Translate In Your Language

New Videos

سُرخ بلوچستان...2017 کے تناظر میں۔۔۔سنگر کا سالانہ تجزیاتی رپورٹ

سُرخ بلوچستان...2017 کے تناظر میں۔۔۔سنگر کا سالانہ تجزیاتی رپورٹ



......پاھار......

 سُرخ بلوچستان...2017 کے تناظر میں

مقبوضہ بلوچستان صورتحال / سی پیک / میڈیا / دنیا اور بلوچ کا خارجہ پالیسی

936فوجی آپریشنز میں2300سے زائد افرادلاپتہ،196،شہید،566سے زائد گھر نذر آتش

سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ

چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے

ظلم و جبر سامراجی طاقتوں کا اہم ہتھیار ہے،فینن کہتے ہیں کہ ’’قبضہ ایک متشددانہ عمل ہے ‘‘اس آفاقی قول کی صداقت ہمیں اس وقت بلوچستان کی طول وعرض میں نظرآرہاہے ،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ پاکستان بلوچ قوم پرظلم وجبر کا بازار گرم نہ کر رکھا ہو،تشددکب عمل میں لایا جاتاہے ؟قوموں اور قومی تحریکوں پر نظررکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ تشددصرف وہ نہیں جو ہمیں قتل و غارت کی صورت میں نظرآتا ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اورقبضہ گیرکبھی بھی تشددسے دست بردار نہیں ہوتا ہے وہ دورانیہ جسے عرف عام میں ’’زمانہ امن ‘‘کہاجاتا ہے اس میں بھی ایک متشددعمل جاری ہوتاہے فرق صرف یہ ہے کہ یہاں تشددعمومی شکل میں ظہورپذیر نہیں ہوتا بلکہ اس دورانیے میں تشدد مختلف شکلوں میں جاری رہتاہے ،قتل وغارت گری کی طرح اُس تشددکی اشکال واضح اورعیاں نہیں ہوتے ہیں اس لئے رد عمل بھی فوری نہیں ہوتااور یہ قبضہ گیر کے لئے ’’سنہرا دور‘‘ہوتا ہے ،اس دورمیں اپنی تشددکے ذریعے غلام قوم پر جسمانی صورتوں میں حملہ نہیں کرتاہے بلکہ قبضہ گیر غلام کے جڑوں کو کاٹنے کا عمل شروع کرتا ہے ،وہ غلام کے تہذیب کے خلاف ،تاریخ کے خلاف ،روایات و اقدار کے خلاف مسلسل حملے جاری رکھتا ہے تاکہ غلام کی جڑیں اوررشتے اپنی سرزمین ،اپنی تاریخ وثقافت اوراپنی قومی وجود کی بقاء اور آزادی سے ہمیشہ کے لئے کٹ جائیں اوراس عمل کے دوران وہ اپنی ثقافت و روایات اور غلامی کو قبولنے کارویہ ٹھونستا رہتا ہے تاکہ غلام اپنی تہذیب،ثقافت تاریخ اورروایات کو نہ صرف بھول جائے بلکہ اُن سے متنفربھی ہوجائے اورقابض کے حاوی کلچرمیں رنگ جائے اس عمل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جب غلام اپنی تاریخ سے بیگانہ ہوجاتاہے توغلام قوم کبھی بھی قابض کے خلاف مزاحمت کے قابل نہیں رہ جاتاہے مگر قابض کی مسلسل متشددانہ عمل کے باوجود زندہ قوموں میں قوم پرستی کے جذبات ختم نہیں ہوتے ہیں اوروہ اپنی سرزمین ،تشخص اورقومی بقاء کے تحفظ کی فرض سے سبکدوش نہیں ہوتے ہیں اورقابض کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں یہ عمل قابض کے لئے قطعی غیرمتوقع اورناقابل معافی جرم کے مترادف ہے اس کے ردعمل میں قابض تشدد کے ظاہری اشکال کو روبہ عمل لاتا ہے ،تشددکا یہ شکل بتدریج شدیدتر ہوتاجاتاہے ،ابتداء لاٹھی چارج ،گرفتاری سے ہوکر بالآخر قتل عام کی صورت اختیار کرلیتاہے ،اس دوران گرفتار یاں ،غائب کرنا،اذیت دینا ،لاشیں مسخ کرنا،گھربار جلانا ،مال مویشی لوٹنا ،ذرائع آمدن سے یکسر محروم کرنا قابض کا سب سے بڑا ہتھیاربن جاتے ہیں اوراس ہتھیارکو بلوچستان میں قابض آزمانے کے لئے تمام حدودکو پلانگ رہاہے ،بلوچستان میں پاکستان کے لئے عالمی قوانین ،انسانی اقدار،جنیواکنونشن کے تمام شق مزاق بن چکے ہیں ،بلوچ قوم کی خون سے ہولی کھیلنا پاکستا نی فوج کا بہترین مشغلہ بن چکاہے ایسا کیوں نہ ہو جب عالمی ادارے اپنی فرائض سے خود ہی سبکدوش ہوجائیں ،اگر عالمی میڈیا کوبلوچستان میں بہتی لہونظرنہیں آتا ہے ،سب چھپ ہیں حتیٰ کہ معمولی باتوں پر فتوے بازی کے خوگرنام نہاد علمائے کرا م اور تو اورقرآن پاک کے نسخے بلوچ گھروں ،مسجدوں میں مسلسل جلائے جارہے ہیں ،مگر ان کی زبان پر چھپ کی مہر لگ چکی ہے ،بلوچ کی جان و مال کے حفاظت کے دعویدار نام نہاد قوم پرست پاکستان کے ساتھ بلوچ کے خلاف ایک صفحے پر ہونے کا اعلانیہ دعویٰ کررہے ہیں ،مقبوضہ بلوچستان کی صورت حال اس وقت ایک گھمبیر شکل اختیارکرچکاہے ،بلوچ قوم نسل کشی کے عمل سے دوچا ر ہے ایسے حالات میں ایک بات تو صریحاََ واضح ہوچکاہے اور بلوچ کے لئے دوست و دشمن کافیصلہ بھی آسان ہوچکاہے ،اس وقت صرف وہ قوتیں میدان میں بلوچ قوم کے ساتھ ہیں جو بلوچ قومی آزادی پر یقین رکھتے ہیں باقی تمام پارٹیاں ،تمام گروہ خواہ قوم پرستی کے نام پراپنی سیاسی دکان چلارہے ہیں یا مذہبی کاسے میں اپنی حصے کا مال جمع کررہے ہیں بلوچ کے لئے اُ ن کا شبیہہ انتہائی کریہہ اور مکروہ بن چکاہے ،ان کے چہروں کی لالی بلوچ قومی لہوہے ،ان کاحساب تاریخ ہی لے گا مگر بطورایک صحافتی ادارے ہم تاریخ کے لئے تاریخ کے اس سفر کاحال قرطاس پر ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیتے ہیں کہ ہرسال کی طرح اکیس ویں صدی کا ایک اورسال کس طرح بلوچ ماؤں کی فلک شگاف چیخو ں کے ساتھ دردکی نوع بہ نوع داستانیں لے کر تاریخ کا حصہ بن گیا۔ادارہ سنگر میڈیا گروپ بلوچ قومی آواز کوہمیشہ کی طرح بلند کرکے انسانیت تک پہنچانے کا مضبوط عزم کے ساتھ اپنی کام میں مگن ہے ۔

سند کے طور پر ادارہ سنگرکے پاس محفوظ اعدادو شمارشائع کئے جارہے ہیں۔

سال 2017 میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان میں936 سے زائدآپریشنز میں،2317 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا یہ وہ افراد ہیں جنکی کچھ تفصیل ادارہ کے پاس موجود ہے۔سینکڑوں افراد ایسے ہیں جن کو فورسزنے گرفتار کرنے کادعویٰ کیا ہے یہ دعوے اکثر سرکاری ترجمانوں نے پریس کانفرنسز،آئی ایس پی آر کے بیانات کی صورت میں کئے ہیں مگر صرف اعدادوشمار سامنے تو لائے گئے، مگر تفصیلات میڈیا کے سامنے نہیں لائے گئے ،ایسے ریاستی بیانات ریکارڈ کے طور پر ادارہ کے پاس موجود ہیں جو اخبارات میں شائع ہوئے ہیں، یعنی صرف اعدادوشمار کتنے انسان ہیں ،ان کا تفصیل کچھ نہیں ،گویا انسان نہیں زمین پر اُگے کھمبی تھے ،پاکستانی فوج نے کاٹ ڈالے لہٰذا ان کی کیا تفصیل دینا ،گنگ میڈیا کی زبان پر تالے لگ چکے ہیں کسی نے پوچھنے کی جرات نہیں کی ۔

سینکڑوں افراد جنکو مشکوک قرار دے کر فورسز نے لاپتہ کیا یا مقابلوں میں مارنے کا دعوی اپنے بیانات میں کیا، کسی کو کانوں کانوں خبر تک نہ ہوئی ،اتنے انسان نگل کرنہ پاکستان نے ڈکار لی نہ عالمِ انسانیت میں سے کوئی آوازاٹھی ۔ہمارے اعداد وشمار کے مطابق اسی سال 424 نعشیں ملیں، جس میں196 بلوچ فرزندوں کو ٹارگٹ،حراستی قتل عام ،و دوران آپریشن شہید کیا گیا۔جبکہ158لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے، اسی سال48 لاشیں ایسی بھی تھیں جن کی شناخت نہ ہو سکی،شواہد و محرکات یہی بتاتے ہیں کہ یہ وہ افراد تھے جن کو دوران حراست قتل کرکے لاشوں کو ناقابل شناخت بنایا گیا،تاہم ریاست نے خود کو بری الذمہ کرکے انکے ڈی این اے بھی نہیں کیے،2017 میں لاپتہ کیے جانے والے225 افراد بازیاب ہوئے،جبکہ ان میں سے10 افراد ایسے بھی تھے جوایک، تین یا چار سال قبل فورسز نے لاپتہ کیے تھے۔دوران آپریشنز فورسز نے566 سے زائد گھروں کو جلایا،سینکڑوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ تمام اشیاء کا صفایا کر دیا گیا،ڈیرہ بگٹی سے ایک اجتماعی قبر بھی اسی سال دریافت ہوئی،تاہم پاکستانی فورسزنے توتک اجتماعی قبروں کی طرح یہاں بھی شواہد مٹاڈالے اورکسی آزادمیڈیا کو رسائی نہیں دیا،1790 سے زائد مویشیوں کو دوران آپریشنز لے جایا گیا۔واضح رہے کہ سال بھر میں ریاستی بربریت فرزندوں کی اغوا،آپریشنز ،حراستی قتل عام،گھروں میں لوٹ مار بعد نذر آتش کرنا،مال مویشیوں کو لوٹنا کی تعداد اس اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے،مگر سخت ،طویل دشوار گزار بلوچستان میں آپریشنز و مواصلاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے مکمل اعداد و شمار تک رسائی ممکن نہ ہو سکی ہے۔

مقبوضہ بلوچستان صورت حال (2017 )

تشددبھرے اس سال کوخانہ مرد م شماری ،سی پیک کے استحصالی منصوبوں نے مزید خونی بنادیااوراس میں بلوچ کا لہو بے دریغ بہا،پاکستانی فورسز بلوچ کی خون سے ہاتھ رنگتے رہے بلوچ قتل عام میں نام نہاد قوم پرست نیشنل پارٹی ،زہری کمپنی و دیگر پارلیمانی پارٹیوں نے قابض کے ساتھ مل کر2017 میں فوجی آپریشنز میں انتہائی تیزی لائے اور یہ سلسلہ پورے سال گھمبیرتا کے ساتھ جاری رہاہے، گوادر ،پسنی،جیونی، ،دشت،ضلع کیچ کے تمام علاقوں،مند،تمپ، ہوشاپ، بلیدہ، بالگتر،ضلع آواران،جھاؤ،کولواہ،مشکے،پنجگور،

پروم، بیسمیہ،راغے،گریشہ ریاستی تاریخ ساز مظالم کا شکار رہے،خاران،نوشکی،خضدار،زہری

،قلات،مستونگ،ڈیرہ بگٹی ،کوہلو،نصیر آباد،سبی نیز مقبوضہ بلوچستان2017 میں پاکستانی زمینی و فضائی آپریشنز سے سلگتا رہا،۔مردم شماری کو لے کر قابض ریاست نے پوری فوجی طاقت کے ساتھ تمام ٹولز کو استعمال کیا جو اسکی ریاست و پالسیوں کا حصہ دار یا معاون کار ہیں،بلوچستان میں مردم شماری قابض ریاستی و اسکی فورسز کے لیے ایک سخت چیلنج بلکہ جنگ سے کم نہ تھی،مگرمردم شماری سے قومی بائیکاٹ نے ریاستی قوتوں کو واضح پیغام دیا کہ قومی یکجہتی ہی بلوچ انقلابی اثاثہ اور نور انقلاب ہے۔ مردم شماری میں ناکامی بعد بلوچ سرزمین پر ریاستی جبر و جنگی جرائم میں بے دریغ اضافہ ہوا۔

آبادیوں پر بمباری،انسانی بستیوں کو مکمل طور پر صفہ ہستی سے مٹانے جیسے سنگین جنگی جرائم اس سال تواتر کے ساتھ سامنے آئے،قابض فورسز نے بنگلہ دیش میں کی جانے والی جنگی جرائم سے بھی سخت عمل بلوچستان میں شروع کیا ، خواتین و بچوں کو حراست بعد جسمانی و ذہنی تشدد کا شنانہ بنایا گیا،اسی سال کراچی سے کئی کمسن بچوں سمیت طالب علموں کو بھی نہیں بخشا گیا اور انکو لاپتہ کیا گیا جو سال کے اختتام تک ریاستی عقوبت خانوں میں بلوچیت و علم آگاہی سے لگاؤ کی سزا کاٹ رہے ہیں،اسی طرح آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے اہلیہ ،بیٹی سمیت دیگر خواتین و بچوں کو بھی کوئٹہ سے گرفتار کرکے فورسز نے کئی روز تک جسمانی و ذہنی اذیت سے دوچار کیا ،شدید عوامی دباؤ کے باعث فورسز کو انکو مجبورنا چھوڑنا پڑا،اس واقع کے کچھ روز بعد فورسز نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے دو بہنوں ،شیر خوار بچوں سمیت تیس سے زائد خواتین و بچوں کو لاپتہ کر دیا،۔اگر ہم مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی جنگی جرائم کا موازانہ بنگلہ دیش کے جرائم سے کریں تو بلوچستان میں ریاستی جرائم و سنگینیاں اس سے زیادہ بھیانک ناک ہیں ،اس لیے کہ بنگالیوں کی آبادی بہت بڑی تھی اور اگر آبادی کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو اب تک پاکستانی فورسز نے زیادہ بلوچ کو لاپتہ ،قتل و آبادیوں کو صفہ ہستی سے مٹایا ہے ۔

فورسزنے بلوچ سماج کے گرد ذہنی ،فکری و سیاسی طور پر ایک ایسا تنگ دائرہ کھینچنے کی کوشش و پالیسی بنائی ہے کہ جس کے باہر نہ تو سوچا اور نہ ہی بولا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی کسی ایسی سیاسی و جمہوری سرگرمی کی اجازت ہے جو اس دائرے اور قابض کے مخصوص مفادات سے ٹکراتی ہو، موجودہ نام نہاد جمہوریت میں انسانی حقوق کی پامالی کی ایسی بد ترین مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں جن کی نظیر آمرانہ دور میں بھی نہیں ملتیں، جن میں آئے روز فورسز کی کارروائیاں اور اس دوران حراست میں لئے جانے والے بلوچوں کو لاپتہ کرنا اور پھر ان کی تشدد زدہ مسخ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنا سب سے زیادہ المناک حقائق کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ایک وقت تھا جب نواز شریف اور اس کے رفقاء اپنے اپوزیشن کے دور میں لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی اور یہاں غیر جمہوری طرز حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ،اور اس دوران بلند وبانگ دعویٰ کیاجا تا تھا کہ ان کی حکومت میں یہ سب کچھ نہیں ہوگا ، مگرساڑھے چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین ن لیگی حکومت کے وعدوں کی تکمیل کی راہ تک رہا ہے ۔ نواز شریف بھی بلوچ مسئلے کی اس تاریخی حقیقت اور اس کا سبب بننے والی بنیادوں سے نظریں چرارہا اور بلا آخر خود اپنی فوجی و خفیہ اداروں کے ہتھے چڑگیا، ۔قابض پاکستان و اسکے نام نہاد جموریت کے دعویداروں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مقبوضہ بلوچستان کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت کا اعتراف کر کے اپنی فوجیں بلوچستان سے نکال کر بلوچستان کی خود مختاری تسلیم کرلیں،انکے پاس اسکے سوا کوئی بھی چارہ نہیں اس لیے کہ بلوچ عوام پر قبضہ کے دن سے جاری ریاستی بربریت نے اس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب قاتل جنرل مشرف نے بلوچ کی نسل کشی شروع کی اور اسکے بعد کی قبضہ گیر حکومتوں نے اس نسل کشی کو اجتماعیت کا پیراہن میں لپیٹ کر جاری رکھا۔ نسل کشی سمیت،آبادیوں و حراستی قتل عام میں تیزی لائی گئی،مگر اسکے باوجود بلوچ قومی سوال ،تشخص و اپنی سرزمین پر حق حاکمیت کی جہد میں بلوچ قوم کے قدم نہیں ڈگمگائے۔سیاسی و مزاحمتی جہد میں تیزی کے ساتھ بلوچ قوم کی قربانی کا جنون وطن سے محبت میں ذرہ بھی کمی نہیں آئی۔آج بلوچ مائیں اپنے ایک اولاد کی قربانی کے باوجود دیگر فرزندوں کو قومی جہد میں اپنا کردار اداد کرنے کا جس طرح تلقین کرتے ہیں اسے پاکستانی فوج کی بربریت اپنی ظلم و جبر،بمباری،اغوا و حراستی قتل عام سے مٹا نہیں سکی ہے ،اور یہی بلوچ قومی جہد آزادی کی کامیابی قرار دی جا تی ہے۔

کسی بھی قومی سوال کے گرد جاری تحریک جو ایک مضبوط اورسائنسی بنیادرکھنے والی مسلح شکل بھی اختیار کر چکا ہو اسے محض طاقت کے زور پر سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا ،فوجی طاقت ، اس حقیقت کا مظاہرہ زمانہ ماضی سے لے کر حال تک ہر دور اور مقام کے تجربات میں بڑا واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، بلوچستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کو بار ہا آشکار کر چکی ہے کہ اس سرزمین کوبزور طاقت جس شدت سے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ پہلے سے بھی شدید اور سخت نفرت سے ابھر کر سامنے آجاتا ہے ،یہی کچھ بلوچستان میں آج بھی نظر آتا ہے ، جو فورسز کی تمام تر پے درپے کارروائیوں اور طاقت کے استعمال کے باوجود بلوچ عوام کے دلوں سے قابض کے لیے نفرت میں کمی نہ لا سکی ہے۔بلوچ قوم کی جانب سے قابض سے نفرت میں شدت نے مقبوضہ بلوچستان کی مستقبل کا فیصلہ سنادیا ہے۔ایک کمزور معاشی ،شدت پسند ریاست مقبوضہ بلوچستان میں جاری آزادی کی جنگ کو کسی صورت بھی طول نہیں دے سکتا اس لیے کہ کب تک مذہبی شدت پسندی کے پیسوں یا دہشت گردی کے نام پروصول کردہ فنڈز سے وہ بلوچ کے خلاف جنگ لڑ سکے گا،اگر یہ سلسلہ طول اختیار بھی کر جائے تو اہم مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی حوالے سے پسپا فوج کو وہ کب تک مقبوضہ بلوچستان میں تعینات کر پائے گا ۔یہ چند اہم تاریخی و آفاقی معاملات ہیں،اگر آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ کیا جائے تو ویت نام سمیت کئی تحریکوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہیں۔ان عالمی پاوروں کے سامنے پاکستانی زر خرید فوج کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔آج پاکستان کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان میں شدت سے طاقت کا استعمال اصل میں اسکی آخری سانسیں لینے کے مترادف ہے یقیناًوہ با آسانی مقبوضہ بلوچستان کی زر خیز سرزمین کو چھوڑنے والا نہیں مگر اپنی پسپا فوج کو حوصلہ دینے کے ساتھ چین کی آمرانہ پالیسیوں کا ساتھ دینے کے لیے آپریشنز میں تیزی،قتل و غارت میں شدت ہی اس کی شکست و آخری سانسیں لینے کا ثبوت ہے۔اب ایسے میں بلوچ قوم کواپنے وطن سے محبت اور سرزمین کی دفاع میں مزید تیزی ، اعتماد و قربانیوں اور اچھی حکمت عملیوں کے ساتھ دشمن کے تمام پالیسیوں و پروپیگنڈوں کا ادراک کرکے انہیں کاؤنٹر کرنا چائیے۔آج قابض و انکے مقامی حواریوں کی حالت زیر ہو چکی ہے وہ صرف پروپیکنڈوں و اپنی میڈیا کے ذریعے بلوچ جہد کے خلاف زہر افشانی کر کے دنیا کو بے وقوف بنانے کے ساتھ اپنی شکست خوردہ فوج و دیگر حواریوں کو حوصلہ دے رہے ہیں۔

اسی سال ریاستی فورسز کی جانب سے ایک بار پھر سنگر پر قدفن لگانے کے لیے پوری طاقت کا استعمال کیا گیا۔ادارہ سنگر کی ویب سائیٹ پر سائبر حملے تو معمول کی باتیں ہیں،سنگر کتابی سلسلہ 15 ’’پلید تر باشد‘‘ جو عظیم دانشور اُستاد میر محمد علی ٹالپر صاحب کی تحریروں کا نایاب مجموعہ تھا،کو حراست بعد آرمی کیمپ منتقل کر دئیے گیا۔

بلوچ جہد کے خلاف پروپیگنڈہ مشینری استعمال کر کے اسکے خاتمے کا دعویٰ کرنے والے2017 میں گوادر،پسنی،کیچ وبالگتر،مند،تمپ،دشت،بلیدہ،پروم،مشکے ،آواران،جھاؤ،خضدار،بسیمہ،راغے،خاران، دیگر علاقوں میں سرمچاروں کی بہترین حکمت عملی کے تحت کارروائیوں سے بوکھلا چکے ہیں۔

سرزمین بلوچاں پرشایدہی ایساکوئی خاندان ہو جو ریاستی بربریت سے بچ سکاہو، بلوچستان بھر میں میں ایسے سینکڑوں خاندان ہیں جنکے گھر کے تمام مرد و نوجوان شہید کیے گئے اور سلسلہ ہنوز جاری ہے، اس وقت مقبوضہ بلوچستان کی حالت دنیا کی بدترین جنگ زدہ علاقوں سے بدتر ہے،ایسے میں سرزمین بلوچ کی داخلی صورت حال کو دنیا کے سامنے لانا آزادی پسند سیاسی تنظیموں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے،۔ بلوچ قوم کی ہمت اور جہد سے جڑی قربانیاں قومی اثاثہ اور دشمن کی شکست سے کم نہیں ہیں۔

سی پیک

سی پیک منصوبے کو تجارتی یا معاشی منصوبے کی آڑ میں پاکستان اورچین نے شروع کیا اس کا مرکز گوادرپورٹ ہے جسے چین نے 2002میں ایک دوطرفہ معاہدے کی صورت میں تعمیرکیا گوادرپورٹ کو پہلے ایک سنگاپورکی ایک کمپنی کوچلانے کے لئے دے دیاگیامگر بلوچ قومی تحریک کی طاقت نے اسے آپریشنل نہیں ہونے دیا، بڑے بڑے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ،گوادرپورٹ محض ایک پورٹ بن کررہ گیا اس میں کوئی تجارتی اور معاشی سرگرمی ممکن نہ رہی توپاکستان نے ایک بارپھر چین کو اس میں شامل کردیااب کے چین ایک تجارتی پارٹنر نہیں بلکہ عسکری شراکت دارکی حیثیت سے اس منصوبے میں شامل ہوگیامطمع نظراس خطے میں انتہائی تزویراتی اہمیت کے حامل بلوچ سرزمین تھا 2015کوچین اورپاکستا ن نے سی پیک نام سے رسوائے زمانہ معاہدہ کیا،یہ معاہدہ اس حدتک عسکری اورسامراجی عزائم کے حامل ہے کہ اس کے شرائط سے پاکستانی عوام کوبھی آگاہ نہیں کیاگیا مگرپاکستان اورچین نے کسی بھی عالمی سرمایہ کاری کے منصوبے سے زیادہ اس کا تشہیرمہم چلائی ، اس وسیع تشہیر مہم کا بنیادی مقصد مبصرین یہ بتاتے ہیں چونکہ سی پیک عسکری عزائم کے حامل منصوبہ ہے اس کے ساتھ چین کے سامراجی اورخطے پرکنٹرول کے عزائم جڑے ہوئے ہیں جنہیں وہ گوادرپورٹ اوراس کوچین سے منسلک کرنے والی طویل شاہراہ کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے مگر عالمی اورعلاقائی طاقتیں اس کے ارادوں کو بھانپ چکے ہیں اوراس منصوبے کی مخالفت میں کمر کس رہے ہیں اس لئے چین اور پاکستان تشہیر کے ذریعے اسے تجارتی منصوبہ قراردے کر دیگر ممالک کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ اسے کسی بھی طریقے سے کامیاب کیاجائے لیکن اس عسکری منصوبے کو سب سے زیادہ بلوچ قومی تحریک کا سخت جان مزاحمت کا سامناہے ،سی پیک سمیت تمام استحصالی منصوبے نہ صرف بلوچ کے منشاکے برخلاف وجود میں لائے جاچکے ہیں بلکہ یہ بلوچ قومی نسل کشی اورتباہ کن استحصا ل کا ذریعہ ثابت ہورہے ہیں ۔

چین سمیت تمام عالمی طاقتیں اس امرسے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس خطے میں طاقت کے توازن کا چابی بلوچ سرزمین پربلوچ قوم کے ہاتھ میں ہے اس لئے چین اپنے عسکری مفادات اورطاقت کے توازن کو اپنی حق میں لانے کے لئے بلوچ نسل کشی اوراستحصال میں پاکستان کے ساتھ شامل ہوکر جنگی جرائم کارتکاب کررہی ہے لیکن گزشتہ سترسالوں کی بالعموم اورستر ہ سالوں کی بالخصوص تمام درندگی اورمظالم کے باوجود پاکستان اب تک بلوچ قوم کو شکست نہیں دے سکا ہے اس لیے ایک مضبوط شراکت دارکی حیثیت سے چین کو شامل کیاگیا،جب سی پیک کا اعلان ہوا تواس کے بعد چشم فلک بلوچ قوم پر مظالم کاایسا سلسلہ دیکھ رہاہے کہ مثال ہی ملنا ناممکن ہے ،سی پیک نامی اس منصوبے سے منسلک علاقوں میں لاکھوں آبادیوں کو بزورِشمشیرنکل مکانی پر مجبورکیاگیاہے وہ اندرون مقبوضہ بلوچستان اورسندھ میں انتہائی مشکلات سے دوچار زندگی گزاررہے ہیں دوسری طرف اب تک چالیس ہزار سے زائد بلوچ حراست بعد لاپتہ کئے جاچکے ہیں ،ہزاروں کی تعدادمیں شہید کیے گئے ہیں مگر ان تمام مظالم کے باوجود قابض ریاست بلوچ کے دل میں خوف و ہراس پیدا کرنے میں مکمل ناکام ہے دوسرے منصوبوں کی طرح سی پیک نامی عفریت بھی ناکامی سے دوچار ہے شائد 2018میں چین گوادرمیں اپناایک نیول بیس قائم کرے اورچین پاکستا ن کے ساتھ مل کربلوچ قومی تحریک آزادی کوکچلنے میں مزیدتیزی لائے ،ویسے غیراعلانیہ طورپر گزشتہ کئی سالوں سے چین بلوچ نسل کشی اوراستحصال میں پاکستان کے ساتھ ہمکاراورہمقدم ہے۔

پاکستا ن اورچین اس خطے کی اہم گیٹ وے ،عسکری و معاشی پورٹ ودیگربیش قیمت وسائل سے مالا مال بلوچ سرزمین کو اپنامشترکہ کالونی بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے نظر آرہے ہیں ،اقتصادی راہداری کے نام پر صرف سیکورٹی کی مد میں کروڑوں ڈالر مختص کئے گئے ہیں ،مظالم کے جاری سلسلے میں نئی شدت لائی گئی ہے پاکستانی فوج فضائیہ کی مدد سے روزانہ آپریشن کررہاہے تاکہ کسی طرح بھی سی پیک کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ آزادی کی جہد کو سبوتاژ کیا جا سکے،لیکن سی پیک کو لے کر چین کی جانب سے کافی تشویش دیکھنے میں آرہی ہے ، تجزیہ نگاروں کے مطابق چین پاکستان کی مقبوضہ بلوچستان و سی پیک پر سیکورٹی اورگرفت سے بالکل خوش نہیں اور ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں باقاعدہ سی پیک سیکورٹی کو لے کر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا کہ اس حوالے چین پاکستان مشترکہ سیکورٹی دینگے ،سی پیک کے سیکوریٹی نام پرقائم نئی فوجی ڈویژن عملاََایک واضح ڈیتھ سکواڈ بن چکاہے یہ فوج کے دیگرحصوں سے کہیں زیادہ مظالم ڈھارہاہے مگراپنی قومی آزادی سے وابستگی اورتاریخی شعورکے بدولت بلوچ ماؤں،بزرگوں ،بہنوں کی ہمت اورحوصلہ فلک بوس ہیں ،بلوچ ماؤں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ جوان سال بچوں کے شہادت پرآہ و فغان کے بجائے آزادی کا گیت گاکرانہیں سپردِ گلزمین کررہی ہیں ۔ آج سرزمینِ بلوچ پر سیاسی شعور اورآزادی سے وابستگی بلوچ کی خون کے ذرے ذرے میں شامل ہو چکا ہے،ایک مکمل جنگی ماحول اورمزاحمتی فضاء میں بچوں کو سنِ بلوغت میں قدم رکھنے سے پیشتر دشمن کا احساس ہوجاتا ہے اوروہ اپنے راستے کا تعین کرتے ہیں اسی طرح آزادی کے مسلح محاذ پرقابض کو زیر کرنے والے سرمچاروں کی جدوجہد اورقربانیاں قابل دید ہیں،اس سرزمین پر شہید شہک جان جیسے ہزارو ں مثالیں موجودہیں جواپنی شہادت کے پیغام سے بلوچ ماؤں،بہنوں،بیٹیوں، نوجوانوں کوآزادی ،قربانی اورامرتاکاایسا درس دے رہے ہیں جورہتی دنیا تک ایک مثال رہیں گے۔

دوسری طرف سی پیک کے ذریعے چین عالمی طاقتوں مدمقابل آنے کے لئے بالخصوص بھارت کو گھیر نے کی کوشش کررہاہے لیکن سی پیک کو لے کر بھارت بھی عالمی دنیامیں چین کے خلاف رائے عامہ ہموارکرنے میں بظاہرکامیاب نہیں ہوسکاہے اس پر بھارتی قیادت کو ضرورسوچناچاہئے مگر اصل مسئلہ بلوچ قوم کا ہے، کیونکہ سی پیک جیسی دیوہیکل منصوبے کی کامیابی کا مطلب ہی بلوچ قومی تباہی ہے جس کا بلوچ قوم کسی بھی عنوان پر متحمل نہیں ہوسکتاہے اندرونی محاذپر بلاشبہ آزادی پسند پارٹیاں سی پیک کے خلاف وسیع پیمانے پرآگاہی دینے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اورمسلح محاذنے اس منصوبے کو ناکام بنانے میں بڑے بڑے کاروائیاں کی ہیں جن کے نتائج اس منصوبے کی ناکامی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں چونکہ یہ مسئلہ صرف بلوچ اوربلوچستان سے وابستہ نہیں بلکہ اس کے اثرات خطے سمیت پوری دنیاپرپڑسکتے ہیں اورسی پیک و مقبوضہ بلوچستان میں چین کے سامراجی عزائم کو لے کر بلوچوں کی خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے تاریخ کے اس اہم موڑ پر بلوچ آزادی پسندپارٹیوں کوایک جامع اور متوازن پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ سی پیک سمیت تمام پاکستانی مظالم کے خلاف عالمی دنیاکی حمایت حاصل کی جاسکے ایک بات یادرکھنے کی قابل ہے کہ کسی بھی قومی تحریک کے لئے غیر متوازن اور ایک جانب جھکاؤکی پالیسی اورسفارت کاری مشکلات میں اضافے کاباعث بنتا ہے پالیسیوں کا محوراقوا م متحدہ ہوناچاہئے جوکہ بین القوامی برادری کا متفقہ عالمی ادارہ ہے جس کے وجودکا مقصد قومی تنازعات کا حل ہے ۔

اقوام متحدہ کے ساتھ تمام عالمی طاقتوں اوردیگرممالک میں سی پیک سمیت بلوچ نسل کشی میں معاون ہونے والی منصوبوں اورپاکستان کے کالے کرتوتوں کے خلاف موثر آگاہی مہم کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف بلوچ قوم کے حق میں رائے عامہ ہموارہو بلکہ پورے خطے میں ایک نئی امکان پیداکیاجاسکے ۔

میڈیا

میڈیا کا کام سچ کو عوام کے سامنے لانا ہے ،جہاں جہاں ظلم ہورہاہے ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں وہاں کی صورت حال کو دنیا کے سامنے لاکر اُ س ظلم کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے لیکن ایسا صرف آزاد میڈیاکرتا ہے اوراُن مہذب ممالک کی میڈیا ادارے ایساکرتے ہیں جنہیں انسانی اقدار پربھروسے کاشرف حاصل ہے چونکہ پاکستان دنیاکے نقشے پر ایک غیر فطری اور انسانی اقدارسے محروم ریاست ہے اس میں انسانی اقدار کے احترام وشرف کا امید رکھنا ہی عبث ہے لہٰذا ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں میڈیاآج بلوچ قومی تحریک کے خلاف باقاعدہ ایک فریق بن کر سامنے آچکاہے بلوچ قوم کے خلاف ریاستی مظالم کو سامنے لانا توکجا بلکہ نام نہادآزاد پاکستانی میڈیا فوج اورریاستی اداروں کی زبان بول رہاہے ،بلوچ قومی تحریک کو انڈیا،امریکہ اوراسرائیل کی پراکسی جنگ قراردینے کی کوششوں میں میڈیا اور آئی ایس پی آرکے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے پاکستانی میڈیااس سے کہیں زیادہ گندی زبان بلوچ قومی تحریک کے لئے استعمال کررہاہے جو ریاستی ادارے بولتے ہیں، یہاں سے یہ حقیقت ہمارے سامنے آجاتا ہے بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کے تمام اداروں کی طرح میڈیابھی ایک ریاستی ادارہ ہے جس کے لئے انسان ،انسانیت اورانسانی حقوق سے کہیں زیادہ پاکستان کی نام نہاد سلامتی اور قبضہ گیریت اہمیت رکھتا ہے ۔

قابض ریاست ،ریاستی فوج ،منافقت کے دلدل میں دھنسی مذہبی جماعتیں،کاسہ لیس پارلیمانی پارٹیوں سمیت میڈیا پوری طرح اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح بلوچ جدوجہد کو داخلی طور پر اوردیگر اقوام کے سامنے غلط رنگ میں پیش کر کے اسے خانہ جنگی یا بیرونی مداخلت و مہم جوئی قرار دیں،اس ضمن میں پاکستان نواز تمام بلوچ گروہ اور جماعتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ فوج کی زبان و پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں،اس باب میں حزب اقتداراورحزب اختلاف کا فرق مٹ جاتاہے کیونکہ یہ فرق جمہوری ملکوں اورجمہوری ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں حزب اختلاف سرکاری غلط کاریوں اور انسانی حقوق کے خلاف آوازاٹھاکر اس کی سدباب کے لئے جدوجہد کرتے ہیں مگر یہاں یہ تمام ایک صفحے پر ہیں اوراس صفحے پرپاکستانی ریاست اورفوج کے قلم سے صرف بلوچ کی تباہی لکھی جاچکی ہے اورجو آج بظاہر سرکارمیں نہیں ہیں ان کا کوشش یہی ہے کہ کسی طرح ریاست کی خوشنودی حاصل کرکے اقتدارمیں شامل ہوں اس امرسے پوری دنیاآگاہ ہے کہ پاکستان میں اقتدارکا راستہ فوج اورخفیہ ادارے متعین کرتے ہیں، لہٰذااپنی باری کے حصول میں سبھی فوجی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔اسی طرح نام نہادمیڈیابھی اپنے حصے کی حصول اورمراعات کے ساتھ ساتھ مزید ترقی کے مواقع کی کوشش میں بلوچ جدوجہد کے خلاف فوج کے ساتھ برسرپیکارہے ،میڈیاکا منافقانہ اوریک طرفہ رول اس وقت مزید کھل کر سامنے آگیاجب نام نہادمڈل کلاس ، بلوچ کش مالک اینڈ رجیم کے آتے ہی ہزاروں بلوچوں کو فوج کے سامنے مزاحمت کار بنا کر پیش کیا گیا کہ بلوچ مزاحمت کار ہتھیار ڈال رہے ہیں ہر دوہفتے بعد ایسے ڈرامے رچائے جاتے رہے اورمیڈیازوروشورکے ساتھ یہ تاثردیتارہاکہ اب صرف چند سو افراد رہ گئے ہیں،مالک رجیم کے بعد زہری اینڈ کمپنی بھی وہی عمل دہرا رہا ہے ،لگ بھگ دو سال میں بھی اس نے ہزاروں افراد کو مزاحمت کار پیش کرکے فوج کے سامنے سرنڈر کرایا اورساتھ یہ اعلان بھی باربارکیاجاتاہے کہ ’’ا جی اب مُٹھی بھر رہ گئے ہیں‘‘لیکن میڈیانے کبھی بھی یہ سوال نہیں اٹھا یاکہ اتنے ’’ہزارمزاحمت کاروں‘‘کی سرنڈرکے باوجود پاکستانی فوج روزانہ کی بنیادوں پر کس کے خلاف بلوچستان کی طول وعرض میں انسانیت کی دھجیاں اڑارہاہے ،فوج اوردوسرے ذمہ دار کئی ہزار’’دہشت گردوں‘‘کو گرفتارکرنے کا دعویٰ کررہے ہیں یہ کہاں اورکس حال میں ہیں ،انہیں کسی عدالت میں کیوں پیش نہیں کیاجارہاہے ،مگر میڈیاپراس ضمن میں چھپ کی چھاپ لگی ہوئی ہے اس کی وجہ سمجھ میں آنی چاہئے کہ میڈیا فوج کاحصہ ہے اورفوج کے ایک حصے کو لازماََ فوج کا زبان بولناچاہئے ۔

پاکستانی میڈیا سے یہی اُمید رکھی جاسکتی ہے کہ جب تک بلوچ قومی تحریک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتا ہے یہ ’سرنڈر‘کرتے مزاحمت کار دکھاتے رہیں گے اورپاکستانی فوج کو’’عسکریت پسندوں ‘‘کے خلاف کاروائیاں کرتے دکھاتے رہیں گے ۔اس میں بلوچ قوم پر پاکستانی فوج مظالم کاکیسے کیسے پہاڑتوڑتارہے گا یہ اس میڈیا کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔

میڈیاکبھی بھی یہ سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرتاکہ اتنے ’’ہزاروں‘‘ کے سرنڈرکے باوجود پاکستان کے کاسہ لیس پارلیمانی گد اوربلوچ قومی غدار بغیر فوجی قافلے و سیکورٹی کے اپنے گھروں میں کیوں نہیں جا سکتے،اسی طرح کٹھ پتلی وزیراعلیٰ زہری یا سرفراز بگٹی و دیگر درجنوں فوجی سیکورٹی گاڑیوں بلٹ پروف گاڑیوں بغیر ایک کلومیٹر سفر کیوں طے نہیں کر سکتے ، کہاں اورکون سی سرکاری رٹ قائم ہے،بلوچ جہد آزادی کو ختم کرنے والوں کا دعوے کیا صرف کوئٹہ تک محدود ہیں؟ وہاں بھی ہر دوسوگزکے فاصلے پر آرمی کی چوکیاں کیوں قائم ہیں ؟یہاں سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہوچکاہے کہ بلوچ بارے پاکستانی میڈیا اندھاہوچکاہے مگربلوچ بارے یہی اندھی اوربہری پاکستانی میڈیادروغ گوئی کی انتہا کرچکاہے ،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ میڈیاجسے راستی اور سچائی کوسامنے لاناچاہئے تھا وہ اس حدتک کیوں گرچکاہے اس کاجواب اتنا مشکل بھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان کوئی ایسی ریاست نہیں کہ جس کاایک تاریخ ہے ،ایک تہذیبی پس منظر ہے اس کے تاریخ میں جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اسے شب و روز اپنی سلامتی کا خطرہ نہ ہوبلکہ پاکستانی ریاست ایک غیرفطری اور مغربی وسامراجی مفادات کے لئے جنم میں لائی گئی تاریخ کا ایک غلطی ہے اس کی نام نہاد سلامتی کبھی بھی زمین بوس ہوسکتی ہے ،یہ اپنی قیام کے محض بیس سال بعد اپنا آدھے حصے سے ہاتھ دھوچکاہے اورباقی بھی ڈول رہاہے کیونکہ ریاستیں اپنی تاریخ اوراپنی زمین پر قائم ہوتے ہیں پاکستان تو قبضہ گیریت اورتاریخ میں ایک دھونس اوردھاندلی کے ساتھ قائم کئی گئی ہے اس لئے اس میںآزادمیڈیاکا تصورہی ناممکن ہے ،اگرمیڈیاسچ بولے گا تو سب کچھ دنیاکے سامنے آجائے گا اورپاکستان ریاست ایک دن بھی نہیں ٹک پائے گا،میڈیاکی ریاستی بیانیے کی تشہیر اوراصل صورت حال کو دنیاکے سامنے لانے کے راہ میں رکاوٹ بننے کے باوجود بلوچ جدوجہد نے پاکستان کو اندرونی طور پر مکمل تباہی کے دہانے پرپہنچایا دیا ہے۔پاکستانی فوج کے حوصلے بلوچ سرمچاروں کے آئے روز کے حملوں سے مکمل پسپا ہو چکے ہیں۔

بلوچ کے نام پر سیاست کرنے والے بھی بلوچستان بدرہوچکے ہیں اسلام آباد،کراچی و دیگر پاکستانی شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں،کبھی کبھار یہاں مقامی مخبروں کونئی ذمہ داریا ں سونپنے ،نئے مخبر بھرتی کرنے اوربلوچ نسل کشی کے عمل میں تیزی لانے کے لئے درجنوں فوجی سیکورٹی کے ساتھ اپنے اپنے آبائی علاقوں کا صرف چند گھنٹوں کے لیے دورہ کر کے پھرجن کی طرح راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا کی نظر میں بلوچ کا خون پانی سے زیادہ سستا ہے جس کے بہنے ہی سے میڈیاکی روزی روٹی وابستہ ہوچکاہے وہ اس کی فکر کیونکر کرے گا،مگر عالمی میڈیا کو کوئی استثنیٰ نہیں کہ وہ بھی بلوچ قوم کے تئیں ایسی منافقانہ روش پر قائم رہے ،اب یہاں سوال آزادی پسندپارٹیوں کے سامنے ضرورآتاہے کہ وہ ان وجوہات کو تلاش کریں کہ عالمی ادارے و عالمی میڈیابھی قابض کی جبر کے سامنے بے بس ہیں یا بلوچ آزادی پسند سیاسی تنظیمیں انھیں ریاستی جبر کی تفصیلی اعدادو شمار اور حقائق پر مبنی دستاویزات پیش کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ جب تک عالمی میڈیامقبوضہ بلوچستان کی صورت حال کو دنیاکے سامنے نہیں لائے گا ،عالمی دنیا یہاں کی صورت حال سے واقف نہیں ہوگا اوریہ بلوچ نسل کشی اور استحصال میں تیزی لانے کا موجب ہوگا ۔

دنیا اور بلوچ کاخارجہ پالیسی

کسی بھی تحریک،جدوجہد یا ملک کی مضبوطی کا ایک اہم ستون خارجہ پالیسی اورعالمی دنیاسے تعلقات ہوتے ہیں،چونکہ غلام قوم کے پاس ریاست اوراقتداراعلیٰ نہیں ہوتاکہ جس کے بل پر وہ عالمی دنیا سے تعلقات استوار کرے ،غلام کے پاس تحریک ہوتا ہے جسے وہ اپنے قبضہ گیر کے خلاف چلارہاہوتاہے اوریہی آج بلوچ کررہاہے اوربلوچ اپنی قومی آزادی کے لئے ایک منظم تحریک چلارہاہے لیکن پاکستان کے مقابلے میں بلوچ کمزورپوزیشن پر کھڑاہے ،پاکستان ایک باقاعدہ ریاست ہے جس کے دنیاکے بیشتر ممالک کے ساتھ ساتھ سیاسی ،سفارتی اورتجارتی تعلقات قائم ہیں وہ اقوام متحدہ کا باقاعدہ رکن ملک ہے، اس کے مقابلے میں بلوچ ایک قوم ضرورہے اس کا سرزمین ہے ،وسائل ہیں مگر یہ سبھی قابض کے زیرتصرف ہیں اپنی قومی آزادی کے لئے بلوچ قومی تحریک کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ دنیا میں بلوچ قوم پر جاری پاکستانی مظالم اوردہشت گردی کے بارے میں معلومات وآگاہی پہنچایاجائے اوردنیا کو باورکرایا جائے کہ پاکستان دہشت گردی کا منبع ومرکزہے ،پاکستان دہشت گردوں کا پالنہارہے اورپاکستان بلوچ نسل کشی میں مصروف ہے اوربلوچستان کی آزادی کی صورت میں دنیا کو دہشت گردی کے خاتمے میں کافی مددملے گا بلکہ اس خطے میں امن و خوشحالی کے بے شمار امکانات پیداہوں گے کیونکہ بلوچ جغرافیہ ،بلوچ سیکولر تشخص ایک بہتر دنیاکی تشکیل میں معاون ہوگا۔

بلوچ ڈائسپورہ کے سامنے یہ سوال ہرووقت موجودہونا چاہئے کہ تاریخ نے انہیں موقع عطاکیاہے کہ وہ بلوچ قومی آوازبن کر پاکستان کے دہشت گردی کے بارے میں آگاہی پھیلائیں اوردنیاکا سیاسی وسفارتی حمایت حاصل کرکے بلوچ قومی تحریک کواستحکام عطاکریں،بین الاقوامی حمایت کا حصول ہی بلوچ قوم کو مہذب اقوام کے برابر کھڑا کرنے کاابتداء ہوگا،۔ہمیں تاریخ کے اس سچائی کا سامناکرنے کے لئے تیارہوناچاہئے کہ تمام ممالک اورعالمی طاقتیں اپنے قومی مفادات کو دنیاکی ہرچیزپر ترجیح دیتے ہیں اوراپنے قومی مفادات کے لئے کسی سے بھی ہاتھ ملاسکتے ہیں اورمفادات کے محوروالے دنیامیں ہمیں بلوچ قومی تحریک آزادی کے لئے اپنے شرائط پر حمایت حاصل کرناہے اورہرصورت میں حاصل کرنا ہے کیونکہ اس دورمیں آزادی کی تحریک بیرونی دنیا کے حمایت کے بغیر بمشکل کامیاب ہو،مبصرین کے مطابق بلوچ قوم کے پاس ایک مضبوط سفارتی مشن ہو،بلوچ قوم جلد ہی بین الاقوامی دنیاکی مکمل سیاسی و سفارتی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا،اس کا وجہ یہ بتاتے ہیں کہ دنیا جن تبدیلیوں سے گزررہاہے اس میں بلوچستان انتہائی ناگزیر اہمیت اختیارکرچکاہے اورپاکستان اپنی دوغلے پن ،دہشت گردی کے فروغ دینے اوردہشت گردگروہوں کے ذریعے دنیاکوبلیک میل کرنے کی وجہ سے نہ صرف عالمی اعتبار کھوچکاہے ،بلکہ بعض حلقوں کے مطابق پاکستان عالمی امن کے لئے براہ راست خطرے کی علامت بن چکاہے دنیامیں دہشت گردی کے بیشتر واقعات کے تانے بانے پاکستان سے جاملتے ہیں، دنیاکی کسی بھی کونے میں دہشت گردی کا واقعہ ہواس کا کوئی نہ کوئی رشتہ پاکستان سے ضرورہوتاہے پاکستان اس وقت دنیاکا واحدملک ہے جو کھلے عام دہشت گردوں کی کفالت کا دعویٰ کرتا ہے ،عالمی سیاست پر نظررکھنے والے اس امرسے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ دنیامیں پیچیدہ سیاسی وتجارتی تعلقات اور اپنی اپنی قومی مفادات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے جونئے صف بندیوں کے تعین کرنے میں مانع ہوتے ہیں مگربلو چ قوم کی عظیم جغرافیہ اورسیکولرشناخت دنیاکے لئے نئی امکانات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے سیاسی محاذپرموجود سب سے بڑی سیاسی پارٹی بلوچ نیشنل موومنٹ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایک مضبوط اور سائنٹیفک بنیادوں پر قائم سفارتی مشن کے تشکیل کرکے بین الاقوامی سفارتی محاذپر سرگرم کرداراداکرناچاہئے ۔بلامبالغہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس وقت عالمی دنیامیں بلوچ نیشنل موومنٹ کے پاس وافرمقدارمیں سیاسی کارکن اورپختہ کیڈرموجودہے ،جس طرح وہ سفارتی محاذپر کام کررہے ہیں وہ یقیناقابلِ تعریف ہے مگر وقت وحالات اس میں جدت لانے کاتقاضا کرتے ہیں 2017 میں بلوچ آزادی پسند دنیا بھر میں قدرے زیادہ متحرک نظر آئے، ریاستی بربریت پر احتجاج اورمظاہرے ہوتے رہے اوربالخصوص بلوچ نیشنل موومنٹ نے سی پیک حوالے ایک عالمی سطح کا کانفرنس منعقد کیاگیا،اس کے علاوہ فری بلوچستان تشہری مہم نے بھی آگاہی کا کام انجام دیااس کے بعد ایک ورلڈبلوچ آرگنائزیشن کے نام سے ایک نئی تنظیم نے لندن اورنیویارک میں ایک ایسی تشہیری مہم چلائی جس نے میڈیامیں بہتر جگہ پائی اس کے علاوہ دنیا کے کئی اہم ممالک میں بی این ایم ،بی آرپی سمیت دوسرے تنظیموں کی جانب سے احتجاج،مظاہرے،و دیگر پروگرام بھی کہیں نہ کہیں کچھ آگاہی کا کام ضرور کر گئے،بیرونی ممالک میں بلوچ آزادی پسندوں کی سر گرمیاں جدوجہدکے لئے نیک شگون ہے جس نے یقیناًبلوچ قومی تنازعے اورپاکستان کے مظالم کودنیاکے سامنے پیش کرنے میں مدد کی ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اس سال بلوچ آزادی پسند تنظیموں کی جانب سے آپسی ہم آہنگی دیکھنے کو ملی ہے،بلوچ قومی تحریک اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس ہم آہنگی کو بتدریج اتحادمیں ڈھال کر اشتراک عمل کی جانب بڑھاجائے ،یہ سوال آزادی پسند پارٹیوں کو اپنے اداروں میں زیربحث لاناچاہئے کہ 2017 میں بلوچ تنظیموں کی خارجہ پالیسی و حکمت عملیاں اطمیان بخش رہی ہیںیانہیں ،اگر جوا ب’ نہیں ‘ہوتوتمام پارٹیوں کو 2018کاآغاز بہتر حکمت عملیوں اورآپسی یگانگت کے ساتھ کرنے ضرورت ہے ۔

بلوچ قومی جدوجہدکی پیش رفت اورکامیابی بڑی حدتک خارجہ پالیسی پرانحصار کرتاہے،گزشتہ سالوں کی پاکستان کی جارحیت اورانسانی حقوق کی پامالیوں کے جائزے سے یہ بات واضح ہے کہ 2018 کاسال گزشتہ سالوں سے زیادہ کٹھن و مشکلات بھراہوگا،اس پر بلوچ آزادی پسند سیاسی و مزاحمتی تنظیموں کو اپنی حکمت عملیاں ترتیب دینی ہوں گے۔

خارجہ پالیسی کے کئی جز و حصے ہوتے ہیں۔آزادی پسند پارٹیاں ضروراس سے آگاہ وباخبر ہوں گے چند موضوع ہم یہاں آزادی پسندپارٹیوں کے سامنے رکھتے ہیں کہ اپنی سالانہ حکمت عملیوں کے تعین میں ان پر ضرورسوچاجائے ۔

1 ۔سال کے طے شدہ منصوبہ بندیاں،پروجیکٹس

a ،سفارت کاری

b ، سوشل میڈیا کا استعمال

c ،ڈاکو منٹریزی

d ،انسانی حقوق کی صورت حال

e ،احتجاج

2 ۔ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی پالسیاں

3 ۔آپسی تعاون و مشترکہ منصوبہ بندیاں

ہم جانتے ہیں بلوچ آزادی پسند سیاسی تنظیموں کی اپنی اپنی الگ ساخت ،حکمت عملیاں اورپالیسیاں ہوتے ہیں ،مگران میں بلوچ قومی آزادی اورنیشنلزم کانظریہ مشترک ہے لہٰذا سردست اتحاداوراشتراک ممکن نہ ہو تو وہ چند نقات پر سالانہ حکمت عملی بناکر ان پر کام شروع کرسکتے ہیں جو سال کے شروع میں مشترکہ طے ہونے چاہئیں ،یہا ں اسے زیربحث لانے کی ضرورت اس لئے پڑی کیونکہ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتے ،بس اچانک یا ہنگامی طور پر کام کیا جاتا ہے جو کسی بھی صورت میں ایک بہترین ، موثر اور تواناقومی خارجہ پالیسی کی عکاسی نہیں کرتااگرکہاجائے کہ بلوچ خارجہ پالیسی ’’ایڈہاک ازم ‘‘کاشکارہے توبے جا نہ ہوگااس لیے آزادی پسند پارٹیوں کو چائیے کہ وہ سال کے شروعات ہی میں پورے سا ل کے لئے منصوبہ بندیاں ترتیب دیں اگرہنگامی صورت حال درپیش آئی تواس پر بھی آسانی سے عمل ممکن ہوجائے گاایسا کرنے سے تمام خارجہ امور آسانی سے نمٹائے جاسکے گے بلکہ موثراوردوررس نتائج کے حامل ہوں گے ۔

***

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved