Translate In Your Language

New Videos

بازیاب ہونے والے ایک بلوچ فرزند کی داستان

بازیاب ہونے والے ایک بلوچ فرزند کی داستان 


کہتا ہے کہ جب مجھے اغوا کیا گیا تو مجھے اپنے علاقے کے کیمپ میں رکھا گیا اور دوسرے دن مجھے ایک اور کیمپ لے جایا گیا تو پہلے دن مجھے بہت ٹارچر کیا گیا کئی سوالات کئے گئے تو میں نے ان سے کہا امریکی اور اسرائیلی وه اپنے قیدیوں پر ظلم کرتے ہیں وه کافر ہیں آپ لوگ تو مسلمان ہو مجھ پر رحم کریں میں بھی مسلمان ہوں تو انٹیلیجنس ایجنسی اہلکار زور سے میری منہ کی طرف چیخ کر گالیا دے کر کہا کہ تم لوگ مسلمان نہیں ہو ابھی تم نے کچھ نہیں دیکھا اگر تم نے سب کچھ قبول نہیں کیا تیرا لاش بھی کسی کو نہیں ملے گا تیرے چسم کی پوری کھال اتار دینگے اور مجھے مارتا گیا اور میں لاچار صرف رو رہا تھا کہ میں نے کچھ نہیں کیا میں بےگناہ ہوں اور وه مجھے گالیا دیکر بہت مارتا گیا اور توڑی دیر بعد وه چلا گیا دوسرے دن مجھے گھسیٹنے ہوئے ایک بدبودار ٹارچر سیل لے گئے اور مجھے الٹا لٹاکر میرے جسمانی اجزاء کو زور سے پکڑ کر مجھ سے وہی سوالات کئے گئے اور میں بےبس درد و تکلیف سے رو رہا تھا یہ سلسلہ چار دن تک مسلسل چلتا رہا اور مجھے کئی طریقوں سے ٹارچر کرتے گئے ۔

دوستوں آج ہم باہر آزاد گھوم کر اپنی قوم کے اسیران کی تکلیفی محسوس نہیں کرتے کہ کس حال میں ازیتیں ظلم زیادتیاں برداشت کر رہے ہیں دعا کرتا ہو ہر بلوچ فرزند ظالموں کے قید خانوں کے عزاب سے آزاد ہوں... اور آخر میں چند الفاظ اسیران کے نام

میرے دل میں ابھی امید سحر باقی ہے

آزما لے جو کوئی طریقہ جبر باقی ہے
سینے میں ابھی سہنے کو صبر باقی ہے

برسا دے جو تیری عادت میں قہر باقی ہے
لوٹانے کو میری فطرت میں مہر باقی ہے

پلا دے جو تیرے پیمانوں میں زہر باقی ہے
دفاع کو دواہے طبیب میں اثر باقی ہے

تیری محفل میں مجھے روندنے کا زکر باقی ہے
میری محفل میں بغاوت کی فکر باقی ہے

ڈھا دے جو چند اٌباد شہر باقی ہیں
مکینوں میں نئے شہر بسانے کا ہنر باقی ہے

بجھا رے ریے جن میں روشنی کی لہر باقی ہے
میرے دل میں ابھی امید سحر باقی ہے

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved