Translate In Your Language

New Videos

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر

’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )

(گذشتہ سے پیوستہ)


( آٹھویں قسط)

دائمی جلاوطنی یا جیل
گورنمنٹ ہند پہلے ہی شری سبھاش بوس کی سرگرمیوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھتی تھی۔ لیکن جب وہ آئرلینڈ جاکر مسٹر ڈی ولیرا اور دیگر انقلاب پسند لیڈروں سے ملے۔ تو گورنمنٹ تلملا اٹھی۔ اس نے شری سبھاش کو محض اس غرض سے یورپ جانے کی اجازت دی تھی۔ تاکپہ ہندوستان میں ان کی موجودگی کے باعچ دہشت پسندوں کی سرگرمیوں ملیں امکانی اضافہ کو روک دیا جائے۔ لیکن جب وہ ہندوستان کے دہشت پسندوں کے گڑھ۔ بنگال کی بجائے دنیا بھر کے دہشت پسندوں کے ہیڈ کوارٹر آئرلینڈ میں پہنچ گئے۔ تو گورنمنٹ ہند کو انتہائی تشویش ہوئی۔ کیونکہ آئرش دہشت پسندوں نے اپنی سرگرمیاں محض آئرلینڈ تک ہی محڈود نہ رکھی تھیں۔ بلکہ انہوں نے لندن اور امریکہ کو بھی اپنی کارروائیوں کا مرکز بنایا تھا۔ اس سے گورنمنٹ کو یہ خطرہ پیدا ہوا۔ کہ کہیں سری سبھاش ہندوستان میں بھی گڑبڑ ڈالنے کیلئے آئرش انقلاب پسندؤں سے کوئی خفیہ سمجھوتہ نہ کرلیں۔ ان دنوں شری سبھاش ہندوستان واپس آنے کا ارادہ کررہے تھے۔ اور اس سے پیشتر مرکزی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے اعلان کردیا گیا تھا۔ کہ گورنمنٹ ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے گی۔ لیکن آئرلینڈ کے دورے نے صورت حالات کو بالکل ہی بدل کے رکھ دیا۔ اور گورنمنٹ ہند نے سبھاش بوس کو مطلع کردیا۔ کہ اگر انہوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ تو انہیں فوراً گرفتار کرلیا جائے گا۔
حکومت ہند کا یہ وارننگ آپ کو نہایت عجیب و غریب طریقے سے وی آنا میں پہنچایا گیا۔ برطانوی قونصل نے شری سبھاش کو ایک چھٹی لکھی۔ جس میں درج تھا۔
"وزیر خارجہ برطانیہ کی طرف سے ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ کہ میں آپ کو گورنمنٹ ہند کے اس ارادے سے مطلع کردوں۔ کہ اگر آپ ہندوستان گئے۔ تو اس صورت میں آپ کو گرفتار کرلیا جائے گا۔"
اس سے صاف ظاہر تھا۔ کہ گورنمنٹ ہند انہیں دائمی طورپر ہندوستان سے جلاوطن کرنا چاہتی تھی۔
جب یہ اطلاع ہندوستان پہنچی۔ تو قوم پرست حلقوں میں بھاری سنسنی پھیل گئی۔ 23مارچ 1936ء کے روز مرکزی اسمبلی کے اجلاس ملیں مسٹرنیل کنٹھ داس نے تحڑیک ملامت پیش کرتے ہوئے اس معاملے کو اٹھایا۔ آپ نے کہا۔"شری سبھاش بوس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ بھارت ماتا کے ایک مایجہ ناز سپوت اعلیٰ درجہ کے قوم پرست اور ایک سرگرم کانگریسی ہیں۔ اگر وہ ہندوستان آجائیں اور پنڈت جواہر لال کے ساتھ مل کر کام کریں۔ تو ایسی فضا پیدا ہوجائے گی۔ جو ہندوستان کے باشندوں کے لئے ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ کے کے لئے بھی مفید ہوگی۔"
مسٹر ہیلٹ ہوم سیکریٹری گورنمنٹ ہند نے سرکاری پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا۔"گورنمنٹ نہ تو حقائق کو چھپانا چاہتی ہے۔ اور نہ ہی یہ پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے کہ وہ کن وجوہات کی بناء پر شری سبھاش بوس کی ہندوستان میں موجودگی کو پسند نہیں کرتی۔ اگر انہیں ہندوستان میں آنے اور یہاں آکر آزاد رہنے کا موقع دیا گیا۔ تو وہ نہ صرف بنگال بلکہ ہندوستان بھر کے لئے خطرہ ثابت ہونگے۔ مسٹر بوس انڈین سول سروس سے استعفےٰ دے کر عدم تعاونی بن گئے تھے۔ اس وقت وہ نہ صرف کانگریس کے انتہا پسند گروپ بلکہ انقلاب پسندوں کے انتہا پسند گروپ کے لیڈر ہیں۔ وہ تحریک عدم تعاون کو محض اس لئے پسند کرتے تھے۔ کہ اس سے کانگریس آئینی طریقوں کو چھوڑ کر انقلابی طریقوں کو اختیار کرلے گی۔ لیکن جب چورا چوری کے حادثات کے بعد یہ تحْڑیک واپس لے لی گئی۔ تو وہ اس سے دل برداشتہ ہوگئے۔ اس کے بعد 1922ء میں تحریک دہشت انگیزی زیادہ خطرناک صورت میں ظاہر ہوئی۔ اور شری سبھاش بوس کو 1924ء میں بنگال ریگولیشن کے ماتحت گرفتار کرلیا گیا۔ ججوں نے ان کے کیس پر اچھی طرح غور و خوض کیا۔ اور قرار دیا۔ کہ مسٹر بوس ایک انقلابی نوعیت کی سازش کے ممبر ہیں۔ اور کہ اگر انہیں آزاد رہنے دیا گیا۔ تو وہ گورنمنٹ کیلئے خطرناک ثابت ہونگے۔ بالخصوص اس لئے کہ ان کی پبلک پوزیشن اعلیٰ ہے۔ اور ان میں تنظیم کی بڑی بھاری قابلیت ہے۔ میں اس بت سے متفق ہوں کہ مسٹر بوس نوجوان طبقہ میں بہت مقبول ہیں۔ لیکن یہی تو خطرے کی وجہ ہے۔"
مسٹر ہیلٹ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔ "مسٹر بوس نے بنگال کے انقلاب پسندوں کے اخبار"آتم شکتی" میں ایک مضمون لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے نوجوانوں سے مطالبہ کیا تھا۔ کہ وہ اپنی جانیں قربان کردیں۔ پبلک سرگرمیوں کے علاوہ مسٹر بوس فی الحقیقت دہشت پسندوں سے ساز باز رکھتے تھے اور انہیں سرکاری افسروں کو قتل کرنے کی سازشوں کا علم ہوتا تھا۔ اس لئے انہیں رنگون میں نظر بند کردیا گیا۔ لیکن بعدازاں خرابی صحت کی وجوہ پر رہا کردیئے گئے۔ رہائی کے فوراً بعد انہوں نے طلباء اور مزدوروں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھالیا۔
اور 1928ء میں بنگال اسٹوڈنٹس کانفرنس بلائی۔ جس میں کمیونزم کا پرچار کیا گیا۔ حکومت ہند کے خیال میں نوجوانوں کو اس قسم کا پیغام دینا سخت خطرناک ہے جمشید پور اور بمبئی کے کارخانوں میں جو ہڑتالیں ہوئیں۔ ان ملیں مسٹر بوس نے نمایاں حصہ لیا۔ کانگریس کا اعتدال پسند طبقہ جو طریقے اختیار کررہا تھا۔ ان سے مسٹر بوس کو نفرت تھی۔ اور انہوں نے اپنی نفرت کو چھپایا نہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ زیادہ انتہا پسندانہ طریقے اختیار کئے جائیں۔ 1929ء میں لاہور میں کانگریس کا جو اجلاس ہوا۔ اس میں مسٹر بوس نے متوازی گورنمنٹ قائم کرنے پر زور دیا۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہ انہوں نے کانگریس کے سامنے جو پولیسی رکھی۔ وہ انقلاب پسندوں کی پالیسی تھی۔
1932ء میں انہیں باغیانہ تقریر کرنے کے جرم میں سزا ملی۔ جس جلسہ میں انہوں نے تقریر کی۔ اس میں انقلابی اشتہارات تقسیم کئے گئے۔ بعدازاں جب مہاتما گاندھی گورنمنٹ کے ساتھ صلح کی گفت و شنید کررہے تھے۔ تو مسٹر بوس نے ان کو ترغیب دی۔ کہ وہ متشدددانہ جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کریں۔ اس تمام عرصہ میں مسٹر بوس دہشت پسندوں کی امدا دکرنے پر آمادہ رہتے تھے۔"
آخر میں ہوم ممبر نے ایک شخص مسٹر کرشن داس کے خط کا حوالہ دیا۔ اس میں ایک مسٹر "اے" اوردوسرے مسٹر"بی"کا ذکر تھا۔ مسٹر ہیلٹ نے کہا۔ کہ مسٹر "اے" سے مراد مسٹر سبھاش بوس ہی تھے۔ اس خط سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ انقلاب پسندؤں کی "یگانتر" پارٹی مسٹر بوس کی پشت پر ہے۔ اور یہی وہ پارٹی ہے۔ جو چٹاگانگ پر مسلح حملے اور یورپین افسروں کے قتل کی ذمہ دار ہے۔ مزید کہا۔
1932ء میں شری سبھاش بوس نے"سامایہ واد سنگھ" کے نام سے ایک تحریک جاری کی۔ پچھلے دسمبر میں جب بمبئی کے ایک مکان کی تلاشی لی گئی۔ تو مسٹر بوس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کچھ چٹھیاں دستیاب ہوئیں۔ ان میں اس بات پر اظہار افسوس کیا گیا تھا۔ کہ کانگریس صرف عدم تشدد کی شرن لئے ہوئے ہے۔ اور اس نے ابھی تک مسلح جنگ کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ صرف سول نظام کو سزا دینے کی کوشش کی ہے۔ جس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ مسٹر بوس نے اپنی چٹھیوں میں یہ بھی لکھا تا۔ کہ سوراج حاصل کرنے کیلئے ہمیں آئرش طرح کی "گوریلا جنگ" سے کام لینا چاہیے۔ اور عدالتوں و ٹیکسوں کی وصولی کو عفو معطل بنادینا چاہیے۔ اس "سامیہ وادی سنگھ" کا نام پیچھے بدل کر "ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن آرمی"کردیا گیا۔ جب مسٹر بوس دوی آنا ملیں تھ۔ے تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پمفلٹ بھیجا۔ اس میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا تھا۔ کہ ہندوستانی فوج اور پولیس کو قابو میں کرنے کی اب تک کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس پمفلٹ میں یہ بھی لکھا ہے۔ کہ مسلح طاقت سے گورنمنٹ کو اس کے اختیارات سے محروم کردینا چاہیے۔ پچھلے دنوں لندن میں انڈین پولیٹیکل کانفرنس کا تیسرا اجلاس ہوا۔ مسٹر سبھاش بوس اس کے صدر بنائے گئے لیکن گورنمنٹ برطانیہ نے انہیں انگلستان جانے کی اجازت نہ دی۔ اس لئے انہوں نے اپنے ایڈریس کی ایک چھپی ہوئی کاپی بھیجی۔ اس میں بھی اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا۔"
حکومت ہند کے ہوم ممبر کا منہ بند کرنے کیلئے کانگریس پارٹی کے لیڈر شری ڈیسائی نے ایک نہایت پر زور تقریر کی۔ اور دریافت کیا کہ اگر حکومت کے پاس بوس کے خلاف ثبوت موجود ہے۔ تو وہ مقدمہ کیوں نہیں چلاتی۔ بعدازاں ووٹ شماری پر گورنمنٹ کے خلاف تحریک التواء اکثرت رائے سے پاس ہوگئی۔ اور اس طرح جہاں گورنمنٹ کو کو اخلاقی شکست ہوئی۔ وہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی۔ اور اس طرح جہاں گورنمنٹ کو اخلاقی شکست ہوئی۔ وہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی۔ کہ شری سبھاش کے متعلق گورنمنٹ اور ہندوستانیوں کے نقطہ نگاہ میں زمین آشمان کا فرق ہے۔ ایک کی نگاہ میں وہ مجرم۔ تو دوسرے کی نگاہ میں سچے دیش بھگت!
جس روزمرکزی اسمبلی میں اس معاملے پر بحث ہورہی تھی۔ عین اسی روز ہاؤس آف کامنٹر میں ایک ممبر پارلیمنٹ نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔ جواب میں نائب وزیر ہند نے کہا۔ "شری سبھاش بوس کو وزیر ہند کی درخواست پر نوٹس بھیجا گیا ہے۔ کہ ہندوستان پہنچنے پر انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔"
سوال-:حکومت مسرٹر بوس کو ہندوستان واپس جانے کی اجازت کپیوں نہیں دیتی! گورنمنٹ نے چار سال ہوئے انہیں گرفتار کرکے کسی مقدمہ کی سماعت کے بغیر غیر معین عرصہ کے لئے نظر بند کردیا تھا۔ اور اب جبکہ وہ علاج کی غرض سے یورپ آئے ہوئے ہیں۔ انہیں واپس جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ کیا ان پر سختیوں کا کبھی خآتمہ بھی ہوگا؟"
نائب وزیر ہند نے کوئی جواب نہ دیا۔
شری سبھاش کیلئے یہ ناممکن تھا۔ کہ وہ گورنمنٹ ہند کے اس چیلنج پر خاموش رہنے۔ انہوں نے اس سرکاری حکم کی دھجیاں اڑانے کا فیصلہ کرلیا۔ چار روزہ بعد 27مارچ کو ہندوستان میں ان کا ایک بحری تار ملا۔ جس میں انہوں نے یہ مصمم ارادہ ظاہر کیا۔ کہ "وہ گورنمنٹ ہند کی وارننگ کی پروانہ کرتے ہوئے ہندوستان واپس آجائیں گے۔ اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کردیں گے۔"
چنانچہ آپ 26مارچ کو گیسٹن سے اٹلی کے روانہ ہوئے۔ اور 27مارچ کو سینٹی ورڈی جہاز میں ہندوستان کے لئے روانہ ہو آئے۔ روانگی سے پیشتر آپ نے حسب ذیل بیان جاری کیا۔
"گورنمنٹ کے انتباہ کے پیش نظر مجھے میرے معزز دوستوں نے مشورہ دیا تھا۔ کہ میں ہندوستان کو اپنی روانگی ملتوی کردوں۔ ان کا خیال ہے کہ میں آزاد رہ کر ہندوستان کے کاز کے لئے بھاری خدمت سرانجام دے سکتا ہوں۔ مشہور فرانسیسی مدبر رومن رولان نے اس امر کے تمعلق بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کہ یورپ آنے سے میری صحت میں جو بہترین رونما ہوئی ہے۔ جیل جانے سے اس پر برا اثر پڑیگا۔ اور میری صحت پھر پہلے کی طرح خراب ہوجائے گی۔
دیگر دوستوں کی طرف سے ایک اور وجہ بھی پیش کی گئی۔ کہ جب سے کانگریس نے سول نافرمانی بند کی ہے۔ کانگریسی سرکاری احکام کی خلاف ورزی نہیں کررہے۔ یہ دلائل نہایت وزن دار ہیں۔ لیکن ان پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ کہ مجھے اپنے پہلے فیصلہ پر قام رہنا چاہیے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے میں نے تمام ذاتی خیالات کا بھلادیا ہے۔ اور صرف قومی مفاد اور قومی فرض کو پیش نظر رکھا ہے۔ اگر میں محسوس کرتا۔ کہ جیل سے باہر رہ کر میں ہندوستان کی کوئی ٹھوس خدمت سرانجام دے سکتا ہوں۔ تو میں یقیناًہندوستان میں اپنی واپسی ملتوی کردیتا۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں۔ کہ یورپ میں رہ کر ہندوستان کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے سکتا۔ اگر میرے پاس کافی روپیہ ہوتا۔ یا کانگریس میری کافی امداد کرتی تو موجودہ حالات کی نسبت میں یورپ میں رہ کر ہندوستان کے کاز کیلئے زیازدہ مفید ہوسکت اتھا۔ لین پٹیل فنڈ کے منتظم ایسی وجوہات کی بناء پر جووہی اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس ایک لاکھ روپے کو دبائے ہوئے ہیں جو سورگیہ وٹھل بھائی پٹیل غیر ممالک میں پراپیگنڈا کے لئے مجھے دے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کانگریس ورکنگ ورکنگ کمیٹی نے مجھے اپنے نمائندہ کی حیثیت دینے سے انکار کردیا ہے۔ اگرچہ میں نے گزشتہ تین سال میں ہندوستان کے کاز کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مندرجہ حالات میں مجھے بہت کم کامیابی ہوئی۔ اور اگر میں یورپ میں ٹھہرارہا۔ تو مجھے اس سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
جہاں تک سول نافرمانی کے التواء اور سرکاری احکام کی خلاف ورزی کا تعلق ہے۔ میرے خیال میں جب بیورو کریسی کسی انسان کے حقوق پر چھاپہ مارتی ہے۔ تو اسے ہروقت یہ حق حاصل ہے۔ کہ وہ پروٹسٹ کرنے کیلئے ان ہتھیاروں کو استعمال کرے۔"
شری سبھاش بوس کے فیصلہ سے لندن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ چکی تھی۔ 6اپریل کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایک ہمدرد ممبر نے سوال کیا۔ "شری سبھاشے کے ہندوستان پہنچنے پر ان کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا جائے گا۔ یاکہ یونہئی نظر بند کردیئے جائینگے؟"
جواب میکں نائب وزیر ہند نے کہا"-: مسٹر سبھاش کے خلاف و کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے متعلق گورنمنٹ ہند کے مشورہ کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ مسٹر بوس اس سے پیشتر ریگولیشن نمبر 3کے ماتحت نظر بند رہ چکے ہیں۔ اور اس ریگولیشن کی رو سے خاص الزامات کے ماتحت مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں۔"
سوال-:میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ کہ گورنمنٹ ہند آئندہ کیا کارروائی کرنا چاہتی ہے؟ کیا وزیر ہند اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے؟ کہ سبھاش بوس کے ہندوستان پہنچنے پر ان سے سخت سلوک نہیں کیا جائے گا؟"
جواب-:جن وجوہات کی بناء رپر مسٹر بوس کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اب بھی قائم ہیں۔ انہیں محض طبی وجوہات کی بناء پر یورپ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ لہٰذا اگر انہوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ تو انہیں گرفتار کرکے نظر بند کردیاجائے گا۔"
ادھر یہ بحث مباحثے ہورہے تھے۔ ادھر شری سبھاش بوس 8اپریل 1936ء کے دن جہاز کے ذریعے بمبئی پہنچ گئے۔ اور انہیں جہاز سے اترتے ہی ریگولیشن نمبر 3کے امتحت گرفتار کرلیا گیا۔ شری بوس کے درشنوں کے لئے جہاز کی آمد سے بہت پہلے لوگوں کا ایک بھاری ہجوم ساحل سمندر پر جمع ہوگیا تھا۔ جونہی وہ دور سے نظر آئے۔ لوگوں نے ان کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ شری بوس نے انتہائی متانت سے ان کے خیرمقدم کا جواب دیا۔ پولیس پارٹی بھی ان کے انتظار میں کھڑی تھی۔ ڈپٹی کمشنر سی آئی ڈی خود ان کی گرفتاری کے لئے آئے ہوئے تھے۔ وہ مسٹر سبھاش چندر بوس کے جہاز سے اترنے کا انتظار کررہے تھے۔ اور عین جہاز کی سیڑھیوں کے قریب کھڑے تھے۔ جب جہاز ساحل سے لگا۔ تو مسٹر سبھاش فوراً جہاز سے نہ اترے۔ بلکہ تقریباً ڈیئڑھ گھنٹہ تختہ جہاز پر ہی رہے۔ اس اثناء میں پولجیس ان کا انتظار کرتی رہی۔ مسٹر بوس جہاز کے کنارے پر شاہانہ انداز میں کھڑے مسکرارہے تھے۔ اور ان کے قریب ساحل پر جو لوگ کھڑے تھ۔ے وہ قومی نعرے لگارہے تھے۔ ہجوم میں ہزاروں مزدور بھی تھے۔ جنہوں نے سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
سبھاش نے جہاز پر کھڑے ہی ان لوگوں سے باتیں کرنی شروع کردیں اور اپنے دوستوں کی صحٹ کے متعلق دریافت کیا۔ مزوروں اور اہل جلوس کے جواب میں آپ نے ان کو تلقین کی۔ کہ "دیکھنا! کہیں آزادی کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔"
10بج گئے۔ اور تمام مسافر جہاز سے اترپڑے۔ لیکن شری سبھاش ابھی تک تختہ جہاز پر ہی کھڑے مسکرارہے تھے۔ انہوں نے اترنے کیلئے کوئی ارادہ ظاہر نہ کیا۔ جب ایک شخص نے ان سے دریافت کیا۔ کپہ کیا آپ ساحل پر نہ اترینگے! تو مسٹر بوس نے کہا۔ مجھے یہاں اترنے کی جازت ہے۔۔۔؟ یہ کہہ کر انہوں نے اپنا پاسپورٹ ہجوم کے سامنے کردیا۔ اس پر لوگ قہقہہ مارکر ہنس پڑے۔ شری سبھاش نے مزید کہا-:
"میں لکھنؤ جانا چاہتا ہوں۔ بشرطیکہ مجھے ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔" اس کے تھوڑی دیر بعد شری بوس جہاز سے اتر آئے۔ اس وقت آپ پھولوں کے ہاروں سے لدے ہوئے تھے۔ انہیں جہاز سے اترتے دیکھ کر ڈپٹی کمشنر سی۔ آئی۔ ڈی نے آگے بڑھ کر انہیں وارنٹ گرفتاری دکھایا۔ اور انہیں ایک موٹر لانچ کی طرف لے گئے۔ جونہی شری سبھاش اس لانچ میں بیٹھے۔ وہ الیگزینڈرا گھاٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔ اور وہاں پہنچنے کے بعد سبھاش بوس کو آرتھرروڈ جیل میں پہنچادیا گیا۔
ان کی گرفتاری کے متعلق ایک قابل ذکر بات یہ ہے۔ کہ حکومت ہند کے حکام نے شری سبھاش کو بمبئی پہنچنے سے پہلے ہی پورٹ سعید میں گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن جہاز کے اطالوی کپتان نے پروٹسٹ کرتے ہوئے کہا۔ کہ وہ حکومت ہند کے کسی افسر کو اطالوی جہاز سے شری سبھاش کو گرفتار کرنے کی اجازت نہ دیں گے۔ اس پر پولیس حکام اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئے۔ جب اہل بمبئی کو شری سبھاش کی گرفتاری کی اطلاع ملی۔ تو لوگوں نے ہڑتال کردی۔
ان دنوں لکھنؤ میں کانگریس کا سالانہ اجلاس ہورہا تھا۔ 10اپریل کے کھلے اجلاس میں پنڈت جواہرلال نہرو نے تقریر کرتے ہوئے شری سبھاش بوس کی گرفتاری کے خلاف پروٹسٹ کاریزولیوشن پیش کرتے ہوئے کہا۔ "شری سبھاش بوس مجھے جرمنی ملے تھے۔ اور انہوں نے اس زبردست خواہش کا اظہار کیا تھا۔ کہ وہ واپس جاکر دیش کی سیوا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پہلے ہی معلوم تھا۔ کہ گورنمنٹ ہند ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔ برطانوی حکومت انفرادی حقوق کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتی۔ لیکن سبھاش کی گرفتاری کے بعد اس دعوے کا پول کھل گیا ہے۔"
13اپریل کو شری سبھاش بوس آرتھر روڈ جیل بمبئی سے یرودا جیل پونا میں تبدیل کردیئے گئے۔ ان دنوں ہندوستان میں ایک نہایت دلچسپ اور عجیب و غریب بحث چھڑگئی۔ بعض لوگ یہ کہنے لگ پڑے۔ کہ شری بوس کی گرفتاری میں مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو کا ہاتھ ہے۔ پنڈت نہرو اور گاندھی جی سے سبھاش بوس کے اختلافات تمام دینا پر واضح تھے۔ اس کے علاوہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کہ جواہر لال اور مہاتما گاندھی نے ہمیشہ شری سبھاش بوس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔ جب آپ یورپ میں تھے۔ تو آپ نے گاندھی جی و دیگر لیڈروں کو لکھا تھا۔ کہ انہیں غیر ممالک میں کانگریس کا نمائندہ تسلیم کیا جائے۔ لیکن کانگریس ہائی کمان نے آپ کی یہ تجویز منظور نہ کی۔ اور اس طرح انہیں کانگریس سے بالکل الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی گئی۔
اس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہیں۔ جن سے گاندھی جی اور شری سبھاش بوس کے درمیان باہمی بدظنی اور بے اعتمادی کا ثبوت مل سکتا ہے۔ ان حالات میں گاندھی جی پر یہ الزام لگا تاکہ شری سبھاش بوس کی گرفتاری میں ان کا ہاتھ تھا آسان ہے۔ لیکن درحقیقت یہ الزام قطعی غلط ہے۔ گاندھی جی جیسی پوترآتما اس قسم کی ناپاک حرکت ہرگز نہیں کرسکتی۔ گاندھی جی عام انسانوں سے ہر لحاظ میں بالاتر ہیں۔ بالفاظ دیگر اگر یہ کہہ دیا جائے۔ کہ وہ ایک فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ تو چنداں مبالغہ آمیز نہ ہوگا۔ گاندھی جی عدم تشدد کے زبردست حامی ہیں۔ اس لئے انہوں نے عموماً شری سبھاش کے انتہا پسند رویے کے متعلق سرد مہری اختیار کی۔ سیاسی لحاظ سے خواہ گاندھی جی کے اس رویہ سے ہندوستان کو کتنا ہی بھاری نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑا ہو۔ لیکن اخلاقی طورپر گاندھی جی یہ رویہ اختیار کرنے میں حق بجانب تھے۔
شری سبھاش کی گرفتاری و نظر بندی کے بعد سب سے پہلے ایک ہندو سبھائی لیڈر کا ایک بیان اخبار "ڈیلی نیوز" میں شائع ہوا۔ جس میں شری سبھاش بوس کی گرفتاری کی ذمہ داری مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو پر ڈالی گئی۔ کیونکہ مہاتما گاندھی نے اپنے سیکریٹری کو بنگال میں دہشت انگیزی کی تحقیقات کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ اور اس سیکریٹری کے ایک سنسر شدہ خط کی بناء پر ہی گورنمنٹ ہند نے کھلے الفاظ میں شری سبھاش بوس کے خلاف یہ الزام لگایا تھا۔ کہ وہ بنگال کے دہشت پسندوں کے لیڈر ہیں۔ اس لئے انہیں ہندوستان آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پنڈت جواہرلال کے متعلق یہ شکایت تھی۔ کہ انہوں نے گورنمنٹ ہند کی تنبیہہ کے باوجود شری سبھاش کو ہندوستان آنے کا مشورہ دیا۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی۔ جب ایک پبلک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرانجپے نے کہا۔ کہ شری سبھاش بوس کے بڑھتے ہوئے رسوخ کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کانگریس کے بعض لیڈروں نے ان کی گرفتاری کے لئے جال بچھایا۔ اس ضمن میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے اخبارات کے نام ایک بیان جاری کیا۔ جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے-:
"یہ ایک بیہودہ بہتان ہے۔ کہ مہاتما جی اور میں نے شری بوس کو مصیبت میں پھنسانے کی سازش کی ہوئی تھی۔ یہ سچ ہے۔ کہ جانتے ہوئے بھی کہ سبھاش بوس کو ہندوستان آتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔ میں نے انہیں ہندوستان آنے کیلئے لکھا تھا۔ لین اتفاق سے میرا خط پہنچنے سے پیشتر ہی وہ ہندوستان روانہ ہوچکے تھے۔ ہم دونوں محسوس کرتے تھے۔ کہ انہیں گرفتاری کی دھمکی دے کر برطانوی گورنمنٹ نے چیلنج دیا ہے۔ غیرت کا تقاضا تھا کہ چیلنج منظور کرلیا جائے۔ جہاں تک ہماری رائے ہے۔ شری بوس پر بالکل غلط اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔ اگر ان ملیں کچھ سچائی ہو بھی۔ تو بھی ہم گورنمنٹ کے اس منتقمانہ رویہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ ہندوستان کے ایک ایسے لیڈر سے جسے ملک میں اس قدر عزت اور ہردلعزیز حاصل ہے۔ یہ سلوک ناواجب ہے۔
جہاں تک گاندھی جی کے پرائیویٹ سیکریٹری مسٹر کرشن داس کے خط کا تعلق ہے۔ کسی شخص نے یہ خط نہیں دیکھا۔ سوائے ان چند اقتباسات کے جوہوم ممبر نے مرکزی اسمبلی میں پڑھ کر سنائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس خط میں لکھا تا۔ گورنمنٹ نے یہ خط رستے ہی میں روک لیا۔ اور گاندھی جی تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ معلوم ہوتا ہے۔ کہ مسٹر کرشن داس نے یہ خط سادھارن طورپر لکھا۔ اسے واقعات کا زیادہ علم نہ تھا۔ گورنمنٹ نے اس خط کے بعض فقرے توڑ مروڑ کر اس طرح کرلئے۔ جس سے اس کا کیس مضبوط ہوجائے مسٹر داس کو ال انڈیا کانگریس کمیٹی سے الگ کردیا گیا ہے۔"
پنڈت جی کے اس بیان سے ظاہر ہے۔ کہ شری سبھاش کی گرفتاری کے متعلق ان پر اور گاندھی جی پر جو الزام لگایا گیا تھا۔ وہ قطعی بے بنیاد اور شرارت آمیز تھا۔ اگر کوئی غلطی سرزد ہوئی۔ تو اس کی تمام ذمہ داری مسٹر کرشن داس کے سرپر ہے۔ اگر وہ کسی غلط یا صحیح نتیجہ پر پہنچے تھے۔ تو انہیں گاندھی جی کو ذاتی بات چیت کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس انہوں نے انتہائی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے اس قسم کے سنگین اور بے بنیاد الزامات ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ کر ڈاک کے ذریعے گاندھی جی کو روانہ کردیئے۔ گورنمنٹ کی سنسر مشینری حرکت میں آئی۔ اور یہ خط گاندھی جی کے پاس پہنچنے کی بجائے گورنمنٹ کے خفیہ فائلوں میں شامل کرلیا گیا۔
20مئی 1936ء کو یروداجیل سے شری سبھاش کرسونگ لے جائے گئے۔ پونا میں گرمی کی وجہ سے ان کی صحت پر ناقص اثر پڑرہا تھا۔ اس لئے انہیں تبدیل کردیا گیا۔ وہاں انہیں اپنے بھائی شری سرت چندر بوس کے مکان پر بطور شاہی قیدی نظر بند کردیا گیا۔ کرسونگ میں پھر ان کی صحت خراب ہوگئی۔ وہاں جس طرح زندگی گزارنی پڑتی تھی۔ اس کی ایک دھندلی سی جھلک مرکزی اسمبلی کی کارروائی سے ملی ہے۔
مسٹر ستیہ مورتی نے سوال کیا۔ کیا ہوم ممبر نے نائب وزیر ہند کا وہ بیان پڑھا ہے۔ جس میں درج ہے ۔ کہ شری سبھاش بوس کو رہا کردیا گیا ہے۔ کیا ہوم ممبر کو اس بات کا احساس ہے کہ پارلیمنٹ میں نائب وزیر ہند کا یہ بیان سراسر غلط تھا۔ کیونکہ شری بوس آج کل آزاد نہیں۔ بلکہ کرسونگ میں نظر بند ہیں۔
ہوم ممبر نے جواب دیا۔ مسٹر بوس کو ان کے مکان میں ریگولیشن نمبر 3کے ماتحت نظر بند کردیا گیا ہے۔ اور ان کی نقل و حرکت اور خط و کتابت پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
سوال-:وہ پابندیاں کیا ہیں۔۔۔؟
جواب-: وزیٹروں کیلئے لازمی ہے کہ وہ ملاقات سے پہلے حکومت سے اجازت حاصل کریں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ان کی خط و کتابت کو بھی دیکھتی ہے۔ اور وہ اپنے مکان سے ایک خاص فاصلہ سے پرے نہیں جاسکتے۔
سوال-:کیا جب کوئی شخص شری سبھاش سے بات چیت کرتا ہے۔ تو اس وقت کوئی سرکاری افسر موجود رہتا ہے؟
جواب-:میرے خیال میں کوئی نہیں ہوتا۔
سوال-:کیا ان کے قوم پرست اخبارات پڑھنے میں گورنمنٹ کو کچھ اعتراض ہے؟
جواب-:ممکن ہے اس قسم کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہو۔
ان سوالات و جوابات سے نائب وزیر ہند کے بیان کی قلعی کھل گئی۔ اگر اسی کا نام آزادی ہے تو پھر نامعلوم قید کسے کہتے ہیں۔ ان دنوں ڈاکٹرنیل رتن سرکار اور ڈاکٹر کے۔ ایس رائے نر کرسونگ میں شری سبھاش کا طبی معائنہ کیا اور گورنمنٹ کو رپورٹ کی۔ کہ شری سبھاش بوس کی صحت دن بہ دن خراب ہورہی ہے۔ اور کہ نظر بندی کے اس قلیل سے عرصہ میں اب تک ان کے وزن میں 7پونڈ کی بھاری کمی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ہر روز ہلکا سا بخار بھی ہوجاتا ہے۔
چند روز بعد مرکزی اسمبلی میں پھر سوالات کا جواب دیتے ہوئے ہوم ممبر نے یہ انکشاف کیا۔ کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے شری سبھاش بوس کو ایک چھٹی ارسال کی تھی۔ لیکن گورنمنٹ نے اسے روک لیا تھا۔ کیونکہ جن قواعد کے ماتحت شری سبھاش بوس نظر بند ہیں۔ ان کے ماتحت انہیں سیاسی معاملات پر خط و کتابت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
17دسمبر کو شری سبھاش بوس طبی معائنہ کیلئے پولیس کی حراست میں کرسونگ سے کلکتہ لائے گئے۔ اور انہیں میڈیکل کالج کے یورپین وارڈ میں IN DOOR PATIENT کے طورپر رکھا گیا۔
13جنوری 1937ء کو ایک بلٹین جاری کیا گیا۔ جس میں درج تھا۔
"گزشتہ دو ہفتوں میں شری سبھاش بوس کی صحت میں مزید و تین پونڈ کی کمی ہوگئی ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کی رائے ہے۔ کہ موجودہ علاج کی موجودگی میں آپریشن کی ضرورت نہیں۔"
اس سے ظاہر تھا کہ اسپتال میں منتقل کرنے کے باوجود ان کی صحت خراب ہورہی تھی۔
25 جنوری کے روز ممبران اسمبلی نے اس سوال کو اجلاس میں اٹھایا۔ سرہنری کریک ہوم ممبر نے جواب میں کہا-:
"اس مہینے تین خاص طبی ماہرین نے شری سبھاش بوس کا معائنہ کیاتھا۔ ان کی رپورٹ سے یہ ظاہر ہے کہ شری سبھاش کی صحت اچھی ہے۔ اس لئے تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔ جب وہ کرسیونگ میں پہنچے۔ تو ان کا وزن 171پونڈ تھا لیکن اب ان کا وزن 162189پونڈ ہے۔ البتہ ان کے معدہ میں کچھ تکلیف ہو۔ گئی ہے۔ یہ تکلیف انہیں وی آنا میں آپریشن کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی۔"
ہوم ممبر کا مذکورہ جواب کس قدر سنگدلانہ اور مضحکہ خیز تھا۔ شری سبھاش 8اپریل 1936ء کو جہاز سے اترتے ہی گرفتار کرلئے گئے تھے۔ اور ہوم ممبر کے بیان کے مطابق 8اپریل سے لے کر 25جنوری تک یعنی آٹھ ماہ کے قلیل عرصہ میں شری سبھاش بوس کے وزن میں ساڑھے پندرہ پونڈ کی بھاری کمی ہوئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود ہوم ممبر نے نامعلوم کس منہ سے یہ اعلان کیا۔ کہ شری سبھاش کپی صحت اچھی ہے۔ شاید سرکاری افسروں کے خیال میں کسی سیاسی قیدی کی صحت اس وقت خراب ہوتی ہے۔ جب وہ بالکل قریب المرگ ہو۔ یا زندگی اور موت کی آخری گھڑیاں گن رہا ہہو۔
ہوم ممبر کے اس بیان کے برعکس وی آنا کے ڈاکٹروں نے مختلف رائے ظاہر کرتے ہوئے شری سبھاش کی صحت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔ ان ڈاکٹروں نے آسٹریا میں شری سبھاش بوس کا آپریشن کیا تھا۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا-:
"آپریشن کے بعد شری سبھاش بوس کی صحت میں کئی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ہماری رائے ہے۔ کہ نازک حالات کے پیش نظر انہیں پھر علاج کے لئے یورپ تشریف لانا چاہیے۔"
انہی دنوں شری بوس کے ایک قریبی رشتہ دار نے یہ انکشاف کیا۔ کہ کلکتہ میڈیکل کالج میں داخلہ کے بعد ان کے وزن میں اب تک 6پونڈ کی کمی ہوچکی ہے۔ یاد رہے۔ آپ 17دسمبر کو میڈیکل کالج اسپتال ملیں داخل کئے گئے تھے۔ اور ان کے قریبی رشتہ دار کا بیان 24فروری کو شائع ہوا تھا۔ اس سے یہ ظاہر تھا۔ کہ صرف دوماہ کے قلیل عرصہ میں ان کے وزن میں 6پونڈ کمی ہوگئی تھی۔ جس کے باوجود ہوم ممبر نے بلاپس و پیش یہ اعلان کردیا کہ ان کی صحت کے متعلق تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔

(جاری ہے)

***

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved