسمبلی میں انڈیمان کے سیاسی قیدیوں کی بھوک ہڑتال سے پیدا شدہ صورت حالات پر بحث کرنے کے لئے تحریک التواء پیش ہوئی۔ جس وقت مسٹر گوسوامی یہ تحریک پیش کررہے تھے۔ اسمبلی ہال کے باہر دس ہزار طلباء نے انڈیمان کے قیدیوں سے ہمدردی کے طورپر زبردست مظاہرہ کیا۔ نوجوان جلوس بناکر اسمبلی تک آئے۔ اور انہوں نے احاطہ اسمبلی میں زبردستی داخل ہونے کی بھی کوشش کی۔ اس پر وزراء ڈر گئے۔ اور اپنی حفاظت کے لئے پولیس کی امداد طلب کی۔ پولیس نے احاطے کے تمام دروازے بند کردیئے۔ اس کے بعد طلباء "ڈی وزارت مردہ باد" کے نعرے لگاتے ہوئے خود بخود منتشر ہوگئے۔

اپنی دردناک حالت کی طرف اپنے ہم وطنوں کی توجہ دلانے کیلئے انڈیمان کے 200انقلاب پسند قیدیوں نے بھوک ہڑتال کرکے تمام ملک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ اس معاملے پر تحریک التواء پر بحث کے دوران سرناظم الدین نے کہا تھا۔ کہ انڈیمان کے قیدیوں نے سنگین کی نوک پر اپنے مطالبات پیش کئے ہیں۔ اس پر شری سبھاش بوس نے ڈلہوزی سے بنگال کے ڈمی ہوم منسٹر کو جواب دیتے ہوئے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا-:

"بنگال کے چند وزراء کے بیانات کو نفرت کا جذ۶ہ پیدا ہوئے بغیر پڑھنا مشکل ہے۔ اصلاحات سے پہلے کسی بیورو کریٹ نے اتنی غیر ذمہ دارانہ اور منتقمانہ باتوں کی نمائش نہیں کی تھی۔ جتنی کہ یہ وزیر کررہے ہیں۔ سرناظم الدین ہوم منسٹر بنگال نے پچھلے دنوں یہ کہا تھا۔ کہ انڈیمان کے قیدیوں نے سنگین کی نوک پر اپنے مطالبات پیش کئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کالے پانی میں قیدیوں کو سنگینیں پیش کی گئی ہیں۔ یا نہیں، لیکن یہ قیمتی ہتھیار تو سرناظم الدین اور ان کے ساتھیوں کی ملکیت ہے۔ میں سرناظم الدین کو بتانا چاہتا ہوں۔ کہ بھوک ہڑتال کے معاملہ پر بیورو کریٹ گورنمنٹ بھی چجھکتی رہی ہے۔ سرناظم الدین کو گاندھی جی کے تاریخی برت کی یاد دہانی کرانے کی ضرورت نہیں۔ مضبوط گورنمنٹیں مراعات دینے سے کبھی نہیں گھبراتیں۔ 1933ء میں انڈیمان میں بھوک ہڑتال سے تین سیاسی قیدی مرگئے تھے۔ اگر موجودہ ہڑتال جاری رہی۔ تو بہت سے سیاسی قیدیوں کی موت یقینی ہے۔ نان حالات میں افوسناک واقعات کو روکنا کانگریسی وزارتوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں فوراً اپنے اپنے صوبہ کے قیدیوں کو واپس بلالینا چاہیے۔"

،جوں جوں دن گزرتے گئے۔ انڈیمان کے بھوک ہڑتالیوں کی حالت نازک ہوتی گئی۔اس سے ملک بھر میں سنسنی پھیل رہی تھی۔

دوسری طرف گورنمنٹ ہند کا رویہ نہایت افسوسناک تھا۔ سرکاری طورپر اعلان کردیا گیا تھا۔ کہ جب تک بھوک ہڑتال ختم نہ ہوگی۔ حکومت دہشت پسند قیدیوں کی واپسی کے سوال پر غور نہ کرے گی۔ جب حالات زیادہ ناخوشگوار صورت اختیار کرگئے۔ تو ہندوستان کے سرکردہ لیڈروں نے انڈیمان کے بھوک ہڑتالیوں کو ایک تار بھیجا۔ جس میں ان سے بھوک ہڑتال ترک کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ ابھی اس تار کا کوئی جواب نہ آیا تھا۔ کہ 21اگست کے روز اخباری نمائندوں نے سرناظم الدین ہوم منسٹر بنگال کو گھیر لیا۔ اور ان سے متعدد سوالات پوچھے انہوں نے طوطے کی طرح حکومت ہند کی پالیسی بیان کرتے ہوئے یہ یقین دلایا۔ کہ جونہی بھوک ہڑتال ختم ہوجائے گی۔ تمام سیاسی قیدیوں کو انڈیمان سے واپس بلالیا جائے گا۔

بھوک ہڑتال کے اس نازک مرحلے میں جب سینکڑوں محبان وطن ہندوستان سے دور درز انڈیمان کے دوزخ میں زندگی اور موت کی آخری کشمکش میں مصروف تھے۔ بعض کانگریسی لیڈروں نے تشدد اور عدم تشدد کے جھگڑے کو پھر سے زندہ کرکے اپنی کوتاہ اندیشی کا بدترین اور انتہائی ذلیل ثبوت دیا۔ ان نام نہاد لیڈروں کے منہ میں لگام دینے کیلئے شری سبھاش بوس نے کہا۔

"یہ صرف ہندوستان ہی ہے۔ جہاں تشدد اور عدم تشدد کا سوال اٹھایا جاتا ہے۔ کیا یہ امر واقع نہیں کہ کئی ممالک میں اس وقت جولوگ برسر اقتدار ہیں۔ کسی وقت بغاوتر کے الزام ملیں پھانسی کی کوٹھڑیوں میں بند رہ چکے ہیں۔ کیا تاریخ اس بات کی شاہد نہیں۔ کہ جرمنی روس، اٹلی، اسپین اور آئرلینڈ کے موجودہ حکمران کسی وقت دہشت انگیزی کے الزام میں جیلوں میں بند تھے۔ زیکوسلوواکیہ کا صدر اور ٹرکی کا کمال پاشا بھی تو کسی وقت باغی سمجھے جاتے تھے۔ نامعلوم پھر ہندوستان میں عدم تشدد اور تشدد کا مسئلہ کیوں بار بار اٹھایا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے دیش کی خدمت کرتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی طریقہ اختیار کیوں نہ کریں۔ میری نگاہ میں بصد احترام کے قابل ہیں۔"

25اگست کو یہ معاملہ مرکزی اسمبلی میں اٹھایا گیا۔ اور وہاں اس مسئلے پر گورنمنٹ کو شکست فاش ہوئی۔ تحڑیک التواء کے خاتمے پر شری بھولا بھائی ڈیسائی مسٹر ستیہ مورتی اور مسٹر موہن لال سکسینہ ممبران مرکزی اسمبلی نے ہوم ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ ہند کی معرفت بھوک ہڑتالیوں کو مندرجہ ذیل بحری تار ارسال کیا-:

"مرکزی اسمبلی نے تمہارے ہندوستان میں واپسی کے حق میں ووٹ پاس کیا ہے۔ مہربانی کرکے اب بھوک ہڑتال ترک کردیجئے۔"

اس تار کے پہنچنے کے بعد سات کے سوائے باقی ماندہ تمام بھوک ہڑتالیوں نے بھوک ہڑتال ملتوی کردی۔ اور دو روز بعد شری سرت چندر بوس و گاندھی جی کی اپیل پر ان سات دیش بھگتوں نے بھی بھوک ہڑتال ترک کردی۔ اس بھوک ہڑتال کے سلسلے میں ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ پبلک کے سامنے آیا۔

گاندھی جی نے بھوک ہڑتالیوں کے مطالبات کی حمایت کرنے سے پہلے گورنمنٹ ہند کے ذریعے انہیں ایک مراسلہ بھیجا۔ جس میں ان سے دریافت کیا گیا تھا۔ کہ کیا اب بھی ان کا وشواس تشدد میں ہے؟جب انڈیمان کے قیدیوں نے جواباً لکھا کہ اب ان کے خیال میں دہشت پسندی کا حربہ بیکار ہوچکا ہے۔ تو اس جواب کے بعد ہی گاندھی جی نے ان کے حق میں آواز اٹھائی۔ خدانخواستہ اگر انقلاب پسند۔ بھوک ہڑتالی گاندھی جی کو یہ لکھ دیتے۔ کہ وہ عدم تشدد کے اصول پر کاربند رہنے کو تیار نہیں۔ تو پھر نامعلوم گاندھی جی کیا قدیم اٹھاتے۔ شری سبھاش بوس کو گاندھی جی کی اس افسوسناک حرکت کا اس قدر افسوس ہوا۔ کہ انہوں نے پبلک طورپر اس قسم کی ذہنیت کی مذمت کی۔ انڈیمان کی بھوک ہڑتال ماہ اگست 1937ء میں ختم ہوئی تھی۔ اگلے ماہ انڈیمان سے قیدیوں کو ہندوستان کو واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

تقریباً پانچ ماہ ڈلہوزی میں قیام کے بعد شری سبھاش بوس 5اکتوبر 1937ء کو کلکتہ واپس جاتے ہوئے لاہور تشریف لائے۔ ان کے آنے کی خبر بالکل خفیہ رکھی گئی تھی۔ لاہور میں پون گھنٹہ قیام کے بعد آپ بذریعہ میل کلکتہ روانہ ہوگئے۔ ڈلہوزی میں قیام سے ان کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ جب آپ سے آپ کی صحت کے متعلق دریافت کیا گیا۔ تو آپ نے کہا-:

"ویسے تو میں بالکل تندرست ہوں۔ مگر ڈاکٹروں کی خواہش ہے۔ کہ ابھی ہیں کہ ہفتے اور آرام کروں۔ تاکہ میری صحت کے خراب ہونے کا امکان نہ رہے۔ اس لئے اب کچھ دنوں کے بعد میں کرسیونگ چلاجاؤں گا۔ اگر میری صحت ٹھیک رہی۔ تو کلکتہ میں ہونے والی آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ میں بھی شامل ہونگا۔

پنجاب کی صورت حالات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا-:

بنگال منسٹری کی طرح پنجاب کی یونینسٹ وزارت نے بھی جو رجعت پسندانہ پالیسی اختیار کی ہے۔ وہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔"

7اکتوبر کو سبھاش بوس کلکتہ پہنچ گئے۔ جب آپ اسٹیشن پر اترے تو بنگال پراونشل کانگریس کمیٹی کی طرف سے آپ کو پھولوں کے ہاروں سے لادیا گیا۔ کلکتہ میں دودن قیام کرنے کے بعد آپ کرسیونگ روانہ ہوگئے۔ دوہفتہ بعد آجپ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس کے سلسلے میں پھرکلکتہ تشریف لائے۔ اور چند روز بعد آپ پھر کلکتہ کے میئر چنے گئے۔

نظربندوں کی رہائی کے سلسلے میں شری سبھاش بوس نے بنگال گورنمنٹ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اور بنگال کی ڈمی وزارت کی جو مذمت کی تھی۔ آخر اس کا نتیجہ نکل آیا۔۔۔ بنگال کی مردہ منسٹری حرکت میں آگئی۔ اور 1100نظر بندوں کی رہائی کے احکام جاری کردیئے گئے۔ لیکن یہ رہائیاں ایک پولیٹیکل فراڈ سے زیادہ اہمیت نہ رکھتی تھیں۔ کیونکہ گاؤں اور گھروں میں نظر بند صرف ان 1100۔ اشخاص کی رہائی کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ جو پہلے ہی جیلوں اور کیمپوں سے باہر تھے۔ شری سبھاش بوس گورنمنٹ کے اس پاکھنڈ کو فوراً بھانپ گئے۔ ایک ملاقات کے دوران آپ نے کہا-:

"نظر بندوں کی رہائیوں کے اعلان سے مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہے۔ میں نہیں جانتا۔ کہ مہاتما جی کی اس کے معتلق کیا رائے ہے۔ نظر بندوں کی دو جماعتیں ہیں۔ ایک وہ جو اپنے دیہات، یا گھروں میں نظر بند ہیں۔ اور دوسرے وہ جیلوں یا کیمپوں میں رکھے گئے ہیں۔ مؤخر الذکر جماعت پر اس اعلان کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ پچھلے ماہ جون سے ہم سن رہے ہیں کہ 1100نظر بند رہا کئے جائیں گے۔ لیکن کیمپوں اور جیلوں سے کوئی نظر بند رہا نہیں کیا گیا۔ پچھلے کئی ماہ سے ایک طرف ہمارے اور گاندھی جی کے درمیان اور دوسری طرف گاندھی جی اور گورنمنٹ کے درمیان جو جدوجہد ہورہی تھی۔ اس کا جیہ نتیجہ ہوا ہے۔ کہ محض ان اشخاص کو جو کئی سال سے دیہات اور گھروں میں نظر بند ہیں۔ رہا کردیا گیا ہے۔"

18نومبر کو شری سبھاش بوس بحالی صحت کے لئے پھر یورپ روانہ ہوگئے روانگی سے پہلے آپ نے بتایا-:

"گومیری صحت اچھی ہوگئی ہے۔ لیکن وزن میں کمی ہورہی ہے۔ اس لئے میں یورپ کے طبی ماہروں سے مشورہ کرنے کے بعد بہت جلد ہندوستان واپس آجاؤں گا۔"

اس سے یہ بات واضح تھی۔ کہ آپ محض بحالی صحت کے لئے یورپ روانہ ہورہے ہیں۔ لیکن غیرملکی اخبارات کا کچھ اور ہی خیال تھا۔ امریکن اخبار "شکاگو ٹریبون" کے لندنی نامہ نگار نے قیاس کا ٹٹؤ دوڑاتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا۔ کہ آپ جرمنی اور اٹلی سے ساز باز کرنے گئے ہیں۔

8جنوری 1938ء کو شری سبھاش بوس لندن پہنچ گئے۔ یاد رہے۔ اس سے پیشتر جب آپ یورپ میں دو تین سال رہے تھے۔ تو انہیں حکومت برطانیہ نے انگلستان آنے کی اجازت نہ دی تھی۔ لیکن اب حالات بدل چکے تھے۔ ہندوستان میں یہ عام چرچا تھا۔ کہ آپ کانگریس کے آئندہ صدر بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں شری سبھاش بوس کو جوممتاز درجہ مل چکا تھا۔ اس کے پیش نظر برطانوی گورنمنٹ ان کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی۔۔۔

انگلستان پہنچنے پر وکٹوریہ اسٹیشن پر ہندوستانیوں نے آپ کا استقبال کیا۔ اور اسٹیشن "سبھاش زندہ باد" کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ایک ملاقات کے دوران آپ نے کہا-:

"لندن آنے کا میرا کوئی سیاسی مقصد نہیں۔ لیکن میں ان دوستوں سے تبادلہ خیالات کرنا چاہتا ہوں۔ جنہیں ہندوستانی مسائل سے گہری ہمدردی ہے۔"

ایک اور سوال کے جواب میں آپ نے کہا-:

"اخبارات میں میرے خلاف غلط پراپیگنڈا ہورہا ہے۔ ہٹلر اور مسولینی سے ملاقات کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔ جہاں تک بین الاقوامی مسائل کا تعلق ہے۔ ہندوستانیوں کو چین سے گہری ہمدردی ہے۔ اور ہم جاپان کی جارحانہ سرگرمیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔"

11جنوری کو لندن کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے کہا -:

ہندوستان کی قسمت باقی بنی نوع انسان سے وابستہ ہے بہم اس بات کو محسوس کررہے ہیں۔ کہ ہندوستان کی آزادی ڈیموکریسی اور سوشلزم کے لئے دنیا کی اس جدوجہد کا ایک حصہ ہے جس میں آج ایبے سینیا۔ چین اور اسپین بھی شریک ہیں۔ ہندوستان بین الاقوامی مسائل کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ میں یہ ماننے کیلئے تیار نہیں۔ کہ ہماری جدوجہد ختم ہوگئی ہے۔ ہم اس جدوجہد کو خواہ وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ جاری رکھیں گے۔ ہندوستان کا نوجوان طبقہ آزمائشوں کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ اگر کانگریس لیڈر ناکام رہے۔ تو ہندوستان فوراً نئے لیڈر تلاش کرلے گا۔"

ادھر آپ لندن میں اعتدال پسند کانگریسی لیڈر شپ کی دھجیاں اڑارہے تھے۔ دوسری طرف کانگریس ہائی کمان آپ کی قربانیوں سے متاثر ہوکر آپ کو انڈین نیشنل کانگریس کے ہری پورسیشن کا صدر بنانے کا فیصلہ کرچکی تھی۔ گاندھی جی جانتے تھے۔ کہ اگر شری سبھاش بوس نے کھلم کھلا کانگریس کے خلاف بغاوت کرکے کسی نئی پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ تو انڈین نیشنل کانگریس سریتج بہادر سپرو کی لبرل فیڈریشن کی طرح نوجوانوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار ہوجائے گی۔ ان حالات میں انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے اعلان کردی اگیا۔ کہ آپ باقاعدہ اور بلامقابلہ ہری پوری کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

***

شہیدمیربالاچ مری مختصر تعارف

شہیدمیربالاچ مری مختصر تعارف

(ادارہ سنگر )


بلوچ تحریک آزادی کے سرخیل، بابائے بلوچ مزاحمت، ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما سردار خیربخش مری کے دست راست ( آزادی پسند تنظیم) ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘ کا سربراہ سمجھاجانے والابلوچ گوریلا لیڈر اورانقلابی رہبر شہیدسپہ سالارنوابزادہ میربالاچ مری17 جنوری 1966 کو بلوچستا ن کے ایک پسماندہ علاقہ مری بلوچوں کے ہیڈکوارٹر کوہلو کاہان میں پیدا ہوئے ۔بلوچ سپوت بالاچ مری نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے ایک گرائمر سکول سے حاصل کی اور 70کی دہائی میں بلوچ قوم پرست رہنماؤں بلاخصوص نواب مری اور مری قبیلہ کے ہزاروں لوگوں کے ہمراہ افغانستان میں جلاوطنی اختیار کی اور وہاں سے ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کی حصول کیلئے اس وقت کے بلوچ قومی تحریک سے ہم آہنگی رکھنے والے دوست ملک روس چلے گئے اور ماسکو کے ایک یونیورسٹی سے کمیونیکشن اور ماسٹرز ان انجنئیرنگEngineering کی ڈگری حاصل کی۔ افغانستان اور روس میں بلوچ نوجوانوں کے سفیر مانے جانے والے شہید نوجوان بلوچ رہنماطویل جلاوطنی کے بعد اپنے بزرگ والد اور قبیلے کے ہزاروں لوگوں کے ہمراہ 1993کے آغاز میں افغانستان سے واپس اپنے آبائی سرزمین بلوچستان تشریف لائے اور 7سال کے دورانئیے میں انہوں نے سیاسی پلیٹ فارمزسے بلوچ جدوجہد کو آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی اور بلوچ قومی تحریک کی انٹرنیشنل سطح پر پزیرائی کو اہمیت کا حامل سمجھ کر بین الاقوامی اداروں کے سامنے بلوچ قومی سوال کو اجاگر کرنے کی غرض سے 1999میں برطانیہ چلے گئے اسی دوران جسٹس نواز مری قتل کیس میں ملوث ٹھہرائے گئے لیکن تادم تحریر اس کیس کا نہ تو فیصلہ ہوسکا اور نہ ہی شہید سالار اوران کے بزرگ والد یا کسی بھی شخص پر یہ کیس ثابت ہوا ہے۔ بلوچ قوم کا خیال ہے کہ سیاسی انتقام کی بنا پر جسٹس قتل کیس میں نواب مری اور ان کے صاحبزادوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔’’تاریخ کے بالاچ ‘‘کو امر کرنے والے شہیدِ سالار بالاچ مری نے دوران جلاوطنی’’ سندھی بلوچ فورم‘‘،’’بلوچستان ایکشن کمیٹی یوکے‘‘ اور ’’بلوچ رائٹس کمیشن‘‘ کی نمائندگی حاصل کی اور بین الاقوامی سطح پر بلوچ مسئلے کو بھر پور انداز میں اجاگرکیا۔ لندن میں جلاوطنی کے ایام میں شہید گوریلا لیڈر نے برطانیہ،امریکہ،سویڈن سمیت دیگر یورپی اور خلیجی ممالک میں مقیم آزادی پسند بلوچ رہنماؤں و کارکنوں سے ’’کونسل فار انڈپنڈینٹ بلوچستان‘‘ کے قیام کی تجویز دی لیکن مناسب وقت کے انتظار کو ضروری سمجھ کر اس کا اعلان اس وقت نہ ہوسکا۔’’ بلوچ انقلابی ‘‘کی جلاوطنی کے ایام میں ان کے حامیوں نے 2002کے عام انتخابات میں کوہلو ،کاہان کے صوبائی نشست پر ان کے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے۔ شہید بالاچ مری کے عدم موجودگی اور ان کے مخالفین کو سرکاری حمایت حاصل ہونے کے باوجود انہیں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی، چونکہ دوران جلاوطنی شہید کو جسٹس نواز مری قتل کیس میں ملوث قرار دیا گیا تھا اس لئے انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں قبل از گرفتار ی ضمانت جمع کرادی اورچار سالہ جلاوطنی کے بعد بلوچستا ن تشریف لائے اور اپنے حامیوں کے ایک جلوس کی شکل میں بلوچستان اسمبلی کے حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے حلف برداری کی تقریب کے دوران پاکستان سے وفاداری کے بجائے بلوچستان سے وفادار ی کا نعرہ بلند کیا جس پر نہ صرف ایوان بلوچستان میں کھلبلی مچ گئی بلکہ اسلام آباد کے شیش محلوں میں بیٹھے لوگوں کے ذہنوں میں بھی ایک جھٹکا سا آیا۔ قومی آجوئی کیلئے پارلیمنٹ کے مراعات کو خیرباد کہنے والے بالاچ مری نے بلوچستان اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ’’ پنجاب کے زیر تابع اسمبلیاں محکوم اور مظلوم قوموں کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتیں کیونکہ مرکزی اسمبلی میں بلوچستان ،سندھ اور سرحد کی ممبران کی قلیل تعداد موجود ہے جبکہ پنجاب عددی اکثریت میں سب پر حاوی ہے مقبوضہ بلوچستان و دیگر دونوں صوبے مشترکہ طور پر پنجاب کی مرضی کے بنا کوئی بل پاس کرنے کے اہل نہیں ایسے اسمبلیوں سے مظلوم و محکوم قوموں کی تقدیر بدلنے کی امید لگانا قوم اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ آزاد بلوچستان کا خواب دل میں لئے اپنی سرزمین پر فدا ہونے والے عظیم ہیرو میر بالاچ مری اسمبلی کے صرف دو سیشن میں شرکت کرنے کے بعد ممبر ہوتے ہوئے اسمبلی اجلاسوں سے یکسر غیر حاضر رہے اسی دوران شہید انقلاب کو’’ مسلم لیگ ق‘‘ میں شمولیت کیلئے بھاری مراعات اور اگلی نشستوں تک کی پیشکشیں کی گئیں مگربلوچ قومی آجوئی کے موقف پر اٹل بلوچ رہنمانے ہمیشہ بلوچ قوم کی عظیم مقصد کو ذاتی مفادات سے زیادہ ترجیح دی اور کئی مواقع پر انہوں نے اسمبلی کی نشست کو’’ ٹشو پیپر ‘‘سے تشبیہہ دے کر اس کی اہمیت کو نہایت ہی کم شے بیان کیا حالانکہ قوم پرستی کے دعویدار دیگر رہنماؤں کے سامنے اسمبلی نشست کو قومی آزادی سے بڑھکر ترجیح دی جاتی ہے مگر بلوچ کارواں کی شمع فروزاں کرنے والے بلوچ گوریلا لیڈر شہید بالاچ چونکہ دعویداری کے بجائے حقیقی قوم پرست رہنما تھا اس لئے انہوں نے اسمبلی نشست ، پرکشش مراعات اور عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکراکراپنے آج کو بلوچ قوم کے کل کے لئے قربان کرنے کو ترجیح دے کر پہاڑوں کا رخ کیا جہاں پر بلوچ سرمچار کئی سالوں سے دشمن افواج کے خلاف برسر پیکار تھے بلوچ قومی آجوئی کیلئے عیش و آرام کو چھوڑ کر پرخطر راہوں کا انتخاب کرنے والے بالاچ مری جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ،فہم و فراست کے مالک ،اپنے دھرتی کے جذبے سے سرشار عظیم گوریلا لیڈر کی قیادت نے نہ صرف بلوچ سرمچاروں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ بلوچ قومی تحریک کو ایک جدید سائنسی انداز میں جاری رکھنے میں اہم کردار اد اکیا۔ بلوچ قومی آجوئی کے جوانسال رہنمابالاچ مری نے اپنے آبائی علاقہ پہنچتے ہی سب سے پہلے مری بگٹی دیرینہ خونریز تنازعہ کے تصفیے کو ضروری سمجھا اور وہ یہ درد لئے جب نواب بگٹی کے پاس پہنچا تو نواب صاحب نے نہ صرف حامی بھر لی بلکہ اس مسئلے کے حل کیلئے بگٹی قبائل کی طرف سے تمام تر اختیارات اپنے سیاسی جانشین نوابزادہ براہمدغ بگٹی کے سپرد کیے اور دونوں نوابزادگان اور قبائلی معتبرین کی خواہش پر اس تنازعہ کے حل کیلئے مری بگٹی سرحدی علاقہ ’’ڈوئی‘‘ کے مقام کو چنا گیا اور چند ہی دنوں کے اندر اندر شہید سپہ سالار نوبزادہ بالاچ مری اور موجودہ آزادی پسند بی آر پی کے سربراہ نوابزدہ براہمدغ بگٹی کی قیادت میں’’ ڈوئی‘‘ کے مقام پر مری بگٹی دیرینہ قبائلی جنگ و جدل کا خاتمہ کردیا گیا اور مری بگٹی آپس میں شیر و شکر ہوگئے ۔یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے اس سے پہلے بھی 70کی دہائی میں شروع ہونے والی مری بگٹی قبائلی خونریز جنگوں کے خاتمے کیلئے مرحوم جنرل شیرو مری اور نواب بگٹی کی قیادت میں ایک عظیم اور تاریخی جرگہ نے ’’سارت آف‘‘ (مری علاقہ) میں تمام تصفیہ طلب مسائل حل کئے تھے۔ لیکن کئی دہائی گزرنے کی وجہ سے اس فیصلے کے بعد کئی چھوٹے موٹے جھگڑوں نے قومی جنگ کی شکل اختیار کی تھی مگر نواب مری اور نواب بگٹی کی ذاتی خواہشات پر نوابزادگان کی سربراہی میں ان مسائل کے حل کیلئے ایک اور قومی جرگہ نے آپس کے تمام معاملات کو ختم کرکے قوم کو آپس میں متحدکیامری بلوچوں کی بلوچ قومی تحریک سے دیرینہ وابستگی اورقومی آجوئی کی تحریک میں ان کا کردار کسی تعارف و تعریف کا محتاج نہیں مگر اس قومی جرگہ اور قومی مسائل کے حل نے بگٹی بلوچوں کو بلوچ کارواں کے قریب تر کرنے میں اہم کردار ادا کیا بگٹی بلوچوں میں چونکہ اس سے قبل قابض پاکستان کے خلاف شکایات میں روز بروز اضافہ ہوتاجارہا تھا قابض پاکستان سے دوریاں بڑھ رہی تھیں اور کئی سالوں کے بعد بگٹی بلوچوں میں بلوچ قومی تحریک اور قومی آجوئی کے رجحانات میں اضافہ ہورہا تھا مری اور بگٹی بلوچوں کے آپس کی اتحاد نے سنگ میل کا کردار ادا کیا شہید بالاچ مری چونکہ ہمہ وقت مری علاقہ اور شہید نواب بگٹی ڈیرہ بگٹی میں موجود تھے اس لئے وقتاً فوقتاً اہم قومی مسئلوں پر آپس میں بیٹھ کر گفت و شنید کرتے رہتے اور بلوچ قومی تحریک کو مزید کامیابی کی راہ پر ڈالنے کیلئے بحث و مباحثہ کرتے رہتے اس دوران نواب بگٹی اور بالاچ مری بلوچ مزاحمتی تحریک کے سرخیل شمار کئے گئے نواب بگٹی واضح کرچکے تھے کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کردی گئی تو اس مرتبہ وہ جنگ کی کمان خود کریں گے دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ بگڑتا گیا اور پورا بلوچستان میدان کارزار کا منظر پیش کرنے لگا۔ گوکہ حکومت نے بدیسی پریس اور اپنے زرخریدوں کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کی غلط تشریح کرنے کی حتی الامکان کوشش کی مگر بلو چ پریس اور غیرملکی ذرائع ابلاغ باالخصوص ’’بی بی سی‘‘ نے حکومتی تمام دعوؤں پر سے پردہ چاک کر نے میں اہم کردار اداکیا۔ ابتدا میں نواب صاحب کے ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی 17مارچ 2005کو ڈیرہ بگٹی میں ان کے رہائش گاہ پر سینکڑوں گولے برسائے گئے اس کاروائی میں نواب صاحب خود تو محفوظ رہے مگرکئی درجن نہتے ،سول بلوچ اور اقلیتی برادری کے لوگ شہید و زخمی ہوگئے۔ بلوچ مزاحمتی تحریک کی ہر سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ریاستی اداروں کے خلاف روز بروز بڑھتے واقعات کے رد عمل میں حکومت نے ایک مرتبہ پھر پوری ریاستی مشینری استعمال کرکے نواب بگٹی کو ڈیرہ بگٹی چھوڑنے پر مجبور کردیا نواب صاحب نے پیران سالی میں ڈیرہ بگٹی کے محلات کو چھوڑ کرپہاڑوں میں روپوش بلوچ مزاحمت کاروں کی کمان سنبھالی چند وقت تک ڈیرہ بگٹی کے قرب وجوار میں قیام کرنے کے بعد’’ڈاڈائے بلوچ‘‘ نے مری علاقے میں سکونت اختیار کی۔ کوہستان مری کے پہاڑی سلسلے ڈیرہ بگٹی سے نسبتاً زیادہ محفوظ تصور ہوتے ہیں نواب بگٹی کی ڈیرہ بگٹی سے نکل کر بلوچ سرمچاروں کو کمان کرنا قبضہ گیر حکمرانوں کو ہر گز گوارا نہ تھا اور بالاخر 26 اگست 2006 کو مری علاقہ تراتانی کے مقام پر ایک بہت بڑی فوجی کاروائی کے بعد حکومتی سطح پر نواب صاحب کے شہادت کی خبر آئی اس واقع میں کئی فوجی اعلیٰ عہدیدار اور سپاہی بھی مارے گئے ہیں۔ شہید کی شہادت کے ردعمل میں بلوچستان بھر میں مظاہروں ،جلاؤ ،گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہوا ۔کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا چند دنوں بعد ایک تابوت کو دفن کرکے حکومتی سطح پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ نواب صاحب کی جسد خاکی کو غار سے نکال کر دفن کیا گیا مگر نہ تو وہ تابوت ذرائع ابلاغ کے کسی نمائندے کے سامنے کھولی گئی اور نہ ہی بلوچ قوم کا کوئی بااعتماد شخص اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ واقعی اس تابوت میں عظیم بلوچ رہنما کی جسد خاکی موجود تھی اس لئے بلوچ حلقے ا بتک اس خبر کو مبہم قرار دے رہے ہیں۔نواب بگٹی کی شہادت کے واقع کے بعد بلوچ قومی تحریک کی کمان کے حوالے سے بلوچ قوم کی نظریں بلوچ قوم پرست رہنما نواب مری کے خیالات اور تصورات پر پورا اترنے والے بالاچ مری پر لگی رہیں اور بلوچ قومی تحریک کو زندہ و جاوداں رکھنے والے بلوچ گوریلا لیڈر نے بلوچ قوم کی توقعات سے بڑھکر بلوچ قومی تحریک کی کمان کی۔ شہری سہولیات اور آرائشوں کو چھوڑ کر پوری زندگی تکلیف دہ پہاڑی سلسلوں میں گزارنے کا عزم کرنے والے بالاچ مری کو بلوچ نوجوان اپنا آئیڈیل تصور کرنے لگے اور بلوچ حلقوں،تنظیمی دفاتر، کالج اور یونیورسٹیوں میں اسے چی گویرا کے نام سے پکارا جانے لگااور بعض اوقات بلوچ نوجوان ان کے خفیہ ٹھکانوں میں اس سے ملاقات کرکے سیاسی لیکچر لیتے رہے اور سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ نوجوانوں نے شہید انقلاب کے زیر کمان مسلح جدوجہد کی ٹریننگ حاصل کی اور بلوچستان کے طول و عرض میں جاری شہری گوریلہ جنگ اور منظم و کامیاب جدوجہد کے پیچھے شہید سپہ سالار کے ٹرینڈ کردہ نوجوانوں کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ عظیم گوریلا لیڈر بلوچ نوجوانوں اور مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے بلوچ آزادی پسند فرزندوں کے دلوں میں راج کرنے لگا اور اس بہادر اور عظیم ہستی کی تصاویر ہربلوچ گھر ،مہمان خانہ اور تدریسی کتب کی زینت بنتی گئی کہ اچانک 20نومبر 2007کو یہ خبر گردش کرنے لگی کہ بلوچ دھرتی کے فرزندوں کے چشم و چراغ اور بلوچ قومی آجوئی کا روشن سورج ہم سے جدا کردیا گیا۔60سالوں سے مظلوم و محروم قوم کی امیدیں جس عظیم لیڈر سے وابسطہ تھیں اس ہیرو کے اچانک شہادت کی خبر نے ہر بلوچ فرزند کو غم زدہ ،نڈھال اور ہر آنکھ کو اشکبار بنا دیادل یہ ماننے کو کہاں تیار تھا کہ ہر بلوچ کے دل کی دھڑکن اور بلوچ قومی آجوئی کی زندہ و جاوداں مثال بلوچ دھرتی کو الوداع کر چکا ہے۔ شہید انقلاب کی شہادت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی مختلف علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تمام بازار منٹوں میں بند ہوگئے پوری بلوچ آبادیوں میں سوگوار ماحول چھا گیا نوجوان ایک دوسرے سے گلے مل کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ہر بلوچ فرزند کی یہ خواہش تھی کہ کاش عظیم گوریلا لیڈر شہید انقلاب بالاچ مری جیسے عظیم ہستی کیلئے ملک الموت کوئی نعم البدل قبول کرلیتا تو بلوچ دھرتی کے غیور فرزند ہزاروں جان نثار کردیتے مگر قدرت کا قانون اٹل ہے اس کے حکم کے سامنے ہر شے بے بس ہے۔ بالآخر ماننا ہی پڑا کیونکہ بلوچ آزادی پسند تنظیم ’’بی ایل اے‘‘ کے ترجمان بیبرگ بلوچ اور شہید انقلاب کے بھائی نوابزادہ گزین مری نے عظیم گوریلا لیڈر کے شہادت کے خبر کی تصدیق کردی تھی مگر دیگر ساتھیوں کے سکیورٹی کو ملحوظ خاطر رکھ کر ’’بی ایل اے‘‘ اور نوابزادہ میرگزین مری نے شہادت کے مقام کے بارے میں بتانے سے گریز کیا۔ ’’انجمن اتحاد مری‘‘ نے عظیم گوریلا لیڈر کے شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آجوئی کی تحریکیں ایسے مسائل سے دوچار ہوتی ہیں مگر آخری فتح تک جدوجہد جاری رہے گی۔ بلوچ حلقوں کی ردعمل کے غیض وغضب سے بچنے کیلئے قبضہ گیر حکمرانوں باالخصوص بلوچ قومی قاتل فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے بالاچ مری کی شہادت میں نوابزادہ براہمدغ بگٹی کو ذمہ دار ٹھہراکر اپنی خوانخوار اور قبضہ گیر فوج کو اس واقعہ سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی۔ مگر شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ چند ہی روز قبل اپنے وردی والوں کی ایک بھیڑ کے درمیان کھڑے ہوکر انہوں نے بلوچ قومی استحصال کے راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام قوتوں کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس حکومتی پروپگنڈے سے متعلق جب ایک غیر جانبدار نشریاتی ادارے ’’بی بی سی‘‘ نے بلوچ تحریک آزادی کے روح رواں اور شہید سپہ سالار نوابزادہ بالاچ مری کے سیاسی استاد اور والد بزرگوارنواب خیربخش مری سے سوال کیا تو آزاد بلوچستان کے حامی ممتاز بلوچ رہنما نے بالاچ مری کو براہمدغ کا آنکھ قراردے کر ریاستی دعوؤں کو یکسر مسترد کردیا۔ اگلے ہی روز نوابزادہ گزین مری اور نوابزادہ حیربیار مری نے بھی اپنے والد کے موقف کو دھراتے ہوئے ریاستی دعوؤں کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دے کر ان کی سختی سے مخالفت کی اور نوابزادہ حیربیار مری کا کہنا تھا کہ براہمدغ بگٹی پر نہ صرف اعتماد ہے بلکہ اسے بلوچ تحریک آجوئی کا لیڈر مانتا ہوں اور شہیدانقلاب میر بالاچ مری کی شہادت کے بعد بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی کمان براہمدغ بگٹی نے ہی سنبھالی ہے۔ نوابزادہ براہمدغ بگٹی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران نوابزادہ بالاچ مری کو اپنے بھائی سے تشبیہ دے کر ریاستی دعوؤں کو ان کی پست ذہنیت کی علامت قرار دیا تھا۔ انتہائی ذمہ دار شخصیات کے یکے بعد دیگر ے حوصلہ افزاء بیانات کے بعد غاصب حکمرانوں کو مجبوراً خاموش رہنا پڑا۔
عظیم بلوچ گوریلا لیڈر کی شہادت کے واقعے کے بعد بھی حکومتی توقعات کے برعکس بلوچستان کے طول و عرض میں مزاحمتی کاروائیوں میں کمی ہونے کے بجائے مزید شدت پیدا ہوئی ۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریاستی فورسز جنہیں بلوچ قوم قبضہ گیر فورس سمجھتی ہے کے خلاف ہزاروں کامیاب حملوں کے ساتھ ساتھ سرکاری املاک ،گیس پائپ لائنوں ،ریل کی پٹڑیوں اور بجلی کے کھمبوں کے اڑانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔ شہید وطن ڈاڈائے بلوچ نواب محمد اکبر خان بگٹی اور شہید انقلاب نوابزادہ میر بالاچ مری کی شہادت کے بعد بھی جب پاکستانی ناکام ریاست کو یہ پکا یقین ہوگیا کہ بلوچ تحریک آزادی اب بھی کم ہونے کے بجائے مزید منظم اور کامیاب طریقے سے جاری ہے تو پاکستانی ایجنسیوں نے عالمی سامراجی ریاست برطانیہ سے گٹھ جوڑ کرکے شہید انقلاب کی شہادت کے صرف ایک ہفتہ بعد بلوچ قومی رہنما نوابزادہ میر حیربیار مری اور ان کے ساتھی فیض بلوچ کو جھوٹے اور من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کروایا۔لیکن پاکستانی فوجی جنرل مشرف اور ان کے ایجنسیوں کا یہ حربہ بھی ناکام ثابت ہوا بلوچ جدوجہد چونکہ جدید شعوری اور سائنسی بنیادوں پر جاری تھا اس لئے یکے بعد دیگرے عظیم قومی رہنماؤں کی جدائی اور لندن میں میر حیربیار مری کی گرفتاری کے باوجود بلوچ جدوجہد آزادی میں کمی محسوس نہیں کی گئی۔ بلوچستان بھر میں پاکستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے خلاف بلوچوں کا غصہ ابھرتا گیا اوربلوچستان میں تاریخ میں پہلی بار کئی شہروں میں بیک وقت برطانوی پرچم نذر آتش کردیا گیا اور بلوچ قوم کی طرف سے اپنے قومی رہنماؤں کی عدم رہائی کی صورت میں بلوچستان میں برطانوی مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی سامنے آگئے۔ ایسے میں برطانوی گورنمنٹ نے بلوچ قومی کیس کو برطانوی قانون کے مطابق ایک جیوری (جوکہ عوامی نمائندوں پر مشتمل تھا) کے سپرد کردیا بلوچ رہنماؤں کے وکلاء اور خود نوابزادہ حیربیار مری نے 72گھنٹوں تک برطانوی جیوری کے سامنے بلوچ قوم کی تاریخی ،جغرافیائی حیثیت پاکستانی قبضہ گیر یت کے خلاف بلوچ جدوجہد کے خدوخال اور اصل مقصد سے انہیں آگاہ کیا۔ جس پر برطانوی جیوری نے بلوچ قومی رہنماؤں کو نہ صرف اس کیس سے باعزت بری کردیا بلکہ پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف جاری بلوچ جدوجہد کی تائید کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیا۔ اس سے قبل بلوچ تحریک آزادی کے بانی نواب خیر بخش مری کے ایک اور فرزند نوابزادہ میر گزین مری کو انٹر پول کے ذریعے دبئی سے گرفتار کروایا گیا لیکن پاکستانی ایجنسیوں کی بغیر کسی ثبوت کے بلوچ رہنماؤں پر الزامات کی حقیقت جان کر گلف حکومت نے نوابزادہ گزین مری کو رہا کردیا تھا دبئی اور لندن سے ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد پاکستانی غاصب حکمرانوں،قابض فوج اور ان کی ایجنسیوں نے اپنے توپوں کا رخ افغانستان کی طرف موڑ دیا پاکستانی حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچ گوریلا لیڈر نوابزادہ براہمدغ بگٹی افغانستا ن میں بیٹھ کر بلوچ مسلح کاروائیوں کو لیڈ کررہے ہیں۔ یہاںیہ وضاحت ضروری ہے کہ کوہستان مری اور ڈیرہ بگٹی میں جنرل مشرف دور میں شروع کی گئی نسل کش فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں نے افغانستان میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے افغانستان نے ہر مشکل دور میں بلوچوں کا ساتھ دیا ہے اس سے قبل 70کی دہائی میں بلوچ تحریک آزادی کے روح رواں بلوچ قومی پیامبر نواب خیر بخش مری کی قیادت میں ہزاروں بلوچ فرزندوں نے دسیوں سال تک افغانستا ن میں سیاسی پناہ لی تھی۔ قومی آزادی کے جنگوں کے دوران پڑوسی اور دوست ممالک سے سیاسی پناہ لینا ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہا ہے لیکن نوابزادہ براہمدغ بگٹی کے بارے میں پاکستانی ریاست کا دعویٰ کہاں تک سچ ہے اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اگر فرض کریں نوابزادہ بگٹی صاحب افغان سرزمین ،دبئی ،لندن یا کسی اور ملک میں مقیم بھی ہو تو اسے حکومت پاکستان سے کسی سرٹیفکٹ کی ضرورت تو نہیں کیونکہ اجازت نامہ تو صرف ان لوگوں کیلئے ضروری ہے جو اپنے آپ کو اس ریاست کا شہری سمجھتے ہوں۔ بلوچ چونکہ پاکستان کے وجود اور ایک ریاست ہونے سے انکاری ہیں اور ان کے جدوجہد کا مقصد بلوچ قوم کیلئے ایک آزاد و خود مختار ریاست کا قیام ہے تو ایسے میں پاکستان کا کوئی بھی قانون بلوچ قوم اور ان کے قومی رہنماؤں پر لاگو نہیں ہوسکتا۔حکومت پاکستان نے نہ صرف افغانستان بلکہ جنیوا میں بھی پاکستانی ایجنسیوں نے انسانی حقوق کمیشن کے عالمی رکن نوابزادہ مہران بلوچ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی اور کئی بار اسے بلوچ قومی آزادی کیلئے جاری جدوجہد کے اصل مقصد اور بلوچ قوم پر پاکستانی ظلم و جبر کے خلاف اقوام متحدہ کے سیشن کے دوران بولنے سے روکنے کی ناکام کوشش کی تھی لیکن ہر بار اور ہر جگہ پاکستانی فوج اور ان کے ایجنسیوں کو ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا جو کہ اس کا مقدر ہے۔ بلوچ جدوجہد آزادی آج پوری دنیا میں متعارف ہوچکی ہے لندن ،دبئی ،سوئزر لینڈ میں پاکستانی ایجنسیوں کی بھرپورکوشش کے باوجود بلوچ رہنماؤں کو وہاں کا شہریت ملنا اور بلوچ قومی آزادی کے حوالے سے بسااوقات کانفرنسز کا انعقاد اور افغانستان میں ہزاروں بلوچ فرزندوں کی سیاسی پناہ بلوچوں کی سب سے بڑی سفارتی جیت ہے۔
***

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر

’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )

(گذشتہ سے پیوستہ)
( ساتویں قسط)

نیا پروگرام
ماہ ستمبر 1933ء میں شری سبھاش چندر بوس علاج کے لئے برلن پہنچ گئے۔ وہاں ہندوستانیوں کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے کہا-:
"سول نافرمانی کی تحریک فیل ہوگئی ہے۔ اس نے بیداری پیدا کرنے کے سوائے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اب ہندوستان کو نئے پروگرام کی ضرورت ہے۔"
جرمنی کی راجدھانی برلن کے بعد آپ روم (اٹلی) گئے۔ اور اٹلی سے سیدھے سوئٹیزرلینڈ پہنچے۔ ان کی گزشتہ سرگرمیوں۔ تقریروں اور تحریروں سے یہ بات واضح ہے۔ کہ جہاں ان کے دل ملیں دیش بھگتی اور حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہاں وہ ہندوستان کو غیروں کے پنجہ غلامی سے نجات دلانے کیلئے گاندھی جی کے طریق کار سے متفق نہ تھے۔ گاندھی جی ایک (FETISH) کے طورپر عدم تشدد کے پجاری ہیں۔ لیکن شری سبھاش بوس عدم تشدد کو اصول نہیں بلکہ محض ایک پالیسی خیال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہندوستان کی آزادی ہے۔ یہ آزادی کس طرقیہ سے حاصل کی جائے۔ اس کے متعلق وہ کسی خاص اصول کے پابندنہیں۔ اس کے برعکس گاندھی جی عدم تشدد کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ کہ ان کے خیال میں کسی دوسرے طریق سے حاصل کردہ آزادی ان کے لئے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ چنانچہ گاندھی جی اتنا آزادی پر زور نہیں دیتے۔ جتنا کہ طریق کار پر۔۔۔ پس ان دونوں لیڈروں میں ایک نمایاں اور زبردست بنیادی اختلاف پیدا ہوچکا تھا۔ اور جوں جوں وقت گزرتاگیا۔ ان دونوں کے درمیان اختلافات کی خلیج زیادہ وسیع ہوتی گئی۔ اس اصولی اختلاف کے علاوہ یورپ کی یاترا نے سبھاش بوس کو اس بات کا احساس بھی کرادیا۔ کہ کانگریس کو ایک بیرونی پالیسی اخٹیار کرتے ہوئے غیر ممالک کی ہمدردی بھی حآصل کرنی چاہیے۔ لیکن گاندھی جی اس خیال کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ماہ فروری 1934ء میں شری سبھاش بوس نے جنیوا سے ایک مضمون بھیجا۔ جو ہندوستان کے تمام قومی اخبارات میں شائع ہوا۔ اس مضمون سے شری سبھاش بوس اور گاندھی جی کے درمیان اختلافات نہایت آسانی سے سمجھ آشکتے ہیں لہٰذا اسے حروف بحرف ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں-:
"برطانوی اخبارات میں کچھ ایسے بیانات شائع ہوئے ہیں۔ جن سے میرے سوشل اور پولیٹیکل خیالات کے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ میں یہ بات واضح کردنینا چاہتا ہوں۔ کہ جب سے میں یورپ میں آیا ہو۔ میرا یہ یقین پہئلے کی نسبت زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ کہ ہمیں غیر ممالک کی موجودہ تحریکوں کا غور سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور اس مطالعہ کی روشنی میں نیز ہندوستان کپی آئندہ ضروریات کے مطابق اپنی ترقی کا پروگرام مرتب کرنا چاہیے۔ ہندوستان صدیوں تک طبعی اور دماغی لحاظ سے دنیا کے دیگر ممالک سے علیحدہ رہا ہے۔ اس دوران میں ہمیں جو تجربہ حاصل ہوا ہے۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھاکر دوسرے ممالک اور ا قوام کی طرف ہمدردانہ لیکن تنقیدی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ ہمارے لئے یہ صروری ہے۔ کہ ہم اپنی اندرونی اور بیرونی پالیسی میں اچھی طرح تمیز کریں۔ لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے۔ کہ انڈین نیشنل کانگریس کی بیرونی پالیسی میں بھی تک کوئی نشوونما نہیں ہوئی۔ اگر کسی قوم کے سوشل اور پولیٹیکل خیالات ہمارے خیالات نہ ملتے ہوں۔تو بیرونی پالیسی کے میدان میں ہمیں اس کے خلاف تعصب سے کام نہ لینا چاہیے۔ کیونکہ خیالات کے باوجود ہم دوسری اقوام کی ہمدردی حاصل کرسکتے ہیں۔ بیرونی پالیسی میں یہ ایک عالمگیر اور مخلصانہ اصول ہے اس اصول کی وجہ سے آج یورپ میں سوویت روس اور فاسسٹ اٹلی میں نہ صرف معاہدہ ممکن ہے بلکہ ان ہر دو متضاد خیالات کے ممالک میں معاہدہ طے بھی پاگیا ہے۔ اس لئے اگر دنیا کے کسی ملک کی طرف سے ہندوستان کے لئے ہمدردی کا اظحار ہو۔ تو ہمیں تہ دل سے اس کا جواب دینا چاہیے۔ اندرونی پالیس کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ہندوستان کو کمیونزم اور فاسزم میں سے ایک اختیار کرنا چاہیے۔ سخت غلطی ہے۔ سوشل اور پولیٹیکل معاملات میں کوئی نقطہ نگاہ یا تھیوری آخری نہیں ہوسکتی۔ سوشل اور پولیٹیکل تھیوریاں مختلف اقوام کی ضروریات کا نتیجہ ہیں۔ جس طرح انسانی زندگی میں تبدیلی اور ترقی ہوتی رہتی ہے۔ عین اسی طرح ان میں بھی ترقی اور تبدیلی ہوسکتی ہے۔ ان کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے۔ کہ موجودہ زمانے کی بہت سی دلچسپ انسٹی ٹیوشنیں ابھی محض تجربے میں۔ میرا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ ہندوستان کو موجودہ زمانے کی تحریوں سے اچھی اور فائدہ مند باتیں لے کر ان کا ایک مجوعہ تیار کرنا چاہیے۔ اس مقصد کی تکمیل کیلئے ہمیں ان تمام تجربات کا جو یورپ اور امریکہ میں کئے جارہے ہیں۔ ہمدردانہ تنقید سے مطالعہ کرنا پڑے گا۔ اگر ہم تعصب کی وجہ سے کسی تحریک یا تجربہ کا مطالعہ نظر انداز کردیں تو یہ ہماری بھاری بیوقوفی ہوگی۔۔۔ میں ہندوستان کی آئندہ تحریک کیلئے جو باتیں ضروری سمجھتا ہوں۔ ان کی وضاحت کردینا چاہتا ہوں۔
اول ہندوستان کی اندرونی ازسرنو تعمیر اور بیرونی حملوں سے حفاظت کیلئے یہ ضروری ہے۔ کہ ہندوستان کو ایک مرکزی گورنمنٹ کے ماتحت مضبوط کیا جائے۔
دوہم-:قومی حکومت کے قیام کے لئے یہ ضروری ہے۔ کہ ایک زبردست اور منضبط سیاسی پارٹی عوام کے مفاد کی حامی ہونی چاہیے۔ اور کسی خاص مفاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
سوئم-:پارٹی کا مقصد ہندوستان کے تمام طبقوں سے انصاف کرنا اور انہیں ہر قسم کی پولیٹیکل۔ مجلسی اور اقتصادی غلامی سے نجات دلانا ہونا چاہیے۔ اور اسے مذہب نسل۔ ذات۔ دولت اور جنس کی تمام بناوٹی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ گویا دوسرے الفاظ میں پارٹی کو ح۔۔۔یقی جمہوری حکومت کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے۔ جس میں تمام لوگوں کو مساوی اختیارتاق حاصل ہوں۔ اور اقلیتوں کا کوئی سوال نہ ہو۔
اس پارٹی کے سامنے فوری پروگرام یہ ہونا چاہیے۔ کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کو ہندوستان کے عوام کے آرگن میں تبدیل کردے۔ تجربہ نے ہمیں بتایا ہے۔ کہ جب تک کانگریس کی ساخت میں تبدیلی نہ کی جائے گی۔ اس سے کوئی سرگرم پروگرام اختیار کرنے کی توقع فضول ہے۔ مجھے کمیونسٹوں کے اس خٌال سے اختلاف ہے کہ کانگریس بڑے بڑے سرمایہ دار شہریوں کی ایک جماعت ہے۔ اور اس میں کسی کی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ مجھے وشواس ہے۔ کہ کانگریس میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور کہ اسے صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت بنای اجاسکتا ہے۔ لیکن کانگریس کی ساخت میں تبدیلی کرنے کیلئے ہمیں تین ریڈیکل گروپوں۔۔۔ نوجوانوں کسانوں اور مزدوروں کو اس میں شامل کرنا پڑے گا۔ اور انہیں کافی نمائندگی دینی پڑے گی۔ یہ صرف اس حالت میں ہی ہوسکتا ہے۔ جب کانگریس کی موجودہ کانسٹی ٹیوشن کو جوانگریزی طرز کی ہے۔ تبدیل کردیا جائے۔ اس لئے فوری ضرورت اس بات کی ہے۔ کہ تمام ملک میں ایک نئی پارٹی کی شاخیں قائم کرکے کانگریس کانسٹی ٹیوشن میں تبدیلی کی ایجی ٹیشن کی جائے۔ صرف اسی صورت میں کانگریس نیا پروگرام اختیار کرنے پر مجبور کی جاسکتی ہے۔۔۔"
اس مضمون سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ کہ گاندھی جی اور شری سبھاش بوس کے درمیان ایسے شدید اختلافات تھے۔ جنہیں بنیادی اختلافات قرار دیا جاسکتا ہے۔
ماہ اکتوبر 1934ء میں لندن کے ایک ماہوار رسالہ میں شری سبھاش کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ جس میں درج ہے-:
"گزشتہ ماہ نومبر 1933ء میں جائینٹ سلیکیٹ کمیٹی کے روبرو شہادت دیتے ہوئے مسٹر جے۔ سی فرنچ سابق آئی۔ سی۔ ایس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ کہ بنگال میں دہشت پسند تحریک کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے۔ کہ اس صوبہ میں موجودہ آفیشل پالیسی یعنی سخت گیری کو جاری رکھا جائے۔ اور اسے اصلاحات نہ دی جائیں۔ انہوں نے منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی کہا۔ کہ جنگ عظٌم کے بعد اور پھر 1927-28ء میں جب بنگال میں سیاسی قیدیوں کومعافی دی گئی۔ تو انقلابی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملی۔ اس شہادت کے خلاف میں پوری ذمہ داری سے مندرجہ ذیل باتیں کہنا چاہتا ہوں-:
اول-:
کبھی فیاضانہ معافی نہیں دی گئی۔
دوئم-:
انقلابی تحریک کی بنیادی وجوہ کو معلوم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔
سوئم-:
ان اشخاص کے جن پر انقلابی رجحان رکھنے کا شبہ ہے۔ نمائندوں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ پر پہنچنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔۔۔
چنانچہ میں ذاتی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں۔ کہ جب کبھی گورنمنٹ نے معافی کی تجویز کی۔ تو بنگال پولیس کی پولیٹیکل برانچ نے اس کی مخالفت کی۔ 1927ء میں میری حالت میں بھی ایسا ہوا۔ بنگال پولیس کی پولیٹیکل برانچ نے آخری دن تک میری رہائی کی مخالفت کی۔ اور اگر گورنر بنگال مداخلت نہ کرتے۔ تو میں کبھی بنگال آرڈیننس کی زد سے نہ بچ سکتا۔ نیز بنگال میں سیاسی قیدیوں کا یہ عام تجربہ ہے کہ ان کی رہائی سے پہلے اور بعد میں انہیں سخت پریشان کیا جات اہے۔ رہائی سے پیشتر پولیس افسران کے پاس جاتے ہیں۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ کیا قیدی کی ذہنیت میں ایسی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ کہ اسے رہا کیا جاسکے۔ اور رہائی کے بعد سی۔آئی۔ ڈی کی طرف سے انہیں اس قدر تنگ کیا جاتا ہے۔ کہ توبہ ہی بھلی۔۔۔ سی۔ آئی۔ ڈی کے آدمی سایہ کی طرح ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ کہ کسی سیاسی قیدی پر معافی کا خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ کہ جب ایک ذمہ دار میڈیکل مین نے انقلابی تحریک کی سائنٹیفک تحقیقات کی تجویز کی تھی۔ تو گورنمنٹ نے اسے ٹھکرادیا تا۔ نیز یہ ایک امرواقع ہے۔ کہ اگرچہ ہندوستان میں سیاسی تحریک کے لیڈرؤں کے ساتھ سمجھوتہ پر پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن انقلابی پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ سمجھوتہ پر پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اگر سیاسی تحریک کے لیڈر سمجھوتہ کی بات چیت میں انقلابی پارٹی کی نمائندگی کرنے کا ذمہ بھی لے لیتے۔ تو پھر گورنمنٹ کو انقلابی تحریک کے لیڈرؤں سے بات چیت کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ مگر چونکہ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس لئے گورنمنٹ کو انقلابی پارٹی کے ساتھ علیحدہ سمجھوتے کی ضرورت کا احساس کرنا چاہیے تھا۔
جب سرسٹینلے جیکسن بنگال کے گورنر تھے۔ تو انہوں ین سورگیہ مسٹر جے۔ ایم سین گپتا کی وساطت سے اس قسم کے ایک سمجھوتہ کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ کوشش ناکام رہی۔ کیونکہ متعلقہ سیاسی قیدی چاہتے تھے۔ کہ بات چیت براہ ان کے اور گورنمنٹ کے درمیان ہو۔ نہ کہ پولیس افسروں کے ذریعے۔ مگر گورنمنٹ اس پر رضا مند نہ ہوئی۔ اور اس گفت و شنید کا قبل ازوقت خاتمہ ہوگیا۔"
شری سبھاش بوس کے اس مضمون سے دہشت پسند تحریک کے متعلق گاندھی جی اور ان کے درمیان اختلافات واضح ہوگئے ہیں۔ گاندھی جی محض اس تحریک کی مذمت کرنا ہی اپنا فرض اولین اور آخری سمجھتے ہیں۔ ان کی تحریروں اور تقریروں سے صاف ظاہر ہے۔ کہ وہ اس تحریک کو جڑ سے اکھاڑنا ایک مقدس فرض سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس شری سبھاش بوس کا مطالبہ تھا۔ کہ اس تحریک کی سیاسی وجوہ دریافت کی جائیں۔ اور ہندوستان کی دیگر جماعتوں کی طرح اس تحریک کے لیڈروں سے بھی تصفیہ کی کوشش کی جائے۔
لیکن گورنمنٹ نے شری سبھاش بوس کی تجویز پر عمل نہ کیا۔ اگر گورنمنٹ اس معقول تجویز کو منظور کرلیتی تو جہاں ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں بچ جائیں۔ وہاں سینکڑوں انگریز انقلا پسندوں کی گولیوں کا نشانہ نہ بنتے۔ برطانوی گورنمنٹ آئر لینڈ کے انقلاب پسندوں سے سمجھوتہ کرکے اس ضمن میں مثال قائم کرچکی تھی۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوت اہے۔ کہ پھر اس پالیسی پر ہندوستان میں کیوں عمل نہ کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ یہ تھی۔ کہ جہاں آئرلینڈ میں حکومت برطانیہ کو انقلاب پسندوں کو کچلنے کیلئے کسی اہم سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل نہ تھی۔ وہاں ہندوستان کے انقلاب پسندوں کو ختم کرنے کیلئے اسے گاندھی جی کی آشیرداد حاصل تھی۔۔۔"

ہندوستان میں آمد اور پھر واپسی
ان دنوں شری سبھاش بوس کے پتا سخت بیمار ہوگئے۔ انہوں نے بستر مرگ پر پڑے یہ خواہش ظاہر کی۔ کہ وہ پرلوک سدھارنے سے پہلے اپنے پتر کے درشن کرنا چاہتے ہین۔ انچنہ 27نومبر 1934ء کو سبھاش جی کی ماتا نے وی آنا کے پتے پر ایک ضروری بحری تار ارسال کیا۔ جس میں درج تھا-:
"تمہارے پتاکی حالت تشویشناک ہے۔ فوراً پہلے ہوائی جہاز کے ذریعے گھرآؤ-"
شری سبھاش بوس کی ماتا نے بنگال گورنمنٹ کو بھی درخواست دی کہ یورپ میں متعلقہ حکام کو یہ ہدایت کی جائے۔ کہ شری سبھاش بوس کو پاسپورٹ دے دیں۔ لیکن برطانوی گورنمنٹ نے انہیں ہندوستان واپسی کے لئے پاسپورٹ دینے سے انکار کردیا اس پر آپ نے اسٹرین گورنمنٹ کو اپنے پتاکی بیماری کے تشویشناک حالات بیان کرتے ہوئے پاسپورٹ کی درخواست کی۔ اور آشٹرین گورنمنٹ نے آپ کو پردانہ راہ داری دے دیا۔ اسی روز شری سبھاش برطانوی گورنمنٹ کی اجازت لئے بغیر ہندوستران روانہ ہوپڑے۔ اور 3دسمبر شام کے 8بجے بذریعہ ڈچ ہوائی جہاز کراچی پہنچ گئے۔ ہوائی جہاز سے اترتے ہی آپ نے اپنے پتاکی حالت کے متعلق دریافت گیا۔
جب آپ کو بتایا گیا۔ کہ وہ سورگباش ہوچکے ہیں۔ تو آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندہ سے ملاقات کے دوران آپ نے کہا۔
"آپ سمجھ سکتے ہیں۔ کہ اس وقت میرے جذبات کیا ہیں گورنمنٹ برطانیہ نے مجھے بروقت پاسپورٹ نہ دے کر میرے اور میرے مرحوم پتاکے ساتھ شدید بے انصافی کی ہے۔ اگر میں بروقت ہندوستان پہنچ کر اپنے پتاکے آخری درشن کرلیتا۔ تو اس میں گورنمنٹ کو کیا نقصان پہنچا۔۔۔"
بعدازاں محکمہ محصولات کے افسران نے آپ کے سامان کیا چھی طرح تلاشی لی۔ اور ان کی نئی کتاب "ہندوستانہ کی جدوجہد" کی ٹائپ شدہ کاپیوں پر قبضہ کرلیا۔ پاس ہی سی۔ آئی۔ ڈی کے افسر چپ چاپ کھڑے رہے۔ اگلے روز آپ کلکتہ پہنچ گئے ہوائی جہاز کی آمد سے بہت پہلے اخبارات کے نمائندے اور شری سبھاش کے رشتہ دار ہوائی اڈے پر استقبال کے لئے موجود تھے۔ دو بجے بعد دوپہر حکام بالا کے حکم سے پولیس کو ہوائی اڈے میں تعینات کردیا گیا۔ اور اس کے بعد پرائیویٹ کاروں یا دیگر اشخاص کو میدان میں داخل ہونے کی اجیازت نہ دی گئی۔ صرف اخبارات کے چند نمائندے میدان میں جاسکے۔ جب جہاز کے پہنچنے کا وقت قریب آیا۔ تو اخبارات کے چند نمائندوں کپے سوائے تمام لوگوں کو میدان سے نکال دیا گیا۔ شری سبھاش کے رشتہ داروں کو بھی جنہیں پہلے اجازت دیدی گئی تھی۔ ٹھہرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ ساڑھے تین بجے شری بوس کے دوستوں اور مداحوں کی بھاری تعداد موٹروں اور بسوں میں ہوائی اڈے پر پہنچ گئی۔ اور ان کی آمد کا انتظار کرنے لگی۔ پورے ساڑھے چار بجے ہوائی جہاز دکھائی دینا شروع ہوا۔ اور چند منٹ میں زمین پر اتر آیا۔ جونہی جہاز پہنچا۔ پولیس افسر دروازے پر پہنچ گئے۔ شری سبھاش بوس سے ایک امتناعی حکم کی تعمیل کرائی گئی۔ اور اس کے بعد دومٹریں بلائی گئیں۔ ایک میں شری سبھاش بوس اور دوسری میں ان کے اسباب کو ان کے مکان پر بھیجا گیا۔ آپ کے ساتھ پولیس افسر بھی کار میں سوار ہوئے۔ جب یہ کاریں روانہ ہوئیں۔ تو درشن بھلاشیوں کے ایک بے پناہ ہجوم "شری سبھاش بوس زندہ باد" اور بندے ماترم کے نعرے لگائے۔ آپ کی کار کے پیچھے تمام پرائیویٹ کاروں اور موٹرو ں کو جانے کی ممانعت کردی گئی۔ جب آپ اپنی ماں۔ بھائیوں ا ور بہنوں سے ملے۔ تو ایک نہایت رقت انگیز نظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ جونہی ماتا کے گلے ملے۔ انتہائی رنج کے باعث بات نہ کرسکے۔ ان کے دکھ میں مایویس مزید دکھ پیدا کررہی تھی۔ ہوائی جہاز کے ذریعے ہندوستان واپس آنے کے باوجود آپ اپنے پتاکے انتم درشن نہ کرسکے۔ گورنمنٹ کی طرف سے آپ پر جس نوٹس کی تعمیل کرائی گئی۔ اس مضحکہ خیز اور عجیب و غریب امتناعی حکم کی نقل ذیل میں دی جاتی ہے۔
(1)فوراً ایلگن روڈ پہنچو۔ اور اس وقت تک وہاں رہو۔ جب تک مزید حکم نہیں دیا جاتا۔
(2)اس مکان سے غیر حاضر رہنے یا کسی بھی وقت وزیٹروں سے ملاقات کرنے سے احتراز کو۔
(3)جورشتہ دار مکان نمبر 2138ایلگن روڈ میں رہتے ہیں۔ ان کے سوا کسی شخص سے خط و کتاب نہ کرو۔ نہ ہی کسی اور رشتہ دار سے بات چیت کرو۔ (4)تمام کتابیں اور خط و کتابت بغیر کھولے ڈپٹی کمشنر پولیس اسپیشل برانچ کلکتہ کے حؤالے کرو۔ یہ خط و کتابت چاہے براہ راست آپ کو ملے۔ یا آپ کے کسی نوکر کے کسی ایجنٹ کے یا کسی اور پتے پر ہو۔ متعلقہ پولیس افسر کے حؤالے کرنی ضروری ہے۔
(5)جس وقت ڈپٹی کمشنر اسپیشل برانچ یا مجسٹریٹ ضروری خیال کریں۔ ان کو اپنے مکان کے اندر آنے کی سہولیات مہیا کریں۔
(6) اگر آپ نے دانستہ طورپر متذکرہ بالا ہدایات میں سے کسی کی تعمیل نہ کی۔ تو آپ کو سات سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔"
اس امتناعی حکم سے ہندوستان کی دفتری حکومت کی قابل نفرت ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کے بے تاج بادشاہ اور دنیا کے ایک معزز ترین سیاستدان سے اس قسم کا ذات آمیز سلوک صرف ہندوستان کی دفتر سی حکومت کے دماغ میں ہی آسکتا ہے۔ ایک تو گورنمنٹ ہند نے انہیں بروقت پاسپورٹ نہ دے کر انہیں اپنے پتاکے آخری درشنوں سے محروم رکھ کر ان کے دل کو مجروح کیا۔ اور دوسری طرف ہندوستان واپس آنے پر اس قسم کا امتناعی نوٹس دے کر زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ ہندوستانی لیڈروں سے اس قسم کی بدسلوکیاں ہمیشہ ملک میں اسنتوش پیدا کرنے کا کارن بنتی رہی ہیں۔ لیکن گورنمنٹ کو اس قسم کی ناجائز حرکتوں کے لئے آمادہ کرنے والے سی آئی ڈی کے احمق افسروں کو اس بات کا مطلقق احساس نہیں ہوتا۔
اس امتناعی حکم سے ظاہر تھا۔ کہ گورنمنٹ شری سبھاش بوس کو اپنی جنم بھومی میں زیادہ دیر ٹھہرنے کی اجازت نہ دیگی۔ ہمارے غیر ملکی حکمرانوں کی نگاہ میں شری سبھاش بوس ایک نہایت خطرناک آدمی ہیں۔ اس لئے حکومت انہیں بنگال میں رہنے کی اجازت نہ دینا چاہتی تھی۔ چنانچہ گورنمنٹ نے ان کے نام ایک اور نوٹس بھیجا۔ جس میں درج تھا۔ کہ انہیں ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ کے لئے ہندوستان میں رہنے کی اجازت نہ دے دی جائے گی۔
شری سبھاش نے اس ذات آمیز نوٹس کو پائے حقارت سے ٹھکراکر روی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اور گورنمنٹ کو جواب دیا۔ "میں اپنے پتاکے شرادھ تک ضرور ہندوستانمیں ٹھہروں گا۔ اگر گورنمنٹ کو یہ پسند نہ ہو۔ تو وہ مجھے گرفتار کرسکتی ہے۔" آپ کے اس جواب سے حکومت کا دماغ ٹھکانے آگیا۔ وہ ایسے حالات میں انہیں گرفتار کرکے ہندوستانیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی جرأت نہ کرسکتی تھی۔
یکم جنوری کو آپط کے پتاکا شراودھ تھا۔ اس دن پبلک کو یورپ سے واپسی کے بعد پہلی بار اپنے محبوب لیڈر کے درشن کرنے کا موقع ملا۔ کانگریسی لیڈر اور کلکتہ کے دیگر سرکردہ اصحاب کی بھاری تعداد ان کے مکان پر جمع ہوگئی۔ لیکن گورنمنٹ کے حکم کے مطابق آپ اپنے دوستوں سے بات چیت نہ کرسکتے تھے۔ اس لئے آپ نے سب کونمسکار کیا۔ اور چپ سادھے رکھی۔ جب ان کے پاس بیٹڑھے ہوئے بھی ان سے بات چیت نہ کرسکے۔ تو نامعلوم ان کے اورشری سبھاش بوس کے دلی جذبات کیا ہوں گے۔ لیکن یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے۔ کہ اس قسم کی جبری زبان بندی حاضرین کے دلوں میں ایک غائبانہ پیغام پہنچادیتی ہے۔
اس اثناء میں آپ کا ایکسرے ہوچکا تھا۔ اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ گورنمنٹ کو پہنچ چکی تھی۔ اس بورڈ نے سفارش کی۔ کہ ابھی سبھاش بوس کی صحت پورے طورپر درست نہیں ہوئی۔ لہٰذا انہیں بجائے صحت کے لئے دوبارہ یورپ جانے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ 8جنوری 1938ء کو ہندوستان میں پورے ایک ماہ پانچ دن کے قلیل قیام کے بعد آپ پھر یورپ جانے کے لئے پولیس کے پہرے میں کلکتہ سے بمبئی روانہ ہوئے۔ ہوڑہ ریلوے اسٹیشن پر ان کے ہزاروں دوست اور مداح انہیں الوداع کہنے کیلئے موجود تھے۔ لیکن انہیں کسی شخص سے بات چیت کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اس لئے انہوں نے خاموشی سے لوگوں کی نیک خواہشات کا جواب دیا۔ اور گاڑی اس تارک الوطن دیش بھگت کو اپنے ساتھ لے کر بندے ماترم کے پرزور نعروں کے درمیان روانہ ہوگئی۔
10جنوری کو 7بجکر 50منٹ پر شری سبھاش چندر بوس ناگپور میں سے بمبئی پہنچنے ٹرین کی آمد سے بہت دیر پہلے کانگریسیوں اور غیر کانگریسیوں کا ایک بھاری ہجوم پلیٹ فارم پر موجود تھا۔ بنگال سی آئی ڈی کے دو افسر شری سبھاش بوس کے ساتھ گاڑی سے اترے۔ بمبئی پروانشل کانگریس کے نمائندوں نے اپنے محبوب لیڈر کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے۔ مسٹر ناریمان کے دریافت کرنے پر سی آئی ڈی افسروں نے کہا کہ انہیں شری سبھاش بوس سے گفتگو کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ لہٰذا روانگی سے پہلے چند گھنٹأ آپ نے اپنے دوستوں اور اخبار نویسوں کے ساتھ گزارے۔ اور اسی روز دوپہر کے وقت ساحل سے روانہ ہونے سے پہلے آپ نے ہندوستانیوں کو مندرجہ ذیل پیغا، دیا۔
"میں جنم سے آشا وادی ہوں۔ باوجود اس امر کے کہ ملک کی تحریک آزادی ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ہے۔ آخر کار فتح ہماری ہوگی۔ میں ان دیش بھگتوں کو خراج تحسین ادا کرتا ہوں۔ جنہوں نے اپنے دیش کے لئے مصائب برداشت کئے یا اب بھی کررہے ہیں۔"
اس بات میں شری سبھاش بوس کی ایک کتاب "ہندوستان کی جدوجہد" کا بار بار ذکر آیا ہے۔ یہ کتاب لندن میں شائع ہوئی تھی۔ اسے شری سبھاش کے سپاہی تجربات کا نچوڑ کہنا غیر موزوں نہ ہوگا۔ چنانچہ ان کے پولیٹیکل فلسفہ کو سمجھنے کیلئے ہر ہندوستانی کے لئے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس میں گاندھی جی کی ناکامی کی وجوہات اور جواہر لال کے ساتھ شری سبھاش بوس کے اختلافات تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ ذیل میں اس کتاب کے چند ضروری اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ تاکہ ہندوستانی نوجوانوں کو اپنے محبوب لیڈر کا سیسی فلسفہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔ کتاب کے شروع میں 1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے بعد ہندوستان کی تحریک آزادی کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ لیکن زیادہ بحث 1920ء اور 1934ء کے درمیانی عرصہ پر کی گئی ہے۔ کیونکہ اس دور کی تحریکوں کے ساتھ ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔ گاندھی جی کی ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں-:
"کسی لیڈر کی کامیابی کا راز اس کے حامیوں کی تعداد کی زیادتی پر نہیں۔ بلکہ ان کے کریکٹر پر ہوتا ہے۔ کئی لیڈر تھوڑ تھوڑے آدمیوں کی مدد سے اپنے ملک کو آزاد کراچکے ہیں۔ لیکن گاندھی جی اپنے حامیوں کی بھاری تعداد کے باوجود ہندوستان کو آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ۂوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاندھی جی نے اپنے مخالفوں کے کریکٹر کو نہیں سمجھا۔ گاندھی جی کی منطق کبھی بھی انگریزوں کو اپیل نہیں کرسکتی۔ کسی بھی سیاسی لڑائی میں کامیابی کے لئے ڈپلوملیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کبھی کامیابی نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ گاندھی جی نے بین الاقوامی پراپیگنڈا کو ب ھی کبھی استعمال نہیں کیا۔ اگر ہم عدم تشدد کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ تو اس کے لئے ڈپلومیسی اور غیر ممالک میں پراپیگنڈا کی اشد ضرورت ہے۔
مہاتماجی کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کہ انہوں نے ایسے مختلف مفاد کو جو قدرتی طورپر ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی۔ لیکن یہ بات بجائے طاقت کے، کمزوری کا باعث بنی۔ ہندوستان کا مستقبل ان لیڈروں اور طاقتوں پر منحصر ہے۔ جو ہندوستان کی آزادی کے لئے تیار ہونگے"۔
گاندھی جی کے مستقبل کے متعلق آپ لکھتے ہیں-:
"میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ کہ گاندھی جی دوسرے درجے پر رہنا گوارا نہین کرتے۔ جب تک ان کیلئے سیاسی تحریک کی رہنمائی کرناممکن ہوگا وہ کانگریس کے لیڈر رہیں گے۔ اور اس وقت تک وہ کسی دوسرے کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔ لیکن اگر کانگریس کی ترتیب یا ذہنیت میں فرق آگیا۔ توعین ممکن ہے۔ وہ کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ ان کی عارضی علیحدگی فوجی پسپائی کے برابر ہے۔ اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ موقع پیدا ہونے پر وہ پھر میدان میں آجائیں گے۔ مہاتما جی کی مستقل علیحدگی برطانوی گورنمنٹ کے رویہ پر انحصار رکھتی ہے۔"
کانگریس کی آئندہ پارٹیوں کے متعلق شری سبھاش چندر بوس لکھتے ہیں۔
"میں اس مرحلہ پر ایک قطعی پیشگوئی کرتا ہوں۔ کہ آئندہ کانگریس کی مختلف پارٹیاں اقتصادی بناؤں پر قائم ہونگی۔ اور عین ممکن ہے کہ کسی وقت کانگریس کا انتہا پسند طبقہ کانگریس کی مشینری پر قابض ہوجائے۔ اس وقت کانگریس کے اعتدال پسند طبقہ کے ممبر کانگریس سے الگ ہوکر آج کل کی لبرل فیڈریشن جیسی کوئی علیحدہ جماعت بنالیں گے۔ جب تک اقتصادی بناء پر انجمنیں ق ائم نہیں ہونگی۔ گاندھی جی کی سیاسی برنزی قائم رہے گی۔ جونہی ایک دفعہ ایسی انجمنیں قائم ہوگئیں۔ گاندھی جی کی لیڈری ایک کاغزی قلعے کی طرح دھڑام سے ختم ہوجائے گی۔ اس وقت گاندھی جی متضاد و طبقوں مثلاً زمیدناروں اور کسانوں، سرمایہ داروں اور مزدوروں، غریبوں اور امیروں کو یکجا رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انچنہ عارضی طورپر یہ بات ان کی کامیابی کا راز رہے گی۔ لیکن حالات کے بدلنے پر یہی بات ان کی ناکامی کا باعث ہوگی۔ اگر تمام متضاد مفاد آزادی حاصل کرنے کا تہیہ کرلیں۔ تو اندرونی مجلس جدوجہد ایک طویل عرصہ کے لئے ملتوی ہوسکتی ہے۔ اور ہندوستان کی پبلک زندگی پر گاندھی جی جیسے لیڈر کا اقتدار قائم رہ سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔ خاص مفاد آئندہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں ساتھ نہیں دینگے۔ اور آہستہ آہستہ برطانوی گورنمنٹ کی طرف جھک جائینگے۔ تاریخ کی منطق ضرور اپنا ناگزیر راستہ اختیار کرے گی۔ سیسای اور مجلسی جدوجہد کا ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے۔ لہٰذا ہندوستنا کیلئے ساسی آزادی حاصل کرنے والی پارٹی ہی عوام کی مجلسی اور اقتصادی آزادی حاصل کرے گی۔ گاندھی جی ملک کی غیر معمولی سیوا کرتے رہینگے۔ لیکن ان کی لیڈری کے ماتحت ہندوستان نجات حاصل نہیں کرسکے گا۔"
"ہندوستان کو نجات کیسے حاصل ہوگی" کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں۔
"ہندوستان میں ا یک نئی پارٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشلسٹ پاٹی بھی اپنی موجودہ شکل میں ترقی نہیں کرسکتی۔"
کمیونزم کے متعلق آپ لکھتے ہیں۔
ہندوستان مکمل طورپ راس تھیوری کو ہرگز نہیں اپنائے گا۔ اس میں جو اچھی باتیں ہیں۔ ان پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔ لیکن روس سے یہ امیدیں باندھنا کہ وہ ہندوستان کو آزاد کرائے گا۔ بے وقوفی ہے۔"
فاسزم کے متعلق پنڈت جواہر لال کے خیالات سے اختلاف رکھتے ہوئے شری سبھاش بوس لکھتے ہیں-:
"کمیوزنم اور فاسزم میں اختلاف کے باوجد ان تھیوریوں میں کچھ ایسی چیزں ہیں۔ جن میں دونوں کا اتفاق ہے۔ دونوں انفرادیت پر سٹیٹ کی برتری میں یقین رکھتے ہیں۔ دونوں زبرتدست پارٹی ڈکٹیٹر شپ اور مخالفوں کو دبانے کے حق میں ہیں۔ دونوں صنعتوں کی ازسرنوتنظیم کے حق میں ہیں۔ اس لئے مجھے یقین ہے۔ کہ ہم ان دوتھیوریوں کے اچھے پہلو لے کرہندوستان کی ضروریات کے لئے ایک پولیٹیکل فلسفہ تیار کرسکتے ہیں۔ مجیھے یقین ہے۔ کہ یہ نیا فلسفہ ہندوستان کی مشکلوں کو بہت حد تک حل کردیگا۔ اور ممکن ہے اس سے ہندوستان میں ایک ایسا لیڈر پیدا ہوجائے جو ہٹلر اور سٹالین کا مجموعہ ہو۔"
ہندوستان میں مختصر قیام کے بعد یورپ کو واپسی پر شری سبھاش بوس نے اپنے سفر کے واقعات ایک مضمون میں سپرد قلم کئے تھے۔ چونکہ اس میں مصر کے سابق وزیراعظم مسٹر نہاس پاشا سے ان کی ملاقات کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مضمون کو ذیل میں دیا جاتا ہے-:
"میں 15جنوری 1935ء کو بمبئی کے ساحل سے یورپ روانہ ہوا۔ بنگال چھوڑنے پر نظر بندی کاحکم خودبخود منسوخ ہوگیا۔ لیکن پولیس والے ترب تک واپس نہ گئے۔ جب تک میں بندرگاہ سے جہاز پر سوار ہوکر روانہ نہ ہوگیا۔ ہمارا جہاز 16جنوری کی شام کو نہر سوئیز میں داخل ہوا۔ ہم کشتی پر سوار ہوکر قاہرہ پہنچے۔ اور رات وہاں گزاری۔ دوسرے دن قاہرہ کی سیر کی۔ قاہرہ میں سب سے اہم واقعہ سابق وزیر اعظم مصر مسٹر نہاس پاشا سے میری ملاقات تھی۔ انہوں نے بڑے شوق سے مہاتما گاندھی کی صحت اور ہندوستان کی تحڑیک آزادی کے متعلق سوالات دریافت کئے۔ بعدازاں انہو ں نے ہندوستانی فرقہ پرستوں کی کوتاہ اندیش پالیسی کی مذمت کی اور کہا کہ یہ لوگ اپنے ملک کے مفاد کو بھاری ضرب لگارہے ہیں۔ میں نے انہیں ہندوستانی قوم پرستوں کی طرف سے یقین دلایا۔ کہ ہم مصر کی وفد پارتی کی سرگرمیوں کا نہایت شوق سے مطالعہ کرتے ہیں۔ اور مجصر کی تحریک آزادی کے ساتھ ہمیں گہری ہمدردی ہے۔ آپ نے جواب میں تمام ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعدازاں ہم جہاز میں سوار ہوکر اٹلی پہنچے۔ وہاں میری کتاب "ہندوستان کی جدوجہد"کانہایت شاندار خیرمقدم کیا گیا تھا۔ کئی اطالوی سیاستدانوں نے مجھے بتایا کہ وہ یہ کتاب پڑھ کر ہندوستان کے صحیح حالات سے واقف ہوگئے ہیں۔ اٹلی سے میں سیدھا وی۔ آنا پہنچا۔ جہاز پر میری صحت سدھرنی شروع ہوگئی تھی۔ یہاں آکر میری حالت اور بھی اچھی ہوگئی ہے۔ لیکن ڈاکٹروں نے احتیاط کے طورمکمل آرامل کا مشورہ دیا ہے۔"

ڈی ولیرا سے ملاقات
24اپریل 1935ء کو وی آنا کے ایک اسپتال میں شری سبھاش چندر بوس کا آپریشن ہوا۔ جو نہایت کامیاب رہا۔ ڈاکٹروں نے ان کے پیٹ کا خراب حصہ کاٹ دیا۔ اور اندر سے ایک پتھر نکالای۔ جب آپ آپریشن کے بعد آسٹریا کے ایک سینی ٹوریم میں آرام کررہے تھے تو انہیں ڈی ولیرا کی طرف سے آئرلینڈ آنے کی دعوت لی۔ آپ نے یہ دعوت قبول کرلی لیکن آپریشن کے بعد آپ اس قدر کمزور ہوگئے تھے۔ کہ کئی ماہ تک آئرلینڈ نہ جاسکے۔ ان دنوں پنڈت جواہر لال جی نہرو کی دھرم پتنی شریمتی کملا نہرو بھی علاج کیلئے یورپ تشریف لے گئیں۔ جب ان کی حالت نازک ہوگئی۔ تو حکومت ہند نے پنڈت جی کو جیل سے رہا کرکے انہیں اپنی بیمار دھرم پتنی کے علاج کیلئے یورپ جانے کی اجازت دے دی۔
ماہ اکتوبر میں شری سبھاش بوس بھی کملا جی کی بیمار پرسی کیلئے گئے۔ وہاں پنڈت جواہر لال نہرو سے ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔ جب مسولینی ایبے سینیا کے کے خلاف اعلان جنگ کرچکا تھا۔ اور اطالوی فوجیں لیگ آف نیشنز کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر افریقہ کی طرف کوچ کررہی تھیں۔
مسولینی کو جنگ سے باز رکھنے کیلئے برطانیہ اور فرانس نے بہت یتن کئے لیکن مسولینی پر ان کا کوئی اثر نہ ہوا۔ بین الاقوامی تاریخ کے اس نازک دور کو سمجھنے کیلئے یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ اٹلی کی ایبے سینیا پر فوج کشی کوئی نرالا قدم نہ تھا۔ کیونکہ مسولینی نے برطانوی اور فرانسیسی امپیرئلسٹوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہی ایک وسیع اطالوی سلطنت قائم کرنے کیلئے ایبے سینیا پر چڑھائی کی تھی۔ اگر ہندوستان، مصر،فلسطین و دیگر ایشیائی ممالک پر برطانوی قبضے ار ہند چینی، شام مراکو، تیونس، الجیریا وغیرہ پر فرانسیسی قبضے کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں۔ کہ ایبے سینیا پر اٹلی کے حملے کی مذمت کی جائے۔
1935ء میں مسولینی اپنے ملک کے لئے وہی کچھ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ جو فرانسنی اور برطانوی امپیرئلسٹ گزشتہ کئی صدیوں سے اپنے اپنے ممالک کے لئے کرتے آئے ہیں ۔ ایک اندھا شخص کسی دوسرے شخص کو یہ طعنی دینے کا مجاز نہیں۔ کہ اسے دکھائی نہیں دیتا۔ عین اسی طرح برطانیہ اور فرانس جیسے امپیرئلسٹ ممالک مسولینی کو ہوس ملک گیری کا طعنہ دینے کے مجاز نہ تھا۔ کیونکہ اس حمام میں وہ خود بھی ننگے تھے۔ لیکن اس امر کے باوجود برطانیہ کی یہ خواہش تھی۔ کہ کسی نہ کسی طرح ایبے سینیا پر اطالوی حملے کو روک دیا جائے۔ کیونکہ انہیں یہ بات۔۔۔ گوارا نہ تھی۔ کہ اٹلی ایک طاقتور ملک بن جائے۔ ان حالات میں اگر برطانیہ کا بس چلتا۔ تو عین ممکن ہے۔ وہ اٹلی کے منصوبوں کو خاک میں ملانے کیلئے ایبے سینیا کا ساتھ دیتا۔ لیکن اس وقت ہٹلر نے برطانیہ کو دانت دکھانے شروع کردیئے۔ اور اپنے طرز عمل سے یہ بات واضح کردی۔ کہ اگر برطانیہ یا فرانس نے اٹلی کے خلاف کوئی کارروائی کی۔ تو ہٹلر مسولینی کی حمایت میں اپنی تمام طاقت جھونک دیگا۔ اس سلسلے میں جو بین الاقوامی صورت حالات نشوونما پارہی تھی۔ اسکے متعلق شری سبھاش بوس نے ہندوستانی اخبارات کے نام آسٹریا سے مندرجہ ذیل پیغام بھیجا۔
"شروع شروع میں ایبے سینیا کے لئے ہمدردی کی کچھ ایسی لہر چلی کہ بعض فرانسیسی مدبروں کے علاوہ کسی نے یہ محشوس نہ کیا۔ کہ برطانیہ کی طرف سے اس ہمدردی کی تہ میں اپنا قتدار قائم کرنے کی غرض پوشیدہ ہے۔ برطانیہ اپنے ماتحت ممالک کو ساتھ لے کر ایک اور عالمگیر جنگ میں کود نے کے لئے بالکل تیار تھا۔ کہ ایک معجزہ رونما ہوا۔ اچانک ہٹلر کا سایہ دورافق پر نظر آیا اور برطانیہ نے اٹلی کے خلاف جو بازو پھیلایا تھا۔ وہ وہیں کاد میں رک گیا۔ برطانوی سیاستدانوں کی ڈپلومیسی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے۔ کہ انہوں نے برطانیہ اور دیگر ممالک میں رائے عامہ کو اٹلی کے خلاف اپنی پالیسی کے حق میں کرلیا۔ 1914ء میں برطانیہ کا نعرہ تھا "بیلجیئم کو بچاؤ۔1935"ء میں یہ نعرہ "لیگ آف نیشنز کو بچاؤ"ہوگیا۔ برٹش لیبر پارٹی اور برٹش کمیونسٹ پارٹی بھی اس سلسلے میں کنسروٹیوگورنمنٹ سے مل گئیں۔ انڈی پنڈنٹ لیبر پارٹی کے ایک چھوٹے سے گروہ نے اس کیخلاف آواز اٹھائی اور کہا۔ کہ شاہی اغراض و مقاصد کے لئے ایک اور جنگ ہونے والی ہے۔ اس سے برطانیہ کے مزدوروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن گورنمنٹ کی پشت پر رائے عامہ تھی۔ اس لئے انڈی پنڈنٹ لیبر پارٹی کی آواز کسی نے نہ سنی۔ میں ہندوستان کی تحریک آزادی کے علمبرداروں سے دریافت کرتا ہوں۔ کہ جس وقت یورپ میں یہ باتیں ہورہی تھیں وہ کیا کررہے تھے۔ مصری لیڈروں نے جونہی سنا کہ برطانیہ ایبے سینیا، اور اٹلی کی جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو انہوں نے برطانوی مدبروں سے صاف کہہ دیا کہ اگر ہماری ہمدردی یا امداد حاصل کرنا چاہتے ہوتو مصر کی مکمل آزادی تسلیم کرو۔ ایسے آڑے وقت میں ہندوستانیوں کو بھی برطانیہ کے ساتھ سودا بازی کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ہوا کیا۔۔۔ جونہی ہندوستان میں ایبے سینیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ ہندوستانی فوجیں ادیس ابابا کو روانہ کردی گئیں۔ حالانکہ کینیا۔ برطانوی سمالی لینڈ۔ سوڈان اور مصر و غیرہ میں جو ایبے سینیا کے نزدیک تھے۔ برطانوی فوج موجود تھی۔ اگر برطانی سفارت خانہ کی حفاظت مقصود تھی۔ تو وہاں برطانوی فوج کیوں نہ بھیجی گئی۔۔۔ ؟"
یورپ کی یاترا کے دوران شری سبھاش بوس نے ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک کمزور پہلو پر بار بار آواز اٹھائی۔ وہ یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کو عالمگیر معاملات میں دلچسپی میں دلچسپی لیتے ہوئے ایک بیرونی پالیسی وضع کرکے ڈپلومیسی سے کام لینا چاہیے لیکن ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ تاریخ کے اس نازک ترین دور میں اگر انڈین نیشنل کانگریس کی باگ ڈور بسمارک جیسے کسی چالاک ہندوستانی سیاستدان کے ہاتھ میں ہوتی۔ تو اب تک ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ ہوجاتا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے تحریک آزادی کے اس پہلو کو نظر انداز کرکے جو بھاری غلطی کی ہے۔ اس کا احساس کرانے کیلئے شری سبھاش نے ایک طویل مضمون سپروقلم کیا تھا۔ اس میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ ان پر ہرہندوستانی کو غور کرنا چاہیے۔ چنانچہ "غیر ممالک میں پراپیگنڈا کی ضرورت" کے عنوان سے آپ نے جومضمون لکھا تھا اسے ذیل درج کیا جاتا ہے-:
"سب سے پہلے مجھے سورگیہ دیش بندھو داس نے یہ بات ذہن نشین کرائی۔ کہ غیر ممالک میں ہندوستان کے حالات کو واضح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ چاہتے تھے۔ کہ ہندوستان کے حق میں پراپیگنڈا کے علاوہ ایک پان ایشیٹک لیگ" بھی قائم کی جائے۔
پچھلے دوسال میں یورپ کی سیرو سیاحت کے دوران مجھے جو تجربہ ہوا اس سے میرا یہ پختہ یقین ہوگیا ہے کہ ہمیں تحریک آزادی کے اس پہلو کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں کہیں میں گیا۔ میں نے دیکھا۔ کہ لوگ ہندوستان کے حالات سے قطعی واقف نہیں۔ لیکنا س کے ساتھ ہی یورپین باشندوں کو ہندوستان کے معاملات سے دلچسپی اور اس سے ہمدردی کا جذبہ موجود ہے۔ اگر ہم کوشش کریں۔ تو اس ہمدردی کا دائرہ وسیع کیا جاسکت اہے۔ ایک طرف ہم نہایت لاپروائی کا اظہار کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے چالاک مخالف ہمارے خلاف غیر ممالک میں غلط پراپیگنڈا کررہے ہیں۔ 1920ء کا ذکر ہے۔ ان دنوں میں انگگلستان میں تھا۔ ایک دن میں لیکچر ہال کے سامنے سے گزرا۔ اس ہال کے سامنے ایک مشنری کے لیکچر کا اشتہار لگا ہوا تھا۔ اس پر سیاہ فام۔ نیم برہنہ ہندوستانی عورتوں اور مردوں کی تصویریں تھیں۔ 1933ء کے آخر میں ایک جرمن اخبار نویس نے میونک کے ایک اخبار میں لکھا۔ کہ اس نے ہندوستان میں اپنی آنکھوں کے سامنے بیواؤں کو زندہ جلاتے ہوئے دیکھا ہے اور بمبئی کے بازاروں میں انسانوں کی لاشیں پڑی رہتی ہیں۔ا ن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
وی آنا کے ایک اخبار میں ایک مردے کی تصویر شائع ہوئی۔جس پر بے شمار کپڑے پڑے تھے۔ اور نیچے لکھا تھا۔ "یہ ایک ہندوستانی سادھو کی لاش ہے۔ جو کئی دن تک گلتی سڑتی رہی۔ کیونکہ ہندوؤں کا اعتقاد ہے کہ کسی سادھو کی لاش کو کوئی عام آڈمی ہاتھ نہیں لگاسکتا۔۔۔"ایک فلم میں مہاتما گاندھی کو یورپین لباس میں ایک لڑکی کے ساتھ ناجتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان حالات میں ہندوستانیوں سے اپیل کرتا ہوں۔ کہ وہ غیر ممالک میں ہندوستان کے خلاف گمراہ کن اور شرات آمیز پراپیگنڈا کے انسداد کی طرف توجہ دیں۔
جن ممالک نے پچھلے دن برسوں میں آزادی حاصل کی ہے۔ ان کی تاریخ کے مطالعہ سے اس کام کی اہمیت کا بخوبگی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آئرلینڈ کی سن فین پارٹی نے امریکہ میں زبردست پراپیگنڈا کیا۔ اور اسپارٹی نے اپنے بہترین آدمی وہاں بھیجے۔ حتیٰ کہ اس پارٹی کے صدر مسٹر ڈی ولیرا خود تمام کام کو چلانے کیلئے وہاں پہنچے۔ یورپ میں بھی اس پارٹی نے پراپیگنڈا کی غرض سے کئی مرکز قائم کئے۔ا س کے علاوہ گزشتہ 20سال زیکوسلوواکیہ کے سرکردہ لیڈر انگلستان۔ فرانس اور امریکہ میں سرگرم پراپیگنڈا کرتے رہے۔ اس 20سلہ پراپیگنڈا کے بعد ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ غیر ممالک کی حمایت اور ہمدردی کے بغیر زیکوسلوواکیہ بطور خود آزادی حاصل نہ کرسکتا تھا۔ برطانیہ اپنے حق مین پراپیگنڈا کرانے میں ماہر ہے۔ نیز وہ اپنے خلاف پراپیگنڈا کی روک تھام بھی کرت ارہتا ہے۔ اس کے ثبوت میں میں جون 1934ء کا ایک ذاتی واقعہ پیش کرتا ہوں۔ ان دنوں میں بلگریڈ میں تھا۔ وہاں کے اخبارات نے میرے ساتھ ہندوستان کی صورت حالات کے متعلق انٹرویو کئے۔ لیکن پیشتر اس کے کہ وہ انٹرویو اخبارات میں شآئع ہوں۔ بلگریڈ میں مقیم برطانوی سفیر نے دفتر خارجہ سے درخواست کی کہ میرے کسی مضمون کو یوگوسلاویہ کے اخبارات میں شائع نہ ہونے دیا جائے۔
جہجاں تک ہندوستان کا تعلق ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ غیر ملکی پراپیگنڈا کیلئے کچھ نہیں کیا جاتا۔ ہندوستانی لیڈروں میں سے صرف سورگیہ وٹھن بھائی پٹیل ہی تھے۔ جو غیر ملکی پراپیگنڈا کے فائدہ اور اس کے قدر و اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اور یہ کہنا مبالغہ آمیز نہ ہوگا۔ کہ انہوں نے اس پراپیگنڈا کی خاطر اپنی جان تک قربان کردی۔۔۔ اپنے دورۂ امریکہ کے دوران انہوں نے تین ماہ میں 85تقریریں کیں۔ جس سے ان کی صحت بالکل تباہ ہوگئی۔ اپنی زندگی میں انہوں نے ڈبلن میں ایک جماعت قائم بھی کردی جس کا نام انڈوآئرش لیگ رکھا۔ اگر ان ممالک کے لئے جنہوں نے مسلح بغاوت سے آزادی حاصل کی ہے۔ غیر ملکی پراپیگنڈا ضروری تھا۔ تو ہندوستان جیسے ملک کے لئے جواہنسا کا قائل ہے۔ اس پراپیگنڈے کی اور بھی ضرورت ہے۔"
سبھاش بوس ایک پریکٹیکل لیڈر ہیں۔ دوسرے کانگریسی لیڈروں کی طرح وہ محض دھواں دھار لیکن بے معنی تقریریں جھاڑنا پسند نہیں کرتے۔ انہیں جس بات کا یقین ہوجاتا ہے۔ وہ اسے فوراً عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمہ تن مصروف ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ آپ سورگیہ پٹیل کی قائم کردہ انڈو آئرش لیگ کو مضبوط کرنے کیلئے آئرلینڈ روانہ ہوگئے۔ ان کے اس دورے کا ایک اور مقصد بھی تھا۔ آئر لینڈ برطانیہ کے پنجہ غلامی سے نجات حاصل کرچکا تھا۔ اور ان دنوں آئرش حکومت کی باگ ڈور ڈی ولیرا اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں آچکی تھی۔ کل تک برطانوی گورنمنٹ جن آئرش دیش بھگتوں کو باغی قرار دے کر انہیں جیلوں میں ٹھونسنے۔ اور پھانسیوں پر لٹکانے میں مصروف تھی۔ اب انہی باغیوں کی نمائندہ پوزیشن کو تسلیم کرکے ملک کا نظم و نسق ان کے حوالے کردیا گیا تھا۔ آئرلینڈ کی کامیاب تحریک آزادی پر نظر ڈالنے سے ہندوستان کے دہشت پسندوں اور آئرش قوم پرستوں سے برطانوی حکومت کا امتیازی سلوک سمجھ میں آسکتا ہے۔ جہاں برطانوی گورنمنٹ آئرلینڈ میں ملک کا تمام نظم و نسق آئرش انقلاب پسندوں کے حوالے کرنے کے لئے مجبور ہوگئی۔ وہاں دوسری طرف ہندوستان کے انقلاب پسندوں سے براہ راست سمجھوتے کی گفت و شنید کرنے کیلئے کبھی بھی تیار ہوئی۔ اس کی محض وجہ یہ تھی کہ آئرش انقلاب پسندوں کی پشت پر ان کا سارا دیش ترھا۔ اس کے برعکس ہندوستان میں ہمارے دیش کی سب سے بڑی پولیٹیکل جماعت دہشت پسندوں کو کچلنے پر تلی ہوئی تھی۔ چنانچہ گورنمنٹ نے ہندوستانی دہشت پسندوں کو ختم کرنے کیلئے جب بھی سختی کا کوئی دور شروع کیا۔ اسے اس کام میں مہاتما گاندھی کی پوری پوری حمایت حاصل رہی۔ ہندوستان کے انقلاب پسندوں کی ناکامی کا سب سے بڑا راز یہی ہے۔
ایک دیش بھگت کی حیثیت سے شری سبھاش بوس آئرلینڈ کی تحریک آزادی کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا آپ نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔ اور آئرلینڈ پہنچ گئے۔ 3فروری 1936ء کو آپ نے آئرلینڈ کے وزیراعظم مسٹر ڈی ولیرا سے ایک پرائیویٹ کمرہ میں نصف گھنٹہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات بھی ایک نہایت دلچسپ ملاپ تھا۔ آئرلینڈ کے انقلاب پسندوں کے سب سے بڑے لیڈر شری ڈی ولیرا جوکسی وقت پھانسی کی کوٹھڑی میں بند رہ چکے تھے۔ اس دن ہندوستان کے انتہا پسندوں کے سب سے بڑے لیڈر شری سبھاش بوس۔ جو اپنے وطن کو آزاد کرانے کیلئے قید و بند کی صعوبتیں اٹھارہے تھے۔ سے بغلگیر ہوئے۔
دنیا کے ان دوبڑے انقلاب پسندوں کی ملاقات بھاری اہمیت رکھتی ہے ایک اپنے وطن کو برطانیہ کی غلطی سے نجات دلاچکا تھا۔ دوسرا اپنے دیش کے گنے سے غیر ملکی غلامی کا جؤا اتار پھینکنے کے لئے کوشاں تھا۔ آئرلینڈ کی سرزمین کے ذرے ذرے نے ڈی ولیرا کی زبان کے ذریعے شری سبھاش بوس کو پکا پکا کرکہا-:
"بھیک مانگنے سے ہرگز آزادی نہیں مل سکتی۔ ستومنتر تاکی دیوی خون کی پیاسی ہے۔ وہ قربانی کی بھینٹ مانگتی ہے۔"
آئرلینڈ میں سبھاش کو مختلف سوسائٹیوں کی طرف سے ایڈریس پیش کئے گئے۔ جن میں ہندوستان کی تحریک آزادی کے ساتھ آئرش محب الوطنوں کی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اس آزاد اور سوتنتردیش ملیں ہندوستان جیسے ابھاگے غلام دیش کے ایک لیڈر سے جو سلوک کیا گیا۔ وہ نہ صرف سبھاش کی ہی حوصلہ افزائی تھی۔ بلکہ ان کی مادر وطن کی بھی بھاری عزت افزائی تھی۔ آپ ہندوستان کے قوم پرستوں کے ایک نمائندے کی حیثیت سے آئرلینڈ گئے اور آئرش باشندوں نے بھی آپ کو ہندوستان کا حقیقی سفیر سمجھ کر انہیں اپنے سرپر اٹھایا۔ گورنمنٹ ہند کے ایجنٹ جنرلوں اور ٹریڈ کمشنروں وغیرہ سے غیر ممالک میں جو سلوک کیا جاتا ہے اور آئرلینڈ میں شری سبھاش سے جو سلوک کیا گیا۔ اس سے کوئزلنگوں اور دیش کے حقیقی نمائندوں میں فرق نمایاں طورپر واضح ہوجاتا ہے۔ جہاں ٹوڈیوں سے کوئی اتنا بھی نہیں پوچھتا کہ بھیا تم کون ہو۔ وہاں قوم پرست لیڈروں کا شاہانہ استقبال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)
***

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر

’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )

(گذشتہ سے پیوستہ)


( آٹھویں قسط)

دائمی جلاوطنی یا جیل
گورنمنٹ ہند پہلے ہی شری سبھاش بوس کی سرگرمیوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھتی تھی۔ لیکن جب وہ آئرلینڈ جاکر مسٹر ڈی ولیرا اور دیگر انقلاب پسند لیڈروں سے ملے۔ تو گورنمنٹ تلملا اٹھی۔ اس نے شری سبھاش کو محض اس غرض سے یورپ جانے کی اجازت دی تھی۔ تاکپہ ہندوستان میں ان کی موجودگی کے باعچ دہشت پسندوں کی سرگرمیوں ملیں امکانی اضافہ کو روک دیا جائے۔ لیکن جب وہ ہندوستان کے دہشت پسندوں کے گڑھ۔ بنگال کی بجائے دنیا بھر کے دہشت پسندوں کے ہیڈ کوارٹر آئرلینڈ میں پہنچ گئے۔ تو گورنمنٹ ہند کو انتہائی تشویش ہوئی۔ کیونکہ آئرش دہشت پسندوں نے اپنی سرگرمیاں محض آئرلینڈ تک ہی محڈود نہ رکھی تھیں۔ بلکہ انہوں نے لندن اور امریکہ کو بھی اپنی کارروائیوں کا مرکز بنایا تھا۔ اس سے گورنمنٹ کو یہ خطرہ پیدا ہوا۔ کہ کہیں سری سبھاش ہندوستان میں بھی گڑبڑ ڈالنے کیلئے آئرش انقلاب پسندؤں سے کوئی خفیہ سمجھوتہ نہ کرلیں۔ ان دنوں شری سبھاش ہندوستان واپس آنے کا ارادہ کررہے تھے۔ اور اس سے پیشتر مرکزی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے اعلان کردیا گیا تھا۔ کہ گورنمنٹ ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے گی۔ لیکن آئرلینڈ کے دورے نے صورت حالات کو بالکل ہی بدل کے رکھ دیا۔ اور گورنمنٹ ہند نے سبھاش بوس کو مطلع کردیا۔ کہ اگر انہوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ تو انہیں فوراً گرفتار کرلیا جائے گا۔
حکومت ہند کا یہ وارننگ آپ کو نہایت عجیب و غریب طریقے سے وی آنا میں پہنچایا گیا۔ برطانوی قونصل نے شری سبھاش کو ایک چھٹی لکھی۔ جس میں درج تھا۔
"وزیر خارجہ برطانیہ کی طرف سے ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ کہ میں آپ کو گورنمنٹ ہند کے اس ارادے سے مطلع کردوں۔ کہ اگر آپ ہندوستان گئے۔ تو اس صورت میں آپ کو گرفتار کرلیا جائے گا۔"
اس سے صاف ظاہر تھا۔ کہ گورنمنٹ ہند انہیں دائمی طورپر ہندوستان سے جلاوطن کرنا چاہتی تھی۔
جب یہ اطلاع ہندوستان پہنچی۔ تو قوم پرست حلقوں میں بھاری سنسنی پھیل گئی۔ 23مارچ 1936ء کے روز مرکزی اسمبلی کے اجلاس ملیں مسٹرنیل کنٹھ داس نے تحڑیک ملامت پیش کرتے ہوئے اس معاملے کو اٹھایا۔ آپ نے کہا۔"شری سبھاش بوس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ بھارت ماتا کے ایک مایجہ ناز سپوت اعلیٰ درجہ کے قوم پرست اور ایک سرگرم کانگریسی ہیں۔ اگر وہ ہندوستان آجائیں اور پنڈت جواہر لال کے ساتھ مل کر کام کریں۔ تو ایسی فضا پیدا ہوجائے گی۔ جو ہندوستان کے باشندوں کے لئے ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ کے کے لئے بھی مفید ہوگی۔"
مسٹر ہیلٹ ہوم سیکریٹری گورنمنٹ ہند نے سرکاری پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا۔"گورنمنٹ نہ تو حقائق کو چھپانا چاہتی ہے۔ اور نہ ہی یہ پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے کہ وہ کن وجوہات کی بناء پر شری سبھاش بوس کی ہندوستان میں موجودگی کو پسند نہیں کرتی۔ اگر انہیں ہندوستان میں آنے اور یہاں آکر آزاد رہنے کا موقع دیا گیا۔ تو وہ نہ صرف بنگال بلکہ ہندوستان بھر کے لئے خطرہ ثابت ہونگے۔ مسٹر بوس انڈین سول سروس سے استعفےٰ دے کر عدم تعاونی بن گئے تھے۔ اس وقت وہ نہ صرف کانگریس کے انتہا پسند گروپ بلکہ انقلاب پسندوں کے انتہا پسند گروپ کے لیڈر ہیں۔ وہ تحریک عدم تعاون کو محض اس لئے پسند کرتے تھے۔ کہ اس سے کانگریس آئینی طریقوں کو چھوڑ کر انقلابی طریقوں کو اختیار کرلے گی۔ لیکن جب چورا چوری کے حادثات کے بعد یہ تحْڑیک واپس لے لی گئی۔ تو وہ اس سے دل برداشتہ ہوگئے۔ اس کے بعد 1922ء میں تحریک دہشت انگیزی زیادہ خطرناک صورت میں ظاہر ہوئی۔ اور شری سبھاش بوس کو 1924ء میں بنگال ریگولیشن کے ماتحت گرفتار کرلیا گیا۔ ججوں نے ان کے کیس پر اچھی طرح غور و خوض کیا۔ اور قرار دیا۔ کہ مسٹر بوس ایک انقلابی نوعیت کی سازش کے ممبر ہیں۔ اور کہ اگر انہیں آزاد رہنے دیا گیا۔ تو وہ گورنمنٹ کیلئے خطرناک ثابت ہونگے۔ بالخصوص اس لئے کہ ان کی پبلک پوزیشن اعلیٰ ہے۔ اور ان میں تنظیم کی بڑی بھاری قابلیت ہے۔ میں اس بت سے متفق ہوں کہ مسٹر بوس نوجوان طبقہ میں بہت مقبول ہیں۔ لیکن یہی تو خطرے کی وجہ ہے۔"
مسٹر ہیلٹ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔ "مسٹر بوس نے بنگال کے انقلاب پسندوں کے اخبار"آتم شکتی" میں ایک مضمون لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے نوجوانوں سے مطالبہ کیا تھا۔ کہ وہ اپنی جانیں قربان کردیں۔ پبلک سرگرمیوں کے علاوہ مسٹر بوس فی الحقیقت دہشت پسندوں سے ساز باز رکھتے تھے اور انہیں سرکاری افسروں کو قتل کرنے کی سازشوں کا علم ہوتا تھا۔ اس لئے انہیں رنگون میں نظر بند کردیا گیا۔ لیکن بعدازاں خرابی صحت کی وجوہ پر رہا کردیئے گئے۔ رہائی کے فوراً بعد انہوں نے طلباء اور مزدوروں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھالیا۔
اور 1928ء میں بنگال اسٹوڈنٹس کانفرنس بلائی۔ جس میں کمیونزم کا پرچار کیا گیا۔ حکومت ہند کے خیال میں نوجوانوں کو اس قسم کا پیغام دینا سخت خطرناک ہے جمشید پور اور بمبئی کے کارخانوں میں جو ہڑتالیں ہوئیں۔ ان ملیں مسٹر بوس نے نمایاں حصہ لیا۔ کانگریس کا اعتدال پسند طبقہ جو طریقے اختیار کررہا تھا۔ ان سے مسٹر بوس کو نفرت تھی۔ اور انہوں نے اپنی نفرت کو چھپایا نہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ زیادہ انتہا پسندانہ طریقے اختیار کئے جائیں۔ 1929ء میں لاہور میں کانگریس کا جو اجلاس ہوا۔ اس میں مسٹر بوس نے متوازی گورنمنٹ قائم کرنے پر زور دیا۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہ انہوں نے کانگریس کے سامنے جو پولیسی رکھی۔ وہ انقلاب پسندوں کی پالیسی تھی۔
1932ء میں انہیں باغیانہ تقریر کرنے کے جرم میں سزا ملی۔ جس جلسہ میں انہوں نے تقریر کی۔ اس میں انقلابی اشتہارات تقسیم کئے گئے۔ بعدازاں جب مہاتما گاندھی گورنمنٹ کے ساتھ صلح کی گفت و شنید کررہے تھے۔ تو مسٹر بوس نے ان کو ترغیب دی۔ کہ وہ متشدددانہ جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کریں۔ اس تمام عرصہ میں مسٹر بوس دہشت پسندوں کی امدا دکرنے پر آمادہ رہتے تھے۔"
آخر میں ہوم ممبر نے ایک شخص مسٹر کرشن داس کے خط کا حوالہ دیا۔ اس میں ایک مسٹر "اے" اوردوسرے مسٹر"بی"کا ذکر تھا۔ مسٹر ہیلٹ نے کہا۔ کہ مسٹر "اے" سے مراد مسٹر سبھاش بوس ہی تھے۔ اس خط سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ انقلاب پسندؤں کی "یگانتر" پارٹی مسٹر بوس کی پشت پر ہے۔ اور یہی وہ پارٹی ہے۔ جو چٹاگانگ پر مسلح حملے اور یورپین افسروں کے قتل کی ذمہ دار ہے۔ مزید کہا۔
1932ء میں شری سبھاش بوس نے"سامایہ واد سنگھ" کے نام سے ایک تحریک جاری کی۔ پچھلے دسمبر میں جب بمبئی کے ایک مکان کی تلاشی لی گئی۔ تو مسٹر بوس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کچھ چٹھیاں دستیاب ہوئیں۔ ان میں اس بات پر اظہار افسوس کیا گیا تھا۔ کہ کانگریس صرف عدم تشدد کی شرن لئے ہوئے ہے۔ اور اس نے ابھی تک مسلح جنگ کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ صرف سول نظام کو سزا دینے کی کوشش کی ہے۔ جس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ مسٹر بوس نے اپنی چٹھیوں میں یہ بھی لکھا تا۔ کہ سوراج حاصل کرنے کیلئے ہمیں آئرش طرح کی "گوریلا جنگ" سے کام لینا چاہیے۔ اور عدالتوں و ٹیکسوں کی وصولی کو عفو معطل بنادینا چاہیے۔ اس "سامیہ وادی سنگھ" کا نام پیچھے بدل کر "ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن آرمی"کردیا گیا۔ جب مسٹر بوس دوی آنا ملیں تھ۔ے تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پمفلٹ بھیجا۔ اس میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا تھا۔ کہ ہندوستانی فوج اور پولیس کو قابو میں کرنے کی اب تک کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس پمفلٹ میں یہ بھی لکھا ہے۔ کہ مسلح طاقت سے گورنمنٹ کو اس کے اختیارات سے محروم کردینا چاہیے۔ پچھلے دنوں لندن میں انڈین پولیٹیکل کانفرنس کا تیسرا اجلاس ہوا۔ مسٹر سبھاش بوس اس کے صدر بنائے گئے لیکن گورنمنٹ برطانیہ نے انہیں انگلستان جانے کی اجازت نہ دی۔ اس لئے انہوں نے اپنے ایڈریس کی ایک چھپی ہوئی کاپی بھیجی۔ اس میں بھی اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا۔"
حکومت ہند کے ہوم ممبر کا منہ بند کرنے کیلئے کانگریس پارٹی کے لیڈر شری ڈیسائی نے ایک نہایت پر زور تقریر کی۔ اور دریافت کیا کہ اگر حکومت کے پاس بوس کے خلاف ثبوت موجود ہے۔ تو وہ مقدمہ کیوں نہیں چلاتی۔ بعدازاں ووٹ شماری پر گورنمنٹ کے خلاف تحریک التواء اکثرت رائے سے پاس ہوگئی۔ اور اس طرح جہاں گورنمنٹ کو کو اخلاقی شکست ہوئی۔ وہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی۔ اور اس طرح جہاں گورنمنٹ کو اخلاقی شکست ہوئی۔ وہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی۔ کہ شری سبھاش کے متعلق گورنمنٹ اور ہندوستانیوں کے نقطہ نگاہ میں زمین آشمان کا فرق ہے۔ ایک کی نگاہ میں وہ مجرم۔ تو دوسرے کی نگاہ میں سچے دیش بھگت!
جس روزمرکزی اسمبلی میں اس معاملے پر بحث ہورہی تھی۔ عین اسی روز ہاؤس آف کامنٹر میں ایک ممبر پارلیمنٹ نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔ جواب میں نائب وزیر ہند نے کہا۔ "شری سبھاش بوس کو وزیر ہند کی درخواست پر نوٹس بھیجا گیا ہے۔ کہ ہندوستان پہنچنے پر انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔"
سوال-:حکومت مسرٹر بوس کو ہندوستان واپس جانے کی اجازت کپیوں نہیں دیتی! گورنمنٹ نے چار سال ہوئے انہیں گرفتار کرکے کسی مقدمہ کی سماعت کے بغیر غیر معین عرصہ کے لئے نظر بند کردیا تھا۔ اور اب جبکہ وہ علاج کی غرض سے یورپ آئے ہوئے ہیں۔ انہیں واپس جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ کیا ان پر سختیوں کا کبھی خآتمہ بھی ہوگا؟"
نائب وزیر ہند نے کوئی جواب نہ دیا۔
شری سبھاش کیلئے یہ ناممکن تھا۔ کہ وہ گورنمنٹ ہند کے اس چیلنج پر خاموش رہنے۔ انہوں نے اس سرکاری حکم کی دھجیاں اڑانے کا فیصلہ کرلیا۔ چار روزہ بعد 27مارچ کو ہندوستان میں ان کا ایک بحری تار ملا۔ جس میں انہوں نے یہ مصمم ارادہ ظاہر کیا۔ کہ "وہ گورنمنٹ ہند کی وارننگ کی پروانہ کرتے ہوئے ہندوستان واپس آجائیں گے۔ اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کردیں گے۔"
چنانچہ آپ 26مارچ کو گیسٹن سے اٹلی کے روانہ ہوئے۔ اور 27مارچ کو سینٹی ورڈی جہاز میں ہندوستان کے لئے روانہ ہو آئے۔ روانگی سے پیشتر آپ نے حسب ذیل بیان جاری کیا۔
"گورنمنٹ کے انتباہ کے پیش نظر مجھے میرے معزز دوستوں نے مشورہ دیا تھا۔ کہ میں ہندوستان کو اپنی روانگی ملتوی کردوں۔ ان کا خیال ہے کہ میں آزاد رہ کر ہندوستان کے کاز کے لئے بھاری خدمت سرانجام دے سکتا ہوں۔ مشہور فرانسیسی مدبر رومن رولان نے اس امر کے تمعلق بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کہ یورپ آنے سے میری صحت میں جو بہترین رونما ہوئی ہے۔ جیل جانے سے اس پر برا اثر پڑیگا۔ اور میری صحت پھر پہلے کی طرح خراب ہوجائے گی۔
دیگر دوستوں کی طرف سے ایک اور وجہ بھی پیش کی گئی۔ کہ جب سے کانگریس نے سول نافرمانی بند کی ہے۔ کانگریسی سرکاری احکام کی خلاف ورزی نہیں کررہے۔ یہ دلائل نہایت وزن دار ہیں۔ لیکن ان پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ کہ مجھے اپنے پہلے فیصلہ پر قام رہنا چاہیے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے میں نے تمام ذاتی خیالات کا بھلادیا ہے۔ اور صرف قومی مفاد اور قومی فرض کو پیش نظر رکھا ہے۔ اگر میں محسوس کرتا۔ کہ جیل سے باہر رہ کر میں ہندوستان کی کوئی ٹھوس خدمت سرانجام دے سکتا ہوں۔ تو میں یقیناًہندوستان میں اپنی واپسی ملتوی کردیتا۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں۔ کہ یورپ میں رہ کر ہندوستان کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے سکتا۔ اگر میرے پاس کافی روپیہ ہوتا۔ یا کانگریس میری کافی امداد کرتی تو موجودہ حالات کی نسبت میں یورپ میں رہ کر ہندوستان کے کاز کیلئے زیازدہ مفید ہوسکت اتھا۔ لین پٹیل فنڈ کے منتظم ایسی وجوہات کی بناء پر جووہی اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس ایک لاکھ روپے کو دبائے ہوئے ہیں جو سورگیہ وٹھل بھائی پٹیل غیر ممالک میں پراپیگنڈا کے لئے مجھے دے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کانگریس ورکنگ ورکنگ کمیٹی نے مجھے اپنے نمائندہ کی حیثیت دینے سے انکار کردیا ہے۔ اگرچہ میں نے گزشتہ تین سال میں ہندوستان کے کاز کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مندرجہ حالات میں مجھے بہت کم کامیابی ہوئی۔ اور اگر میں یورپ میں ٹھہرارہا۔ تو مجھے اس سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
جہاں تک سول نافرمانی کے التواء اور سرکاری احکام کی خلاف ورزی کا تعلق ہے۔ میرے خیال میں جب بیورو کریسی کسی انسان کے حقوق پر چھاپہ مارتی ہے۔ تو اسے ہروقت یہ حق حاصل ہے۔ کہ وہ پروٹسٹ کرنے کیلئے ان ہتھیاروں کو استعمال کرے۔"
شری سبھاش بوس کے فیصلہ سے لندن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ چکی تھی۔ 6اپریل کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایک ہمدرد ممبر نے سوال کیا۔ "شری سبھاشے کے ہندوستان پہنچنے پر ان کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا جائے گا۔ یاکہ یونہئی نظر بند کردیئے جائینگے؟"
جواب میکں نائب وزیر ہند نے کہا"-: مسٹر سبھاش کے خلاف و کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے متعلق گورنمنٹ ہند کے مشورہ کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ مسٹر بوس اس سے پیشتر ریگولیشن نمبر 3کے ماتحت نظر بند رہ چکے ہیں۔ اور اس ریگولیشن کی رو سے خاص الزامات کے ماتحت مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں۔"
سوال-:میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ کہ گورنمنٹ ہند آئندہ کیا کارروائی کرنا چاہتی ہے؟ کیا وزیر ہند اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے؟ کہ سبھاش بوس کے ہندوستان پہنچنے پر ان سے سخت سلوک نہیں کیا جائے گا؟"
جواب-:جن وجوہات کی بناء رپر مسٹر بوس کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اب بھی قائم ہیں۔ انہیں محض طبی وجوہات کی بناء پر یورپ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ لہٰذا اگر انہوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ تو انہیں گرفتار کرکے نظر بند کردیاجائے گا۔"
ادھر یہ بحث مباحثے ہورہے تھے۔ ادھر شری سبھاش بوس 8اپریل 1936ء کے دن جہاز کے ذریعے بمبئی پہنچ گئے۔ اور انہیں جہاز سے اترتے ہی ریگولیشن نمبر 3کے امتحت گرفتار کرلیا گیا۔ شری بوس کے درشنوں کے لئے جہاز کی آمد سے بہت پہلے لوگوں کا ایک بھاری ہجوم ساحل سمندر پر جمع ہوگیا تھا۔ جونہی وہ دور سے نظر آئے۔ لوگوں نے ان کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ شری بوس نے انتہائی متانت سے ان کے خیرمقدم کا جواب دیا۔ پولیس پارٹی بھی ان کے انتظار میں کھڑی تھی۔ ڈپٹی کمشنر سی آئی ڈی خود ان کی گرفتاری کے لئے آئے ہوئے تھے۔ وہ مسٹر سبھاش چندر بوس کے جہاز سے اترنے کا انتظار کررہے تھے۔ اور عین جہاز کی سیڑھیوں کے قریب کھڑے تھے۔ جب جہاز ساحل سے لگا۔ تو مسٹر سبھاش فوراً جہاز سے نہ اترے۔ بلکہ تقریباً ڈیئڑھ گھنٹہ تختہ جہاز پر ہی رہے۔ اس اثناء میں پولجیس ان کا انتظار کرتی رہی۔ مسٹر بوس جہاز کے کنارے پر شاہانہ انداز میں کھڑے مسکرارہے تھے۔ اور ان کے قریب ساحل پر جو لوگ کھڑے تھ۔ے وہ قومی نعرے لگارہے تھے۔ ہجوم میں ہزاروں مزدور بھی تھے۔ جنہوں نے سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
سبھاش نے جہاز پر کھڑے ہی ان لوگوں سے باتیں کرنی شروع کردیں اور اپنے دوستوں کی صحٹ کے متعلق دریافت کیا۔ مزوروں اور اہل جلوس کے جواب میں آپ نے ان کو تلقین کی۔ کہ "دیکھنا! کہیں آزادی کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔"
10بج گئے۔ اور تمام مسافر جہاز سے اترپڑے۔ لیکن شری سبھاش ابھی تک تختہ جہاز پر ہی کھڑے مسکرارہے تھے۔ انہوں نے اترنے کیلئے کوئی ارادہ ظاہر نہ کیا۔ جب ایک شخص نے ان سے دریافت کیا۔ کپہ کیا آپ ساحل پر نہ اترینگے! تو مسٹر بوس نے کہا۔ مجھے یہاں اترنے کی جازت ہے۔۔۔؟ یہ کہہ کر انہوں نے اپنا پاسپورٹ ہجوم کے سامنے کردیا۔ اس پر لوگ قہقہہ مارکر ہنس پڑے۔ شری سبھاش نے مزید کہا-:
"میں لکھنؤ جانا چاہتا ہوں۔ بشرطیکہ مجھے ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔" اس کے تھوڑی دیر بعد شری بوس جہاز سے اتر آئے۔ اس وقت آپ پھولوں کے ہاروں سے لدے ہوئے تھے۔ انہیں جہاز سے اترتے دیکھ کر ڈپٹی کمشنر سی۔ آئی۔ ڈی نے آگے بڑھ کر انہیں وارنٹ گرفتاری دکھایا۔ اور انہیں ایک موٹر لانچ کی طرف لے گئے۔ جونہی شری سبھاش اس لانچ میں بیٹھے۔ وہ الیگزینڈرا گھاٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔ اور وہاں پہنچنے کے بعد سبھاش بوس کو آرتھرروڈ جیل میں پہنچادیا گیا۔
ان کی گرفتاری کے متعلق ایک قابل ذکر بات یہ ہے۔ کہ حکومت ہند کے حکام نے شری سبھاش کو بمبئی پہنچنے سے پہلے ہی پورٹ سعید میں گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن جہاز کے اطالوی کپتان نے پروٹسٹ کرتے ہوئے کہا۔ کہ وہ حکومت ہند کے کسی افسر کو اطالوی جہاز سے شری سبھاش کو گرفتار کرنے کی اجازت نہ دیں گے۔ اس پر پولیس حکام اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئے۔ جب اہل بمبئی کو شری سبھاش کی گرفتاری کی اطلاع ملی۔ تو لوگوں نے ہڑتال کردی۔
ان دنوں لکھنؤ میں کانگریس کا سالانہ اجلاس ہورہا تھا۔ 10اپریل کے کھلے اجلاس میں پنڈت جواہرلال نہرو نے تقریر کرتے ہوئے شری سبھاش بوس کی گرفتاری کے خلاف پروٹسٹ کاریزولیوشن پیش کرتے ہوئے کہا۔ "شری سبھاش بوس مجھے جرمنی ملے تھے۔ اور انہوں نے اس زبردست خواہش کا اظہار کیا تھا۔ کہ وہ واپس جاکر دیش کی سیوا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پہلے ہی معلوم تھا۔ کہ گورنمنٹ ہند ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔ برطانوی حکومت انفرادی حقوق کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتی۔ لیکن سبھاش کی گرفتاری کے بعد اس دعوے کا پول کھل گیا ہے۔"
13اپریل کو شری سبھاش بوس آرتھر روڈ جیل بمبئی سے یرودا جیل پونا میں تبدیل کردیئے گئے۔ ان دنوں ہندوستان میں ایک نہایت دلچسپ اور عجیب و غریب بحث چھڑگئی۔ بعض لوگ یہ کہنے لگ پڑے۔ کہ شری بوس کی گرفتاری میں مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو کا ہاتھ ہے۔ پنڈت نہرو اور گاندھی جی سے سبھاش بوس کے اختلافات تمام دینا پر واضح تھے۔ اس کے علاوہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کہ جواہر لال اور مہاتما گاندھی نے ہمیشہ شری سبھاش بوس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔ جب آپ یورپ میں تھے۔ تو آپ نے گاندھی جی و دیگر لیڈروں کو لکھا تھا۔ کہ انہیں غیر ممالک میں کانگریس کا نمائندہ تسلیم کیا جائے۔ لیکن کانگریس ہائی کمان نے آپ کی یہ تجویز منظور نہ کی۔ اور اس طرح انہیں کانگریس سے بالکل الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی گئی۔
اس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہیں۔ جن سے گاندھی جی اور شری سبھاش بوس کے درمیان باہمی بدظنی اور بے اعتمادی کا ثبوت مل سکتا ہے۔ ان حالات میں گاندھی جی پر یہ الزام لگا تاکہ شری سبھاش بوس کی گرفتاری میں ان کا ہاتھ تھا آسان ہے۔ لیکن درحقیقت یہ الزام قطعی غلط ہے۔ گاندھی جی جیسی پوترآتما اس قسم کی ناپاک حرکت ہرگز نہیں کرسکتی۔ گاندھی جی عام انسانوں سے ہر لحاظ میں بالاتر ہیں۔ بالفاظ دیگر اگر یہ کہہ دیا جائے۔ کہ وہ ایک فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ تو چنداں مبالغہ آمیز نہ ہوگا۔ گاندھی جی عدم تشدد کے زبردست حامی ہیں۔ اس لئے انہوں نے عموماً شری سبھاش کے انتہا پسند رویے کے متعلق سرد مہری اختیار کی۔ سیاسی لحاظ سے خواہ گاندھی جی کے اس رویہ سے ہندوستان کو کتنا ہی بھاری نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑا ہو۔ لیکن اخلاقی طورپر گاندھی جی یہ رویہ اختیار کرنے میں حق بجانب تھے۔
شری سبھاش کی گرفتاری و نظر بندی کے بعد سب سے پہلے ایک ہندو سبھائی لیڈر کا ایک بیان اخبار "ڈیلی نیوز" میں شائع ہوا۔ جس میں شری سبھاش بوس کی گرفتاری کی ذمہ داری مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو پر ڈالی گئی۔ کیونکہ مہاتما گاندھی نے اپنے سیکریٹری کو بنگال میں دہشت انگیزی کی تحقیقات کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ اور اس سیکریٹری کے ایک سنسر شدہ خط کی بناء پر ہی گورنمنٹ ہند نے کھلے الفاظ میں شری سبھاش بوس کے خلاف یہ الزام لگایا تھا۔ کہ وہ بنگال کے دہشت پسندوں کے لیڈر ہیں۔ اس لئے انہیں ہندوستان آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پنڈت جواہرلال کے متعلق یہ شکایت تھی۔ کہ انہوں نے گورنمنٹ ہند کی تنبیہہ کے باوجود شری سبھاش کو ہندوستان آنے کا مشورہ دیا۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی۔ جب ایک پبلک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرانجپے نے کہا۔ کہ شری سبھاش بوس کے بڑھتے ہوئے رسوخ کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کانگریس کے بعض لیڈروں نے ان کی گرفتاری کے لئے جال بچھایا۔ اس ضمن میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے اخبارات کے نام ایک بیان جاری کیا۔ جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے-:
"یہ ایک بیہودہ بہتان ہے۔ کہ مہاتما جی اور میں نے شری بوس کو مصیبت میں پھنسانے کی سازش کی ہوئی تھی۔ یہ سچ ہے۔ کہ جانتے ہوئے بھی کہ سبھاش بوس کو ہندوستان آتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔ میں نے انہیں ہندوستان آنے کیلئے لکھا تھا۔ لین اتفاق سے میرا خط پہنچنے سے پیشتر ہی وہ ہندوستان روانہ ہوچکے تھے۔ ہم دونوں محسوس کرتے تھے۔ کہ انہیں گرفتاری کی دھمکی دے کر برطانوی گورنمنٹ نے چیلنج دیا ہے۔ غیرت کا تقاضا تھا کہ چیلنج منظور کرلیا جائے۔ جہاں تک ہماری رائے ہے۔ شری بوس پر بالکل غلط اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔ اگر ان ملیں کچھ سچائی ہو بھی۔ تو بھی ہم گورنمنٹ کے اس منتقمانہ رویہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ ہندوستان کے ایک ایسے لیڈر سے جسے ملک میں اس قدر عزت اور ہردلعزیز حاصل ہے۔ یہ سلوک ناواجب ہے۔
جہاں تک گاندھی جی کے پرائیویٹ سیکریٹری مسٹر کرشن داس کے خط کا تعلق ہے۔ کسی شخص نے یہ خط نہیں دیکھا۔ سوائے ان چند اقتباسات کے جوہوم ممبر نے مرکزی اسمبلی میں پڑھ کر سنائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس خط میں لکھا تا۔ گورنمنٹ نے یہ خط رستے ہی میں روک لیا۔ اور گاندھی جی تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ معلوم ہوتا ہے۔ کہ مسٹر کرشن داس نے یہ خط سادھارن طورپر لکھا۔ اسے واقعات کا زیادہ علم نہ تھا۔ گورنمنٹ نے اس خط کے بعض فقرے توڑ مروڑ کر اس طرح کرلئے۔ جس سے اس کا کیس مضبوط ہوجائے مسٹر داس کو ال انڈیا کانگریس کمیٹی سے الگ کردیا گیا ہے۔"
پنڈت جی کے اس بیان سے ظاہر ہے۔ کہ شری سبھاش کی گرفتاری کے متعلق ان پر اور گاندھی جی پر جو الزام لگایا گیا تھا۔ وہ قطعی بے بنیاد اور شرارت آمیز تھا۔ اگر کوئی غلطی سرزد ہوئی۔ تو اس کی تمام ذمہ داری مسٹر کرشن داس کے سرپر ہے۔ اگر وہ کسی غلط یا صحیح نتیجہ پر پہنچے تھے۔ تو انہیں گاندھی جی کو ذاتی بات چیت کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس انہوں نے انتہائی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے اس قسم کے سنگین اور بے بنیاد الزامات ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ کر ڈاک کے ذریعے گاندھی جی کو روانہ کردیئے۔ گورنمنٹ کی سنسر مشینری حرکت میں آئی۔ اور یہ خط گاندھی جی کے پاس پہنچنے کی بجائے گورنمنٹ کے خفیہ فائلوں میں شامل کرلیا گیا۔
20مئی 1936ء کو یروداجیل سے شری سبھاش کرسونگ لے جائے گئے۔ پونا میں گرمی کی وجہ سے ان کی صحت پر ناقص اثر پڑرہا تھا۔ اس لئے انہیں تبدیل کردیا گیا۔ وہاں انہیں اپنے بھائی شری سرت چندر بوس کے مکان پر بطور شاہی قیدی نظر بند کردیا گیا۔ کرسونگ میں پھر ان کی صحت خراب ہوگئی۔ وہاں جس طرح زندگی گزارنی پڑتی تھی۔ اس کی ایک دھندلی سی جھلک مرکزی اسمبلی کی کارروائی سے ملی ہے۔
مسٹر ستیہ مورتی نے سوال کیا۔ کیا ہوم ممبر نے نائب وزیر ہند کا وہ بیان پڑھا ہے۔ جس میں درج ہے ۔ کہ شری سبھاش بوس کو رہا کردیا گیا ہے۔ کیا ہوم ممبر کو اس بات کا احساس ہے کہ پارلیمنٹ میں نائب وزیر ہند کا یہ بیان سراسر غلط تھا۔ کیونکہ شری بوس آج کل آزاد نہیں۔ بلکہ کرسونگ میں نظر بند ہیں۔
ہوم ممبر نے جواب دیا۔ مسٹر بوس کو ان کے مکان میں ریگولیشن نمبر 3کے ماتحت نظر بند کردیا گیا ہے۔ اور ان کی نقل و حرکت اور خط و کتابت پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
سوال-:وہ پابندیاں کیا ہیں۔۔۔؟
جواب-: وزیٹروں کیلئے لازمی ہے کہ وہ ملاقات سے پہلے حکومت سے اجازت حاصل کریں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ان کی خط و کتابت کو بھی دیکھتی ہے۔ اور وہ اپنے مکان سے ایک خاص فاصلہ سے پرے نہیں جاسکتے۔
سوال-:کیا جب کوئی شخص شری سبھاش سے بات چیت کرتا ہے۔ تو اس وقت کوئی سرکاری افسر موجود رہتا ہے؟
جواب-:میرے خیال میں کوئی نہیں ہوتا۔
سوال-:کیا ان کے قوم پرست اخبارات پڑھنے میں گورنمنٹ کو کچھ اعتراض ہے؟
جواب-:ممکن ہے اس قسم کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہو۔
ان سوالات و جوابات سے نائب وزیر ہند کے بیان کی قلعی کھل گئی۔ اگر اسی کا نام آزادی ہے تو پھر نامعلوم قید کسے کہتے ہیں۔ ان دنوں ڈاکٹرنیل رتن سرکار اور ڈاکٹر کے۔ ایس رائے نر کرسونگ میں شری سبھاش کا طبی معائنہ کیا اور گورنمنٹ کو رپورٹ کی۔ کہ شری سبھاش بوس کی صحت دن بہ دن خراب ہورہی ہے۔ اور کہ نظر بندی کے اس قلیل سے عرصہ میں اب تک ان کے وزن میں 7پونڈ کی بھاری کمی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ہر روز ہلکا سا بخار بھی ہوجاتا ہے۔
چند روز بعد مرکزی اسمبلی میں پھر سوالات کا جواب دیتے ہوئے ہوم ممبر نے یہ انکشاف کیا۔ کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے شری سبھاش بوس کو ایک چھٹی ارسال کی تھی۔ لیکن گورنمنٹ نے اسے روک لیا تھا۔ کیونکہ جن قواعد کے ماتحت شری سبھاش بوس نظر بند ہیں۔ ان کے ماتحت انہیں سیاسی معاملات پر خط و کتابت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
17دسمبر کو شری سبھاش بوس طبی معائنہ کیلئے پولیس کی حراست میں کرسونگ سے کلکتہ لائے گئے۔ اور انہیں میڈیکل کالج کے یورپین وارڈ میں IN DOOR PATIENT کے طورپر رکھا گیا۔
13جنوری 1937ء کو ایک بلٹین جاری کیا گیا۔ جس میں درج تھا۔
"گزشتہ دو ہفتوں میں شری سبھاش بوس کی صحت میں مزید و تین پونڈ کی کمی ہوگئی ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کی رائے ہے۔ کہ موجودہ علاج کی موجودگی میں آپریشن کی ضرورت نہیں۔"
اس سے ظاہر تھا کہ اسپتال میں منتقل کرنے کے باوجود ان کی صحت خراب ہورہی تھی۔
25 جنوری کے روز ممبران اسمبلی نے اس سوال کو اجلاس میں اٹھایا۔ سرہنری کریک ہوم ممبر نے جواب میں کہا-:
"اس مہینے تین خاص طبی ماہرین نے شری سبھاش بوس کا معائنہ کیاتھا۔ ان کی رپورٹ سے یہ ظاہر ہے کہ شری سبھاش کی صحت اچھی ہے۔ اس لئے تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔ جب وہ کرسیونگ میں پہنچے۔ تو ان کا وزن 171پونڈ تھا لیکن اب ان کا وزن 162189پونڈ ہے۔ البتہ ان کے معدہ میں کچھ تکلیف ہو۔ گئی ہے۔ یہ تکلیف انہیں وی آنا میں آپریشن کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی۔"
ہوم ممبر کا مذکورہ جواب کس قدر سنگدلانہ اور مضحکہ خیز تھا۔ شری سبھاش 8اپریل 1936ء کو جہاز سے اترتے ہی گرفتار کرلئے گئے تھے۔ اور ہوم ممبر کے بیان کے مطابق 8اپریل سے لے کر 25جنوری تک یعنی آٹھ ماہ کے قلیل عرصہ میں شری سبھاش بوس کے وزن میں ساڑھے پندرہ پونڈ کی بھاری کمی ہوئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود ہوم ممبر نے نامعلوم کس منہ سے یہ اعلان کیا۔ کہ شری سبھاش کپی صحت اچھی ہے۔ شاید سرکاری افسروں کے خیال میں کسی سیاسی قیدی کی صحت اس وقت خراب ہوتی ہے۔ جب وہ بالکل قریب المرگ ہو۔ یا زندگی اور موت کی آخری گھڑیاں گن رہا ہہو۔
ہوم ممبر کے اس بیان کے برعکس وی آنا کے ڈاکٹروں نے مختلف رائے ظاہر کرتے ہوئے شری سبھاش کی صحت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔ ان ڈاکٹروں نے آسٹریا میں شری سبھاش بوس کا آپریشن کیا تھا۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا-:
"آپریشن کے بعد شری سبھاش بوس کی صحت میں کئی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ہماری رائے ہے۔ کہ نازک حالات کے پیش نظر انہیں پھر علاج کے لئے یورپ تشریف لانا چاہیے۔"
انہی دنوں شری بوس کے ایک قریبی رشتہ دار نے یہ انکشاف کیا۔ کہ کلکتہ میڈیکل کالج میں داخلہ کے بعد ان کے وزن میں اب تک 6پونڈ کی کمی ہوچکی ہے۔ یاد رہے۔ آپ 17دسمبر کو میڈیکل کالج اسپتال ملیں داخل کئے گئے تھے۔ اور ان کے قریبی رشتہ دار کا بیان 24فروری کو شائع ہوا تھا۔ اس سے یہ ظاہر تھا۔ کہ صرف دوماہ کے قلیل عرصہ میں ان کے وزن میں 6پونڈ کمی ہوگئی تھی۔ جس کے باوجود ہوم ممبر نے بلاپس و پیش یہ اعلان کردیا کہ ان کی صحت کے متعلق تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔

(جاری ہے)

***

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved