Translate In Your Language

New Videos

کرد تنازعہ سامراجیت کیخلاف عالمگیراتحاد کا متقاضی....میراث زِروانی

کرد تنازعہ سامراجیت کیخلاف عالمگیراتحاد کا متقاضی....میراث زِروانی



خصوصی عالمی تجزیاتی تحریر میراث زِروانی کے قلم سے

موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں جاری بدترین گراوٹ اور زوال نے اقوام عالم کو ایک ایسے بحران سے دوچار کردیا ہے جہاں اس نظام پر استوار ریاستوں کو صرف داخلی سطح پر بے قابو معاشی عدم استحکام ہی نہیں بلکہ جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ کے سر اٹھانے والے چیلنجوں کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس بحران کو مزید پیچیدہ اور شدت آمیز نہج تک پہنچانے میں سامراجی و بالادست حکمران قوتوں کے مابین بڑھتے ہوئے باہمی ٹکراؤ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، اس کیفیت نے واضح کر دیا ہے کہ اب دنیا کا مروجہ سیاسی وجغرافیائی نقشے پر قائم رہنا آسان نہیں ہوگا ، خاص طور پر ایسے خطے جہاں فطری اور معروضی حقائق کے مطابق جغرافیائی حد بندیوں کے قیام کی بجائے سامراجی طاقتوں کے مفادات کے تحت خطوں و اقوام کا جغرافیائی بٹوارہ عمل میں لاتے ہوئے کثیر القومی یا کثیر النسل ریاستوں کی تشکیل کی گئی ۔ اس سامراجی بٹوارے کا نشانہ استعماری تسلط کا شکار خطے تھے ، جن میں ایشیاء سرفہرست قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس سامراجی بٹوارے کے تحت عمل میں لائی جانے والی ریاستیں قومی ریاست کی بجائے ریاستی قوم کے طور پر ابھریں ، جو قوم کے جدید تصور وتعریف پر پورا نہیں اترتی تھیں ، جس میں قوم کی تعریف میں مشترکہ سر زمین، زبان وثقافت ، منڈی،تاریخ وتہذیب،مزاج ونفسیات اور ریاست واقتدار اعلیٰ بنیادی اجزاء بیان کئے جاتے ہیں ،اسی لئے قوم کے اس تصور سے منافی سامراجی جغرافیائی تقسیم کے تحت عمل میں لائی جانے والی ریاستوں کو قومی کی بجائے کثیر القومی ریاستیں قرار دیا گیا، اور نئی تشکیل شدہ ریاستوں کو آغاز سے ہی داخلی قومی تضادات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ نئی تقسیم کے تحت اپنے مفادات کے حصول کیلئے ان ریاستوں میں سامراج نے تمام اقوام کی یکساں ترقی ، مساوی حیثیت اور حکمرانی میں سب کی حصہ داری کی بجائے ایک مخصوص خاندان ،نسلی گروہ یا قوم کی بلاشرکت غیرے حکمرانی کی بھر پور پشت پناہی کی۔اس تقسیم میں نہ صرف ایک قومی خطے کو چیر پھاڑتے ہوئے کئی نو تشکیل کثیرالقومی ریاستوں میں بانٹا گیا بلکہ ایک قوم کو ایک وسیع تر قومی ریاست میں یکجا کرنے کی بجائے اسے مختلف خاندانوں اور فرقوں کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی آمرانہ وشاہی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا، جو ایک قوم ہونے کے باوجود عربوں کی مختلف خاندانوں کی بادشاہت اور آمرانہ حکمرانی کی حامل ریاستوں کی شکل میں بڑاواضح نظر آتا ہے، یہ تقسیم کسی طرح بھی قومی ریاستی تشکیل کے فطری تقاضوں پر پورا نہیں اترتی تھی ، لہٰذا یہاں جنم لینے والے قومی و علاقائی تضادات بھی غیر فطری نہ تھے، چونکہ ان تضادات کا حقیقی حل اس سامراجی تقسیم کے خاتمے اور فطری بنیادوں پر از سر نو جغرافیائی ریاستی تشکیل کا متقاضی تھا، جو کسی بھی طرح بیرونی سامراجی طاقتوں اور ان کے مقامی کاسہ لیس حکمرانوں کیلئے قابل قبول نہیں تھا، لہٰذا ان تضادات کو دبانے اور کچلنے کیلئے ریاستی طاقت اور سازش پر ہی تمام زور لگایا گیا ، اس ضمن میں مشرق وسطیٰ سمیت مغربی وجنوبی ایشیائی خطے کا فی ہلچل کا شکار نظر آئے۔

اس ہلچل میں مغربی ایشیائی خطے کے کرد قومی تنازعہ کے ابھارنے اہم کردار ادا کیا ہے ، اس تنازعے کا اصل ذمہ دار بھی اس خطے کا باہم بٹوارہ کرنے والی سامراجی طاقتوں کوٹھہرایا جاتا ہے ، یہ استعماری قوتیں برطانیہ اور فرانس تھیں ، جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے مشرق وسطیٰ سمیت مغربی ایشیاء کو باہم بانٹ لیا تھا، کہا جاتا ہے کہ دونوں استعماری طاقتوں کے درمیان یہ بندر بانٹ1916ء میں اس وقت خفیہ طور پر عمل میں آئی جب پہلی جنگ عظیم جاری تھی۔ اس معاہدے کو عمل میں لانے والے برطانوی رہنما مارک سائیکس اور فرانسیسی سفیر فرانکوئس جارجز پیکوٹ تھے، انہی کی مناسبت سے یہ سائیکس پیکوٹ معاہدے کے نام سے مشہور ہوا۔ اس معاہدے کا مقصد سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ و تحلیل کرکے اسکے زیر کنٹرول علاقوں بلادالشام اور بلادالرافدین (عراق)کو برطانیہ اور فرانس کے اثر رسوخ والے علاقوں میں تقسیم کرنا تھا، تاکہ یورپی استعماری طاقتوں کیلئے مشرق میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں ۔اس معاہدے کے نتیجے میں جو جغرافیائی ریاستی تقسیم عمل میں آئیں اس نے کردوں کے قومی وجود اور سر زمین کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا، اور کرد قوم شام ، عراق، ترکی اور ایران کے ریاستی کنٹرول میں دیدی گئی اور اس کا ایک حصہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں شامل کردیا گیا، یوں کرد سر زمین کے تقریباً پانچ ٹکڑے کئے گئے ، اس استعماری بند ر بانٹ کو کردوں نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف جن ریاستوں میں انہیں ضم کیا گیا ان کے حکمرانوں کی طرف سے اپنائے گئے نو آبادیاتی طرز عمل نے کرد قوم میں احساس محکومی کو بڑھاوا دیا جو ان کے قومی شعور میں بھی اضافے کا باعث بنا، خطے کی اس غیر فطری استعماری تقسیم کا تحفظ چونکہ مغربی سامراجی طاقتوں کی اہم ضرورت تھی ، لہٰذا کردوں کی قومی تحریک کا ٹکراؤ جہاں کرد خطے پر کنٹرول رکھنے والی ریاستوں سے ہوا ،وہاں مغربی سامراجی بلاک بھی کرد تحریک کے ایک بڑے حریف کے طور پر سامنے آیا ، یہی وجہ ہے کہ سوویت یونین میں یوکرائن سمیت مختلف ریاستوں کی قومی آزادی کا علمبردار بننے والا امریکہ و مغربی سامراج ہمیشہ کرد تحریک کا کٹر مخالف رہا، حتیٰ کہ کرد قوم کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی قوت کرد ستان ورکرز پارٹی (پی کے کے )کو ترکی کی ایما پر دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا گیا اور اس کے رہنما عبداللہ اوجلان کو یورپ میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ کردوں کی جدوجہد کو کچلنے کیلئے ان کیخلاف استعمال کی جانے والی ریاستی طاقت پر بھی مغربی سامراجی قوتیں نہ صرف خاموش رہیں بلکہ الٹا کردوں کو یہ نصیحت کی جاتی رہی کہ وہ آزادی کے خواب دیکھنے کی بجائے جو انہیں حاصل ہے اسی پر اکتفا کریں ، اور اگر وہ اپنے بنیادی قومی حقوق کی جدوجہد سے باز نہیں آتے تو پھر انہیں اپنی بربادی کیلئے تیار رہنا چاہئے ، لیکن سامراجی طاقتوں کے کرد مخالف گٹھ جوڑ کو کردوں نے کبھی خاطر میں نہیں لایا اور ان کی آزادی پسند سامراج دشمن قومی تحریک اپنے وجود کا برملا اظہار کرتی رہی، کردوں کی تحریک یا پی کے کے کی مغربی سامراجی بلاک کی طرف سے شدید مخالفت کا ایک سبب اس تحریک کے بائیں بازر کے انقلابی نظریے پر استوار ہونا بھی تھا ، جو اپنی قومی آزادی کو سوشلسٹ انقلاب کی منزل تک لے جانا چاہتے تھے ، اس ضمن میں قیاس پایا جاتا ہے کہ چونکہ مغربی سرمایہ دارانہ سامراجی بلاک نہ صرف خود کرد مسئلے کو پیدا کرنے والا تھا،بلکہ ان حکمران ریاستوں کی پشت پناہی بھی کر رہا تھا جو کردوں پر تسلط رکھتی تھیں ،لہٰذا کرد تحریک فطری طور پر ان بین الاقوامی انقلابی نظریات و رجحان کی طرف مائل ہوئی جو سرمایہ دارانہ نظام اور محکوم اقوام پر سامراجی تسلط کے خاتمے پر یقین رکھتے تھے، یہ سرد جنگ کے زمانے کا وہ دور تھا جب سامراجی طاقتوں کا محکوم اقوام و مظلوم طبقات کی آزادی پسند سامراج دشمن انقلابی تحریکات کیخلاف عالمگیر گتھ جوڑ پایا جاتا تھا، اگرچہ سوویت یونین کی تحلیل اور خطے میں تیزی سے جنم لینے والی تبدیلیوں کے باعث کرد تحریک کے سیاسی نظریات اور طریقہ کار میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے ، مگر مسلح جدوجہد کے طریقہ کار سمیت بعض اہم معاملات پر کرد تحریک اپنے ماضی پر قائم نظر آتی ہے۔

یہ تمام تناظر و پس منظر اب تبدیلی کی نئی کروٹ لے رہا ہے، اور وہ سامراجی طاقتیں جو خطے میں موجودہ تقسیم کی محافظ تھیں اب یہاں ایک نئی سیاسی جغرافیائی تقسیم کی خواہاں نظر آتی ہیں ، وہ نقشہ جو اسے ترتیب دینے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے مقاصد کا حامل تھا ، آج وہ ان سامراجی مقاصد کے حصول میں کئی قسم کی رکاوٹوں کا سبب قرار دیا جا رہا ہے ، کیونکہ وہ ریاستیں جو کل تک اپنے سامراجی تخلیق کاروں اور محافظوں کے مفادات بلا چوں و چراں پورا کر رہی تھیں آج بڑھتے ہوئے بحران نے ان کے حکمرانوں کو منہ زور گھوڑے کی شکل میں سامنے لایاہے ، لہٰذا ان کا طاقتور اور ناقابل تسخیر حیثیت اختیار کرنا بعض سامراجی طاقتوں کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ کہا جاتاہے کہ ان ریاستوں کے حکمرانوں کی منہ زوری کی ایک وجہ بحران کی بڑھتی ہوئی بے قابو شدت سے پیدا ہونے والا اپنے وجود کے خاتمے کا خوف بھی ہے ، جس کے نتیجے میں یہ اپنے ایسے مفادات سے دستبردار ہونے سے انکاری ہیں جو سامراجی قوتوں کے مفادات سے متصادم ہیں ، دوسری طرف بعض سامراجی طاقتوں کیلئے اپنی بالادستی اور پر تعیش بھاری بھر کم وجود کی برقراری کیلئے متعلقہ خطوں میں پائے جانے والے مفادات کا حصول نا گزیر ہے، لہٰذا ان مفادات کی تکمیل کی راہ میں جو بھی رکاوٹ پیدا ہوگی بڑی طاقتیں اسے دور کرنے کے تمام حربے بروئے کار لائیں گی جن میں ایک نئی جغرافیائی سیاسی نقشہ سازی بھی شامل ہے، اس کے علاوہ مجوزہ نئی نقشہ سازی کا سبب ماضی میں سامراجی جغرافیائی بٹوارے کے نتیجے میں متاثرہ خطوں میں جنم لینے والے قومی و علاقائی تنازعات کے ابھار کو بھی قرار دیا جا رہا ہے ، جو نہ صرف متاثرہ خطوں بلکہ دنیا بھر میں معاشی و سیاسی عدم استحکام اور سماجی خلفشار کو بڑھا رہے ہیں ، اس صورتحال کے پیش نظر یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو سدھارتے ہوئے قومی وعلاقائی تنازعات کے حامل خطوں میں فطری بنیادوں پر از سر نو جغرافیائی تقسیم عمل میں لائی جائے۔ اس خیال کا مرکز سب سے پہلے عملدرآمد کے حوالے سے مشرق وسطیٰ سمیت پورے مغربی ایشیاء کو قرار دیا جاتا ہے، اس کیفیت نے کردوں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ اپنی جداگانہ قومی شناخت کو تسلیم کرانے اورا یک آزاد خود مختار کرد ریاست کا قیام عمل میں لانے کے لئے ایک قدم آگے بڑھائیں ، جس کا مظاہرہ تقریباً 75لاکھ آبادی والے عراقی کردوں نے 25،ستمبر2017ء کے ریفرنڈم کے انعقاد کی صورت میں کیا ۔ اس ریفرنڈم میں کردعوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور 97فیصد رائے دہندگان نے آزاد خودمختار کرد ریاست کے قیام کے حق میں فیصلہ دیا۔انتخابی عمل میں کرد علاقائی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کے علاوہ کردوں کے تاریخی علاقے کرکوک کے عوام نے بھی حصہ لیا ، لیکن ریفرنڈم کے نتائج نے صرف عراق ہی نہیں بلکہ ترکی و ایران کے حکمران ایوانوں میں بھی ہلچل مچادی اور سب کردوں پر برس پڑے ۔ سب سے زیادہ شدید ترین ردعمل ترکی کا سامنے آیا، جس نے آزادی کی صورت میں کردوں کو بھوکوں مارنے اور تباہ کرنے کی کھلی دھمکیاں دیں،اور ایران کے ساتھ کرد مخالف فوجی کارروائی کیلئے دفاعی روابط کو تیزی سے فروغ دیا، ایران کیلئے بھی آزاد کرد ریاست کا قیام اس کے وجود کی تحلیل کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی تھی، کیونکہ کردوں کے ایک حصے پر ایران کا کنٹرول ہے، جبکہ شام داخلی جنگ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باعث اس قابل نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے زیر کنٹرول کرد علاقے کو قابو میں رکھنے کیلئے عراقی کردوں کی آزادی کی کوششوں کیخلاف فوری کوئی نیا جنگی محاذ کھول سکے، لیکن تمام تر اپنی کمزوریوں کے باوجود شام بھی کرد مخالف ترکی، عراق اور ایران پر مشتمل علاقائی فوجی و سیاسی اتحاد میں بخوشی شمولیت اختیار کرے گا، کیونکہ امریکی ومغربی پشت پناہی کی حامل پیش مرگہ کرد فورسز شام کے کرد علاقوں پر داعش کا قبضہ ختم کراتے ہوئے خود قابض ہو چکی ہیں ۔حال ہی میں رقہ کو داعش کے قبضے سے چھڑایا گیا ہے، جہاں شہر کے چوک پر کرد لیڈر عبداللہ اوجلان کی تصویر آویزاں کرنے پر کافی ہنگامہ نظر آیا، دلچسپ امریہ ہے کہ عبداللہ اوجلان کی تصویر کے واقعہ پر شام کی بجائے ترکی نے شدید ناراضگی ظاہر کی ، اور اس کا زمہ دار امریکہ اور مغربی اتحادیوں کو قرار دیا، ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اس واقعہ کو امریکہ ترک اتحاد پر حملے سے تشبیہ دی، موصوف کا کہنا تھاکہ امریکہ نے کرد دہشتگرد تنظیموں وائی پی جی اور پی وائی ڈی کو بیچ چوراہے پر دہشتگرد وں کے سرغنہ عبداللہ اوجلان کی تصویر کو لٹکاتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم امریکہ سے کہہ چکے ہیں کہ ایک دہشتگرد تنظیم کے خاتمے کیلئے دوسری دہشتگرد تنظیم کو استعمال کرنا کس قدر خطرناک ہوتا ہے، اب ہم نے اس کے نتائج رقہ میں ’’دیکھ لئے ہیں ‘‘۔ترک وزیراعظم کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ کرد تنازعہ کے ابھار کو امریکی پشت پناہی کا حامل تصور کیا جا رہا ہے ، اور جوں جوں امریکہ سمیت مغرب کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے دونوں اطراف میں پائی جانے والی بد اعتمادیوں اور تلخیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری طرف ترکی کے الزامات کے باوجود امریکہ و یورپی اتحادیوں نے آزاد کرد ریاست کیلئے منعقدہ ریفرنڈم کی کھل کر حمایت نہیں کی ہے، اگرچہ اہم ترین امریکی اتحادی اسرائیل کے حوالے سے شنید ہے کہ وہ خطے میں ایک نئی آزاد کرد ریاست کے قیام کا خواہاں اور حامی ہے مگر امریکی انتظامیہ کردوں کو اپنے بڑھے ہوئے قدموں کو واپس پیچھے ہٹانے کی تلقین کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کسی حد تک یہی کیفیت بظاہر یورپی طاقتوں کی بھی دکھائی دیتی ہے لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی حمایت کے باوجود امریکہ کا آزاد کرد ریاست کی مخالفت کرنا عارضی اور محدود مدتی رویہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ داعش سمیت مذہبی شدت پسند قوتوں کو خطے میں شکست دینا ہے، امریکہ کو خدشہ ہے کہ اگر کرد اپنی آزاد ریاست کی طرف بڑھتے ہیں تو ترکی ، عراق اور ایران خطے میں مذہبی شدت پسند ی کیخلاف جاری لڑائی کا رخ کردوں کیخلاف جنگ کی طرف موڑلیں گے جس سے مذہبی شدت پسند قوتوں کو ایک بار پھر یہاں اپنے قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے اور کرد تنازعہ کے ابھار سے خطہ ایک نئی جنگ میں داخل ہوسکتا ہے ، اس کے علاوہ امریکہ کے عراق، ترکی اور شام میں گہرے مفادات بھی ہیں اور اسے یہ فکر بھی لا حق ہے کہ جس قدر کھل کر اور تیزی سے وہ کرد ریاست کے قیام کی حمایت کریں گے اسی قدر کرد مسلے سے متاثرہ ریاستیں امریکہ کی عالمی و علاقائی حریف طاقتوں کے ساتھ اپنی قربت بڑھائیں گی، یہ امریکی حریف قوتیں روس اور چین قرار دی جاتی ہیں ، جو بڑی تیزی سے خطے میں امریکہ کو اس کے پرانے اتحادیوں سے محروم کرتے ہوئے یہاں اپنا سیاسی و معاشی اثر رسوخ بڑھا رہی ہیں ، جس کی ایک تازہ ترین مثال ترکی کے بعد سعودی عرب کی ہے ،جو خطے میں امریکہ کا پرانا اور موجودہ گہرا اتحادی ہونے کے باوجود اب روس کی طرف مائل ہوتا ہوا نظر آتا ہے ، جس کا اظہار سعودی فرمانرواشاہ سلمان کے ایک بھاری بھرکم اقتصادی و دفاعی وفد کے ساتھ روس کے دورے اور وہاں دوطرفہ اہم اقتصادی و دفاعی معاہدوں کی صورت میں کیا گیا ، اگرچہ یہ ابھی ابتدائی اور محدود سطح کے تعلقات ہیں ،لیکن امریکہ اور سعودی عرب کے مفادات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے ان تعلقات کو نئی گہرائی اور وسعت بخش سکتے ہیں ، جو امریکہ کیلئے خطے میں نئی مشکلات کا باعث بنے گا، یہی وجہ ہے کہ امریکہ فی الحال کردوں کی الگ ریاست کی حمایت میں منہ سے کوئی لفظ نکالنے سے اجتناب کر رہا ہے ، مگر امریکی سیاسی و کانگریسی نمائندوں کی بڑی تعداد کردوں کے قومی حقوق کی حمایتی نظر آتی ہے، بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ڈیمو کر ٹیک پارٹی کا ایک حلقہ کرد ریفرنڈم کو جائز قرار دے رہا ہے، ایسی ہی رپورٹس بعض دیگر حلقوں کے حوالے سے بھی سامنے آرہی ہیں۔

اس تناظر سے امکان پایا جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ کرد مسئلے پر اپنے موجودہ ظاہری موقف میں تبدیلی لا سکتا ہے ، تاہم ضروری نہیں ہے کہ وہ کردوں کی خواہشات و امنگوں اور تاریخی حقائق کے عین مطابق نئی کرد ریاست کی جغرافیائی حدود پر آمادہ ہو، کیونکہ امریکہ سمیت مغربی قوتیں ایک وسیع تر اور طاقتور کرد ریاست کے قیام کی بجائے ایک ایسی محدود اقتدار اعلیٰ کی حامل دفاعی طور پر کمزور سامراجی کاسہ لیس ریاست چاہتے ہیں ،جو ان کے خطے میں پائے جانے والے مفادات کے چوکیدار کا کردار ادا کر سکے ، جیسا کہ ماضی میں سامراجی جغرافیائی تقسیم کے تحت عمل میں لائی جانے والی ریاستوں کے حکمرانوں سے یہی چوکیداری کا کام لیا گیا ۔اب یہی ذمہ داری کردوں سمیت نئی جغرافیائی تقسیم سے متاثرہ خطوں کی ممکنہ نئی ریاستوں کو سونپنے کا منصوبہ ہے، جو کسی بھی طرح حقیقی آزادی کے تضاضوں پر پورا نہیں اترتا ، لہٰذا بعض مبصرین کا خیال ہے کہ قومی و علاقائی تنازعات کے حقیقی حل کیلئے سامراجی طاقتوں پر انحصار کرنے کی بجائے متاثرہ محکوم اقوام و خطوں کے عوام کا باہمی طور پر ایک وسیع تر علاقائی و عالمی انقلابی اتحاد نا گزیر ہے، جو صرف جغرافیائی ہی نہیں بلکہ اقتصادی طور پر بھی بیرونی و سامراجی طاقتوں کے غلبے اور بالادستی سے مکمل نجات کے فکروپروگرام پر استوار ہو۔ان مبصرین کے مطابق یہ انقلابی بین الاقوامی اتحاد سامراج میں پڑنے والی پھوٹ کے موجودہ علاقائی و عالمی پر انتشار منظر نامے میں ماضی سے کہیں زیادہ کامیابی کے امکانات کو یقینی بنا سکتا ہے ، تاہم اس اتحاد کو متاثرہ خطوں میں جاری مختلف سامراجی طاقتوں کی باہمی کشمکش اور جنگ میں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کی بجائے سامراجی جنگوں اور کشیدگی سے پیدا ہونے والے بے قابو بحران میں خود کو ایک آزاد اور انقلابی متبادل کے طور پر پیش کرنا ہوگا،اور اب جبکہ عراقی کردوں اور عراقی فوج کے مابین جھڑپوں کا آغاز ہو گیا ہے ، جس سے یہ امکان پایا جاتا ہے کہ یہ جھڑپیں آنے والے وقت میں مزید شدید اور وسعت اختیار کریں گی، جو خطے میں ایک نئے انتشار کو پیدا کرے گا، جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ اپنے اردگرد کے ہمسایہ خطوں خاص طور پر جنوبی ایشیاء میں پائے جانے والے قومی و علاقائی تنازعات تک وسعت اختیار کر سکتے ہیں ، جہاں کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بھی اس کیفیت سے متاثر ہو سکتا ہے ، کیونکہ بعض حلقے بلوچ مسئلے کو بھی کرد تنازعہ سے مشابہہ قرار دیتے ہیں جو بیک وقت خطے کی کئی ریاستوں سے منسلک ہے ، جس کے باعث ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ریاستوں کا حکمران طبقہ نہ صرف کرد ریاست کا قیام نہیں چاہے گا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے کرد مخالف ریاستوں کے حکمرانوں سے تعاون کے علاوہ بلوچستان مسئلے کو بزور طاقت دبا نے کے عمل میں مزید شد ت بھی لا سکتا ہے ، لہٰذ اایسی صورتحال میں بعض مبصرین کرد اور بلوچ سمیت خطے کی مختلف انقلابی تحریکوں کے مابین روابط پیدا اور ان کے مضبوط و وسیع ہونے کاامکان بھی ظاہر کر رہے ہیں ،جو خطے میں ایک نئی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے ۔

***

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved