New Posts from Balochistan Channel

Translate In Your Language

New Videos

Showing posts with label Balochistan Liberation Front (BLF). Show all posts
Showing posts with label Balochistan Liberation Front (BLF). Show all posts

کولواہ: فوج سے دوبدولڑائی میں سیکنڈلیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ اور دیدار بلوچ شہید ہوئے۔ بی ایل ایف

کولواہ: فوج سے دوبدولڑائی میں سیکنڈلیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ اور دیدار بلوچ شہید ہوئے۔ بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ بدھ کے روزکولواہ کے علاقے بدرنگ میں فوج کے ساتھ دو بدو لڑائی میں سیکنڈ لیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ عرف سمیر بلوچ اور ابراہیم بلوچ عرف دیدار بلوچ شہید ہوئے اور پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ بدھ کی صبح ایک گشتی ٹیم تنظیمی مشن پر تھا کہ بدرنگ کے مقام پر فوجی قافلے کے ساتھ ان کا آمنا سامنا ہوا اور جھڑپ شروع ہوئی، فوج نے گشتی ٹیم کو گھیرنے کی کوشش کی لیکن سیکنڈ لیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ عرف سمیر بلوچ اور ابراہیم بلوچ عرف دیدار بلوچ اور ساتھیوں نے بہادری سے مقابلہ کرکے اپنے ساتھیوں کو حصار سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئے اور عیسیٰ بلوچ اور ابراہیم بلوچ سرزمین کی آزادی و دفاع کے جنگ میں جام شہادت نوش کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔ بی ایل ایف اپنے عظیم جہدکاروں کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے یہ عہد کرتا ہے کہ تنظیم قوم کی مدد واعانت سے شہدا کا مشن پورا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹوں تک جاری اس جھڑپ میں دشمن کی تعداد بہت ہی زیادہ تھا لیکن بلوچ جانثاروں سمیر بلوچ اور دیدار نے بہترین حکمت عملی اور بہادری سے جنگ لڑتے ہوئے دشمن کے متعدد سپاہی ہلاک وزخمی کئے اور اپنے باقی ساتھیوں کو بحفاظت حصار سے نکالنے میں کامیاب ہوئے اور خود شہید ہوگئے۔ گشتی ٹیم کے دیگر ساتھی ا س وقت محفوظ مقام پر پہنچ چکے ہیں اور تنظیم سے رابطے میں ہیں۔
گہرام بلوچ نے کہا کہ سیکنڈ لیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ بی ایل ایف کے پلیٹ فارم پر بلوچ قومی آزادی کے جنگ میں سرگرم عمل تھے۔ شہید نہایت بہادر اور جفاکش سرمچار تھے۔ انہوں نے کولواہ، بلیدہ، بالگتر، ہیرونک، پنجگور، پروم کے مختلف محاذوں پر دشمن کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا اور ہر جنگ میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہاکہ سیکنڈ لیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ کی بہادری، جفاکشی اور جنگی ہنر کے ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تنظیم میں انہیں سیکنڈ لفٹنینٹ کے عہدے پر فائز کیا گیا ، انہوں نے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد مختلف محاذوں اور تنظیم کے کیمپ اور ساتھیوں کے خدمت میں شبانہ روز محنت سے کام کیا اور جدوجہد میں انمٹ نقوش چھوڑ دیئے۔
گہرام بلوچ نے کہا دیدار بلوچ تنظیم میں بحیثیت سپاہی خدمات سرانجام دے رہے تھے ، انہوں نے تنظیم کے پلیٹ فارم سے دشمن کے خلاف متعدد محاذ پر متعدد جنگوں میں حصہ لیا اور بلوچ قومی تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ترجمان نے کہا کہ سیکنڈ لیفٹنینٹ عیسیٰ بلوچ عرف سمیر بلوچ اور ابراہیم بلوچ عرف دیدادبلوچ کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اوریہ عہد کرتے ہیں کہ شہدا کا پورا مشن کریں گے۔


پاکستان کے اجتماعی سزا کے مقابلے میں بلوچ قوم کو اپنی قوت یکجا کرکے مقابلہ کرنا ہوگا۔ ڈاکٹراللہ نذر بلوچ

پاکستان کے اجتماعی سزا کے مقابلے میں بلوچ قوم کو اپنی قوت یکجا کرکے مقابلہ کرنا ہوگا۔ ڈاکٹراللہ نذر بلوچ

بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کوئٹہ سے بلوچ خواتین کی اغواء نما گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض ریاست آزادی کی جدوجہد میں برسرپیکار بلوچوں کے سامنے شکست کھا کر بلوچ خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان دن کی روشنی میں اور دنیا کی نظروں کے سامنے واضح طورپر جنگی جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔ ہم اپنے دشمن سے یہ التجا نہیں کرتے کہ برسرپیکار اور مسلح لوگوں سے رعایت برتی جائے بلکہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ دنیا پاکستان کو جنگی قوانین کے احترام کیلئے پابند کرے۔ ہم نے بارہا دنیا سے اپیل کی ہے کہ پاکستان کو جنگی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جائے لیکن اس کا صلہ ہمیں یہ مل رہا ہے کہ ہمارے خواتین و بچے، بزرگ اور نہتے لوگ پاکستان کے جنگی جرائم کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔
‏ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ سے خواتین، چھوٹے بچوں اور عمر رسیدہ بلوچوں کا اغوا اور گمشدگی اجتماعی سزا کی پالیسی کا تسلسل اور جنگی و عالمی قوانین کو بندوق کی نوک پر رکھنے کی واضح علامت ہے۔ جب ہم کسی بھی قانون کی بات کرتے ہیں تو اس قانون کو تخلیق کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اسے نافذ کرنا بھی تخلیق کارروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اسی طرح جب ہم جنگی قوانین یا اقوام متحدہ کے کنونشنز کی بات کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان قوانین پر عملدرآمد کے لئے دستخط کنندگان کو پابند کرے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے حوالے سے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اپنے فرائض سے صریحاً غافل دکھائی دیتے ہیں جس کی قیمت بلوچ قوم کو اپنی جان و مال اور لٹتی عزتوں اور تذلیل سے چکانی پڑرہی ہے۔
‏انہوں نے کہا کہ اجتماعی سزا کی پالیسی کے تحت مختلف علاقوں سے نہ صرف خواتین کو گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کیا جاتا ہے بلکہ وہ ایک عرصے تک خفیہ زندانوں کی اذیتیں جھیلتے ہیں۔ کبھی کبھار چند ایک کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اکثر صورتوں وہ ہمیشہ کے لئے زندان کی نذر ہوجاتے ہیں۔
‏ڈاکٹراللہ نذربلوچ نے کہا سات سالہ امین ولد حاجی دوست علی بگٹی، عزتون بی بی بنت ملحہ بگٹی، مراد خاتون بنت نزغو بگٹی، مہناز بی بی بنت فرید بگٹی، ساٹھ سالہ حاجی دوست علی ولد ملوک بگٹی اور اسی سالہ فرید بگٹی کا جرم محض بلوچ ہونا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا پاکستان کے آئین کے مطابق ہمیشہ کے لئے فوجی ٹارچر سیلوں میں اذیت سہنا ہے۔ ایک فسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ یہ جان کر کہ اٹھائے جانے والے لوگ کہاں ہیں ان کے لئے لاپتہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ہمیں ایسے الفاظ کو ترک کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس بات پر کسی بھی ذی شعور انسان کو رتی بھر شک نہیں ہے کہ یہ پاکستانی فوج کی غیرقانونی اذیت گاہوں میں قید ہیں۔ اور وہاں وہ جس کرب سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں۔
‏انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کا اغوا اجتماعی سزا کی پالیسی ہے۔ اس کے تحت پاکستان بلوچ قوم کو نیست و نابود کرکے بلوچ قومی تحریک کو ہمیشہ کیلئے کچلنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس سے پہلے ہزاروں بلوچ پاکستان کے ہاتھوں لاپتہ ہیں اور ہزاروں شہید کئے جا چکے ہیں۔ خواتین و بچوں اور نہتے لوگوں کو دنیا کے ہر قانون میں کسی بھی صورتحال میں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان ایسی اخلاقیات سے عاری ایک غیر فطری ریاست ہے جس کی بنیاد جھوٹ پر رکھی گئی ہے۔ اسی لئے بلوچوں کو بھی ابھی اجتماعی قوت کیساتھ پاکستان کے ان مظالم کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
‏چونکہ پاکستان کی اپنی نہ کوئی ثقافت اور نہ کوئی خاص شناخت ہے اور نہ ہی آج تک ہم پاکستان میں کوئی تاریخی یا عظیم شخصیت دیکھ سکے ہیں جس نے اپنی ریاستی پالیسیوں کے خلاف حق و سچ کا ساتھ دیا ہو۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جسے وہ عظیم رہنما کہتے ہیں وہ خود بلوچ ریاست کے تنخواہ دار اور پیشہ ور وکیل رہے تھے۔ جس نے اپنے موکل کو دغا دے کر بلوچستان پر قبضے کا فرمان جاری کیا تھا۔ ایسی ریاست سے حق و انصاف کی امید رکھنا ہی عبث ہے۔ یہاں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واضح جنگی جرائم پر پاکستان کی سرکوبی کے لئے عملی اقدام اٹھائے۔

بلوچستان:آواران فوجی چوکی پر حملے میں دو اہلکار ہلاک کیے،بی ایل ایف

بلوچستان:آواران فوجی چوکی پر حملے میں دو اہلکار ہلاک کیے،بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے فوجی چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ

انتیس جولائی کی رات سرمچاروں نے ضلع آواران کے علاقے زرانکولی میں فوجی چوکی پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

 

بلوچستان: دشت،پنجگور پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان: دشت،پنجگور پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سٹیلائیٹ فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا
29 جولائی کو ساڑھے چھ بجے کی قریب سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے دشت پٹوک کے کریم بخش بازار میں فوجی چوکی پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
گہرام بلوچ نے کہا کہ بدھ کی رات سرمچاروں نے ضلع پنجگور کے علاقے گچک میں پاکستانی فوجی چوکی پر دو راکٹ فائر کئے جو چوکی کے اندر جاگرے جس سے قابض فوج کو جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

بلوچستان: بلوچ قوم نے فوجی طاقت کے بے پناہ استعمال کے باوجود انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

بلوچستان: بلوچ قوم نے فوجی طاقت کے بے پناہ استعمال کے باوجود انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے تمام جمہوری عالمی اصولوں کے برعکس محض فوجی طاقت کے ذریعے بلوچ قوم پر اپنے نام نہاد اور ناجائز انتخابات مسلط کرنے کی کوشش کی مگر بلوچ قوم نے انہیں مسترد کیا۔ بلوچستان ایک مقبوضہ اور متنازعہ خطہ ہے بلوچ قوم نے گزشتہ انتخابات کی طرح موجود انتخابات میں بھی فوجی طاقت کے بے پناہ استعما ل کے باوجود اس عمل میں حصہ نہیں لیا۔ یہ پاکستان کی شکست فاش ہے۔ میں بائیکاٹ پر بلوچ قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور یہ بائیکاٹ بلوچ قومی تحریک کے عالمی پزیرائی میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ انتخابات جمہوری عمل کا نام ہے اورآئینی اتھارٹی کے تحت منعقد کئے جاتے ہیں۔ پاکستان ایک قابض ہے اور قبضہ گیر کو بلوچستان میں الیکشن کرانے کا کوئی آئینی اتھارٹی حاصل نہیں ہے۔یہاں انتخابات بلوچ قوم کی منشاکے خلاف ہیں۔ اسی بنا پر بلوچ قوم نے بائیکاٹ کرکے انہیں مسترد کیا۔ پاکستان کے پاس جمہوری اقدارکی فقدان ہے جس طرح پاکستان فوجی طاقت کے ذریعے بلوچستان پر قابض ہے اسی طرح نام نہاد انتخابات کو بھی فوجی جبر کے ذریعے منعقد کرتاآیاہے۔فوجی جبر کا اس سے بڑا اور ثبوت کیاہوسکتاہے کہ بین الاقوامی مبصر مشن اور عالمی میڈیاکو بلوچستان میں رسائی نہیں دی گئی۔ اگر انہیں اجازت دیاجاتا تو دنیا کے سامنے پاکستان کی جانب سے بلوچ قوم پر ڈھائی جانے والی قہر اور مظالم عیاں ہو جاتیں۔

انہوں نے کہاکہ نام نہاد انتخابات کے لئے پاکستان نے اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ فوج تعینات کیا۔بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد ریگولر آرمی پہلے سے تعینات ہے۔ الیکشن کے نام پرساٹھ ہزار مزید فوج بلوچستان میں خون ریزی کے لئے تعینات کیاگیا۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں فوج تنہا نہیں بلکہ بنگلہ دیش طرز پر جرائم پیشہ اور قاتل گروہوں پر مشتمل بے شمارڈیتھ سکواڈزفوج کے متوازی بلوچ نسل کشی اوراستحصال میں مصروف ہیں۔ ان نام نہاد انتخابات میں پاکستان نے اپنی قوت جھونک دی تھی تاکہ بلوچ قوم کو حصہ دار بنایاجاسکے لیکن قومی تحریک آزادی کے ساتھ شعور ی وابستہ اورحمایت میں کمر بستہ بلوچ قوم تمام جبر و دہشت خیزیوں کے باوجود قابض کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا بلکہ اس بربریت کا مقابلہ کیا اور نام نہاد انتخابات کوناکام بنادیا۔

ڈاکٹر اللہ نذربلوچ نے کہا کہ نام نہاد انتخابات کے نام پر ضمیر فروشوں کی ایک کھیپ کو استعمال کرنے کے بعد دوسری کھیپ سامنے لایا جاتاہے تاکہ قومی تحریک کو کاؤنٹر کیاجاسکے۔ نام نہاد قوم پرست نیشنل پارٹی کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کے بعد انہیں ایک طرف رکھ کر اب ضمیرفروشوں اورقاتلوں کی نئی گروہ وجود میں لایاگیاہے اورمذہبی جنونیوں اور دہشت گردوں کو بھی جمہوری لبادہ پہنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو فوجی سرپرستی میں بلوچ قوم کے لہو سے کھیلتے آرہے ہیں۔ دہشت گردی کے فروغ پر مبنی حکمت عملی سے پاکستان بلوچ قوم اور دنیاکے لئے مزید خطرناک بنتا چلاجائے گا۔دنیاکو اس پر ضرور نوٹس لینا چاہئے کہ عالمی طاقتیں جس دہشت گردی کے خلاف لڑرہے ہیں اس کے سرپرست اور محرک کردار وں کو پاکستانی پارلیمان کاحصہ بناکر مزید توانا کیا جارہاہے۔

ڈاکٹراللہ نذربلوچ نے کہاکہ الیکشن کے ناکامی کے باوجود فوج اور اس کے مقامی دلالوں نے کئی علاقوں میں بندوق کے زور پر لوگوں کو گھیسٹ کر پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کے علاوہ ٹھپہ ماری کے ذریعے ٹرن آؤٹ میں اضافہ دکھانے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن اس سے پاکستان اپنے قبضے اور انتخابات کو قانونی جواز نہیں دے سکتا اور نہ ہی اسے بلوچ قوم کی حصہ داری قرار دی جاسکتی ہے۔ اس کے باجود پاکستان ایک کٹھ پتلی اسمبلی کو منتخب قراردیتاہے تو اس کی حیثیت قومی نمائندگاں کا نہیں بلکہ بلوچ نسل کشی میں معاون کا ہوگا اوربلوچ قوم ایسے قومی غداروں کا ایک دن حساب ضرور لے گا۔

 

بلوچستان: فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان: فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ26 جولائی کو شام ساڑھے سات بجے سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ کلاہو میں آرمی چیک پوسٹ پر راکٹوں اور جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ راکٹ لگنے سے چوکی کو نقصان پہنچا، ایک فوجی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ 

26 جولائی کو مند ہوری پولنگ اسٹیشن پر راکٹ،ایل ایم جی و اسنائپر سے حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک ،دو کو زخمی کیا۔

اسی طرح کل شام پنجگور غریب آباد پولنگ اسٹیشن پر حملہ کر کے فورسز کو نقصان پہنچایا۔ 

گہرام بلوچ نے اپنے گزشتہ روز کے بیان میں ایک حملے میں جگہ کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ کل تربت میں سری کہن میں پولنگ اسٹیشن پر نہیں بلکہ تمپ کے علاقے سرنکن میں پولنگ اسٹیشن میں موجود فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔


بلوچستان: الیکشن بائیکاٹ قومی فریضہ تھا، سب کا شکریہ ادا رکرتے ہیں، بی ایل ایف

بلوچستان: الیکشن بائیکاٹ قومی فریضہ تھا، سب کا شکریہ ادا رکرتے ہیں، بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے قابض ریاستی الیکشن کے بائیکاٹ پر بلوچ قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد انتخابات کا بائیکاٹ قومی فریضہ تھا۔ ایک دفعہ پھر بلوچ قوم نے پاکستان کی مسلط کردہ نظام کو مسترد کرتے ہوئے آزادی کے حق میں ووٹ دیکر دنیا پر ثابت کیا کہ پاکستان ایک جابر اور قابض ملک ہے اور بلوچ قوم اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور بلوچستان پر قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔ 

گہرام بلوچ نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں میں سرمچاروں نے پاکستانی فورسز اور ان کی پولنگ اسٹیشنوں پر54 حملوں میں فورسز کے 60 سے زائد اہلکار ہلاک و پچاس سے زائد زخمی کیا۔ فورسز کی 6 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ 

انہوں نے کہا کہ اکثر علاقوں میں پولنگ بند رہے جبکہ جس جگہ انتخابی عملہ پہنچنے میں کامیاب ہوا وہاں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ اس دوران کئی علاقوں میں ووٹرز کو فوجی طاقت اور ڈیتھ اسکواڈز نے بندوق کی نوک پر پولنگ اسٹیشنوں میں لے جاکر ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے مجبور کیا۔ باقی رہی سہی کسر حسب معمول اندرون خانہ ٹھپہ لگا کر آئی ایس آئی کے پیروکاروں کو منتخب قرار دیا گیا۔ 

گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں الیکشن کیلئے ساٹھ ہزار سے زائد اضافی فوجیوں کی تعیناتی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں بندوق کی نوک پر انتخابات کرائے گئے ہیں۔ ان فوجیوں کے خلاف سرمچاروں نے بھی نہایت دلیرانہ انداز میں مقابلہ کرکے انتخابات کے دنوں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ آئی ایس پی آر نے صرف چند فوجیوں کے ہلاکت کا ذکر کرکے اپنی فوج کو حوصلہ دینے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان میں میڈیا اور صحافتی سرگرمیاں ناپید ہیں ۔ یوں آئی ایس پی آر جھوٹ کا سہارا لیکر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

Balochistan Liberation Front Claims The Responsibility of 13 Attackes On Pakistan Army In Different Areas In Balochistan

Balochistan Liberation Front Claims The Responsibility of 13 Attackes On Pakistan Army In Different Areas In Balochistan

 24th July. BLF fighters attacked with rockets in Teertej, Aahuri Dann, district Awaran. Four army personnel killed and four injured.

24th July. BLF fighters fired a BM12 at camp in Jhaoo Koro, district Awaran. Heavy losses occurred to occupying forces.

24th July. BLF fighters attacked check post at a Polling Station in Tijabaan, district Kech. Two army personnel killed and several injured.

Heavy losses occurred to as BLF fighters attacked a Polling Station in Khair Abad, Kech.

BLF snipers killed one personnel in KonshkalaTump, district Kech.

Heavy losses occurred to in a rocket attack by BLF fighter at a Election Polling station in Mand Talamb, district Kech. Pakistani forces tried to bring people to polling stations by force but didn't succeed.

BLF fighters attacked camp in Awaran with mortars. Losses occurred to occupying forces.

Three personnel killed and several injured when BLF fighters attacked a polling station in Reko, Buleda, district Kech.

One personnel killed and two injured in BLF fighters' attack in Tank Mashkai when army was forcing people to go and cast vote.

Two personnel killed and many injured in a rocket attack by BLF fighters at a Election Polling Station in Jebri, Mashkai.

Several personnel killed and injured in a rocket attack by BLF fighters in Zrankoli, district Awaran.

BLF fighters attacked check post at polling station in Peerandar Nadago, district Awarann. Heavy losses occurred to occupying forces.

بلوچستان: مقبوضہ بلوچستان میں فورسز و انتخابی پولنگ اسٹیشن پر مزید حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،گہرام بلوچ

بلوچستان: مقبوضہ بلوچستان میں فورسز و انتخابی پولنگ اسٹیشن پر مزید حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،گہرام بلوچ

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے فورسز و پولنگ اسٹیشن پر مزید حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ

جولائی 25 ریاستی انتخابات کے روزآواران مین آرمی کیمپ پر صبح کے وقت دو بی ایم12 فائر کیے جو آرمی کیمپ کے اندر گرئے جس سے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ آواران ہی کے علاقے پیراندر ندگو میں پولنگ اسٹیشن کو راکٹ سے نشانہ بنایا جس سے موجود فورسز کو نقصان پہنچا ہے۔آواران کے علاقے ذرانکولی فوجی چوکی پر دو راکٹ فائر کیے جو چوکی کے عقب میں گرئے جس سے چوکی میں موجودفوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ مشکے کے علاقے جیبری پولنگ اسٹیشن پر سرمچاروں نے راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے دو اہلکاروں کو ہلاک دو کو زخمی کیا۔

مشکے،تنک کی فوجی چوکی پر سرمچارو ں نے اس وقت حملہ کیا جب چوکی کے پاس پولنگ اسٹیشن بنا کر زبردستی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے لایا جا رہا تھا۔اس حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک دو زخمی ہوئے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ بلیدہ ریکو پولنگ اسٹیشن پر راکٹ حملہ کیا جس سے تین فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

آواران آرمی کیمپ پر شام کے وقت بی ایم12 سے پھر حملہ کیا گیا،بی ایم گولہ آرمی کیمپ کے اندر گرا، جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ ضلع کیچ میں مند تلامب اسکول پر قائم پولنگ اسٹیشن پر راکٹ حملہ کیا جس سے فورسز کو جانی نقصان پہنچا ہے۔ ضلع کیچ کے علاقے سری کہن میں اسکول پولنگ اسٹیشن کے اوپر آرمی اہلکاروں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔اسی طرح خیر آباد ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن پر فوجی اہلکاروں پر حملہ کر کے انکو جانی نقصان پہنچایا۔ خیر آباد گرلز اسکول پولنگ اسٹیشن پر دستی بم حملہ کیا۔تمپ کے علاقے کوشقلات پولنگ اسٹیشن پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل بالگتر کے علاقے سئے پادگ میں فوجی قافلے پر حملے میں ایک صدام نامی شخص زخمی ہوا ہے اور تربت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ آرمی نے اُسے مخبر کے طور پر اپنے ساتھ لیا ہوا ہے۔


بلوچستان :بی ایل ایف نے پولنگ اسٹیشنوں و فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

بلوچستان :بی ایل ایف نے پولنگ اسٹیشنوں و فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ریاستی انتخابات میں پولنگ کے دوران قابض ریاستی فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ سرمچاروں نے خضدار،کولواہ،ڈنڈار، مشکے،آواران،مند، تمپ، بلیدہ، دشت فورسز و پولنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان پر جبری قبضہ کے بعد پاکستان اپنی تمام منصوبوں کو زبردستی بلوچ قوم پر مسلط کرکے بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے بلوچوں کی قومی شناخت کو مٹانے کی کوشش میں ہے۔ اس ضمن میں بلوچستان کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کیلئے باہر سے نئے لوگوں کی آباد کاری کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ گوادر میں ترقی کے نام پر ڈیپ سی پورٹ اور بعد میں سی پیک منصوبے کے تحت مختلف سازشی منصوبے آزمائے گئے مگر بلوچ قوم نے انہیں مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف مزاحمت کی۔ 

اسی طرح انتخابات بھی فوجی طاقت اور زبردستی بلوچ عوام کی مرضی و منشا کے بغیر منعقد کرکے بلوچوں کو طاقت کے زور پر ووٹ کاسٹ کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں۔ اس طاقت کے خلاف سرمچاروں نے بھرپور مزاحمت کی اور قابض فوج کے سامنے رکاوٹ بنے رہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں کو زبرستی فوجی گاڑیوں میں بٹھا کر پولنگ میں ووٹ کاسٹ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس طاقت کے استعمال نے واضح کیا کہ بلوچستان میں کوئی الیکشن نہیں بلکہ قابض کے وہ سازشی منصوبے ہیں جن کے تحت وہ دنیا کو دھوکہ میں رکھ کر ہمیشہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ اور جبری قبضہ کو ایک رضاکارانہ عمل قرار دینے کی کوششیں کرتا آ رہا ہے۔ اس طرح پچھلے انتخابات کی طرح ان انتخابات کو بھی کو بلوچ قوم نے یکسر مسترد کرکے آزادی کے حق میں ووٹ دیا جو ایک ریفرنڈم ہے۔ بعض پارلیمانی جماعتیں الیکشن کے دن ہی انہیں ناکام ، بوگس، دھاندلی کا نام دیکر خود اپنے ہی نظام کو مسترد کرچکے۔ ایسے میں کوئی وجہ نہیں کہ بلوچ قوم ان انتخابات کا حصہ بنے۔ بلوچستان میں عالمی مبصرین کی غیر موجودگی بھی ہمارے موقف کا اعتراف ہے کہ یہاں ٹرن آؤٹ اور عوامی شرکت صفر کے برابر رہی ہے۔ 

گہرام بلوچ نے فورسز و پولنگ اسٹیشنوں پر حملوں کی تفصیل میڈیا میں جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ25 جولائی کو سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے کولواہ،آشال میں ایک فوجی گاڑی کو باردی سرنگ سے نشانہ بنایا جس میں سوارچار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

کولواہ ہی کے علاقے ڈنڈار میں آرمی کی پیدل گشتی ٹیم کو باردوی سرنگ سے نشانہ بنایا جس سے ایک اہلکار ہلاک تین زخمی ہوئے۔

جولائی 25 کو مشکے گجر آرمی کیمپ اور کالج آرمی کیمپ پر بھاری ہتھیاروں و راکٹوں سے حملہ کر کے فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

 جولائی 25 کو ضلع کیچ کے علاقے دشت،سبدان میں پولنگ اسٹیشن پر راکٹوں و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے فورسز کو جانی نقصان پہنچایا۔

اسی طرح مند گوبرد پولنگ اسٹیشن پر قائم دو مورچوں کو سرمچاروں نے راکٹوں و خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے فورسز کو نقصان پہنچایا۔

 جولائی 25 ہی کو آواران کُچ پولنگ اسٹیشن کو سرمچاروں نے بی ایم12 سے نشانہ بناکر فورسز کو نقصان پہنچایا۔

 جولائی 25 کو بلیدہ میناز آرمی کیمپ پر سرمچاروں نے بی ایم12 فائر کیا جو کیمپ کے اندر گرا جس سے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان اُٹھانا

پڑا۔ 

 جولائی 25 ہی کو مشکے گورجک پولنگ اسٹیشن پر معمور فوجی اہلکاروں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر ایک کو ہلاک اور دو کو زخمی کیا۔

آج ہی ضلع کیچ میں مند سورو آرمی کیمپ پر بی ایم 12 سے حملہ کیا۔ تمپ قلات پر قائم آرمی چیک پوسٹ پر راکٹ حملہ کیا۔ تمپ کالج میں پولنگ اسٹیشن کو بی ایم12 سے نشانہ بنایا۔ تمپ دازن میں اسکول میں قائم پولنگ کو اس وقت ٹائم بم سے نشانہ بنایا جب فوجی اہلکار وہاں موجود پولنگ کی تیاری میں تھے۔ ان حملوں میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ۔

 جولائی 24 کی رات کے آخری پہر مشکے گورجک پولنگ اسٹیشن پر راکٹوں و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے دو اہلکاروں کو ہلاک تین کو زخمی کیا۔

 جولائی 24 کی رات ضلع خضدار میں کوشک پولنگ اسٹیشن کو اس وقت سرمچاروں نے نشانہ بنایا جب فورسز کے اہلکار پولنگ اسٹیشن کی سیکورٹی پر معمور تھے۔حملے میں ایک اہلکار ہلاک تین زخمی ہوئے۔ 

کل مغرب کو مشکے کے علاقے جیبری میں بوائز اسکول اور ہسپتال میں قائم ہونے والی آرمی چیک پوسٹ اور پولنگ اسٹیشن کو سرمچاروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اس کی تیاری میں مصروف تھے۔ حملے میں قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچا۔


بلوچستان: مند،زعمران،بالگتر،گریشہ،مشکے،کیل کور،تمپ پاکستانی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان: مند،زعمران،بالگتر،گریشہ،مشکے،کیل کور،تمپ پاکستانی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

کوئٹہ:  بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پاکستانی فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ24 جولائی منگل کے روز سرمچاروں نے مند کے علاقے ہوزئی پولنگ اسٹیشن کو راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ دوسرے پولنگ اسٹیشنوں کی طرح اس میں بھی فوجی موجودگی پر سرمچاروں نے حملہ کیا۔ حملے میں قابض فوج کے کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

آج ہی مند بلو بازار میں ہوٹل پر قائم آرمی چوکی پر ایک راکٹ فائر کیا جس سے فورسز کو نقصان پہنچا۔ 

24 جولائی ہی کو سرمچاروں نے زعمران کے علاقے کنڈِ کافران میں چار گاڑیوں کے فوجی قافلے پر گھات لگا کر راکٹ اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں تین گاڑیاں ناکارہ اور ان میں سوار ایک درجن سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ قافلہ انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں فوجیوں کی نقل و حرکت میں مصروف تھا۔

منگل کے روز ہی سرمچاروں نے بالگتر میں سئے پارگ کے مقام پر فوج کی پانچ گاڑیوں اور دو موٹر سائیکلوں کے قافلے پر گھات لگا کر راکٹوں ،و جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا،حملے میں گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور حملے میں فورسز کے کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ23 جولائی ضلع خضدار میں گریشہ کے علاقے گونی میں فوجی چوکی پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک زخمی کیا۔ 

کل ہی مشکے بنڈکی میں فوکی چوکی پر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک اور ایک زخمی کیا۔ 

ہوشاب بازار میں فوجی چوکی پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک اور تین زخمی کئے۔ 

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل ضلع پنجگور میں کیلکور کے علاقے پلمک میں پاکستانی فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔

گزشتہ رات سرمچاروں نے تمپ گومازی میں اسکول پر قائم فوجی چوکی پر گرینیڈ لانچروں سے حملہ کیا،گومازی ہی میں شہید کیپٹن جہانگیر کے گھر پر قائم فوجی چوکی پر بھی حملہ کیا گیا،ان حملوں میں کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔

گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بندوق کے زور پر انتخابات کرانے کے خلاف سرمچاروں نے کاروائیوں میں تیزی لائے ہیں۔یہ بلوچ قوم کی طرف سے پیغام ہے کہ وہ گزشتہ نام نہاد انتخابات کی طرح ان کا بائیکاٹ کر کے دنیا کو پیغام دیں گے کہ ہم بلوچستان پر جبری قبضہ کے خلاف ہیں اور آزادی ہماری منزل ہے۔


بلوچستان: بلیدہ، مشکے،آواران،تربت،مند،پسنی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان: بلیدہ، مشکے،آواران،تربت،مند،پسنی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

کوئٹہ​ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پاکستانی فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ22 جولائی کی رات ضلع کیچ کے تحصیل بلیدہ میں میناز اسکول پر قائم آرمی کی چوکی پر گرنیڈ لانچر سے حملہ کر کے فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔حملے کے بعد حسب معمول قابض فوج نے عام آبادی کو نشانہ بنایا۔

گزشتہ رات ہی سرمچاروں نے مشکے منگولی میں آرمی کیمپ کی چیک پوسٹ پر راکٹوں و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کے دو اہلکاروں کو ہلاک تین کو زخمی کیا۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ آواران کے علاقے مالارکہن میں آپریشن میں مصروف فوج پر گزشتہ رات سرمچاروں نے راکٹوں و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ گزشتہ رات ہی سرمچاروں نے تربت کے علاقے گوگدان میں الیکشن کے لیے قائم دو چوکیوں پر حملہ کیا۔پہلا حملہ گرلز اسکول پر بنائے گئے فوجی چوکی پر کیا گیا۔اس کے دو گھنٹے بعد بوائز اسکول پر قائم فوجی چوکی پر حملہ کیا۔ دونوں حملوں میں فورسز کے تین فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

23 جولائی کی صبح مند بلو میں ہوٹل پر قائم فوجی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔

پیر ہی کے روز صبح11 بجے مند گوک پہاڑوں کے اوپر فوجی چوکی پر اسنائپر و بھاری ہتھیاروں سے اس وقت حملہ کیا جب وہ الیکشن کے لیے نئی چوکی بنا رہے تھے۔ اس حملے میں دو فوجی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

مند کے علاقے تلمب میں فوجی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ 21 جولائی کی رات کو پسنی میں ریاستی انتخابات میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ملا ذاکر کے ٹھکانے پر دستی بم سے حملہ کیا۔ملا ذاکر کا ریاستی سرپرستی میں مذہبی انتہا پسندوں سے تعلقات ہیں جو ریاستی ایما پر بلوچوں کے خلاف مختلف سرگرمیوں میں بر سر پیکار ہے۔ اس سے پہلے بھی ملا ذاکر اور اس کے کارندوں پر حملے کئے گئے ہیں کیونکہ کئی کئی دفعہ تنبیہہ کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے ہیں۔


بلوچستان:انتخابی سرگرمیوں میں ملوث ریاستی معاون کاروں کو نشان عبرت بنایا جائے گا: گہرام بلوچ

بلوچستان:بی ایل ایف نے مختلف حملوں کی زمہ داری قبول کرلی

انتخابی سرگرمیوں میں ملوث ریاستی معاون کاروں کو نشان عبرت بنایا جائے گا: گہرام بلوچ

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ 22 جولائی کو مند کے علاقے گوبرد میں فوجی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ مذکورہ چوکی اسکول پرقبضہ کرکے بنایا گیا ہے اور اسے فوجی سربراہی میں پولنگ اسٹیشن کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔ 22 جولائی ہی کو مند بلو بازار میں فوجی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک فوجی اہلکار کو ہلاک کیا۔

ترجمان نے کہا کے گزشتہ روز مند کے علاقے سوراب میں قائم چیک پوسٹ پر اسنائپر سے حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔

گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ گزشتہ رات 11 بجے سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے نوکین بازار میں فوجی قافلے پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر کے قابض فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔حملے کے بعد پولیس نے فائرنگ کرکے سرمچاروں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی پولیس و دیگر اداروں میں موجود بلوچوں کو تنبیہ کیا گیا کہ وہ قابض فوج سے تعاون سے گریز کریں بصورت دیگر وہ اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہونگے، یہ پولیس اہلکاروں کے لیے آخری وارننگ ہے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل رات ضلع پنجگور میں کیلکور کے علاقے چیری میتگ میں فوجی کیمپ پر دو اطراف سے راکٹ اور خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں ایک مورچہ تباہ، ایک اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

بی ایل ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیس جولائی کو بالگتر سری میتگ میں بی این پی عوامی کے ملا علی جان کی رہائش گاہ پر دور سے ایک دستی بم پھینکا۔ کئی دفعہ سمجھانے اور تنبیہہ کے باوجود وہ مخبری سے باز نہیں آیا۔ حال ہی میں وہ عام شہریوں کو زبردستی لالچ اور دھمکی کے ذریعے عام شہریوں کو انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور کرنے میں بھی مصروف ہے۔ یہ حملہ اْس کیلئے آخری وارننگ ہے کہ وہ اپنی سیاہ کرتوتوں سے باز آئے۔

گہرام بلوچ کے مطابق اسی علاقے میں نیشنل پارٹی کے عبدالواحد بھی انتخابی عمل میں سرگرم اور لوگوں کے شناختی کارڈ چھین کر انہیں فوج کے ہاتھوں اغواء کرانے کی دھمکی دیکر نام نہاد انتخابی عمل کا حصہ بننے پر مجبور کر رہا ہے۔ مزکورہ شخص سمیت بلوچستان ایسے افراد اپنی اعمال سے باز نہیں آئے نہ تو وہ اپنے نقصان کا ذمہ دار خود ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

بلوچستان: فورسز وانتخابی امیدوار پر حملہ کیا۔عوام الیکشن و امیدواروں سے دور رہیں،حملوں میں تیزی لائینگے،بی ایل ایف

بلوچستان: فورسز وانتخابی امیدوار پر حملہ کیا۔عوام الیکشن و امیدواروں سے دور رہیں،حملوں میں تیزی لائینگے،بی ایل ایف

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے انتخابی امیدوار اور فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ کل رات گیارہ بجے سرمچاروں نے مشکے کے علاقے رونجان میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے مہراللہ محمد حسنی کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میں تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور خود مہراللہ محمد حسنی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ وہ ریاستی سرپرستی میں بلوچوں کے اغوا، قتل اور مخبری میں ملوث ہے۔ انہی سیاہ کرتوتوں کی بدولت اْسے مقبوضہ بلوچستان کی اسمبلی میں حلقہ پی بی چوالیس سے انتخابی امیدوار کی حیثیت سے ٹکٹ دی جاچکی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ریاست اپنے ڈیتھ اسکواڈز کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش میں ہے، اس سے پہلے بھی اسمبلی ممبران ڈیتھ اسکواڈ چلاتے رہے ہیں۔ اس حلقہ کے تمام امیدواروں سمیت بلوچستان میں نامزد امیدوار بلوچ نسل کشی میں پاکستانی فوج کا ہمنوا ہیں۔ یہ تمام ہمارے نشانے پر ہیں۔ عام لوگوں سے اپیل ہے کہ انتخابی امیدواروں سے دور رہیں کیونکہ ہمارے سرمچار ہر جگہ موجود اور ان سے بلوچ نسل کشی کا حساب لینے کیلئے تیار ہیں۔ 

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل بلیدہ گیلی میں انتخابی تیاریوں کے سلسلے قائم کی گئی فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کرکے قابض کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ آج صبح ضلع پنجگور میں پروم کے علاقے کلاکور میں ایک فوجی گاڑی کو بارودی سرنگ سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ گاڑی میں سوار تمام اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ 

کل رات سرمچاروں نے ضلع واشک کے علاقے راغے شنگر میں آرمی پر راکٹوں سے حملہ کیا۔ کل رات جھاؤ کے علاقے نوندڑہ دراج کور میں آرمی چوکی پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اْٹھانا پڑا ہے۔


بلوچستان: کیچ، خضدار اور مشکے میں پاکستانی فورسز کو نشانہ بنایا ۔ گہرام بلوچ بی ایل ایف

بلوچستان: کیچ، خضدار اور مشکے میں پاکستانی فورسز کو نشانہ بنایا ۔ گہرام بلوچ بی ایل ایف

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سٹیلائیٹ فون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں نیمگو ندی میں20 جولائی کو دو پہر دو بجے سرمچاروں نے پاکستان فوج کی تین گشتی گاڑیوں پر گھات لگا کرراکٹ اور خود کار ہتھیاروں حملہ کیا۔ حملے میں تین فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ 

گہرام بلوچ نے کہا کہ آج ہی ضلع کیچ میں سرمچاروں نے مندکے علاقے گونگی میں فوجی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ کل شام کو گومازی میں فوجی قافلے کی پانچ گاڑیوں راکٹوں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ 

19 جولائی کی رات سرمچاروں نے مشکے پروار آرمی کیمپ پر راکٹوں اور خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل ہی ضلع خضدار میں گریشہ کے علاقے گنبد میں فوجی چیک پوسٹ پر راکٹ اور خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک اور ایک زخمی کیا۔ یہ چیک ایک سڑک کی تعمیر کی حفاظت کیلئے قائم کی گئی ہے۔ ہم پہلے ہی تمام ٹھیکیداروں کو تنبیہ کر چکے ہیں کہ وہ پاکستانی فوج کے کسی بھی منصوبے میں حصہ نہ لیں۔ یہ کوئی ترقی یا ترقیاتی کام نہیں بلکہ فوجی رسد کو آسان بنانے کیلئے تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ اس سے قابض فوج اپنے آپریشنوں، اغوا ، قتل اور اس طرح نسل کشی میں مزید تیزی لائی گی

 

بلوچستان: آواران اور پسنی میں پاکستانی فوج پر حملے کیئے- بی ایل ایف

بلوچستان: آواران اور پسنی میں پاکستانی فوج پر حملے کیئے- بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ایک میڈیا بیان میں کہا ہے کہ 19 جولائی کو ضلع آواران کے علاقے درمانی بینٹ میں سرمچاروں اور پاکستانی فوج کا آمناسامنا ہوا جسکے بعد ایک شدید جھڑپ شروع ہوئی جس میں دو فوجی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے اور سرمچار بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ اس کے بعد قابض فوج نے حواس باختہ ہوکر اندھا دھند مارٹر فائر کرنا شروع کیا۔

گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ آج ہی ضلع گوادر میں پسنی کے علاقے کوڑیج کلانچ میں فوجی کیمپ کی چوکی پر سرمچاروں نے ایک اہلکار کو اسنائپر سے نشانہ بناکر ہلاک کیا۔ اسنائپر حملے کے بعد کیمپ پر خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ حملے بلوچستان آزادی تک جاری رہیں گے۔


بلوچستان :ضلع کیچ گورکوپ فورسز کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

بلوچستان :ضلع کیچ گورکوپ فورسز کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،بی ایل ایف

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ضلع کیچ میں فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ میں سرمچاروں نے پاکستانی فوج کی مین کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کر کے قابض فوج کو بھاری جانی ومالی نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ یہ حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔


Sindudesh: Sindhudesh Revolutionary Army (SRA) Tribute To The Martyrs BLF Commanders Wahid Baloch,Khair Bux Naz,Ustad Jangian and Pathan

Sindudesh: Sindhudesh Revolutionary Army (SRA) Tribute To The Martyrs BLF Commanders Wahid Baloch,Khair Bux Naz,Ustad Jangian and Pathan

SRA Pays Tribute To The Martyrs of Balochistan Liberation Front (BLF) Commanders Wahid Baloch,Khair Bux Naz,Ustad Jangian and Pathan at the Kolwah;Who Fought For Their Motherland Balochistan and Got Martyrdom. Sodho Sindhi (Spokesperson Sindhudesh Revolutionary Army)

بلوچستان / کولواہ آپریشن: فوج کے ساتھ دو بدو لڑائی،چار سرمچار شہید، دو درجن سے زائد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی۔ بی ایل ایف

بلوچستان / کولواہ آپریشن: فوج کے ساتھ دو بدو لڑائی،چار سرمچار شہید، دو درجن سے زائد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی۔ بی ایل ایف

کوئٹہ:​ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہاکہ پندرہ جولائی کو پاکستان نے زمینی اور فضائی فوج کے ساتھ آواران کولواہ کے علاقے مکّی میں ہمارے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔ قابض فوج اور سرمچاروں کے درمیان تین گھنٹے تک دو بدو لڑائی جاری رہی جس میں ہمارے چار سرمچار بلوچ وطن کی دفاع میں لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے،.

تین گھنٹے سے زائد جھڑپ میں میں دو درجن سے زائد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ شہید سرمچاروں میں کیمپ کمانڈر خیر بخش ناز عرف بابا گہرام بھی شامل ہیں جس نے آگے ہوکر اپنے ساتھیوں کو بحفاظت نکالنے کیلئے بھر پور کوشش کی مگرتین ساتھیوں واحد بلوچ عرف تلار، استاد جنگیان عرف استاد جعفر اور پٹھان عرف شکاری ساربان سمیت شہید ہوگئے۔ کیمپ کے دیگر سرمچار کیمپ میں موجود ساز و سامان سمیت محفوظ رہے۔

ہم شہید سرمچاروں کو خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ذاتی زندگی اور ذاتی خواہشات کے برعکس ایک عظیم مقصد بلوچ قوم کی آزادی اور خوشحالی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ اور ان کا مشن ہمارا مقصد ہے۔ یہ تمام شہدا ایک عرصے سے بی ایل ایف کے کاروان میں شامل تھے اور دشمن کے خلاف مسلح جد وجہد میں مصروف تھے۔ اس حملے میں سرمچاروں نے خیر بخش ناز عرف بابا گہرام کی قیادت میں جس دلیرانہ انداز میں قابض فوج کی جنگی ہیلی کاپٹروں اور زمینی فوج کا مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ باباگہرام ایک نوجوان جنگی ہنر اور فن سے سرشار سرمچار تھے۔

وہ ان علاقوں میں بی ایل ایف کومنظم اور متحرک کرنے میں اہم کردار تھے۔ ان کی شہادت یقیناًایک عظیم نقصان ہے مگر بلوچ قوم بانجھ نہیں اور پاکستان بھی کسی طرح طاقت سے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور کامیابی بلوچ قوم کا مقدر ہے۔ شہدا کا خون، بلوچ قوم میں جذبہ شہادت اور جہد کاروں کی شب و روز انتھک محنت کا نتیجہ آزاد بلوچستان ہی ہے۔
گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ 16 جولائی رات کو سرمچاروں نے آواران کے علاقے پیراندر ذرانکولی میں آرمی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں و راکٹوں سے حملہ کر کے دو اہلکاروں کو ہلاک دو کو زخمی کیا۔یہ حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گی۔

Breaking News:Red Salute To Our Heros Balochistan Liberation Front (BLF) 4 Fighters Embraced Martyrdom in Kolwah Makki Awaran

Breaking News:Balochistan Liberation Front (BLF) 4 Fighters Embraced Martyrdom in a battle during an attack by Pakistani Army In Kolwah Makki Awaran

Red Salute To Martyrs Of Kolwah

15th July. BLF fighters Commander Khair Bakhsh Naz aka Baba Gwahram, Wahid aka Talaar, Ustaad Jangian aka Ustad Jafar & Pathan aka Saarban embraced martyrdom in a battle during an attack by Pakistani Army on a BLF camp with aerial & ground forces in Kolwah Makki, distt; Awaran.

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved