skip to main |
skip to sidebar
یوم شہداۓ بلوچستان اور بلوچ تحریک کے پیچ و خم ,تحریر: الیاس کشمیری

تیرہ نومبر کو بلوچ عوام تمام شہداۓ بلوچستان کی جدوجہد کو خراج
عقیدت پیش کرتے ھیں اور ان کی دی گئی قربانی و نظریے کی روشنی میں جدوجہد
کو جاری رکھنے کا عہد و پیماں کرتے ھیں- آج سے ایک سو ستتر سال پہلے 13
نومبر 1839 میں خان آف قلات خام
محراب خان فرنگی سامراج کے خلاف آواز انکار بلند کر کے اپنے وطن اور بلوچوں
کے اصولوں پر قربان ھو گئے تھے- لیکن انگریز سامراج کو افغانستان کے نہتے
عوام پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے بلوچستان سے راستہ نہیں دیا تھا- انگریز
سامراج کے خلاف جدوجہد کی کامیابی کے ساتھ ہی بلوچ قوم غلامی کے ایک نئے
عہد میں داخل ھو گئے اور بلوچستان پاکستان اور ایران کے قبضے میں چلا گیا-
غلامی کے ان گھٹاٹوپ اندھیروں میں آزادی کی شمع روشن کرنے کے لیے بلوچ عوام
کو جہاں بیرونی قابض قوتوں سے لڑنا تھا وہی پر اندرونی طور پر ایک خوفناک
قبائلی سماج میں تحریک کو قومی آزادی اور انقلابی بنیادوں پر ڈھالنا خاصا
دشوار چیلنج تھا- اس عہد میں عظیم انقلابی رہنماء خیر بخش مری اور ان کے
نظریاتی دوستوں نے بہت لگن محنت اور سنجیدگی سے بلوچ تحریک کی نہ صرف نظری
اور فکری بنیادیں واضح کیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ بلوچستان میں قباہلی
لڑائیوں اور نفرتوں کا قلع قمع کرنے کے لیے بلوچ نوجوانوں کی نظریاتی اور
فکری بنیادوں پر مسلسل تربیت کے عمل کو جاری رکھا- بلوچ قوم کے فرزندوں نے
ہر عہد میں سامراجی اور قابض قوتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ھوئے مظلوم طبقے کی
نجات اور وطن کی حرمت کی خاطر لازوال قربانیاں دیں اور اپنے خون سے وطن کی
آبیاری کر کے آنے والی نسلوں کو درس حریت دیا- ایک سو ستتر سالہ اس صبر
آزما اور مسلسل جدوجہد میں لاکھوں بلوچ بوڑھے، بچے، خواتین اور نوجوان شہید
ھوئے- عہد بہ عہد اور نسل در نسل قربانیوں کی تاریخ سے بھری بلوچ تحریک
آزادی کٹھن اور پر پیچ حالات سے گزر رہی ھے- لاکھوں شہداء نے قربانیاں دیں
تو ان کی قربانیوں کی لاج رکھتے ھوئے بلوچ آزادی پسند عوام نے داخلی طور پر
قبائلی اناؤں اور نفرتوں جیسی جہالتوں کا تحریک کے اندر سے قلع قمع کیا
اور خارج میں خالص قومی و طبقاتی بنیادوں پر جدوجہد کو منظم کیا- قومی
آزادی کی جدوجہد کے دوران آزادی پسند قوتوں کے آپس میں بھی شدید ترین
اختلافات رھے- ان اختلافات کے وقتی طور پر نقصانات سے انکار نہیں کیا جا
سکتا لیکن یہ اختلافات لمبے عرصے تک چلنے والی جدوجہد کو درست سمتیں اور
بہترین حکمت عملی سے سرشار کرتے ھیں- نظریاتی اور فکری بنیادوں پر اختلافات
نظریے اور عمل کو درست بنیادوں پر استوار کرنے کا موجب بنتے ھیں- اور جب
نظریہ اور عمل دونوں درست ھوں تو تحریک وہ شکل اختیار کر لیتی ھے جو آج
بلوچ تحریک نے اختیار کی ھے- پھر ایسی تحریک کو دنیا کی کوئی طاقت شکست
نہیں دے سکتی- سال 2012 میں بی ایس
او آزاد نے یہ فیصلہ کیا کہ بلوچ تحریک آزادی میں شہید ھونے والے تمام
شہداء کا مشترکہ طور پر یوم شہادت ہر سال 13 نومبر کو منایا جاۓ گا- جسے
تمام آزادی پسند تنظیموں نے تسلیم کیا اور اب تمام تنظیمیں مل کر یوم شہداے
بلوچستان 13 نومبر کو مناتی ھیں- یوم شہدائے بلوچستان بلا رنگ نسل مذہب
علاقہ ان تمام شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جو
بلوچستان کی تحریک آزادی میں شہید ھوئے ہیں چائے وہ محاذ پر لڑتے ھوئے شہید
ھوئے یا سیکورٹی فورسیز کے آپریشن کے دوران لا پتہ یا شہید کر دیے گئے
ہیں- ان سب کی عظیم شہادتوں کو مشعل راہ بنا کر آزادی کے سفر کو جاری رکھنے
کا عزم کیا جاتا ھے- اب کے بار یوم شہداۓ بلوچستان ایک ایسے وقت میں منایا
جا رہا ھے جب بلوچ تحریک گزشتہ دو ماہ میں تیزی سے نئی صورتحال اور نئے
حالات میں داخل ھوہی ھے- ان حالات کا عمومی جائزہ لیں تو گزشتہ ماہ سے جاری
اسلام آباد میں بلوچ طلباء نے اپنے حقوق کے لیے دوران تحریک لاٹھی چارج
گرفتاریوں اور تا دم مرگ بھوک ہڑتال جیسی اذیتیں جھیلی لیکن اپنے حقوق سے
دست بردار نہیں ھوئے- انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی، نا انصافی
اور ریاستی اداروں اور حکام بالاکی جانبداری اور بے حسی کو شکست دی، ادھر
تاریخ میں پہلی بار بلوچ آزادی پسند تنظیموں نے میڈیا پر ریاست کے نا جائز
کنٹرول کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ھوئے میڈیا بائیکاٹ کیا ھوا ھے گزشتہ
20 دن سے اخبارات کی ترسیل بند ھے اور اکثر پریس کلب بھی بند ھیں- اس کے
ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسیز کی جانب سے خواتین اور بچوں کی اغواء کاری کے
خلاف شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال بھی کامیابی سے جاری ھے- جبکہ سیکورٹی
فورسیز کی طرف سے بچوں اور خواتین کو اغواء کرنے کے گھناونے اور بزدلانہ
فعل نے بلوچ عوام اور آزادی پسندوں کے جزبات کی شدت کو مزید ابھارا ھے اور
انھیں مزید منظم کیا ھے- ڈاکٹر الللہ نذر بلوچ اور استاد اسلم بلوچ کے
درمیان اتحاد کا باضابطہ اعلان اس کا واضع ثبوت ھے- ورلڈ بلوچ آرگنائیزیشن
نے بیرونی دنیا میں بلوچ تحریک آزادی کو اجاگر کرنے اور ریاست کے ظلم و جبر
کو بے نقاب کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فری بلوچستان مہم کا آغاز کر
دیا ھے- ان حالات و واقعات میں بلوچ عوام یوم شہدائے بلوچستان منانے جا رہے
ھیں یہ حالات و واقعات اس طرف واضح اشارہ ھیں کہ بلوچ تحریک منزل کی طرف
حتمی پیش رفت جاری رکھے ھوئے ھے- یوم شہداء 2017آزادی
پسند تنظیموں سے یہ تقاضا کرتا ھے کہ جہاں وہ شہداء کی جدوجہد اور لازوال
قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے اور آزادی کے لیے آخری سانس تک غیر
متزلزل لڑنے کا عہد و پیماں کریں گے وہی پر ضرورت اس امر کی ھے کہ تمام
آزادی پسند تنظیمیں اپنے اندر اتحاد پیدا کریں- حالات کی نزاکت اور جدوجہد
میں تیزی سے جاری پیش رفت اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے اتحاد کے پیش نظر
آزادی پسند قوتوں کو اپنی صفوں میں فی الفور اتحاد پیدا کرنا ھوگا
Post a Comment