Translate In Your Language

New Videos

بس انتظار ہے دشمن کے آنے کا .... سمیر جیئند بلوچ

بس انتظار ہے دشمن کے آنے کا .... سمیر جیئند بلوچ

گیارہ سال سے جہد میں مسلسل اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے اور انتہائی ذمہ داری سے سر انجام دینے والا قومی ہیرواس طرح اپنے انقلاب کے بھوکے پیاسے کامریڈوں کو اچانک الودا ع کہہ کر ا منہ پھیر لیں گے اور زندگی کی دوسرے ذمہ داریاں اور وطن کی حفاظت ساتھیوں کے حوالے کر جائیں گے ایسا کسی کے گمان مین نہ تھا ۔مگر اس کامریڈ کیلئے تو بالکل قابل قبول نہیں ہوگا کہ ایک ماہ قبل اسے اپنے چھاتی سے لگاکر رخصت کرے اور کہے کہ جلدی لوٹ آنا ہم انتظار میں ہونگے ۔پھر آج ان کا اسطرح بچھڑ جانا پھر یہ پیغام کہ اب وطن تمہارے حوالے ساتھیو،یہ اور وہی الفاظ آج بھی کانوں میں گونج رہے ہوں تو سوچیئے اس کامریڈ پر کیا گذر رہی ہوگی ،یقیناَ اس کا ادراک ایک جہد کاراور سرفروش ہی جان سکتا ہے،محسوس کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس درد سے ہوکر گذراہے۔جو یہ کرب سے نہ گزرا ہواس کیلئے یہ محض ایک چھوٹا سا جملہ ہے۔
اس پر خار راہ پر جو بھی کامریڈ ساتھی ہو اس کا بچھڑ جانا ایک المیہ اور سانحہ ہے مگر کچھ کامریڈوں کے بچھڑ جانے کے ساتھ ساتھ زمین بھی پاؤں کے نیچے سے کسک جاتی ہے ۔یہ لمحات کبھی کبھی آتے اور ہوکر گذرتے ہیں مگر اپنے پیچھے ایسے ویرانے چھوڑ جاتے ہیں،انکے بچھڑنے سے دن اندھیروں میں بدل جاتے ہیں ،اندھیرے طوفانوں میں سمٹ جاتی ہیں۔طوفان لاوا بن جاتی ہیں اور ،لاوا بے رحم ہوکر کسی کا خیال نہیں کرتے حتی ٰ کہ پانی جیسی طاقتور چیز پر سے ہوکر غراتا اور دھاڑیں لگاتا ہوا گذر جاتا ہے۔
یہ ہماری قومی بدنصیبی ہے یا خوش نصیبی کہ ایک قومی ہیرو نہ صرف خود منہ موڑ لیتے ہیں بلکہ اپنے تین قومی سپوت بھی ساتھ لے چلتے ہیں ۔انکے شہادت پر قوم کو ناز یقیناًہوگا ۔ مائیں ضرور نئے انقلابی گیت گائیں گے،جہد کار وں کے سر فخر سے پھولے نہ سمائیں گے ان کا سر اونچا ہوگا ۔ دوسری طرف دھرتی ماں انھیں خون کی مہندی میں دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوجائے گی،اپنے باہیں پھیلاکر انھیں اپنے آغوش میں لیکر لوریاں دینے لگے گی اور اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھے گی کہ بیک وقت اس کے چار قومی سپوت اس کے گود میں سورہے ہونگے۔
ماں دھیرے دھیرے انہیں لوریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان سے جہد کے بارے میں پوچھے گی ،اور کامریڈوں کے بارے حال احوال کریں گے تو اس دوران یہی قومی سپوت ضرور بتائیں گے کہ ہمارے جلد آنے کا سبب وہ آپ کے بیٹے تھے جن کی آنکھیں لالچ،دلالی،مکاری اور بے ضمیری کے خون سے لت پت تھے۔یہ باتیں سن کر ماں کا وہی حال ہوگا جو حال ان کامریڈوں کا ہوا تھا کہ جن کو انھوں نے گلے لگا کر الوداع کہا تھااور جہد انکے سپرد کیاتھا۔
یقیناًایک طرف ماں یہ سن کر اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا تو دوری طرف اسکی آنکھوں میں ان غداروں کیلئے خون بھر آئیگا کہ خود تو بے ضمیر نکلے مگر جنھیں اپنے ماں کے لئے درد تھا وہ انھیں کے خون کے پیاسے کیوں نکلے؟۔ کچھ لمحے بعد انھی غداروں کو بلاکر ان سے چیخ چیخ کر اپنے غیرت مند فرزندوں کے خون اور جو زندہ ہیں ان کے غلامی کے پل پل کا حساب مانگنے لگیں گے کہ آپ اتنے نیچ حرکت کیوں کر گئے۔ یقیناََ وہ ماں کے سامنے نظریں جھکائیں گے جس طرح وہ دنیا میں قوم کے سامنے جھکائے تھے۔ کیونکہ وہ قومی مجرم ہیں اپنے ،ماں ،بھائی بہن اور قوم سب کے۔ حتیٰ کہ جس ریاست کیلئے یہ دلالی کر رہے ہوتے ہیں یہی ریاست بھی ان سے نفرت کریگا انھیں حقارت سے دیکھے گاکہ جب یہ اپنی ماں کے نہیں اپنے بھائیوں کے نہیں تو ہمارے کہاں ہونگے۔
جنرل ڈائر نے بھی اپنی ڈائری اسی میٹھی سرزمین پر لکھا اور جس قومی غدار نے انکا ساتھ دیکر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارا تھا ،جسے جنرل ڈائر بار بار لکھتے ہیں کہ عیدو جیسا غدار وطن فروش نہ ہوتا تو ہم یہ جنگ ہار جاتے ،حالانکہ وہ یہ الفاظ فخریہ دہراتے ہیں مگر عیدو کیلئے ہر بار لفظ غدار استعمال ہورہا ہوتاہے اس کا مطلب ہے آج کے قومی غدار کیلئے اس سے برتر الفاظ چنے جائیں گے، یہ الفاظ تاریخ کے زبانی چنے جائیں گے۔
الغرض ان کیلئے ہر وہ بازاری زبان استعمال ہوگا ،جو اس معاشرے میں رائج ہے۔ جب یہ سماج پنجابی جیسے بد خو کا ہوتو سوچئے انھیں کن کن ناموں سے پکارا جائے گا۔دور نہ جائیں قومی غدار سراج رئیسانی کا واقعہ دیکھیں پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے اس کو اپنے اشاروں پر گذشتہ 8 سال سے نچا نچاکر بلوچ آزادی پسندوں کے خون کے ساتھ ہولی کھلوایا انجام کیا نکلا ؟ اس کے مرنے کی خبر میڈیا تک نہیں آسکا ۔ ان غداروں کا حال اس سے بھی برا نکلے گا جن کا تصور بھی وہ نہیں کر سکتے ۔
دوسری جانب دھرتی ماں بھی انھیں معاف نہیں کریگی اوررو رو کر کہے گی، بے شرمو تم نے تو بلوچی دستار دشمن کے پاؤں میں رکھ کر ماں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا تھا، جب اس کی عزت کے رکھوالی کیلئے اور اسکا چادر اوڑھنے کیلئے اسکے لاڈلے،خیر بخش ناز( جس پر واقعی ماں کونازہے) عرف بابا گہرام،استاد جنگیان،واحد عرف تلار (واقعی چٹان ثابت ہوا) اور پٹھان عرف سار بان جیسا شہزادہ سامنے آئے تو کباب میں ہڈی بن گئے۔ان غداروں پر ہر وقت یہی ماں کے الفاظ اپنے آپ کو دہرائیں گے اور وہ اپنے آپ سے پوچھنے پر مجبور ہونگے کہ بابا خیر بخش ناز کی گیارہ سال کا وہی حساب دینا پڑے گاکہ جس نے دھرتی ماں کی عزت ناموس ،قوم کی غلامی کے طوق کو گردن سے نکالنے کیلئے سر پر کفن باندھ کر مسلسل سردی،گرمی،بھوک،پیاس جیسی زندگی کی تمام سختیاں برداشت کیں اور ایک دن اس کے زبان پر اف تک کا لفظ کسی نے نہیں سنا کہ میرے پاؤں میں چھالے پڑگئے ہیں ۔گیارہ سال کے عرصے میں اس نے ایک لمحہ مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا کہ میں نے گیارہ سال میں کتنا سفر طے کیا ہے یہ سب کیلئے اپنے آپ کو کوسیں گے۔یہ سب کچھ کرنے کیلئے تاریخ انھیں مجبور کریگی۔اور وہ یہ نہ بھولیں گے کہ یہ قومی چاروں سپوت ماں کے گود میں سر رکھ کر دعائیں خیر لے رہے ہونگے مگر اسی ماں کی بد دعائیں ہمارے لئے ہونگے۔دوسری جانب ان شہیدوں کا فلسفہ کوہسار اوریگزاروں میں خوشبو کی طرح جتنا مہک رہاہے اتنی ہمارے سیاہ کارناموں کے داستان دوسری جانب بدبو پھیلا رہی ہوں گی۔اس کے علاوہ شہید بابا نے دشمن سمیت ہمارے لئے جو انقلابی گڑھا گذشتہ گیارہ سال سے کھودا ہے اب مکمل ہونے پر سدا دیرہی ہے کہ انتظار ہے دشمن کے آنے کا۔

Share this Post :

Post a Comment

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved