skip to main |
skip to sidebar
پاھار...... سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ...دوستین بلوچ کے قلم سے

......پاھار......
فری بلوچستان کی کامیاب مہم پرپاکستان سیخ پا
کمسن بچوں و طلبا کی جبری گمشدگیوں پر دنیا بھر میں احتجاج
ماہِ نومبر میں44فوجی آپریشنز میں105 افرادلاپتہ،19لاشیں برآمد
سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ
چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے
مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی
ہے، آبادیوں پر فوجی یلغار کے ساتھ اب خواتین و بچوں کی حراست بعد لاپتہ
کرنے کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے۔ کراچی سے دو کمسن بچوں آفتاب اور الفت
سمیت بی ایس او آزاد کے سیکریٹری جنرل ثناء بلوچ ،بی ایچ آر او کے
انفارمیشن سیکریٹری عطا نواز بلوچ سمیت13 طلباء کو فورسز نے اغواء کیا ۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں بظاہر میڈیاوانسانی حقوق کے اداروں کی آنکھیں
حد سے زیادہ کھلی رہتی ہیں،مگر معصوم بلوچ بچوں اور طلباء کی کراچی رینجرز
اور پولیس کے ہاتھوں اغواء پر جیسے ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہیں۔ کراچی
پریس کلب کے سامنے کئی روز احتجاج کے باوجود بھی 9 سے 11سالہ بچوں اور
دیگر طلباء کی فورسز کے ہاتھوں اغوا کی خبرپاکستانی میڈیا میں کوئی جگہ نہ
بنا سکی۔اسی طرح انسانی حقوق کے ادارے بھی بے بس نظر آ رہے ہیں،آزادیِ
صحافت کے دعویدار پاکستان کا سب سے بڑا کراچی پریس کلب بھی خاموش تماشی
ہے۔اسی متعصبانہ رویہ کی وجہ سے بلوچ آزادی پسندتنظیموں نے میڈیا بائیکاٹ
کردیاہے ۔کراچی پریس کلب اورکوئٹہ پریس کلب میں بلوچ خواتین و بچوں کو اپنے
پیاروں کی گمشدگی کے خلاف پریس کانفرنس کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور اس
کا وجہ ریاستی اداروں کا دباؤ بتایاگیا ۔جب حق و سچ کے دعویدار ادارے ہی
باطل کے سامنے سرتسلیم خم کردیں تو اسے صحافت کہنا ہی صحافت کے توہین کے
سوا کچھ بھی نہیں ،جب لوگوں کو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کاحق
تک نہیں دیاجاتا ہو وہا ں انسانی حقوق کیا معانی رکھتا ہے ۔ ایسے حالات میں
ایف آئی آر کا درج نہ ہوناتو معمول کی بات ہے،پاکستان میں قومی آوازدبانے
اور سیاسی جمہوری راہوں پر مکمل قدغنوں سے نبردآزماء بلوچ آزادی پسند
تنظیموں کی جانب سے دنیا بھر میں بچوں کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجوں کا
سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
مقبوضہ بلوچستان کی سنگین صورت حال پربین الاقوامی برادری سمیت ہمسایہ
ممالک افغانستان،ایران،بھارت اور خلیجی ممالک کی خاموشی بھی سوالیہ نشان
ہے۔ان ممالک کی جانب سے قابض پاکستان پر بلوچستان میں جاری مظالم حوالے کسی
قسم کا دباؤ نہیں نظرنہیں آرہاہے ۔یہی صورت حال یورپ و دیگر عالمی ممالک
کی جانب سے بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جو بلوچ خارجہ پالیسی کے لیے نیک شگون
نہیں ہے،بلوچ آزادی پسندپارٹیوں کے لئے ضروری ہے کہ ایک جامع خارجہ پالیسی
وضع کریں اور ان ممالک اور بین الاقوامی اداروں تک رسائی حاصل کرکے بلوچ
قومی مقدمہ جامع طریقے سے رکھیں اور نسل کشی سے دوچار بلوچ قوم کے لئے
سیاسی و سفارتی تعاون حاصل کرنے کی راہیں کھول دیں۔آزادی پسند پارٹیوں کے
لئے یہ انتہائی ضروری امر اور وقت کاتقاضا بھی یہی ہے کہ آزاد اور مہذب
دنیا میں محض انسانی حقوق کی پائمالیوں تک محدود احتجاج نہیں بلکہ ایک قومی
تحریک آزادی کے شایان شان پالیسی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ
بلوچستان میں تمام انسانی حقوق کی پائمالیاں بلوچ قومی مسئلے سے جڑے ہوئے
ہیں جب تک قومی مسئلے پر دنیا کا قابلِ قدرتوجہ حاصل نہیں کیاجاتا ہے
انسانی حقوق کی پائمالیوں میں کمی کا اُمید خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے
۔
بلوچستان بھر میں پاکستان کی زمینی و فضائی فوج کی آپریشن ہنوز جاری ہے۔
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ماہِ نومبر کی تفصیلی رپورٹ کے
مطابق اس مہینے فورسز نے44 سے زائد آپریشنز و چھاپوں میں 105 سے زائد بلوچ
فرزندوں کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے۔اسی طرح19 نعشیں ملیں جس میں 5 بلوچ
فرزندوں کو فورسز نے بے دردی سے شہید کیا، جبکہ چار کے محرکات سامنے نہ آ
سکے۔دس لاشوں کو عدم شناخت کی بنیاد پر ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر کے بغیر
ڈی این اے کے دفنا دیا گیا۔
بی این ایم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ تجزیہ کے آخر میں ریکارڈ کے طور پر شامل ہے۔
ضلع کیچ و گوادر کے درمیانی علاقے دشت،ضلع کیچ ہی کے علاقوں
،مند،تمپ،بلیدہ،کولواہ سمیت آواران،مشکے گچک میں پورے مہینے میں پاکستانی
فوج کی زمینی و فضائی آپریشن جاری رہی ،جہاں کئی بستیوں کو بمباری سے تباہ
کرنے کے ساتھ سینکڑوں افراد کو اسی مہینے نقل مکانی پر مجبور کر کے آئی ڈی
پیز بنا دیا گیا۔نومبر کے اختتام پر گچک،کولواہ،مشکے میں دو ہزار سے زائد
زمینی فوج و دس گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری و آپریشن جاری رہا۔مقبوضہ
بلوچستان کی طویل پہاڑی سلسلوں میں ہزاروں کی تعداد میں مختصرآبادی والے
دیہات موجود ہیں جن کا ذرائع معاش مویشی پالناہے، گچک،کولواہ،آواران،مشکے
پہاڑی سلسلوں میں جاری آپریشن و فضائی شیلنگ و بمباری سے جہاں لوگوں کے
شہادت کاخدشہ ہے وہاں مال مویشیوں کے نقصانات بھی غیر متوقع نہیں ہیں۔
گزشتہ دیڑھ عشروں میں تواترکے ساتھ فوجی آپریشنوں میں یہ یہ بات واضح ہے کہ
پاکستان بلوچ نسل کشی میں پوری طرح سے گامزن ہے اور بلوچ قوی بقاء کے ساتھ
ساتھ تمام معاشی ذرائعوں کو تباہ کررہاہے ۔بلوچ عوا م کے کھڑی فصلوں کو
نذرآتش کرنا،مال مویشیوں کو ہانک کر لے جانا ایک معمول بن چکاہے ۔
پاکستانی فوج ہر گزرتے دن کے ساتھ بلوچ اجتماعی نسل کشی میں تیزی لارہا ہے
مگر اب تک آثار وقرائن یہ بتارہے ہیں کہ تمام تر جبر ودہشت کے باوجود
پاکستان بلوچ قومی تحریک کے حدت اور شدت میں کمی لانے میں ناکام ہے اسی
ناکامی سے حواس باختگی کا شکار پاکستان اپنی رٹ کو بحال رکھنے کے لئے
انتقام پر اترآیاہے ۔جنگی محاذپرناکامی کا انتقا م عام آبادیوں سے لینے کا
عمل ایک عرصے سے جاری ہے مگر اب اس میں شدت لائی جارہی ہے ۔ اس بات کا
اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ریاست بھوکھلاہٹ کاشکارہے ،اوربلوچستان میں
اخلاقی طورپر پوری طرح شکست کھاچکاہے اور جنگی محاذ پر بھی پاکستانی شکست
روز بہ روز فوجوں کی بڑھتی تعدادسے بخوبی واضح ہورہاہے ۔دنیا کے تاریخ میں
بارہا یہ صداقت آشکار ہوچکاہے کہ قوموں کی سرزمین کو اس طرح کے حربوں سے
تادیر مقبوضہ نہیں رکھا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی قبضہ گیریت کی تاریخ میں درج
ہے کہ قبضہ گیر کوئی بھی ہووہ اپنے مقبوضہ علاقوں کو آسانی سے چھوڑنہیں
دیتا ہے ۔ بلوچ قومی آزادی کے واضح امکانات نے پاکستان کو بدمست ہاتھی
بنادیاہے اس وقت پاکستانی ریاست بلوچ قومی تحریک کو کچلنے اور قومی وجود کو
مٹانے کے اُن تمام حربوں کو استعمال میں لارہاہے جو اس کے دست قدرت میں
ہیں۔ پاکستان نے بلوچ تحریک آزادی کے خلاف اپنی تمام ٹولزبشمول مذہبی شدت
پسندی،پارلیمانی ایجنٹ ،ڈیتھ اسکواڈز بے دریغ استعمال کئے ہیں اورآئندہ
وقتوں میں ان کی شدت میں اضافہ غیرمتوقع نہیں لیکن اس کے باوجود بلوچ قوم
کی شعوری جہد کو زیر کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کو خوف زدہ نہیں کر سکاہے
۔بلوچ قوم کل کی طرح آج بھی اپنی قومی تحریک کے ساتھ دلی وابستگی رکھتا ہے
کیونکہ نیشنلزم کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جسے اس طرح کے درندگی اور
حیوانیت سے ختم کرنا ناممکن ہے ۔اس تاریخی حقیقت کے پیش نظر بلوچ سرزمین پر
پاکستان کے لئے اپنی پوری فوجی قوت کے ذریعے بلوچ کی اجتماعی نسل کشی اور
آبادیوں کو بمباری سے تباہ کر کے قبضہ کو قائم رکھنا خام خیالی ہے۔آئندہ
سال متوقع انتخابات کی تیاریاں فوجی آپریشنوں کے نئے سلسلوں سے واضح
ہورہاہے اوراس بات کے عندیے بھی مل رہے ہیں پاکستان اپنی نہاد انتخابات
کودوہزارتیرہ جیسے انجام سے بچانے کے لئے فوجی جارحیت میں تمام حددوکو پار
کرے گاکیونکہ قومی تحریک کو کچلنے اور دنیاکے سامنے بلوچ قومی مسئلے کو
اپنی من چاہے شکل میں دکھانے کے لئے ضمیرفروشوں کی ایک نئی جماعت سامنے
لائے گاجس طرح مالک اور حاصل کو سامنے لایا گیاان کی ناکامی کے باجود
پاکستان کا کوشش جاری رہے گا تاکہ دنیاکو باورکراسکے کہ بلوچ پاکستانی فریم
ورک میں رہنے کے لئے تیار ہیں اور اس ضمیرفروشوں کی ٹولی ہی بلوچ قوم کا
نمائندہ ہیں لیکن بلوچ قوم کا اپنی قومی تحریک سے شعوری جڑت اور اشتراک نے
جس طرح دوہزار تیرہ کے نام نہاد انتخابات کو ناکام بنادیاتھا اب کے متوقع
انتخابات بھی اس سے کئی درجہ زیادہ بری شکست سے دوچار ہوں گے۔آزادی پسند
پارٹی اور تنظیمیں بھی پاکستان کے قبضہ گیریت کو محکم رکھنے کے اس ٹول کو
ناکام بنانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں ،بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے آگاہی
مہم کے آغازپمفلٹنگ کے عمل سے شروع ہوا ہے باقی جماعتیں اس کی تقلید میں
مختلف پروگراموں کے ذریعے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے ،تاکہ پاکستان کے اس
ڈرامے کو ناکام بنایاجاسکے ۔
اسی مہینے سمندر پار اہم واقعات رونما ہوئے،جس سے بلوچ جدوجہد اور پاکستانی
جاری بربریت سمندر پار توجہ کا مرکز رہا۔فری بلوچستان موؤمنٹ کے تشہری مہم
نے جنیوا اور لندن میں لوگوں کی توجہ حاصل کی تودوسری جانب پاکستانی ریاست
کے ہوش اُڑ گئے جب سفارتی مہم چلا کر پاکستان نے اسے بند کرانے کی کوشش کی
تو یہ مہم اوربحث عالمی میڈیا میں جگہ بنانے میں کسی حدتک کامیاب ہوگئی جس
سے مقبوضہ بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم و جبر پر بحث چھڑی۔جنیوا میں بلوچ
آزادی پسند رہنما مہران مری کی داخلے پر پابندی بھی عالمی انسانی حقوق کے
اداروں میں زیر بحث رہی ،جہاں انسانی حقوق کے سب سے بڑے چمپین یو این او کی
مرکزی دفتر واقع ہے ،وہاں بلوچستان میں جاری ریاستی مظالم کو اجاگر کرنے
والے ایک سرگرم شخص کی جنیوا میں پابندی ایک حیران کن واقع ہے ۔اس سے
سامراجی طاقتوں کی آپسی ہم آہنگی و مفادات کا اندازہ آسانی سے لگایا جا
سکتا ہے۔جہاں مہران مری نے بتایاکہ ’’چین اور پاکستان کے کالے دھن اورچینی
دباؤکے آگے جنیوا حکام سرنگوں ہوئے ہیں‘‘یہ ایک تشویش ناک امر ہے بلوچ
آزادی پسندوں جماعتوں کو جلد ہی سفارتی مشکلات کے حل کے لئے ایک لائحہ عمل
کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کے پناہ گزین سے متعلق تمام قوانین کے مطابق
بلوچوں کا مقدمہ بہت ہی مضبوط ہے ۔
واضح رہے کہ مہران مری و دیگر آزادی پسند رہنما ؤں کا ایک اہم اجلاس جنیوا
میں ہونا تھا جو اس کے بعد ہو نہ سکا۔مہران مری کی اقوام متحدہ کے مرکزی
دفتر جنیوا میں داخلے پر سوئسز حکومت کی جانب سے پابندی نے اس عالمی ادارے
کی انسانی حقوق حوالے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں ۔دوسری جانب سوئس حکومت نے
بی آر پی کے سربراہ نواب براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست کو مسترد
کر دیا،جس کے بارے میں خیال ہے کہ پاکستانی سفارتی چالوں اورچین کے دباؤ
پرمہران مری کے داخلے پر پابندی اور براہمدغ بگٹی کی پناہ کی درخواست کو رد
کر دیا گیا،البتہ قابض ریاست کی ان چالوں سے ضرور بلوچ آزادی کی گھونج
دنیا بھر میں سنائی دی گئی اور اس پر بحث و مباحثہ میں اضافہ ہوا ہے۔
بلوچستان میں ریاستی بربریت و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ماہ
نومبر کی تفصیلی رپورٹ حسب معمول بلوچ نیشنل موومنٹ نے جاری کردی ہے جو
روزنامچے کی شکل میں موجود ہے اور اس میں پورے مہینے کی فورسز کے
آپریشنز،جبری گمشدگیوں ، گھروں کونذر آتش کرنے ،خواتین و بچوں پر
تشدد،حراستی قتل ، لاشوں کی برآمدگی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے
کارروائیوں وواقعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ہم بی این ایم کے شکریے کے ساتھ
اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں تاکہ ایک دستاویزکی شکل میں بلوچ قوم و
انسانی حقوق اداروں بشمول میڈیا ہاؤسز کیلئے کارآمد ہوسکے۔
ماہِ جولائی کی تفصیلی روزنامچہ رپورٹ
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دل مراد بلوچ نے ماہ نومبر کی
تفصیلی رپورٹ میڈیا میں جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز کی بلوچ
آبادیوں پر بربریت میں کمی کے بجائے مزیدشدت لائی گئی ہے۔اس وقت بلوچستان
عالمی دنیا کی نظروں سے اوجھل پاکستان کی جبر ودہشت کا شکار ہے ۔مقامی
میڈیاہاؤسز اور صحافی آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کے بیانیے پر اکتفا
کرتے ہیں اور بیرونی صحافی اسٹبلشمنٹ کے خوف سے بلوچستان کا رخ کرنے سے
کتراتے ہیں۔انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ آج میڈیا اور برق رفتار خبررسانی
کے دورمیں میڈیاپر پابندی کا مطلب خود ہی اس بات کاثبوت ہے کہ بلوچستان
میں پاکستان اپنی جنگی جرائم کو دنیا سے چھپانے کی کوشش میں ہے ،لیکن اس کے
باوجود عالمی دنیا اپنے انسانی اورقومی ذمہ داریوں سے فرار کی روش پر قائم
ہے۔ بلوچ قوم پاکستانی مظالم پر اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں اور عالمی
قوتوں کو انسانیت کے سامنے ایک دن ضرور قصور وار ٹھہرائے گا۔ ان عالمی قوت
اور اداروں کی خاموشی سے بلوچستان ایک ایسی خاموش میدان جنگ بن چکا ہے جس
میں انسانی چیخ و پکار وہیں دب کر رہ جاتے ہیں جس میں بارودکی بارش سے
انسانیت جھلس رہاہے ۔اس میں انسانی شرف وقت کے درندے کے ہاتھوں بے دردی سے
پائمال ہورہاہے۔
دل مراد بلوچ نے کہا کہ اسی ماہ جہاں فورسز نے44 سے زائد آپریشنز و چھاپوں
میں 105 سے زائد بلوچ فرزندوں کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے،اسی طرح19 نعشیں
ملیں جس میں 5 بلوچ فرزندوں کو فورسز نے بے دردی سے شہید کیا، جبکہ چار کے
محرکات سامنے نہ آ سکے،دس لاشوں کو عدم شناخت کی بنیاد پر ایدھی فاؤنڈیشن
کے حوالے کر کے بغیر ڈی این اے کے دفنا دیا گیا۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ لاشیں
بلوچ مسنگ پرسنز کی ہیں جنھیں ریاستی فورسز نے دوران حراست قتل کیا ہے۔
فورسز نے اسی مہینے کئی بلوچ بستیوں کو نشانہ بنایا جس میں بلیدہ کے علاقے
زندہ گر کی ساری آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرکے آئی ڈی پیز بنادیا گیا
۔اس سے پہلے بھی مختلف علاقوں میں آبادیوں کو نقل مکانی پر مجبورکردیاہے جو
تاحال دربدرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔ان آئی ڈی پیز کی ایک بڑی تعداد شہروں
کا رخ کرچکاہے مگر وہاں بھی خفیہ ایجنسیاں ان کا پیچھا کرکے مکان مالکان پر
دباؤ ڈال کر انہیں بے گھر کیا جارہاہے۔ اسی طرح دوران
آپریشن،بلیدہ،کولواہ،آواران دشت ،مشکے میں کئی گھروں کو نذرآتش کرنے کے
ساتھ فصلوں اور باغات کو بھی جلایا گیاہے ۔
سیکریٹری اطلاعات نے مزید کہا کہ آواران میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ علی حیدر
محمد حسنی کے کارندوں نے ایک گھر پر لوٹ مار کے ساتھ فائرنگ کر کے ایک بلوچ
بیٹی کو زخمی کیا۔مند کے علاقے مچات میں فوج نے ایک اور اسکول کو خالی کر ا
کر فوجی چوکی میں تبدیل کرنے کے ساتھ علاقے کے واحد اسکول کو بھی بند کر
دیا۔اس وقت بلوچستان کے بیشتر سکول اور ہسپتالوں کو فوج نے تحویل میں لے
کراپنے بیس کیمپ اور چوکیوں میں تبدیل کردیئے ہیں۔ اس مہینے اکیس بلوچ
ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب ہوئے۔ان میں بیشتر وہی ہیں جنہیں آپریشن کے
دوران حراست میں لیکر تشدد کے کچھ دنوں بعد چھوڑیا گیاہے۔ ان میں خواتین و
بچے بھی شامل ہیں۔ ان میں قابل ذکر معروف قوم پرست رہنما ڈاکٹر اللہ نذر
بلوچ کی اہلیہ اور چار سالہ بچی شامل ہیں جنہیں تیس اکتوبر کو اغوا کرکے
تین نومبر کو خفیہ اداروں کی قید سے آزاد کرکے علی حیدر محمد حسنی کے ڈیتھ
اسکواڈ کے حوالے کیاگیا۔
دلمراد بلوچ نے کہا کہ آزاد میڈیا و صحافت کے دعویدار و انسانی حقوق کے
علمبرداروں کی خاموشی نے مقبوضہ بلوچستان میں ایک سخت صورت حال پیدا کر دی
ہے،جہاں فورسز کا آئے روز آپریشنز میں تیزی کا سب سے اہم ذمہ دار یہاں کی
میڈیا و انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی ہے۔کٹھ پتلی وزیرداخلہ کے اعلان
نسل کشی کے بعد اگر عالمی طاقتیں اس بات کا نوٹس لیتیں تو شاید اس درندگی
پر روک لگایا جاسکتا تھا مگر حسب سابق اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی انسانی
حقوق کے پاسبانی کے دعویدار اداروں نے بے حسی کے رویہ برقرار رکھا ہے۔ اسی
وجہ سے پاکستان بے خوف ہوکر بلوچستان میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا کر نسل
کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کر رہا ہے۔ انہوں نے
کہا کہ ماہِ نومبر کی تفصیلی رپورٹ کاخلاصہ میڈیا میں جاری کی جا رہی ہے
جبکہ تفصیلی رپورٹ ریکارڈ کے طور پر پارٹی کے پاس محفوظ ہے۔
یکم نومبر
۔۔۔تمپ وگردونواح میں میڈیا و بلوچ جدوجہد حوالے پمفلٹ تقسیم ، ضلع کیچ کے
علاقوں تمپ ،نذرآباد، پل آباد ،بالیچہ ، کوہاڈ اور رود بن مند میں نامعلوم
افراد نے میڈیا کے حوالے سے بلوچ مسلح تنظیم بی ایل ایف کی پمفلٹ بعنوان
’’بلوچ عوام میڈیا بائیکاٹ کیلئے تیاررہے‘‘اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئر
مین خلیل بلوچ کی بلوچ تحریک آزادی کے حوالے سے تربیتی سرکل ’’جدوجہد اور
قومی مفاد‘‘تقسیم کرکے تمام علاقوں میں دیواروں پر چسپاں بھی کئے ۔
۔۔۔کوئٹہ: دس لاشیں عدم شناخت کی بنیاد پر دشت قبرستان میں دفنا دی
گئیں،بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ہسپتال سول سنڈیمن ہسپتال کے مردہ
خانے میں پڑی ہوئی 10 لاوارث لاشوں کو ایدھی فاؤنڈیشن کے عملے نے امانتاً
مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔
۔۔۔کوئٹہ میں بلوچ رہنما اُستاد اسلم بلوچ کے چچا ماسٹر جلال ولد داد کریم
کو پاکستانی فورسز نے گھر سے حراست بعد لاپتہ کر دیا ہے، ماسٹر جلال بلوچ
اُستاد اسلم بلوچ کے والد کے بھائی اور انکے سسر ہیں،۔
2 نومبر
۔۔۔کوشک بلیدہ سے چودہ سالہ لڑکا سمیع اللہ ولدبہار فورسز کے ہاتھوں اغوا اور لاپتہ
3 نومبر
۔۔۔پچھلے مہینے کوئٹہ سے فورسز کے ہاتھوں اغوا شدہ عظیم قوم پرست رہنما
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ فضیلہ، چار سالہ بچی پوپل جان، ہیال زوجہ
دلیپ اور اسکی شیر خوار بچی زہیریگ، گورجان زوجہ محمد نیاز، سلمی بنت رحیم
دادآج بازیاب ہوگئے۔
۔۔۔کراچی کے علاقے غازی ٹاؤن میں پاکستانی خفیہ اداروں نے ایک گھر پر چھاپہ
مارکر 3اسٹوڈنٹس کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے ۔ جن کی شناخت احسان ، بالاچ
اور فراز کے ناموں سے ہوگئی ہے جو گوادر کے علاقے جیونی کے رہائشی ہیں
۔احسان اور بالاچ دونوں بھائی ہیں جبکہ فراز ان کا چچا زاد بھائی ہے۔
4 نومبر
۔۔۔بلیدہ میں فورسز نے ایک نوجوان کو حراست بعد لاپتہ کردیا،ہفتہ کو ضلع
کیچ کے علاقے بلیدہ الندور میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے آپریشن کرکے
ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جس کی شناخت وسیم ولد غلام جان
سکنہ الندور بلیدہ کے نام سے ہوگئی ۔
۔۔۔ایک بلوچ ٹیچر عطاء اللہ بلوچ جھل مگسی سے اغوا،
5 نومبر
۔۔۔،آواران ، پیراندر کے علاقوں سوروک،تلاروک،پہاڑی علاقوں پر چار گن شپ
ہیلی کاپٹر وں و زمینی فوج کا آپریشن ،جبکہ زمینی فوج کی بڑی تعداد نے
مذکورہ علاقوں کو محاصرے میں رکھا ،پیراندر لوپ،جھاؤ کیجانب جانے والا
راستہ،جھاؤ مجد پیر کے علاقوں میں بھی زمینی فوج کی بڑی تعدادکا آپریشن
،گھروں میں لوٹ مار بھی کیا گیا۔
6 نومبر
۔۔۔اسی سال یکم اپریل کو فورسز کے ہاتھوں اغوا ہوکر لاپتہ ہونے والے تمپ گومازئی کے اطہر ولد برکت بازیاب۔
۔۔۔بلوچ وارڈ گوادر سے یاسین ولد گنگزار فوج کے ہاتھوں اغوا۔
۔۔۔ بلیدہ کے علاقوں بٹ،کورے پشت صبح سے شام تک گھروں میں آپریشن کر کے
خواتین و بچوں حراساں کرنے کے ساتھ لوٹ مار کی اور پندرہ افراد کو حراست
بعد لاپتہ کردیا،جس میں سے دو افراد کی شناخت شمس بلوچ اور عاقب سے ہوئے،۔
۔۔ضلع کیچ کے علاقے پیدارک میں پاکستانی فوج کی پانچ گاڑیوں نے ایک گھر پر
دھاوا بول کر وہاں سے ماجد ولد خداداداور چاکر ولد داد جان کو حراست بعد
لاپتہ کرنے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی۔
۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے پیدارک اور یربت شہر کے درمیان میں واقع اسلم شاہ پارک
کے قریب پاکستانی خفیہ اداروں اور فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لیکر
لاپتہ کردیا جس کی شناخت چراغ ولد صوالی کے نام سے ہوگئی جوپیدارک درمعکول
کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔ چراغ ایک ٹرک ڈرئیور ہے جو اغوا کے وقت کریش
بجری لوڈ کر رہا تھا ۔کہا جارہا ہے کہ چراغ شہید دادجان شیہو کاچچا زاد
بھائی ہے ۔
۔۔۔مند مچات میں ایک اورسرکاری اسکول فوجی چوکی میں بدل گئی ، ضلع کیچ کے
علاقے مند ملاچات میں پاکستانی فوج نے ایک سرکاری پرائمری اسکول پر قبضہ
کرکے اسے مکمل اپنی چوکی میں دیا ہے ۔جبکہ علاقے کے لوگوں کو پیغام بھیج
دیا گیا وہ اپنے بچوں کواسکو ل نہ بھیجیں۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں
پہلے سے اسکولوں کی کمی ہے اور اس پر مستزاد فورسز کی آئے روز بلوچستان بھر
کے شورش زدہ علاقوں کے سرکاری اسکولوں کو اپنے قبضے میں لیکر انہیں اپنی
چوکی میں بدلنے کا رواج تیزی کے ساتھ جاری ہے ۔ٹیچروں کی کمی وجہ سے بچے
پہلے سے تعلیم سے محروم ہیں اب فورسز کی جانب سے اسکولوں کو اپنے قبضے میں
لیکر چوکی میں بدلنے کے رواج سے بلوچ بچوں کی تعلیم پر مکمل قدغن لگائی گئی
ہے ۔
۔۔۔جھاؤ فوجی آپریشن ،تین سو خواتین ،بچے ،مرد چوبیس گھنٹے تشدد بعد رہا۔
جھاؤ پاکستانی فورسز کا آپریشن پندرہ روز سے جاری رہا ، جھاؤ کے علاقوں
کوہڈو، دارے کوچک،پتکی میں محاصرے کے بعد گھروں میں موجود تمام اشیاء کو
لوٹنے کے ساتھ موجود خواتین،بچوں ،نوجوانوں ،بزرگوں سب کو ملٹری کیمپ منتقل
کردیا،واضح رہے تینوں علاقوں کی آبادی تین سو کے قریب ہے،جنکو ایک دن
ملٹری کیمپ میں تشدد کے بعد آج رہا کر دیا گیا،کوہڈو کے لوگوں کو کوہڈو
ملٹری کیمپ ،جبکہ دارے کوچک کے لوگوں کو اسی علاقے کے ملٹری کیمپ اور پتکی
کے لوگوں کو پتکی آرمی کیمپ میں چوبیس گھنٹے رکھا گیا ،تین سو سے زائد
خواتین ،بچوں،بزرگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آج رہا کر دیاگیا۔
۔۔۔ گذشتہ روز 2لاپتہ افراد گوادر سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔جن کی
شناخت در محمد ولد اسماعیل اور اللہ بخش ولد ناگمان کے ناموں سے ہوگئی جو
ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان کے رہائشی ہیں جنہیں یکم اکتوبر کو دشت میں ایک
آپریشن کے دوران حراست بعد لاپتہ کیا گیا تھا۔
۔۔۔ڈھاڈر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، بولان کے علاقے ڈھاڈرنغاری میں
نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے جمال خان ولد بہار خان کلوئی نامی ایک
شخص کو ہلاک کردیااور فرار ہووگئے ۔قتل کی وجہ ابھی تک سامنے نہ آسکی ۔
8 نومبر
۔۔۔آواران پیراندر میں آپریشن : حضوربخش ولدد محمد، در اولد مسکان، در
محمدولد مسکان،اللہ یارولد مسکان،رحیم دادولد مسکان،یار محمد ولد لعل
محمداور داد شاہ کو پاکستانی فوج نے آپریشن کے دوران اغوا کرکے لاپتہ کیا۔
۔۔۔ گذشتہ شب پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے بلوچستان کے علاقے اوتھل میں
ایک گھر پر چھاپہ مار کر خواتین وبچوں کو تشدد بنایا اور دو افراد کو حراست
میں لیکر لاپتہ کیا جن کی شناخت سخی دارولد الہی بخش اور گلاب ولد قادر کے
ناموں سے ہوگئی جو کولواہ کے علاقوں پارگ اور شاپکول کے رہائشی ہیں بتائے
جاتے ہیں ۔
۔۔۔گوادر سے عنایت ولد مراد جان جبکہ گوبرد ضلع کیچ سے فدا ولد ابراہیم اور مہیم ولد ابراہیم اغوا۔
۔۔۔ پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے ضلع کیچ کے علاقے مند گوک میں ایک
دکان کے سامنے کھڑے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جس کی شناخت
عادل ولد لیلا کے نام سے ہوگئی جو مند گوک کا رہائشی ہے ۔
9 نومبر
۔۔۔پنجگورو مند سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ 2 افراد بازیاب، جن کی شناخت عادل
لیلا اور اختر برکت کے ناموں سے ہوگئی ۔ اختر ولد برکت کو یکم اپریل
2017کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے پنجگور کے علاقے پروم گومازی بازار
میں ایک آپریشن کے دوران حراست بعد لاپتہ کیاتھا ۔جبکہ مند گوک سے عادل ولد
لیلا کو گذشتہ روز مغرب کے وقت فورسز نے حراست بعد لاپتہ کیا تھا۔
۔۔۔بلیدہ و گردونواح میں بڑے پیمانے پر زمینی وفضائی آپریشن ، متعددا فراد
لاپتہ ، ضلع کیچ کا علاقہ بلیدہ اور گردو نواح کے علاقوں الندور،بوناپ ،بز
پیش ،کوچگ ،گلی ،سمیت ناگ تک کو محاصرے میں لیکر آج علی الصبح بڑے پیمانے
پر زمینی و فضائی آپریشن کیا گیا۔ 100سے زائد فوجی گاڑیاں اور تین ہیلی
کاپٹراس آپریشن میں شامل رہء، ،ہیلی کاپٹر نے آبادیوں پر شیلنگ کی، جبکہ
زمینی فوج آبادیوں میں گھس کرگھروں میں لوٹ مار و خواتین و بچوں کو تشدد کا
نشانہ بناکر ہراساں کیا ۔فوج نے کھیتوں پر کام کرنے والے متعدد افراد کو
حراست میں لیکر لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ کئی افراد کو گھروں سے اٹھایا گیا
ہے۔
۔۔۔کیچ فورسز نے تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،کیچ بازار سے
پاکستانی خفیہ اداروں کے کارندوں نے راشد رضا ولد سخی داد سکنہ شاپک کو
حراست بعد لاپرہ کر دیا،جبکہ تمپ کے علاقے نذر آباد میں فورسز نے آبادی پر
دھاوا بول کر دو گھروں میں خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کے ساتھ لوٹ مار
کی اور دو افراد نادل ولد گل محمد اور اشرف ولد یوسف کو حراست بعد لاپتہ کر
دیا۔
10 نومبر
۔۔۔اسی سال دو فروری کو فوج کے ہاتھوں اغوا ہو کرلاپتہ ہونے والا وشبود پنجگور کے رہائشی اسحاق ولد عبدالکریم بازیاب
۔۔۔ تربت سے آج دو لاپتہ افراد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔جن کی شناخت
ریاض ولد آدینہ اور ذاکر ولد آدینہ کے نامو ں سے ہوگئی ۔ دونوں کا تعلق
بلیدہ کے علاقے الندور سے ہے جنہیں گذشتہ روز کے زمینی فضائی آپریشن دوران
فورسز نے حراست بعد لاپتہ کیاتھا۔واضع رہے کہ مذکورہ آپریشن انتہاتی بڑے
پیمانے پر کیا گیا تھا۔
۔۔۔ کیچ کے علاقے مند گوک میں پاکستانی فورسز نے مراد جان،گل محمد،محمد
صالح کے گھروں پر دھاوا بول کر ساٹھ سالہ بزرگ مراد اور ایک بچہ بدر ولد
صالح کو حراست بعد لاپتہ کردیا جبکہ فورسز نے خواتین و بچوں کو تشدد کا
نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں موجود تمام اشیاء کا صفایا کر دیا۔
۔۔۔ دشت کے علاقے کاشاپ میں پاکستانی زمینی فوج نے علی الصبح علاقے کا
محاصرہ کر کے گھر گھر آپریشن کی،گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں
کو حراساں کرنے کی اطلاعات کے ساتھ کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
12 نومبر
۔۔۔حب جھاؤ کا رہائشی پاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ، پاکستانی فورسز نے جھاؤ کے رہائشی حسن ولد احمد کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے۔
۔۔۔ڈیرہ بگٹی میں فورسز ہاتھوں 2افراد حراست بعد لاپتہ ، جن کی شناخت مہراللہ بگٹی اور کالو ولد میوا بگٹی سے ہوگئی ہے۔
13 نومبر
۔۔۔پانچ مہینے سے لاپتہ جھاؤآواران زباد ولد وشدل بازیاب ، اسی طرح ایک سال سے لاپتہ تیرتیج آواران کے سلیم بازیاب
۔۔۔خضدار فورسز کا آپریشن جاری،چیکنگ،علاقے محاصرے میں، خضدار میں چمروک
اللہ والا چوک،گزی کا علاقہ خلیج ہوٹل،مشکے روڈ،ہندو گلی،نیو اڈہ کرک روڈ
پر فورسز کا سخت چیکنگ جاری ہونے کے ساتھ مذکورہ علاقوں میں آبادیو ں کو
بھی محاصرے میں لے رکھا گیا ہے اور آپریشن جاری ہے
۔۔۔خضدار میں فورسز ہاتھو ں 2نوجوان حراست بعد لاپتہ ، بروز منگل کو ہسپتال
روڈ پر واقع ایک میڈیکل اسٹور سے پاکستانی خفیہ داروں و فورسز نے ایک
نوجوان کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے جسکی شناخت ساجد کے نام سے
ہوگئی جبکہ ایک دوسرے واقعہ میں خضدار کراچی روڈ پر واقع داؤد شاپنگ سینٹر
سے خفیہ اداروں و فورسز نے جمیل احمد ولد صوفی محمد نامی ایک نوجوان کو
حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے۔
14 نومبر
۔۔۔اسی سال چھبیس اپریل کو لاپتہ اغوا ہونے والا مومن ولد خدابخش سکنہ
ہوشاپ ضلع کیچ بازیاب، تین سال سے لاپتہ گرمکان پنجگور کا رہائشی استاد
بہار ولد دیدگ بازیاب۔
۔۔۔کوئٹہ میں فورسز ہاتھوں ایک طالب علم حراست بعد لاپتہ،جس کی شناخت لطیف
ولد خدا بخش کے نام سے ہوگئی جو آواران تیرتیج کارہائشی بتایا جاتا ہے ۔
دشت جتانی بازار سے جہانگیر ولد حاصل اور فہیم ولد غلام فورسز کے ہاتھوں اغوا۔
15 نومبر
۔۔۔تمپ گومازئی سے عباس ولد حمزہ اغوا۔
16 نومبر
۔۔۔دومہینے سے فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والا پیراندر آواران کا ساجد اور عبدین ولد عمربازیاب،
۔۔۔پندرہ اور سولہ نومبر کی درمیانی شب کراچی ،بی ایس او کے سیکریٹری جنرل
چار نوجوانوں سمیت حراست بعد لاپتہ،کراچی میں فورسز نے بی ایس او آزاد کے
سیکریٹری جنرل ثناہ بلوچ ولد اسماعیل سکنہ مشکے کرکی، حسام ولد غلام
محمدسکنہ تربت،نصیر احمد ولد صوالی سکنہ جھاؤ،اور بی این ایم کے ممبررفیق
ولد رحیم بخش سکنہ مشکے کو سندھ رینجرز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے
اغوا کرکے لاپتہ کیا۔
۔۔۔پروم پاکستانی فوج اور جیش العدل نے ایک بلوچ کو اغوا کر لیا،ڈیوٹی پر
موجود لیویز اہلکار صابر فضل کریم ،سکنہ جھائین پروم کو اُٹھا کر اپنے ساتھ
لے گئے۔
۔۔۔گزشتہ روز ضلع کیچ کے علاقے سنگانی سر سے فورسز نے بلیدہ کے رہائشی طالب
علم کو حراست بعد لاپتہ کردیا،بلیدہ کے علاقے میناز کے رہائشی رحیم جان
ولد عبداللہ کو گزشتہ روز فورسز نے حراست بعد لاپتہ کر دیا۔
پروم جائین ضلع پنجگور سے عطاء اللہ اغوا اور لاپتہ
17 نومبر
۔۔ ۔بلیدہ میں پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں سرمچار یونس بلوچ شہید ہو گئے ۔شہید یونس بلوچ کا تعلق زعمران کے علاقے مرغوتی سے تھا۔
۔۔۔کیچ ،خیر آباد سے فورسز نے آپریشن کرکے 3افراد کو گاڑی اور موٹر سائیکل
سمیت حراست بعد لاپتہ کردیا ۔ ضلع کیچ کے علاقے خیر آباد میں آپریشن کرکے
خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ گھروں کے قیمتی اشیا لوٹ لئے
جبکہ دوران آپریشن فورسز نے 3افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے جن کی
شناخت سلیم ولد عباس ،یونس ولد حاجی رحیم اور نعیم ولد ولی محمد کے ناموں
سے ہوگئی جوخیر آباد اور ہوت آباد کے رہائشی بتائے جاتے ہیں ۔
18 نومبر
۔۔۔ڈیرہ بگٹی کے رہائشی پاندی بگٹی، اور منشی بگٹی سبزی منڈی ٹول پلازہ کراچی سے اغوا۔
۔۔۔خضدار،قلات گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں، ہفتہ کے دوپہر کو پاکستانی
فوج کی چار گن شپ ہیلی کاپٹرونے شام تک ضلع قلات کے علاقوں
دلبند،جوہان،خیسار اور اردگرد کے پہاڑوں پر مسلسل کئی گھنٹوں گشت کی۔
۔۔۔کرکی تجابان ضلع کیچ سے شاکر ، شاہ میر ولد شاکر، باران، قمبر ولد باران، پیر محمد ولد قادر بخش، اغوا بعد لاپتہ
۔۔۔گوادر سے فورسز ہاتھوں 4افراد حراست بعد لاپتہ ۔ گوادر کے علاقے
سْربندرسے پاکستانی فوج اور حساس اداروں کے اہلکاروں نے 2 افراد کو حراست
میں لیکر لاپتہ ہے جن کی شناخت ابراہیم ولد حاصل اور راجہ ولد واجدادکے
ناموں سے ہوگئی ۔ْ اسی طرح چار روز قبل سْربندر سے بھی پاکستانی فوج اور
حساس اداروں کے اہلکاروں نے جہانگیر ولد اصیل اور فہیم ولد غلام نامی دو
اور بلوچ فرزندوں حراست بعد لاپتہ کیا تھا، چاروں مغوی دشت کے علاقے جتانی
بازار کے رہائشی ہیں۔
19 نومبر
۔۔۔بلیدہ پاکستانی فوج کا زمینی و فضائی آپریشن ، بلیدہ کے تحصیل
بٹ،چب،کوشک،سلو،میناز کورے پشت میں آبادیوں پر آپریشن کے دوران گھر گھر
تلاشی لینے کے ساتھ خواتین و بچوں کو حراساں کیا گیا ۔
۔۔۔کیچ فورسز نے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا ، جسکی شناخت شہک ولد
امیر بخش سکنہ سری کلگ گورکوپ سے ہوئی ہے،واضح رہے کہ گزشتہ تین مہینوں سے
بلوچ فرزندوں ،کمسن بچوں ،خواتین و طلباء کی فورسز ہاتھوں حراست و لاپتہ
کرنے کے واقعات میں سخت تیزی آئی ہے۔
۔۔۔کیچ تمپ کے علاقے ملک آباد میں فورسز نے شکاری میتگ میں ایک گھر پر
دھاوا بول کر ،خواتین و بچوں کو زد کوب کرنے کے ساتھ انکو تشدد کا نشانہ
بنایا اور گھر میں موجود سلطان نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا ،گھروں
میں موجود تمام قیمتی اشیاء کو لوٹنے کے ساتھ تھوڑ پھوڑ کی۔
۔۔۔بلیدہ فورسز نے درجنوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ،باغات نذر آتش کر دئیے
،اور بلیدہ الندور زومدان ،گوچک میں فورسز نے کئی مشینوں،کجھورکے باغات،
درختوں سمیت گھروں کو نذر آتش کر دیا،
20 نومبر
۔۔۔کراچی ایک اور طالب علم فورسز ہاتھوں حراست بعد لاپتہ، کراچی یونیورسٹی
سے پاکستانی فورسز نے صغیر احمد سکنہ آواران تیرتیج کو حراست بعد لاپتہ کر
دیا۔
۔۔۔آواران ڈیتھ اسکواڈ کا گھر پر حملہ،بلوچ بیٹی فائرنگ سے زخمی ،آواران کے
علاقے ماشی میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ علی حیدر محمد حسنی ڈیتھ
اسکواڈ کے مقامی کمانڈر برکت کے کارندوں صغیر ولد برکت،سکنہ لباچ،دُرا ولد
اسرار،سکنہ ہار بازار،اختر ولد لیوار اور نظر نامی کارندوں نے عبداللہ بلوچ
کے گھر پر دھاوا بول کر شدید فائرنگ کر دی، جس سے عبداللہ بلوچ کی بیٹی بی
بی رضیہ فائرنگ سے زخمی ہوگئی ہے۔برکت ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے باقی
لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر گھر میں موجود80 ہزار روپے سمیت خواتین کے
پہنے ہوئے سونے بھی لوٹ لیے جنکی مالیت90 ہزار سے اوپر بتائی جا رہی
ہے۔زخمی بلوچ بیٹی کو آواران ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے،مقامی انتظامیہ نے
ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف ایف آئی آر بنانے سے انکار کر دیا ہے،۔
۔۔۔تجابان و سامی سے فورسز نے 7افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن میں
دو باپ دو بیٹے ،دو بھائی بھی شامل ہیں ۔لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت
باران،شکر ،شاہ میر ولد شکر، باران، کمبرولد باران اور پیر محمد ولد قادر
بخش کے ناموں سے ہوگئی ۔جبکہ اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے سامی میں فورسز نے
2افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے جن کی شناخت شاہد ولد ہاشم اور
عبدالرزاق ولد ہاشم کے ناموں سے ہوگئی جو آپس میں سگے بھائی ہیں ۔
21 نومبر
۔۔۔ایک مہینے سے لاپتہ نزرآباد تمپ کا رحیم ولد ناگمان، تیرتیج ضلع آواران
کا اللہ بخش ولد روزی اور دوسالوں سے لاپتہ جنگی خان فوج سے بازیاب
۔۔۔ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ،
منگل وڈھ میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے بسم اللہ ولد خان جان کو شدید
زخمی کر دیا
۔۔۔پسنی میں سرنڈر کردہ 2نوجوان فورسز ہاتھوں لاپتہ ، جنکی شناخت زہیر رحیم
بخش اور جواد سیلانی کے ناموں سے ہوگئی ۔ دونوں نوجوان ایک آزادی پسند
مسلح تنظیم سے وابستہ تھے اور گذشتہ مہینوں گوادر میں پاکستانی فوج کے
سامنے سرنڈر کر چکے ہیں ۔واضع رہے کہ جتنے بھی سرنڈر کردہ افرادہیں فورسز و
خفیہ ادارے انہیں کام نکلنے کے بعد یا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہیں یا
انہیں حراست بعد لاپتہ کرنے اور تشدد کا نشانہ بناکر ان کی لاشیں ویرانے
میں پھینک دیتی ہے۔پاکستانی فوج کے سامنے کوئی بھی بلوچ صرف ایک دشمن ہوتا
ہے اور کچھ نہیں ۔اگر کچھ لوگ یہ خوش فہمی میں ہیں کہ وہ بلوچ تحریک آزادی
کے صفوں راہ فرار اختیار کرکے پاکستانی فوج کی خوشنودی کی خاطر ایک اچھی
زندگی گازریں گے تو یہ ان کی بھول ہے کیونکہ بلوچستان کی آزادی کی نظریے کا
فالن کرنے والے کسی بھی بلوچ کو وہ نہیں چھوڑتے چاہئے ان کے لئے کسی قسم
کی بھی کام کرلو لیکن وہ اسے کھبی بھی تسلیم نہیں کرتے ۔
۔۔۔کیچ کے علاقے دشت،پنودی پاکستانی فوج کا آبادی پر آپریشن ،سرمچاروں کی
آبادی کی دفاع میں جوابی کاروائی دو بلوچ سرمچار شہید،معیار ولد اسماعیل
سکنہ پنودی دشت، شبیر ولد محمد عمر سکنہ جنگل بازار مچات دوران جھڑپ شہید
ہوگئے۔
۔۔۔آواران ،گزی پاکستانی فوج نے ایک اور چوکی قائم کر دی۔
۔۔۔سری کلگ گورکوپ ضلع کیچ سے زبیر ولد مراد بخش اٖغوا
22 نومبر
۔۔۔ گزشتہ روز بلیدہ سے پاکستانی فوج نے آپریشن کر کے عابد ولد رشید نامی
نوجوان کو حراست بعد لاپتہ کر دیا جو مرغوتی زعمران کا رہائشی ہے۔
۔۔۔بلیدہ ، فوجی بربریت ایک مکمل بستی نقل مکانی پر مجبور، بلیدہ میں زندہ
گر قصبے کی آبادی کو پاکستانی فورسز نے نقل مکانی پر مجبور کر کے اپنی
آبائی زمینوں سے بے دخل کر کے آئی ڈی پیز بنا دیا، اسی علاقے پر فورسز نے
مارٹر گولے سے حملہ کیا جس سے وہاں ایک کمسن بچہ جہانزیب ولد دوستین زخمی
ہوا تھا،اسکے بعد فورسز نے آبادی پر دھاوا بول کر مکینوں کو علاقہ خالی نہ
کرنے پر سخت نتائج کی دھمکیاں دیں،مگر مجبور بلوچ اپنی زمینیں،فصلیں چھوڑ
کر کہاں جاتے،کچھ روز قبل فورسز نے ایک دفعہ پھر آبادی پر دھاوا بول کر
ساہو ولد قادر،سید ولد ناگمان،بہرام ولد حسن،و دیگر کو حراست میں لے کر
آرمی کیمپ منتقل کر دیا،شدیدتشدد کے بعد اگلے روز ان افراد کو اس شرط پر
چھوڑا گیا کہ وہ قصبہ زند گر کو فورا خالی کردیں ،بصورت دیگر نہ صرف تمام
گھروں اور فصلوں کو نذر آ تش کر دیا جائے گا بلکہ خواتین و نوجوانوں کو
گرفتار کیا جائے گا۔گزشتہ روز فورسز کی جبر و ظلم سے تنگ آ کر سو سے زائد
آبائی والے قصبے کے لوگوں اپنی جدی پشتی زمینوں سے ہجرت کر کے اب آئی ڈی
پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔زند ہ گر بلیدہ کے علاقے میناز اور
الندور کے درمیان واقع ہے۔
۔۔۔آواران پاکستانی فوج نے دو افراد کو حراست بعد آرمی کیمپ منتقل کر دیا،
مین بازار میںیو بی ایل بینک کے سامنے پاکستانی فوج نے دو افراد کو حراست
بعد ملٹری کیمپ منتقل کر دیا،جنکے شناخت عاصم ولد اسلم میروانی سکنہ سری
مالار اور ولی محمد ولد مسافر سکنہ مالار سے ہوئے، آج ولی محمد ولد مسافر
کو فورسز نے رہا کر دیا ،جبکہ عاصم ولد اسلم تاھال فوجی حراست میں ہے۔
۔۔۔زین کوہ ڈیرہ بگٹی سے شیر محمد ولد حضور بخش بگٹی، گھبرو ولد ضاڑا بگٹی اور نبی داد بگٹی فورسز کے پاتھوں اغوا اور لاپتہ۔
23 نومبر
۔۔۔ پسنی میں فورسز و خفیہ اداروں نے شادی کی ایک تقریب پر جہاں موسیقی
پروگرام جاری تھی میں چھاپہ مارکر 5افراد کو حراست میں لیا جن میں 4کوبعد
ازاں چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک کو اپنے ساتھ لے گئے جن معروف سافٹ ویئر انجنیر
چراغ بلوچ ولد ابراہیم ہیں ۔،جسے اگلے روز رہا کر دیا گیا۔
24 نومبر
۔۔۔ آواران کے علاقوں پیراندر گزی میں پاکستانی فوج نے علاقوں کا محاصرہ
کرکے آپریشن شروع کیا،فورسز نے گزی سے مشکے اور گزی سے جھاؤ جانے والے
راستے سیل کر کے نئی چوکیاں قائم کردیں ہیں۔دوران آپریشن فورسز نے آبادی کو
مارٹر کے گولوں اور فائرنگ سے نشانہ بنایا،سرمچاروں نے آبادی کی دفاع میں
فورسز پر جوابی کاروائی کی فورسز کی مارٹر شیلنگ سے دو سرمچار شہید ہوئے
خیربخش عرف مرزا اور ولی جان عرف عمر جان۔
۔۔۔پنجگور میں فورسز کا آپریشن ،متعدد افراد جبری طور پر لاپتہ،گچک لوہڑی
اور کشاری میں آبادی پر حملہ کر کے آپریشن کیا۔فورسز نے پورے علاقوں کو
محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی لی ۔خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ
بنایا۔گھروں کے قیمتی اشیا لوٹ لئے اور متعدد افراد کو حراست میں لیکر جبری
طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔جن میں 10افرادکی شناخت استاد غلام سر ور،ولد لال
خان، مسلم ولد استاد غلام سر ور،لال جان ولد استاد غلام سر ور، زہیر ولد
شکاری عبدالرحمان،مون ولد شکاری عبدالرحمان،نثار ولد عبدالعزیز،منیر ولد
دین محمد،اعظم ولد گمانی،نظام ولد ولی اور نور احمد ولد موسیٰ کے ناموں سے
ہوگئی ۔
۔۔۔کوئٹہ میں تھانہ ایئرپورٹ کے علاقے سے لاش برآمد، ۔لاش کی شناخت
عبدالمعید کے نام سے کی گئی لاش شناخت کے لئے مردہ خانہ میں رکھ دی گئی ۔
۔۔۔تمپ میں فورسز کا آپریشن ، 7افراد حراست بعد لاپتہ،، کیچ کے علاقے تمپ
میں نذر آباد اور آسیا باد میں آج بروز جمعہ کو علی الصبح پاکستانی فوج و
خفیہ اداروں نے آبادیوں پر حملہ کرکے گھر گھر تلاشی لی ، خواتین و بچوں کو
تشدد کا نشانہ بناکر ہراساں کیا ۔گھر میں لوٹ مار کی ، کئی قیمتی اشیا لے
گئے ۔جبکہ آپریشن دوران فورسز نے 7افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر
لاپتہ کردیا جن میں چار کی شناخت مستری پٹھان ولد یلان ، ملا محسن،چاکر ،
اورعمران کے ناموں سے ہوگئی جبکہ اوردیگر تین کی شناخت نہ ہوسکی جو مری
بلوچ قبائل سے تعلق رکھتے ہیں ۔
25 نومبر
۔۔۔دو ستمبر کو فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والا گومازئی ضلع کیچ کا صدام ولد الہی بخش بازیاب
۔۔۔حمید ولد غلام قادرآسیہ آباد تمپ اور علی ولد حمزہ، اغوا بعد لاپتہ
۔۔کراچی سے انسانی حقوق کارکن و صحافی اکبر گبول فورسز ہاتھوں لاپتہ ،ایک روز بعد بازیاب
۔۔۔ پنجگور کے علاقے چتکان بازار میں پاکستانی فوج نے ایک آٹوز دکان سے آصف
نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،عینی شاہدین کے مطابق نوجوان کو
پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے ساتھ شدید تشدد کا نشانہ بنایا ،۔
26 نومبر
۔۔۔کیچ کے علاقے ہوشاپ سے پاکستانی زمینی فوج نے ہوشاپ ہوٹل پر دھاوا بول
کر دو بھائیوں سمیت تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا جنکی شناخت،
نوربخش ولد میاہ مزار،خورشید ولد میاہ مزار دونوں بھائی میر بازار ہوشاپ کے
رہائشی ہیں،فورسز کے ہاتھوں ہوشاپ سے تیسرے لاپتہ افراد کی شناخت کہدہ ولد
شمبے سکنہ تل سے ہوئی۔
۔۔۔پنجگور سے فورسز نے ہفتہ کے روز تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا
،جنکی شناخت خدا رحم ولد پھلان ،سکنہ پُلکی گچک،نذیر ولد امیت سکنہ کرکی
گچک،رحیموک ولد محمد کریم سکنہ سری گچک سے ہوئے۔
۔۔۔ گوادر سے تین افراد فورسز کی تشدد خانوں سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ
گئے،جہانزیب،فہیم،راجہ سکنہ جتانی بازار جنکو کو بیس روز قبل پاکستانی
فورسز نے حراست بعد ملٹری کیمپ منتقل کر دیا تھا۔جو اتوار کی رات بازیاب ہو
گئے
۔۔۔گوادر میں فورسز کے ہاتھوں نوجوان جبری طور پر لاپتہ ،جس کی شناخت خلیل
ولد قادر کے نام سے ہوگئی جو دشت ہسادیگ کا رہائشی بتایا جاتاہے ۔
۔۔۔ضلع کچھی کے علاقے میں فائرنگ سے لیاقت علی ولد غلام قادر ابڑوکو ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے،قتل کی وجہ سامنے نہ آ سکی۔
27 نومبر
۔۔۔مستونگ و گرد نواع میں پاکستانی فوج نے زمینی فوج کو گن شپ ہیلی کاپٹروں
سے آپریشن کیا،گھر گھر تلاشی کے دوران کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کر
دیا گیا ہے۔
۔۔۔ کیچ ، تمپ ،نذر آباد میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر
خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں موجود تمام
اشیاء کا صفایا کر دیا،اور وہاں سے کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا،
۔۔۔خضدار،لاپتہ افراد کے لواحقین کا انسانی حقوق کے اداروں سے مدد کی اپیل
۔۔۔ کیچ کے علاقے دشت میں پٹوک اور پرنٹ کے مقام پر دو نئے مورچے قائم کرکے
مختلف علاقوں میں آپریشن کا آغازکردیا گیا۔ جبکہ میرانی ڈیم کے علاقے میں
فورسز نے ایک مسافر گاڑی کو روک کر ڈرائیور عبدالکریم ولد ولی محمد اور
محمد ولد حاجی علی محمد نامی دو افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن
میں محمد نامی شخص کو بعدا زاں تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ عبدالکریم
ولد ولی محمد تاحال لاپتہ ہے۔
28 نومبر
۔۔۔خضدار پاکستانی فوج کا آریشن ،کئی افراد حراست بعد لاپتہ، خضدار کے
علاقے خلیج ہوٹل اور سُر خشک کے علاقوں میں میں پاکستانی فوج نے آپریشن کے
دوران گھر گھر تلاشی کے ساتھ خواتین و بچوں کو ذدکوب کیا اور گھروں میں
موجود قیمتی اشیاء کا صفایا کر دیا،اورکئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا
ہے ، خضدار یونیورسٹی،کٹھن کے علاقوں میں بھی آپریشن و گھر گھر تلاشی کے
دوران خواتین و بچوں کو حراساں کیا گیا۔
30 نومبر
۔۔۔ ہرنائی کے علاقے کلی میں ڈگاروں سے درخت سے لٹکتی ایک لاش برآمد کی گئی
ہے ۔ جس کی شناخت محمد ایوب ولد عبدالحکیم کے نام سے ہوگئی ہے جو پنگا کا
رہائشی بتایا جاتا ہے ۔
۔۔۔خضدار مکمل سیل،آپریشن میں شدت ،فوجی لوٹ مار کئی افراد حراست بعد
لاپتہ، خضدار کے داخلی و خارجی راستوں پر پاکستانی فوج نے چیک پوسٹوں سمیت
منی کیمپ قائم کر دئیے ہیں،خضدار بازار سمیت ارد گرد کے تمام علاقوں کے
داخلی و خارجی راستے بھی سیل کر دئیے گئے ہیں،خواتین ،بچوں سمیت ہر کسی کی
سخت چیکنگ جاری ہے،خضدار کے علاقوں کوشک ،اسد آباد، یونیورسٹی و اسکے آس
پاس کے علاقوں سمیت چاندنی چوک،چمروک ہوٹل،ٖظفر آباد،فیروز آباد،بولوان
کالونی،گزگی،زینہ کٹان،بھالینے کٹان،کنڈبور مکمل محاصرے میں ہیں اور گھر
گھر آپریشن کے دوران 70 سے زائد افراد کو حراست میں لے کر غائب کر دیا گیا
جس میں تاحال درجن کے قریب فوجی حراست میں ہیں اور باقیوں کو تشدد بعد رہا
کر دیا گیا ہے،گزشتہ روز آپریشن میں شہید سمیع کے بھائی کو ایک اور نوجوان
سمیت فورسز نے حراست میں لیا تاہم شدید تشدد بعد اسے رہا کر دیا گیا ہے،کئی
روز قبل پاکستانی فورسز نے جن کرکٹرزکو دوران کھیل حراست میں لیا تھا ،اس
میں سے تین غازی جتک،سجاد،ممتاز تاحال فورسز کی حراست میں ہیں۔
۔۔۔ پاکستانی فوج کے مظالم سے اب حیوان بھی محفوظ نہیں،بلوچوں کا مال مویشی
لوٹنا،معاشی ذرائع تباہ کرنا تو مدتوں سے جاری ہے،مگر مشکے میں پاکستانی
فوج نے سینکڑوں گدھے ہانک کر لے گئے،واضح رہے کہ لوگ ان گدھوں کو بار
برداری کے لیے استعمال کرتے ہیں فوج کے اس ظلم سے سینکڑوں لوگوں کا روزگار
متاثر ہوا ہے۔
۔۔۔مشکے کے علاقے زنگ،کوہ اسپیت،کولواہ،گچک فوجی آپریشن ۔
***
Post a Comment