skip to main |
skip to sidebar
نیتاجی ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات
(.....ایک قسط وار سلسلہ.....)
تحریر : شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر
’’نیتا جی‘‘ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی
سوانح عمری ، جدجہد ،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و
دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں
جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ
اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے
ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے ۔ہم بلوچ
قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار
شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات ، فکرو
نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں ۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام
لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین ، بلوچ حلقوں اور بلوچ
جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے ۔(ادارہ سنگر )
(گذشتہ سے پیوستہ)
( چھٹی قسط)
گاندھی جی
کے خلاف بغاوت
اس طرح آزادی وطن کا یہ پجاری اپنی صحت بحال کرنے کیلئے یورپ روانہ ہوگیا۔
روانگی سے پیشتر جہاز سے شری سبھاش بوس نے اپنے ایک دوست کو خط لکھا۔ جس
میں درج ہے-:
"میرے پاسپورٹ کی تصدیق آسٹریا۔اٹلی۔ فرانس اور سوئیٹزرلینڈ کے لئے کی گئی ہے۔ لیکن جرمنی جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔"
آپ نے مسٹر ہیلٹ ہوم سیکریٹری گورنمنٹ ہند کو بھی ایک زور دار چٹھی لکھی۔
"میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کہ حکومت میرے انگلستان جانے سے کیوں خوفزدہ
ہے۔ خصوصاً اس حآلت میں جبکہ انگلستان میں میری کڑی نگرنای ہوسکتی ہے۔"لیکن
اس پروٹسٹ کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
شری سبھاش چندر بوس ہندوستان سے سیدھے آسٹریا پہنچے۔ اور وی آنا کے ایک
اسپتال میں علاج کے لئے داخل ہوگئے۔ ان دنوں ہندوستان کی آئینی ترقی کے
متعلق حکومت برطانیہ کا وائٹ پیپر شائع ہوچکپا تھا۔ رائٹر کے نمائندہ نے اس
وائٹ پیپر کے متعلق شری سبھاش کے تاثرات جاننے کیلئے وی آنا میں ان سے
ملاقات کی۔ بستر علالت پر لیٹے ہوئے آپ نے فرمایا-:
"یہ وائٹ پیپر میرے جیسے انتہا پسند کانگریسیوں کی پوزیشن مضبوط کردیگا۔ جب
تک ہندوستان کو اپنی نجات حآصل کرنے کیلئے مکمل ذمہ داری حاصل نہیں ہوتی۔
میرے دیش ملیں ہرگز امن قائم نہیں ہوگا۔ اگر ہندوستان کے ریاستوں کے ساتھ
الحاق کا مسئلہ رکاوٹ ثابت ہو۔ تو صرف برطانوی ہندوستان کے صوبوں کی
فیڈریشن قائم ہوسکتی ہے۔ لیکن ہم ہندوستان کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت
برداشت نہیں کرسکتے۔ ورنہ کامل آزادی کا مقصد فوت ہوجاتا ہے"۔
شری سبھاش بوس کی ہندوستان سے روانگی کے پورے ایک ماہ بعد حکومت ہند کے ہوم
ممبر نے شری سبھاش پر کھلم کھلا یہ الزام لگایا کہ ان کے تعلقات انقلاب
پسندوں کے ساتھ ہیں۔ 23مارچ 1933ء کو مرکزی اسمبلی کے اجلاس میں مسٹر متر
کے ایک سوال کے جواب میں ہوم ممبر نے کہا"-:شری سبھاش بوس کو جو پاسپورٹ
دیا گیا ہے۔ اس میں انہیں جرمنی اور امریکہ میں داخل ہونے کی ممانعت کردی
گئی ہے۔" اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ نے کہا۔"ریگولیشن نمبر 3محض شری
سبھاش بوس کی صحت کی خرابی کے باعث واپس لیا گیا ہے۔ کیونکہ گورنمنٹ نے
میڈیکل علاج کے لئے ان کا باہر جانا مناسب سمجھا۔ لیکن گورنمنٹ کے پاس اس
امر کو باور کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کہ اب انہوں نے انقلاب پسندوں سے اپنے
تعلقات توڑ لئے ہیں۔"
اس سے ظاہر ہے کہ حکومت ہند شری سبھاش بوس کو انقلاب پسندوں کی پشت و پناہ
خیال کرتی رہی ہے۔ اور یہی شک ان کی مسلسل نظر بندیوں اور گرفتاریوں کا
موجب بنتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں بنگال، کی انقلاب پسند تحریک
پر بھی شری سبھاش کی زندگی کے ساتھ ساتھ سرسری نظر ڈالی جارہی ہے۔
شری سبھاش بوس نہ صرف ہندوستان میں ہی ایک بلند پایہ لیڈر سمجھتے جاتے تھے۔
بلکہ یورپ میں بھی انہیں ایک ممتاز ہستی تصور کیا گیا۔"ڈیلی ٹیلی گراف"
لندن کے علاوہ روم، میلان، فلورنس، وینس، بولوگن اور امریکن نیوز ایجنسیوں
کے نمائندوں نے آپ سے ملاقاتیں کیں۔ اور اپنے اپنے اخباروں میں ہندوستان کی
سیاسی صورت حالات کے متعلق شری سبھاش بوس کے خیالات شائع کئے۔
4اپریل کو لندنی اخبار "مانچسٹر گارڈین"میں شری سبھاش بوس کا ایک مضمون
شائع ہوا۔ جس میں درج ہے۔ "ممبران پارلیمنٹ کو ریگولیشن نمبر 3آف 1818کے
قیدیوں اور نظر بندان بنگال کی طرف توجہ دینی چہایے۔ کیونکہ اکثر حالات میں
شاہی قیدیوں کے خاندان قابل بیان مصائب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور ان کے
روزی کمانے والے غیر معین عرصہ کے لئے جیلوں میں نظر بند ہیں۔۔۔"
جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔ گورنمنٹ نے مجبوری کی حالت میں شری سبھاش
بوس کو رہا تو کردیا۔ لیکن یورپ میں انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ
دی گئی 4اپریل 1933ء کو اس مضحکہ خیز پوزیشن کے متعلق ہندوستان کے چند
ہمدرد ممبران پارلیمنٹ نے ہاؤس آف کامنز میں سوال اٹھائے۔ مسٹر ولیم کے ایک
سوال کا جواب دیتے ہوئے سسمیوئل ہور وزیر ہند نے کہا۔ "شری سبھاش بوس کو
محض خرابی صحت کی بناء پر یورپ آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ علاج کے لئے جن
ممالک میں ان کا جانا ضروری ہے۔ وہاں جانے کے لئے انہیں تمام ضروری سہولیات
پہنچائی جائیں گی۔ لیکن شری سبھاش بوس کی گزشتہ سرگرمیوں کے پیش نظر یہ
فیصلہ کیا گیا ہے۔ کہ انہیں یورپ کے سفر کی آزادی نہیں ہونی چاہیے۔"
"ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے سرسمیوئل ہور نے کہا۔"شری سبھاش بوس کو جرمنی جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"
15اپریل کو شری سبھاش بوس نے وی آنا کے ایک سینی ٹوریم سے فری پریس کے نام مندرجہ ذیل بیان بھیجا۔
"ایکسرے کا سامان مکمل ہوچکا ہے۔ اور ڈاکٹروں نے اس واضح رائے کا اظہار
کردیا ہے۔ کہ میرے معدہ میں تکلیف ہے۔ انہوں نے السر کی تھیوری مسترد کردی
ہے۔ اور یہ رائے دی ہے ۔ معہدہ میں تکلیف کی وجہ بلیڈر کی شکایت ہے۔ جب سے
میں اس سینی ٹوریم میں آیا ہوں۔ میری حالت میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ہوتی رہی
ہے لیکن میں ابھی تک بستر علالت پر دراز ہوں۔ اور ہر قسم کی ورزش بند
کررکھی ہے ابھی تک میں اس قدر کمزور ہوں۔ کہ ڈاکٹر آپریشن کرنے سے گھبراتے
ہیں۔ اگر ان ڈاکٹرؤں کے زیر علاج مجھے آرام نہ آیا۔ تو میں سوئیٹزر لینڈ کے
کسی سینی ٹوریم میں جاؤں گا۔۔۔"
جن دنوں شری سبھاش یورپ میں اپنے علاج کے لئے پریشان تھے۔ گاندھی جی نے
8مئی 1933ء کو یرودا جیل میں اچھوت ادھار کیلئے برت شروع کردیا۔ اور برت
شروع کرنے سے تقریباً چھ گھنٹے بعد ایک ماہ کے لئے سول نافرمانی ملتوی
کردی۔ اور آپ 8مئی کی شام کو یروداجیل سے رہا کردیئے گئے۔
اس سے صاف ظاہر تھا۔کہ گاندھی جی نے گورنمنٹ کے سامنے نہایت ذلیل طریقے سے
گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ جب شری سبھاش بوس اور مرکزی اسمبلی کے سابق پریزیڈنٹ
شری یت پٹیل کو گاندھی جی کے اس اقدام کا پتہ چلا۔ تو انہوں نے وی آنا سے
ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ جوذیل میں دیا جاتا ہے-:
" سول نافرمانی کو ملتوی کرنے میں مہاتما گاندھی نے جو آخری کارروائی کی
ہے۔ وہ ان کی شکست کا اعتراف ہے۔ ہماری یہ قطعی رائے ہے۔ کہ پولیٹیکل لیڈر
کی حیثیت سے گاندھی جی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے اب وقت ہے کہ نئے
اصولوں اور نئے طریقوں کی بناء پر کانگریس کی ازسرنو تنظٌم کی جائے۔ اس کام
کیلئے ایک نئے لیڈر کی ضرورت ہے۔ گاندھی جی سے یہ امید رکھنا کہ وہ نئے
اصولوں کی بناء پر ملک کی رہنمائی کریں گے۔ فضول ہے۔ اگر کانگریس میں
مجموعی طورپر بنایدی اصولوں کے لحاظ سے تبدیلی کی جاسکے۔ تو یہ بات نہایت
مناسب ہوگی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوسکے تو ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے۔ جو
کانگریس ملیں رہ کر انقلاب انگیز عناصر کو جمع کرکے میدان میں کودپڑے۔"
گاندھی جی کے اس اقدام سے نہ صرف شری سبھاش چندر بوس اور شری یت پٹیل کو ہی
صدمہ پہنچا۔ بلکہ ملک بھر کے نوجاونوں کے جذبہ حب الوطنی کو بھی ٹھیس
پہنچی۔ شری یت سبھاش بوس کے اس بیان کو بھاری سیاسی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ
اب انہوں نے کھلم کھلا گاندھی جی کو ہندوستان کی تحڑیک آزادی کی رہنمائی کے
لئے قطعی نااہل قرار دے دیا تھا۔
جہاں گاندھی جی کے اس اقدام سے ہندوستان کے قوم پرست حلقوں میں صف ماتم بچھ
گئی۔ وہاں لندن میں خوشی کی بغلیں بجائی گئیں۔ سرسیموئل ہور نے ایک جلسے
میں تقریر کرتے ہوئے کہا-:
"ہندوستان میں سول نافرمانی کی تحریک مرچکی ہے۔ اور بائیکاٹ کے پرخچے اڑچکے ہیں۔۔۔"
ان دنوں شری سبھاش بوس کی صحت زیادہ خراب ہوگئی۔ وی آنا کے ڈاکٹروں نے
انہیں علاج کے لئے جرمنی جانے کا مشورہ دیا۔ لیکن گورنمنٹ برطانیہ کی طرف
سے انہیں جرمنی جانے کی ممانعت تھی۔ اس پر شری سبھاش بوس نے علاج کے لئے
جرمنی جانے کی اجازت طلب کی۔ اور انڈیا آفس نے انہیں اجازت دیدی۔ روانگی سے
پیشتر آسٹریا کی راجدھانی وی آنا کی میونسپل کارپوریشن نے شری سبھاش بوس
کو ایڈریس پیش کیا۔ صدروی۔ آناکارپوریشن نے ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا کہ-:
"ہم یہ ایڈریس ہندوستان کے مایہ ناز سپوت اور کلکتہ کارپوریشن کے میئر کو پیش کرتے ہیں۔۔۔"
چندروز بعد آپ نے گاندھی جی کے اقدام کے متعلق ایک طویل بیان دیا۔ جس میں کے ضروری اقتباسات ذیل میں دیئے جاتے ہیں!۔۔۔
"مہاتما جی کے اکیس روز ہ برت کی خبر سے یہاں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ لیکن اس
کے فوراً بعد ہی یہ دل ہلادینے والی خبر پہنچی۔ کہ انہوں نے رہا ہوتے ہی
ایک ماہ کے لئے سول نافرمانی ترک کردی ہے۔ اس کا مطلب دراصل تحریک کا ہمیشہ
کے لئے بند کرنا ہے۔ مہاتما جی کو ایسا کرنے کا کیا حق تھا؟ یہ میں سمجھنے
سے قاصطر ہوں۔ گاندھی جی کی کارروائی سے مجھے نپولین کا ایک فقرہ یاد آتا
ہے۔ جو اس نے ایک دفعہ کہا تھا۔ وہ فقرہ یہ تھا۔ "میں گورنمنٹ
ہوں۔"۔۔۔۔۔۔مہاتما جی بھی دراصل یہی کہتے ہیں۔ "میں کانگریس ہوں۔۔۔۔۔۔" جن
غیر ملکی اصحاب کے ساتھ میں نے بات چیت کی۔۔۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے۔ کہ
مہاتما گاندھی کیوں اس طرح لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اور وہ
یہ جاننا چاہتے ہیں۔ کہ کیا کانگریس کے اندر ڈیموکریسی نہیں۔ کیا کانگریس
نے اپنی باگ ڈور ایک ڈکٹیٹر کے سپرد کررکھی ہے۔ ہمارے دلوں میں اس بات کے
متعلق کوئی شبہ نہیں۔ کہ جن لوگوں کا گاندھی جی کے ساتھ اختلاف رائے ہے۔
اور ساتھ ہی قومی آزادی کی جدوجہد کو چلانے کی ہمت رکھتے ہیں۔ انہیں وقت
ضائع کئے بغیر ایک نئی پارٹی بنانی چاہیے۔ اس پارٹی کے لئے ایک ایسے لیڈر
کی ضرورت ہے۔ جو زیادہ جمہوریت رجحان رکھتا ہو۔"
ان دنوں لندن میں مقیم ہندوستانیوں نے ایک پولیٹیکل کانفرنس کرنے کا فیصلہ
کیا۔ اور صدارت کے لئے شری سبھاش بوس کا نام تجویز کیا۔چنانچہ 2جون کو شری
سبھاش چندر بوس نے حکومت برطانیہ سے اجازت مانگی۔ کہ انہیں کانفرنس کی
صدارت کے لئے لندن جانے کی اجازت دی جائے۔ لیکن حکومت ہند کی طرح حکومت
برطانیہ بھی شری سبھاش بوس کو ایک سیاسی ہوا سمجھتی تھی۔ لہٰذا آپ کو لندن
جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ اس پر شری بوس نے اپنا صدارتی ایڈریس لندن
کانفرنس کے منتظمان کو بذریعہ ڈاک بھیج دیا۔ اور وہ ایڈریس اس کانفرنس میں
پڑھ کر سنایا گیا۔ اس ایڈریس کے ضروری اقتباسات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
"بطور سیاسی جنگجوؤں کے ابھی تک ہندوستگانیوں میں کافی فوجی اسپرٹ پیدا
نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی ہم ابھی تک ڈپلومیسی کی طرف توجہ دے سکے ہیں۔ چنانچہ
ایک نازک وقت میں گاندھی جی نے سول نافرمانی ملتوی کرکے ہندوستان کے کاز کو
بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ اور قوم کی پچاس سالہ قربانیوں پر پانی پھیر دیا
ہے"۔۔۔۔۔۔ آئندہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے شری سبھاش بوس نے کہا-:
"ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان سمجھوتہ ناممکن ہے۔ ہندوستانیوں کو چاہیے۔
کہ سمجھوتوں کا خیال ترک کردیں۔۔۔"آپ نے نظم ونسق کو مفلوج کرنے کیلئے نئے
طریق کار کی اسکیم پیش کی۔ اور اس بات پر زور دیا ۔ کہ آزادی کیلئے زیادہ
طویل اور وسیع پیمانے پر ایک اور جدوجہد کی جائے۔
وائٹ پیپر کے متعلق آپ نے فرمایا۔ "والیان ریاست کے ساتھ فیڈریشن نہ ہی
ممکن ہے اور نہ ہی قابل قبول۔۔۔ صرف برطانوی ہندوستان یک لوگوں کی فیڈریشن
ہی قابل عمل ہوسکتی ہے۔ میں اس تجویز کو بالکل منظور نہیں کرسکتا۔ کہ
لیجسلیچر میں موجودہ سرکاری ممبروں کی جگہ والیان ریاست لے لیں۔۔۔"
اس کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر مسٹر میکسٹن نے
اعلان کیا کہ انڈیپنڈنٹ لیبر پارٹی شری سبھاش کے پروگرام کی سرگرم حمایت
کرے گی۔ شری سبھاش بوس کا مکمل صدارتی ایڈریس ایک پمفلٹ کی شکل میں
ہندوستان بھیجنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن گورنمنٹ ہند نے اس "کاغزی بم کے
گولے" کا داخلہ ہندوستان میں ممنوع قرار دے دیا۔
ادھر یورپ میں شری سبھاش بوس گاندھی جی کی نرم پالیسی کی دھجیاں اڑارہے
تھے۔ ادھر گاندھی جی نے ایک اور عجیب قدم اٹھایا۔ یاد رہے جیل سے رہائی سے
پہلے گاندھی جی نے ایک ماہ کے لئے سول نافرمانی ملتوی کردی تھی۔ اب ایک ماہ
کی میعاد ختم ہونے پر اس میں مزید چھ ہفتوں کا اضافہ کردیا گیا۔ شری سبھاش
بوس کا کہنا درست تھا۔ کہ گاندھی جی کی طرف سے سول نافرمانی کا عارضی
التواء محض ڈھونگ ہے۔ ہندوستان میں ایسے بے وقوفوں کی کمی نہیں۔ جو گاندھی
جی کی ہرجائز و ناجائز بات کو درست قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ جیسے بدھوؤں کی
یہ حالت ہے کہ اگر گاندھی جی دن کو رات کہہ دیں۔ تو وہ اسے بھی تسلیم کرلیں
گے۔ گاندھی جی کے مہاتما پن اور اونچی شخصیت سے کسی کو انکار نہیں کہیں
سیاسی نقطہ نگاہ کے متعلق ان سے اختلافات ضرور ہیں۔ اس قسم کے مسائل ملیں
جن سے چالیس کروڑ ہندوستانیوں کی قسمت وابتہ ہے۔ ان اختلافت کو نظر انداز
کرنا۔ یا انہیں دبانے کی کوشش کرنا قابل مذمت فعل ہے جب گاندھی جی کے گھٹنے
ٹیک دینے سے پیدا شدہ صورت حالات کے متعلق شری سبھاش بوس نے اپنے خیالات
ظاہر کئے۔ تو کئی گاندھی بھگت سبھاش جی کو ہی برا بھلا کہنے لگے۔ یہ گاندھی
بھگت اپنی آنکھ کا شہتیر نکالنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بلکہ دوسروں کی آنکھ
کا ایک چھوٹا سا تنکا بھی نہیں کھٹکتارہتا ہے۔ اس قسم کے معترفوں کو جواب
دیتے ہوئے شری یت سبھاش بوس نے 14جون کو وی آنا سے ایک چٹھی لکھی جو تمام
ہندوستان کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ چونکہ اس چٹھی کا شری سبھاش اور گاندھی
جی کے آئندہ تعلقات پر گہرا اثر پڑا۔ اس لئے اسے ذیل میں تفصیل کے ساتھ
دیا جاتا ہے۔ شری بوس لکھتے ہیں-:
"بعض دوستؤں نے میرے ار شری یت پٹیل کے اس مشترکہ بیان اعتراض کیا ہے۔ جس
میں ہم نے لکھا تگھا۔ کہ گاندھی جی بطور لیڈر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے
جواب میں میرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ کسی لیڈر کی کامیابی یا ناکامیابی کا
دارومدار اس کی تحریک کی کامیابی یا ناکامی پر ہے۔ اگر کوئی لیڈر کامیابی
کے لئے تعریف کا مستحق ہے۔ تو قدرتی طورپر ناکامی کے لئے بھی اسے ملزم
گردانا جانا چاہیے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں۔ کہ کوئی لیڈر ناکام رہا ہے تو اس سے
ہماری مراد یہ ہے کہ اس کی تحریک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ہم تحریک پر
نہیں بلکہ اس تحریک کو چلانے والے لیڈر پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ کیونکہ لیڈر
ہی اس تحریک کی جان ہے۔ اور اسے تعریف و نکتہ چینی قبول کرنے کیلئے ہروقت
تیار رہنا چاہیے۔ میرے الزام کے جواب میں میرے ایک دوست نے مجھے ایک طویل
چٹھی بھیجی ہے۔ جس میں گاندھی جی کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ تمام دلائل بالکل غیر ضروری ہیں۔ آپ اس بات کو ہرگز نہ بھولئے کہ میں
خود 12سال تک گاندھی جی کے جھنڈے تلے لڑتا رہا ہوں۔ لیکن جب میں یہ کہتا
ہوں۔ کہ مہاتما جی یا ان کا موجودہ طریق ناکام رہا ہے۔ تو میرا مطلب یہ ہے۔
کہ گاندھی جی ہندوستان کو آزادی دلانے میں ناکام رہے ہیں۔
میری پوزیشن واضح ہے کہ کراچی کانگریس میں ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ
معاہدہ دہلی کے سوال پر کانگریس کیمپ میں پھوٹ نہ ڈالی جائے۔ گومیں اس
معاہدہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھتا تھا۔ لیکن پھر بھی کراچی کانگریس
کے فیصے کے مطابق میں نے گاندھی ارون پیکٹ کی مخآلفت نہ کی۔ اور گاندھی جی
سے کہہ دیا کہ جب تک وہ آزادی کے لئے لڑتے رہیں گے۔ میں ہر طرح ان کی حمایت
کرونگا۔ لیکن جونہی وہ جدوجہد ہند کردینگے۔ میکں اپنی حمایت کا ہاتھ کھینچ
لوں گا۔ چنانچہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس وقت گاندھی جی نے جو قدم اٹھایا
ہے۔ وہ سراسر غلط ہے۔ اور قوم کے ایک عاجز ممبر کی حیثیت سے میں اس بات کا
حق رکھتا ہوں۔ کہ اپنے لیڈر کے فعل پر نکتہ چینی کروں۔ یہ فضول بہانہ ہے۔
کہ ملک نے گاندھی جی کی اپیل پر لبیک نہیں کہا۔ یہ دلیل ہر ناکام لیڈر کی
حمایت میں دی جاسکتی ہے۔ لیڈری کا رازاسی میں مضمر ہے۔ کہ کوئی ایسا طریقہ
نکالا جائے۔ جس پر چلنے کے لئے ملک ہمیشہ تیار رہے۔ اگر ملک ایک طریق پر
عمل نہیں کرتا۔ تو لازمی ہے کہ ہم نیا طریقہ کار اختیار کریں۔ میری ناقص
رائے میں غلطی اس وقت سرزد ہوئی۔ جب گاندھی جی نے اچھوت ادھار کی تحریک
شروع کردی۔ اس سے ملک کی توجہ سیاسی سرگرمیوں سے ہٹ کر غیر سیاسی سرگرمیوں
کپی طرف مرکوز ہوگئی۔ نتیجہ یہ ہوا۔ کہ ہم نے مکمل طورپر ہتھیار ڈال دیئے۔
اور اب یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اس وقت جو اصحاب
جیلوں سے باہر ہیں۔ ان کے سرپر بھاری ذمہ داری ہے۔ ہم ہندوستانی یہ نہیں
جانتے کہ غیر ممالک میں پراپیگنڈہ سے کتنا زبردست فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
ہمارے پراپیگنڈے کا یہ مقصد ہونا چاہیے۔ کہ ہندوستان کے خلاف پراپیگنڈے کو
زائل کیا جائے۔ اس کے علاوہ دنیا پر ہماری سیاسی اور اقتصادی شکایات واضح
ہوجائیں گی۔ سچ پوچھئے۔ تو آج کل دنیا میں سیاسیات پر اقتصدیات کی حکومت
ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو بتادیں۔ کہ برطانیہ کے خلاف ہماری
سیاسی شکایات کیا ہیں۔ اور جب ہمیں اختیارات حاصل ہوجائیں گے تو ہم کس قسم
کی اکانومی کی طرف متوجہ ہونگے۔ اس اقتصادی پراپیگنڈہ کی بناء پر ہم دوسرے
ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرسکتے ہیں۔"
اس اثناء میں ہندوستان میں حالات کی رفتار نہایت تیزی سے بدل رہی تھی
15جولائی 1933ء کو گاندھی جی نے وائس رائے ہند لارڈ و لنگڈن کے پرائیویٹ
سیکریٹری کو مندرجہ ذیل تار بھیجا-:
"کیا ہزایکسیلینسی اس خیال سے کہ صلح کے امکانات تلاش کئے جائیں مجھے
ملاقات کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔۔۔؟کرپاکر کے بذریعہ تار جواب دیں۔۔۔"
اس کے جواب میں وائس رائے نے گاندھی جی سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔۔۔
گاندھی جی کے اس فعل سے نہ صرف ان کی اپنی ہی بلکہ ہندوستان بھر کی جو
توہین ہوئی۔ اس کی مثال کسی دیش کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن گاندھی جی
پھر بھی مایوسی نہ ہوئے۔ انہوں نے پھر وائس رائے کو ایک تار بھیجا۔ جس میں
پہلی تار کے مضمون کودہرایا گیا۔ لیکن فرعون مزاج وائس رائے نے اس تار کے
جواب میں ملاقات سے انکار کردیا۔۔۔ وائس رائے کا جواب مندرجہ ذیل تھا۔۔۔"آپ
کا دوسرا تار ملا۔ ہہزایکسیلینسی کو امید تھی۔ کہ آپ گورنمنٹ کی پوزیشن
سمجھ گئے ہونگے۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ سول نافرمانی ایک ایسی تحریک ہے۔ جس کی
خلاف قانون سرگرمیوں سے گورنمنٹ کو مرعوب کیا جاتا ہے۔ اس لئے میں ایک ایسی
جماعت کے نم ائندے سے جس نے اس تحریک کو مستقل طورپر ترک نہیں کیا۔ ملاقات
کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔۔۔"
یقیناًوائس رائے کا دوسرا جواب نہ صرف گاندھی جی کے لئے ہی بلکہ دیگر
اعتدال پسند لیڈروں کے لئے بھی پریشان کن تھا۔ وائس رائے کا جواب موصول
ہونے پر گاندھی جی نے ملک کے نام مندرجہ ذیل پیغام جاری کیا۔
"وائس رائے کے جواب نے ایک افسوسناک صورت حالات پیدا کردی ہے۔ اس جواب میں
جو نیا اصول قائم کیا گیا۔ وہ میری رائے میں بالکل نرالا ہے۔ مجھے کوئی
ایسا مہذب ملک نظر نہیں آتا۔ جس نے صلح کی خاطر اپنی باغی رعایا سے بات چیت
کرنے سے انکار کردیا ہو۔ مہذب ممالک سر سے پاؤں تک مسلح باغیوں سے گفت و
شنید کرتے آئے ہیں۔ لیک وائس رائے نے عدم تشدد پر کاربند پر امن جماعت کے
ساتھ گفت و شنید کا دروازہ بند کرکے بھاری غلطی کی ہے۔ وائس رائے کا جواب
اس امر کا ثبوت ہے کہ گورنمنٹ باعزت تصفیہ کیلئے تیار نہیں۔ بلکہ وہ یہ
چاہتی ہے کہ کانگریس مکمل اور ذلت آمیزشکست تسلیم کرے"۔
گاندھی جی کے اس بیان کے جواب میں اگلے روز وزیر ہند سرسیموئل ہور نے
پارلیمنٹ میں آعلان کیا۔" ہندوستان میں ہم نے خلاف قانون سرگرمیوں کو کچل
کررکھ دیا ہے۔ اور تحریک سول نافرمانی مرگئی ہے۔ مہاتما گاندھی پھر سول
نافرمانی کی دھمکی دے کر ہم سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جب تک وہ سول
نافرمانی ترک نہیں کرینگے کانگریس سے صلح کرنے کا سوال پیدا نہ ہوگا۔۔۔"
اس سے بڑھ کر ہندوستان کے جذبہ خودداری کی توہین اور کیا ہوسکتی تھی۔ کاش
ان دنوں ملک کی باگ ڈور سبھاش بوس جیسے انتہا پسند اور نڈر لیڈر کے ہاتھ
میں ہوتی۔۔۔ تو سرسیموئل ہور اور ان کے دیگر ساتھیوں کو چھٹی کا دودھ یاد
آجاتا۔۔۔
وائس رائے ار وزیر ہند کے ان اعلانوں کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ گاندھی جی کے
جذبہ وطن پرستی اور خودداری نے پھر ہلکی سی جنبش کی۔ اور انہوں نے جوابی
اعلان میں کہا۔ "کانگریس سول نافرمانی کبھی ترک نہیں کرے گی۔" لیکن گاندھی
جی غلط قدم اٹھاچکے تھ۔ے اب ان کے لئے سوائے اس کے کہ وہ اس غلطی کو دہراتے
جائیں ۔ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ چنانچہ چند دن بعد انہوں نے مکمل طورپر
اجتماعی سول نافرمانی ترک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تحریک کا دیوالیہ نکال
دیا۔
لیکن گورنمنٹ گاندھی جی کو ذلیل کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ یکم اگست کو گاندھی
جی پھر گرفتار کرلئے گئے۔ اس ضمن میں گورنجمنٹ بمبئی کی طرف سے مندرجہ ذیل
اعلان شائع کیا گیا۔
"گاندھی جی سول نافرمانی کی تیاری اور پراپیگنڈہ کا کام شروع کرنے والے
تھے۔ اجتماعی اور انفرادی سول نافرمانی میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ گاندھی جی
انفرادی سول نافرمانی سے قوم کا جذبہ ابھارنا چاہتے ہیں۔ ان حالات میں ان
کی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیاہے۔"
دو روز بعد گاندھی جی کو یرودا جیل سے رہا کرکے یہ حکم دیا گیا۔ کہ وہ پونا
میونسپل کمیٹی کی حدود سے باہر نہ جائیں۔ گاندھی جی نے اس حکم کی خلاف
ورزی کی۔ جس پر آپ کو ایک سال قید محض کی سزا دی گئی۔ اس سے ظاہر تھا کہ
گاندھی جی کی ایک چھوٹی سی غلطی نے انہیں گورنمنٹ کی نگاہ میں کس حد تک
گرادیا تھا۔ گول میز کانفرنس میں کانگریس کی واحد نمائندگی کرنے والے اور
لارڈ ارون کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر سمجھوتہ کرنے والے ہندوستان کے اس بے
تاج بادشاہ کے ساتھ گورنمنٹ کا یہ سلوک انتہائی درجہ قابل مذمت تھا۔ اگر
گاندھی جی سبھاش کا کہنا مان کر اپنی تحریک کو انقلابی رنگ دیتے۔ تو آج
انہیں یہ دن دیکھنا ہرگز ہرگز نصیب نہ ہوتا۔ بلکہ اس قسم کے توہین آمیز
سلوک کی بجائے گورنمنٹ ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتی۔ سزایابی
کے بعد گاندھی جی نے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا۔ کہ انہیں جیلس ے اچھوت ادھار
کا پراپیگنڈا کرنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن گورنمنٹ نے انکار کردیا اس پر
گاندھی جی نے پروٹسٹ کے طورپر مرن برت رکھ لیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا۔ کہ اب
تک جو گورنمنٹ گاندھی جی کو ذلیل کرنے کے لئے تلی ہوئی تھی، اب اس گورنمنٹ
کو گاندھی جی کے بلند کریکٹر کا احساس ہوگیا۔ مرن برت کوئی آسان بات نہیں۔
اگر خدانخواستہ گاندھی جی جیل میں سور گباش ہوجاتے تو نامعلوم ہندوستان اور
برطانیہ کے تعلقات میں کس قدر کشیدگی پیدا ہوجاتی۔ چنانچہ گورنمنٹ جھک
گئی۔ اور گاندھی جی غیرمشروط طورپر رہا کردیئے گئے۔
(جاری ہے)
***
Post a Comment