Translate In Your Language

New Videos

اسلام آباد: آئی ایس آئی نے کہا نواز شریف کے خلاف فیصلوں میں تعاون کرو، پاکستانی جج

اسلام آباد: آئی ایس آئی نے کہا نواز شریف کے خلاف فیصلوں میں تعاون کرو، پاکستانی جج

سلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ایک تازہ خطاب میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلوں میں تعاون کا کہا۔

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے جسٹس شوکت عزیر صدیقی کے اس خطاب پر پاکستانی میڈیا تو خاموش ہے، تاہم سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مختلف صحافی اور صارفین اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

 

اس خطاب میں جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ ملک کے حساس ادارے اپنی مرضی کے بینچ بنواتے ہی، ’’ آئی ایس آئی نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا  کہ نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا۔ مجھے معلوم ہے کہ احتساب عدالت کی ہر روز کی پروسیڈنگ کہاں پر جاتی رہی ہیں۔ معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے۔‘‘

مقامی صحافیوں کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ انہیں پیشکش کی گئی کہ اگر خفیہ اداروں کے احکامات کے مطابق فیصلے کریں گے، تو آپ کے خلاف جاری تمام ریفرنسز ختم کر دیے جائیں گے اور ستمبر تک انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بھی مقرر کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی ماضی میں بھی متعدد مواقع پر عدالتی نظام میں فوجی مداخلت پر سخت ترین ریمارکس اور بیانات دیتے آئے ہیں۔ انہوں نے فقط دو روز قبل ایک عدالتی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ملکی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی بدعنوانی میں ملوث ہے۔

لاپتا افراد سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بھی ’ان طاقت ور ایجنسیوں کے ساتھ مل چکی ہے، جنہوں نے ملک کے سماجی ڈھانچے میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔‘

پاکستانی صحافی گل بخاری نے بھی راولپنڈی بار سے اس خطاب کی ویڈیوز پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کانسی سے کہا گیا کہ شریف فیملی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس شوکت صدیقی کو شامل نہ کیا جائے۔


Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved