New Posts from Balochistan Channel

Translate In Your Language

New Videos

Showing posts with label BSO-Azad. Show all posts
Showing posts with label BSO-Azad. Show all posts

“مجھے ایک دن مار دیا جائے گا، لیکن میرے بعد کوئی اور آئے گا”


“مجھے ایک دن مار دیا جائے گا، لیکن میرے بعد کوئی اور آئے گا”



آج سے نو سال پہلے ایک متحرک اور ذہین نوجوان نے نیوز لائن میگزین کو تین بلوچ رہنماوں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ اور لالا منیر بلوچ کے شہادت کے دن انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ” میں جانتا ہوں بلوچستان میں حقیقی سیاست کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے، ایک دن مجھے مار دیا جائے گا، لیکن میری موت مجھے دور نہیں کرے گی، میرے بعد کوئی اور آئے گا اور اس طرح آزادی کیلئے ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی۔” اس پچیس سالہ نوجوان نے اپنا تعارف زاہد کرد بلوچ کے نام سے کی تھی اور وہ اس وقت بلوچستان کے ایک بڑے طلباء تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سیکریٹری جنرل تھے اور کراچی یونیورسٹی میں سیاسیات کے شعبے میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ وہی زاہد بلوچ آگے جاکر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چیئرمین بنتے ہیں۔ اگر آپ بلوچستان کے بارے میں معلومات کیلئے پاکستانی میڈیا یا سرکاری بیانیئے تک اکتفاء کرتے ہیں تو پھر شاید آپ یہ سمجھیں کہ بی ایس او آزاد پنجاب کے طلباء تنظیموں کی طرح یونیورسٹیوں میں غنڈہ گردی کرنے والا کوئی چھوٹا موٹا تنظیم ہے یا پھر اگر آپ آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز زیادہ پڑھتے ہیں تو پھر شاید یہ سمجھیں کہ یہ کوئی دہشتگرد تنظیم ہے۔ ان دونوں بیانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بی ایس او بلوچ سماج اور سیاست میں جز لاینفک کی حیثیت رکھتی ہے، اسکے اثر انگیزی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں، دوسرے عمومی طلباء تنظیموں کے برعکس اس طلبہ تنظیم کو کسی پارٹی نے جنم نہیں دیا بلکہ اس طلبہ تنظیم کے کوکھ سے کئی پارٹیوں حتیٰ کے مسلح تنظیموں تک کی جنم ہوئی ہے۔ اس لیئے بی ایس او کو بلوچ سیاست میں ” مادر تنظیم ” کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اس تنظیم کے سربراہ ہونے کے معنی بلوچ سیاست اور بلوچ سماج میں بہت معنی اور اثر رکھتی ہے۔ زاہد بلوچ اسی تنظیم کے جمہوری طور پر منتخب چیئرمین تھے، وہ جانتے تھے کہ اتنی بڑی ذمہ داری کی قیمت بھی اتنی ہی بھاری چکانی پڑے گی، جس کا اشارہ وہ بہت پہلے دے چکے تھے۔ آج سے چار سال پہلے 18 مارچ 2014 کو زاہد بلوچ تنظیمی دورے پر بلوچستان کے شہر کوئٹہ جاتے ہیں اور وہیں سے خفیہ اداروں اور پاکستانی نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور کے ہاتھوں عینی شاھدین کے سامنے اغواء ہوتے ہیں اور آج چار سال گذرنے کے باوجود وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ اس واقعے کے عینی شاھد کے طور پر اس وقت کے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے وائس چیئرپرسن اور موجودہ چیئرپرسن کریمہ بلوچ بیان دے چکے ہیں کہ زاہد بلوچ کو انکی آنکھوں کے سامنے اٹھایا گیا، جس کے بعد وہ کوئٹہ کے سریاب تھانے ایف آئی آر درج کرنے گئی لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ ” گذشتہ نو سالوں سے خاص طور پر بی ایس او آزاد کے سابق سینئر وائس چیئرمین ذاکر مجید کے اغواء کے بعد سے پاکستان خفیہ ادارے اس بات پر کمربستہ ہیں کہ ہر حال میں بی ایس او آزاد کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے، ہمارے مرکزی رہنما تو درکنار ہمارے عام کارکنوں تک کو نہیں چھوڑا جارہا اور انہیں مار دیا جاتا ہے، چاکر بلوچ، مجید بلوچ اور بالاچ بلوچ کی عمر تو بمشکل 12 سے 14 کے درمیان تھی، انہیں صرف بی ایس او آزاد کے کارکن ہونے کی پاداش میں اذیت ناک تشدد کرکے شہید کیا گیا، لیکن ان حالات کے باوجود زاہد بلوچ شہر شہر اور گاوں گاوں جاکر کارکنوں اور لوگوں سے ملتے تھے اور تنظیمی کام کرتے تھے۔” زاہد بلوچ کے قریبی دوست اور بی ایس او آزاد کے ایک سابق مرکزی رہنما نے دی بلوچستان پوسٹ سے زاہد بلوچ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ آخر وجہ کیا تھی کہ زاہد بلوچ اتنا خطرہ مول کر تنظیمی دوروں پر نکلتا؟ تو اس نے کہا ” زاہد یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ چاہے حالات جتنے بھی ناگفتہ ہوں، پھر بھی آزادی کیلئے پر امن طریقے سے جدوجہد کی جاسکتی ہے، وہ باور کرانا چاہتا تھا کہ آزادی مانگنے کیلئے ضروری نہیں ہے کہ صرف بندوق اٹھائی جائے بلکہ پر امن رہ کر قلم و زبان اور سیاسی طریقوں سے بھی یہ لڑائی لڑی جاسکتی ہے، وہ بلوچستان کے سیاسی میدانوں کو ویران دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ انکو بندوق نا اٹھانے کی سزا ملی ہے، اگر وہ بندوق اٹھاتے تو اس وقت وہ زندہ ہوتے یا پھر شہیدوں میں گنے جاتے لیکن اب وہ نا زندہ ہیں نا ہی مردہ” زاہد بلوچ کے اغواء کے بعد متعدد انسانی حقوق کے اداروں نے اسکے اغواء کا نوٹس لیا اور پاکستان پر دباو ڈالا کے وہ زاہد بلوچ کی فوری رہائی یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے ایشین ہیومین رائٹس کمیشن نے 25 اپریل 2014 کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر زاہد بلوچ کے اغواء کا الزام لگایا اور رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح ایشین لیگل ریسورس سینٹر نے 16 جون 2014 کو زاہد بلوچ کے جبری گمشدگی کا نوٹس لیکر ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں زاہد بلوچ کے اغواء کا ذمہ دار خفیہ اداروں کو ٹہرایا گیا اور زاہد بلوچ کے رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 19 مئی 2014 کو بیک وقت دو زبانوں انگریزی اور فرانسیسی میں نوٹس جاری کرتے ہوئے، پاکستانی حکام سے زاہد بلوچ کے رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جس میں فرنٹیئر کور پر زاہد بلوچ کو اغواء کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ 29 اپریل 2014 کو ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرپرسن زہرہ یوسف نے بھی پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے زاہد بلوچ کے رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور خفیہ اداروں کو مورود الزام ٹہرایا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سے علاقائی اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے زاہد بلوچ کے رہائی کیلئے کوششیں کرتے رہے لیکن کچھ بارآور ثابت نہیں ہوا۔ گذشتہ چار سالوں سے مسلسل زاہد بلوچ کے رہائی کیلئے پرامن احتجاج بلوچستان و کراچی سمیت دنیا کے کونے کونے میں وقتاً فوقتاً جاری ہے۔ ان احتجاوں میں سب سے قابلِ ذکر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی کمیٹی کے رکن لطیف جوھر بلوچ کی 46 روزہ بھوک ہڑتال ہے۔ انہوں نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کرکے احتجاج کا آغاز کردیا لیکن 46 روز گذرنے کے بعد جب انکی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی اور وہ قریب المرگ ہورہے تھے تو بہت سے انسانی حقوق کے اداروں نے ملکر یقین دہانی کرائی کے وہ اس بات کو ممکن بنائیں گے کہ زاہد بلوچ جلد از جلد چھوٹ جائیں، جس کے بعد انہوں نے احتجاج ختم کردیا تھا۔ اس حوالے سے دی بلوچستان پوسٹ نے لطیف جوھر بلوچ سے گفتگو کی اور دریافت کیا کہ بھوک ہڑتال کے بعد ان اداروں کی یقین دہانیوں کے بابت ابتک کیا پیشرفت ہوئی ہے تو انہوں نے کہا ” اُن یقین دہانیوں سے کچھ نہیں ہوا، ایچ آر سی پی نے یقین دہانی کرائی تھی، انکی تو خود اپنی اتنی بڑی رسائی نہیں ہے لیکن اسکے باوجود انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ ہم نے ایک دو بار درخواست کی تھی کہ ہمیں اقوام متحدہ تک جانے کیلئے مدد کریں لیکن وہ یہ بھی نہ کرسکے، تو بعد میں ہم اپنی مدد آپ کے تحت، رابطے پیدا کرکے جنیوا تک گئے اور زاہد سمیت باقی اغواہ شدہ افراد کے مقدمات وہاں پیش کرنے میں کامیاب ہوئے، اسی طرح یو این ورکنگ گروپ نے تمام کیسز کے متعلق پاکستان سے پوچھ کر ہمیں بتایا کہ پاکستان کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔” زاہد بلوچ ایک طلبہ رہنما تھے، وہ قلم و کتاب اور اظہارِ رائے کے ذریعے اپنی جدوجہد کرنا چاہتے تھے، گوکہ آپ اسکے رائے سے اختلاف رکھ سکتے ہیں، لیکن اسکا طریقہ پرامن تھا، جب پر امن طریقوں پر قدغن لگائی جائے گی پھر نوجوانوں کے پاس بندوق کا سہارہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ 18 مارچ 2018 کو زاھد بلوچ کے اغواء کو چار سال پورے ہورہے ہیں اور ان چار سالوں میں بلوچستان میں جاری جنگ کم ہونے کے بجائے محض شدت اختیار کرچکا ہے، یہ بات یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ زاھد بلوچ جیسے طالبعلم رہنماوں کے خاتمے سے آپ سیاسی میدان ضروری ویران کردیں گے لیکن جنگی میدان مزید سجیں گے۔ #SaveZahidBaloch

Balochistan: The 21st National Council Session is continued.

Balochistan: The 21st National Council Session is continued.

The 21st National Council Session of Baloch Students Organization Azad is continued. Defeat the enemy in political, social and academic field: Karima Baloch

August 1, 2018

The 21st National Council Session of Baloch Students Organization Azad (BSO Azad), on the name of the Central Secretary General Ezzat Baloch, Information Secretary Lakhmir Baloch and the Prisoners of Independence, is continued under the presidency of Central Senior Voice Chairman Kamal Baloch.

On the first day of the Council Session, the inaugural speech of chairman, organizational report and constitutional formation were discussed among the agendas of the first day. The 21st National Council Session began with two minutes silence in the memory of Martyrs of Balochistan and national anthem, “Mah Chukkeen Balochani.”

Chairperson Karima Baloch in her message for the 21st National Council Session said that she congratulates all members, whether present in the session or not. In her message, she added that “the national trustworthiness, the BSO, which is associated with our future, that is the guarantor of our coming generation, which has been mobilized and organized by you in this sensitive era by tolerating much difficulty, and today we are transferring the BSO to the new generation as our leaders had handed over it to us. We are well aware of one thing that we faced every difficulty, we tolerated every discomfort and will have to face such hardships in future too because the shadow of the dark night still exists. Our hundreds of colleagues have been martyred finishing this dark night, several have been/are the victim of the state tyranny and are tolerating hardships in the torture cells. Zakir Majeed, Zahid Baloch, Ezzat, Nodan, Lakhmir, Cheragh and several other colleagues who are illegally detained in torture cells and couldn’t participate in this session are the victim of state barbarism, but their tolerance and hope will surely encourage our colleagues. Despite facing all these difficulties and passing through this difficult process, we should not forget that our colleagues tolerated all these hardships that our nation would see a better future where we live our life with equality, justice and freedom. Today the state is implementing the policy to harm us with its death squads and religious groups, but we shouldn’t forget that if we would be weak, then its main reason will be our internal differences, there is no such other power to weaken us”.

Chairperson said that the fascist powers are emerging in world once again and the world to moving towards devastation once again. As a political activist, it is our responsibility that we should be aware of the Baloch politics and the world politics, analyze them on true basis and formulate strategies for our national independence. We see that the global system of United Nation, which came into existence after the defeat of the fascist powers in World War II (WWII), is inhaling its last breaths, and world is moving towards a new system. Those negative powers which were defeated in WWII who created the trend of subjugation of other nations by fascism, racism and power, those existed in the form of Japan and Germany, that trend is reviving once again. Due to the weakness of the global system, those ideologies and apolitical behaviors which believe in the use of power savagely, are distorting the democratic values.               

We shouldn’t be the victim of the attractive slogan of the fascism which is based on the national superiority and inferiority of other nations, but we should try to understand the existing clear difference between the nationalism and fascism. We need to learn from the history that whenever the fascist powers emerged, they faced defeat because of their inhuman role and negative ideologies. We should not commit any mistake understating the thin line which exists between nationalism and fascism. The ideology of our national independence is based over the freedom of every individual; their democratic rights, right of expression and the right to select their better future.

Chairperson further said that Pakistan was established on the basis of the religious extremism and racism which couldn’t been surfaced due to adaption of different name, but today the struggle of Baloch nationalism exposed the dirty face of Pakistan, and today it has come on surface without any cover, and is busy in the struggle for the promotion of the religious fascism through its state elections. Today Paksitan in its internal politics is giving important portfolios and authorities using the democratic-cover, and the Pakistan Army and ISI (Inter-Services Intelligence) are involved in all these feats. To finish credentials of the democracy in Pakistan and in world, for the first time, the democracy itself is being used to finish it. On the name of so-called democracy, Pakistan is prolonging its occupation by using barbarism over the Baloch nation and considering its barbarism legitimate. We should try to understand the real democratic system and undemocratic system.

Wherever in the world the fascist powers emerged, they used national interests as a justification for it, but the religious fascism is emerging in Paksitan and the Pakistan Army is its mentor, and the Baloch nation is on top of the list as its significant victim. The fascism which is emerging in this region under the mentorship of  Pakistan Army will put sever impacts on Baloch nation, and then the entire world will be under its effects, because it is impossible for the world to save itself from the effects of the religious fascism.

Karima Baloch said to the activists of BSO Azad that as the political activists we should understand the difference between fascism and nationalism. She added that we should be very attentive that the national movement won’t be harm due to lake of knowledge and our emotions. Today those individuals who are the part of the Baloch movement cannot tolerate the criticism over their weaknesses by using national interests as a safety card and an excuse; such acts will harm our political culture. We should oppose the negative traditions of this system in our political circles and institutions and should struggle to reach to their roots. We should oppose all such traditions which try to divert the direction of our struggle.  We should criticize dictatorship and apolitical behaviors. We need to struggle to put the basis of nationalism on democratic traditions and freedom. Our political culture should be the base of free Balochistan.

If we want freedom from the “Mullah-Military Theocratic Politics” of Pakistan, then despite hate, we have to defeat the enemy in political, social and academic fields. If we will be higher in the political and human moral values than Pakistan, then that day will be the day of our freedom. The day when we step up towards unity defeating our internal differences, then that will be our day of freedom. The act of freedom is generated inwardly and Pakistan is a country which does not have the human moral values. If we copy Pakistan and try to crush the moral values, then there will be no difference between us and the occupier, and such freedom is incomplete, but will be considered as half freedom. The Baloch political activists and students, despite being the victim of verbal slogans, should keep struggling with consistency for the establishment of an independent Baloch state.

Question, criticism, political discourse, promotion of political and culture of gain of knowledge are our responsibility, and it is also our responsibility that we should struggle for the free Baloch state in Balochistan and at foreign levels. We should try to tie our interests with the independent world. We should not let such traditions in our institutions which harm our intuitions, our political culture and seize the growth of our talents. Today the colleagues of BSO Azad should know that the sacrifices of the several colleagues are included in keeping the BSO Azad active in its independent status. We have always loved this institution greater than our lives and our families, and I hope that our coming colleagues will work on the same philosophy and will make the struggle to reach its destination. BSO Azad’s colleagues will not let anyone interfere in the organizational affairs and will not permit anyone to create obstacles in the process of decision making. I hope that BSO Azad leaders will bring BSO in a different manner in the Baloch society which will be the real spokesperson of the Baloch people in Baloch society, and will perform every act on the basis of knowledge and consciousness. We have lost many colleges in this difficult journey, their space cannot be filled, but every youth of BSO Azad will bring this struggle a step forward and will be the real heir of the ideology and act of their colleagues.

Chairperson further said that the membership of BSO will always be an honor for me and I will always feel proud to be a member of BSO because I got much to learn from this platform. The experience and knowledge which I received from the platform of BSO is the rare gift of my life. The education which I received during the 12 year journey of BSO Azad will always lead me.

In the last of her speech, she said that “I am stepping down from my designation and membership (with the end of tenure), but I say with pride that BSO is my identity and my life will be incomplete without it. The colleagues of BSO who are present in this session are the hope of my future. I will always be with my colleges in every time of hardship.

On the first day of the 21st National Council Session, a discussion was held on the organizational report and constitutional formation after the inaugural speech of the chairperson. The debate on the agenda of constitutional formation will continue on the second day as it couldn’t be completed in the first day of session.

 

بلوچ طلباء جدید تعلیم سے خود کو آراستہ کرکے قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے حصے کا کردار اداکریں ۔کمال بلوچ

بلوچ طلباء جدید تعلیم سے خود کو آراستہ کرکے قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے حصے کا کردار اداکریں ۔کمال بلوچ

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی اکیسواں قومی کونسل سیشن بنام مرکزی سیکریٹری جنرل عزت بلوچ، انفارمیشن سیکریٹری لکمیر بلوچ اور اسیران آزادی زیر صدرات مرکزی سینئر وائس چیئرمین کمال بلوچ جاری۔

تفصیلات کے مطابق آج اکیسویں قومی کونسل سیشن کے دوسرے روز آئین سازی اور تنظیمی امور کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔ آئین سازی کے ایجنڈے پر بحث کے بعد تنظیمی امور کے ایجنڈے میں سینئر وائس چیئرمین کمال بلوچ اور کونسلران نے سیر حاصل بحث کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے تمام کارکنان مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے انہتائی سخت حالات میں کامیاب قومی کونسل سیشن منعقد کرنے کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلوچ سماج میں واحد آرگنائزیشن ہے جس نے تمام تر مشکلات کے باوجود پچاس سال کا عرصہ مکمل کرکے جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے تمام تر کمزریوں کے باوجود ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ بی ایس او بلوچ سماج میں سیاسی و سماجی تبدیلوں میں اہم کردار رہا ہے ۔ بی ایس او اپنے ترقی پسندانہ سوچ کے باعث ہمیشہ انقلاب مخالف قوتوں کے لئے درد سر رہا ہے۔ریاست، سردار اور مفاد پرست قوتوں کی ہمیشہ کوشش تھی کہ بلوچ نوجوانوں کی سیاسی قوت بی ایس او کو تقسیم در تقسیم کا شکار کیا جائے اور یہ قوتیں اپنے کوششوں میں کامیاب بھی ہوئے لیکن بی ایس او کے نظریاتی سنگتوں نے اس کاروان کو جاری رکھا اور آج تک رواں دواں ہے۔ نوآبادیاتی دور میں مظلوم قوم میں سیاسی شعور کو پروان چڑھانے میں طلبا ء اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچ سماج میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے جس جدوجہد کا آغاز کیا آج وہ وسعت اختیار کرکے بلوچ سماج کو مکمل گھیر چکاہے ۔ بلوچ نوجوانوں کی جو سیاسی تربیت بی ایس او نے کی وہ قابل ستائش ہے آج بلوچستان، پاکستان اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں موجود بلوچ طلبا و طالبات کی ترقی پسندانہ سوچ بی ایس او کی مرہون منت ہے لیکن اس کے باوجود ہم اپنے غلطی اور کمزوریوں کو تسلیم کرنے میں ہار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ ریاست نے ہمارے آنے والے نسلوں میں بحیثیت قوم کے احساسات کو ختم کرنے کے لیے نوآبادیاتی نظام تعلیم کو بلوچستان میں رائج کیا۔ نوآبادیاتی نظام تعلیم کے ذریعے بلوچ قومی شناخت اور تہذیب کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، ترقی پسندانہ سوچ کے حامل بلوچ سماج میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دیا۔ بلوچستان میں اسکول سسٹم کو تباہ کرکے اس کی جگہ مدرسہ کلچر کو روائج دیا، اسلام اور اسلامی تعلیمات کے نام پر بلوچستان میں جہادی و انتہاپسندانہ کلچر کو عام کیا گیا۔ آج بلوچ سماج انتہائی حساس مقام پر موجود ہے جہاں ایک طرف انتہاء پسندانہ جہادی سوچ کو فروغ دیا جارہا ہے تو دوسری طرف حقیقی طلبا سیاست کو ممنوع قرار دیا گیا اور آج بلوچستان کے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنا اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، آج بلوچ طلباء اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ بلوچستان کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ بلوچستان یونیورسٹی فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بلوچستان میں ریاست کی ہمیشہ سے کوشش تھی اور ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو ذہنی الجھنوں کا شکار بنایا جائے، تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول قائم کرنا، اپنے گماشتوں کے ذریعے نوجوانوں کو لالچی بنانا، چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں الجھانا تاکہ نوجوان خوف، لالچ اور چھوٹے چھوٹے خواہشوں کے درمیان پسے رہے اور حقیقی طلبا سیاست کے لیے زمین تنگ کیا جائے۔

ا نہوں نے مزید کہا کہ بی ایس او آزاد کے کارکنان اپنی تمام تر توجہ حصول تعلیم پرمرکوز رکھیں اور حقیقی طلبا سیاست کے لیے ماحول سازگار بنائے۔ طلبا سیاست کے نام پر طلبا کو جس طرح کمرہ، سیورئج اور پانی کے مسئلوں میں الجھایا گیا اسے انقلابی بنیادوں پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس او آزاد کے کارکنان بلوچ طلبا و طالبات تعلیمی اداروں میں تربیتی پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں نوجوانوں کو زنگ آلود ماحول سے نکال کر مثبت تربیتی ماحول فراہم کریں۔ بلوچ طلبا و طالبات خود کو خوف، لالچ اور مفاد پرستانہ ماحول سے آزاد کرنے کے لیے دنیا کے نوآبادیاتی دور کا مطالعہ کریں بلوچ طلبا و طالبات ہمارے سماج کے سرمایہ ہیں، بلوچ سماج کا مستقبل کا ہمارے طلبا و طالبات سے وابستہ ہے اب فیصلہ طلبا و طالبات کے ہاتھوں میں ہے وہ مفاد پرستانہ ماحول میں خوف کے مارے معمولی آسائشوں کے زیر سایہ زندگی بسر کرکے قومی مستقبل کو تاریک کرنے کا جرم اپنے نام کریں گے یا ریاست کے پیدا کردہ مفاد پرستانہ ماحول سے خود کو آزاد کرکے دنیا کے جدید تعلیم سے خود کو آراستہ کرکے قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے حصے کا کردار ادا کرکے ایک ترقی یافتہ بلوچ سماج تشکیل دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس او آزاد کے کارکنان جذباتیت، رومانیت اور خوش فہمی کی سیاست سے خود کو دور رکھیں۔جذبات ، رومانیت اور خوش فہمی سیاست کے لیے زیر قاتل شئے ہیں جو ماضی میں ہمارے سیاسی قوتوں کے زوال کاسبب بنے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے کارکنان اپنے ماضی کی وہ تمام کمزوریاں جو بلوچ قومی تحریک کے لیے نقصان کے باعث بنے ہیں ان کا گہرا مطالعہ کرکے اپنے مستقبل کے طریقہ کار کا تعین کریں۔ بی ایس او آزاد کے کارکنان سخت سے سخت تر حالات میں بھی جذباتیت سے بالاترہوکر معروضی حقائق کے مطابق جدوجہد کریں۔ سیاسی کارکنان کے لیے محدود ذہنیت ناقابل تلافی نقصانات کا باعث ہوتا ہے بی ایس او آزاد کے کارکنان اپنی سیاسی سوچ کو بے انتہا وسعت دیں اپنے ماحول میں مایوسی، عدم برداشت اور جلدبازی جیسے رویوں کو جگہ بنانے نہ دیں، اپنے سرکل کو حوصلہ مندانہ، اعلیٰ تربیتی اور برداشت سے بھر پور بنائے۔ ہمارے کارکنان اپنے تربیتی سرکل میں بلوچ طلبا وطالبات کے قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ بی ایس او آزاد کے صفوں سے تربیت پانے والے بلوچ طلبا و طالبات بلوچ سیاست اور سماج میں قائدانہ کردار ادا کرسکے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی اکیسواں قومی کونسل سیشن کے دوسرے روز کے اختتام تک آئین سازی اور تنظیمی امور کے ایجنڈے مکمل ہونے کے بعد کل تین اگست بروز جمعہ اکیسویں قومی کونسل سیشن کے تیسرے روز تنقید برائے تعمیر، عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے گے۔

 

اکیسواں قومی کونسل سیشن کے پہلے روز عہدے اور رکنیت سے فارغ ہورہی ہوں لیکن بی ایس او میری پہچان رہیگی – کریمہ بلوچ

عہدے اور رکنیت سے فارغ ہورہی ہوں لیکن بی ایس او میری پہچان رہیگی – کریمہ بلوچ

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی اکیسواں قومی کونسل سیشن بنام مرکزی سیکریٹری جنرل عزت بلوچ، انفارمیشن سیکریٹری لکمیر بلوچ اور اسیران آزادی زیر صدرات مرکزی سینئر وائس چیئرمین کمال بلوچ جاری

آج اکیسواں قومی کونسل سیشن کے پہلے روز چیئرمین کا افتتاحی خطاب، تنظیمی رپورٹ اور آئین سازی کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔ اکیسواں قومی کونسل سیشن کا آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں خاموشی اور قومی ترانہ ’’ماہ چکیں بلوچانی‘‘ سے کیا گیا۔

چیئرپرسن کریمہ بلوچ نے اکیسواں قومی کونسل سیشن کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ میں اس اجلاس میں موجود اور غیر موجود تمام ممبران کو مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ آپ وہ قومی امانت ہو جو ہمارے مستقبل سے جڑے ہوئے ہو جو ہمارے آنے والے نسل کے لئے امید و مستقبل کی ضمانت ہو اس نازک دور میں آپ نے جو تکلیفیں برداشت کرکے تنظیم کو متحرک و منظم کیا اور آج ہم بی ایس او کو نئی نسل کو منتقل کررہے ہیں جس طرح ہمارے لیڈروں نے بی ایس او کو ہمارے حوالے کیا ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ہم نے ہر طرح کی مشکلات کا مقابلہ کیا ہم نے ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی دشواریوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا کیونکہ اندھیری رات کا سایہ اب بھی ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے اس اندھیری رات کو ختم کرنے کے لئے ہمارے سینکڑوں ساتھی شہید ہوئے کئی ساتھی ریاستی عتاب کا شکار ہوئے جو اذیت گاہوں میں تکلیفیں برداشت کررہیے ہیں جن میں ذاکر مجید، زاہد بلوچ، عزت، نودان، لکمیر، چراغ اور دوسرے کئی ساتھی جو ٹارچر سیلوں میں پابند سلاسل ہونے کی وجہ سے اس اجلاس میں موجود نہیں ہے لیکن انکی برداشت، صبر اور امید ضرور ہمارے ساتھیوں کے حوصلوں کو بلند کریگی۔

انہوں نے کہا ان تمام مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے اور اس مشکل عمل سے گزرنے کے باوجود ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ ہمارے ساتھیوں نے یہ تکالیف اس لئے برداشت کی کہ ہماری قوم ایک بہتر مستقبل دیکھ سکیں اور جہاں ہم برابری انصاف اور آزادی کی بنیاد پر اپنی زندگی بسر کرسکیں۔ آج ریاست اپنے ڈیتھ اسکواڈ اور مذہبی گروہوں کے ساتھ ملکر ہمیں نقصان دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن ہمیں یہ بات ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اگر ہم کمزور ہوئے تو اس کی اہم وجہ ہمارے اندرونی اختلافات ہوں گے اور ایسی کوئی طاقت نہیں جو ہمیں کمزور کرسکے۔

چئیرپرسن نے کہا کہ دنیا میں ایک مرتبہ پھر فاشسٹ قوتیں سر اٹھارہی ہیں اور دنیا ایک مرتبہ پھر تباہی و بربادی کی جانب گامزن ہے بحیثیت ایک سیاسی جہد کار ہماری ذمہ داری بنتی ہیں کہ ہم بلوچ سیاست اور دنیا کی سیاست سے واقف ہو کر صحیح بنیادوں پر تجزیہ کرکے اپنے قومی آزادی کے لئے حکمت عملی ترتیب دیں ہم دیکھیں کہ دوسری عالمی جنگ میں فاشسٹ قوتوں کو شکست کے بعد اقوام متحدہ کی جدوجہد سے جو گلوبل سسٹم وجود میں آیا تھا آج وہ سسٹم آخری سانسیں لے رہا ہے اور دنیا نئی تبدیلی کی جانب محو سفر ہے وہ منفی طاقتیں جو دوسری جنگ عظیم میں شکست کھا گئی تھی جو فاشزم، نسل پرستی اور بزور طاقت دوسری قوموں پر قبضہ کرنے کے رحجان جو جاپان اور جرمنی کی شکل میں موجود تھی وہ رحجان ایک مرتبہ پھر سر اٹھارہی ہیں۔ گلوبل سسٹم کے کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نظریات اور غیر سیاسی رویے جو طاقت کے وحشیانہ استعمال پر یقین رکھتی ہیں آج دنیا کے جمہوری روایات کو مسخ کرنے کے در پے ہے۔

فاشزم کا دلکش نعرہ جو قومی برتری اور دیگر قوموں کے کمتری کی بنیاد پر قائم ہے ہمیں خود کو اس کا شکار نہیں بنانا چاہیے بلکہ نیشنلزم اور فاشزم کے درمیان موجود واضح فرق کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ فاشسٹ قوتیں جب بھی منظر پر آئیں انکے غیر انسانی کردار اور منفی نظریہ کی وجہ سے انہیں شکست ہوئی ہمیں وہ باریک لکیر جو نیشنلزم اور فاشزم کے درمیان موجود ہے اس کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے ہماری قومی آزادی کا نظریہ ہمارے قوم کے ہر فرد کی آزادی کی بنیاد پر ہے ان کا جمہوری حق،اظہار رائے کا حق اور بہتر مستقبل کے انتخاب کا حق شامل ہیں۔

چئیرپرسن نے مزید کہا کہ پاکستان کا قیام ہی مذہب پرستی اور نسل پرستی کی بنیاد پر ہوا ہے جو مختلف نام اختیار کرتے ہوئے کبھی منظر عام پر نہیں آیا لیکن آج بلوچ نیشنلزم کی جدوجہد نے پاکستان کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے اور آج وہ بغیر پردے کے منظر عام پر آچُکا ہے اپنے ریاستی الیکشن کے ذریعے مذہبی فاشزم کو پروان چڑھانے کی جہد میں مصروف عمل ہے آج پاکستان ملاؤں پر جمہوریت کا ٹھپہ لگا کر انہیں اپنی ملکی سیاست میں اہم اختیارات تقویض کررہا ہے ان تمام کارناموں کے پیچھے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی ملوث ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے اجزاء کو مکمل ختم کرنے کے لئے اور دنیا میں پہلی بار جمہوریت کے نام پر جمہوریت کو ختم کیا جارہا ہے نام نہاد جمہوریت کے نام پر پاکستان گزشستہ کئی عرصوں سے اپنے قبضے کو طول دینے کے لئے بلوچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر انکو جائز قرار دے رہا ہے۔ ہم اس حقیقی جمہوری نظام اور غیر حقیقی جمہوری نظام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
دنیا میں جہاں کئی بھی فاشسٹ قوتوں نے سر اٹھایا تو قومی مفادات کو جواز بنا کر اٹھایا لیکن پاکستان میں فاشزم مذہبی بنیادوں پر سر اٹھارہا ہے جس کی سرپرست پاکستانی فوج ہے اور اس فاشزم کا اہم شکار بلوچ قوم ہے اس خطے میں پاکستانی فوج کی سر پرستی میں جو مذہبی فاشزم سر اٹھارہا ہے اس سے بلوچ قوم سخت متاثر ہوگا اور اسکے بعد پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائیگی کیونکہ مذہبی فاشزم کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنا دنیا کے لئے ناگزیر ہے۔
بی ایس او آزاد کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کریمہ بلوچ نے کہا کہ بحیثیت سیاسی جہد کار ہم فاشزم اور نیشنلزم کے فرق کو سمجھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کم علمی اور جذبات میں بہہ کر قومی تحریک کو نقصان سے دوچار کردیں۔ آج بلوچ تحریک میں شامل افراد قومی مفادات کے نام پر اپنی کمزوریوں پر ہونے والی تنقید کو برداشت نہیں کرسکتے اس طرح کا عمل ہمارے سیاسی کلچر کو نقصان دینے کے مترادف ہوگا ہمیں اپنے سیاسی سرکلز اور اداروں کے اندر اس نظام کے منفی روایات کی مخالفت کرنی چاہئیے اور انکے جڑ تک پہنچنے کی جدوجہد کرنی چاہئیے۔ ہمیں اپنے اداروں کے اندر ایسی روایات کی مخالفت کرنی چاہئیے جو ہماری جدوجہد کے رخ کو موڑنے کی کوشش کریں۔آمریت اور غیر سیاسی رویوں کے خلاف تنقید کرنا چاہئیے ہمیں اپنی نیشنلزم کی بنیاد جمہوری روایات اور آزادی پر رکھنے کی کوشش کو فروغ دینے کی جہد کرنے کی ضرورت ہے ہمارا سیاسی کلچر آزاد بلوچستان کے بنیاد ہونا چاہئیے۔

اگر ہم پاکستان کے ملا ملٹری تھیوکریٹک سیاست سے آزادی چاہتے ہیں تو ہمیں نفرت کرنے کے بجائے دشمن کو سیاسی سماجی اور تعلیمی میدان میں شکست دینا ہوگی اگر ہم سیاسی، شعوری اور انسانی اخلاقی اقدار کے حوالے پاکستان سے آگے بڑھ گئے تو یہ دن ہماری آزادی کا دن ہوگا جس دن ہم نے اپنے آپسی اختلاف کو پس پشت ڈال کر یکجہتی کی طرف قدم بڑھایا تو یہ ہماری آزادی ہوگی۔آزادی کا عمل انسان کے باطن سے جنم لیتا ہے اور پاکستان انسانی اخلاقی اقدار سے گرا ہوا ملک ہے اور اگر ہم نے پاکستان کی عکس بندی کرکے اخلاقی اقدار کو پاؤں تلے روندنے کی کوشش کی تو ہمارے اور قبضہ گیر کے روئیے میں کچھ فرق نہیں ہوگا اور ایسی آزادی مکمل آزادی نہیں بلکہ نیم آزادی تصور ہوگی۔ ایک بہتر انسانی معاشرے کی تشکیل کے لئے بلوچ سیاسی جہد کاروں اور طالب علموں کو لفاظی نعروں کا شکار ہونے کے بجائے مستقل مزاج جہد کار کی حیثیت سے ایک آزاد بلوچ ریاست کی بنیاد بہتر انداز میں کرنی چاہیے ۔

انہوں نے کہا سوال تنقید سیاسی بحث و مباحثہ سیاسی و علمی کلچر کو پروان چڑھانے کی جدوجہد ہماری ذمہ داری ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آزاد بلوچ ریاست کے لئے ملکی و غیر ملکی سطح پر جدوجہد کریں ہمیں اپنے مفادات کو آزاد دنیا سے جوڑے رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اپنے ادارے کے اندر کسی ایسی روایات کو پنپنے نہیں دینا چاہیے جو ہمارے ادارے ہمارے سیاسی کلچر اور ہمارے علم و شعور کو نقصان سے دو چار کرکے اور ہماری صلاحیتوں کو پروان چڑھنے نہ دے۔ آج بی ایس او آزاد کے دوستوں کو جان لینا چاہیے کہ بی ایس او کو آزاد حیثیت میں فعال کرنے کے لئے کئی ساتھیوں کی قربانیاں شامل ہیں اس ادارے کو ہم نے اپنی جان اور خاندان سے ہمیشہ عزیز جانا اور میں امید کرتی ہو ں کہ ہمارے آنے والے ساتھی اسی فلسفے پر کار بند ہو کر اپنی جدوجہد کو منزل پر پہنچائیں گے۔ بی ایس او آزاد کے ساتھی اپنے ادارہ جاتی معاملات میں کسی کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دینگے کسی کو یہ اختیارات نہیں دینگے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں رکاوٹ ڈالے۔ میں امید کرتی ہوں کہ بی ایس او آزاد کے لیڈران بی ایس او کو بلوچ سماج میں ایک الگ انداز میں سامنے لائینگے جو بلوچ معاشرے میں بلوچ عوام کی حقیقی ترجمان ہوگی اپنا ہر عمل علم و شعور کی بنیاد پر سر انجام دینگے اس کھٹن اور مشکل سفر میں کئی ساتھی بچھڑ گئے جن کے خلاء کو پر تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بی ایس او آزاد کا ہر نوجوان اپنی اپنی بساط کے مطابق اس جدوجہد کو آگے بڑھائے گا اور اپنے ساتھیوں کے فکر و عمل کا حقیقی وارث ہوگا۔

چئیرپرسن نے مزید کہا کہ بی ایس او کا ممبر شپ میرے لئے ہمیشہ اعزاز کا باعث ہوگا اور میں بی ایس او کی ممبر ہونے پر ہمیشہ فخر محسوس کرونگی کیونکہ مجھے اس پلیٹ فارم سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جو تجربہ اور شعور بی ایس او کے پلیٹ فارم سے مجھے حاصل ہوا وہ میری زندگی کا نایاب ترین تحفہ ہے بی ایس او آزاد کے اس بارہ سالہ سفر میں جو تربیت ہوئی وہ ہمیشہ میری رہنمائی کریں گی۔

اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ میں آج اپنے عہدے اور رکنیت سے فارغ تو ہورہی ہوں لیکن میں فخر سے کہتی ہو ں کہ بی ایس او میری پہچان ہے اور میری زندگی کا ایسا حصہ ہے جس سے الگ رہ کر میری زندگی نا مکمل ہے اس اجلاس میں موجود بی ایس او کے ساتھی میرے مستقبل کی امید ہیں میں ہر وقت اور ہر مشکل ترین حالات جو بی ایس او پر آئیں گے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہونگی۔

اکیسواں قومی کونسل سیشن کے پہلے روز چیئرمین کا افتتاحی خطاب کے بعد تنظیمی رپورٹ اور آئین سازی کے ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث کیا گیا پہلے روز اختتام تک آئین سازی کا ایجنڈہ مکمل نہ ہونے کے سبب دوسرے روز آئین سازی کے ایجنڈے پر بحث جاری رہے گا۔


 

بلوچستان: معروضی حقائق اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے پمفلٹ جاری – بی ایس او آزاد

بلوچستان: معروضی حقائق اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے پمفلٹ جاری – بی ایس او آزاد

بی ایس او آزاس کی جانب سے ”پاکستانی انتخابات ،معروضی حقائق اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے جاری کردہ پمفلٹ میں بلوچ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ قومی انتخابات کسی بھی آزاد ریاست کے عوام کے مستقبل کے فیصلے کے تعین کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے آزاد ریاستوں کے شہری اپنے ملک کے قومی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں تاکہ اپنے مستقبل کے حکمرانوں کو منتخب کرکے اپنی زندگیاں محفوظ بنائیں اور اپنے آنے والے مستقبل کو ایک خوشحال اور پرامن ماحول میسر کیا جاسکیں۔ لیکن مقبوضہ خطوں میں حالات اس کے برعکس ہوتے ہیں وہاں قابض قوت الیکشن کے نام پر اپنے نمائندے مقرر کرتے ہیں جو مقبوضہ خطے میں قابض کی مفادات کا دفاع کرسکے ۔یقیناًاس طرح کے نام نہاد انتخابات مقبوضہ ریاستوں کے عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے ۔ اگر مقبوضہ و غلام قوم کے دکھوں کا مداوا انتخابات کرتے تو الجزائر کے عوام 80 فیصد پارلیمانی نمائندگی ملنے کے باوجود پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے انکار کر دیتے ہیں اور قومی آزادی کی جدوجہد کو شعوری بنیادوں پر رواں رکھ کر اپنی قومی آزادی حاصل کرتے ہیں ۔

پمفلٹ میں مزید کہا گیا گہ بلوچ سرزمین میں پاکستانی الیکشن سے تبدیلی کے جو دعوے کیے جارہے ہیں ، حقائق کا مطالعہ کرنے کے لیے ماضی قریب و بعید پر طائرانہ نظرڈالنے کی ضرورت ہے ۔ الیکشن کا انعقاد اور عوام کے ووٹ سے حکومت کا چناؤ خوبصورت جمہوری عمل ہے لیکن پاکستان میں آج تک عوام کی حکومت تسلیم نہیں کی گئی ہے ان ستر سالوں میں بلواسطہ یا بلاواسطہ فوجی آمریت نے حکومت کی ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام دیگر علاقوں کے نسبت مقبوضہ بلوچستان کی صورتحال ابتداء سے مختلف رہی ہے۔بلوچستان میں پاکستان کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے ستر سالوں میں وہ لوگ منتخب کیے گئے جو براہ راست بلوچ قومی شناخت کو پاکستانی فیڈریشن میں ضم کرنے کے حامی تھے ۔بلوچستان پر پاکستانی قبضے سے لیکر آج تک پاکستان کے سول و ملٹری اسٹبلشمنٹ مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں جس کی واضح مثال وفاق میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ملٹری اسٹبلشمنٹ کے نمائندوں کو بلوچستان میں اقتدار سونپ دیتے ہیں ۔ بلوچستان میں الیکشن کے نام پر پاکستانی فیڈریشن کے وہ نمائندے اس شرط پر منتخب کیے جاتے ہیں کہ وہ بلوچ سرزمین کے ساحل و سائل کی لوٹ کھسوٹ ، بلوچ قوم کی سماجی ،معاشی و سیاسی استحصال کے ساتھ سنگین نسل کشی کے سلسلے کی نگرانی کریں گے ۔

بی ایس او آزاد کے جاری ہونے والے پمفلٹ میں لکھا ہے کہپاکستان دنیا میں اپنے گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے ہر صورت بلوچستان میں الیکشن کا انعقاد کرنا چاہتی ہے تاکہ دنیا کو باور کرا سکیں کہ بلوچ قوم پاکستانی دائرہ میں رہ کر خوشی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے ۔بلوچستان میں الیکشن کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے پاکستان سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔جبکہ عالمی دہشت گرد تنظیم اہلسنت و الجماعت، احمد لدھیانوی،مستونگ حملے میں ہلاک ہونے والے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کا سربراہ سراج رئیسانی، لشکر جنگوئی بلوچستان کے سربراہ رمضان مینگل اور داعش بلوچستان کا نمائندہ شفیق مینگل کو الیکشن لڑنے کی اجازت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان اس خطے منصوبے کے تحت مذہبی انتہاپسندی کی آماجگاہ بناچکا ہے۔پاکستانی فیڈریشن کے انتخابات سے مظلوم قوموں کو حقوق کس طرح حاصل ہوتے ہیں اس کا اندازہ 1970ء کے انتخابات سے لگائے جاسکتے ہیں ۔ 1970ء کے انتخابات میں بنگالی عوام اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اقتدار بنگالیوں کے حوالے نہیں کیا جاتا ہے جبکہ اپنے قومی حقوق کے مطالبے پر بنگالیوں کی سنگین نسل کشی کا آغاز کیا جاتا ہے،بنگلادیش کی تاریخ ہمارے لیے سبق آموز شئے ہے۔ آج بلوچستان میں بلوچ قومی آزادی کی جنگ بلوچ عوام کے تابناک مستقبل کی جنگ ہے جو بلوچستان کے با شعورعوام کے مدد و تعاون اور قربانیوں کی بدولت اپنے منزل کی جانب رواں دواں ہیں اور اس تحریک کی مکمل کامیابی کا انحصار عوامی قوت پر منحصر ہوگا۔نام نہاد قابض پاکستان کے انتخابات صرف ہماری قومی غلامی کو مزید طول دینے کا باعث بنے گا۔ بلوچ عوام آزادی پسند بلوچ تنظیموں کے بائیکاٹ کے فیصلے کو کامیابی سے ہمکنار کرکے اپنے روشن مستقبل کے لیے کردار اداکریں۔

بلوچستان: اکیسواں قومی کونسل سیشن بنام عزت بلوچ، لکمیر بلوچ اور اسیران آزادی منعقد کیا جائے گا۔بی ایس او آزاد

بلوچستان: اکیسواں قومی کونسل سیشن بنام عزت بلوچ، لکمیر بلوچ اور اسیران آزادی منعقد کیا جائے گا۔بی ایس او آزاد

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جارہ کردہ بیان میں کہا کہ بی ایس او آزاد کی مرکزی کمیٹی کا پانچواں اجلاس مرکزی چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیمی رپورٹ، تنظیمی امور اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے اجلاس کا باقاعدہ آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا مختلف ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث کے بعد خطاب کرتے ہوئے مرکزی چیئرپرسن نے شہدائے بلوچستان اور اسیران آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس او آزاد بلوچ نوجوانوں کے لئے امید و مستقبل کی علامت ہے۔نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے چیئرپرسن نے کہا کہ بی ایس او آزاد کے کارکنان شہدا بلوچستان کے سیاسی وارث اور بلوچ قوم کے امیدوں کا محور ہیں جو سخت و مشکل ترین حالات میں بغیر کسی ڈروخوف کے ایک آزاد وطن کے لئے اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کا جوان مردی سے مقابلہ کررہے ہیں۔ 

چیئرپرسن نے مزید کہا ان تمام مشکلات و مصائب اور ان اعمال سے گزرنے کے باوجود ہمیں یہ بات ہر گز فراموش نہیں کرنی چاہئیے کہ ہمارے ساتھیوں کی شہادت اور زندان کی تکالیف کو برداشت کرنے کا مقصد ایک ایسے انسانی سماج کی تشکیل کے لئے ہے کہ جہاں انسان آزادی انصاف اور برابری کی بنیاد پر اپنی زندگی خوشحالی سے بسر کرسکیں آج ریاست اپنے ڈیتھ اسکواڈ،شدت پسند مذہبی گروہ کے ہمراہ بلوچ قوم کو شدید نقصانات سے دوچار کرنے کے لئے کریک ڈاؤن میں تیزی لائی ہوئی ہیں اور جدوجہد کو کمزور کرنے کے لئے ہر منفی پالیسی کو استعمال میں لا رہی ہے۔

چیئرپرسن نے کہا کہ آج اگر بلوچ قومی تحریک کمزور ہوا تو اسکی سب سے بڑی وجہ ہمارے اندرونی بے بنیاد اختلاف اور ناچاکی ہوگا اسکے علاوہ دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں کمزور نہیں کرسکتی۔ آج ہمیں بحیثیت قوم اپنے مشترکہ مفادات کو مد نظر رکھ کر کہ مشترکہ جدوجہد کے لیے راہ ہموار کرنا ہے اور ایک آزاد و پرامن معاشرے کی تشکیل کرنا ہے۔

اجلاس کے آخر میں اکیسواں قومی کونسل سیشن بنام سیکرٹری جنرل عزت بلوچ، انفارمیشن سیکرٹری لکمیر بلوچ اور اسیران آزادی 1تا 3اگست کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔چیئرپرسن نے تمام کونسلران کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو مزیدمتحرک ومنظم کرنے کے لیے قومی کونسل سیشن میں بھر پور تیاری کے ساتھ شرکت کریں ۔

London: BSO-Azad protest outside Pakistani embassy London against the abduction of Baloch women from different parts of Balochistan

London: BSO-Azad protest outside Pakistani embassy London against the abduction of Baloch women from different parts of Balochistan




London: Today BSO Azad will conduct a protest against abduction and torture on Baloch women in different areas of Balochistan

London: Today BSO Azad will conduct a protest against abduction and torture on Baloch women in different areas of Balochistan

BSO Azad will conduct a protest against abduction and torture on Baloch women in different areas of Balochistan. 

 Venue: Pakistani embassy London 

 Time: 1 PM to 3 PM

 Date: July 14, 2018

 We request all to join us and raise voice against Pakistani barbarism

Germany: Berlin BSO Azad conducted a protest against torture & abduction of Baloch women by Pakistan from Balochistan

Germany: Berlin BSO Azad conducted a protest against torture & abduction of Baloch women by Pakistan from Balochistan


BSO Azad conducted a protest at Berlin,Germany against torture & abduction of Baloch women by Pakistan from Balochistan.Baloch political activists, Amnesty France activist& others participated. Protesters demanded,HR orgs should take action against state barbarism in Balochistan.




 

Exclusive Video Germany: BSO Azad protest in Berlin against abduction and torture on Baloch women From different areas of Balochistan

Exclusive Video Germany: BSO Azad protest in Berlin against abduction and torture on Baloch women From different areas of Balochistan

#SaveBalochWomen

 



 

بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی کے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔بی ایس او آزاد

بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی کے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔بی ایس او آزاد

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹسُ آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ قابض ریاست بلوچ قومی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے بلوچستان کے طول و عرض میں مظالم اور درندگی کے تمام حدوں کو پار کررہاہے ،انہوں نے گزشتہ روزتمپ کے نواحی علاقے گومازی میں بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیاں کے واقعات کو قابض ریاست کی بوکھلاہٹ اور بلوچ قومی تحریک آزادی کے سامنے ریاست کی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے زر خرید ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنے نام نہاد انتخابات کو کامیاب کرانے کے لئے بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر لاپتہ کررہا ہے اور لاپتہ کرنے کے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہورہے ہیں جو ایک گھمبیر شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
پاکستان روز اول سے بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیراہے ،ہزاروں بلوچ فرزندوں کو اٹھا کر زندانوں میں انسانیت سوز اذیت کانشانہ کرنا انہیں شہید کرکے مسخ لاشوں کو پھینکنا ایک معمول بن چکاہے ’’مارواوپھینکو‘‘باقاعدہ پالیسی بن چکاہے ۔ اجتماعی قبروں کی برآمدگی ،خواتین پر تشدد اور اغوا کے واقعات اس امر کوثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان بلوچ جہد آزادی سے خائف ہوچکا ہے اور شہیدوں اور جہد کاروں کے اہلخانہ کواذیت سے دوچار کر اپنے خوف کے اثرات کو زائل کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ 

ترجمان نے کہا گزشتہ روز فورسز نے شہید طاہر اور انکے والد شہید چئیرمین دوست محمد جنہیں ریاستی سربراہی میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے شہید کردیا تھا انکے عزیز و اقارب کے گھروں پر چھاپہ مار کر گھر گھر تلاشی کے دوران خواتین اور بچوں کے ساتھ ناروا و نازیبا زبان کا استعمال کیا اور گھروں کے قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے اور چودہ بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے جو پاکستان کے جاری بریت اورمظالم پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے ۔

کل کے واقعہ یہ ثابت کرتاہے کہ نام نہاد انتخابات کی کامیابی کے لئے پاکستانی کے زرخرید لوگوں کو حصہ داری پرمجبورکرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعما ل میں لارہے ہیں اور علاقائی میر و معتبر اپنے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بلوچ شہدا کے اہلخانہ کو شدید ذہنی دباو کا شکار بنا رہے ہیں تاکہ الیکشن کے لئے راہ ہموار ہو۔

جبکہ بلوچستان کے علاقے گریشہ بدرنگ میں فوجی کاروائی کی گئی جس میں گھر گھر تلاشی کے دوران عام عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا واضح رہے
کہ مواصلاتی نظام نہ ہونے کے سبب فوجی کاروائیوں سے ہونے والے نقصانات کے تفصیلات فوری طور پر نہیں آتے ہیں۔
ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے واقعات اور شہدا کے اہلخانہ کو زد وکوب اور گمشدہ کرنے کے واقعات انسانی مسئلے ہیں اور ایسے مسئلوں کو حل کرنا مہذب دنیا کی ذمہ داری بنتی ہیں تاکہ ایسے واقعات کا سدباب کرکے انسانیت کو تذلیل سے بچایا جائے۔


بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں تیزی لائی گئی ہے۔ بی ایس او آزاد

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں تیزی لائی گئی ہے۔ بی ایس او آزاد

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان بھر میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں، ماروائے عدالت قتل اور عصمت دری کے رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے خلاف بی ایس او آزاد جرمنی زون کی جانب سے ایک آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں جرمنی زون کے آرگنائزر شہار الحسن نے بلوچستان بھر میں پاکستانی بربریت اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف لوگوں کو آگاہی دی اور  پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ 

 بی ایس او آزاد جرمنی زون کے آرگنائزر شارالحسن نے کہا کہ ریاست پاکستان بلوچ سرزمین پر اپنے قبضے کو طول دینے کے لئے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرکے عالمی انسانی حقوق کے قوانین اور عالمی جنگی قوانین کو اپنے طاقت کے نشے میں فراموش کرچکا ہے۔

 بلوچستان میں رونما ہونے والے خواتین پر تشدد کے واقعات سے ظاہر ہوچکا ہے کہ پاکستان بلوچ جہد آزادی کے حالیہ ابھار سے خوفزدہ ہوچکا ہے اس لئے جہد آزادی سے منسلک بلوچ لیڈران اور کارکنان کوذہنی دباؤ کا شکار کرنے کے لئے انکے اہلخانہ کو اغوا کرکے سنگین نتاہج کی دھمکیاں دے رہا ہے جو دنیا کے کسی بھی قانون میں ایک غیر انسانی و غیر اخلاقی فعل گردانا جاتا ہے جس کی مذمت کرنا اور اس کے خلاف آواز اٹھانا مہذب دنیا کا فریضہ ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے خواتین پاکستانی فورسز کے مظالم کے شکار ہیں لیکن گزشتہ سال سے خواتین کی جبری گمشدگی، ماروائے عدالت قتل اور تشدد کے واقعات میں کافی تیزی لائی گئی ہے۔ حالیہ واقعات جھاو، آواران،مشکے، رخشان، واشک کے علاقے میں پیش آئے تھے جن میں متعدد خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد زہنی و جسمانی تشدد کے نشانہ بنائے گئے تھے۔ 

ترجمان نے اپنے بیان کے آخرمیں عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور عصمت دری کے واقعات کا نوٹس لیکر کر پاکستان کیخلاف جنگی قوانین کو پامال کرنے کا مقدمہ دائر کیا جائے اور مظلوم بلوچ خواتین کو پاکستانی مظالم سے نجات دلانے کے لئے واضع اقدامات اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔

بی ایس او آزاد کے عظیم ساتھی شہید فرہاد رحمت – شئے رحمت بلوچ

بی ایس او آزاد کے عظیم ساتھی شہید فرہاد رحمت – شئے رحمت بلوچ

اگر ہم دنیا میں قوموں کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں انکی ترقی و کامرانی میں نوجوان کا متحرک کردار ملے گا، کیونکہ نوجوانوں میں توانائی اور جزبّہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہر محاذ پر نوجوانوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جس طرح دنیا بھر میں نوجوانوں نے اپنے اپنے قوموں کی آزادی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے، تو وہیں بلوچوں نے بھی اپنا کردار ادا کرکے قوم کے مستقبل کیلئے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ اگر بھگت سنگھ نے انڈیا کی آزادی کیلئے جان قربان کی ہے،اگر چے گویرا نے انسانیت کیلئے جان قربان کردیا، تو اسی طرح بلوچستان میں بھی فرہادوں نے اپنے وطن کی آزادی کیلئے جان قربان کی ہے۔
شہید فرہاد مشکے کے علاقے گجر کرکی میں شہید ماسٹر رحمت جان کے گھر 18 جولائی 1995 کو پیدا ہوئے۔ اپنے تعلیم کا سلسلہ چھوٹے ہی عمر میں کرکی سے شروع کی۔ بعد میں گجر گورنمنٹ اسکول میں داخلہ لے کر تعلیم جاری رکھی، جب وہ پڑھ رہے تھے تو پاکستانی فوج کی ظلم اور بربریت کے خلاف مشکے کے جلسوں اور ریلیّوں میں شرکت کرتے رہے اور انتہائی چھوٹی عمر میں بی ایس او آزاد میں شمولیت اختیار کی اور ڈاکٹر اللہ نظر کی گرفتاری کے خلاف جلسوں میں شرکت کرتے رہے۔
بلوچ قوم میں انتہائی زیادہ نوجوانوں نے قربانی دی ہے، ان سب کی عزت کرتا ہوں اور یقین کرتا ہوں کہ ان سب کا خون رنگ لائےگا اور ان ہی کی قربانیاں اس قوم کی آزادی کو ممکن بنائے گی۔
شہید فرہاد جان نے اپنی پوری زندگی اس قوم کیلئے قربان کردی۔ شہید فرہاد سمیت ہزاروں بلوچوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، ان کی جدوجہد ان کی قربانیوں کو بیان کرنا اتنا آسان نہیں۔ بلوچ قوم کی تاریخ میں دیکھیں تو انتہائی زیادہ جنگجو ملینگے شروع سے ہی بلوچ قوم میں تعلیم یافتہ کم رہے ہیں۔ یہی ہماری کمزوری ہے کہ بلوچستاں کی تاریخ نہیں لکھی گئی۔ اگر کسی نے لکھا ہے تو ہر کسی نے اپنے ہی خیالوں کی مطابق لکھا ہے۔ اگر یہ کتابیں پڑھیں تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تاریخ نہیں لکھی گئی اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ بلوچ قوم تعلیم، سیاست، شعور و آگہی سے دور رہے۔ ابھی تک بھی دیکھیں جنگجو بہت ہیں لیکن سیاسی لوگوں کی تعداد کم ہے۔
اسی لیئے ہماری قوم میں ان لوگوں کی جدوجہد بے مثال ہے، جنہوں نے آگاہی و شعور پھیلایا ہے۔ شہید فرہاد نے بھی آگاہی پھیلانے کیلئے اپنی پوری زندگی جدوجہد کی۔ وہ اسی کو ترجیح دیتے تھے کہ بلوچ قوم کو پتہ چلے کہ دنیا نے بہت ترقی کرلی ہے، ہم بہت ہی امیر ملک میں رہ رہے ہیں، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ایک طرف ہمارے وسائل کو لوٹا جارہا ہے اور دوسری طرف ہماری نسل کُشی ہورہی ہے اور ہم سے سچ چھپایا جارہا ہے، ہم سے سوچنے اور سمھجنے کی صلاحیت کو چھینا جارہا ہے اور ہم کو ایک بڑی تباہی کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ وہ تباہی جہالت ہے، ہم کو مذہبی شدّت پسندی کی طرف لے جایا جارہا ہے، جس سے ہم بلوچ اپنے قوم کی نسل کشی کرنے کیلئے تیار ہونگے اور ہم کو مذہب کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے۔
شہید فرہاد کا بلوچستان کے کئی علاقوں اور اور لوگوں سے واقفیت رہی ہے کیونکہ شہید بلوچستان کے کئی علاقوں کا رخ کرکے وہاں وقت گذار چکا ہے ۔ شہید فرہاد جان اکثر اپنے والد شہید رحمت کے ساتھ ہر سفر میں ہمگام اور ہمراہ رہے اور شہید رحمت ایک بلوچ قومی خدمت گار اور تجزیہ کار تھے۔ اسی لیئے ان کو سب علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ حالت کی خرابی کی وجہ سے وہ کچھ علاقے نہ جا سکے اور شہید فرہاد جان تنظیم کے پلیٹ فارم کے پابند رہ کر کئی علاقوں میں کام کرچکے تھے، شہید نے دن رات بلوچ قوم کی نمائندگی میں گذاری۔
اگر ہم دیکھیں آج کے دور میں ایسے بلوچوں کی کمی نہیں ہے، جو قوم کو آگاہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شہید فرہاد نے کہا کہ اگر ہم اپنی قوم کو اپنے مقصد کیلئے آمادہ اور آگاہ نہیں کرسکے، تو ہمارا خواب صرف ایک خواب ہی بن کر رہ جائیگی اور ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کرسکیں گے۔ جتنا زیادہ عوام ہمارے ساتھ ہوگا، پھر دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ ہمارا جنگ ایک دہشتگردی کی جنگ نہیں بلکہ ہماری جنگ اپنے حق کی جنگ ہے۔
شہید فرہاد کا والد ماسٹر رحمت 21 جنوری 2015 کو شہید ہوگئے۔ اس کے بعد 19 مئی 2015 کو اس کے چھوٹے بھائی معراج جان کو شہید کیا گیا، لیکن شہید فرہاد اس بات پر فخر کرتے تھے کہ میرے والد اور میرے چھوٹے بھائی نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ ہمت نہ ہارے اور جدوجہد کرتے رہے۔ لیکن 30 جون 2015 کو شہید فرہاد نے جام شہادت نوش کرکے ہمیشہ کیلئے ہم سے جدا ہوگئے۔
جب شہید فرہاد کو شہید کیا گیا، وہ بی ایس او آزاد کے سینئر وائس پریزیڈینٹ کے عہدے پر فائض تھے۔ مشکے میں ایک بڑے پیمانےکے زمینی اور فضائی آپریشن کے دوران فرہاد سمیت بارہ لوگ شہید ہوگئے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ چراوہے تھے۔ اُن بے گناہ لوگوں کو پاکستانی فورسز نے بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشیں گاڑی کے پھیچے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے جیبری کیمپ منتقل کیا گیا۔ اسی لئے شہید فرہاد اور ساتھیوں کی شناخت نہ ہوسکی اور نہ ہی ان کی لاشیں ان کی فیملیوں کو دیا گیا۔
شہید فرہاد کی امّی بی بی عابدہ یہی کہتی ہے کہ مجھے ان کی شہادت پر فخر ہے اور میں اپنے باقی بیٹوں کو بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔ وہ ہر طرح کی قربانی کیلئے تیار ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ مجھے معلوم تھا کہ وہ اس راہ کے مسافر ہیں، وہ شہید ہونگے لیکن میں نے ان کو کبھی بھی نہیں کہا کہ وہ اس رستے کا مسافر نہ بنیں۔

ذاکر مجید بطور آئیڈیل – بیبرگ بلوچ

ذاکر مجید بطور آئیڈیل – بیبرگ بلوچ

”جب نا انصافی قانون بن جائے، تو مزاحمت فرض بن جاتی ہے۔ چے گویرا“
وہ شاید چے گویرا کے اس قول پر عمل پیرا ہو کر میدان عمل کا حصہ بنا تھا، کیونکہ انقلابیوں کے درمیان کوئی سرحدی تفریق نہیں۔ سب انقلابیوں کا ایک ہی مقصد و نصب العین ہوتا ہے، سامراج کے چنگل سے انسانیت کی آزادی۔ اس کا دل اپنے وطن میں اپنے لوگوں کی بے بسی پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اس کے لئے اس نے سیاسی مزاحمت کا راستہ چنا اور مزاحمت کو اپنے لیئے فرض جانا وہ مزاحمت کی آخری گہرائی،اونچائی اور آخری نقطے پر پہنچ چکا تھا۔ اس لئے کہتے ہیں ”یہ آزادی خون مانگتی ہے، چاہے وہ آپ کا خون ہو یا دشمن کا خون ہو، لیکن دھرتی ماں خون مانگتا ہے۔ دھرتی اور انقلاب بغیر خون بہائے نہیں آتے، وہ قومیں جو جنگ کرنا نہیں جانتے، ان قوموں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں“ اور مزاحمت کا بہترین راستہ تشدد کا راستہ ہے یعنی اگر آپ اپنے وجود کو بچانا چاہتے ہو، جس وجود کو دشمن سے خطرہ ہے اور دشمن اس کو مٹانا چاہتا ہے، اس کو بچانے کا واحد راستہ تشدد ہے۔ اسی لیئے وہ عدم تشدد کے بارے میں کہتے ہیں ”اگر یہی عدم تشدد کا فلسفہ رہا، تو دنیا سے آپ کانام و نشان اس طرح مٹ جائے گا جس طرح ریڈ انڈینز کا“
ذاکر مجید محض برائے نام سامراج دشمن نہیں تھےبلکہ وہ ایک حقیقی سامراج دشمن تھے۔ وہ سامراج کے نس نس سے واقف تھے وہ اس سے شدید نفرت کرتے تھے۔ اس کو کچل دینا چاہتے تھے، کیونکہ یہ حب الوطنی کے احساسات کو برباد کرکے ختم کر دیتا ہے، اس لئے وہ ہر جلسے کے تقریروں میں سرکاری فوج اور اس کے ہمنواؤں اور کاسہ لیسوں سے برسر پیکار تھا، دشمن کو للکارتے ہوئے کہتا ہے”آپ کون ہوتے ہو، ہمیں غلام بنا کر رکھنے والے، ہمیں تو تمہارے بڑے حاکم انگریز سامراج بھی غلام نہیں بنا سکا“
چے گویرا کی طرح جہاں آپ پیدا نہیں ہوئے ہیں، وہاں جاکر غلامی کے خلاف محکومی کا سبق لے کر اس قوم کے پسماندگان کو قوت بخشنا شاید آپ کے وطن کے آزادی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہر قوم کی آزادی کی بات کرنا آپ کے وطن کی جنگ ِ آزادی کی ایک منزل ہے۔ وہ اس انقلابی روح کو دوسروں قوموں کے عوام میں پھونکنا چاہتا تھا۔ اس لئے وہ سندھی قوم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں ”بلوچستان ہو یا سندھو دیش،آیا سندھو دیش کے اندر رہتے ہوئے آپ لوگوں کو اتنا درد ہے کہ جتنا درد جی ایم سیدکے اندر تھا یا شاہ عبدالطیف بھٹائی کے اندر تھا۔ ابھی آپ سندھیوں کو اور ہم بلوچوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کہ اس بغاوت کی راہ پر چل کر آزادی کے لئے لڑنا ہو گا یا اسی طرح غلامی کی زندگی بسرکرنا ہوگا۔ کس نے حق دیا ہے پاکستان کو کہ بلوچوں اور سندھیوں کو غلام بنا کر رکھے یا وہاں پر پشتون بھی ہو لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی جو فوج بنی ہے اس میں یہی پنجابی بھی ہے، پشتون بھی ہے وہاں پر کچھ سندھی بھی بیٹھے ہیں“
غلام اور غلامی کی زندگی سے انتہا درجے کی نفرت کرتا تھا کیونکہ غلام قوم کو نو آباد کار غیر تہذیب یافتہ، وحشی، جاہل گوار بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے۔ غلام انسان کو اپنی مرضی سے زندگی بسر کرنے کا حق نہیں ہے، اپنے خواب پورا کرنے کا حق نہیں ہے۔ جو غلام قومیں ہوتی ہیں، وہ ذلت، خواری اور احساس کمتری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ سماجی و معاشی ناانصافی سمیت ظلم و جبر کا تہہ در تہہ شکار ہو کر ہمیشہ کیلئے غلامی کی زندگی میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ غلاموں کی قسمت اور کوئی نہیں بدلتا بلکہ ان کو خود جدوجہد کرنا چاہیئے ہوتا ہے۔ اس لیئے ذاکر مجیدغلامی کی نفرت لئے کہتے ہیں ”جو غلام قومیں ہوتے ہیں وہ اس رکھیل کی مانند ہوتے ہیں کہ ہر رات ایک نیا بندہ اس کے ساتھ ہم بستری کرتا ہے، ہم اس بات کو تسلیم کر سکتے ہیں کیاکوئی باضمیر انسان،کوئی غیرت مند انسان برداشت کر سکتا ہے کہ اسکی ماں کے ساتھ کوئی غیر مرد ہم بستری کرے؟ تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ دھرتی بھی ماں ہے۔“
آج زاکر مجیدکو لاپتہ ہوئے نو سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن کسی کو بھی یہ غالب گمان نہیں کہ وہ دشمن کے زندان میں زندہ ہے کہ نہیں لیکن آج بھی وہ ہر بلوچ نوجوان خصوصاً بی ایس او آزاد کے ہر کارکن کے سینے میں توانائی کے سر چشمے کی مانند موجود ہے۔ بلوچ آزادی کے تحریک میں بطور آئیڈیل ہر روح میں موجود ہے۔

بلوچستان کا بھگت سنگھ چیئرمین ذاکر مجید – حکیم واڈیلہ

بلوچستان کا بھگت سنگھ چیئرمین ذاکر مجید – حکیم واڈیلہ

دنیا میں ہر ایک جنم لینے والا شخص کسی مقصد کو لیکر ہی آتا ہے لیکن عظیم شخصیات صرف وہی لوگ ہی کہلاتے ہیں جو اپنے مقاصد کی خاطر ہی اپنی زندگی کو جیتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ہمیشہ ہی سماج میں انقلاب برپا کرتے ہیں۔ وہ اتنے عظیم اور مخلص ہوتے ہیں کہ انہیں موت کا خوف، لالچ اور مراعات بھی اپنی طے کردہ منزل اپنی پرکٹھن راستے سے ایک انچ بھی نہیں بھٹکا سکتا، کیونکہ وہ جس مقصد کے حصول کی خاطر زندگی کو قربان کرچکے ہوتے ہیں وہ انکا نظریہ، ایمان، شعور، انکی سوچ اور انکے کرشماتی کردار کا پہچان ہوتا ہے۔
اسی طرح ہندوستان میں جب مہاتما گاندھی نے انگریز سامراج کے خلاف نان کوپریٹیو موومنٹ کا اعلان کیا تو اس اعلان کو پورے ہندوستان میں کافی پذیرائی ملی، سرکاری و نیم سرکاری اداروں سمیت ہندوستان کے کسانوں اور طالب علموں نے بھی اس اعلان کی پیروی کی اور اس تحریک کا حصہ بنے۔ ان تمام لوگوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک کمسن بچہ بھی شامل تھا، جس نے اپنے اسکول کی کتابیں ہندوستان کی آزادی کے خواب کو پورا کرنے کی شوق میں جلا ڈالے اور بھرپور طریقے سے اس تحریک کا حصہ بن گئے۔
لیکن جس طرح سے گاندھی جی کی وہ تحریک ختم ہوئی اور لوگوں میں احساس کمتری پیدا ہوئی، وہ ایک الگ داستان ہیں جسے پھر کبھی بہتر انداز میں قلم بند کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں اُس ننھے سے بچے کے جذبات اور اسکے آنکھوں کے سامنے اسکے سپنے کو چکنا چور ہونے کے واقعات کو دیکھ کر شاید اسکے خاندان کے لوگ یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ اب وہ اس راستے سے دور ہوچکا ہے اور شاہد ہی اب وہ دوبارہ کسی بھی طرح سے انقلاب اور آزادی کا خواب آنکھوں میں سجا سکے۔ لیکن شاید وہ انقلاب اپنےدل میں بسائے اپنے سماج کو پرکھ رہا تھا اور ایک ایسے وقت کا تعین کررہا تھا کہ جب وہ سینے میں چھپائے لاوے کو آگ کی شکل میں قبضہ گیر پر برسانا شروع کردے۔ وہ بچہ جسے آج دنیا، شہید بھگت سنگھ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ ایک ایسے کردار کا مالک تھا۔ جس نے اپنا جینا، مرنا، اوڑھنا، بچھونا سب ہی اپنی قومی آزادی کی خاطر قربان کردیا تھا۔
بھگت کے بقول مجھے دھرتی ماں کے اندر اپنی ماں دکھائی دیتی ہے اور ایک لائق اور غیرت مند بیٹا کیسے اپنی ماں کی بے عزتی اور بے حرمتی دیکھ کر خاموش رہ سکتا ہے یا آنکھیں پھیر سکتا ہے؟ اسی سوچ اور فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے، بھگت سنگھ نے سیاسی اور مزاحمتی جدوجہد کرکے نا صرف ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج کو بے چینی اور خوف میں مبتلا کردیا تھا بلکہ بھگت نے ہندوستان میں موجود نوابوں، جاگیرداروں اور پیداگیر سیاستدانوں کو بھی ایک واضح اور سخت پیغام دے دیا تھا کہ کل کے آزاد ہندوستان میں کسی بھی کرپٹ سیاست دان، مذہبی ٹھیکیدار اور نوابوں کو عام عوام اور ہندوستان کے کسانوں اور مزدوروں کے استحصال کرنے پر بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھگت اپنی ایمانداری اور مخلصانہ جدوجہد کی خاطر ہنستے ہوئے پھانسی پر چڑھ گئے اور سامراج اور اسکے حواری سمجھے کے شاید انہوں نے برصغیر کے اس نوجوان انقلابی اور اسکے ساتھیوں کو شہید کرکے خطے سے انقلاب کا خاتمہ کردیاہے۔
لیکن بلوچستان کے نوجوان بھگت سنگھ “چیئرمین ذاکر مجید” کے بقول “انقلابی کبھی مرتے نہیں بلکہ وہ امر ہوجاتے ہیں اور وہ کسی اور روپ اور رنگ میں کسی اور خطے میں پیدا ہوجاتے ہیں”۔ بلوچستان میں پیدا ہونے والا نوجوان بھگت بذات خود شہید بھگت سنگھ کا بہت بڑا پرستار تھا، جو اپنی ہر ایک بات میں بھگت سنگھ کی تعلیمات کا پرچار کرتا۔ وہ نوجوان بھگت بی ایس او آزاد کے سابقہ مرکزی رہنماء اسیر چیرمین ذاکر مجید کی صورت میں بلوچ دھرتی پر ابھر کر سامنے آئے۔ جو نا صرف تحریر اور تقریری بنیادوں تک ایک مکمل انقلابی ہیں بلکہ اس کا ہر ایک عمل انقلاب کی علامت ہے۔ وہ کافی واضح انداز میں بلوچ نیشنلزم کا پرچار کرتے۔ اپنی تقاریر، لیکچرز، سرکلز اور اپنی زندگی بھی بلوچیت کے اصولوں پر کاربند ہوکر جیتے۔ وہ ان چند ناموں میں سے ایک ہیں جنہوں نے زندگی کے مقصد کو حاصل کر کے اس ایمانداری اور سچائی سے عمل کا آغاز کیا تھا کہ ریاستی اداروں، فوج، بیوروکریسی، نام نہاد پارلیمانی سیاست دانوں اور مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر بلوچ قوم کو تقسیم کرنے والے لوگوں کیلئے ایک نا قابل برداشت کردار بن چکے تھے۔
کیونکہ وہ صرف سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ علمی ہتھیار سے لیس ہوکر ہر ایک سماجی، قبائلی، مذہبی اور پارلیمانی پر بحث کرتے اور ٹھوس اور واجب دلیل کی روشنی میں گفتگو کرتے، جس میں ریاست کو اپنی شکست کافی واضح انداز میں دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ ریاست کو للکار کر کہتے تھے آپ کی ستر سالہ قبل مذہبی بنیادوں پر بننے والا ملک ہمیں، کسی بھی طور پر اپنی قومی تشخص کو برقرار رکھنے اور آزادی کو حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔
ذاکر جان ہمیشہ قومی اداروں کو مضبوط کرنے کا درس دیتے اور وہ ہمیشہ ہی ریاستی اداروں کو بلوچ قومی تشخص کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار گردانتے اور کہتے کہ ہم مالک ہیں نوکر نہیں۔ اگر کوئی باہر سے بلوچستان میں آکر آپکو چوکیدار رکھتا ہے یا چپڑاسی بناتا ہے، تو وہ آپکا استحصال کررہا ہے آپکو غلامی کے اندھیروں میں دھکیل رہا ہے۔ آپ اس سرزمین کے مالک ہیں اور باہر سے آیا ہوا سامراج ہے۔ جو آپ سے آپکی شناخت چھین کر آپکو اندھیروں میں دھکیل رہا ہے۔ آپ کو انکا مقابلہ کرنا ہوگا، آپ کو متحد ہونا ہوگا، منظم ہونا ہوگا، قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپنے بنیادی حق بلوچ ریاست کی آزادی کی تحریک کو منزل تک پہنچانا ہوگا۔
ذاکر مجید کی جدوجہد اور جس طرح سے چیئرمین غلام محمد اور ساتھیوں کی شہادت کے بعد وہ نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے، قبضہ گیر فوج اور اسکے خفیہ ادارے کافی پریشانی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ انہیں ذاکر جان کا انداز بیان اور بلوچ نیشنلزم کی تعلیمات کے پرچار سے کافی ڈر اور شکست محسوس ہونے لگا تھا، جس کی وجہ ریاستی اداروں نے ۰۸جون۲۰۰۹ کو مستونگ سے چشم دید گواہوں کے سامنے انہیں اغواء کرکے لاپتہ کردیا اور ۹ سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود بھی کسی طرح کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔
چیئرمین ذاکر جان کی جبری گمشدگی کیخلاف گزشتہ ۹ سالوں سے بی ایس او آزاد سمیت دیگر سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں احتجاج کرتی رہی ہیں، لیکن ان سب احتجاجوں اور کوششوں سے بڑھ کر انکی ہمشیرہ بانک فرزانہ مجید کی ۹ سالہ جدوجہد کی داستان ہے۔ وہ بہن جو کبھی اپنے پیارے بھائی کے آنکھوں کا تارہ تھی اور اپنے بھائی کے ساتھ ہر ایک غم اور خوشی کو بانٹتی تھی، وہ آج بھی دنیا کے سامنے اپنے بھائی سمیت ہزاروں لاپتہ بلوچ نوجوان، بزرگ ، خواتین اور بچوں کی بازیابی مطالبہ کررہی ہے۔ بانک فرزانہ مجید نے جس ہمت اور بہادری سے گذشتہ نو سالوں سے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے، وہ آنے والی بلوچ نسلوں سمیت دنیا کے تمام مظلوم اقوام اور بہادر ماوں اور بہنوں کیلئے مشعل راہ بنے گی ۔ کیونکہ بلوچستان سے اسلام آباد تک کا طویل لانگ مارچ ہو یا سالوں سال پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوں، اقوام متحدہ، سمیت دنیا کے تمام انسانی اداروں کے سامنے لاپتہ بلوچوں کے کیس رکھنے کا معاملہ، یہ سب عوامل اپنے آپ میں ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس تمام عرصے میں وہ اپنے بھائی کی بازیابی کیلئے دنیا سے ٹکراتی نظر آئی ہیں اور آج بھی وہ اپنا جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ بلوچستان کا بھگت سنگھ چیرمین زاکر مجید اپنے ہزاروں لاپتہ ساتھیوں سمیت اس شیطانی قید سے آزاد ہو جائے اپنی تحریر کا اختتام رام پرساد بسمل کی ان اشعار سے کرتا ہوں۔
“وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچہِ قاتل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

8 June and my irretrievable friend Hasam Baloch – Emaan Baloch

8 June and my irretrievable friend Hasam Baloch – Emaan Baloch

World that we live is glamorous, full of love and human being along with other living beings reside in it. Universe that we live in is full of different characters and Every character is playing its role. Some characters with love are making the world stunning, on the other hand some characters with cruelty and barbarism are making the world lugubrious.
In this vast and huge universe we also have a beautiful mother land Balochistan where cruelty spout and where fear has made the life of the people standstill. Burnt houses and old women waiting for their beloved ones are a common sight in every corner of Balochistan. It has been facing numerous military operations for last seventy years. Abduction of teachers, student, old and young is observed on daily basis. Almost every home is Balochistan is affected. Every individual is waiting for the save recovery of their beloved and many have already received mutilated bodies of their beloved ones. Alas! how much painful it is far those who are witnessing it.
8th June is celebrated as missing persons day across Balochistan. The decision was of BSO-A. Family and people of Balochistan too observe this day as missing persons day.
When I come across the word “missing person” thousands of questions inflate within me.
Mama Qadir, an old men sitting for more than 5 years on hunger strike for missing persons, long March bu families of missing persons, struggle of Farzana majeed (A brave sister), relationship of cute Mahlab with missing persons.
Thus my mind goes on thinking who are missing persons and why are they missing?
In my beautiful and vast mother land Balochistan missing persons are those who want to read, who want public awareness, who want better future for their nation and coming generations.
Zakir Majeed, a student leader, has completed almost a decade in torture cells. Young Mahlab has spend a decade holding the picture of her father in front of press clubs.
Still search of Mahlab, Farzana, Mahrang and family of other missing persons is unfinished and their loved ones are yet to be traced.
I was in my unusual state when I came across the news of abduction of my friends, teacher and their friends from Karachi, Sana, Naseer, Hasam and their friend Rafiq.
Suddenly it struck me that now the Daughter of Naseer will spend his childhood like Mahlab in press clubs.
What answer will Abdeen (son of Naseer) will get when he will ask about his father?
Seema (sister of missing Shahbeer) is another Farzana we have now, protesting for safe recovery of her brother .
One of missing person is my friend, teacher, guide and unwavering supporter Hasam.
Why Hassam went missing?
Hasam is a talented students who was always busy with books. His love for books was like the love of a mother for children.
Whenever I could get chance to meet him, his first question was “What are you studying?” Have you studied the book that I suggested?
If I am not wrong books were everything for him. He used to say unless we don’t study, we will not be able enough to know ourselves. Knowing the world and ourselves is hidden in books. His words still spark.
When I think of Hasam as a missing person then questions within me make me upset and sad, how Hasam is spending his days in torture cells without books?
Hasam was a natural poet. His poetry had impressed large number of people along with me. Here are two lines of his poetry.
“heaven
May unleash it’s wrath upon me
But
I like the scorched land of Chagi
More than unsean vistas of paradise
For me ”
I wonder if he continues writing poetry and reading books in torture cells?
Hasam I want to tell you that many new books have been published, I wonder if these books are available to you. Hassm your translation and your books on table wait for you?
When will you return? A student and friend of you is waiting for you like your books.

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved