New Posts from Balochistan Channel

Translate In Your Language

New Videos

Showing posts with label Baloch Martyrs. Show all posts
Showing posts with label Baloch Martyrs. Show all posts

بلوچستان: خاران. بلوچ سرمچاروں اور قابض پاکستانی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپ میں مسلح تنظیم کا کمانڈر ساتھی سمیت شہید

بلوچستان: خاران. بلوچ سرمچاروں اور قابض پاکستانی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپ میں مسلح تنظیم کا کمانڈر ساتھی سمیت شہید

خاران قابض پاکستانی فورسز اور بلوچ سرمچاروں  کے درمیان ہونےوالے ایک خونریز جھڑپ میں دو بلوچ سرمچار شہید ہوگئے ہیں جن میں مسلح تنظیم کا علاقائی کمانڈر بھی شامل ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان کے ضلع خاران میں ٹوہ ملک روڈ پر بلوچ سرمچاروں اور قبضہ گیر پاکستانی فورسز کے درمیان ایک خونریز جھڑپ میں آزادی پسند مسلح تنظیم کے دو سرمچار شہید ہوگئے ہیں. جن کی شناخت عبدالباری بلوچ اور شکراللہ بلوچ کے نام سے ہوئی ہے.

اس جھڑپ میں قابض ایف سی کے کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں. اب تک ایف سی کے چار زخمی اہلکاروں کو DHQ ہسپتال خاران لایا گیا ہے.


Balochistan: July 15: Martyr’s day of Balochistan Red Salute

Balochistan: July 15: Martyr’s day of Balochistan Red Salute 


شہید سرمچار حسین شہسوار،حنیف لعل کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں،بی ایل ایف

شہید سرمچار حسین شہسوار،حنیف لعل کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں،بی ایل ایف

 کوئٹہ:  بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے شہید حسین شہسوار،حنیف لعل کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ
کل زامران کے علاقہ جالگی میں بلوچ سرمچاروں اور پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ(جو منشیات فروشی کاکاروبار بھی کرتے ہیں) کے کارندوں کے مابین مْڈبھیڑ ہوئی جس میں بلوچ سرمچار حسین شہسوار عرف چیسل اور حنیف لعل عرف استاد شوھاز شہید ہوئے جبکہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے تین کارندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ھم شہداء کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قومی محکومی کے خلاف جدوجہد اور قومی آزادی کو اپنا مقصد بنایاتھااور آخر دم تک قومی آزادی کی عظیم مقصد پر قائم رہے۔
یاد رہے مذکورہ علاقہ مشرقی اور مغربی بلوچستان کے سرحد پر واقع ہے جہاں روزگار کے کوئی اور ذرائع نہیں ہیں زیادہ تر لوگ تیل اور تیل کی مصنوعات کا کاروبار کرتے ہیں۔ پہلے فرنٹئیر کور کاروباری لوگوں کو تنگ کرکے ان سے بھتہ لیتا تھامگر بلوچ سرمچاروں کی سرگرمیوں کے باعث ایف سی کیلئے بھتہ خوری ممکن نہ رہا تو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی سرپرستی میں ان کے کارندے کاروباری لوگوں کو تنگ کرکے ان سے بھتہ لینے لگے۔ اس کے علاوہ اس دور دراز علاقہ کو ریاستی سرپرستی میں منشیات فروش گزرگاہ کے طورپر استعمال کرتے رہے ہیں اور گزشتہ چند دنوں سے مذکورہ علاقہ میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں اور منشیات فروشوں کے سرگرمیوں کی اطلاعات تھیں۔ کل بلوچ سرمچار علاقہ میں گشت پر تھے کہ قریبی پہاڑیوں پر پہلے سے مورچہ بند ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ان پر فائرنگ شروع کی ۔ ہم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں،بھتہ خوروں اور منشیات فروشوں کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ کاروباری لوگوں کو تنگ کرنا، بھتہ خوری اور منشیات فروشی کا قوم دشمن راہ ترک کریں ورنہ ان کا انجام بْرا ہوگا۔

گزشتہ سال فوجی آپریشن میں زخمی بلوچ بیٹی شہید

گزشتہ سال فوجی آپریشن میں زخمی بلوچ بیٹی شہید

بلیدہ: گزشتہ سال فوجی آپریشن میں شدید زخمی ہونے والی بلوچ بیٹی آج شہیدہوگئیں تفصیلات کے گزشتہ سال دومارچ کو بلیدہ کے علاقے الندور میں ایک آپریشن میں قابض فورسزنے ایک گھر کو گولیوں اور راکٹوں سے نشانہ بنایا جس میں عبدالخالق موقع پر شہید اور ان کی بہوفاطمہ بنت دل مرادسمیت چند بچے شدید زخمی ہوگئے تھے اس آپریشن میں فوج نے کئی لوگوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کیاتھا،حملے میں فاطمہ کو سرپرشدید چوٹیں آئی تھیں ،بروقت اورمناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ زہنی توازن کھوچکی تھیں پانچ دن قبل کراچی جناح ہسپتال میں سر کا آپریشن ہواتھا جو کامیاب نہ ہوسکی آج بلوچ بیٹی شہید ہوگئیں ان کی میت کو بلیدہ منتقل کیاجارہاہے ۔

شہیدنورالحق, شہید ضیاءالرحمن کا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ گہرام بلوچ

شہیدنورالحق, شہید ضیاءالرحمن کا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ گہرام بلوچ

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے شہید نور الحق بلوچ اور شہید ضیاالرحمن بلوچ کو سر خ سلام و خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید نورالحق عرف بارگ2005 سے بلوچ جہد آزادی سے منسلک تھے۔ شہیدبارگ 2008 میں بی ایل ایف میں شامل ہوئے۔انہوں نے قومی خدمات اور جہد آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کرتے ہوئے جنگی محاذ کے ساتھ نوجوانوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔شہید بارگ ایک عظیم جہد کار تھے۔انہوں نے اپنی زندگی میں قومی آزادی کی جہد میں کئی نشیب و فراز دیکھے مگر ایک آہن کی طرح وہ پارٹی کے آئین و منشور کے پابند ہونے کے ساتھ قومی محافظ کے طور پر ثابت قدم رہے اور جام شہادت نوش کی۔
شہید نورالحق اپنی علمی صلاحیت، جہدو جہد میں تجربہ اور بہترین حکمت عملیوں کے مالک ہونے کی وجہ سے کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ نوشکی ،خاران،خضدار،واشک اور بسیمہ میں جنگی محاذ کے ساتھ بلوچ نوجوانوں کی سیاسی تربیت کرتے رہے۔ آزادی کی جدوجہد میں انکی خدمات گراں قدر ہیں۔ وہ نوجوان سرمچاروں کے لیے نظریہ و فکر کے ساتھ ایک استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور جہد آزادی میں انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شہید نورالحق اور شہید ضیاالرحمن کی شہادت میں ملوث افراد کے بارے میں ہماری تحقیق جاری ہے اور وہ ہماری گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ انہیں ان کے آقا پاکستانی فوجیوں کی طرح نشانہ بنا کر سبق سکھائیں گے۔
گہرام بلوچ نے کہا کہ بی ایل ایف اور بی ایل اے نے اشتراک عمل کا عملا ثبوت دیا ہے بلکہ یہ لفاظی اور اخباری بیان تک محدود نہیں۔ اس کی واضح مثال بی ایل ایف اور بی ایل اے کے سرمچاروں کا ایک ہی مورچہ میں دشمن کے خلاف جنگ اور شہید ہونا ہے۔ 19 فروری کو ضلع خضدار کے تحصیل زہری کے علاقے تراسانی کوچو میں شہید نور الحق اور بی ایل اے کے کمانڈر شہیدضیاالرحمان عرف دلجان نے فورسز کا بہادری سے مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کی ۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کمانڈر نورالحق اور کمانڈر ضیاالرحمن کو سرخ سلام پیش کرتی ہے ۔ شہید ضیاالرحمن بی ایل اے کی پلیٹ فارم سے جد و جہد میں مصروف عمل تھے اور سخت محنت، قابلیت اوربہترین گوریلا صلاحیتوں کا مالک ہونے پر بی ایل اے میں کمانڈر مقرر تھے۔ اِن کی شہادت یقیناًایک بہت بڑا نقصان ہے لیکن یہ دشمن کی خام خیالی ہے کہ بلوچ جد و جہد کمزور یا ختم ہوجائے گی۔ یہ ایک قومی تحریک اور قومی آزادی کی جد و جہد ہے اور اس میں آخری منزل تک بلوچوں کی شمولیت اور جنگ جاری رہے گی۔ یہ ایک گروہ نہیں جسے پاکستان اور اس کے کٹھ پتلی ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔
ان شہدا اور موجود سرمچاروں کی جد وجہد اور سخت محنت کی وجہ سے آج سراوان اور جھالاوان میں قومی تحریک ایک خوبصورت اور منظم شکل میں موجود ہے اور آنے والے وقتوں میں یہ مزید توانا ہوگی اور کسی قبائلی سردار اور ریاستی آلہ کاروں کے ڈیتھ اسکواڈ اور چند زر خریدوں کی مخالفت سے بلوچ قومی تحریک کا راستہ روکناممکن نہیں۔

ٹک تیر سے آخری تیر تک ــ سیم زہری

ٹک تیر سے آخری تیر تک ــ سیم زہری

استاد ضیاء آپ کو تب سے جانتا ہوں جب آپ بی ایس او میں تھے. خشک سیاہ ہونٹ، زرد آنکھیں جیسے کبھی آرام نہیں دیکھے ہوں. لمبے بال لیکن ترتیب سے کنگھائے ہوئے. پاؤں میں پرانی ٹوٹی ہوئی چپل کسی بھی غریب زادے کی طرح وطن کی آزادی کا خواب دل میں لئیے بی ایس او حب زون کے دوستوں کی سرکل میں بیٹھے گہرے دماغ سے لیکچر سن رہا ہے.
میں ضیاء کو اپنا استاد اس لیے مانتا ہوں کہ وہ لوگوں کے دماغ پڑھتا تھا. وہ چلتے پھرتے انسانوں کے قدموں کو پڑھتا تھا. وہ لوگوں کی آنکھوں کو پڑھنے کا ماہر تھا.
بی ایس او کی سرکل و دیگر تنظیمی کاموں سے فارغ ہو کر وہ اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے پی سی او چلاتا تھا. محنت مزدوری کرتا تھا.
باتوں سے اتنا دلچسپ انسان تھا کہ میں سردیوں میں جب بھی حب چوکی جاتا تو صرف اس کی دیدار کرنے جاتا. پہلے ہی دن ساکران روڈ کا چکر لگاتا. پھر یہ سلسلہ حب چوکی سے واپسی تک چلتا رہتا.
یار ضیاء کبھی زہری بھی آیا کرو ابھی تم لوگ لاس (لسبیلہ کے رہنے والے) بن گئے اپنا وطن یاد بھی نہیں کرتے حسب معمول ہر سال میری یہی درخواست ہوتی اور وہ ہمیشہ کہتا پورا بلوچستان میرا وطن ہے.
اپنے گھریلو مالی مشکلات کو کم کرنے کوئٹہ شیخ زاہد ہسپتال میں کام کیا لیکن کیا کسی وطن پرست کو صرف اپنے گھرانے کی کفالت کرکے سکون مل سکتا ہے؟
اسی بے چینی نے اسے وہاں بھی ٹکنے نہ دیا. وہیں سے چل پڑا پھر کبھی واپس نہیں لوٹا.
اگر گھر کو آباد کرنا ہے تو پہلے وطن کو آزاد کرنا ہوگا…….. اس فلسفے کا پیروکار بولان قلات پارود شور سے ہوتے ہوئے جھالاوان کا کمان سنبھالنے پہنچ گیا. اس سے پہلے غالباً دو ہزار چودہ میں کسی گمنام سرمچار کو دشمن کا ہیلی کاپٹر مار گراکر حملہ ناکام بناتے ہوئے تنظیم کی جانب سے “ٹک تیر” کا خطاب ملا تھا لیکن کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ ٹک تیر کون ہے. وطن کے عاشق کبھی اپنے نام نمود نمائش و شہرت کے لیے پریشان نہیں ہوتے بلکہ وہ صرف اپنے کام کو جاری رکھتے ہیں. وہ کبھی مڑ کر نہیں دیکھتے بلکہ ہمیشہ آگے بڑھتے رہتے ہیں.
اس کے بعد میں نے اپنی کم علمی محدود سوچ کے ساتھ سوشل میڈیا میں لکھنا شروع کر دیا چند ہی دنوں میں کسی گمنام فیس بک آئی ڈی سے کسی نے میسج کیا میرے کام کو سراہا. پھر یہ آئی ڈی مختلف ہوتے رہتے رابطے چلتے رہے اور مجھے حوصلے ملتے گیے. کبھی میں نے نہیں کہا کہ دوست آپ کون؟ نہ ہی کبھی ان دوست نما گمنام آئی ڈیؤں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کون ہو. صرف مجھے کہتے رہے سنگت ہمت کرو لکھو کوشش کرو لکھو. میری رہنمائی کی. میری حوصلہ افزائی کی مجھے عزت عطا کی.
پھر اس دوران سالوں بیت گیے ہم نے کبھی ایک دوسرے سے اپنا تعارف نہیں کرایا. ابھی دو مہینے پہلے کی بات ہے شعبان نامی آئی ڈی سے میسج کرکے کہا سیم اگر زہری میں ہو تو مل لو. اور کتنا تڑپاؤ گے؟
ہم فرسودہ زہن کے لوگ فرسودہ نظام و روایات کے طابع ایک ایسے سماج کے باسی ہیں جو ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. ایک ہفتے تک سوچنے کی مہلت لی. ہفتے بعد شعبان نے پھر رابطہ کیا…. پوچھا کیا پروگرام بنا؟ پھر بھی پسماندہ زہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے پوچھا آپ کون ہو؟
کہنے لگا آپ نے ایک ہفتہ اسی سوال کے لیے ضائع کردیا؟……. ایک وطن پرست ہوں اور یہی میری پہچان ہے…. اس سے آگے میں کچھ نہیں….. لیکن میں بضد تھا کہ آپ مجھے کچھ سمجھا دو پھر میں ملوں گا….
اس نے کہا میں ضیاء بلوچ………..
حب چوکی والا؟ میں نے جھٹ سے پوچھا…..
تمہیں تو دیکھنے کے لیے کتنے سالوں سے ٹرپ رہا ہوں اور آج آپ مجھے بلا رہے اور میں بدنصیب پھر بھی سوال کیے جا رہا ہوں کہ کون ہو. آپ مجھے فوراً بتاؤ کہاں ہو اُڑ کر چلا آجاؤں.
ایک مخصوص جگہ کا نام بتا کر بلایا. پہنچتے ہی پہچان لیا پھر وہ باتیں کرتا رہا ماضی کو یاد کرتا رہا اور میں سنتا رہا. سننے سمجھنے کے لیے دماغ کا موجود ہونا لازمی ہے لیکن اس وقت ایک ایسے انسان سے میں مل رہا تھا جسے دیکھتے ہی میرا دماغ ماؤف ہو چکا تھا. مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ایک سرمچار استاد کمانڈر مجھے لیکچر دے رہا ہے. ہائے میں کتنا خوش نصیب ہوں جو تیری قربت ملی.
اس ایک مختصر سی ملاقات میں پچھلے دس سالوں کی جدائی کو سمیٹ لیا. ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم کئی سالوں سے ساتھ رہے ہیں. ہر روز ملتے رہے ہیں. کل بھی ملے ہیں اور آج پھر سے مل رہے ہیں. اس کے بعد مجھے ہر وقت بلا وجہ نہ ملنے کی تاکید کرکے خدا حافظ کردیا.
آج میں اسی ایک مختصر سی ملاقات کی سحر میں گم ہوں. میں آج آپ کی جرات بہادری جوانمردی پر نازاں ہوں. آج میں فخر سے اپنا سر اٹھائے چلتا ہوں کہ آپ میرے دوست سنگت ہمسفر ہو. اگر یہ مختصر سی ملاقات نہ ہوتی اور آپ زہری میں شھید ہو کر سپرد گل زمین ہوتے تو شاید میں اپنے آپ کو معاف نہ کر سکتا لیکن آج میں آپ کو محسوس کر سکتا ہوں. آپ کو سن سکتا ہوں. آپ کو درختوں کے تازہ تازہ اُگتے پتوں کی ترو تازگی میں دیکھ سکتا ہوں. آج میں آپ کو بادام کے سفید پھولوں کی خشبو میں پاتا ہوں. آج بھی اس راہ سے گزر کر تجھے کسی اور دوست کو لیکچر دیتے دیکھ سکتا ہوں. زہری جیسے پسماندہ زہنیت کے لوگوں کے سماج میں آپ کا جنم لینا پھر گھوم پھر کر واپس اسی گل زمین میں آسودہ خاک ہونا صرف قدرت کا کرشمہ ہو سکتا اور کچھ نہیں.
ہم بے حس لوگوں کے درمیان آپ لوگوں کا جنم لینا، ہمارے درمیان رہ کر جدو جہد کرنا پھر شھید ہو کر خون سے لت پت جسموں کے ساتھ مردہ خانوں میں پڑے رہنا یقین جانو آپ لوگوں کی طرف سے جاتے جاتے ہمارے لیے آخری لعنت سے کم نہیں. اس سے پہلے پارود آپریشن میں ہم بے حس بے ضمیر لوگوں نے شھید کی جسد خاکی کو دھوپ میں پڑے رہنے دیا. پھر شھید امتیاز کی لاش کو دشمن کے آثرے پر بے گور کردیا. آج آپ اور بارگ ہمارے منہ پر تھوک کر چلے گئے کہ ہم نے آخری گولی اپنے لیے بچا کر آخری سانس تک دل و دماغ میں تمہیں اور وطن کو سمائے رکھا. جنگ کے میدان میں گولیوں کی تھر تھراہٹ میں بھی صرف یہی سوچا کہ یہاں سے بچ کر پھر بھی اپنے وطن کی خدمت کروں گا.
لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ ان بے حس لوگوں کے درمیان جان دے رہا ہوں جو میری لاش کو وارثی بھی نہیں کریں گے. شھید بارگ کی بہن خاران سے چل کر آتی ہے تاکہ اپنے بھائی کی لاش کو دستی کر سکوں گلے لگا سکوں کچھ دیر دیدار کرکے اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکوں لیکن زہری بڑے بڑے ترم خانوں معتبروں کے علاقے میں ایک مرد بھی ایسا موجود نہیں جو آگے بڑھ کر کہہ سکے کہ اس لاش کا وارث میں ہوں. اس نے میری نسلوں کے لیے اپنا آج قربان کردیا.
شھید بارگ جان شھید دلجان نے جب اپنی اپنی بندوقوں سے ایک ایک گولی نکال کر آخری بار ایک دوسرے کو دیکھا ہوگا پھر گولی کی طرف دیکھا ہوگا پھر ایک نظر فضا میں بلند کرکے سوچا ہو گا ہم جتنے دن زندہ رہے اے وطن تیری خدمت کی یہی ہمارا فرض تھا.
ایک ایسے وقت میں ایک دونوں جہد کاروں نے میگزین سے ایک ایک گولی نکال کر اپنے لیے الگ سے جیب میں رکھ دیا جب بہت سارے ہم سفر سرنڈر کر رہے تھے. دو سرمچار آخری تیر اپنے لیے یہ سوچ کر نکال رہے ہیں کہ کہیں مس فائر نہ ہو جایے.
زمین زادوں کا شیوا یہی ہے کہ اپنے آپ کو ہر امتحان کے لیے تیار رکھتے ہیں تاکہ گل زمین ہم پر ناز کرے.

فورسز ہاتھوں نوجوان لاپتہ کراچی سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد

فورسز ہاتھوں نوجوان لاپتہ کراچی سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد

مند/کراچی: مند سے ریاستی فورسز نے امجد ولد غلام قادر کو لاپتہ کر دیا مزید معلومات کے مطابق آج صبح ریاستی فورسز نے مند مہیر میں آپریشن کرتے ہوئے بلوچ خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور امجد ولد غلام قادر ساکن مند مہیر کو حراست کے بعد لاپتہ کر دیا جبکے کراچی سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد موچکو کراچی سے رفیق ولد روزی کی تشدد زدہ لاش برآمد جسے دو سال قبل ریاستی فورسز نے جائو سے اٹھایا تھا

زہری تراسانی میں شھید ہونے والے ساتھی بی ایل اے اور بی ایل ایف سے تعلق رکھتے تھے ۔

زہری تراسانی میں شھید ہونے والے ساتھی بی ایل اے اور بی ایل ایف سے تعلق رکھتے تھے ۔

کوئٹہ:  زہری تراسانی میں قابض فورسز سے چھڑپ میں دوساتھی شھید اور فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے 

زہری تراسانی میں شھید ہونے والے ساتھی بی ایل اے اور بی ایل ایف سے تعلق رکھتے تھے ۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے زریعے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز زہری کے علاقے تراسانی میں قابض پاکستانی فوج سے جھڑپ میں شھید ہونے والا ساتھی ضیاء الرحمن  المعروف  دلجان ٹک تیر کا تعلق بی ایل اے سے اور نورالحق المعروف بارگ کا تعلق بی ایل ایف سے تھا یہ ساتھی جھالاوان میں مشترکہ طور پر مخصوص ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کل شام قابض فورسز کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے جام شہادت نوش کیا بڑی تعداد میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر مقامی بلوچوں پر حملہ کیا دو سے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے جھڑپ میں شھید دلجان اور شھید بارگ نے دشمن کا گھیرا توڑ کر اپنے  ساتھیوں سمیت بہت سے علاقائی لوگوں کو گھیرے سے بحفاظت باہر نکالا اور دشمن فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی کئے  اور گولیوں کے ختم ہونے پر دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہونے پر شھادت کو ترجیح دے کر اپنے زندگیاں اپنے مقصد اور آزاد وطن بلوچستان پر قربان کردیا۔

ترجمان نے مزید کہا ایسے سرباز ساتھیوں کے قومی خدمات اور قربانیوں کو تنظیم کے تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا  آزاد وطن کے حصول میں ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا شھید ضیاءالرحمن عرف دلجان (ٹک تیر) پچھلے دس سالوں سے تنظیم سے وابسطہ رہے وہ ان دس سالوں میں حب چوکی، خضدار، قلات شور پارود،کوئٹہ اور بولان میں قومی خدمات انجام دیتے رہے شھید دلجان اس وقت علاقائی کمانڈر کے حثیت سے جھالاوان میں سرگرم عمل تھے۔  

جیئند بلوچ نے کہا کہ شھید نورالحق عرف بارگ بلوچ 2008 سے بی ایل ایف سے وابسطہ  تھے وہ رخشان کے سنئیر ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے خاران اور نوشکی میں ایریا کمانڈر کے طور پر طویل عرصے سے خدمات انجام دیتے رہے اور اس وقت جھالاوان میں مخصوص ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنے مقصد پر قربان ہوئے۔

شہید ضیاالرحمن اور نور الحق کی تدفین آبائی علاقوں میں ہوگی

شہید ضیاالرحمن اور نور الحق کی تدفین آبائی علاقوں میں ہوگی



خضدار:  شہید ضیاالرحمن اور نور الحق کی تدفین آبائی علاقوں میں ہو گی۔گزشتہ روزضلع خضدار کے علاقے زہری میں تراسانی کے مقامی پر پاکستانی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ فرزندو ں کی تدفین انکے آبائی علاقوں میں ہو گی، عوام نے علی الصبح زہری ہسپتال سے دونوں شہید بلوچ فرزندوں کی میتوں کو زہری کے علاقے گزان میں لے آئے،گزان شہید ضیاالرحمن کا آبائی گاؤں ہے جہاں انکی تدفین کی تیاریاں جاری ہیں،جبکہ شہید نورالحق کی میت کو انکے خاندان والے خاران لے گئے ہیں جہاں آخری رسومات کی ادائیگی ہو گی۔

زہری: پاکستانی فوجی آپریشن جھڑپ متعدد فوجی ہلاک اور دو بلوچ نوجوان شہید

زہری:  پاکستانی فوجی آپریشن جھڑپ متعدد فوجی ہلاک اور دو بلوچ نوجوان شہید

خضدار: پاکستان فوج کا آبادی پر حملہ دو بلوچ فرزند شہید

تفصیلات کے مطابق آج دوپہر کے وقت فورسز نے زھری تراسانی کے علاقے کو گھیرے میں لیکر درجنوں افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے، اس دوران فورسز اور نامعلوم مسلح افراد کے بیچ جھڑپ شروع ہوئی جو علاقائی ذرائع کے مطابق تین گھنٹے جاری رہی۔

اس جھڑپ کے دوران متعدد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

مزید تفصیلات کے مطابق اس جھڑپ میں دو افراد شہید ہوئے، علاقائی ذرائع انکا تعلق بلوچ آزادی پسند تنظیموں سے بتاتے ہیں۔ جانبحق ہونے والوں کی شناخت ضیاء الرحمان عرف دلجان اور نورالحق عرف بارگ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق لاشوں کی حالت سے پتہ چلتا تھا کہ دونوں نے تین گھنٹے لڑنے کے بعد آخر میں گرفتاری کے بجائے خود کو گولی مار دی۔

سنگت نعیم و ییحیٰ بلوچ کےچھٹے برسی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،بی ایس او آزاد

سنگت نعیم و ییحیٰ بلوچ کےچھٹے برسی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،بی ایس او آزاد

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں سنگت نعیم بلوچ و سنگت یحیی بلوچ کے چھٹے برسی کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 18فروری 2011ء خضدار کے علاقے توتک میں قابض ریاست کے عسکری اداروں نے بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی کرکے 29لوگ گرفتار کرکے لاپتہ کردیے تھے، اور اس فوجی کاروائی میں بی ایس او آزاد کے دو سرگرم کارکن سنگت نعیم بلوچ و سنگت یحیی بلوچ کو سرعام فائرنگ کرکے شہید کردیاگیا ۔ جبکہ اس کاروائی میں دو گھر جلائے گئے اور عام لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا جبکہ لاپتہ کیئے گئے 29لوگوں میں بی ایس او آزاد کے ممبر مقصود قلندارانی بھی شامل تھے جس کی مسخ شدہ لاش 26جولائی 2011ء کو برآمد ہوئی ان میں سے 18لوگ زہنی و جسمانی تشدد کے بعد رہا کردیے گئے تھے جبکہ دس لوگ تاحال لاپتہ ہیں جن میں اکثریت بی ایس او آزاد کے کارکنان ہیں ۔خضدار کے علاقے توتک میں ریاستی عسکری اداروں نے بے رحمانہ فوجی کاروائی کے بعد علاقے کو مذہبی انتہاء پسندا و رریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کو سپرد کردیا گیا تھا ۔ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے عام عوام کیلئے جینا محال کردیا تھا عام عوام انتہائی پرتشدد ماحول کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ۔ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے توتک کو مکمل ایک عسکری بیس میں تبدیل کردیا تھا جہاں ضلع خضدار کے قریب و جوار سے لاپتہ کیے گئے لوگوں کو قتل کرکے ان کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جاتاتھا جس کی واضح مثال جنوری 2014 ء کو توتک میں اجتماعی قبروں کی برآمدگیاں ہیں۔ان اجتماعی قبروں سے برآمد کیے گئے لاشوں کی تعداد سو سے زائد تھی جن میں تین کی شناخت ہوگئی تھے جو آواران کے رہائشی اور سیاسی کارکنان تھے لیکن ریاست نے ان واقعات کے حقائق مکمل کو مسخ کیے،کسی بھی انسانی حقوق و میڈیا کے نمائندوں کو علاقے تک رسائی نہیں دی گئی تھی جبکہ بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا نے بھی بنیادی ذمہ داریوں سے خود کو بری الذمہ قرار دیکر اس قسم کے انسانیت کو جھنجوڑنے والے واقع پر ریاستی بیانیہ پر اعتماد کرکے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کا تفشیش کیا گیا جو خود عالمی انسانی حقوق کے قوانین کو پامال کرنے کا مترادف ہیں۔ 

ترجمان نے مزید کہا کہ سنگت نعیم، سنگت یحہی ،سنگت مقصود قلندارانی طالب علم اور سیاسی کارکنان تھیں۔ریاستی عسکری اداروں نے تمام عالمی قوانین کو روند کر سیاسی کارکنان کو ماروائے عدالت قتل کیا ۔سیاسی کارکنان و طالب علموں کے اس طرح ریاستی اداروں کے ہاتھوں ماروائے عدالت قتل ریاستی سفاکیت کو عیاں کرتی ہے ۔ریاست نے ایک طویل مدت سے بی ایس او آزاد کی سیاسی موقف کودبانے کیلئے ایک جمہوری طلباء تنظیم کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں بی ایس اوآزاد کے درجنوں کارکنان کو ماروائے عدالت قتل کیا گیا جو بی ایس او آزاد کے سیاسی موقف پر قدغن لگانے کی کوشش ہے لیکن ریاست تمام تر کوششوں کے باوجود بی ایس او آزادکے سیاسی و جمہوری جدوجہد کو ختم کرنے میں ناکام ہے اور ناکام رہے گا۔

شہید سنگت ثناء بلوچ ـــ ریاض بلوچ

شہید سنگت ثناء بلوچ ـــ ریاض بلوچ

شہید سنگت ثناء بلوچ کو ایک سیاسی استاد کی حیثیت سے جانتے تھے. وہ ایک نڈر، بے باک اور مخلص انقلابی تھے

سنگت ثناء سے واقفیت 2006 میں ہوئی جب وہ سنگل بی ایس او کے منعقدہ کونسل سیشن میں تنظیم کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین کی حیثیت سے منتخب ہوئے. اُس سے پہلے بھی سنگت ثناء بی ایس او مینگل کے پلیٹ فارم سے طلباء سیاست میں تھے. 2006 میں ہونے والے بی ایس او کے انضمام نے بلوچ طلباء سیاست کو سنگت ثناء بلوچ اور اسیر سنگت ذاکر مجید جیسے کمیٹڈ اور بے باک طلباء قیادت دیا.

نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے وقت سنگت ثناء بلوچ تنظيمی دورے پر تربت میں تھے، جس نڈر اور بے باکی سے اس نے وہاں عوامی ریلی اور مظاہروں کی قیادت کی اور گرفتار کیے گئے اس بات کی گواہی وہاں کے سیاسی کارکن اور عوام دیتے ہیں،
2006-2008 کے دورانیہ میں سنگت ثناء بلوچ اور بلوچ طلباء قائدین کی باصلاحیت قیادت سے بی ایس او طلباء سیاست میں اپنے سیاسی عروج میں تھے. سنگت ثناء شب روز تنظيمی سرگرمیوں میں مشغول نظر آتے تھے.

سنگت ثناء بلوچ نے بی این ایم کے چیئرمین شہید واجہ غلام محمد اور بی آر پی کے سیکرٹری جنرل بشیر عظیم کے ساتھ مل کر 2008 میں حب لسبیلہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کر کے بلوچ قومی اتحاد بی این ایف کا اعلان کر دیا.

بی ایس او آزاد کے اٹھارویں قومی کونسل سیشن میں سنگت ثناء بلوچ بشیر زیب بلوچ کے مقابلے میں بطور چیئرمین کھڑے ہوئے. بشیر زیب کے چیئرمین منتخب ہونے پر سیشن ہال کے اندر انہیں مبارکباد دی اور تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

“میں کامریڈ بشیر زیب بلوچ کو بی ایس او آزاد کا نیا چیئرمین منتخب ہونے پر مبارک باد دیتا ہوں کہ جس پر آج دوستوں نے اعتماد کرکے انہیں چیئرمین منتخب کیا ہے، اپنا ہار تسلیم کرتا ہوں اور بی ایس او کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ ایک ہارا ہوا امیدوار اسی سیشن ہال میں یہ اعلان کر رہا ہے کہ بی ایس او آج ٹوٹنے نہیں بلکہ اور منظم ہونے جا رہا ہے

” سنگت ثناء بلوچ کے یہ تاریخی کلمات آج تک ہمیں یاد ہیں. بلوچ طلباء سیاست سے فراغت کے بعد شہید سنگت نے بلوچ ریپبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور بلوچ قومی آزادی کی سیاست میں مزید سرگرم رہے. 7 دسمبر 2009 کو جب ریاستی فورسز نے انہیں مستونگ کے علاقے دشت سے اغواء کیا تب وہ بی آر پی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر تھے.

آج سے چھ سال پہلے 13 فروری 2012 کو سنگت ثناء بلوچ کی گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاش تربت سے برآمد ہوئی. بلوچ قوم اپنے قومی ہیرو شہید سنگت ثناء بلوچ کی جدوجہد کو کبھی نہیں بھولے گی اور انکے پیغامِ حرّیت کو آگے لے جائیگی.

بلیدہ آپریشن : ایک بلوچ شہید،بارہ سالہ بچے سمیت تین افراد حراست بعد لاپتہ

بلیدہ آپریشن : ایک بلوچ شہید،بارہ سالہ بچے سمیت تین افراد حراست بعد لاپتہ

بلیدہ :بلیدہ کے علاقے ،گیشکورمیں کل کے آپریشن میں ایک افراد کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ دو افراد لاپتہ, تفصیلات کے مطابق کل ہونے والے آپریشن میں حیات ولد قمبر کو شہید کرنے کے ساتھ دوافراد رحیم بخش ولد خان محمد اور رحیم بخش ولد مرادبخش کو فوج نے حراست بعد کردیا ہے لاپتہ ہونے والوں کے لواحقین نے آج تصدیق کی ہے کہ دوران آپریشن انہیں فوج اپنے ساتھ لے گیا ہے.

ادھر پروم کے علاقے ریش پیش میں فوج نے ایک گھرپر دھاوا بول کر بارہ سالہ بچہ بلال ولد قادربحش کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے

گہرام بلوچ : شہید ماسٹر عبدالمجید کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں،گہرام بلوچ

گہرام بلوچ : شہید ماسٹر عبدالمجید کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں،گہرام بلوچ

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سٹیلائیٹ فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ یکم ستمبر 2015 کو کلانچ میں راہیلو کلانچ اور نگور کلانچ میں پاکستان فوج نے ایک خونی آپریشن کیا۔ نگور کلانچ میں حمل ولد گہرام کو شہید کیا گیا اور راہیلو میں دو بھائیوں ماسٹر عبدالمجید ولد محمد اور سوبان ولد محمد کو شہید کیا گیا۔ ماسٹر عبدالمجید بی ایل ایف کا ایک باقاعدہ سرمچار تھا۔ بعض وجوہات کی بنا پر اُس وقت تنظیم نے انہیں اپنا سرمچار ظاہر نہیں کیا۔ وہ ایک نہایت باصلاحیت اور نڈر جنگجو سرمچار تھے۔ ہم انہیں خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مادروطن بلوچستان کیلئے اپنی زندگی قربان کرکے آزادی کی جد و جہد میں کردار ادا کیا۔ ان شہدا کی عظمت اور قربانی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور ان کا مشن آزاد بلوچستان ہماری منزل ہے۔

شہید فاضل بلوچ عرف گہرام بلوچ کی زندگی اور جدوجہد – اسماعیل بلوچ

شہید فاضل بلوچ عرف گہرام بلوچ کی زندگی اور جدوجہد – اسماعیل بلوچ

‏‎شہید فاضل بلوچ عرف گہرام بلوچ یکم مارچ 1994 ء کو بلوچستان کے علاقے مند گیاب میں واجہ محمد عمر کے گھر پیدا ہوئے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلم گیاب پرائمری اسکول میں حاصل کی اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہائی سکول مند سورو میں داخلہ لیا۔آپ نے میٹرک تک کی تعلیم ہائی اسکول مند سورو میں مکمل کی ۔شہید ایک انتہائی زہین، خوش اخلاق اور ہونہار انسان تھے ۔آپ فٹبال کھیلنے کے انتہائی شوقین تھے اور ایک بہترین گول کیپر بھی تھے ۔

‏‎شھید فاضل بلوچ نے اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز ۲۰۰۸ میں بلوچ طلبہ تنظیم بی آر ایس او کے فلیٹ فارم سے کیا۔ مگر اپنے انتھک محنت اور سر زمین سے سچی محبت اور جنونانہ سیاسی سرگرمیوں کے سبب کچھ وقت کے بعد شھید فاضل بلوچ بی آر ایس او مند گیاب زون کے جنرل سیکریٹری تعینات کیے گئے۔اور اس دوران شہید نے سیاسی سرگرمیوں کو متحرک کیا، سیاسی سرکلز ، بلوچی ادب اور تاریخ کا مطالعہ کیا ۔ ساتھ ہی مختلف یونٹوں میں سیاسی سر کلز کا انعقاد بھی کیا ،یاد رہے کہ اُس وقت مند میں سیاسی سرگرمیاں انتہائی محدودسطح تک پہنچ چکے تھے ۔

‏‎بلوچستان کے موجودہ حالات اُس وقت سیاسی سرگرمیوں کے لیے انتہائی نا موزوع اور پر خطر تھے اورسیاسی لیڈران و سیاسی کارکنوں کا پاکستان فوج کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پراغواہ اور مسخ شدہ لاشوں کا پھینکنا روز کا معمول بن چکا تھا ، پُرامن جلسہ جلوسوں پر قدغن اور فوج کا سیاسی سر گرمیوں پرحملہ کرنا معمول کی بات بن چکا تھا ۔ایسے حالات میں پُرامن سیاست کرنا یقیناً شہید فاضل بلوچ کے لیےبھی انتہائی مشکل ہوا ہوگا۔ اسی صورت حال کو دیکھ کر شہید فاضل بلوچ نے اپنی نزدیکیاں بلوچ مسلح تنظیموں سے استوار کرنا شروع کی اور بلوچ آزادی پسندمسلح تنظیم بی آر اے میں شمولیت اختیار کی اور 2010 میں شہید فاضل بلوچ نے اپنے دو مہینے کی گوریلہ جنگی ٹریننگ بی آر اے کی منگوچر (مستونگ) کیمپ میں مکمل کرنے کے بعد واپس اپنے علاقے مند میں بلوچ سر زمین کی آزادی کی خاطر مسلح محاز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں مگر کچھ وقت گزر جانے کے بعد شہید فاضل بلوچ نے بی آر اے چھوڑ کر بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی اور بی ایل ایف کی پلیٹ فارم سے شہری زمہ داریاں سنبھال لیں جب شہید فاضل بلوچ کے قریبی ساتھی شہید زبیر بلوچ کو پاکستانی فوج نے 2011 میں اغواہ کرکے اُس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی تواس صورت حال کی وجہ سے وہ مزید شہروں میں رہکر جہد و جہد نہ کرسکے اور دوستوں کے مشورے کے مطابق کچھ تنظیمی زمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے وہ مختصر عرصے کے لیے بیرون ملک چلا گیا ۔اسی اثنا میں شہید فاضل بلوچ کے بھائی حیام بلوچ اور کزن گہرام بلوچ کو پاکستانی فوج نے مند گیاب کے ایک ہوٹل سے اغوا کرکے کچھ دنوں بعد دونوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی۔بیرون ملک شہید دو لاکھ کے تنخواہ کی ایک پر کشش نوکری پر تعینات ہوگئے تھے مگر مختصر عرصے کے بعد جب شہید کو احساس ہوا کہ وہ یہاں بیرون ملک اپنا تنظیمی زمہ داریاں مکمل کرچکے ہیں تو واپس بلوچستان (جنگی محاز پر) چلےگئے ۔

‏‎شہید فاضل بلوچ نے اپنے زاتی پیسوں سے ایک کروزر پِک اپ گاڈی ، دو موٹر سا ئیکل اور ایک قیمتی اسنائپر رائفل اپنے تنظیم کو خرید کر دی تھیں ۔ حالانکہ‏‎شہید کے بیرون ملک پُر کشش نوکری کے چھوڑنے کے عمل سے شہید کےرشتہ داروں نے شہید فاضل بلوچ پر شدید تنقید کی تھی کسی نے کہا وہ دیوانہ و پاگل ہے جو ایسے پُر مراعات نوکری کو چھوڑ کر واپس بلوچستان چلا آیاہے کسی نے اسےنادان کہا اور کسی نے کچھ اور طنزیہ الفاظ ۔مگر چونکہ شہید کے سامنے ایک عظیم سے عظیم تر مقصد تھا اس لیے شہید نے اپنے نظریہ ، اپنے آدرش اور قومی جہد و جہدسے سمجھوتہ نہیں کیا اور تمام باتوں کو نظر انداز کرکے وہ محاز پر اپنے قومی فرائض کی انجام دہی میں مگن رہے یقیناً ایسے ہی انسانوں کو عظیم کہتے ہیں جو کسی بھی قسم کی مراعات و پُرامن ممالک میں تمام سہولیات سے اپنے قومی تحریک اور ایسے پُر گٹھن راستوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جو ہر لمحہ تکلیف سے برے ہوتے ہیں اوروہ قوم کے آنے والے روشن کل (مستقبل) کے لیے اپنے آج کو قربان کرتے ہیں ویسے رشتہ داروں نے سچ کہا تھاوہ دیوانہ ہی تھا یقیناًاپنے قوم اپنے مادر وطن کی آزادی کی خاطر وہ مکمل دیوانہ ہی تھا ۔

‏‎ دوران محاز شہید فاضل بلوچ نے انتہائی محنت کی دن رات اپنے دوستوں کے ہمراہ دشمن کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے رہکر دشمن کا مقابلہ کیا شہید فاضل بلوچ کی صلاحیت کو دیکھ کر اس کی تنظیم نے شہید فاضل بلوچ کو اپنے مند کے نیٹ ورک کا ڈپٹی کمانڈر منتخب کیا یقیناً شہید فاضل بلوچ کو ایک ہی رات میں یہ عہدہ نہیں دیا گیا تھا بلکہ ایک طویل جدوجہد ، محنت ،مختلف حالات و واقعیات و مصائب کے مراحل سے گزر کر اپنے صلاحیتوں کی بنا پر وہ اس مقام تک پہنچ گیا تھا۔

‏‎میں یہاں یہ زکر کرنا ضروری سمجھوں گا اور یقیناً تمام دوستوں کو بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جب بلوچستان لبریشن فرنٹ نے منشیات سے متاثرہ نوجوانوں کی ری ایبلیٹیشن کے لیے ایک ادارہ تشکیل دیاتھا ‏‎تو پس منظر میں اس ادارے کے روح روان شہید فاضل بلوچ ہی تھے۔کہ جہاں شہید متاثرین کی نہ خالی علاج بلکہ تمام ضروریات کے زمہ دار تھے ۔

‏‎جیسا کہ ہمیں معلوم ہے آج بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ پاکستانی ریاستی دہشتگرد ی وفوج کے شر سے محفوظ نہیں ہے اور بلوچستان بھر میں فوجی آپریشنز شدت سے جاری ہیں اس حالات میں بلوچ قوم کی کثیر تعداد اپنے گھر بار چھوڑ کر در بدر ی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کچھ اندرون سندھ ، کچھ کراچی اور کچھ مغربی بلوچستان اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئےہیں میں یہاں یہ واضح کروں کہ پاکستانی ریاستی جبر سےبچنے کے لیےمغربی سرحدی علاقاجات کے لوگ اکثر یت مغربی بلوچستان میں اپنے رشتہ داروں کے پاس پناہ لینے میں مجبور ہیں اوران میں سے ایک خاندان شہید فاضل بلوچ کا بھی تھا ۔شہید کے کچھ رشتہ دار بھی مشرقی بلوچستان میں فوجی بربریت کے نتیجے میں ہجرت کرکےمغربی بلوچستان میں رہائش پزیر ہیں ۔

‏‎شہید فاضل بلوچ 5 جنوری 2018 کو اپنے رشتہ داروں سے ملنے مغربی بلوچستان گئے ہوئے تھے اور 8/ 9 جنوری 2018 کی درمیانی شب کو وہ واپس اپنے علاقے روانہ ہوئے مگر جب باڈر پار کرنے کی کوشش کی تو قابض ایرانی سرحدی فورسز نے اُسے فائرنگ کرکے شدید زخمی اور گرفتار کرکے اُسے اپنے ساتھ لے گئے اس وقت اُس کے ساتھ اسکے مغربی بلوچستان کے ایک رشتہ دار بھی ساتھ تھا جب شہید کے قریبی رشتہ داروں کو شہید کی زخمی حالت میں گرفتاری کی اطلاع موصول ہوئی تو انہوں نے مداخلت کرکے شہید کو علاج کے لیے ایک مقامی اسپتال میں داخل کردیا مگر 13 جنوری 2018 کو بد قسمتی سے شہید زخموں کی تاب نہ لاکر شہادت کی عالٰی رتبے پر فائز ہوئے۔

‏‎شہید فاضل بلوچ عرف گہرام بلوچ ہم سے جسمانی طور سے یقیناً ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے مگر وہ تاریخ کے انمٹ نقوش میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے جسے بلوچ قوم اور تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

بڑی مدتوں بعد کچھ سننا_ خالد بلوچ

بڑی مدتوں بعد کچھ سننا_ خالد بلوچ

کئ سالوں کے بعد آج ایک دوست سے ملاقات ہوئی، میں نے اس سے پوچھا کیا حال احوال ہے، دوست سب خیریت سے ہیں؟
اس نے جواب دیتے ہوئے کہا؛ دوست سب کچھ بدل گیا ہے، پہلے جیسا کچھ بھی نہ رہا، پھلین شہید امیر جان کے جانے کے بعد ایسا لگا تھا کہ اب سب کچھ ختم ہوگیا ہے لیکن نہیں پھلین کی چندرشیکر جیسی شہادت اور بھگت سنگ جیسے سوچ اپنے ساتھ ایسا انقلاب لے آیا کہ علاقے میں ہر نوجوان کے دل میں آزادی کا جذبہ، آزاد بلوچستان کا نعرہ اور وطن کےلئے کچھ کر گزرنے کی تمنا ہے۔

دوست نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ؛ جب پھلین کی شہادت ہوئی تو کچھ دن بعد میں پھلین امیر جان کے ماں سے ملنے ان کے گھر گیا، میں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ان گھر پر آنے جانے والوں کا ایک بڑا ہجوم تھا، پھلین کی مان سینے میں آگ، آنکھوں میں سمندروں کو چھپائے ہوئے زبان پر مٹھاس لئے ایک بیٹے کی شہادت اور دو بیٹوں کے تاحال لاپتہ ہونے کے باوجود سب کو تسلیاں دے رہی تھی کہ میرا بیٹا شہید ہوا ہے لیکن اس کی سوچ ہمیشہ زندہ رہے گی اور دوشمن کو تڑپاتی رہے گی، آپ سب کو پتہ ہے امیر جان نے جب سے ہوش سمبھالا تھا اس دن سے اس نے مجھ سے کہا تھا “ماں جنم تو آپ نے دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن میں اپنے سرزمین آزاد بلوچستان کا بیٹا ہوں، ماں میں یہ آپ کو ایک دن ثابت کرکے دکھاؤں گا۔”

دوست نے مزید کہا کہ: ایک سال بعد پھر میں پھلین (شہید امیر الملک) کی ماں سے ملنے گیا وہاں جاکر میں نے دیکھا ماں کے سینے میں وہی آگ اور آنکھوں میں آنسوؤں کو چھپائے ہوئے زبان پر وہی مٹھاس تھی۔ میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی تو ماں بولی؛ تم نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے اور نہ ہی تمہارے بچے ہیں کہ پھلین جیسے بیٹے کے درد کو محسوس یا سمجھ پاؤ گے۔

ماں مثال دیتے ہوئے بولی کہ “جون، جولائی کے مہینوں میں ایک بندہ روزہ رکھے اور سبی جیسا گرم علاقہ ہو، دن کی 12 یا 1 بجے کے وقت سورج کی تیز گرمی میں بندہ کتنا پیاسا ہوتا ہے، میں اپنے بیٹوں کے لیے اتنی ہی پیاسی ہوں”۔

مذید اماں جان نے کہا؛ اچھا ہوا امیر جان ایک طاقت ور دشمن کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوا۔ جو دشمن بالاچ خان اور اکبر خان کو بھی شہید کرسکتا ہے تو میرا بیٹا اتنی بڑی طاقت نہیں، اگر طاقت تھی تو صرف اس کی پختہ سوچ اور پختہ فکر۔
بس ہر بلوچ کی آج خواہش ہے کہ ماں ہو تو امیر جان کے ماں جیسی اور فرذند وطن ہو تو امیر جیسا ہو، پھر وہ دن دور نہیں جب بلوچستان غلامی کی چنگل سے آزاد ہوگا۔

شُورّ کا روشن ستارہ شہید ساتک جان عرف ہِلّہ مڷ

شُورّ کا روشن ستارہ شہید ساتک جان عرف ہِلّہ مڷ

شُورّ کا روشن ستارہ شہید ساتک جان عرف ہِلّہ مڷ

تحریر: سمیر بلوچ

خاران، قلات اور نوشکی کے درمیانی پہاڑی علاقے ہمیشہ سے بلوچ سرمچاروں کے مسکن رہے ہیں طویل پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ریاستی فورسز کو یہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے. ان پہاڑی علاقوں کا ذکر ہو تو شُور کا نام خود بخود زبان زد عام ہوجاتا ہے. کیونکہ بلوچ سرمچاروں کے مسکن کے ساتھ ساتھ اس زمین نے کئی ایسے بلوچ سپوت پیدا کیے ہیں جنھوں نے اپنی تمام زندگی بلوچ قومی تحریک کے لئے وقف کردی تھی اور آخری سانس تک دشمن کو سُرخ آنکھ دکھا کر لڑتے رہے اور اس زمین کی آبیاری (آزادی) کے لئے اپنا خون دے کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے ان ہی سپوتوں کی قربانیوں کی بدولت قابض ریاست کو اس زمین پر ہر وقت گُھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں. ان ہی سپوتوں میں ایک شُورّکا روشن ستارہ شہید ساتک جان بلوچ تھا.

شہید ساتک جان شُورّ کے علاقے “کاچ” میں واجہ فقیر محمد ساسولی کے گھر پیدا ہوا، غلامی اور پسماندگی کی وجہ سے علاقے کے مکین تعلیم جیسی عظیم شے سے محروم ہیں. آبادی کی اکثریت مال مویشی پال کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں. شہید ساتک جان بچپن میں اپنے غلامی اور محکومی کو محسوس کرکے تحریک آزادی کے کاروان میں شامل ہوگیا. اور ہر اوّل دستے کا کردار ادا کرتا رہا.

جب میں نے مسلح جہد کا آغاز کیا اور شورّ میں موجود بی ایل ایف کے کیمپ گیا تو ہر صبح واکی ٹاکی پر شہید ساتک جان کا نام سنتا، بی ایل اے کے دوستوں کا کوئی کام ہو تو آواز شہید ساتک جان کو لگایا جاتا تھا بی آر اے کے دوستوں کا کوئی کام ہو تو آواز شہید ساتک جان کو لگایا جاتا تھا ہمارا بھی کوئی کام ہوتا تو ہم بھی شہید ساتک جان کو آواز لگاتے تھے. بی ایل اے میں ہونے کے باوجود وہ تمام آزادی پسند تنظیموں کے لئے یکساں طور پر کام کرتا تھا.

شہید ساتک جان سے میری پہلی ملاقات 2015ء میں ہوا اور وہ مجھ سے ایسی گرمجوشی سے ملا جیسے برسوں سے مجھے جانتا ہو. پھر اکثر اوقات راستے میں ہماری ملاقات ہوتی تھی. تنظیموں میں شدید اختلافات ہونے کے باوجود کبھی اسکے چہرے کے رونق کو ماند پڑتے نہیں دیکھا. بس یہی کہتا رہتا کہ ایک دن ضرور ہم متحد ہوجائینگے اور پھر ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا. 2016ء میں جب اتحاد کی بازگشت ہونے لگی اور ہم علاقائی سطح پر اکھٹے کام کرنے لگے تو شہید ساتک جان سے زیادہ خوش میں نے کبھی بھی کسی کو نہیں دیکھا تھا.

شہید ساتک جان اور میں اتنے قریب تھے کہ شہید ہمیشہ مجھے بلّا ایلُم(بڑا بھائی) کہہ کر پکارا کرتا تھا….. نئے آنے والے ساتھی اور کچھ علاقائی لوگ بھی ہمیں سگّے بھائی سمجھتے تھے.

اس دوران میں نے شہید کو قریب سے دیکھا جو ہر وقت ہر کام میں پیش پیش……..، ہر کسی کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنا……..، مہر و محبت کا پیکر……..، خلوص دل کے ساتھ دوستی نبھانا……، صبروتحمل و برداشت کا درس دینے والا…….، اور کیا کیا لکھوں غرض وہ تمام خوبیاں جو ایک انقلابی کے ہوتے ہیں سب کے سب شہید کے اندر موجود تھے……. جب بھی ملتا تھا تو اپنا پن کا احساس دلاتا تھا.

شہید ساتک جان انتھک محنتی ہونے کی وجہ سے سارے دوستوں کے دلوں پر راج کرتا تھا جس کام میں تکلیف اور مشقت اٹھانا پڑتا تھا ایسے کاموں میں سب سے آگے ہوتا تھا تکالیف اور مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرتا تھا اور کبھی شکوہ نہیں کرتا تھا ایسے ہی ایک واقعے کو یہاں قلم بند کر رہا ہوں……..!

ایک دفعہ ہم اکھٹے جنگی گشت کےلئے جارہے تھے صبح آٹھ بجے کے قریب ہم کیمپ سے نکلے. طویل سفر تھا جو ہم پیدل طے کررہے تھے 6 گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ایک جگہ تھکاوٹ کو کم کرنے اور چائے پینے کے غرض سے ہم تھوڑے وقفے کےلئے ٹھہر گئے، آدھے گھنٹے کے بعد جب ہم رخت سفر باندھ کر چلنے لگےاور ذمہ دار نے سامان چیک کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ ہم کچھ ضروری سامان بُھول گئے ہیں. سارے دوست تھکاوٹ سے چُھور تھے لیکن شہید ساتک تھکاوٹ کو بُھول کر ذمہ دار کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایک ساتھی دیا جائے میں سامان لیکر آجاؤں گا تب تک آپ دوست آگے بڑھتے جاؤ ہم رات 11 یا 12 بجے تک آپ کے پاس پہنچ جائیں گے. شہید ساتک جان ایک اور دوست کو لیکر واپس کیمپ کی طرف نکل گیا اور ہم آگے نکل گئے راستہ اتنا کٹھن تھا کہ رات 8 بجے جب ہم اپنے مطلوبہ جگہ پر پہنچے تو سارے دوست تھکاوٹ سے لیٹ گئے تمام دوستوں کے پاس روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے موجود تھے سب نے دو دو نوالے کھائے اور شہید کے انتظار میں بیٹھ گئے، شہید ساتک جان 11:40 کو ہمارے پاس پہنچ گیا انتہائی تھکاوٹ کے باوجود “اُف” تک نہ کیا اور بناء آرام کے آگے چلنے کےلئے تیار ہوگیا.

شہید ساتک جان ہمیشہ پاکستانی فورسز اور اس کے مقامی زرخریدوں کے خلاف جنگ میں صف اوّل کے دستے میں کردار ادا کرتا رہا. ریاست اور اس کے مقامی ایجنٹوں نے شہید ساتک جان کو بلوچ قومی جہد سے دستبردار کروانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن شہید ساتک جان مخلصی کے ساتھ تحریک سے وابسطہ رہے. ریاست نے اپنے مقامی زرخریدوں کے ذریعے شہید ساتک کے خلاف ہر اوچھے ہتھکنڈے آزمائے حتٰی کہ قبائلی اثر و رسوخ استعمال کرکے شہید کے بچوں کو شہید سے جدا کردیا گیا، اور دوسرے خاندان والوں کو علاقہ بدر کرکے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا گیا لیکن ریاست کے تمام حربے ناکام ہوئے.

18 نومبر 2018ء کی صبح شہید ساتک جان اپنے ٹیم کے ساتھ تنظیمی کام کے سلسلے میں کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ریاستی ڈیتھ اسکواڑ نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ساتک جان شدید زخمی ہوگئے اور وہ اپنا بندوق اٹھاکر دشمن سے مردانہ وار لڑتے رہے اپنے تمام ساتھیوں کو دشمن کے گھیرے سے بحفاظت نکالا اور خود کو زندہ دشمن کے ہاتھ لگنے کے بجائے موت کو ترجیح دی اور انقلابیوں کے قربانی کے مثال کو تازہ کرتے ہوئے اپنے بندوق سے آخری گولی اپنے سینے پر داغ دی.

شہید ساتک جان کی شہادت نے درد تو ضرور دی لیکن اس کے قربانی کے جذبے نے ہمیں ایک حوصلہ بخشا اور علاقے کے بلوچ عوام کو بیدار کیا

Comments

News Headlines :
Loading...
 
Support : Copyright © 2018. BV Baloch Voice - All Rights Reserved