Translate In Your Language

New Videos

پاھار......بلوچستان میں ریاستی بربریت میں خواتین و بچے سرفہرست ،سنگر ماہانہ تجزیاتی رپورٹ

پاھار......بلوچستان میں ریاستی بربریت میں خواتین و بچے سرفہرست ،سنگر ماہانہ تجزیاتی رپورٹ



ماہِ اگست میں50سے زائدفوجی آپریشنز میں118 افرادلاپتہ،43لاشیں برآمد

سنگر کامکمل پُر مغزاور دستاویزی رپورٹ و تجزیہ

چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے


ظلم و جبر سامراجی طاقتوں کا اہم ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی سامراج کو مستحکم و مظلوم اقوام پر اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کر کے تمام انسانی و عالمی قوانین کو بالا تاک رکھ کر جبر کی سنگین داستانین تاریخ کے اوراق پر رقم کرکے مظلوم و محکوم اقوام کے خون سے کھیلنے کو اپنا مشغلہ بنا دیتے ہیں۔مقبوضہ بلوچستان میں صورت حال تاریخ کے گھمبیر موڈ پر ہے، جہاں پاکستانی فوج کی بربریت کا اندازہ اگست کے مہینے آپریشنز،قتل عام،لاپتہ افراد کی دوگنی تعداد سمیت آبادیوں پر بمباری سے عیاں ہوتی ہے۔ اگست2017 کے مہینے میں ادارے کو دستیاب ریکارڈ کے مطابق پاکستانی فورسز نے پچاس سے زائد آپریشن و چھاپوں میں118 افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ،جبکہ43 نعشیں ملیں جن میں حراستی قتل اور چارنامعلوم لاشیں شامل ہیں۔27 بلوچ ریاستی آپریشنز و ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے۔12 ہلاکتوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔ جبکہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق20 افراد بازیاب ہوئے جو اسی مہینے آپریشنوں کے دوران اُٹھا ئے گئے تھے۔ اگست کے مہینے میں پاکستانی فورسز نے سینکڑوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کوہراساں کرکے سینکڑوں بھیڑ ،بکریاں،اونٹ اپنے ساتھ لے گئے۔خاص کر ڈیرہ بگٹی،ہرنائی،دشت ،کولواہ کئی گھروں کو دوران آپریشن نذر آتش کیا گیا۔
اگست کے مہینے پاکستانی زمینی و فضائی فوج نے مقبوضہ بلوچستان بھر میں عوام کو نشانہ بنایا،خاص کر کولواہ،ہرنائی ،شاہرگ،ڈیرہ بگٹی،کوہستان مری میں درجنوں فرزندوں کو شہید کرنے کے ساتھ درجنوں کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔جبکہ دوران آپریشن کئی انسانی بستیوں کو فضائی بمباری و شیلنگ سے مکمل تباہ کر دیا گیا۔کولواہ کے علاقوں جت،شاپکول میں اگست کی سورج غروب ہونے تک دس روزہ آپریشن جاری رہی، آپریشن میں درجنوں افراد کو لاپتہ کرنے کے ساتھ لوگوں کو انکے گھروں و زمینوں سے بے دخل کر کے علاقے خالی کرائے گئے۔ضلع کیچ کے علاقوں مند،تمپ،نذر آباد،،کوشقلات،کیچ بازار،آب سر،سنگانی سر، بلیدہ،زاعمران، پیدارک،شاپک،نذر آباد،ہوشاپ فوج کی آبادیوں پر حملے اور درجنوں فرزندوں کو حراست کے بعد لاپتہ کرنا روز کا معمول رہا، اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے دشت و گرد نوا ح جو جغرافیائی حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے ،اُس پر زمینی و فضائی حملے اگست کے مہینے جاری رہے، اور بلوچ فرزندوں کی حراست بعد لاپتہ ہونے کے سلسلے میں تیزی آئی۔پنجگور سے منسلک پروم گچک بھی ریاستی بربریت سے نہ بچ سکے۔واشک،بسیمہ، سمیت آواران ،گیشکور ،مشکے،جھاؤ ہر مہینے کی طرح اسی مہینے بھی ریاستی ظلم و جبر کا شدید شکار رہے۔ پسنی ،گوادر میں بھی فورسز نے چادر وچار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،نوشکی،قلات،نصیر آباد،سبی میں فوجی زمینی و فضائی کارروائیوں اور لوگوں کو حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ حراستی قتل کے واقعات سامنے آئے۔اسی طرح حب اور کوئٹہ میں بلوچ آبادیاں مسلسل ریاست کے زیر عتاب رہے۔پاکستانی فوج نے مقبوضہ بلوچستان بھر میں دوران آپریشن،سینکڑوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ وہاں موجود تمام قیمتی اشیاء ،سینکڑوں بھیڑ ،بکریاں ،اونٹ بھی اپنے ساتھ لے گئے جبکہ بمباری سے سینکڑوں مویشی ہلاک ہوئے۔زمینی فوجی آپریشنوں کے ساتھ پاکستانی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے کولواہ،بولان،ہرنائی شاہرگ،ڈیرہ بگٹی ،کوہستان مری، بالگتر ،دشت ،سائیجی میں کئی افراد جس میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے کوبھوندنے کے ساتھ پورے کے پورے قصبے تباہ کیے۔ مقبوضہ بلوچستان میں سنگین ریاستی جبر پر پاکستانی میڈیا مکمل خاموش ہے،جبکہ عالمی میڈیامیں آج تک بلوچ رسائی حاصل نہ کر سکا جو بیرونی ممالک آزادی کے دعوے داروں کے لیے ایک لمہ فکریہ ہونا چائیے۔
11 اگست کو بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی جانب سے پہلی بار جرمنی میں ایک جامع کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،جسکا موضوع ’’چین ون بیلٹ ون روڈ ،بلوچستان و خطے پر اسکے اثرات ‘‘ جس میں عالمی مبصرین نے بحث کی،اور چین کی اس خطے و دنیا میں سامراجی مقاصد کو اجاگر کیا گیا،یہ کانفرنس بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی جانب سے ایک صحت مند اور حوصلہ افزا شروعات کئی جا سکتی ہے۔ایسے موثر پروگرامز کی آج بیرونی ممالک میں انتہائی ضرورت ہے جو مضبوط سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے یا مشترکہ ہوں جس کے نتائج یقیناًبلوچ جہد کے حق میں جائیں گے۔دوسرے روز بی این ایم کی جانب سے بیرونی ممالک انکے ،ممبران تمام زون کے ساتھیوں کا اجلاس ہوا جس سے یہی توقع کیا جا رہا تھا کہ خارجہ پالیسی پر وہ ایک بہترین حکمت عملی و ایجنڈہ یا و شیڈول سامنے لائیں گے ،مگر خارجہ امور کو لے کر خاص پالیسی سامنے نہ آ سکی،جو یقیناًخارجہ سیکریٹری کی کمزور ی کئی جا سکتی ہے۔ایک کامیاب کانفرنس بعد یقیناجہاں تنظیم کے تمام زونوں،یورپ،امریکہ،کینڈا وغیرہ ممبران و ذمہ داران کا اطلاعات کے مطابق بند اجلاس ہوا جس میں جامع خارجہ پالیسی،بیرونی ممالک حکمت عملیاں یا کوئی روڈ میپ جاری ہوتا جو بہترین سیاسی پالیسی ہوتی مگر ایسی کوئی شے سامنے نہ آ سکی۔ یقیناًاس پر بی این ایم کی مرکزی قیادت و کابینہ کو غور و فکر کرنے کے ساتھ خارجہ امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
بیرونی ممالک میں بی آر پی و دیگر تنظیموں کے انفرادی مظاہرے بھی دیکھنے کو سامنے آئے،مگر مضبوط سیاسی پلیٹ فارم یا مشترکہ آگاہی پروگرام، و مظاہرے اپنی حتمی نتائج و اثر سامنے لاتے ہیں ناکہ انفرادی ،دنیا کی طاقت ور ترین ممالک یا گیم چینجر ممالک کی جانب سے پاکستان کی طرف لچک روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ سپر پاور کی دوڈ میں خود کو صف اول سمجھتا ہے اور پاکستان کو سالوں سے خاص کر 2010 سے بے تحاشہ،عسکری و مالی امداد کر رہا ہے،امریکہ نے اب نہ صرف امداد کم کر دی ہے بلکہ دباؤ ڈالنے کے ساتھ پاکستان کی دہری اندرونی و خارجہ پالیسیوں پر سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔امریکہ و اسکے اتحادیوں کا افغان،پاکستان پالیسی سمیت اس خطے کی پالیسوں پر نظر ثانی کے ساتھ نئی پالیسوں کا جلد ادراک یقیناًایک بڑی کشمکش کا باعث ہیں،جہاں چین پاکستان کو اپنے مہرے کے طور استعمال کرنے کے ساتھ مزید کوشش میں ہے کہ چین پاکستان کو مکمل اپنے کنٹرول میں لے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی خاص کر چین کی پالیسوں سے متضاد نہ ہو۔جبکہ سی پیک کی مقبوضہ بلوچستان میں تاحال ناکامی سے چین پاکستان تعلقات پر پڑنے والے اثرات بھی اہم ہیں،سی پیک کی ناکامی،امریکہ و اتحادیوں کی اس خطے میں بدلتی حکمت عملیاں و پالیسیاں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں،ایسے صورت میں وجود رکھنے والی بلوچ آزادی پسند تنظیموں کو سنجیدگی سے بدلتی عالمی صورت حال کا بغور جائزہ لے کر کچھ عملی حکمت عملی کے تحت ان گیم چینجر ممالک ،تھنک ٹینک سے مل کر مقبوضہ بلوچستان کی اس خطے میں اہمیت اور بلوچستان کی سیکولر پالیسی کو سامنے لا کر آزاد بلوچستان کے موقف کو سامنے لا کر انھیں یقین دلانا چائیے کہ مقبوضہ بلوچستان کی آزادی سے اس خطے میں امن خوشحالی ممکن ہے۔
بلوچستان میں ریاستی بربریت و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ماہ اگست کی تفصیلی رپورٹ حسب معمول بلوچ نیشنل موومنٹ نے جاری کردی ہے جو روزنامچے کی شکل میں موجود ہے اور اس میں پورے مہینے کی فورسز کے آپریشنز،جبری گمشدگیوں ، گھروں کونذر آتش کرنے ،خواتین و بچوں پر تشدد،حراستی قتل ، لاشوں کی برآمدگی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے کارروائیوں وواقعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ہم بی این ایم کے شکریے کے ساتھ اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں تاکہ ایک دستاویزکی شکل میں بلوچ قوم و انسانی حقوق اداروں بشمول میڈیا ہاؤسز کیلئے کارآمد ہوسکے۔


ماہِ اگست کی تفصیلی روزنامچہ رپورٹ
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے مقبوضہ بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت کی ماہانہ رپورٹ میڈیا میں جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگست2017 کا مہینہ بلوچ قوم کے لیے خون آلود رہا۔ریاستی فورسزنے مکران کے علاقوں گوادر،دشت،پسنی،مند ،تمپ ،پروم،بالگترسمیت گچک،گیشکور،آواران،مشکے،جھاؤ،ڈیرہ بگٹی، نوشکی،ہرنائی،قلات،کوئٹہ و کوہستان مری پاکستانی زمینی و فضائی جارحیت کا شکار رہے۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز نے پچاس سے زائد آپریشن و چھاپوں میں118 افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ،جبکہ43 نعشیں ملیں جن میں حراستی قتل اور چارنامعلوم لاشیں شامل ہیں۔27 بلوچ ریاستی آپریشنز و ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے۔12 ہلاکتوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔ جبکہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق20 افراد بازیاب ہوئے جو اسی مہینے آپریشنوں کے دوران اُٹھا ئے گئے تھے۔ اگست کے ماہ پاکستانی فورسز نے سینکڑوں گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو حراسان کرکے سینکڑوں بھیڑ ،بکریاں،اونٹ اپنے ساتھ لے گئے۔خاص کر ڈیرہ بگٹی،ہرنائی،دشت ،کولواہ کئی گھروں کو دوران آپریشن نذر آتش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام دستیاب اعداد و شمار ریکارڈ کے طور پر بی این ایم کے پاس محفوظ ہیں۔میڈیا کی خاموشی نے اس وقت مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ اجتماعی نسل کشی کو پروان چڑھایا ہے۔صحافتی اداروں ودانشوروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہمارے اعداد شمار و حقائق کے لیے مذکورہ علاقوں کا دورہ کریں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر صرف ایک بیان دے کر خود کو تمام عالمی و انسانی قوانین سے بری الذمہ کر دیتا ہے کہ آپریشن میں دہشت گرد مارے گئے۔انسانی حقوق صحافتی ادارے متاثرین و لواحقین سے حقائق جانے کی کوشش نہیں کرتے۔جسکی وجہ سے ریاستی فوج بغیر کسی خوف کے بلوچ نسل کشی میں تیزی لایا ہوا ہے۔ہم میڈیا پرسنز ،صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعداد و شمار و ریاستی بیانات پر سوال و تحقیق کریں تاکہ بلوچستان میں جاری نسل کشی کو روکا جا سکے۔
یکم اگست
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج نے کیچ کے علاقے تمپ سے منسلک،نذر آباد،ملک آباد، آبادیوں کا محاصرہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں میں موجود قیمتی اشیاء کی لوٹ مارکے ساتھ کئی افراد کو لاپتہ کردیا،جبکہ ملک آباد میں پاکستانی فوج نے فائرنگ کرکے ایک بلوچ فرزند ستار بلوچ ولد محمد سکنہ کھڈان دشت کو شہید کردیا،فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ کیے جانے والے افراد میں سے ۷ کی شناخت ان ناموں سے ہو گئی ہے،ندیم ولد حاصل،اقبال ولد ملک، عباس ولد حاجی قیوم، شہزاد ولد محمد نور، لطیف ولد ماسٹر حفیظ، دلمراد ولد قادر داد اور سرفراز بلوچ۔
۔۔۔۔۔دالبندین فائرنگ سے عبدالواحد ولد محمد حسنی ہلاک ۔
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج نے بلیدہ کے علاقے سلو میں شہید الطاف بلوچ، شہید حاصل،شہید مراد جان گچکی،شہید زبیر گچکی، کے قبروں پر آزاد بلوچستان کے جھنڈوں کو اُتارنے کے ساتھ قبروں کو مسمار کر کے انکو جلا دیا ہے۔
2 اگست
۔۔۔۔۔ڈیرہ بگٹی میں نواب قلعے کے قریب قبرستان سے ایک تشدد زدہ لاش برآمد کرلی گئی ہے جس کی شناخت ماجد بگٹی کے نام سے ہوئی ہے جسے گذشتہ روز ڈیرہ بگٹی کی ٹی وی بوسٹر کے قریب سے آپاکستانی خفیہ اداروں نے حراست بعد لاپتہ کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔تربت سے ایک لاپتہ شخص بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔21جولائی کو شاپک سے فورسز کے ہاتھوں ایک آپریشن کے دوران حراست بعد لاپتہ ہونے والے ساجد مراد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے ۔
3 اگست
۔۔۔۔۔تحصیل وڈھ کے علاقہ گری ماس میں نامعلوم افراد نے چھریوں سے وار کرکے نوروزخان رمضانزئی کو قتل کرکے ا ن کی لاش کو پھینک کر موقع سے فرار ہوگئے۔
4 اگست
۔۔۔۔۔وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کے کنوینر پنہل ساریوفورسز ہاتھوں لاپتہ
۔۔۔۔۔جمعہ کو ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کے علاقے الندور ، کوچگ،گردانک اور گردونواح میں پاکستانی فوج کا بڑے پیمانے پر آپریشن۔ گھر گھر تلاشی دوران خواتین و بچوں کو شدید تشددکا نشانہ بناکردرجنوں گھروں میں موجود قیمتی اشیاکی لوٹ مار کی گئی جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا۔ ان میں صمد ولد عطا محمد، مسکان ولد محمد روت، کریم اور نعیم شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے لوڑ کاریز میں پولیس کو ایک شخص کی لاش ملی جسے شناخت کیلئے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا ۔
۔۔۔۔۔آواران کے علاقے جھکرو،درمان بینٹ پاکستانی زمینی فوج کا آبادی کا محاصرہ اور بازار کی جانب فائرنگ اور کئی مارٹر کے گولے فائر۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے بالیچہ میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی دوران خواتین و بچوں کو تشددکا نشانہ بناکر قیمتی سامانوں کی لوٹ مار کے بعد 4افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیاجن کی شناخت شاہو ، زاہد ، باسو اور واجی کے ناموں سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔آواران جھکرو سے بازید ولد عید محمد کو فوج نے اغوا کیا۔
5 اگست
۔۔۔۔۔آواران کے علاقے جھکرو میں پاکستانی فوج نے آبادی پر حملہ کر کے تین بچوں سمیر ولد رحیم داد، عمر 7 سال،بہرام ولد رشید، عمر 5 سال، غفور ولد رحیم داد ،عمر 14 سال اور غفور ولد رحیم داد ،عمر35 سال کو حراست بعد اپنے ساتھ لے گئے،جبکہ وہاں موجود ایک ڈبل ڈور پک آپ گاڑی سمیت گھروں میں موجود تمام اشیاء کو بھی آرمی ٹرک میں لاد کر فورسز ساتھ لے گئے۔
۔۔۔۔۔آواران کولواہ کے علاقے کنیچی سے گنج بخش ولد لعل جان اغوا۔
۔۔۔۔۔ہفتہ کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کپکپار میںآبادی پر حملہ کرکے 3افراد کو گاری سمیت حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جن میں دو کی شناخت نسیم ولد پشمبے، عصا ولد جمعہ اور میران بلوچ کے ناموں سے ہوگئی۔
۔۔۔۔۔آواران میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں دوران آپریشن لاپتہ ہونے والے تین کمسن بچے زخمی اور انتہائی تشویشانک حالت میں جنگل سے بازیاب ہوگئے ۔
6 اگست
۔۔۔۔۔ڈیرہ بگٹی کے علاقوں چبدر، واگوں، ہن سمیت ،گرد نواع کے تمام علاقوں میں فوجی آپریشن ، چار دنوں سے جاری فوجی بربریت میں شہید ہونے والے تمام 8 افراد شناخت ہوگئی ہیں جن میں سے ایک ہی خاندان کے دو افراد میوا ولدصحبت بگٹی، کار ولد حاجی سمیت میران بگٹی، جلالی بگٹی، سیفل بگٹی، رحیم خان بگٹی، کریمو بگٹی اور میرگل بگٹی شامل ہے تمام افرا د پہاڑوں میں نقل مکانی کر کے مال مویشی پال کر اپنا گزر بسر کرتے تھے یاد ریے کہ میوا اور کاکار بگٹی کو اس وقت شہید کیا گیا جب وہ چبدر میں اپنے اونٹو ں کے ساتھ جارہے تھے ،دونوں بلوچوں کو شہید کر کے ان کے سو سے زائد اونٹ اور تین سو کے قریب بھڑ بکریوں کو فورسز کے اہلکاراپنے ساتھ لے گئے۔ مجمعوعی طور پر ان چار دنوں میں آٹھ افراد شہید جبکہ بیس سے زائدکوحراست بعد لاپتہ کر دیا گیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔
۔۔۔۔۔تمپ کے علاقے سری کہن میں پاکستانی فوج نے اتوار کے روز آبادی پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کے ساتھ دو افراد الیاس ولد الھیٰ بخش ابراہیم ولد رحیم بخش حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ گھروں میں موجودتمام اشیاء کو اپنے ساتھ لے گئے۔
7 اگست
۔۔۔۔۔ہوشاپ سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے، جسکی شناخت علی بخش ولد پیر محمد سکنہ ہوشاپ بازار بتایا جاتا ہے۔
8 اگست
مولاداد ولد فقیر داد سکنہ کلانچ گوادر جو گیارہ مئی کو فوج کے ہاتھوں اغوا ہوئے، آج بازیاب ہوکر گھر پہنچے ہیں۔
۔۔۔۔۔دشت کے علاقے جتانی بازار میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر لوٹ مار کرنے کے ساتھ خواتین و بچوں کو حراساں کیا اور تین بلوچ فرزندوں حسن ولد پنڈوک،ریاض ولد موسی، امان ولد جلال کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے دشت بلنگور بازار میں فورسز نے محاصرہ کر کے دو افراد نادل ولد پیر محمد، ستار ولد باقی سکنہ بلنگور کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔
۔۔۔۔۔پنجگور سے مسخ شدہ لاش برآمد،شناخت نہ ہوسکی، مقتول کو قتل کرکے کمبل وموٹی پلاسٹک سے لپیٹ کر پھینک دیا گیا ہے، مقتول کے ہاتھ پاؤں بندے تھے، لاش کافی پرانا تھا، مقتول کی عمر35 کے قریب بتائی جاتی ہے ۔اب تک شناخت نہ ہوسکی ۔
9 اگست
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج نے مشکے کے علاقے النگی میں آپریشن کا آغازکرکے 4چرواہوں کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جن کی شناخت عبدالمجید ولد داد محمد ، جعفر ولد شیر محمد ، حفیظ ولد غلام محمد اور جلیل ولد اللہ بخش کے ناموں سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے دشت پنودی میں بروز بدھ کو پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں میں لوٹ مار کی ۔
۔۔۔۔۔آواران کے علاقوں مالار، بزداد،میشود،آہوری اور تیرتیج فورسز کا آپریشن لوٹ مار۔
۔۔۔۔۔تمپ کے علاقے دازن میں فورسز نے 2افراد کوحراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت رضوان ولدظریف ،الیاس اور فاروق کے ناموں سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔کیچ کے علاقے تمپ میں نذر آباد سے پاکستانی فوج نے بروز بدھ کو 2افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت راجیش ولد رحیم بخش اور ندیم ہوٹل والا کے ناموں سے ہوگئی ۔جبکہ بالیچہ سے فورسز نے انس ولد بشیر نامی ایک کمسن بچے کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
10 اگست
۔۔۔۔۔خاران پاکستانی فوج کے تشدد سے ر یٹائر اسسٹنٹ کمشنر واشک نصیر بلوچ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جابحق ہوگئے۔
آواران، قاسم جو سے زہیم ولد صمد اغوا۔
11 اگست
۔۔۔۔۔سائیجی دشت سے علی محمد ولد حسن اور عدنان ولد علی محمد فوج کے ہاتھوں اٖغوا اور لاپتہ۔
۔۔۔۔۔مشکے کالار سے بلال ولد عبدالصمد فوج کے ہاتھوں اغوا۔ اور شاپک سے آصف ولد قاسم اغوا۔
۔۔۔۔۔مشکے النگی سے لاپتہ 4چرواہے شدیدزخمی حالت میں بازیاب، چارواہوں کی شناخت عبدالمجید ولد دادمحمد،جعفر ولد شیرمحمد،حفیظ ولد غلام محمد اورجلیل ولد اللہ بخش کے ناموں سے ہوگئی ، فورسزکے ٹارچر سیل سے شدید زخمی حالت میں بازیاب ہوگئے ۔
۔۔۔۔۔آواران کے علاقے گڈوپ زیارت پر دھاوا بول کر زیارت کی بے حرمتی کرنے کے ساتھ آبادی کو بھی نشانہ بنایا،لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار بعد انکو تشدد کا نشانہ بنایا ۔
۔۔۔۔۔بدھ کو پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے تربت کے علاقے نذر آباد سے ندیم بلوچ نامی ایک نوجوان کو ہوٹل سے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔۔جمعہ کو شام کے وقت پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے تربت کے علاقے شہرک سے رفیق ولد سید محمد نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔۔جمعہ کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے تربت کے علاقے آبسر بلوچی بازار میں آپریشن کرکے دو بھائیوں کو حراست میں لیکرلاپتہ کردیاجن کی شناخت ظفر ولد رضائی اور ریاض ولد رضائی کے ناموں سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔ہفتہ کو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے تربت کے علاقے دشت بلنگور کلیرو ڈمب میں آپریشن کرکے ایک اسی سالہ شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا جنہیں بعد ازاں شدید تشدد کے بعد رہا کردیا گیا ۔جن کی شناخت محمد ولد حیر محمد کے نام سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔تمپ بالیچہ میں فورسز نے آپریشن کرکے متعدد افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا ،جن میں ایک کی شناخت انیس ولد بشیر کے نام سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔دشت میں پاکستانی فوج نے آبادی پر حملہ کرکے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت واجو ولد محمد امین کے نام سے ہوگئی ۔
ْ۔۔۔۔۔تمپ سے امجد ولد محمد حسن نامی ایک شخص بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیاجنہیں گذشتہ دنوں تمپ کے علاقے بالیچہ میں ایک آپریشن کے دوران فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا تھا۔
12 اگست
۔۔۔۔۔دشت جان محمد بازار سے واجو ولد محمد امین اغوا و لاپتہ۔
13 اگست
۔۔۔۔۔آواران زیلگ سے بشیر ولد جمعہ اغوا۔
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے بروز اتوار تربت بازار سے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیاجن کی شناخت امجد ولد داد کریم سکنہ تلکان تمپ کے نام سے ہوگئی ہے ۔
۔۔۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے دشت کپکپار سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے راشد ولد خدابخش نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے جو دشت کپکپار کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔پسنی شہر سے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بلوچی زبان کے شاعر موسی اُمیت اور انکے بھائی زھیر اُمیت کو حراست بعد لاپتہ کردیا جو پسنی وارڈ نمبر ایک کے رہائشی ہیں۔
۔۔۔۔۔پنجگور کے علاقے خدابادان سے نامعلوم ڈبل کیبن میں سوار مسلح افراد نے شمس الدین نامی شخص کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گیا۔
14 اگست
۔۔۔۔۔دشت پیروتگ سے مول جان ولد مرادجان اغوا ۔
15 اگست
۔۔۔۔۔آواران کے علاقے جھاؤ نوندڑہ میں پاکستانی فوج نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جس کی شناخت رسول بخش کے نام سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے دشت سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے خلیل ولد لطیف بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔منگل کی رات تمپ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افرا د نے فائرنگ کرکے ظہوراحمد نامی شخص کو ہلاک کردیا ۔
16 اگست
۔۔۔۔۔بولان کے علاقے میں گزشتہ شپ سے بدھ کے روز پاکستانی فوجی آپریشن میں جہاں درجنوں گھروں میں لوٹ مار بعد خواتین ،بچوں اور مرد حضرات کو فورسز نے حراست بعد ملٹری کیمپ منتقل کر دیا تھا،جس میں شاہرگ ہرنائی کے علاقے کوسٹ سے فورسز ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے بارہ افراد کی شناخت ان ناموں سے ہوگئی ہے۔خیر محمد ولد جنگی خان مری، شاہ داد ولد نور حسین،عبدالمجید ولد صالح،عبدالرحمن ولد نور علی،نوکر خان ولد مشتاق، قیصر خان ولد گل جان، مشتاق ولد گل بہار، عبدالحمید ولد نور علی، بنگڑ خان ولد رحیم داد،اختر اور خواتین مہر بی بی اور جان بی بی ۔
۔۔۔۔۔کوہلوکے علاقے جنت علی کوہ سے مندو لوہانی مری اغوا۔ اسی گاؤں میں الہی جان شیران مری فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ۔
۔۔۔۔۔دشت کے علاقے مکسر کے رہائشی یاسر ولد کریم آج پاکستانی تشدد خانوں سے بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے، واضح رہے کہ یاسر بلوچ کو پاکستانی فورسز نے14 مئی2017 کو گوادر سے حراست بعد لاپتہ کردیا تھا۔
17 اگست
۔۔۔۔۔مند سورو سے مستری اکبر اغوا۔
۔۔۔۔۔پاکستانی گن شپ ہیلی کاپٹر نے بالگتر کے علاقے کیل کور ،شینزادان میں شدید شیلنگ و بمباری کی جس سے بی این ایم ممبر بلوچ بیٹی، سبیدہ دختر اللہ بخش شہید ہو گئی۔
۔۔۔۔۔پنجگور کے مین بازار سے پاکستانی فورسز نے ولید ولد اللہ داد سکنہ گچک کو حراست بعد لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔۔سبی کے علاقے ناڑی،میران،خیروا اور گرد نواع میں پاکستانی زمینی فوج کا آپریشن جاری ہے،دس افراد کو پاکستانی فوج نے حراست میں لینے کے ساتھ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ،گھروں میں لوٹ مار کے بعدانکو نذر آتش کردیا،جبکہ تین سو سے زائد بھیڑ ،بکریوں اور کچھ ہونٹ بھی فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔
۔۔۔۔۔ہرنائی زیر حراست قتل کیے جانے والے نعش کی شناخت ، رمضان ولد علی بخش کے نام سے ہوئی ہے جس پاکستانی فوج نے منگل کے روز ہرنائی شاہرگ آپریشن دوران دیگر افراد سمیت حراست بعد لاپتہ کر دیا تھا،جسکے حراست بعد فوج نے قتل کر کے لاش ہسپتال منتقل کیا ہے۔
۔۔۔۔۔ مند کے علاقے گواک میں پاکستانی فوج نے بازار میں دکاندار سیٹھ غلام کو دکان کے اندر سے حراست میں لے کر ملٹری کیمپ منتقل کردیا،
۔۔۔۔۔طالب علم سلمان ولد حیر محمد سکنہ لبنان ،مند کے سورو آرمی کیمپ سے بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا۔
ہرنائی پاکستانی فوج نے گولیوں سے چھلنی لاش ہسپتال منتقل کردیا
۔۔۔۔۔تمپ کے علاقے کوشقلات میں دوران آپریشن دو افراد نوید ولد مجید،سید ولد مجیدکو فورسز نے حراست بعد ملٹری کیمپ منتقل کر دیا تھا،لواحقین کے اجتجاج بعد فوج نے شدید تشدد بعد دونوں بلوچ فرزندوں کو زخمی حالت میں لواحقین کے حوالے کردیا۔
۔۔۔۔۔ضلع مستو نگ کے علاقے کانک میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوگئے۔
18 اگست
۔۔۔۔۔پاکستانی زمینی فوج و گن شپ ہیلی کاپٹروں نے نوشکی کے علاقوں منجورو،ریکو،نوشکی قلات کے درمیانی علاقے پاچنان،کشینگی،دو سید و گرد نواع میں زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے حملہ کردیا ،۔دو لوگوں کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے، جو ابراہیم ولد امیت خان اور احمد ولد مصری خان ہیں۔
۔۔۔۔۔ہرنائی پاکستانی فوج نے گزشتہ روز حراست بعد رمضان ولد علی بخش کو شہید کرنے بعد رات کو انکے والد علی بخش کو گھر سے اغوا کر کے لاپتہ ،کردیا،
تمپ کوشقلات سے پاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ ہونے والا ماما باھڈ ولد محمد بخش بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا۔
۔۔۔۔۔دشت کے علاقے سوھی میں پاکستانی فوج نے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا جنکی شناخت فہیم ولد دوست محمد سے ہوئی۔
19 اگست
۔۔۔۔۔تربت سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے ایک کمسن طالب علم نسیم بلوچ ولد سخی داد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے مند گوک سے جاسم ولد محمد بخش نامی ایک کمسن طالب علم کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ۔
دشت جان محمد بازار سے یعقوب ولد دوست محمداغوا۔
۔۔۔۔۔ہوشاپ کے علاقے تل میں پہلے آبادی پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی اور اسکے بعد زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ گھروں کو نذر آتش کر دیا اور پاکستانی فوج کی فائرنگ و شیلنگ سے دو فرزند ،واھگ بلوچ، وشدل بلوچ شہید ہو گئے۔ خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
۔۔۔۔۔نوشکی میں جاری آپریشن ختم،2افراد شہید ،2لاپتہ ،متعدد گھرنذر آتش کردیئے گئے، شہید ہونے والوں میں عبدالمنان ولد غلام رسول اور محمد صدیق ولد گہرام شامل ہیں جبکہ شہداء کی جسدِ خاکی بھی فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔آپریشن کے دوران فورسز نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
۔۔۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے دشت کپکپار سے پاکستانی فوج نے دو افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جن کی شناخت حمید ولد راشد اور لیاقت ولد بیت اللہ کے ناموں سے ہوگئی جوجان محمد بازار دشت کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔کیچ کے علاقے آب سر میں پاکستانی فورسزنے ایک گھر پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو زدکوب کرنے کے ساتھ گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو لوٹنے کے ساتھ وہاں موجود ایک بلوچ فرزند ارشاد ولد موسی کو حراست بعد لاپتہ کردیا،کیچ کے علاقے دشت میں پاکستانی آرمی نے چار افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا جس میں شناخت نبیل ولد واجدادسے ہوئی ہے۔
21 اگست
۔۔۔۔۔ضلع کیچ ،دشت کے علاقے تولگی میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو زدکوب کیا اور گھروں میں موجود تمام اشیاء کا صفایا کردیا،
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے دشت جان محمد بازار سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے اآپریشن کے دوران ایک نوجوان طارق ولدحاجی ولد محمد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔۔بروزپیر کو پاکستانی خفیہ اداروں نے تربت کے علاقے تلار کے مقام پر تربت سے کراچی جانے والے مسافر کوچ کو روک کر اس میں سوار دو 2 افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جنکی شناخت تاحال نہ ہوسکی ۔
۔۔۔۔۔نوکنڈی کے علاقے سے نامعلوم افراد اسلحہ کے زور پر نور محمد نامی ایک شخص کو اغواء کر کے لے گئے۔
۔۔۔۔۔بولان کے علاقے بھاگ میں چھلگری گاؤں کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے دائم خان مامی شخص کوہلاک کر دیا ۔
22 اگست
۔۔۔۔۔بروز منگل کو علی الصبح پاکستانی فوج نے کولواہ اور گردونواح کے علاقوں شاپکول اور جت کے پہاڑی سلسلوں میں فضائی آپریشن کا آغاز کردیا ہے ۔ 5جیٹ طیارے و ہیلی کاپٹرآبادیوں پرفضائی بمباری کر رہے ہیں جبکہ زمینی فوج بھی بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئی ہے ،کئی ٹرک اور بکتر بندگاڑیوں میں سوارفورسز نے کولواہ اور گردونواح کے آبادیوں کو محاصرے میں لیا ہوا ہے ،لوگ محصور ہیں،کسی کی بھی آمدو رفت کی پابندی ہے ۔زمینی فوج گھر گھر تلاشی و خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنارہی ہے اور لوٹ مار کر رہی ہے ۔آبادیوں پر فضائی بمباری سے ہلاکتوں کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے ۔
۔۔۔۔۔تربت کالونی میں گذشتہ شب پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے عبدالرحمان نامی ایک شخص کے گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر عبدالرحمان نامی شخص کے بیٹے رجب ولد عبدالرحمان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔
۔۔۔۔۔مند بلو سے 7جولائی میں فورسز ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے محمد علی گذشتہ روزمند سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔آواران بیدی سے ایک مہینے قبل فورسز ہاتھوں لاپتہ ہونے والے حامد ولد یعقوب اور گنج بخش ولد مراد آج بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔
۔۔۔۔۔پسنی سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ زہیر امیت بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے جبکہ اس کے بھائی بلوچی شاعر موسیٰ امیت تاحال فورسز کے تحویل میں لاپتہ ہیں۔موسیٰ امیت اور اس کے چوٹے بھائی زہیر امیت کو 13اگست کو پسنی مین بازار سے دن دہاڑے فورسز و خفیہ اداروں نے اس کے دکان سے حراست میں لیکر لاپتہ کردیاتھا۔
۔۔۔۔۔پنجگور کے علاقے گچک لوہڑی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا جس کی شناخت خدا بخش ولد جمال کے نام سے ہوگئی ۔
23 اگست
۔۔۔۔۔کولواہ و گرد میں پاکستانی فوج کا آپریشن بدھ کے رات گئے جاری ہے،جبکہ دو بلوچ فرزندوں کی نعشیں آواران ہسپتال پاکستانی فوج نے پہنچا دئیے ہیں،جنکا تعلق مشکے سے بتایا جا تا ہے، نعشوں کی شناخت صاحب غنی ولد علی محمد اور غفور سکنہ مشکے نوکجو سے ہوئے
24 اگست
۔۔۔۔۔پاکستانی زمینی فوج نے مند کے علاقے گیاب میں آبادی پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو زد کوب کرنے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی اور درجن سے زائد افراد کو حراست بعد مقامی آرمی کیمپ منتقل کردیا جس میں سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے7 افراد کے نام، شیر محمد ولد بہرام، شبیر، زبیر ولد علی، محمد رضا ولد گہرام، عابد ولد حمید،طارق ولد عبداللہ،جاوید بلوچ۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے دشت سبدان میںآ ج بروز جمعرات کو آپریشن کرکے گھروں میں لوٹ مار کی ، خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 2افراد کے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جن کی شناخت راشد ولد بہرام اور الہٰی بخش ولد مراد محمد کے ناموں سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔ضلع گوادر کے علاقے پیشکان سے پاکستانی خفیہ اداروں نے ریحان ولد داد رحمان نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔
25 اگست
۔۔۔۔۔ پنجگور کے علاقے گچک میں پاکستانی فوج اور اسکی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی پشت پناہی والے مذہبی انتہاپسندوں نے تین روز قبل ایک85 سالہ بزرگ بلوچ چروائے خد ا بخش کو قتل کر دیا،جسکی لاش گزشتہ روز ملی۔
۔۔۔۔۔پنجگور کے علاقے وشبود میں گزشتہ روز پاکستانی فوج کے زیر دست مسلح دفاع ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ڈاکٹرمحمد عیسیٰ بلوچ کے گھر پر حملہ کر کے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو لوٹنے کے ساتھ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور تھوڑ پھوڑ کی گھر کے دروازوں اور مین گیٹ کو بھی اکھاڑ دیا گیا۔
۔۔۔۔۔کولواہ پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی آپریشن چوتھے روز بھی جاری
۔۔۔۔۔ڈیرہ مراد جما لی کے علاقے چھتر میں سخی واہ کے قریب گد ھا گاڑی سڑک کنارے نصب با رودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں بھٹہ شاہ نا می شخص جاں بحق ہوگیا ۔
۔۔۔۔۔کراچی کے علاقے گارڈن سے گزشتہ شب پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایک گھر پر دھاوا بول کر ایڈوکیٹ ظفر بلوچ کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔ہرنائی سے دوران آپریشن پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے رحمن ولد نورعلی مزارانی مری کی لاش برآمدہوئی ہے۔واضح رہے کہ رحمن مری کو گذشتہ ہفتے شاہرگ آپریشن کے دوران فورسز نے حراست کے بعد لاپتہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔گوادر کے علاقے مونڈی سے واحد بلوچ سکنہ مونڈی، رحیم بخش ولد حسن سکنہ چب ریکانی کو پاکستانی فورسز نے انکے کرولا گاڑی سمیت لاپتہ کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔چب رہکانی گوادر سے رحیم بخش ولد حسن اغوا۔
26 اگست
۔۔۔۔۔حب کے علاقے ساکران کے علاقے میں منگوپیر کی حدود نادر بائی پاس سے دو افراد کی نعشیں ملیں،جنکو ویرانے میں دفن کیا گیا تھا،لاشوں کو مقامی پولیس نے شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کردیا،مگر ہفتہ کے روز تک انکی شناخت نہ ہوسکی،واضح رہے کہ نادرن بائی پاس پر اس سے پہلے بھی تشدد زدہ لاشوں کی ملنے کے واقعات ہوتے رہے ہیں،جبکہ گزشتہ برس ایدھی ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان لاشوں میں نو فیصد بلوچوں کی لاشیں سامنے آئے ہیں مگر مسخ و پرانی ہونے کی وجہ سے انکی شناخت نہ ہو سکی ہے۔
۔۔۔۔۔کولواہ کے علاقوں جت،شاپلوک و گرد نواع میں پاکستانی زمینی فوج کا محاصرہ جاری،جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پہاڑی سلسلوں پر پروازوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔
۔۔۔۔۔کستانی فورسز نے تمپ میں قائم واحد قمبر لائبریری کو نذر آتش کر دیا۔
۔۔۔۔۔مند کے علاقے نوکیں کہن میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ بابو ڈکیت کے کارندوں نے فائرنگ کر کے اسد ولد معراج نامی شخص کو زخمی کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔آواران میں کولواہ اور گردونواح میں گذشتہ پانچ روز سے پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی خونی آپریشن جاری ہے ۔بمبارمنٹ میں ایک چرواہا زباد شہید ہوگیا،جو اپنے بھیڑ بکریوں کوچرارہا تھا کہ پاکستان کی طیاروں نے اس پر بمباری کردی جس سے چراواہا سمیت متعدد بھیڑ بکریوں بھی ہلاک ہوگئیں۔جت میں آپریشن دوران فورسز نے متعددا فراد کو حراست میں لیکر کیمپ منتقل کردیا جو تاحال لاپتہ ہیں جن میں چند کی شناخت جمعہ ولد دلوش، پھلان ولد شاہ دوست، محمد علی ولد دْرا، بوھیر ولدقادر بخش، ناگْمان ولد سنگو، فضل ولد سنگو، علی فقیر داد، فضل ولد امام بخش، سخیداد مْلما، مجید ولد بوھیر، سیٹھ کَسو ولدشاہ بیک کے ناموں سے ہوگئی ۔ علی، فضل، سخیداد، مجیداور سیٹھ کَسودبئی سے چھٹیاں گزارنے اپنے گاؤں آئے ہوئے تھے جنہیں آپریشن میں حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
27 اگست
۔۔۔۔۔یکم اگست کو ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں پاکستانی فوج کے ایک آپریشن کے دوران جبری طور پر حراست بعد لاپتہ ہونے والے عباس ولد حاجی قیوم اور لطیف ولد ماسٹر حفیظ27دن کے بعد آج بروز اتوار کوتربت سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے دشت مچات میں گذشتہ شب کو پاکستانی فوج نے علاقے کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی لی ،خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،گھروں کے قیمتی سامان لوٹ لئے ۔ایک گھر میں سامانوں کی لوٹ مار اور خواتین و بچوں پر تشدد مزاحمت کر نے پر فورسز نے ایک 80سالہ بزرگ ڈاکٹر اللہ بخش پر شدید تشدد کیا،تشدد اور خوف سے وہ دل کا دورہ پڑنے شہید ہئے۔ جبکہ دسلیم ولد دلمراد اور امیر بخش ولد ڈاکٹر اللہ بخش نامی دو افراد کو حراست میں لیکرلاپتہ کردیا جن میں بعد ازاں امیر بخش کو رہا کردیا گیا اور جبکہ سلیم ولد دلمراد تاحال فورسز کی حراست میں ہیں۔
۔۔۔۔۔کولو اہ آپریشن جاری،دو خواتین سمیت درجن سے زائد بزرگ لاپتہ۔
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج کا کوالواہ کے علاقوں،جت،شپکول و گرد نواع میں زمینی آپریشن و آبادیوں کا محاصرہ جاری ہے،جبکہ پہاڑی علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی بدستور جاری ہے،کستانی فوج نے دو خواتین کو شپکول بازار سے پہاڑی کی جانب ایک آبادی سے حراست میں لینے کے ساتھ لاپتہ کیا ،جنکے کے ساتھ خاندان کے تین بزرگ اور ایک کمسن نوجوان بھی شامل ہے۔
28 اگست
۔۔۔۔۔بروز پیر صبح کو کوہ مراد تربت زیارت کیلئے جانے والے ایک خاندان کے گاڑی پر کمپ تال کے مقام پر ریاست کی مذہبی شدت پسندوں نے ریموٹ کنڑول بم سے حملہ کردیا ۔حملے سے گاڑی تباہ ہوگئی اور اس میں سوار درزی ناکام ولد خدا بخش اور خان محمد ولد شادین جاں بحق ہوگئے جبکہ دیگر دو افراد زخمی ہوئے ۔
29 اگست
۔۔۔۔۔کولواہ میں پاکستانی زمینی و فضائی فوج کا آپریشن آٹھویں روز بھی جاری ہے،کولواہ کے علاقوں جت،شاپکول،پارگ میں پاکستانی فوج نے آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں موجود خورد نوش کے اشیاء سمیت خواتین و بچوں کے کپڑوں سمیت برتن و تمام سامانوں کو لوٹنے بعد خواتین و بچوں کو گھروں سے باہر نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں علاقہ بدر کردیا گیا،جبکہ پہاڑی علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کو سلسلہ تاحال جاری ہے۔پاکستانی فوج کی جانب سے علاقہ بدر کیے جانے والے علاقہ مکینوں میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد کے ساتھ کچھ بزرگ بھی شامل ہیں،جبکہ فورسز نے تشدد بعد کولواہ کے علاقوں جت،شاپکول،پارگ میں تمام آبادی کو علاقہ بدر کر دیا ہے جنکے بعد میں تاحال معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس حال اور کہاں ہیں۔
۔۔۔۔۔مشکے کے علاقے شیرگی میں پاکستانی فوج نے مسجد سے حیر بخش ولد محمد رحیم کو حراست بعد لاپتہ کردیا ۔
۔۔۔۔۔دشت ، جان محمد بازار سے پاکستانی فورسز ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے دو بلوچ حاجی ولی محمد اور انکے بیٹے ماجد بازیاب ہو گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔ہوشاپ سے ساکم ولد علی مراداور گوادر سے امجد ولد مراد اورحنیف جمال اغوا ۔
30 اگست
۔۔۔۔۔بزداد گیشکورسے ذاکر ولد خان محمد اغوا۔
۔۔۔۔۔دو دن قبل ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ ،نوکر منا سے پاکستانی فورسز نے دوران آپریشن دو افراد براہوئی بگٹی ولد وزیر اور بھوٹا بگٹی ولد نوحق کو حراست بعد لاپتہ کیا تھا جنکی لاشیں منگل کو پاکستانی فورسز نے نصیر آباد کے علاقے چھتر پلیجی میں پھینک دئیے۔
۔۔۔۔۔بولان کے علاقے پیر اسماعیل میں فورسز کی فضائی و زمینی آپریشن کے چند گھنٹوں کے بعد فورسز نے ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں بھی زمینی و فضائی آپریشن کا بڑے پیمانے پہ آغاز کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج نے دشت کے علاقے کوچو میں آبادی پر دھاوا بول کر دو افراد حنیف ولد پیر محمد،صابر ولد عظیم کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔آواران کے مین بازار میں ڈاکٹر اللہ نذر چوک سے فورسز نے تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا،جنکی تاحال شناخت نہ ہو سکی۔
۔۔۔۔۔دشت کے علاقے سائیجی اور دشت و گوادر کے درمیان پہاڑی علاقے دڑامب میں پاکستانی زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی آپریشن جاری ہے۔
***

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved